Baaghi TV

Category: کشمیر

  • ہمارا جھنڈا ہمیں واپس دو ، محبوبہ مفتی نے مودی کو للکار دیا

    ہمارا جھنڈا ہمیں واپس دو ، محبوبہ مفتی نے مودی کو للکار دیا

    ہمارا جھنڈا ہمیں واپس دو ، محبوبہ مفتی نے مودی کو للکار دیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، بھارت کی کٹھ پتلی حکومت کا حصہ رہنے والی مقبوضہ جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارت میں برسر اقتدار مودی سرکار پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارا جھنڈا ہمیں واپس دو۔ انہوں نے کہا ہے کہ بیشک! آج بی جے پی کا دن ہے لیکن کل ہمارا ہو گا اور اس کا حال بھی ٹرمپ والا ہی ہو گا۔

    پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ناجائز ہتھکنڈوں کی وجہ سے کشمیری نوجوان ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب نوکریاں نہیں ہوں گی تو لڑکے بندوق ہی اٹھائیں گے۔

    محبوبہ مفتی نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کو چاہیے کہ وہ واجپائی حکومت کی خارجہ پالیسی سے سیکھے اور پاکستان سے تعلقات معمول پر لائے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان زیادہ سے زیادہ سرحدی راستے بننے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کو ہٹانے کے بعد بی جے پی کی منشا ہے کہ جموں و کشمیر کی زمین اور نوکریاں چھین لے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 370 ڈوگرا کلچر کو بچانے کے لیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جھنڈا ہمیں آئین نے دیا تھا لیکن بی جے پی نے وہ بھی ہم سے چھین لیا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج پرکشمیریوں کےحملےمیں افسرسمیت 4 اہلکارہلاک،جھڑپ جاری

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج پرکشمیریوں کےحملےمیں افسرسمیت 4 اہلکارہلاک،جھڑپ جاری

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج پرکشمیریوں کےحملےمیں افسرسمیت 4 اہلکارہلاک،جھڑپ جاری ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوجی قافلے پر حملے میں 4 اہلکار ہلاک ہوگئے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کشمیری مجاہدین اوربھارتی فوج کے درمیان ابھی جھڑپ جاری ہے

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج پر حملہ ضلع کپواڑہ میں کیاگیا جس کے نتیجے میں ایک بھارتی فوجی افسر سمیت 4 بھارتی فوجی مارے گئے۔دوسری جانب قابض بھارتی فورسز نے ضلع کپواڑہ ہی میں محاصرے کی آڑ میں مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے کپواڑہ کے مختلف علاقوں کا محاصرہ اور سرچ آپریشن جاری ہے۔جبکہ دیگرآزاد ذرائع سے موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہےکہ بھارتی فوج کوبہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے جسے بھارتی فوج چھپا رہی ہے

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے ظلم و بربریت اور ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور قابض افواج کی جانب سے آئے روز بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جارہا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر،جھڑپ میں ایک کشمیری شہید،ایک بھارتی فوجی جہنم واصل

    مقبوضہ کشمیر،جھڑپ میں ایک کشمیری شہید،ایک بھارتی فوجی جہنم واصل

    مقبوضہ کشمیر،جھڑپ میں ایک کشمیری شہید،ایک بھارتی فوجی جہنم واصل
    مقبوضہ کشمیر کے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے قصبہ پانپور کے لالپورہ میں کل شام شروع ہوئی جھڑپ میں ایک حریت پسند کو شہید کردیاگیا ہے ۔فوج نے علاقے میں مزید حریت پسندوں کے چھپے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ علاقے میں انٹرنیٹ سروس کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق حریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاع ملنے کے بعد فوج نے کل لالپورہ گاوں کا محاصرہ کیا تھا جہاں فوج اور حریت پسندوں میں جھڑپ شروع ہوگئی۔ فائرنگ میں دو فوجی زخمی ہوئے جن کی شناخت پانپور کے کفایت گلزار بٹ اور عابد حمید میر کے بطور ہوئی ہے۔ عابد حمید کے سر پر گولی لگی اور اسے سرینگر ریفر کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔ذرائع نے بتایا کہ فائرنگ میں فوج کی 50 آر آر سے وابستہ جوان بھی زخمی ہو گیا ہے، تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق رواں برس فورسز نے حریت پسندوں کے خلاف کاروائی میں تیزی لائی ہے۔

    ایک روز قبل جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ترال قصبے میں نامعلوم بندوق برداروں نے 45 سالہ دکاندار کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق کے مطابق ترال میں محمد ایوب نامی آہنگر نامی ایک دکاندارپر نامعلوم بندوق برداروں نے گولیاں چلائی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔ انہیں زخمی کی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑبیٹھا۔ کاکا پورہ میں بھی نامعلوم اسلحہ برداروں نے ایک ڈرائیور پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے ہیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ وانپورہ کاکاپورہ علاقے میں ایک ڈرائیور پر گولیاں چلائی گئیں جس کے نتیجہ میں اس کے دائیں بازو میں چوٹ لگی ہے۔ مذکورہ ڈرائیور کی شناحت 30 سالہ اسلم کے بطور ہوئی ہے۔ وہی حملہ کے فوری بعد اسے علاج کے لئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور فوج نے پورے علاقے کو محاصرے میں لیا ہواہے۔ گزشتہ شب زخمی شخص کو سب اسسٹنٹ اسپتال سے ایس ایم ایچ ایس اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے سر پر گہری چوٹ تھی جس کے بعد اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔ سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ ڈاکٹر نذیر چودھری نے بتایا کہ "گزشتہ شب زخمی شخص کو سب اسسٹنٹ ہسپتال سے یہاں منتقل کیا گیا تھا۔ ان کے سر پر گہری چوٹ تھی جس کے بعد انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔” انہوں نے بتایا کہ "زخمی شخص کو رات بھر وینٹیلیٹر پر پر رکھا گیا لیکن مریض کی حالت سنگین تھی، تاہم صبح 6:30 بچے ان کی موت واقع ہوگئی۔”

  • ڈرلگتا ہے، وہ بہت مارتے ہیں آج کل ،بھارتی فوجی نے بالآخرخودکشی کرلی

    ڈرلگتا ہے، وہ بہت مارتے ہیں آج کل ،بھارتی فوجی نے بالآخرخودکشی کرلی

    سری نگر: مقبوضہ جموں کشمیر میں تعینات بھارتی فوجیوں کی خودکشیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ مطابق اکتوبر 2020 میں مقبوضہ وادی میں تعینات 7 اہلکاروں نے اپنی بندوق کا استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا۔

    رپورٹ کے مطابق یکم اکتوبر کو جموں کشمیر کے مضافاتی علاقے گجن سون میں ریاست مدھیا پردیش سے تعلق رکھنے والے فوجی افسر چکر پانی پرسادتیواری نے سرکاری رائفل سے خود کو گولی ماہر کر اپنی جان کا خاتمہ کیا۔

    اسی طرح 2 اکتوبر کو شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے گوہلان اوڑی میں جکلے رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے رکھشت کمار نامی فوجی نے سرکاری بندوق سے فائر کر کے اپنی زندگی ختم کی۔ اہلکار کی عمر بائیس سال تھی۔

    6 اکتوبر کو وسطی ضلع گاندربل کے چھتر گل کنگن میں تعینات جگمیت سنگھ نامی اہلکار نے خودکشی کی جبکہ گیارہ اکتوبر کو ضلع کپواڑہ کے سرحدی علاقے نوگام سیکٹر میں تعینات ملائی راج نامی اہلکار نے خودکشی کی۔

    خود کشی کا ایک اور واقعے میں 12اکتوبر 2020کو شمالی ضلع کپواڑہ کے ہندوارہ میں تعینات سشسترا سیما بل کے ایک جوان نے مبینہ طور پر اپنے آپ پر گولی چلا کر خود کشی کر لی ہے۔مبینہ خود کشی کا یہ واقعہ ولگام ہندوارہ میں واقع ایس ایس بی کیمپ میں اتوار اور پیر کی درمیانی رات کو پیش آیا تھا۔

    علاوہ ازیں 15 اکتوبر کو سری نگر میں تعینات اہلکار نے خودکشی کی جبکہ 12 اکتوبر کو سرکاری رائفل سے خود کو گولی مارنے والا بھارتی فوجی 14 روز زیرعلاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔

    کشمیر کے حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق سیکیورٹی فورسز میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان سخت ڈیوٹی، عزیز و اقارب سے دوری اور گھریلو و ذاتی پریشانیاں ہیں، اسی وجہ سے خودکشی کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

    تجزیہ نگاروں کے مطابق فوجیوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ہوا، بڑھتے ہوئے واقعات پر مودی سرکار بھی سخت پریشان ہے کیونکہ اس سے دیگر اہلکاروں کے حوصلے پست ہورہے ہیں۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوری 2007سے 28 ستمبر2019 تک مقبوضہ کشمیر میں خود کشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد 433 تک پہنچ گئی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں زمین کی خرید و فروخت کے قانون میں ترمیم کی مخالفت کرتے ہیں ، انڈین کانگریس

    مقبوضہ کشمیر میں زمین کی خرید و فروخت کے قانون میں ترمیم کی مخالفت کرتے ہیں ، انڈین کانگریس

    نئی دہلی :مقبوضہ کشمیر میں زمین کی خرید و فروخت کے قانون میں ترمیم کی مخالفت کرتے ہیں ، کانگریس کا بیان ،اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی کانگریس پارٹی نے جموں و کشمیر میں زمین کی خریداری کے قانون میں ترمیم کی مخالفت کردی ہے۔

    نئی دہلی سے موصولہ رپورٹ کے مطابق کانگریس پارٹی کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر میں اراضی سے متعلق قانون میں ترمیم کی مخالف ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    کانگریس پارٹی کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ ان کی پارٹی جموں و کشمیر میں ہر ہندوستانی شہری کو زمین خریدنے کی اجازت دینے کے قانون کی مخالفت کرتی ہے۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ مودی حکومت جموں و کشمیر کے عوام کی منشا کے خلاف قانون مسلط کر رہی ہے۔

    کانگریس پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر میں زمین کے مالکان کو وہ سیکورٹی بھی فراہم نہیں کی گئی جو ہیماچل پردیش، اتراکھنڈ اور دیگر پہاڑی علاقوں کے عوام کو حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی پارٹی جموں و کشمیر کو مرکز کا زیر انتظام علاقہ بنائے جانے کی بھی مخالف ہے۔

  • جموں کشمیر برائے فروخت،احتجاج کے اعلان پر پی ڈی پی کا دفتر سیل

    جموں کشمیر برائے فروخت،احتجاج کے اعلان پر پی ڈی پی کا دفتر سیل

    جموں کشمیر برائے فروخت،احتجاج کے اعلان پر پی ڈی پی کا دفتر سیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سرینگر میں واقع دفتر کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ متعدد سینئر رہنماوں اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    پی ڈی پی کو سرینگر میں نئے زمینی قوانین کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ تاہم ان کو ایسا ممکن نہیں ہوا۔اطلاعات کے مطابق حراست میں لئے گئے رہنماوں میں سینئر رہنما خورشید عالم بھی شامل ہے۔ انہیں کوٹھی باغ تھانے میں رکھا گیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں پہلے سے موجود جائیداد سے متعلق قوانین میں ترمیم کر کے اب انڈیا کے ہر شہری کو کشمیر میں غیرزرعی زمین خریدنے کا اہل قرار دیا ہے تاہم حکومت زرعی زمینوں کو ‘مفاد عامہ’ کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔اس سے قبل فوج کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی علاقے یا قطعہ ارض کو ‘سٹریٹجک’ یعنی تذویراتی اہمیت کا حامل قرار دے کر اسے اپنے قبضے میں لے سکتی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس اعلان سے حالیہ دنوں میں ہندنواز سیاسی جماعتوں کی طرف سے فاروق عبداللہ کی سربراہی میں بنائے گئے پیپلز الائنس نامی اتحاد کو شدید دھچکہ لگا ہے اور اس اتحاد کے دو کلیدی رہنماوں، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے اس فیصلے کو عوام دشمن قرار دیا ہے۔

    عمرعبداللہ نے اسی حوالے سے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا: نئی دہلی نے جموں کشمیر کو برائے فروخت رکھ دیا ہے اور حد یہ ہے کہ حکومت نے لداخ میں ہِل کونسل انتخابات کا انتظار کیا تاکہ لداخ کو بھی اب فار سیل قرار دیا جاسکے۔’قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے)کی جانب سے دوسرے روز بھی جموں و کشمیر میں تلاشی کارروائی کا سلسلہ جاری رہا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سرینگر اور دہلی کے کم از کم نو مقامات پر این آئی اے کی جانب سے تلاشی کارروائی شروع کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ تلاشی کارروائی باغِ مہتاب علاقہ میں حریت رہنما طفر اکبر بھٹ، نوگام میں فلاحی تنظیم فلاح عام ٹرسٹ، چیریٹی الائنس، ہیومن ویلفیر فانڈیشن، جموں و کشمیر یتیم فانڈیشن، سالویشن مومنٹ اور جموں کشمیر وائس آف وکٹمز کے دفاتر میں انجام دی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ جنوبی ضلع کولگام میں بھی این آئی کی جانب سے مشتاق احمد ٹھوکر، جو سابق سربراہ یتیم فانڈیشن ہے، کے گھر پر بھی تلاشی لی جا رہی ہے۔اس سے قبل گزشتہ روز سرینگر اور بنگلور میں این آئی اے کی جانب سے چھاپہ مار کارروائی انجام دی گئی تھی۔

    سرینگر میں معروف انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر کے دفتر(جی کے ٹرسٹ)اور فلاحی تنظیم اتھ روٹ و دیگر سماجی کارکنوں اور صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے تھے، جن میں معروف انسانی حقوق کارکن خرم پرویز اور پروینہ اہنگر بھی شامل ہیں۔سرینگر، بانڈی پورہ اور بھارتی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں این آئی اے کی جانب سے متعدد مقامات پر چھاپہ مار کارروائی انجام دی گئی۔ اس سلسلہ میں این آئی اے نے بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ان تنظیموں کے خلاف انجام دی گئی جو خیراتی سرگرمیوں کی آڑ میں ملک مخالف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو زمین خریدنے کی باقاعدہ  اجازت دے دی گئی

    مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو زمین خریدنے کی باقاعدہ اجازت دے دی گئی

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو زمین خریدنے کی باقاعدہ اجازت دے دی گئی ،اطلاعات کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد اب مظلوم کشمیریوں کے حق پر ایک اور ڈاکہ ڈال دیا ہے۔

    منگل کو بھارتی وزرات داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے تحت کوئی بھی غیر کشمیری مقبوضہ وادی میں جائیداد اور زمین خرید سکتا ہے اور اس کیلئے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔بھارتی حکومت نے اس اقدام کا جواز مقبوضہ وادی میں صنعتوں کے قیام اور نوجوانوں کے روزگار کو بنایا ہے۔

    دوسری جانب بھارت کے اس اقدام کے خلاف مقبوضہ وادی کے حریت رہنما اور سیاسی رہنما سب یک آواز ہو گئے ہیں اور اس کو کشمیریوں کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مودی سرکار کے نئے سامراجی ہتھکنڈے کو کشمیر کے عوام کے اختیارات ختم کرنے، جمہوری حقوق سے محروم رکھنے اور وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو ایسے غیر آئینی فیصلوں کے خلاف متحد ہوکر لڑنا ہوگا۔وہیں حریت کانفرنس نے بھارت کے سامراجی قوانین کے خلاف ہفتے کو وادی میں پُرامن احتجاج اور ہڑتال کی کال دی ہے۔

    علاوہ ازیں پاکستان نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے زمینی ملکیت کے قوانین میں غیرقانونی ترمیم کو مسترد کر دیا ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارتی اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔پاکستان عالمی برادری پر بارہا یہ واضح کرتا رہا ہے کہ بھارت غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کررہا ہے۔

  • مقبوضہ کشمر،بھارتی فوج نے کشمیریوں کے گھر جلا ڈالے، دو کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمر،بھارتی فوج نے کشمیریوں کے گھر جلا ڈالے، دو کشمیری شہید

     

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بڈگام میں گزشتہ شام بھارتی فورسز اور حریت پسندوں کے مابین تصادم میں دو حریت پسند شہید ہوگئے۔

    مانچھوا کے آری باغ میں کل شام بھارتی فورسز نے محاصرہ کیا اور بعد میں گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی۔ جیسے ہی فوج اس جگہ کے قریب پہنچی تو تصادم شروع گیا۔جس میں جیش محمد سے تعلق رکھنے والے دو حریت پسند شہید ہو گئے۔ اس کارروائی میں بڈگام پولیس کے علاوہ 50 آر آر، سی آر پی ایف، ایس او جی بڈگام اور سرینگر پولیس شامل ہے۔ بھارتی فوج نے کاروائی کے دوران کشمیریوں کے گھروں کو آگ لگا دی

    این آئی اے نے بدھ کی صبح گریٹر کشمیر کے دفتر کے علاوہ انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کے گھر پر چھاپے مارے۔

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق گریٹر کشمیر کے دفترذرائع کا کہنا ہے کہ پرتاپ پارک میں گریٹر کشمیر کا دفتر، سوناور میں انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کے مکان، نہرو پارک کے قریب محمد امین ڈنگولا سے تعلق رکھنے والا ہاس بوٹ اور نوا کدال میں این جی اتھروٹ کے دفتر پر این آئی اے کی ٹیم پہنچی اور ان جگہوں پر تلاشی لی۔ تاہم این آئی اے کی اس تازہ کارروائی کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر پربھارت کے غاصبانہ قبضے کا دن ،کشمیریوں کا یوم سیاہ

    مقبوضہ کشمیر پربھارت کے غاصبانہ قبضے کا دن ،کشمیریوں کا یوم سیاہ

    آج مقبوضہ کشمیر پربھارت کے غاصبانہ قبضے کا دن ہے، پاکستان اور ایل او سی کے دونوں جانب کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں،

    مقبوضہ کشمیر پربھارتی قبضے کو 72سال ہو گئے، کشمیری آج بھی حق سے محروم ہیں۔ 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر قبضہ کیا، آج پاکستان اور ایل او سی کے دونوں جانب کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طور پرمنا رہے ہیں۔ حریت کانفرنس نے لال چوک کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے، پاکستان میں بھی شہر شہر ریلیاں اور مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔

    بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بار بار دبانے کے کوشش کی ، مگر 1989 سے کشمیریوں نے اس تحریک کو اس نہج پر کھڑا کیا کہ ہر آنے والے دن یہ تحریک مضبوظ ہورہی ہے،  مقبوضہ کشمیرمیں 1989 سےاب تک ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں 3 دہائیوں میں 11 ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی۔

    نفرت انگیز تقاریر اور اسلامو فوبیا کے خاتمہ کیلئے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، وزیراعظم عمران خان

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے سنگین مظالم اور جبر و استبداد کے باوجود بھارت کشمیری عوام کے عزم اور حوصلے کو توڑنے میں ناکام رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی ریاستی دہشتگردی،بے گناہ کشمیری عوام کی ماورائے عدالت شہادتیں، اظہار رائے پر پابندیاں، جعلی مقابلے، محاصرہ اور سرچ آپریشنز، دوران حراست تشدد و ہلاکتیں، جبری گمشدگیاں، پیلٹ گنز کے استعمال، کشمیری عوام کو اجتماعی سزا دینے کے لئے ان کے گھروں کو تباہ و نذر آتش کرنا اور کشمیریوں کو محکوم رکھنے کے دیگر تمام حربوں کو استعمال کرنا کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے حصول کی جائزجدو جہد کے لئے ان کا جزبہ اورحوصلہ پست نہیں کر سکا۔

  • مقبوضہ کشمیر،1988 سے اب تک کتنے کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا؟ رپورٹ جاری

    مقبوضہ کشمیر،1988 سے اب تک کتنے کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا؟ رپورٹ جاری

    مقبوضہ کشمیر،1988 سے اب تک کتنے کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا؟ رپورٹ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے پہلی بار مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوجیں اتاری تھیں جس کے بعد سے بھارت نے کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔27اکتوبر کو ہر سال کشمیری،اقوام متحدہ کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ پورے کرنے کی یاد دلاتے ہیں۔

    2019میں بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 ختم کر کے جموں و کشمیر اور لداخ کو یونین ٹیریٹری بنا کر زبردستی بھارتی کا حصہ بنا دیا ۔

    جنوبی ایشیا کے خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ گذشتہ سال اگست میں نئی دہلی نے آرٹیکل 370کو منسوخ کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند گروپوں کو عملی طور پر کچلنے کی حکمت عملی اپنائی ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں کے لئے بھی اپنی سرگرمیاں کرنے کے لئے بہت کم جگہ ہے اور ان میں سے کسی نے بھی ابھی تک نئی دہلی کے جموں و کشمیر کی خودمختاری کو واپس لینے کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف کھلے عام آواز نہیں اٹھائی۔

    مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کشمیر میں سال 1988سے اب تک مجموعی طور پر40768 کشمیریوں کو شہید کیا گیا جن میں 25203 حریت پسند اور 15147عام شہری شامل ہیں۔ان میں 1988سے 2000 تک 12396حریت پسند اور 10310 عام شہری شہید ہوئے۔1988سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں6994سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

    مقبوضہ کشمیر میں 2000سے اب تک بھارتی فوج کی طرف سے کی گئی کاروائیوں میں 110185 افراد زخمی ہوئے، 4847 عورتیں بیوہ ہوئیں، 11560بچے یتیم ہوئے،11075مکانات یا دوسرے تعمیراتی سٹرکچر کو نقصان پہنچایا گیاجبکہ خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں121واقعات میں229کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ،مئی میں 16،جون میں 51، جولائی میں 24، اگست میں 20، ستمبر میں 20 اور اکتوبر میں 18کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 49فورسز اہلکار ہلاک ہوئے۔ پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے151واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ اس سال دھماکوں کے 31واقعات میں30شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ22سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں119مختلف واقعات میں 248افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق 16جولائی 2016کو برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج نے پیلیٹ گنز سے عوام کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ۔ اس وقت سے اب تک چھروں سے زخمی افراد کی تعداد 10120ہے جبکہ 75 کشمیری مکمل طور پر بصارت سے محروم ہوگئے۔ 198 ایک آنکھ کی بصارت سے محروم ہوئے، اور1000 کی بصارت ضایع ہونے کے قریب ہے،1800افراد کی بصارت کو جزوی نقصان پہنچا۔

    مقبوضہ کشمیر میں اب تک کئی علاقون میں بھارتی افواج نے کشمیریوں کا قتل عام کیا۔مقبوضہ کشمیر کی تاریخ دل دہلانے والے خونین قتل عام کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ سوپور، ہندوارہ، کپواڑہ، گاوکدل ہو یا دیگر دل گداز واقعات ہوں، ہر جگہ بھارت کی قابض افواج نے انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر مین قتل عام کے تقریبا35واقعات میں 643افراد بہیمانہ طریقے سے شہید کئے گئے