Baaghi TV

Category: کشمیر

  • گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کتنے کشمیری گرفتار ہوئے ، اے ایف پی نے بتا دیا

    گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کتنے کشمیری گرفتار ہوئے ، اے ایف پی نے بتا دیا

    فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے بھی مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کم ازکم چار ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا۔
    کینڈا سے بھی کشمیریوں کے لیے اچھی خبر آگئی
    اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مجسٹریٹ نے تصدیق کی کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کم از کم چار ہزارافراد کو گرفتار کیا گیا ۔مجسٹریٹ کے مطابق ”ان میں سے بیشتر کو کشمیر سے باہر بھیج دیا گیا تھا کیونکہ یہاں کی جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش ختم ہوگئی تھی۔اے ایف پی نے پولیس اور فورسز کے جوانوں اور سری نگر میں متعدد سرکاری عہدیداروں سے بات چیت کی ، جنہوں نے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی تصدیق کر دی۔

    ایک پولیس اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ،”سری نگر میں حراست میں لیے جانے کے بعد تقریباً 6000 افراد کا طبی معائنہ کیا گیا“۔ انہوں نے مزید کہا ، ”انہیں پہلے سری نگر کی سنٹرل جیل بھیجا گیا اور بعد میں وہ یہاں سے فوجی جہازوں سے بھیج دیے گئے“

    اے ایف پی کے مطابق سری نگر میں مظاہرے کے دوران آٹھ کشمیری زخمی ہو گئے۔ بھارتی حکام نے مظاہروں سے بچنے کے لیے کشمیر میں بہت زیادہ پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ گذشتہ دو ہفتوں سے موبائل اور فون سروس بھی بند ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، گذشتہ دو ہفتوں کی بھارتی ریاستی دہشت گردی کی رپورٹ آ گئی

    مقبوضہ کشمیر، گذشتہ دو ہفتوں کی بھارتی ریاستی دہشت گردی کی رپورٹ آ گئی

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں اور نیم فوجی دستوں نے گھرگھر چھاپوں کے دوران متعدد خواتین اور لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کی اور نوجوان لڑکوں کو گرفتار کر لیا۔
    بھارتی فوج کشمیریوں پر کیسے ظلم کر رہی ہے؟ کشمیری لیڈر نے بھارتی فوج کو درندہ کہہ دیا
    نئی دہلی میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے گروپ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آدھی رات کے وقت چھاپوں کے دوران بھارتی فوج نے نہ صرف سینکڑوں لڑکوں کو اغوا کیا بلکہ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔

    رپورٹ وادی کشمیر اور ارد گرد کے سیکڑوں متاثرہ لوگوں سے بات چیت کے بعد تیار کی گئی تھی۔
    رپورٹ کے مطابق 15 اگست کو بھارتی یوم جمہوریہ کی رات بھی کشمیریوں پر بھاری رہی اور رات کے چھاپوں کے دوران بھارتی فوج نے سیکڑوں نوجوانوں کو اغوا کیا اور خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔

    تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقائی پولیس ، فوج اور نیم فوجی دستوں نے وادی کشمیر میں سینکڑوں گھروں پر چھاپے مارے اور 5 اگست سے اب تک سکول کے بچوں اور نوجوانوں کو ان کے بستر سے اٹھایا گیا۔

  • مقبوضہ کمشیر :6 ہزار اجتماعی قبریں ، آسٹریلوی صحافی کے انکشافات نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا

    مقبوضہ کمشیر :6 ہزار اجتماعی قبریں ، آسٹریلوی صحافی کے انکشافات نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا

    سڈنی : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم منظر عام پرآنے لگے، اپنے ہی نہیں پرائے بھی یہ بات کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ دنیا میں اس وقت کشمیر میں جو مظالم ہورہے ہیں اس کی تاریخ ماضی میں نہیں‌ ملتی ، تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے معروف کالم نویس سی جے ورلیمان نے مقبوضہ کشمیر پر اپنی رپورٹ ہوشربا حقائق کا انکشاف کیا ہے، رپورٹ کے مطابق ہر 10 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے ،

    آسٹریلوی صحافی کی رپورٹ‌ کے مطابق 6 ہزار سے زیادہ اجتماعی قبریں دریافت ہوچکی ہیں ، یہ ان لوگوں کی قبریں ہیں جنھیں بھارتی فورسز نے "غائب” کیا تھا۔ کشمیری اپنے ان پیاروں کی تلاش میں کئی برس ہوگئے ہیں ادھر ادھر کے دھکے کھارہےہیں.

    ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ بڑی دلچسپ ہے جس میں تمام حقائق کھول کر پیش کیے گئے ہیں. ’مڈل ایسٹ آئی‘ اور ’بائی لائنز‘ کے کالم نویس سی جے ورلیمان نے "بھارتی قبضے کے تحت کشمیر میں زندگی” کے عنوان سے ہوش ربا اعداد و شمار ٹوئٹر پر شیئر کیے ہیں۔


    جے ورلیمان کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی صورت حال صرف کشمیریوں پر مظالم سے ہی نظر آتی ہے. 80 ہزار سے زائد بچے یتیم ہوچکے ہیں۔مسلسل ظلم و ستم اور تناؤ کے باعث 49 فیصد بالغ کشمیری پی ایس ٹَی ڈی نامی دماغی مرض کا شکار ہوچکے ہیں۔جن متنازع علاقوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں جنسی تشدد کی شرح سب سے زیادہ ہے،

    آسٹریلوی صحافی نے انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گرفتار کیے گئے زیادہ تر افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بھارتی فورسز تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں 7 ہزار سے زیادہ زیرِ حراست ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔


    سی جے ورلیمان کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی اٹھارہ قراردادیں موجود ہیں اور کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کیا گیا ہے لیکن 2016 میں بھارت نے اقوام متحدہ کے وفد کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تحقیقات کے لیے مقبوضہ کشمیر جانے سے روک دیا ۔

    دوسری طرف آسٹریلوی صحافی نے بھارتی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت عالمی برادری کی کوئی پرواہ نہیں‌کررہی اور ایک منصوبہ بندی کے ذریعے کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہے. صحافی جے ورلیمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرے

  • بھارتی فوج کشمیریوں پر کیسے ظلم کر رہی ہے؟ کشمیری لیڈر نے بھارتی فوج کو درندہ کہہ دیا

    بھارتی فوج کشمیریوں پر کیسے ظلم کر رہی ہے؟ کشمیری لیڈر نے بھارتی فوج کو درندہ کہہ دیا

    شوپیاں میں4کشمیریوں پربھارتی فوج کاانسانیت سوزتشدد،کشمیری رہنما شہلا خو رشید نے ہولناک انکشاف کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کشمیری رہنما شہلا خورشید کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج نےدرندوں کوبھی پیچھے چھوڑ دیا،4 کشمیریوں کوفوجی کیمپ بلا کرمارا پیٹا گیا ،تشدد کے دوران مائیک رکھ کرچیخیں پورےعلاقے کوسنوائی گئیں ،پورےعلاقے میں دہشت پھیلانے کے لیے بھارتی فوج نے شیطان کوبھی شرمادیا،اس واقعے سے پورے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی،

    مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے آج مسلسل 14ویں روز بھی وادی کشمیر اورجموں خطے کے کم از کم پانچ اضلاع میں کرفیو اور دیگر سخت پابندیوں کا نفاذ جاری رکھا۔ دو ہفتوں میں بھارتی فوج نے 4 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کر لیا

    واضح رہے کہ نریندر مودی حکومت کی طرف سے 5 اگست کو جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی دفعہ 370 کے خاتمے سے پہلے مقبوضہ علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیاتھا۔ مسلسل کرفیو اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث علاقے میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے کیوںکہ علاقے کے لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ اور مریضوں کے لیے زندگی بچانے والی اوویات سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پیلٹ گن کا کھلے عام استعمال کر رہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پاکستان میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، قومی سلامتی کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، بھارتی ہائی کمشنر بھارت واپس روانہ ہو چکے ہیں، پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی دنیا کے سامنے اٹھانے کے لئے مختلف ممالک سے رابطے کئے ہیں، چین نے پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے،کشمیر کے حوالہ سے وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ٹرمپ سے بھی گفتگو ہوئی ہے،

  • مقبوضہ کشمیر،حریت رہنماؤں ،سیاسی لیڈروں کے بعد مذہبی رہنماؤں کو جیلوں میں بند کرنیکا فیصلہ

    مقبوضہ کشمیر،حریت رہنماؤں ،سیاسی لیڈروں کے بعد مذہبی رہنماؤں کو جیلوں میں بند کرنیکا فیصلہ

    مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مودی سرکار نے کشمیریوں کو جیلوں میں ڈالنے کی منصوبہ بندی کر لی، مودی سرکار کے خلاف ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لئے حریت رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد سیاسی رہنماؤں ، نوجوان کشمیری قیادت کو بھی جیلوں میں ڈالا جائے گا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارت سرکار کی جانب سے کرفیو کو دو ہفتے ہو چکے ہیں، اس دوران مودی سرکار نے چار ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا ہے، موبائل و انٹرنیٹ سروس مکمل بند ہے، غذا اور ادویات کی قلت ہے، کشمیریوں کو ہسپتالوں میں جانے کی بھی اجازت نہیں،

    وہیں بھارت سرکار نے کرفیو کے بعد کسی بھی ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لئے چار گروپ تشکیل دئیے ہیں جو مظاہرے کرنے والوں پر نظر رکھیں گے، اور ان کو گرفتار کروائیں گے، مذہبی رہنماؤں کی بھی کڑی نگرانی کی جائے گی، سنگبازوں کی فہرستیں بنائی جائیں گی اور انہیں بعد ازاں گرفتار کیا جائے گا، پہلے گروپ کو ’’موورز اینڈ شیکرز‘‘ یعنی’’طاقتور اور بااثر لوگوں‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گروپ کسی بھی طرح کے ہونے والے مظاہروں میں شامل ہوکرمظاہرین کے حوالہ سے تمام تر تفصیلات اداروں کو فراہم کریں گے۔ اس گروپ کے ارکان کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے بلکہ مظاہروں میں بھارت سرکار کے خلاف نعرے بھی لگائیں گے.

    اسی طرح حریت رہنما ؤں کی سرگرمیوں کو نوٹ کرنے کے لئے بھی ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے،جو سیاسی رہنماؤں کی بھی نگرانی کرے گا، گھروں میں نظربند سیاسی رہنماؤں کی خصوصی نگرانی کی جائے گی اور ان کی تمام بات چیت بھی ریکارڈ کی جائے گی،جو سیاسی رہنما ابھی تک نظربند یا گرفتار نہیں کئے گئے ان کو بھی نظربند کیا جائے گا، یہی گروپ مذہبی رہنماؤن کی بھی نگرانی کرے گا.

    ایک اور گروپ سنگبازوں کی گرفتاریوں کے لئے بنایا گیا ہے، مودی سرکارکے خلاف کشمیری سنگ باز جو مظاہرے کے دوران بھارتی فوج پر پتھراؤ کرتے ہیں ان کی فہرستیں بنا کر انہیں جیلوں میں‌ڈالا جائے گا،20 افراد کی جانب سے جس میں سنگ بازوں کے رشتے دار شامل ہوں گے کی جانب سے ضمانت کی صورت میں سنگ بازوں کو چھوڑا جائے گا اور دوبارہ سنگ بازی کی صورت میں ضمانت نہیں ملے گی.

    مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کو روکنے کے لئے بھی ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو کشمیری نوجوانوں پر نظر رکھے گا اور ان کی سرگرمیوں کا ریکارڈ مرتب کرے گا، رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کسی بھی کشمیری کو عسکریت پسند بنا کر جیل میں ڈال دے گی. اس طرح کشمیری نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال کر ممکنہ احتجاج کو روکنے کا بھارت سرکار کا منصوبہ ہے.

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں دو ہفتے سے کرفیو نافذ ہے،سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ ، عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی سمیت 400 کے قریب سیاسی رہنماؤں کو نظربند کیا گیا ہے ،حریت رہنما سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق بھی نظر بند ہیں، یاسین ملک کو جیل میں رکھا گیا ہے،‌آسیہ اندرابی بھی جیل میں ہیں،

  • دو ہفتوں میں کتنے ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا؟ اہم خبر

    دو ہفتوں میں کتنے ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا؟ اہم خبر

    مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے آج مسلسل 14ویں روز بھی وادی کشمیر اورجموں خطے کے کم از کم پانچ اضلاع میں کرفیو اور دیگر سخت پابندیوں کا نفاذ جاری رکھا۔ دو ہفتوں میں بھارتی فوج نے 4 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرفیو اور دیگر پابندیاں توڑ کر احتجاج کرنے والے مظاہرین اور بھارتی فورسزکے درمیان شدید جھڑپوں میں کم از کم ایک شخص محمد ایوب شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔دو سینئر سرکاری عہدیداروں نے کم از کم دو درجن افراد کے ہسپتالوں میں داخل ہونے کی تصدیق کی ہے جو پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگئے تھے۔صورہ ، رعناواری، نوہٹہ اور گوجوارہ سمیت سرینگر شہر کے دو درجن کے قریب علاقوں میں مظاہرین اور بھارتی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ بمنہ سرینگر کے رہائشی افراد کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز نے ان کے گھروں پر چھاپے مار کر مکینوں پر تشدد کیا اور گھروں کی توڑ پھوڑ کی۔

    دوسری جانب بھارتی فورسز نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران چار ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتارکیا ہے۔

    واضح رہے کہ نریندر مودی حکومت کی طرف سے 5 اگست کو جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی دفعہ 370 کے خاتمے سے پہلے مقبوضہ علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیاتھا۔ مسلسل کرفیو اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث علاقے میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے کیوںکہ علاقے کے لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ اور مریضوں کے لیے زندگی بچانے والی اوویات سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    قابض انتظامیہ نے ٹی وی چینلز کی نشریات اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی سے معلومات تک رسائی بھی مسدود کردی ہے جبکہ 5 اگست سے مقامی اخبارات کے آن لائن ایڈشن بھی اپ ڈیٹ نہیں ہو پا رہے ہیں۔ جموں خطے کے سانبہ،کٹھوعہ، ادھمپور، ریاسی اور جموں اضلاع میں مختصر سے وقفے کے بعد دوبارہ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کردی گئی ہیں.

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پیلٹ گن کا کھلے عام استعمال کر رہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پاکستان میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، قومی سلامتی کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، بھارتی ہائی کمشنر بھارت واپس روانہ ہو چکے ہیں، پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی دنیا کے سامنے اٹھانے کے لئے مختلف ممالک سے رابطے کئے ہیں، چین نے پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے،کشمیر کے حوالہ سے وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ٹرمپ سے بھی گفتگو ہوئی ہے،

  • مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر انٹرنیٹ سروس بند

    مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر انٹرنیٹ سروس بند

    بھارت نے جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ سروس کو ایک بار پھر معطل کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ سروس 4 اگست سے بند تھی اور اسے گزشتہ روز ہی جزوی طور پر بحال کیا گیا تھا۔ جب کشمیریوں نے مقبوضہ وادی کی اصل صورت حال سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کو بتانی شروع کی تو یہ چیز بھارتی حکام پر ناگوار گزری۔ آج سے پھر بھارت نے انٹرنیٹ سروس کو بند کر دیا ہے۔ بھارتی حکام نے انٹرنیٹ روکنے کی انوکھی وجہ بیان کی کہ یہ فیصلہ افواہوں کو پھیلنے سے روکنے اور امن برقرار رکھنے کے لئے کیاگیاہے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ دو ہفتوں سے مسلسل کرفیونافذ ہے۔جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے ایک دن قبل وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند کی گئی تھی۔

  • معتبر ترین جریدے  فارن پالیسی نےبھارت کے لیے پریشان کن بات کہہ دی

    معتبر ترین جریدے فارن پالیسی نےبھارت کے لیے پریشان کن بات کہہ دی

    امریکہ کے معتبر اور مستند جریدے فارن پالیسی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد نہ صرف کشمیریوں اور ہندوستان کے درمیان خلیج مزید بڑھے گی بلکہ بڑے پیمانے پر تشدد کا بھی خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق فارن پالیسی میگزین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ بات بالکل واضح محسوس ہوتی ہے کہ آرٹیکل پینتیس اے کا خاتمہ مسلم اکثریت والی اس ریاست کی نوعیت کو تبدیل کردے گا۔

    بھارتی حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے مقبوضہ کشمیر کی الگ خصوصی حیثیت کا حامل آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، اس قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر اور لداخ آج سے بھارتی یونین کا حصہ تصور کیا جائے گا، آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی، مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا. دراصل بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، آرٹیکل 370 ختم ہونے سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے گھر ہوجائیں گے، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیر مسلم کشمیر میں آ کر آباد ہوجائیں گے، غیر مسلم آبادکار کشمیریوں کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے اور یوں مسلم اکثریتی تناسب اقلیتی تناسب میں تبدیل ہو کر رہ جائے گا.
    فارن پالیسی نےمزید لکھا کہ کہ ابتدا میں جموں اور لداخ کے غیر مسلم باشندوں نے بھارتی حکومت کے اقدام کا خیرمقدم کیا تھا لیکن اب ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنی ثقافت اور روزگار کے تحفظ سے متعلق خدشات کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔

  • تارکین وطن پاکستانی مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کریں، سلیم مانڈوی والا

    تارکین وطن پاکستانی مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کریں، سلیم مانڈوی والا

    اسلام آباد۔ 17 اگست (اے پی پی) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے تارکین وطن پاکستانیوں پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کریں، دنیا مسئلہ کشمیر کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانیہ میں اوورسیز پاکستانیوں اور سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کریں، تمام بین الاقوامی سیمینارز اور کانفرنسز میں کشمیریوں کی آواز کو اٹھایا جائے۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کی آواز کو دنیا بھر میں پہنچائیں اور بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کاز کو اجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی وفد نے یورو ایشین کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے جو پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے مسئلہ کشمیر پر مشترکہ قرار داد منظور کی ہے اور کشمیریوں سے یکجہتی کی گئی ہے۔ماضی میں مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورمز پر نہیں اٹھایا گیا۔

  • مقبوضہ کشمیر، سوشل میڈیا کا استعمال جرم بن گیا

    مقبوضہ کشمیر، سوشل میڈیا کا استعمال جرم بن گیا

    مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے جرم میں دو کشمیری نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیاہے۔عتیق چوہدری اور فاروق چوہدری کے خلاف فیس بک پر پوسٹ کرنے کے جرم میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    ایس ایس پی یوگل منہاس نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے تشکیل دے دی گئی ہیں۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل تیرہ روز سے کرفیو نافذ ہے ۔ اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ بھارتی فوج نے ایک ہزار کے قریب کشمیریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔