Baaghi TV

Category: کشمیر

  • جموں کشمیر کی نصف کرکٹ ٹیم لاپتہ، کپتان سمیت دیگر کھلاڑیوں کو زمین کھا گئی یا آسمان؟ دل دہلا دینے والی رپورٹ منظر عام پر

    جموں کشمیر کی نصف کرکٹ ٹیم لاپتہ، کپتان سمیت دیگر کھلاڑیوں کو زمین کھا گئی یا آسمان؟ دل دہلا دینے والی رپورٹ منظر عام پر

    مقبوضہ کشمیر کی کرکٹ ٹیم کے نصف سے زائد کھلاڑیوں کے لاپتہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے اور جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کا کئی کھلاڑیوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

    باغی ٹی وی کی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370ختم کئے جانے سے دیگر طبقوں کی طرح کرکٹ کے کھلاڑی بھی متاثر ہوئے ہیں۔ جموں وکشمیرکرکٹ ایسوسی ایشن (جے کے سی اے) اپنی ٹیم کوآندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم میں ہونے والی وجی ٹرافی میں نہیں بھیجے گی کیونکہ انہیں گورنرستیہ پال ملک سے کھلاڑیوں کے تحفظ کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی ۔بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ آرٹیکل 370 ہٹنے کے بعد سے جموں وکشمیرکے کئی کھلاڑیوں سے رابطہ نہیں ہوپا رہا اور وہ لاپتہ ہیں۔ جموں وکشمیرکرکٹ ایسوسی ایشن اپنے جن کھلاڑیوں کے ساتھ رابطہ میں نہیں ہے ان میں کپتان پرویزرسول بھی شامل ہیں۔

    جموں وکشمیرکرکٹ ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹوشاہ بخاری کا کہنا ہے کہ ہم شاید ہی وجے ٹرافی میں حصہ لیں کیونکہ حالات اس قدر خراب ہیں کہ ہمارا اپنے کھلاڑیوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس کھلاڑیوں کے موبائل نمبر ہیں، لیکن انہوں نے اپنے لینڈ لائن نمبرہمیں نہیں دیئے ہیں۔ آج کے زمانے میں لوگ لینڈ لائن استعمال نہیں کرتے ہیں۔ ہم نے کچھ کھلاڑیوں سے بات ضرورکی لیکن جوکھلاڑی وادی میں ہیں ہم ان سے رابطہ نہیں کرپارہے ہیں کیونکہ ان کے موبائل فون کام نہیں کررہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کپتان پرویزرسول کہاں ہیں۔

    واضح رہے کہ وجے ٹرافی میں کئی ریاستی ایسوسی ایشن کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ اس ٹرافی کا انعقاد نئے کھلاڑیوں کی تلاش اورمیچ پریکٹس کےلئے آندھراپردیش کرکٹ ایسوسی ایشن کرتی ہے۔

  • بھارتی ڈاکٹروں کے گروپ نے بھی کشمیر کے حوالے سے خط لکھ دیا

    بھارتی ڈاکٹروں کے گروپ نے بھی کشمیر کے حوالے سے خط لکھ دیا

    18بھارتی ڈاکٹروں کے گروپ نے مقبوضہ کشمیر سے پابندیوں کو فوری طور پرختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
    گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کتنے کشمیری گرفتار ہوئے ، اے ایف پی نے بتا دیا
    یہ مطالبہ ایک خط کے ذریعے کیا گیا۔ خط کے مطابق بھارت نے پہلے لاک ڈاﺅن کیا بعد ازاں آرٹیکل 370کو ہٹایا۔ علاقے میں انٹرنیٹ تک کی سروس بند کردی گئی ۔جس سے نہ صرف لوگوں کے درمیان رابطہ معطل ہوابلکہ ان دوکانداروں اور فارماسسٹوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو گئیں جو انٹرنیٹ کے لیے اشیاءاور ادویات کا آرڈر دیتے تھے ۔

    ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ دوائیوں کی بڑھتی ہوئی قلت اور سفر میں مشکلات کی وجہ سے مریض سفر نہ کرسکے اور لوگ ایمبولینس طلب نہ کرسکے۔

    خط میں ڈاکٹرز نے لکھا ہے کہ مقامی دکانوں میں کچھ دوائیاں ختم ہو چکی ہیں۔ لوگوں کو بیمار رشتے داروں کے لیے ادویات لینے کے لیے نئی دہلی تک جانا پڑتا ہے۔

    ڈاکٹرز نے خط میں ہندوستانی حکومت سے جلد سے جلد مواصلات اور سفر پر پابندیوں کو آسان بنانے کا مطالبہ کیا تاکہ بغیر کسی رکاوٹ کے مریضوں کو صحت کی دیکھ بھال تک رسائی حاصل ہوسکے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں، سماجی رکن شہلاراشد نے بڑا مطالبہ کر دیا

    مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں، سماجی رکن شہلاراشد نے بڑا مطالبہ کر دیا

    جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طلباءرہنما اور کشمیری سماجی کارکن شہلا راشد نے نئی دہلی کے جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتیوں کے ذریعہ انسانی حقوق کی پامالیوں کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
    گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کتنے کشمیری گرفتار ہوئے ، اے ایف پی نے بتا دیا
    شہلا راشد نے ٹوئٹس میں کہا کہ ”میرے تمام ٹویٹس لوگوں کے ساتھ گفتگو پر مبنی ہیں۔ میرا ٹوئٹ انتظامیہ کے مثبت کام کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ فوج کو منصفانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرنے دیں اور میں ان کے ساتھ مذکور واقعات کی تفصیلات بتانے کو تیار ہوں۔

    ”میں ایک عام کشمیری ہوں۔ ان اوقات میں محض گرفتار ہونا ایک اعزاز کی بات ہے۔ “

  • بھارتی ماہر معاشیات نے ایسا کیا کہا کہ بھارتیوں کے سر شرم سے جھک گئے

    بھارتی ماہر معاشیات نے ایسا کیا کہا کہ بھارتیوں کے سر شرم سے جھک گئے

    عالمی نوبل انعام یافتہ بھارتی ماہر معاشیات ڈاکٹر امرتا سین نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر بھارتی وزیراعظم مودی پر کڑی تنقید کی ہے ۔ بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر امرتاسن نے کہا کہ نریندر مودی اس اقدام کے بعد دنیا میں اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    مسئلہ کشمیر کا حل بتاتے ہوئے امرتاسن نے بتایا کہ میرا نہیں خیال مسئلہ کشمیر کا حل جمہوریت کے سوا کچھ اور ہے ۔کشمیرکشمیریوں کا ہے ، کشمیرکے فیصلہ کا اختیار بھی انہی کو ہونا چاہیے۔

    بھارتی ماہر معاشیات نے حریت رہنماوَں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ آپ لوگوں کے قائدین کی آواز سنے کے بغیر کبھی بھی انصاف اور انصاف حاصل کریں گے۔

    ڈاکٹر امرتاسن نے مزید کہا کہ مجھے بھارتی ہونے پر کوئی فخر نہیں۔

  • کشمیریوں کی حمایت ، ٹویٹر بھی جارحیت پر اتر آیا ، 215 سے زائد اکاونٹس معطل ، پاکستان سخت ناراض ، تحقیقات کا مطالبہ کردیا

    کشمیریوں کی حمایت ، ٹویٹر بھی جارحیت پر اتر آیا ، 215 سے زائد اکاونٹس معطل ، پاکستان سخت ناراض ، تحقیقات کا مطالبہ کردیا

    اسلام آباد : کشمیریوں کی حمایت کیوں کرتے ہو ؟ ٹویٹر بھی جارحیت پر اتر آیا ، 215 سے زائد ٹویٹر اکاونٹس معطل کرکے ٹویٹر انتظامیہ نے بھارت نواز کو بھر پور ساتھ دیا. ذرائع کے مطابق حکومت نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کو بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتوں میں کشمیر کے حوالے سے مواد شیئر کرنے پر5 21 اکاؤنٹس معطل کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق یہ دعوے کشمیر کی آزادی کے حق میں ٹویٹ کرنے والے صحافیوں، سماجی رہنماؤں، سرکاری حکام اور فوج کے حامیوں کی جانب سے سامنے آئے۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کئی پاکستانیوں نے ٹوئٹر کو کشمیر کی حمایت میں لکھنے والے اکاؤنٹ معطل کیے جانے کی اطلاع دی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل اتوار کے روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے میجر جنرل آصف غفور بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں . پاکستانی حکام نے ٹوئٹر اور فیس بک کے سامنے کشمیر کے حق میں پوسٹ کرنے والوں کے اکاؤنٹ کی بندش کا معاملہ اٹھایا تھا ، اس کی وجہ خطے کے ہیڈ کوارٹر میں موجود بھارتی اسٹاف ہیں’۔ پاکستان نے ٹویٹر انتظامیہ سے اس سازش کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے.

  • مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی جانب سے سینکڑوں خواتین کے ساتھ دست درازی کی رپورٹ

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی جانب سے سینکڑوں خواتین کے ساتھ دست درازی کی رپورٹ

    مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ایک گروپ نے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے 15 اگست کی رات کشمیریوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور سینکڑوں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ دست درازی کی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے گروپ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے متعدد خواتین اور کم عمر لڑکیوں پر دست درازی کی اور سیکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کیا۔

    مذکورہ گروپ نے مقبوضہ وادی میں متاثرین سے گفتگو کے بعد اپنی رپورٹ تیار کی جس میں بتایا گیا ہے کہ تمام متاثرہ خواتین کیمرہ کے سامنے بات چیت سے ڈری ہوئی تھیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے آج مسلسل 15ویں روز بھی وادی کشمیر اورجموں خطے کے کم از کم پانچ اضلاع میں کرفیو اور دیگر سخت پابندیوں کا نفاذ جاری رکھا۔ دو ہفتوں میں بھارتی فوج نے 4 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کر لیا

    واضح رہے کہ نریندر مودی حکومت کی طرف سے 5 اگست کو جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی دفعہ 370 کے خاتمے سے پہلے مقبوضہ علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیاتھا۔ مسلسل کرفیو اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث علاقے میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے کیوںکہ علاقے کے لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ اور مریضوں کے لیے زندگی بچانے والی اوویات سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    قابض انتظامیہ نے ٹی وی چینلز کی نشریات اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی سے معلومات تک رسائی بھی مسدود کردی ہے جبکہ 5 اگست سے مقامی اخبارات کے آن لائن ایڈشن بھی اپ ڈیٹ نہیں ہو پا رہے ہیں۔ جموں خطے کے سانبہ،کٹھوعہ، ادھمپور، ریاسی اور جموں اضلاع میں مختصر سے وقفے کے بعد دوبارہ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کردی گئی ہیں.

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پیلٹ گن کا کھلے عام استعمال کر رہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پاکستان میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، قومی سلامتی کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، بھارتی ہائی کمشنر بھارت واپس روانہ ہو چکے ہیں، پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی دنیا کے سامنے اٹھانے کے لئے مختلف ممالک سے رابطے کئے ہیں، چین نے پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے،کشمیر کے حوالہ سے وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ٹرمپ سے بھی گفتگو ہوئی ہے،

  • ایودھیا، انعام یافتہ سندیپ پٹیل کو کیوں حراست میں لیا بھارتی حکومت نے

    ایودھیا، انعام یافتہ سندیپ پٹیل کو کیوں حراست میں لیا بھارتی حکومت نے

    بھارتی حکومت کامسلسل دعوی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں حالات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں، لیکن حکومت جموں و کشمیر پر کسی کو بھی بولنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ پہلے کانگریس رہنماﺅں کو کشمیر پر پریس کانفرنس سے پہلے گرفتار کیا گیا، اور اب کشمیر معاملے میں پریس کانفرنس کرنے ایودھیا پہنچے انعام یافتہ سندیپ پانڈے کو بھی پولیس نے اپنی حراست میں لے لیا ہے۔

    ایسے ماحول میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر جموں و کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے جس کا بھارتی حکومت اور میڈیا کی جانب سے تواتر سے کیا جا رہا ہے تو لیڈروں اور سماجی کارکنان کو پریس کانفرنس سے کیوں روکا جا رہا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق کشمیر سے دفعہ 370 اور 35 اے کو ہٹائے جانے کی سندیپ پانڈے سخت مخالفت کر رہے ہیں اور اسی حوالے وہ پریس کانفرنس کرنے والے تھے۔

    قبل ازیں سندیپ پانڈے نے انتظامیہ پر قومی معاملات کے حوالہ سے بات نہ کرنے کی اجازت کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے اظہارِ رائے کی آزادی ختم ہو رہی ہے۔ سندیپ پٹیل کے مطابق گزشتہ تقریباً ایک ہفتہ کے دوران پولس نے انھیں کئی قومی معاملات پر اپنی بات رکھنے سے کئی بار روکا۔11 اگست، 16 اگست اور 17 اگست کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی خطرے میں ہے۔

  • امریکی مشیر کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت

    امریکی مشیر کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت

    واشنگٹن۔ 19 اگست (اے پی پی) وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے امریکی صدر کے مشیر ساجد تارڑ سے ملاقات کی جس میں مسئلہ کشمیر سمیت کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارتی فوج کنٹرول لائن پر شہری آبادی کو نشانہ اور ممنوعہ کلسٹر بموں کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے، وادی میں 15 دن سے کرفیو نافذ ہے، مقبوضہ کشمیر ایک جیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کردار ادا کرے۔

    امریکی صدر کے مشیر ساجد تارڑ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔

  • گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کتنے کشمیری گرفتار ہوئے ، اے ایف پی نے بتا دیا

    گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کتنے کشمیری گرفتار ہوئے ، اے ایف پی نے بتا دیا

    فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے بھی مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کم ازکم چار ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا۔
    کینڈا سے بھی کشمیریوں کے لیے اچھی خبر آگئی
    اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مجسٹریٹ نے تصدیق کی کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کم از کم چار ہزارافراد کو گرفتار کیا گیا ۔مجسٹریٹ کے مطابق ”ان میں سے بیشتر کو کشمیر سے باہر بھیج دیا گیا تھا کیونکہ یہاں کی جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش ختم ہوگئی تھی۔اے ایف پی نے پولیس اور فورسز کے جوانوں اور سری نگر میں متعدد سرکاری عہدیداروں سے بات چیت کی ، جنہوں نے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی تصدیق کر دی۔

    ایک پولیس اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ،”سری نگر میں حراست میں لیے جانے کے بعد تقریباً 6000 افراد کا طبی معائنہ کیا گیا“۔ انہوں نے مزید کہا ، ”انہیں پہلے سری نگر کی سنٹرل جیل بھیجا گیا اور بعد میں وہ یہاں سے فوجی جہازوں سے بھیج دیے گئے“

    اے ایف پی کے مطابق سری نگر میں مظاہرے کے دوران آٹھ کشمیری زخمی ہو گئے۔ بھارتی حکام نے مظاہروں سے بچنے کے لیے کشمیر میں بہت زیادہ پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ گذشتہ دو ہفتوں سے موبائل اور فون سروس بھی بند ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، گذشتہ دو ہفتوں کی بھارتی ریاستی دہشت گردی کی رپورٹ آ گئی

    مقبوضہ کشمیر، گذشتہ دو ہفتوں کی بھارتی ریاستی دہشت گردی کی رپورٹ آ گئی

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں اور نیم فوجی دستوں نے گھرگھر چھاپوں کے دوران متعدد خواتین اور لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کی اور نوجوان لڑکوں کو گرفتار کر لیا۔
    بھارتی فوج کشمیریوں پر کیسے ظلم کر رہی ہے؟ کشمیری لیڈر نے بھارتی فوج کو درندہ کہہ دیا
    نئی دہلی میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے گروپ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آدھی رات کے وقت چھاپوں کے دوران بھارتی فوج نے نہ صرف سینکڑوں لڑکوں کو اغوا کیا بلکہ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔

    رپورٹ وادی کشمیر اور ارد گرد کے سیکڑوں متاثرہ لوگوں سے بات چیت کے بعد تیار کی گئی تھی۔
    رپورٹ کے مطابق 15 اگست کو بھارتی یوم جمہوریہ کی رات بھی کشمیریوں پر بھاری رہی اور رات کے چھاپوں کے دوران بھارتی فوج نے سیکڑوں نوجوانوں کو اغوا کیا اور خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔

    تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقائی پولیس ، فوج اور نیم فوجی دستوں نے وادی کشمیر میں سینکڑوں گھروں پر چھاپے مارے اور 5 اگست سے اب تک سکول کے بچوں اور نوجوانوں کو ان کے بستر سے اٹھایا گیا۔