Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیر کرب و بلا کا منطر پیش کرنےلگا،کرفیو کا مسلسل 13 واں دن ، بچے دودھ کے لیےبلکنے لگے

    کشمیر کرب و بلا کا منطر پیش کرنےلگا،کرفیو کا مسلسل 13 واں دن ، بچے دودھ کے لیےبلکنے لگے

    کشمیر کرب و بلا کا منطر پیش کرنےلگا،کرفیو کا مسلسل 13 واں دن ، بچے دودھ کے لیےبلکنے لگے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 13 ویں روز بھی کرفیو نافذ ہونے کے باعث کاروبار زندگی بری طرح متاثر اور مریض طبی سہولیات سے محروم ہیں۔بچوں کو دودھ کی کمی
    مقبوضہ کشمیر کے گلی کوچوں میں فوج تعینات ہے. موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند ہے. جس کی وجہ سے وادی کا رابطہ پوری دنیا سے کٹا ہوا ہے. اخبارات کے آن لائن ایڈیشن بھی اپلوڈ نہیں ہو رہے.

    بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کے ساتھ ساتھ بھارت نواز سیاست دانوں کو بھی گرفتار یا نظر بند کیا ہوا ہے. گرفتار شدگان اور نظر بند افراد کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے.

    دریں اثناء کرفیو سے اشیائے ضروریہ کی بھی قلت ہو چکی ہے. بچوں کی غذا کی کمی ہے. جان بچانے والی ادویات بھی کمیاب ہیں. اس وقت مقبوضہ کشمیر میں انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے.
    بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 راجیہ سبھا میں پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے ختم کر دیا تھا۔

  • بھارتی وزیراعظم کی خواہشات کیا….امریکی اخبار نے بتا دیا

    بھارتی وزیراعظم کی خواہشات کیا….امریکی اخبار نے بتا دیا

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنے خصوصی تحزیہ میں لکھا ہے کہ پچھلے دو ہفتوں سے بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کا وجود خطرے میں ہے۔ ایک صدارتی فرمان کے ذریعے ریاست کی خودمختاری کو نہ صرف کالعدم قرار دے دیا گیا ہے بلکہ اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہیں ۔ اسمبلی پر پابندی اور گلیوں محلوں میں کرفیو نافذ ہے۔ حتی کہ کچھ دیہاتوں میں تو ہر گھر کے باہر ایک پولیس اہلکار تعینات ہے۔کشمیر کے آٹھ ملین شہریوں کا رابطہ دنیا سے منقطع ہے۔ دوائیں ختم جبکہ گھروں میں خوراک کی قلت پیدا ہو گئی۔پھر بھی مودی کا اصرار ہے کہ یہ سب کچھ کشمیریوں کی بھلائی کے لیے ہے۔ کشمیر پر بھارت کی گرفت کبھی کبھار ہی مضبوط رہی ہے۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مودی کا کشمیر پر اچانک قبضہ ایک طویل نظریاتی تڑپ کی تکمیل ہے جس میں بڑی حد تک مسلمان اکثریتی آبادی کوہندو قوم کے نظریہ کے آگے جھکنے پر مجبور کرنا ہے۔۔ یہ (پیغام )باقی ماندہ ہندوستان کے لیے بھی ہے۔ کشمیر ایک وارننگ اور ٹیمپلیٹ دونوں ہی ہے: اس نظریہ سے انحراف ہونے والی کسی بھی ریاست کو "اتحاد” کے نام پر دہلی کے انگوٹھے کے نیچے لایا جاسکتا ہے۔

    اخبار نے لکھا ہے کہ وہ لوگ جو یہ مانتے ہیں کہ ایسا دن کبھی نہیں آئے گا انہوں نے کبھی یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ مودی جیسا شخص ایک دن ملک کی قیادت کرے گا۔ مودی تاریخ میں جنونی کے طورپر مشہور ہیں۔ گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ، انہوں نے 2002 میں ہندوستان کی حالیہ تاریخ میں بدترین فرقہ وارانہ خون خرابے کی سرپرستی کی، ایک اندازے کے مطابق ، کئی ہفتوں میں ہندوﺅں نے ایک ہزار مسلمانوں کو تلوار سے ذبح کیا۔ کچھ لوگوں نے مودی پر ہجوم کو شہ دینے کا الزام لگایا۔ دوسروں نے کہا کہ اس نے ان کی طرف آنکھیں بند کیں۔ اس قتل عام نے مودی کو اچھوت بنا دیا: لبرل ہندوستانیوں نے اسے ہٹلر سے تشبیہ دی ، امریکہ نے انہیں ویزا دینے سے انکار کردیا ، اور برطانیہ اور یوروپی یونین نے ان کا بائیکاٹ کیا۔

    لیکن مودی نے ہندوستان کے ہندووں سے اپیل کی جن پر مسلمانوں نے صدیوں حکومت کی تھی۔ اس نے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے تین مضبوط ترین طریقے استعمال کیے پہلا رنج و غم تھا ،جس کے مطابق ، ہندو بنیاد پرست خون خرابے کا الزام لگاسکتے ہیں: پولیس کی تحویل میں ایک مسلمان شخص کی شہادت کے بعد مودی نے 2007 کے جلسے میں کہا ، "اگر اے کے 47 رائفلیں کسی شخص کی رہائش گاہ پر پائی جاتی ہیں… کیا میں انھیں قتل نہ کروں؟ "(ہجوم نے پیچھے ہٹ کر کہا:” ان کو مار ڈالو! انہیں مار ڈالو! ") دوسرے طریقے کے تحت ایک جلسے میں 2002 میں ، مودی نے گجرات کے فسادات سے بے گھر ہوئے مسلمانوں کی حالت زار پر یہ کہا تھا ”ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ ان کے لئے امدادی کیمپ چلائیں؟ کیا ہم بچوں کو پیدا کرنے والے مراکز کھولنا چاہتے ہیں؟ “اس کے سامعین قہقہوں سے بھڑک اٹھے۔ انہوں نے کہا ، ”ہمیں ان لوگوں کو سبق سکھانا ہے جو خطرناک شرح سے آبادی بڑھا رہے ہیں۔“ مودی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ بھارت ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے ایک غلام قوم رہا ہے اور اس نے یہ دعوی کیا کہ کچھ فورسز اسے جان سے مارنا چاہتی ہیں۔

    2014 میں وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد سے مشتعل ہندو ہجوم کے ذریعہ اور ہندو خواتین کی تبدیلی مذہب کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ پچھلے موسم گرما میں ، مودی کی کابینہ میں ایک وزیر نے آٹھ افراد کو ہار پہنائے جن پر ایک مسلمان آدمی کومارنے پیٹنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس کائنات میں ، کشمیر کبھی بھی خود مختار نہیں رہ سکتا تھا ، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثریت کی خواہشات سے بے نیاز ہوتا ہے اور اسے تشدد کے ذریعہ اپنی مرضی سے دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔

    اس سال مودی کے دوبارہ انتخاب نے ان حامیوں کی حوصلہ افزائی کی جن کے غصے کو بھڑکایا گیا تھا۔ وزیر اعظم اقلیتوں کے قتل کو شاید ہی تسلیم کرتے ہیں۔مذمت کی بھی شاذو ناذر مثالیں موجود ہیں۔ در حقیقت ، ایک باربھی ہندو بنیاد پرستوں کے ہاتھوں مارے جانے والے کسی مسلمان کو یاد نہیں کیا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے۔

    مودی کی سیاسی بیداری ایک دائیں بازو کی نیم فوجی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے تربیتی کیمپوں میں ہوئی جس نے ہندو قوم پرستی کی جدید سیاست کو جنم دیا۔

    کشمیر پر قبضہ کرکے ، مودی نے ہندو قوم پرستی کے حامیوں کو پیچھے کر کے خود کو باپ بنا لیا ہے جسے وہ فخر کے ساتھ "نیا ہندوستان” کہتے ہیں۔ کشمیر مودی کی خواہشات کی فہرست میں ہمیشہ سر فہرست رہا ،اس میں ایودھیا میں ایک مندر کی تعمیر بھی شامل ہے ،جہاں 500سال مسجد قائم رہی اور 1992 میں ہندو قوم پرستوں نے اسے مسمار کر دیا تھا۔ اقلیتوں کو دیئے گئے چھوٹے مراعات کا خاتمہ (جیسے کہ مکہ مکرمہ میں یاتریوں کے لئے سبسڈی)؛ ہندووں کی مذہبی تبدیلی کا قانونی خاتمہ۔ بین المذاہب پیار اور شادیوں پر ایک قانونی دباو، خاص طور پر جب دلہن ہندو اور دولہا مسلمان ہو۔ اور ، بالآخر ، ہندوستان کو باضابطہ طور پر ہندو ریاست قرار دینے کے لئے آئین کو ازسر نو لکھنا۔

    لیکن کیا ہندوستان ، جو زمین کا سب سے متصادم معاشرہ ہے ، اس طرح کی اکثریت کے ہوتے ہوئے بچ سکتا ہے؟ 1951 میں کشمیر کی پہلی آزادانہ طور پر منتخب ہونے والی اسمبلی کے لئے اپنے افتتاحی خطاب میں ، شیخ عبداللہ ، جو مقبول سوشلسٹ اورکشمیر کے ہندوستان سے الحاق کے چیمپئن تھے ، نے کشمیریوں کے سامنے کچھ انتخاب کو پیش کیا۔ انہوں نے کہا ، کشمیری کبھی بھی کسی ایسے اصول کو قبول نہیں کریں گے جو ایک مذہب یا دوسرے گروہ کے خلاف دوسرے گروہ کے مفادات کا حامی ہو۔ اس کا اطلاق اب ہندوستان پر ہوتا ہے۔

    ایک ایسا ہندوستان جو سیکولر نہیں ہے وہ ہمیشہ کشمیر کے لئے اپنی دلیل کھو بیٹھے گا۔ اس خطے پر اس وقت مسلط کردہ خاموشی ایک ایسی گہری رنجش کو چھپا رہی ہے جو پھٹنے کی منتظر ہے۔ مودی کے ذریعہ کشمیر کے ساتھ بدسلوکی کا جواز تو پیش کیا جاسکتا ہے لیکن اگر اس کا مقابلہ نہ کیا گیا اور اسے منسوخ نہ کیا گیا تو بھارت کے اتحاد کے خاتمے کا آغاز ہوسکتا ہے۔

  • راولا کوٹ: لینڈسلائیڈنگ سے7افرادجاں بحق

    راولا کوٹ: لینڈسلائیڈنگ سے7افرادجاں بحق

    راولا کوٹ میں .لینڈسلائیڈنگ سے7افرادجاں بحق ہوئے گئے
    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر.راولاکوٹ کے مطابق راولا کوٹ کے علاقےپوٹھی چھپریاں میں لینڈسلائیڈنگ سے7افرادجاں بحق ہو گئے،4مکانات تباہ ہو گئے.
    مکانات کےملبےسے2افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، روالا کوٹ میں شدید بارش کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں.

    واضح رہے محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ جمعہ کی (رات) سے ہفتہ کے دوران ہزارہ، مالاکنڈ، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ڈی جی خان ڈویژن اسلام آباد اور کشمیر میں موسلادھار بارش کے باعث دریاوٰں اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    اس دوران پشاور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور ڈویژن میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا بھی امکان ہے۔

    گزشتہ روز راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور ڈویژن اور اسلام آباد میں کہیں کہیں جبکہ پشاور، مالاکنڈ، مکران ڈویژن، کشمیر اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہوائوں/آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

  • جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کے صدر شاہ فیصل کی وجہ گرفتاری سامنے آگئی

    جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کے صدر شاہ فیصل کی وجہ گرفتاری سامنے آگئی

    جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کے صدر شاہ فیصل کی گرفتاری کی وجہ سامنے آگئی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ان کی پارٹی کے عہدیدار نے بتایا کہ شاہ فیصل عالمی عدالت انصاف میں آرٹیکل 370کو منسوخ کرنے پر بھارت کے خلاف مقدمہ کرنا چاہتے تھے۔

    شاہ فیصل کودہلی ایئرپورٹ سے حراست میں لیا گیا جہاں سے کشمیر واپس بھیج دیا گیا۔انہوں نے پہلے ترکی اور پھر ہالینڈ جانا تھا۔ شاہ فیصل اس وقت سری نگر کے شیری کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر (ایس کے آئی سی سی)میں ہیں جسے اب سب جیل کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

    قبل ازیں مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا جاوید نے وزیرداخلہ امیت شاہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیریوں کو جانوروں کی طرح پنجرے میں بند رکھا گیا ہے۔

  • بھارت پورے کشمیر کو قبرستان بنانا چاہتا ہے، مشعال ملک

    بھارت پورے کشمیر کو قبرستان بنانا چاہتا ہے، مشعال ملک

    کشمیری رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکاہے، بھارت پورے کشمیر کو قبرستان بنانا چاہتا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کےواقعات ہمیں اپنےمقصدسےنہیں ہٹاسکتے، کشمیر سے بڑا مسئلہ اس وقت کوئی نہیں، کشمیرمیں مظالم کوروکناعالمی برادری کی ذمہ داری ہے، بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکاہے،

    مشعال ملک نے کہاکہ کشمیریوں‌کی جدوجہد آزادی جلد کامیابی سے ہمکنار ہو گی،

  • عدنان سمیع بھارت نوازی میں حد سے نکل گئے، کشمیر سے متعلق کس طرح کی ہرزہ سرائی؟ اہم خبر

    عدنان سمیع بھارت نوازی میں حد سے نکل گئے، کشمیر سے متعلق کس طرح کی ہرزہ سرائی؟ اہم خبر

    پاکستان چھوڑ کر بھارتی شہریت حاصل کرنے والے گلوکار عدنان سمیع نے ایک بار پھر بھارت سے وفاداری نبھاتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے،


    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدنان سمیع نے سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے ایک پاکستانی صارف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے، اس میں اپنی ناک گھسانا بند کرو، پاکستانی صارف نے عدنان سمیع سے کہا کہ اگر ہمت ہے تو کشمیر میں بھارتی مظالم سے متعلق ایک میسج کرو پھر دیکھو انڈیا تمہارا کیا حال کرتا ہے؟ جس پر گلوکار عدنان سمیع نے بھارت کی وفاداری نبھانا شروع کر دی،


    عدنان سمیع نے لکھا کہ میرا باپ بھی 1942 میں‌ بھارت میں پیدا ہوا اور 2009 مرا بھی انڈیا میں‌ ہی تھا، عدنان کی ان ٹویٹس پر بھارتی شہریوں کی طرف سے اس کی تعریف کی گئی جبکہ پاکستانی صارفین نے اس پر شدید تنقید کی ہے،

  • مقبوضہ کشمیر، مسلسل کرفیو کا بارھواں روز

    مقبوضہ کشمیر، مسلسل کرفیو کا بارھواں روز

    مقبوضہ کشمیر میں کرفیو بارھویں روز میں داخل ہو گیا ہے. مسلسل کرفیو سے اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہوگئی ہے. جبکہ کشمیری عوام کے معمولات زندگی متاثر ہیں.

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لیے مسلسل بارہ روز سے کرفیو نافذ ہے. مقبوضہ کشمیر کے گلی کوچوں میں فوج تعینات ہے. موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند ہے. جس کی وجہ سے وادی کا رابطہ پوری دنیا سے کٹا ہوا ہے. اخبارات کے آن لائن ایڈیشن بھی اپلوڈ نہیں ہو رہے.

    بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کے ساتھ ساتھ بھارت نواز سیاست دانوں کو بھی گرفتار یا نظر بند کیا ہوا ہے. گرفتار شدگان اور نظر بند افراد کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے.

    دریں اثناء کرفیو سے اشیائے ضروریہ کی بھی قلت ہو چکی ہے. بچوں کی غذا کی کمی ہے. جان بچانے والی ادویات بھی کمیاب ہیں. اس وقت مقبوضہ کشمیر میں انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے.

  • بھارت، کشمیر اسمبلی کے ممبر عبد الرشید کے ریمانڈ میں توسیع

    بھارت، کشمیر اسمبلی کے ممبر عبد الرشید کے ریمانڈ میں توسیع

    بھارت کی دہلی کورٹ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی اسمبلی کے ممبر انجینئر عبد الرشید کے ریمانڈ میں 21 اگست تک توسیع کر دی ہے. عبد الرشید اس وقت بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کی حراست میں ہیں.

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تحقیقاتی ایجنسی نے عدالت کو بتایا کہ عبد الرشید کے خلاف سنگین الزامات ہیں جس کے لیے انہیں مزید سوالات کرنے کی ضرورت ہے جس پر سپیشل جج نے ان کے ریمانڈ میں اضافے کی منظوری دے دی.

    انجینئر عبد الرشید کے وکیل اینکٹ سرنا نے ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا موکل پہلے ہی تحقیقات میں تعاون کر رہا ہے.

    یاد رہے کہ انجینئر عبد الرشید پہلے بھارت نواز سیاست دان ہیں جنہیں بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے کسی مقدمہ میں حراست میں لیا ہے. ان سے 2017 میں بھی سوالات کیے گئے تھے.

  • مقبوضہ کشمیر، آزادی صحافت بھی خطرے میں

    مقبوضہ کشمیر، آزادی صحافت بھی خطرے میں

    بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک انگلش اخبار سے منسلک صحافی کو حراست میں لے لیا. 26 سالہ عرفان امین ملک کو ترال میں واقع ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا. عرفان سرینگر سے شائع ہونے والے انگلش روزنامہ میں کام کرتے تھے. اسے ترال پولیس سٹیشن میں رکھا گیا ہے.

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عرفان کو رات ساڑھے گیارہ بجے حراست میں لیا گیا. عرفان کے والد محمد امین ملک نے بتایا کہ بھارتی فوج رات کو ان کے گھر پہنچی اور عرفان کو ترال پولیس سٹیشن لے گئے. امین ملک نے الزام لگایا کہ انہیں بیٹے سے ملنے نہیں دیا جا رہا.

    عرفان کی والدہ حسینہ کے مطابق فوجی وردی میں ملبوس افراد نے دیوار پھلانگی اور گھر میں گھس آئے. انہوں (افراد) نے کہا کہ وہ عرفان کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں.

  • کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس ،ہمارے وزیر خارجہ کو کیا کرنا چاہیے تھا،  خاص رپورٹ

    کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس ،ہمارے وزیر خارجہ کو کیا کرنا چاہیے تھا، خاص رپورٹ

    باغی ٹی وی رپورٹ : معروف صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے کشمیر کے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس میں اپنا موقف پیش کرتےہوئے کہا کہ آج سلامتی کونسل کا اجلاس ہونے جا رہا ہے جس میں کشمیر کے مسئلے پر ارکان سلامتی کونسل کی میٹنگ ہوگی. کشمیر پر یہ اجلاس 50 سال بعد ہو رہا ہے اور یہ اجلاس پاکستان کی اپیل پر ہو رہا ہے. اس اہم اجلاس میں ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شرکت نہیں کر رہے ہیں . جب کہ اتنے اہم اجلاس سے لوگ توقع کر رہے تھے کہ بطور وزیر خارجہ ان کو بھی اس وقت اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے بلکہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عید بھی نیورک میں گزارتے اور کشمیر کے حوالے سے لابنگ کرتے اور کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت حاصل کرنے کے لے زیادہ سے زیادہ ممالک کو اپنے ساتھ ملاتے . مگر افسوس اور حیرت اس بات پر ہے کہ اس اہم موقع پر بھی وہ اقوام متحدہ میں نہیں ہیں‌ ان کی اس عدم شرکت کا کیا مطلب ہو سکتا ہے .؟ وزیر خارجہ کی غیر حاضری سے کئی سوالات اور اشکال جنم لے رہے ہیں.

    ہمارے وزیر خارجہ کی عدم شرکت کا یہ مطلب بنتا ہے کہ انہوں نے اس مسئلے کو اتنی اہمیت ہی نہیں دی کہ وہ بذات خود اجلاس میں شریک ہوتے اور پاکستان کی سائیڈ ایک قد آور شخصیت کی شمولیت سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی .یا وہ اس لیے نہیں شریک ہوئے کہ ان کو اس مسئلے پر جو کچھ ہونے جا رہا ہے اس کا پہلے سے علم ہے اور پاکستانی قوم کو علم نہیں جس پر وہ امیدیں لگائے بیٹھی ہے .. یا وہ اس وجہ سے سلامتی کونسل کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے کہ بھارت کو سپورٹ کرنے والی بین الاقوامی کمیونٹی کی آنکھوں میں جو شر اور برائی ہے اس کا سامنا نہیں کر نا چاہتے اور اس طرح ناکامی کی صورت ان کو خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے. اس اجلاس کا نتیجہ جو بھی ہو شاہ محمود قریشی کو بطور وزیر خارجہ لازمی شرکت کرنا چاہیے تھی. کشمیر کے مسئلے کی سنگینی اور صورت حال کے تناظر میں ان کا اس اجلاس سے غیر حاضر ہونا کیا ان کے عہدے کے لیے مناسب ہے .