Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارتی سیکیورٹی فورسزکے ہاتھوں خواتین کی عصمت دری کے بڑے واقعات

    بھارتی سیکیورٹی فورسزکے ہاتھوں خواتین کی عصمت دری کے بڑے واقعات

    بھارتی سیکیورٹی فورسزکے ہاتھوں خواتین کی عصمت دری کے بڑے واقعات

    آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کے ساتھ ہونے والے نارواسلوک کو ختم کرنا ہے۔متنا زعہ علاقوں میں خواتین پر سب سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور مقبوضہ علاقوں میں وہ مظالم کا شکار بنتی ہیں یہی صورتِ حال مقبوضہ کشمیر میں بھی ہے- کشمیر انسانی ظلم وجبر کی بدترین مثال ہے اوریہاں اب تک دس ہزار سے زیادہ خواتین جنسی جرائم کا شکار ہوئی ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر نے وادی کشمیر میں ہندوستانی سیکیورٹی فورسزکے ہاتھوں خواتین کی عصمت دری کے چند اہم اور بڑے واقعات کا جائزہ لیا ہے۔بارہ مولہ کے سوپور علاقے کے قصبے جمیر قدیم میں26 جون 1990 کو بی ایس ایف نے پڑوسی کی تلاشی کے دوران جمیر قدیم کی ایک چوبیس سالہ خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ سوپور پولیس نے اسی سال جولائی میں بی ایس ایف کے خلاف مقدمہ درج کیا ۔ سرینگر میں7مارچ 1990کو چھان پورہ میں ، سی آر پی ایف نے سری نگر کے چھن پورہ علاقے میں متعدد گھروں پر چھاپہ مارا۔ چھاپوں کے دوران متعدد خواتین کے ساتھ عصمت دری کی گئی ۔ زیادتی کا نشانہ بننے والی نورا (24) کو سی آر پی ایف کے 20 افراد نے زبردستی کچن سے باہر نکالااور اس کی بہن زونہ کے ساتھ زیادتی کی۔ زیادتی کا نشانہ بنانے والے افراد نے دو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ بھی بدتمیزی کی ۔

    1991میں سرینگر میں بربر شاہ کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے ایک ذہنی مریض بوڑھی عورت کے ساتھ زیادتی کی۔ کنن پوش پورہ میں 23 فروری 1991 کو ، بھارتی فوج کے ایک یونٹ نے وادی کے ضلع کپواڑہ کے کنن پوش پورہ کے جڑواں گاوں میں تلاشی اور تفتیشی کارروائی شروع کی۔ فوجیوں نے خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی جن کی تعداد 23 سے 100 تک تھی ۔پازی پورہ-بیلی پورہ ،جو کنن پوش پورہ سے صرف چند کلومیٹر دور ہے،میں 20 اگست 1991 کو ، فوجیوں نے بڑے پیمانے پر خواتین کی عصمت دری کی، اس معاملے میں عصمت دری کا نشانہ بننے والوں کی تعداد آٹھ سے پندرہ کے درمیان تھی۔

    ضلع گاندر بل کے علاقے چک سید پورہ میں 10 اکتوبر 1992 کو ، 22 ویں گرینیڈیئرز کی ایک فوجی یونٹ چک سیدپورہ گاوں میں داخل ہوئی۔ فوج کے متعدد فوجیوں نے 9خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی جن میں ایک 11 سالہ بچی اور ایک 60 سالہ خاتون شامل ہیں۔ سوپورکے علاقے ہاران میں20 جولائی 1992 کو آرمی سرچ آپریشن کے دوران متعدد خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ضلع کپواڑہ کی تحصیل ہندواڑہ میں یکم اکتوبر 1992 کو ، گور ہکھر ، باکھیہرکے علاقے میں دس افراد کو ہلاک کرنے کے بعد ، بی ایس ایف فورسز نے گاوں میں گھس کر خواتین کی عصمت دری کی۔ ایک انٹرویو میں ایک خاتون نے عصمت دری کا شکار ہونے والی اپنی بیٹی کی شناخت چھپانے کی کوشش کی ۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ سعودی عرب کیا تبدیلی لائے گا؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو تسلیم….چیئرمین سینیٹ نے سعودی سفیر سے ملاقات میں بڑا دعویٰ کر دیا

    ٹرمپ بضد، محمد بن سلمان سخت پریشان،سعودی عرب کا بڑا اعلان، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    شاہ محمود قریشی چین کیوں گئے؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    چین سے شاندار خبریں،تمام پروٹوکول ٹوٹ گئے،تاریخی معاہدے تیار، اندر کی کہانی، مبشر لقمان کی زبانی

    سرد جنگ کا خوفناک کھیل،پاکستان اہم ،امریکی پریشان ،ایران تگڑا اوراسرائیل میدان میں ، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    ضلع اننت ناگ کی تحصیل بیج بہاڑہ میں 1993کوبیج بہاڑہ کے قتل عام سے قبل اجتماعی عصمت دری کا ایک بہت بڑا واقعہ پیش آیا۔ بعدازاں ، اگست میں ، فوجیوں نے بیج بہاڑہ قصبے کے نواح ،گجنگی پورہ میں، ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کی۔ کپواڑہ کے گاوں ہائی ہاما میں17 جون 1994 کو راشٹریہ رائفلز کے دستوں نے سات خواتین کے ساتھ عصمت دری کی ، جس میں دو افسران میجر رمیش اور راج کمار بھی شامل تھے۔ ضلع بڈگام کے شیخ پورہ علاقے میں (1994) ایک 60 سالہ خاتون کے کے اہل خانہ کو بند کرکے اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

    ضلع گاندر بل کے علاقے کنگن میں (1994) کوتھیانو بڈاپاتری میں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے ایک خاتون اور اس کی 12 سالہ بیٹی کے ساتھ زیادتی کی۔ ضلع پلوامہ کے وڈون گاوں میں 30 دسمبر 1995 کو ، راشٹریہ رائفلز کے سپاہی ایک گھر میں داخل ہوئے اور تین خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی ۔پلوامہ کے علاقے ناربل پانزلگام میں نومبر 1997 کوایک لڑکی کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ سری نگر میں 13 اپریل 1997 کو بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے قریب بارہ نوجوان کشمیری لڑکیوں کی اجتماعی عصمت دری کی۔

    سرینگر کے علاقے واوسا میں 22 اپریل 1997 کو ، ہندوستانی مسلح افواج کے متعدد اہلکار گاوں میں ایک 32 سالہ خاتون کے گھر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے اس کی 12 سالہ بیٹی اور14 ، 16 اور 18 سال کی تین دیگر بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کی۔ ایک اور خاتون کو فوجیوں نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ زیادتی روکنے پر پیٹا۔ ڈوڈہ میں (1998) میں گاوں لدنہ کی ایک پچاس سالہ رہائشی نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ 5 اکتوبر 1998 کو آٹھویں راشٹریہ رائفلز کے اہلکار اس کے گھر آئے۔اس کے بعد اسے ایک ہندو کپتان نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس سے کہا: "تم مسلمان ہو ، اور تم سب کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا۔

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    جموں کے ضلع ڈوڈہ کے بیہوٹا مرمت میں 29 اکتوبر 2000 کو ، 15 بہار رجمنٹ کے اہلکارایک کورڈن اور سرچ آپریشن کے دوران ایک عورت کو اٹھا کر ایک کیمپ میں لے گئے۔ اگلے دن بیس خواتین نے کچھ مردوں کے ساتھ اس عورت کی رہائی کے لئے ریلی نکالی ۔ ان خواتین کو چار سے پانچ گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا اور ان پر جنسی تشدد کیا گیا۔ سرینگر کے علاقے زیرو برج میں (2004) چار سکیورٹی اہلکاروں نے 28 اکتوبر کو ایک گیسٹ ہاس میں 21 سالہ خاتون سے زیادتی کی۔ ہندواڑہ میں6 نومبر (2004)کو شہر بیڈپائین میں ایک ماں اور اس کی بیٹی کے ساتھ ایک میجر نے زیادتی کی ۔2009 میں مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں کے علاقے بونگام میں 29 اور 30 مئی کی درمیانی رات ہندوستانی فوجیوں نے دو خواتین ، آسیہ اور نیلوفر جان کو مبینہ طور پر اغوا کیا ، زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا۔جموں کے علاقے کٹھوعہ میں جنوری ، 2018 میں ، کٹھوعہ کے قریب رسانہ گاوں میں ، 8 سالہ بچی ، آصفہ بانو کی اغوا کے بعد، عصمت دری کی گئی اور قتل کیا گیا

  • کشمیر میں سپورٹس کے کلچر کو پروموٹ کرنے کے لیے مظفرآباد ٹائیگرز کی مکمل سپورٹ

    کشمیر میں سپورٹس کے کلچر کو پروموٹ کرنے کے لیے مظفرآباد ٹائیگرز کی مکمل سپورٹ

    چیئرمین مظفرآباد ٹائیگرز ارشد خان تنولی کی سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان سے ملاقات ہوئی جس میں کھیلوں سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا. سردار عتیق کہتے ہیں کشمیر میں کرکٹ کا بے تحاشا ٹیلنٹ موجود ہے جسے پروموٹ کریں گے.
    چیئرمین مظفرآباد ٹائیگرز ارشد خان تنولی کی سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان سے ملاقات ہوئی ملاقات میں کشمیر لیگ اور مظفرآباد ٹائیگرز کی سرگرمیوں کے حوالے سے گفتگو بھی ہوئی
    سردار عتیق کہتے ہیں کہ کشمیر میں سپورٹس کے کلچر کو پروموٹ کرنے کے لیے مظفرآباد ٹائیگرز کی ہر طرح کی سپورٹ کریں گے ۔ اللہ کرے یہ ایونٹ اتنا کامیاب ہو کہ آگے چل کر جموں ،سرینگر اور لداخ میں بھی یہ ایونٹ کروا سکیں ۔ کشمیر میں کرکٹ کا بہت ٹیلنٹ موجود ہے ۔۔ اس دوران چئیرمین مظفر آباد ٹائیگرزارشد خان تنولی کا کہنا تھا کہ کشمیر کے ٹیلنٹ کو دنیا اب کرکٹ کے میدان میں دیکھے گے ۔ مظفرآباد میں کرکٹ اکیڈمی کے آغاز سے نوجوان کھلاڑیوں کو بہت فائدہ ہو گا۔ملاقات کے دوران چئیرمین مظفرآباد ٹائیگرز نے سردار عتیق کو فرینچائز کی شرٹ اور اعزازی شیلڈ پیش کی۔ گئیں.

  • لاہورکے  طلبہ کی آزادی کشمیر کے لئے جدوجہد اور جذبہ قابل دید،سردار مسعود خان

    لاہورکے طلبہ کی آزادی کشمیر کے لئے جدوجہد اور جذبہ قابل دید،سردار مسعود خان

    صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہاہے کہ کشمیرکی آزاد ی کے حوالے سے لاہور بہت اہم کردار اداکررہاہے ، لاہور کے طلبہ آزادی کشمیر کے لیے جو جدوجہد کر رہے ہیں ان کا جذبہ قابل دید ہے جبکہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید دورکے ہتھیارمیڈیا سے بھی لیس ہیں کیونکہ قوم کے یہ بچے جب عملی زندگی میں آئیں گے تو پاکستان سمیت دنیا بھرمیں کشمیر کی آزادی کے لئے ایک مثبت اور اعلی سوچ سے بہترین ماحول پیداکریں گے ۔لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کولاہورپریس کلب کاگیارہویں مرتبہ صدر منتخب ہونے اورنومنتخب گورننگ باڈی کو مبارکباد دینے کے لئے کلب کے دورہ کے موقع پر میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے مزید کہاکہ پریس کلب کے صدر ارشد انصاری اور لاہور پریس کلب کی قیادت میں صحافی ملک وقوم کی بہترین خدمت میں سرگرم عمل ہیں اور یہ ان کی ایمانداری اور اپنے شعبہ سے بے لوث محبت کا نتیجہ ہے کہ تمام صحافی برادری انھیں اپنالیڈردیکھناپسند کرتی ہے ۔ اس موقع پر صدر ارشد انصاری ، سیکرٹری زاہد چوہدری ، جوائنٹ سیکرٹری خواجہ نصیر ، ممبرگورننگ باڈی ہماءمیر، عمران شیخ ، سید رضوان شمسی نے معززمہمان کا کلب آمد پر استقبال کیا ۔ سردارمسعودخان نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے مزید کہاکہ جموں کشمیر کی صورتحال بدستور ہولناک ہے،جموں کشمیر میں کشمیریوں سے انکی ثقافتی حیثیت چھینی جا رہی ہے ،آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے بھارتی باشندوں کی آبادکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے،20 سے 30 لاکھ ہندوﺅں کو بھارت سے لا کر کشمیر میں بسایا جا رہا ہے جہاں ان کی الگ بستیاں بسائی جارہی ہیں ،کشمیریوںکی نسل کشی ہو رہی ہے ، کشمیر کی گلیوں میں قتل و غارت کا بازار گرم ہے،کشمیریوں سے ان کی زرعی اور غیر زرعی زمین چھین کران کی زمینوں پر قبضہ کیا جارہاہے ، ان کی زبان ختم کی جا رہی ہے اور ان کے روائتی لباس پر پابندی لگا دی گئی ہے ، پاکستان کی نوجوان نسل کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتی ہے ، نوجوان نسل ذرائع ابلاغ کے ذریعے کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کر سکتی ہے، ،نوجوان نسل بھارت کے ظلم وستم کی مذمت کرنا چاہتی ہے ان کے پاس ہتھیار نہیں ہیں ،کشمیری نوجوان اس طرح کا کردار ادا نہیں کر پا رہے ہیں، کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے بیانیے کودنیابھرمیں تقویت مل رہی ہے،برطانوی اور امریکی کانگریس نے بھی کشمیر کے حوالے سے آواز بلند کی ہے،کچھ لوگ مایوسیاں پھیلا رہے ہیں،خود مختار کشمیر کی آوازیں تو 1947 سے ہیں مگر مہاراجہ ہری سنگھ اور شیخ عبداللہ بھارت سے مل گئے،مایوسی کے بجائے اپنے بیانیے کو مستقل مزاجی سے بیان کرنے کی ضرورت ہے،صرف کشمیر نہیں بھارت کے مسلمان بھی ہندوﺅں کے شر سے محفوظ نہیں،حق و باطل کے معرکے میں حوصلہ کی ضرورت ہے ،کشمیریوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔ صدر ارشد انصاری اور سیکرٹری زاہد چوہدری نے معزز مہمان کو کلب آمد پر خوش آمدید کہااور انھیں کشمیر کابہترین سفیر قراردیتے ہوئے کہاکہ وہ بین الاقوامی پالیسی ومعاملات کے ماہرہیںاورساری دنیامیں کشمیر کازکے لئے بہترین خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

  • ایل سی ڈبلیو یو  میں کشمیر یکجہتی کانفرنس کا انعقاد!!

    ایل سی ڈبلیو یو میں کشمیر یکجہتی کانفرنس کا انعقاد!!

    ڈپارٹمنٹ آف ماس کمیونیکشن اورفریڈم فار آل کے اشتراک سےکشمیر یکجہتی کانفرنس کاانعقاد کیاگیا
    وفاقی وزیر،چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار خان آفریدی کی بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
    کانفرنس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بشری نے شرکت کی۔کشمیر یکجہتی کانفرنس میں ہیڈآف ڈپارٹمنٹ ماس کمیونیکشن پروفیسرڈاکٹر نجم ضیاء، ایگزیکٹو ڈائریکٹر فریڈم فار آل منظر الہی، چیئرمین کشمیر کمیٹی رائے نواز کھرل نے شرکت کی۔
    سینئر وائس پریذیڈنٹ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریچیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن کنیز فاطمہ ،سینٹر جرنلسٹ اینڈ اینالیسٹ سلمان عابد نے شرکت کی۔
    چیئرمین کشمیر کمیشن آف پاکستان اور چیئرمین متحدہ کسان محاذ پنجاب نے شرکت کی۔
    کانفرس میں شعبہ ماس کمیونیکشن کے فکیلٹی ممبران اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور "لہو لہو بہشت”کے عنوان سے ایک ڈرامہ پیش کیا گیا۔ فائن آرٹس کی پینٹینگز کی نمائش کی گئی۔
    نمائش کا افتتاح وفاقی وزیر شہریار خان آفریدی اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بشری مرزا نے کیا۔پروفیسر ڈاکٹر بشری مرزا نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں کشمیر یکجہتی کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ڈیرھ سال سے زائد عرصے کرفیو نافذ کر رکھا ہے، عالمی برادری اور یو این کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی بربریت اور ظلم و ستم پر نوٹس لینا چاہیے،ایل سی ڈبلیو یو نہتے کشمیری بہن ،بھائیوں کی آواز بلند کرتی رہے گی۔

  • کشمیریوں کی تحریک کو اگر دبا دیا گیا تو پاکستان میں پانی کی جگہ خون آئے گا،مشعال ملک

    کشمیریوں کی تحریک کو اگر دبا دیا گیا تو پاکستان میں پانی کی جگہ خون آئے گا،مشعال ملک

    کشمیریوں کی تحریک کو اگر دبا دیا گیا تو پاکستان میں پانی کی جگہ خون آئے گا،مشعال ملک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مشعال حسین ملک نے اسلام آباد میں اسلام آباد ماڈل سکول میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک اب نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔

    مشعال ملک کا کہنا تھا کہ تحریکوں میں نوجوانوں کا کردار انہتائی اہم ہے،طلباء کا جذبہ دیکھ کر دلی خوشی ہوئی،سکول کالج دور میں بھی کچھ کرنے کا جذبہ موجود تھا،مقبوضہ کشمیر میں نہتی کشمیری قوم نو لاکھ فوج سے لڑ رہی ہے۔ ستر سال سے بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھا رہی ہے،تحریک آزادی کے لیے کشمیریوں کی قربانیاں رائے گاہ نہیں جائے گئی،

    مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ یسین ملک کے جسم کہ ایک ایک حصے پر زخموں کے نشانات ہیں،کشمیری تاریخ رقم کر رہے ہیں،کشمیر میں نوجوان تحریک آزادی چلا رہے ہیں،کشمیری طلباء بھارتی بربریت کا مقابلہ کر رہے ہیں،کشمیر میں بھارتی فوج،نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر رہی ہے۔کشمیر پاکستان کی دفاعی لائن ہے کشمیر سے آنے والا پانی،پاکستان کو سیراب کرتا ہے۔کشمیریوں کی تحریک کو اگر دبا دیا گیا،تو پاکستان میں پانی کی جگہ خون آئے گا،

    شوپیاں انکاؤنٹر،شہید نوجوانوں کے والدین کا بھارتی فوجی اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن جیسی صورت حال ہے، بھارت نے فائدہ اٹھا کر مظالم اور کشمیریوں کا قتل عام جاری رکھا، بھارت نے حال ہی میں نیو ڈومیسائل جیسا کالا قانون پاس کرایا۔

    مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ شہ رگ آرٹیکل 370 کے کے خاتمے کے ذریعے کاٹ دی گئی بھارت کشمیر سمیت پاکستان کو تاریکی میں دھکیلنا چاہتا ہے۔دنیا میں پیلٹ کا استعمال جانوروں پر بھی نہیں کیا جاتا ،بھارتی فوج کشمیریوں سے جانوروں سے بدتر سلوک کر رہی ہے۔

    آسیہ اندرابی کو علاج کی سہولیات نہ ملنے پر مشعال ملک کا بڑا مطالبہ

     

  • وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نیویارک میں منعقدہ جموں وکشمیر پر ’او۔آئی۔سی‘ رابطہ گروپ کے سفراء اجلاس

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نیویارک میں منعقدہ جموں وکشمیر پر ’او۔آئی۔سی‘ رابطہ گروپ کے سفراء اجلاس

    سفراء اجلاس سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب

    معزز مستقل مندوبین حضرات
    قابل احترام ساتھیو اور دوستو
    السلام وعلیکم
    آج نیویارک میں منعقدہ ’او۔آئی۔سی‘ کے جموں وکشمیر رابطہ گروپ کے سفیروں کے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہورہی ہے۔
    گزشتہ نومبر میں نیامے میں منعقدہ ’او۔آئی۔سی‘ وزرا خارجہ کونسل کے سینتالیسویں اجلاس کے دوران جموں وکشمیر رابطہ گروپ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سمیت دیگر فورمز پر اجاگر کیاجائے اور رابطہ گروپ کے مسلسل اجلاس منعقد کئے جائیں۔
    یہ امر باعث اطمنان ہے کہ رابطہ گروپ کی نیویارک شاخ اس اجتماعی کاوش میں نمایاں کردار ادا کررہی ہے۔ میں جموں وکشمیر کے مظلوم عوام سے یک جہتی میں امت مسلمہ کی مشترکہ موثر آواز تشکیل دینے میں برادر ممالک آزربائیجان، نائیجر، سعودی عرب اور ترکی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ سیکریٹری جنرل ’او۔آئی۔سی‘ کی قیادت اس میں یکساں طورپر ممدو معاون رہی ہے۔
    نیامے میں منعقد حالیہ وزرا خارجہ کونسل میں ’او۔آئی۔سی‘ کی طرف سے ٹھوس اور دوٹوک حمایت کشمیریوں کے لئے ان کے منصفانہ، ناقابل تنسیخ اور جائز استصواب رائے کے حق کے حصول کی جدوجہد میں تقویت کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوئی ہے۔
    غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں صورتحال عالمی برادری سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ 5 اگست 2019 کے غیرقانونی بھارتی اقدامات کے بعد سے مقبوضہ خطہ ’تاریکی کے پردے‘ سے ڈھانپ دیاگیا ہے۔
    مقبوضہ جموں وکشمیر کے غیرانسانی محاصرے اور کمیونیکیشن قدغنوں کو عائد ہوئے پہلے ہی 550 سے زائد دن کا عرصہ بیت چکا ہے۔ آج یہ مقبوضہ خطہ دنیا کی سب سے بڑی اوپن جیل بن چکا ہے۔
    بھارتی قابض افواج جو سیاہ اور ظالمانہ قوانین کی بدولت کسی بھی سزا سے مبرا ہیں، کشمیریوں پر ناقابل بیان مظالم ڈھارہی ہیں اور انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالیوں کا ارتکاب کررہی ہیں۔ نوجوانوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کا کچھ اتہ پتہ نہیں کہ قابض بھارتی افواج نے انہیں کہاں قید کررکھا ہے اور ان کے گھر والے اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
    موسم سرما، مقبوضہ خطے میں انسانی مصائب کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ کورونا عالمی وباءکشمیریوں کے لئے ایک نیا عذاب ثابت ہوئی ہے۔
    کشمیریوں کی حالت زار پر آنکھیں بند کئے ’آر۔ایس۔ایس‘، ’بی۔جے۔پی‘ حکومت اُن سازشوں میں مصروف عمل ہے جس کے بارے میں کھلم کھلا وہ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے لئے ’حتمی حل‘ قرار دینے کی پیشگوئیاں کرتے پھر رہے ہیں۔
    اس ’حتمی حل‘ میں سرفہرست یہ ہے کہ آزادی کا حق مانگنے والے کشمیریوں کو جسمانی، سیاسی اور نفسیاتی طورپر کچلنے کے لئے ایک ظالمانہ مہم پوری شدت سے جاری ہے۔ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں 9 لاکھ فوج تعینات کی ہوئی ہے جس سے یہ دنیا میں سب سے زیادہ قابض افواج کی موجودگی والا خطہ بن چکا ہے۔
    ’حتمی حل‘ کا دوسرا حصہ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں آبادی کے تناسب کی تبدیلی پر مشتمل ہے تاکہ اسے مسلم اکثریتی آبادی سے ’ہندتوا‘ غالب خطے میں تبدیل کردیاجائے۔ سکونت اور حق ملکیت اور ڈومیسائل کے نئے قوانین لاگو کئے گئے ہیں تاکہ پوری قوت سے اس نوآبادیاتی منصوبے کو مکمل کرنے میں سہولت بہم پہنچائی جاسکے۔ آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے یہ ہتھکنڈے عالمی قانون بشمول چوتھے جینیوا کنونشن اور جموں وکشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
    سوم، بھارت پاکستان کو مجبور کرنا چاہتا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں اس کا مسلط کردہ حل تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کرلے اور اس مقصد کے لئے پاکستان کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی دی جاتی ہے، ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کرائی جاتی ہے، فساد اور انتشار پھیلانے کے حربے اختیار کئے جاتے ہیں اور معاشی جارحیت کو ہتھیار بنایاجارہا ہے۔ فروری 2019 میں پاکستان کے خلاف بھارت کی فوجی مہم جوئی پر پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے موثر جواب دیا اور بھارت کا طیارہ مار گرایا جبکہ بھارتی فضائیہ کے پائلٹ کو بھی گرفتار کرلیا۔ اس کے باوجود پاکستان نے ضبط وتحمل کا مظاہرہ کیا جس سے کشیدہ صورتحال ختم ہوئی۔
    انتہاءپسند ’آر۔ایس۔ایس‘،’بی۔جے۔پی‘ کی جھوٹی اطلاعات کوئی نیا تنازعہ بھڑکاسکتی ہیں تاکہ یہ اقتدار پر قابض رہے اور داخلی مسائل سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ ’بی۔جے۔پی‘ کی قیادت میں انتخابی وسیاسی فائدے کے لئے فروری 2019 کا جنگی ڈرامہ رچانے کے بارے میں بھارتی میڈیا میں ہونے والے حالیہ انکشافات ان امکانات کے ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہم پاکستان کے خلاف کوئی اور ’فالس فلیگ آپریشن‘ رچانے کے بھارتی منصوبوں سے پہلے ہی عالمی برادری کو بارہا خبردار کرچکے ہیں۔
    وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت پاکستان نے تنازعہ جموں وکشمیر پر ایک بھرپور سیاسی اور سفارتی مہم چلائی ہے۔
    ہماری حکومت کی تشکیل کے محض ایک ماہ بعد ہی ستمبر 2018 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مسئلہ کشمیر عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے کا مجھے اعزاز حاصل ہوا۔
    وزیراعظم عمران خان کے 2019 میں نیویارک کے دورے کے موقع پر اقوام متحدہ میں ان کی مصروفیات میں کشمیر کے مسئلے کو مرکزی توجہ حاصل رہی۔ وزیراعظم نے ’او۔آئی۔سی‘ رابطہ گروپ کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں بھارت کے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کے نتیجے میں مخدوش علاقائی صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے ستمبر2020 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تہترویں اجلاس سے ورچوئل خطاب میں غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کی سنگین صورتحال سے عالمی برادری کو ایک بار پھر آگاہ کیا۔
    5 اگست 2019 سے جموں وکشمیر پر ’او۔آئی۔سی‘رابطہ گروپ نے تین اجلاس منعقد کئے ہیں جن میں سے دو وزارتی سطح کے اجلاس تھے۔ ’او۔آئی۔سی‘ رابطہ گروپ کے وزارتی اعلامیہ میں عالمی برادری کو حمایت اور یک جہتی کا ٹھوس پیغام دیاگیا۔
    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اگست 2019، جنوری 2020 اور اگست 2020 میں تین مرتبہ اس معاملے پر غور کیا۔
    اس رفتار اور روش کو برقرار رکھنا ازحد ضروری ہے۔ ’او۔آئی۔سی‘ کی طرف سے متحد سیاسی پیغام بھارت کو دینا انتہائی ناگزیر ہے۔ ہمیں پوری قوت سے بھارت سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں یک طرفہ اور غیرقانونی اقدامات واپس لے، انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالیاں بند کرے، اقوام متحدہ اور ’او۔آئی۔سی‘ کے آزاد انسانی حقوق کمشن (آئی۔پی۔ایچ۔آر۔سی) کے حقائق معلوم کرنے والے وفود کو مقبوضہ خطے میں جانے کی اجازت دے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق تنازعہ جموں وکشمیر کو پرامن حل کرے۔
    مجھے اعتماد ہے کہ رابطہ گروپ کا اجلاس اس مقصد کے حصول کے لئے عملی اقدامات کی نشاندہی اور لائحہ عمل کی تیاری میں ممدومعاون ثابت ہوگا۔
    میں آپ کی کامیابی کے لئے نیک تمناوں کا اظہار کرتا ہوں۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

  • الحمراء آرٹس کونسل کشمیری رنگ میں ڈھل گیا، نمائشیں،واک اورڈرامے کا بھی انعقاد

    الحمراء آرٹس کونسل کشمیری رنگ میں ڈھل گیا، نمائشیں،واک اورڈرامے کا بھی انعقاد

    لاہور الحمراء آرٹس کونسل میں ”عزم یکجہتی کشمیر“ کی سہ روزہ تقریبات جاری ہیں- ان تقریبات میں نمائشیں،واک،ڈرامہ میں کشمیری ثقافتی کے رنگ بکھیرے گئے ہیں جس کی وجہ سے الحمرا لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

    ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمراء نے اس موقع پر کہا کہکشمیری پُرامن قوم ہے- منفرد و خوبصورت ثقافتی رسوم و رواج کی حامل یہ قوم دُینا میں اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔

    ڈاکٹر اسلم ڈوگر نے کشمیری ثقافت کو موضوع بحث بناتےہوئے کہا کہ الحمراء آرٹس کونسل کشمیری زبان وادب،تہذیب و ثقافت کو فروغ دے کر کشمیر ی کازاجاگر کر رہا ہے۔ سربراہ الحمراء کے بقول ”عزم یک جہتی کشمیر“کے پہلے روز نمائش کا انعقاد کیا گیا جس میں فن پاروں میں کشمیری قربانیاں،قائدین کشمیر کی جدوجہد کو نمایاں کیا گیا-

    نوجوانوں نے کشمیر ملبوسات زیب تن کر کے منفرد انداز میں واک کی،سٹالز بھی لوگوں کی دل چسپی کا باعث بنے-

    سہ روزہ تقریبات آج بھی جاری رہیں گی اوراس میں بڑی تعدا د میں لوگ شرکت کریں گے۔

  • ظلم  کے خلاف آواز اٹھانا ہمیں وزیر اعظم  نے سکھایا: یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پرخرم شیر زمان کا بیان

    ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہمیں وزیر اعظم نے سکھایا: یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پرخرم شیر زمان کا بیان

    پاکستان تحریک انصاف کراچی کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر نرسری تا مزار قائد ریلی کا انعقاد کیا گیا۔

    خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان گزشتہ تین سال سے کشمیر کاز کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر رہے ہیں- سعید آفریدی نے کہا کہ کشمیر کا سودا ماضی کے حکمرانوں نے کیا تھا۔ ا نشاء اللہ وزیرا عظم عمران خان کی قیادت میں کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ سردار مقصود زمان نے کہا کہ کشمیر کی آزادی تک پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

    کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کراچی کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی پارٹی سیکریٹریٹ انصاف ہاوس سے نکالی گئی جو مزار قائد پر پہنچ کر اختتام پزیر ہوئی۔ ریلی میں پارٹی کے مرکزی، صوبائی اور ریجن قیادت سمیت بڑی تعداد میں کارکنان نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے پاکستان زندہ باد اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے۔ ریلی کے اختتام پر پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی خود دیکھ لے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہمارا رویہ کتنا اچھا ہے۔آج کی شاندار ریلی کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار اور محبت ہے۔ وزیر اعظم عمران خان گزشتہ تین سال سے کشمیر کاز کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر رہے ہیں۔آج اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا میں آج مسئلہ کشمیر پر بات کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج جو جماعتیں اپوزیشن میں بیٹھی ہیں وہ ماضی میں پاکستان پر حکومت کر چکی ہیں، مولانا، نواز اور زرداری نے کبھی کشمیر کا مسئلہ حل کرنے پر بات نہیں کی۔ وزیرا عظم عمران خان نے ناموس رسالت ﷺ پر بھی آواز اٹھائی۔ ہمارے ملک میں ایسا لیڈر موجود ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے فخر ہے۔

    ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لئے ہمیں وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ خرم شیرزمان کا مزید کہنا تھا کہ کامیاب ریلی کے انعقاد پر انتظامیہ اورپارٹی کارکنان اور کراچی کے شہریوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی ریلی کراچی کی سب سے بڑی ریلی ہے۔ ریلی سے خطاب میں پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری و رکن سندھ اسمبلی سعید آفریدی کا کہنا تھا کہ کشمیر کا سودا ماضی کے حکمرانوں نے کیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں آج وزیر اعظم عمران خان کی تصاویر لگائی جارہی ہیں۔

    کشمیر کے عوام نے مسئلے کے حل کے لئے ہمیشہ پاکستان کی طرف دیکھا ہے۔شاندار ریلی کے انعقاد پر پارٹی رہنماوں اور کارکنان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انشاء اللہ وزیرا عظم عمران خان کی قیادت میں کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے رہنما سردار مقصود زمان کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔کشمیری عوام کی پاکستان سے محبت کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کر کے ثابت کیا کہ وہ کشمیر کے سفیر ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے ایک رہبر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ظلم اور بربریت کے خلاف آواز اٹھانا ہمیں وزیر اعظم عمران خان نے سکھایا ہے۔ کشمیر کی آزادی تک پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ کشمیر میں بھارتی ظلم اوربربریت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہمیں اپنے لیڈر عمران خان پر پورا اعتماد ہے اور پوری پاکستانی قوم اس مسئلے پر وزیر اعظم کے ساتھ کھڑی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیرتقریروں سے نہیں صرف جہادسے آزاد ہوگا، محمد ثروت اعجاز کا کشمیر ریلی سے خطاب

    مقبوضہ کشمیرتقریروں سے نہیں صرف جہادسے آزاد ہوگا، محمد ثروت اعجاز کا کشمیر ریلی سے خطاب

    پاکستان سنی تحریک کی تاجدار صداقت ویکجہتی کشمیر ریلی سے ثروت اعجاز قادری،پیر سید مظفر شاہ،علامہ اشرف گورمانی،ودیگر کا خطاب
    ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ آج پورے ملک نے یوم صدیق اکبر اور کشمیر یوں سے اظہار یکجہتی سے واضع کردیا کہ ہم ایک ہیں
    ملک میں فرقہ واریت کی طرح سیاسی واریت کو بھی ختم کرنا ہوگا – مقبوضہ کشمیرتقریروں سے نہیں صرف جہادسے آزادہوگا، پاکستانی حکومت آزادیئ کشمیر کیلئے اعلان جہادکرے-پیر سید مظفر حسین نے کہا کہ ملک سے نفرتوں،تعصب وعصبیت کے خاتمہ کیلئے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی روشن تعلیمات کو سرکاری سطح پر عام کیاجائے-

    کراچی میں پاکستان سنی تحریک کی اپیل پر 5فروری کو یوم تاجدارِ صداقت ویکجہتی کشمیر منایاگیا اور ملک گیرریلیاں، احتجاجی مظاہرے اور کانفرنسزمنعقد کی گئیں، کراچی میں سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری،ممتاز عالم دین پیر سید مظفر حسین،علامہ اشرف گورمانی علماء ومشائخ اور ثناخواں کی زیرقیادت نمائش چورنگی تا جامع کلاتھ مزارقطب عالم شاہ بخاریؒ تک عظیم الشان تاجدارِ صداقت و یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی جس میں علماء ومشائخ،تاجربرادری، سیاسی ومذہبی رہنماؤں سمیت پاکستان سنی تحریک کی مرکزی رابطہ کمیٹی اور کراچی ڈویژن کے رہنماؤں نے شرکت کی، ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری کا کہناتھاکہ حکومت خلفاء راشدین کے ایام کو سرکاری طور منائے عام طعطیل کا اعلان کرئے، حضرت سیدنا صدیق اکبر تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوتؐ کے پہلے عظیم مجاہدہیں، سیدنا صدیق اکبر ؓ نے اسلام کیلئے گراں قدر قربانیاں پیش کیں- حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ روضہ رسول ﷺ میں آج بھی حضور نبی کریم ﷺ کے پہلومیں آرام فرمارہے ہیں وہ ایسامقدس مقام ہے جہاں پر صبح شام سترستر ہزارفرشتے آتے ہیں اور درود سلام پیش کرتے ہیں، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی شان میں گستاخی سنگین ترین جرم ہے،حکومت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کوجانب داری کا طرز عمل ترک کر کے قانون کی یکساں عملداری کو یقینی بنانا چاہیے، اُمت میں فرقہ وارانہ انتشارکا سبب بننے والوں کا محاسبہ کرنا حکومت کی اوّلین ذمہ داری ہے،پاکستان کو عراق اورشام بنانے کی سازشیں ناکام بنائیں گے،کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے، پاکستان کی تکمیل کیلئے کشمیر کی آزادی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے،مقبوضہ کشمیرتقریروں سے نہیں صرف جہادسے آزادہوگا-

    پاکستانی حکومت آزادیئ کشمیر کیلئے اعلان جہادکرے پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ لڑے گی، عالمی قوتوں کو کشمیر پر بند ر بانٹ نہیں کرنے دیں گے،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اہل کشمیر تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں انہیں کسی صورت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے،محمدثروت اعجاز قادری نے عالمی برادری کو خبردار کیاہے کہ کشمیر چار ایٹمی طاقتوں کے درمیان گھرا ہوادنیا کا اہم ترین مسئلہ ہے اور اگر اسے لاکھوں کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل نہ کیا گیا تو خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہوں گے،مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے مسئلے کے حل کے لیے تو اقوام متحدہ اور بڑی طاقتیں حرکت میں آجاتی ہیں لیکن کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین پامالی اوربھارت کے غیر آئینی ہتھکنڈے اور ظلم و ستم پر کوئی حرکت میں نہیں آتا،دنیا مسئلہ کی اہمیت و نزاکت کو سمجھتے ہوئے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا احترام کرے، کشمیر کے حالات ایک متفقہ قومی لائحہ عمل کے متقاضی ہیں، بدقسمتی سے حکومت نے وہ اقدامات نہیں اٹھائے جو اسے اٹھانے چاہئیں تھے، ہمیں دنیا بھر کے فورمز پر کشمیر کی بات کرنی چاہیے،مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ایک جوائنٹ پولیٹیکل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے،پاکستانی حکومت نائب وزیر خارجہ برائے کشمیر مقرر کرے، کشمیر کی آزادی کے لیے قوم کا بچہ بچہ پاک فوج کے ساتھ کھڑاہے،بھارت بندوق کی نوک پر کشمیریوں کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے سے نہیں روک سکتا-

    اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی توبھارت دنیا کے نقشہ سے مٹ جائے گا، مقبوضہ کشمیر بھارتی فوج کا قبرستان بن کر رہے گا، اس موقع پر پیر سید مظفر حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیدنا ابو بکرؓ کی تعلیمات امور سلطنت کیلئے مشعل راہ ہیں،جناب نبی کریم ﷺ کے ارشاد مبارک کی روشنی میں تما م کے تمام صحابہ کرامؓ ستاروں کی ماند اور جنتی ہیں،تحفظ ناموس صحابہ واہل بیت رضی اللہ عنہم کیلئے عاشقان رسول تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں،ملک سے نفرتوں،تعصب وعصبیت کے خاتمہ کیلئے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی روشن تعلیمات کو سرکاری سطح پر عام کیاجائے،اس موقع پر علامہ اشرف گورمانی،علامہ طارق شہزاد المدنی،علامہ عنصر قادری،علامہ محمو د قادری علامہ ذیشان مدنی،علامہ نثار علی اجاگر،،مولانا قاسم جلالی۔سید جنید باپو،اسعد باپو جنیدی،اے این آئی کے سلیم عطاری،عاطف حنیف بلو ثناء خواں حافظ طاہری قادری،محمد ساجد قادری،ودیگر نے بھی خطاب کیا،اور سیدنا صدیق اکبر کی شان میں منقبت اور کشمیریوں سے یکجہتی کرتے ہوئے ترانہ بھی پڑھا۔#

  • میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی  جہاز  مرکزی مستول پر پاکستان و آزادکشمیر کے جھنڈے لہرائے

    میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی جہاز مرکزی مستول پر پاکستان و آزادکشمیر کے جھنڈے لہرائے

    مقبوضہ کشمیر کے عوام سےحق خود ارادیت کے لئے اظہار یکجہتی کے لئے پاکستان
    میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے جہاز دشت کے افسران اور عملے کے ممبران نے 05 فروری کو پوری قوم میں شمولیت اختیار کرکے کشمیریوں کی جرات مندانہ جدوجہد کا اعتراف کیا جو بھارتی افواج کے سفاکانہ مظالم کا سامنا کررہے ہیں۔
    جہاز کے مرکزی مستول پر پاکستان اور آزادکشمیر کے بڑے جھنڈے لہرائے گئے علاوہ ازیں بینر اور پینا فلیکس آویزاں کیے گئے جو غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کرتے ہیں۔ صاف ستھری وردی میں ملبوس عملے کےچاق و چوبند ممبران نےہاتھوں میں تھامے ہوئے کشمیری پرچم لہرا کر اس مقصد کی حمایت اور مظلوم کشمیریوں سے یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے کمانڈنگ آفیسر PMSS DASHT لیفٹیننٹ کمانڈر فرخ احمد نے جہاز کے عملے سے خطاب کیا۔

    بعد ازاں کمانڈنگ آفیسر نے صحافیوں کو پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے کشمیری بھائی اور بہن بہادرانہ جدوجہد میں مصروف ہیں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اپنے حق خودارادیت کے لئے زبردست قربانیاں دیتے رہے ہیں۔یہ واضح طور پر پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور مجموعی طور پر پاکستانی قوم کی اصولی اور مشترکہ امنگوں کی علامت ہے۔ جہاز کے کپتان نے وضاحت کی کہ غیر ملکی وفودکی جہاز پر آ مد اور PMSS DASHT کے بیرون ممالک مختلف دوروں کے دوران ، اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے جہازوں میں سے ایک جہاز کا نام کشمیر ہے۔

    .کمانڈنگ آفیسر نے یہ بھی بتایا کہ بحیرہ عرب کے ساتھ پاکستان کی 1000 کلو میٹر سے زیادہ طویل ساحلی پٹی ہے ، اس کے علاوہ ہماری سمندری حدود 350 سمندری میل تک پھیلی ہوئی ہیں۔ہمارا میری ٹائم زون 290,000 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی پاکستان کے قوانین کے تحت اور اقوام متحدہ کے 1982 کے سمندر کے قانون (UNCLOS 82) کے کنونشن کے تحت پاکستان کے سمندری خطوں میں پاکستان کی پالیسیاں اور کنونشن نافذ کرتی ہے۔ ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی، میری ٹائم زون میں پاکستانی سمندری مفادات کے تحفظ کے علاوہ ، قابض سے آزادی حاصل کرنے کی کوششوں میں کشمیر اور اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی حمایت کرتا رہے گا۔