Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر کا ایسا قصبہ جہاں مودی کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں

    مقبوضہ کشمیر کا ایسا قصبہ جہاں مودی کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں

    ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ سے ، کشمیر کے مرکزی شہر سری نگر میں ایک گنجان آباد علاقے سورا کے نوجوان داخلی مقامات پر چوبیس گھنٹے چوکس رہتے ہیں۔
    گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کتنے کشمیری گرفتار ہوئے ، اے ایف پی نے بتا دیا
    خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ہر ایک راستے کو عارضی طور پر اینٹوں ، نالیدار دھات کی چادروں ، لکڑی کے تختوں اور درختوں کے تنوں سے بلاک کیا گیا ہے۔ سنگ بازکشمیری نوجوان رکاوٹوں کے پیچھے جمع ہوتے ہیں جس کا مقصدبھارتی سیکیورٹی فورسز اور خاص طور پر نیم فوجی دستوں کو علاقے سے باہر رکھناہے۔

    ہماری کوئی آواز نہیں ہے۔ 25 سالہ اعجاز نے بتایا ، جنھوں نے رائٹرز کے انٹرویو میں سورہ کے بہت سے دوسرے شہریوں کی طرح صرف ایک نام بتایا کہ انھیں گرفتاری کا خدشہ ہے۔ اگر دنیا بھی ہماری بات نہیں مانے گی تو ہم کیا کریں؟ بندوقیں اٹھاو؟

    تقریبا پندرہ ہزارنفوس پر مشتمل سورا ، ہندوستانی حکومت کی خودمختاری کو ختم کرنے کے منصوبے کی مزاحمت کا مرکز بن رہا ہے ۔ یہ علاقہ ہندوستانی سکیورٹی فورسز کے لئے نو گو زون بن گیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق حکومت کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی ، کشمیر کو مکمل طور پر ہندوستان میں ضم کرنے ، بدعنوانی اور اقربا پروری سے نمٹنے اور اس کی ترقی کو تیز کرنے کے لئے ضروری تھی ۔دوسری طرف اس قصبہ میں مودی کے اس اقدام کی حمایت کرنے والے کسی کو تلاش کرنا مشکل ہے۔ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران رائٹرز کو انٹرویو دینے والے دو درجن سے زائد شہریوں نے بھارتی وزیراعظم کو ظالم کہا۔

    آئینی ترمیم سے غیر مقیم افراد کو جموں و کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مقامی حکومت میں ملازمتوں کے لئے درخواست دینے کی اجازت ہوگی۔

    سورہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران نیم فوجی پولیس سے جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    رائٹرز نے مزید لکھا ہے سری نگر میں ،حکومت نے چار سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کررکھی ہے ، لوگوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لئے کئی طرح کے روڈ بلاک لگائے ہیں جبکہ 500 سے زائد سیاستدانوں ، برادری کے رہنماوں اور کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔ پورے شہر اور وادی کشمیر کے باقی حصوں میں انٹرنیٹ اور سیل فون کی سروسز گذشتہ دو ہفتوں سے بند ہیں جس کی وجہ سے حکومتی فیصلے کے مخالفین کو احتجاج کا اہتمام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

    متوسط طبقے پر مشتمل سورا کے علاقے میں بھارتی فوج کے خلاف استعمال کرنے کے لیے پتھروں اور اینٹوں کے ڈھیر موجود ہیں۔

    دوسری طرف جموں وکشمیر حکومت کے ترجمان نے رائٹرز کے سوالات کے جواب دینے سے انکار کردیا۔

    بھارتی وزارت داخلہ نے بھی کسی کالز یا ای میل کا جواب نہیں دیا۔

  • مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے 16 روز ، زندگی اجیرن ،کشمیریوں کےحوصلے بلند

    مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے 16 روز ، زندگی اجیرن ،کشمیریوں کےحوصلے بلند

    بھارتی ظلم و ستم کا سلسلہ جار ی ہے مقبوضہ وادی کشمیر میں گزشتہ 16 روز سے جاری کرفیو نے وہاں آباد افراد کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنت نظیر کشمیر میں سلگنے والی آگ وقت کے ساتھ ساتھ اب دہکنے اور لوگوں کو جلانے لگی ہے۔

    ان حالات میں مظلوم کشمیریوں کی زندگی موت سے بدتر ہو گئی ہےلیکن انکے حوصلے ہمالیہ کے پہاڑوں سے بلند ہیں۔
    کشمیر میں لوگ اسپتال نہ جا سکنے کے باعث گھروں میں دم توڑ رہے ہیں، حاملہ خواتین بھی بچوں کی پیدائش کے لئے اسپتال جانے سے قاصر ہیں۔بھارت کی جانب سے کشمیر میں جاری ظلم و ستم کا چودھواں روزہے اور مقبوضہ کشمیر میں دم توڑتی انسانیت قیامت صغری کا منظر پیش کرنے لگی ہے۔
    مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہونے کے باعث کاروبار زندگی بری طرح متاثر اور مریض طبی سہولیات سے محروم ہیں۔بچوں کو دودھ کی کمی
    مقبوضہ کشمیر کے گلی کوچوں میں فوج تعینات ہے. موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند ہے. جس کی وجہ سے وادی کا رابطہ پوری دنیا سے کٹا ہوا ہے. اخبارات کے آن لائن ایڈیشن بھی اپلوڈ نہیں ہو رہے.

    بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کے ساتھ ساتھ بھارت نواز سیاست دانوں کو بھی گرفتار یا نظر بند کیا ہوا ہے. گرفتار شدگان اور نظر بند افراد کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے.

  • جموں کشمیر کی نصف کرکٹ ٹیم لاپتہ، کپتان سمیت دیگر کھلاڑیوں کو زمین کھا گئی یا آسمان؟ دل دہلا دینے والی رپورٹ منظر عام پر

    جموں کشمیر کی نصف کرکٹ ٹیم لاپتہ، کپتان سمیت دیگر کھلاڑیوں کو زمین کھا گئی یا آسمان؟ دل دہلا دینے والی رپورٹ منظر عام پر

    مقبوضہ کشمیر کی کرکٹ ٹیم کے نصف سے زائد کھلاڑیوں کے لاپتہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے اور جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کا کئی کھلاڑیوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

    باغی ٹی وی کی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370ختم کئے جانے سے دیگر طبقوں کی طرح کرکٹ کے کھلاڑی بھی متاثر ہوئے ہیں۔ جموں وکشمیرکرکٹ ایسوسی ایشن (جے کے سی اے) اپنی ٹیم کوآندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم میں ہونے والی وجی ٹرافی میں نہیں بھیجے گی کیونکہ انہیں گورنرستیہ پال ملک سے کھلاڑیوں کے تحفظ کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی ۔بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ آرٹیکل 370 ہٹنے کے بعد سے جموں وکشمیرکے کئی کھلاڑیوں سے رابطہ نہیں ہوپا رہا اور وہ لاپتہ ہیں۔ جموں وکشمیرکرکٹ ایسوسی ایشن اپنے جن کھلاڑیوں کے ساتھ رابطہ میں نہیں ہے ان میں کپتان پرویزرسول بھی شامل ہیں۔

    جموں وکشمیرکرکٹ ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹوشاہ بخاری کا کہنا ہے کہ ہم شاید ہی وجے ٹرافی میں حصہ لیں کیونکہ حالات اس قدر خراب ہیں کہ ہمارا اپنے کھلاڑیوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس کھلاڑیوں کے موبائل نمبر ہیں، لیکن انہوں نے اپنے لینڈ لائن نمبرہمیں نہیں دیئے ہیں۔ آج کے زمانے میں لوگ لینڈ لائن استعمال نہیں کرتے ہیں۔ ہم نے کچھ کھلاڑیوں سے بات ضرورکی لیکن جوکھلاڑی وادی میں ہیں ہم ان سے رابطہ نہیں کرپارہے ہیں کیونکہ ان کے موبائل فون کام نہیں کررہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کپتان پرویزرسول کہاں ہیں۔

    واضح رہے کہ وجے ٹرافی میں کئی ریاستی ایسوسی ایشن کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ اس ٹرافی کا انعقاد نئے کھلاڑیوں کی تلاش اورمیچ پریکٹس کےلئے آندھراپردیش کرکٹ ایسوسی ایشن کرتی ہے۔

  • بھارتی ڈاکٹروں کے گروپ نے بھی کشمیر کے حوالے سے خط لکھ دیا

    بھارتی ڈاکٹروں کے گروپ نے بھی کشمیر کے حوالے سے خط لکھ دیا

    18بھارتی ڈاکٹروں کے گروپ نے مقبوضہ کشمیر سے پابندیوں کو فوری طور پرختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
    گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کتنے کشمیری گرفتار ہوئے ، اے ایف پی نے بتا دیا
    یہ مطالبہ ایک خط کے ذریعے کیا گیا۔ خط کے مطابق بھارت نے پہلے لاک ڈاﺅن کیا بعد ازاں آرٹیکل 370کو ہٹایا۔ علاقے میں انٹرنیٹ تک کی سروس بند کردی گئی ۔جس سے نہ صرف لوگوں کے درمیان رابطہ معطل ہوابلکہ ان دوکانداروں اور فارماسسٹوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو گئیں جو انٹرنیٹ کے لیے اشیاءاور ادویات کا آرڈر دیتے تھے ۔

    ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ دوائیوں کی بڑھتی ہوئی قلت اور سفر میں مشکلات کی وجہ سے مریض سفر نہ کرسکے اور لوگ ایمبولینس طلب نہ کرسکے۔

    خط میں ڈاکٹرز نے لکھا ہے کہ مقامی دکانوں میں کچھ دوائیاں ختم ہو چکی ہیں۔ لوگوں کو بیمار رشتے داروں کے لیے ادویات لینے کے لیے نئی دہلی تک جانا پڑتا ہے۔

    ڈاکٹرز نے خط میں ہندوستانی حکومت سے جلد سے جلد مواصلات اور سفر پر پابندیوں کو آسان بنانے کا مطالبہ کیا تاکہ بغیر کسی رکاوٹ کے مریضوں کو صحت کی دیکھ بھال تک رسائی حاصل ہوسکے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں، سماجی رکن شہلاراشد نے بڑا مطالبہ کر دیا

    مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں، سماجی رکن شہلاراشد نے بڑا مطالبہ کر دیا

    جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طلباءرہنما اور کشمیری سماجی کارکن شہلا راشد نے نئی دہلی کے جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتیوں کے ذریعہ انسانی حقوق کی پامالیوں کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
    گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کتنے کشمیری گرفتار ہوئے ، اے ایف پی نے بتا دیا
    شہلا راشد نے ٹوئٹس میں کہا کہ ”میرے تمام ٹویٹس لوگوں کے ساتھ گفتگو پر مبنی ہیں۔ میرا ٹوئٹ انتظامیہ کے مثبت کام کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ فوج کو منصفانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرنے دیں اور میں ان کے ساتھ مذکور واقعات کی تفصیلات بتانے کو تیار ہوں۔

    ”میں ایک عام کشمیری ہوں۔ ان اوقات میں محض گرفتار ہونا ایک اعزاز کی بات ہے۔ “

  • بھارتی ماہر معاشیات نے ایسا کیا کہا کہ بھارتیوں کے سر شرم سے جھک گئے

    بھارتی ماہر معاشیات نے ایسا کیا کہا کہ بھارتیوں کے سر شرم سے جھک گئے

    عالمی نوبل انعام یافتہ بھارتی ماہر معاشیات ڈاکٹر امرتا سین نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر بھارتی وزیراعظم مودی پر کڑی تنقید کی ہے ۔ بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر امرتاسن نے کہا کہ نریندر مودی اس اقدام کے بعد دنیا میں اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    مسئلہ کشمیر کا حل بتاتے ہوئے امرتاسن نے بتایا کہ میرا نہیں خیال مسئلہ کشمیر کا حل جمہوریت کے سوا کچھ اور ہے ۔کشمیرکشمیریوں کا ہے ، کشمیرکے فیصلہ کا اختیار بھی انہی کو ہونا چاہیے۔

    بھارتی ماہر معاشیات نے حریت رہنماوَں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ آپ لوگوں کے قائدین کی آواز سنے کے بغیر کبھی بھی انصاف اور انصاف حاصل کریں گے۔

    ڈاکٹر امرتاسن نے مزید کہا کہ مجھے بھارتی ہونے پر کوئی فخر نہیں۔

  • کشمیریوں کی حمایت ، ٹویٹر بھی جارحیت پر اتر آیا ، 215 سے زائد اکاونٹس معطل ، پاکستان سخت ناراض ، تحقیقات کا مطالبہ کردیا

    کشمیریوں کی حمایت ، ٹویٹر بھی جارحیت پر اتر آیا ، 215 سے زائد اکاونٹس معطل ، پاکستان سخت ناراض ، تحقیقات کا مطالبہ کردیا

    اسلام آباد : کشمیریوں کی حمایت کیوں کرتے ہو ؟ ٹویٹر بھی جارحیت پر اتر آیا ، 215 سے زائد ٹویٹر اکاونٹس معطل کرکے ٹویٹر انتظامیہ نے بھارت نواز کو بھر پور ساتھ دیا. ذرائع کے مطابق حکومت نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کو بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتوں میں کشمیر کے حوالے سے مواد شیئر کرنے پر5 21 اکاؤنٹس معطل کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق یہ دعوے کشمیر کی آزادی کے حق میں ٹویٹ کرنے والے صحافیوں، سماجی رہنماؤں، سرکاری حکام اور فوج کے حامیوں کی جانب سے سامنے آئے۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کئی پاکستانیوں نے ٹوئٹر کو کشمیر کی حمایت میں لکھنے والے اکاؤنٹ معطل کیے جانے کی اطلاع دی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل اتوار کے روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے میجر جنرل آصف غفور بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں . پاکستانی حکام نے ٹوئٹر اور فیس بک کے سامنے کشمیر کے حق میں پوسٹ کرنے والوں کے اکاؤنٹ کی بندش کا معاملہ اٹھایا تھا ، اس کی وجہ خطے کے ہیڈ کوارٹر میں موجود بھارتی اسٹاف ہیں’۔ پاکستان نے ٹویٹر انتظامیہ سے اس سازش کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے.

  • مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی جانب سے سینکڑوں خواتین کے ساتھ دست درازی کی رپورٹ

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی جانب سے سینکڑوں خواتین کے ساتھ دست درازی کی رپورٹ

    مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ایک گروپ نے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے 15 اگست کی رات کشمیریوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور سینکڑوں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ دست درازی کی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے گروپ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے متعدد خواتین اور کم عمر لڑکیوں پر دست درازی کی اور سیکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کیا۔

    مذکورہ گروپ نے مقبوضہ وادی میں متاثرین سے گفتگو کے بعد اپنی رپورٹ تیار کی جس میں بتایا گیا ہے کہ تمام متاثرہ خواتین کیمرہ کے سامنے بات چیت سے ڈری ہوئی تھیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے آج مسلسل 15ویں روز بھی وادی کشمیر اورجموں خطے کے کم از کم پانچ اضلاع میں کرفیو اور دیگر سخت پابندیوں کا نفاذ جاری رکھا۔ دو ہفتوں میں بھارتی فوج نے 4 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کر لیا

    واضح رہے کہ نریندر مودی حکومت کی طرف سے 5 اگست کو جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی دفعہ 370 کے خاتمے سے پہلے مقبوضہ علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیاتھا۔ مسلسل کرفیو اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث علاقے میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے کیوںکہ علاقے کے لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ اور مریضوں کے لیے زندگی بچانے والی اوویات سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    قابض انتظامیہ نے ٹی وی چینلز کی نشریات اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی سے معلومات تک رسائی بھی مسدود کردی ہے جبکہ 5 اگست سے مقامی اخبارات کے آن لائن ایڈشن بھی اپ ڈیٹ نہیں ہو پا رہے ہیں۔ جموں خطے کے سانبہ،کٹھوعہ، ادھمپور، ریاسی اور جموں اضلاع میں مختصر سے وقفے کے بعد دوبارہ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کردی گئی ہیں.

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پیلٹ گن کا کھلے عام استعمال کر رہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پاکستان میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، قومی سلامتی کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، بھارتی ہائی کمشنر بھارت واپس روانہ ہو چکے ہیں، پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی دنیا کے سامنے اٹھانے کے لئے مختلف ممالک سے رابطے کئے ہیں، چین نے پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے،کشمیر کے حوالہ سے وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ٹرمپ سے بھی گفتگو ہوئی ہے،

  • ایودھیا، انعام یافتہ سندیپ پٹیل کو کیوں حراست میں لیا بھارتی حکومت نے

    ایودھیا، انعام یافتہ سندیپ پٹیل کو کیوں حراست میں لیا بھارتی حکومت نے

    بھارتی حکومت کامسلسل دعوی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں حالات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں، لیکن حکومت جموں و کشمیر پر کسی کو بھی بولنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ پہلے کانگریس رہنماﺅں کو کشمیر پر پریس کانفرنس سے پہلے گرفتار کیا گیا، اور اب کشمیر معاملے میں پریس کانفرنس کرنے ایودھیا پہنچے انعام یافتہ سندیپ پانڈے کو بھی پولیس نے اپنی حراست میں لے لیا ہے۔

    ایسے ماحول میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر جموں و کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے جس کا بھارتی حکومت اور میڈیا کی جانب سے تواتر سے کیا جا رہا ہے تو لیڈروں اور سماجی کارکنان کو پریس کانفرنس سے کیوں روکا جا رہا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق کشمیر سے دفعہ 370 اور 35 اے کو ہٹائے جانے کی سندیپ پانڈے سخت مخالفت کر رہے ہیں اور اسی حوالے وہ پریس کانفرنس کرنے والے تھے۔

    قبل ازیں سندیپ پانڈے نے انتظامیہ پر قومی معاملات کے حوالہ سے بات نہ کرنے کی اجازت کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے اظہارِ رائے کی آزادی ختم ہو رہی ہے۔ سندیپ پٹیل کے مطابق گزشتہ تقریباً ایک ہفتہ کے دوران پولس نے انھیں کئی قومی معاملات پر اپنی بات رکھنے سے کئی بار روکا۔11 اگست، 16 اگست اور 17 اگست کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی خطرے میں ہے۔

  • امریکی مشیر کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت

    امریکی مشیر کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت

    واشنگٹن۔ 19 اگست (اے پی پی) وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے امریکی صدر کے مشیر ساجد تارڑ سے ملاقات کی جس میں مسئلہ کشمیر سمیت کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارتی فوج کنٹرول لائن پر شہری آبادی کو نشانہ اور ممنوعہ کلسٹر بموں کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے، وادی میں 15 دن سے کرفیو نافذ ہے، مقبوضہ کشمیر ایک جیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کردار ادا کرے۔

    امریکی صدر کے مشیر ساجد تارڑ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔