Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کمشیر :6 ہزار اجتماعی قبریں ، آسٹریلوی صحافی کے انکشافات نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا

    مقبوضہ کمشیر :6 ہزار اجتماعی قبریں ، آسٹریلوی صحافی کے انکشافات نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا

    سڈنی : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم منظر عام پرآنے لگے، اپنے ہی نہیں پرائے بھی یہ بات کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ دنیا میں اس وقت کشمیر میں جو مظالم ہورہے ہیں اس کی تاریخ ماضی میں نہیں‌ ملتی ، تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے معروف کالم نویس سی جے ورلیمان نے مقبوضہ کشمیر پر اپنی رپورٹ ہوشربا حقائق کا انکشاف کیا ہے، رپورٹ کے مطابق ہر 10 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے ،

    آسٹریلوی صحافی کی رپورٹ‌ کے مطابق 6 ہزار سے زیادہ اجتماعی قبریں دریافت ہوچکی ہیں ، یہ ان لوگوں کی قبریں ہیں جنھیں بھارتی فورسز نے "غائب” کیا تھا۔ کشمیری اپنے ان پیاروں کی تلاش میں کئی برس ہوگئے ہیں ادھر ادھر کے دھکے کھارہےہیں.

    ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ بڑی دلچسپ ہے جس میں تمام حقائق کھول کر پیش کیے گئے ہیں. ’مڈل ایسٹ آئی‘ اور ’بائی لائنز‘ کے کالم نویس سی جے ورلیمان نے "بھارتی قبضے کے تحت کشمیر میں زندگی” کے عنوان سے ہوش ربا اعداد و شمار ٹوئٹر پر شیئر کیے ہیں۔


    جے ورلیمان کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی صورت حال صرف کشمیریوں پر مظالم سے ہی نظر آتی ہے. 80 ہزار سے زائد بچے یتیم ہوچکے ہیں۔مسلسل ظلم و ستم اور تناؤ کے باعث 49 فیصد بالغ کشمیری پی ایس ٹَی ڈی نامی دماغی مرض کا شکار ہوچکے ہیں۔جن متنازع علاقوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں جنسی تشدد کی شرح سب سے زیادہ ہے،

    آسٹریلوی صحافی نے انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گرفتار کیے گئے زیادہ تر افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بھارتی فورسز تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں 7 ہزار سے زیادہ زیرِ حراست ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔


    سی جے ورلیمان کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی اٹھارہ قراردادیں موجود ہیں اور کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کیا گیا ہے لیکن 2016 میں بھارت نے اقوام متحدہ کے وفد کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تحقیقات کے لیے مقبوضہ کشمیر جانے سے روک دیا ۔

    دوسری طرف آسٹریلوی صحافی نے بھارتی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت عالمی برادری کی کوئی پرواہ نہیں‌کررہی اور ایک منصوبہ بندی کے ذریعے کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہے. صحافی جے ورلیمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرے

  • بھارتی فوج کشمیریوں پر کیسے ظلم کر رہی ہے؟ کشمیری لیڈر نے بھارتی فوج کو درندہ کہہ دیا

    بھارتی فوج کشمیریوں پر کیسے ظلم کر رہی ہے؟ کشمیری لیڈر نے بھارتی فوج کو درندہ کہہ دیا

    شوپیاں میں4کشمیریوں پربھارتی فوج کاانسانیت سوزتشدد،کشمیری رہنما شہلا خو رشید نے ہولناک انکشاف کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کشمیری رہنما شہلا خورشید کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج نےدرندوں کوبھی پیچھے چھوڑ دیا،4 کشمیریوں کوفوجی کیمپ بلا کرمارا پیٹا گیا ،تشدد کے دوران مائیک رکھ کرچیخیں پورےعلاقے کوسنوائی گئیں ،پورےعلاقے میں دہشت پھیلانے کے لیے بھارتی فوج نے شیطان کوبھی شرمادیا،اس واقعے سے پورے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی،

    مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے آج مسلسل 14ویں روز بھی وادی کشمیر اورجموں خطے کے کم از کم پانچ اضلاع میں کرفیو اور دیگر سخت پابندیوں کا نفاذ جاری رکھا۔ دو ہفتوں میں بھارتی فوج نے 4 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کر لیا

    واضح رہے کہ نریندر مودی حکومت کی طرف سے 5 اگست کو جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی دفعہ 370 کے خاتمے سے پہلے مقبوضہ علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیاتھا۔ مسلسل کرفیو اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث علاقے میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے کیوںکہ علاقے کے لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ اور مریضوں کے لیے زندگی بچانے والی اوویات سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پیلٹ گن کا کھلے عام استعمال کر رہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پاکستان میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، قومی سلامتی کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، بھارتی ہائی کمشنر بھارت واپس روانہ ہو چکے ہیں، پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی دنیا کے سامنے اٹھانے کے لئے مختلف ممالک سے رابطے کئے ہیں، چین نے پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے،کشمیر کے حوالہ سے وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ٹرمپ سے بھی گفتگو ہوئی ہے،

  • مقبوضہ کشمیر،حریت رہنماؤں ،سیاسی لیڈروں کے بعد مذہبی رہنماؤں کو جیلوں میں بند کرنیکا فیصلہ

    مقبوضہ کشمیر،حریت رہنماؤں ،سیاسی لیڈروں کے بعد مذہبی رہنماؤں کو جیلوں میں بند کرنیکا فیصلہ

    مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مودی سرکار نے کشمیریوں کو جیلوں میں ڈالنے کی منصوبہ بندی کر لی، مودی سرکار کے خلاف ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لئے حریت رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد سیاسی رہنماؤں ، نوجوان کشمیری قیادت کو بھی جیلوں میں ڈالا جائے گا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارت سرکار کی جانب سے کرفیو کو دو ہفتے ہو چکے ہیں، اس دوران مودی سرکار نے چار ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا ہے، موبائل و انٹرنیٹ سروس مکمل بند ہے، غذا اور ادویات کی قلت ہے، کشمیریوں کو ہسپتالوں میں جانے کی بھی اجازت نہیں،

    وہیں بھارت سرکار نے کرفیو کے بعد کسی بھی ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لئے چار گروپ تشکیل دئیے ہیں جو مظاہرے کرنے والوں پر نظر رکھیں گے، اور ان کو گرفتار کروائیں گے، مذہبی رہنماؤں کی بھی کڑی نگرانی کی جائے گی، سنگبازوں کی فہرستیں بنائی جائیں گی اور انہیں بعد ازاں گرفتار کیا جائے گا، پہلے گروپ کو ’’موورز اینڈ شیکرز‘‘ یعنی’’طاقتور اور بااثر لوگوں‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گروپ کسی بھی طرح کے ہونے والے مظاہروں میں شامل ہوکرمظاہرین کے حوالہ سے تمام تر تفصیلات اداروں کو فراہم کریں گے۔ اس گروپ کے ارکان کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے بلکہ مظاہروں میں بھارت سرکار کے خلاف نعرے بھی لگائیں گے.

    اسی طرح حریت رہنما ؤں کی سرگرمیوں کو نوٹ کرنے کے لئے بھی ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے،جو سیاسی رہنماؤں کی بھی نگرانی کرے گا، گھروں میں نظربند سیاسی رہنماؤں کی خصوصی نگرانی کی جائے گی اور ان کی تمام بات چیت بھی ریکارڈ کی جائے گی،جو سیاسی رہنما ابھی تک نظربند یا گرفتار نہیں کئے گئے ان کو بھی نظربند کیا جائے گا، یہی گروپ مذہبی رہنماؤن کی بھی نگرانی کرے گا.

    ایک اور گروپ سنگبازوں کی گرفتاریوں کے لئے بنایا گیا ہے، مودی سرکارکے خلاف کشمیری سنگ باز جو مظاہرے کے دوران بھارتی فوج پر پتھراؤ کرتے ہیں ان کی فہرستیں بنا کر انہیں جیلوں میں‌ڈالا جائے گا،20 افراد کی جانب سے جس میں سنگ بازوں کے رشتے دار شامل ہوں گے کی جانب سے ضمانت کی صورت میں سنگ بازوں کو چھوڑا جائے گا اور دوبارہ سنگ بازی کی صورت میں ضمانت نہیں ملے گی.

    مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کو روکنے کے لئے بھی ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو کشمیری نوجوانوں پر نظر رکھے گا اور ان کی سرگرمیوں کا ریکارڈ مرتب کرے گا، رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کسی بھی کشمیری کو عسکریت پسند بنا کر جیل میں ڈال دے گی. اس طرح کشمیری نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال کر ممکنہ احتجاج کو روکنے کا بھارت سرکار کا منصوبہ ہے.

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں دو ہفتے سے کرفیو نافذ ہے،سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ ، عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی سمیت 400 کے قریب سیاسی رہنماؤں کو نظربند کیا گیا ہے ،حریت رہنما سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق بھی نظر بند ہیں، یاسین ملک کو جیل میں رکھا گیا ہے،‌آسیہ اندرابی بھی جیل میں ہیں،

  • دو ہفتوں میں کتنے ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا؟ اہم خبر

    دو ہفتوں میں کتنے ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا؟ اہم خبر

    مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے آج مسلسل 14ویں روز بھی وادی کشمیر اورجموں خطے کے کم از کم پانچ اضلاع میں کرفیو اور دیگر سخت پابندیوں کا نفاذ جاری رکھا۔ دو ہفتوں میں بھارتی فوج نے 4 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرفیو اور دیگر پابندیاں توڑ کر احتجاج کرنے والے مظاہرین اور بھارتی فورسزکے درمیان شدید جھڑپوں میں کم از کم ایک شخص محمد ایوب شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔دو سینئر سرکاری عہدیداروں نے کم از کم دو درجن افراد کے ہسپتالوں میں داخل ہونے کی تصدیق کی ہے جو پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگئے تھے۔صورہ ، رعناواری، نوہٹہ اور گوجوارہ سمیت سرینگر شہر کے دو درجن کے قریب علاقوں میں مظاہرین اور بھارتی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ بمنہ سرینگر کے رہائشی افراد کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز نے ان کے گھروں پر چھاپے مار کر مکینوں پر تشدد کیا اور گھروں کی توڑ پھوڑ کی۔

    دوسری جانب بھارتی فورسز نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران چار ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتارکیا ہے۔

    واضح رہے کہ نریندر مودی حکومت کی طرف سے 5 اگست کو جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی دفعہ 370 کے خاتمے سے پہلے مقبوضہ علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیاتھا۔ مسلسل کرفیو اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث علاقے میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے کیوںکہ علاقے کے لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ اور مریضوں کے لیے زندگی بچانے والی اوویات سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    قابض انتظامیہ نے ٹی وی چینلز کی نشریات اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی سے معلومات تک رسائی بھی مسدود کردی ہے جبکہ 5 اگست سے مقامی اخبارات کے آن لائن ایڈشن بھی اپ ڈیٹ نہیں ہو پا رہے ہیں۔ جموں خطے کے سانبہ،کٹھوعہ، ادھمپور، ریاسی اور جموں اضلاع میں مختصر سے وقفے کے بعد دوبارہ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کردی گئی ہیں.

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پیلٹ گن کا کھلے عام استعمال کر رہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پاکستان میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، قومی سلامتی کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، بھارتی ہائی کمشنر بھارت واپس روانہ ہو چکے ہیں، پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی دنیا کے سامنے اٹھانے کے لئے مختلف ممالک سے رابطے کئے ہیں، چین نے پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے،کشمیر کے حوالہ سے وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ٹرمپ سے بھی گفتگو ہوئی ہے،

  • مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر انٹرنیٹ سروس بند

    مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر انٹرنیٹ سروس بند

    بھارت نے جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ سروس کو ایک بار پھر معطل کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ سروس 4 اگست سے بند تھی اور اسے گزشتہ روز ہی جزوی طور پر بحال کیا گیا تھا۔ جب کشمیریوں نے مقبوضہ وادی کی اصل صورت حال سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کو بتانی شروع کی تو یہ چیز بھارتی حکام پر ناگوار گزری۔ آج سے پھر بھارت نے انٹرنیٹ سروس کو بند کر دیا ہے۔ بھارتی حکام نے انٹرنیٹ روکنے کی انوکھی وجہ بیان کی کہ یہ فیصلہ افواہوں کو پھیلنے سے روکنے اور امن برقرار رکھنے کے لئے کیاگیاہے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ دو ہفتوں سے مسلسل کرفیونافذ ہے۔جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے ایک دن قبل وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند کی گئی تھی۔

  • معتبر ترین جریدے  فارن پالیسی نےبھارت کے لیے پریشان کن بات کہہ دی

    معتبر ترین جریدے فارن پالیسی نےبھارت کے لیے پریشان کن بات کہہ دی

    امریکہ کے معتبر اور مستند جریدے فارن پالیسی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد نہ صرف کشمیریوں اور ہندوستان کے درمیان خلیج مزید بڑھے گی بلکہ بڑے پیمانے پر تشدد کا بھی خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق فارن پالیسی میگزین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ بات بالکل واضح محسوس ہوتی ہے کہ آرٹیکل پینتیس اے کا خاتمہ مسلم اکثریت والی اس ریاست کی نوعیت کو تبدیل کردے گا۔

    بھارتی حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے مقبوضہ کشمیر کی الگ خصوصی حیثیت کا حامل آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، اس قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر اور لداخ آج سے بھارتی یونین کا حصہ تصور کیا جائے گا، آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی، مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا. دراصل بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، آرٹیکل 370 ختم ہونے سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے گھر ہوجائیں گے، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیر مسلم کشمیر میں آ کر آباد ہوجائیں گے، غیر مسلم آبادکار کشمیریوں کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے اور یوں مسلم اکثریتی تناسب اقلیتی تناسب میں تبدیل ہو کر رہ جائے گا.
    فارن پالیسی نےمزید لکھا کہ کہ ابتدا میں جموں اور لداخ کے غیر مسلم باشندوں نے بھارتی حکومت کے اقدام کا خیرمقدم کیا تھا لیکن اب ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنی ثقافت اور روزگار کے تحفظ سے متعلق خدشات کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔

  • تارکین وطن پاکستانی مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کریں، سلیم مانڈوی والا

    تارکین وطن پاکستانی مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کریں، سلیم مانڈوی والا

    اسلام آباد۔ 17 اگست (اے پی پی) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے تارکین وطن پاکستانیوں پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کریں، دنیا مسئلہ کشمیر کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانیہ میں اوورسیز پاکستانیوں اور سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کریں، تمام بین الاقوامی سیمینارز اور کانفرنسز میں کشمیریوں کی آواز کو اٹھایا جائے۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کی آواز کو دنیا بھر میں پہنچائیں اور بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کاز کو اجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی وفد نے یورو ایشین کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے جو پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے مسئلہ کشمیر پر مشترکہ قرار داد منظور کی ہے اور کشمیریوں سے یکجہتی کی گئی ہے۔ماضی میں مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورمز پر نہیں اٹھایا گیا۔

  • مقبوضہ کشمیر، سوشل میڈیا کا استعمال جرم بن گیا

    مقبوضہ کشمیر، سوشل میڈیا کا استعمال جرم بن گیا

    مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے جرم میں دو کشمیری نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیاہے۔عتیق چوہدری اور فاروق چوہدری کے خلاف فیس بک پر پوسٹ کرنے کے جرم میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    ایس ایس پی یوگل منہاس نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے تشکیل دے دی گئی ہیں۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل تیرہ روز سے کرفیو نافذ ہے ۔ اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ بھارتی فوج نے ایک ہزار کے قریب کشمیریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

  • کشمیر کرب و بلا کا منطر پیش کرنےلگا،کرفیو کا مسلسل 13 واں دن ، بچے دودھ کے لیےبلکنے لگے

    کشمیر کرب و بلا کا منطر پیش کرنےلگا،کرفیو کا مسلسل 13 واں دن ، بچے دودھ کے لیےبلکنے لگے

    کشمیر کرب و بلا کا منطر پیش کرنےلگا،کرفیو کا مسلسل 13 واں دن ، بچے دودھ کے لیےبلکنے لگے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 13 ویں روز بھی کرفیو نافذ ہونے کے باعث کاروبار زندگی بری طرح متاثر اور مریض طبی سہولیات سے محروم ہیں۔بچوں کو دودھ کی کمی
    مقبوضہ کشمیر کے گلی کوچوں میں فوج تعینات ہے. موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند ہے. جس کی وجہ سے وادی کا رابطہ پوری دنیا سے کٹا ہوا ہے. اخبارات کے آن لائن ایڈیشن بھی اپلوڈ نہیں ہو رہے.

    بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کے ساتھ ساتھ بھارت نواز سیاست دانوں کو بھی گرفتار یا نظر بند کیا ہوا ہے. گرفتار شدگان اور نظر بند افراد کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے.

    دریں اثناء کرفیو سے اشیائے ضروریہ کی بھی قلت ہو چکی ہے. بچوں کی غذا کی کمی ہے. جان بچانے والی ادویات بھی کمیاب ہیں. اس وقت مقبوضہ کشمیر میں انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے.
    بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 راجیہ سبھا میں پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے ختم کر دیا تھا۔

  • بھارتی وزیراعظم کی خواہشات کیا….امریکی اخبار نے بتا دیا

    بھارتی وزیراعظم کی خواہشات کیا….امریکی اخبار نے بتا دیا

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنے خصوصی تحزیہ میں لکھا ہے کہ پچھلے دو ہفتوں سے بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کا وجود خطرے میں ہے۔ ایک صدارتی فرمان کے ذریعے ریاست کی خودمختاری کو نہ صرف کالعدم قرار دے دیا گیا ہے بلکہ اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہیں ۔ اسمبلی پر پابندی اور گلیوں محلوں میں کرفیو نافذ ہے۔ حتی کہ کچھ دیہاتوں میں تو ہر گھر کے باہر ایک پولیس اہلکار تعینات ہے۔کشمیر کے آٹھ ملین شہریوں کا رابطہ دنیا سے منقطع ہے۔ دوائیں ختم جبکہ گھروں میں خوراک کی قلت پیدا ہو گئی۔پھر بھی مودی کا اصرار ہے کہ یہ سب کچھ کشمیریوں کی بھلائی کے لیے ہے۔ کشمیر پر بھارت کی گرفت کبھی کبھار ہی مضبوط رہی ہے۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مودی کا کشمیر پر اچانک قبضہ ایک طویل نظریاتی تڑپ کی تکمیل ہے جس میں بڑی حد تک مسلمان اکثریتی آبادی کوہندو قوم کے نظریہ کے آگے جھکنے پر مجبور کرنا ہے۔۔ یہ (پیغام )باقی ماندہ ہندوستان کے لیے بھی ہے۔ کشمیر ایک وارننگ اور ٹیمپلیٹ دونوں ہی ہے: اس نظریہ سے انحراف ہونے والی کسی بھی ریاست کو "اتحاد” کے نام پر دہلی کے انگوٹھے کے نیچے لایا جاسکتا ہے۔

    اخبار نے لکھا ہے کہ وہ لوگ جو یہ مانتے ہیں کہ ایسا دن کبھی نہیں آئے گا انہوں نے کبھی یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ مودی جیسا شخص ایک دن ملک کی قیادت کرے گا۔ مودی تاریخ میں جنونی کے طورپر مشہور ہیں۔ گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ، انہوں نے 2002 میں ہندوستان کی حالیہ تاریخ میں بدترین فرقہ وارانہ خون خرابے کی سرپرستی کی، ایک اندازے کے مطابق ، کئی ہفتوں میں ہندوﺅں نے ایک ہزار مسلمانوں کو تلوار سے ذبح کیا۔ کچھ لوگوں نے مودی پر ہجوم کو شہ دینے کا الزام لگایا۔ دوسروں نے کہا کہ اس نے ان کی طرف آنکھیں بند کیں۔ اس قتل عام نے مودی کو اچھوت بنا دیا: لبرل ہندوستانیوں نے اسے ہٹلر سے تشبیہ دی ، امریکہ نے انہیں ویزا دینے سے انکار کردیا ، اور برطانیہ اور یوروپی یونین نے ان کا بائیکاٹ کیا۔

    لیکن مودی نے ہندوستان کے ہندووں سے اپیل کی جن پر مسلمانوں نے صدیوں حکومت کی تھی۔ اس نے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے تین مضبوط ترین طریقے استعمال کیے پہلا رنج و غم تھا ،جس کے مطابق ، ہندو بنیاد پرست خون خرابے کا الزام لگاسکتے ہیں: پولیس کی تحویل میں ایک مسلمان شخص کی شہادت کے بعد مودی نے 2007 کے جلسے میں کہا ، "اگر اے کے 47 رائفلیں کسی شخص کی رہائش گاہ پر پائی جاتی ہیں… کیا میں انھیں قتل نہ کروں؟ "(ہجوم نے پیچھے ہٹ کر کہا:” ان کو مار ڈالو! انہیں مار ڈالو! ") دوسرے طریقے کے تحت ایک جلسے میں 2002 میں ، مودی نے گجرات کے فسادات سے بے گھر ہوئے مسلمانوں کی حالت زار پر یہ کہا تھا ”ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ ان کے لئے امدادی کیمپ چلائیں؟ کیا ہم بچوں کو پیدا کرنے والے مراکز کھولنا چاہتے ہیں؟ “اس کے سامعین قہقہوں سے بھڑک اٹھے۔ انہوں نے کہا ، ”ہمیں ان لوگوں کو سبق سکھانا ہے جو خطرناک شرح سے آبادی بڑھا رہے ہیں۔“ مودی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ بھارت ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے ایک غلام قوم رہا ہے اور اس نے یہ دعوی کیا کہ کچھ فورسز اسے جان سے مارنا چاہتی ہیں۔

    2014 میں وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد سے مشتعل ہندو ہجوم کے ذریعہ اور ہندو خواتین کی تبدیلی مذہب کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ پچھلے موسم گرما میں ، مودی کی کابینہ میں ایک وزیر نے آٹھ افراد کو ہار پہنائے جن پر ایک مسلمان آدمی کومارنے پیٹنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس کائنات میں ، کشمیر کبھی بھی خود مختار نہیں رہ سکتا تھا ، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثریت کی خواہشات سے بے نیاز ہوتا ہے اور اسے تشدد کے ذریعہ اپنی مرضی سے دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔

    اس سال مودی کے دوبارہ انتخاب نے ان حامیوں کی حوصلہ افزائی کی جن کے غصے کو بھڑکایا گیا تھا۔ وزیر اعظم اقلیتوں کے قتل کو شاید ہی تسلیم کرتے ہیں۔مذمت کی بھی شاذو ناذر مثالیں موجود ہیں۔ در حقیقت ، ایک باربھی ہندو بنیاد پرستوں کے ہاتھوں مارے جانے والے کسی مسلمان کو یاد نہیں کیا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے۔

    مودی کی سیاسی بیداری ایک دائیں بازو کی نیم فوجی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے تربیتی کیمپوں میں ہوئی جس نے ہندو قوم پرستی کی جدید سیاست کو جنم دیا۔

    کشمیر پر قبضہ کرکے ، مودی نے ہندو قوم پرستی کے حامیوں کو پیچھے کر کے خود کو باپ بنا لیا ہے جسے وہ فخر کے ساتھ "نیا ہندوستان” کہتے ہیں۔ کشمیر مودی کی خواہشات کی فہرست میں ہمیشہ سر فہرست رہا ،اس میں ایودھیا میں ایک مندر کی تعمیر بھی شامل ہے ،جہاں 500سال مسجد قائم رہی اور 1992 میں ہندو قوم پرستوں نے اسے مسمار کر دیا تھا۔ اقلیتوں کو دیئے گئے چھوٹے مراعات کا خاتمہ (جیسے کہ مکہ مکرمہ میں یاتریوں کے لئے سبسڈی)؛ ہندووں کی مذہبی تبدیلی کا قانونی خاتمہ۔ بین المذاہب پیار اور شادیوں پر ایک قانونی دباو، خاص طور پر جب دلہن ہندو اور دولہا مسلمان ہو۔ اور ، بالآخر ، ہندوستان کو باضابطہ طور پر ہندو ریاست قرار دینے کے لئے آئین کو ازسر نو لکھنا۔

    لیکن کیا ہندوستان ، جو زمین کا سب سے متصادم معاشرہ ہے ، اس طرح کی اکثریت کے ہوتے ہوئے بچ سکتا ہے؟ 1951 میں کشمیر کی پہلی آزادانہ طور پر منتخب ہونے والی اسمبلی کے لئے اپنے افتتاحی خطاب میں ، شیخ عبداللہ ، جو مقبول سوشلسٹ اورکشمیر کے ہندوستان سے الحاق کے چیمپئن تھے ، نے کشمیریوں کے سامنے کچھ انتخاب کو پیش کیا۔ انہوں نے کہا ، کشمیری کبھی بھی کسی ایسے اصول کو قبول نہیں کریں گے جو ایک مذہب یا دوسرے گروہ کے خلاف دوسرے گروہ کے مفادات کا حامی ہو۔ اس کا اطلاق اب ہندوستان پر ہوتا ہے۔

    ایک ایسا ہندوستان جو سیکولر نہیں ہے وہ ہمیشہ کشمیر کے لئے اپنی دلیل کھو بیٹھے گا۔ اس خطے پر اس وقت مسلط کردہ خاموشی ایک ایسی گہری رنجش کو چھپا رہی ہے جو پھٹنے کی منتظر ہے۔ مودی کے ذریعہ کشمیر کے ساتھ بدسلوکی کا جواز تو پیش کیا جاسکتا ہے لیکن اگر اس کا مقابلہ نہ کیا گیا اور اسے منسوخ نہ کیا گیا تو بھارت کے اتحاد کے خاتمے کا آغاز ہوسکتا ہے۔