Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھانا ہوگا، شہزاد ورک

    بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھانا ہوگا، شہزاد ورک

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی نمائندہ باغی) بھارت کا اصل چہرہ اب دنیا کو دکھانا ہوگا
    ٹکٹ ہولڈر قومی اسمبلی و چیئرمین کشمیر کمیٹی چوہدری شہزاد علی ورک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے بھارت اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کیلئےکس حد تک جا سکتا ہے، اس کا اندازہ ہم مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم سے لگا سکتے ہیں۔

    ساری دنیا جانتی ہے گزشتہ سات دہائیوں سے بھارتی افواج ریاستی سرپرستی میں نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔اسی طرح بھارت نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کیلئے جو بھیانک کردار اداکیا، وہ ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔ 2015 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران نہایت ڈھٹائی سے اعتراف کیا کہ بھارت نے پاکستان توڑنے میں کردار ادا کیا تھا۔
    بھارت آج بھی بلوچستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ پاکستان میں سی پیک منصوبہ کی بنیاد پڑتے ہی بھارت نے اسے سبوتاژ کرنے کیلئے اربوں کھربوں روپے کا فنڈ مختص کر دیا تھا۔جہاں تک پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کی بات ہے تو ہمیں معلوم ہے کہ کس طرح بھارتی نیوز چینلز پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ کس طرح برسوں سے بھارتی فلموں میں پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف غلیظ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ کس طرح بھارتی ڈراموں کے ذریعے باقاعدہ منصوبہ بندی کیساتھ ثقافتی یلغار کی جاتی ہے۔

    برسوں پہلے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم نے بھارتی فلموں کے ذریعے بھارتی ثقافت پاکستان کے گھر گھر میں داخل کر رکھی ہے، اب ہمیں اس سے جنگی محاذ پر لڑنے کی ضرورت نہیں۔ ہم بخوبی آگاہ ہیں کہ بھارت ہمارے ساتھ کیا کچھ کرتا رہا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم خود اپنے ملک کیساتھ کیا کر رہے ہیں؟ بھارتی پروپیگنڈہ کا کیا جواب دے رہے ہیں؟ پاکستان کا کونسا چہرہ دنیا کو دکھا رہے ہیں؟ بھارت سے شکوہ کرنے اور عالمی برادری سے اپیل کرنے کے بجائے ، کیا ہم نے کبھی اپنے دامن پر نگاہ ڈالی ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت دشمنی کا واویلا اپنی جگہ ، ہم کیا کر رہے ہیں؟
    اس میں کوئی شک نہیں کہ اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان کا ریکارڈ، بھارت سے بہت بہتر ہے۔ مذہبی آزادی بھی بھارت سے کہیں زیادہ ہے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا سلسلہ تو برسوں سے جاری تھا لیکن اب اس نے مقبوضہ کشمیر کے جداگانہ تشخص کو بھی ختم کر کے اسے ہڑپ کر لیا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی اگر ہم سفارتی سطح پر مضبوط ہوتے تو دنیا میں ہلچل مچا دیتے
    بھارتی نیٹ ورک کا سب سے بڑا ہدف پاکستان ہے۔ چین سمیت وہ ممالک بھی اس شیطانی نیٹ ورک کی کاروائیوں کا نشانہ بنتے ہیں، جن کیساتھ بھارت کا کوئی نہ کوئی تنازعہ جاری ہے۔ اس بھارتی نیٹ ورک کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔ پہلا یہ کہ بھارت مخالف ممالک کے خلاف منفی خبریں پھیلائی جائیں۔ انہیں بد نام کیا جائے۔ ان ممالک کے منفی پہلووں کو بڑھا چڑھا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔

    دوسرا مقصد اس نیٹ ورک کا یہ ہے کہ بھارت کے چہرے کی کالک کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا جائے۔بھارت کا روشن اور ماڈریٹ چہرہ اقوام عالم میں اجاگر کیا جائے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے اس بھارتی نیٹ ورک نے بہت سی معروف اور غیر معروف غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) ، تھینک ٹینکوں، اور فیک نیوز پلیٹ فارموں کیساتھ انتہائی مضبوط تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ان تنظیموں کی مدد سے یورپی پارلیمان اور مختلف یورپی اداروں میں اثر و رسوخ حاصل کیا جاتا ہے تاکہ بھارت دوست اور پاکستان مخالف نقطہ نظر اور بیانیے کی ترویج کی جاسکے ۔پاکستان مخالف جعلی خبریں بنانے اور پھیلانے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔یہ گمراہ کن خبریں تسلسل کیساتھ بھارت کے مقامی میڈیا اورعالمی صحافتی اداروں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک میں موجود 97 غیر معروف میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے بھی پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم چلائی جاتی ہے۔ پاکستان مخالف خبروں اور معلومات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے

  • بھارتی فوج میں خودکشیوں کے واقعات میں اضافہ،بھارتی میجر نے کی خودکشی

    بھارتی فوج میں خودکشیوں کے واقعات میں اضافہ،بھارتی میجر نے کی خودکشی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ایک افسر نے خودکشی کر لی ہے

    بھارتی فوج کی جموں وکشمیر رائفلز کے میجر نے ضلع کپواڑ میں اپنی سروس رائفل سے گولی مار کر خودکشی کی۔ ضلع کپواڑہ کے ٹیٹوال سیکٹر میں پیر کی سہ پہر ایک آرمی میجر کی لاش پراسرار حالات میں برآمد کی گئی۔

    کمپنی کے کمانڈر کی حیثیت سے 6 جے اے سی رائفلز کے ساتھ تعینات 29 سالہ آرمی آفیسر کی لاش فرنٹیئر سیکٹر میں جوگی پوسٹ پر ڈیوٹی کے دوران ملی ہے۔ایک فوجی اہلکار کے مطابق لاش برآمد ہونے کے بعد مقامی پولیس کو اطلاع دی گئی جس کے فوری بعد لاش کو چمکوٹ لایا گیا۔

    ہلاک شدہ آرمی میجر کی ٹھوڑی کے نچلے حصے پر چوٹ کے نشان دکھائی دیئے ہیں۔ فوجی میجر کی موت کی وجہ معلوم کرنے کے لیے 174 سی آر پی سی کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیاہے اور مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے

    جنوری 2007 سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 489 ہو گئی ہے ۔

    قبل ازیں  ماہ 14 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں ایک فوجی اہلکار نے ضلع بڈگام کے رنگریتھ علاقے میں مبینہ طور پر خودکشی کرلی۔ ساوتھ ایشین وائر کو سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس فوجی کی شناخت لانس نائک اوم پرکاش کے نام سے ہوئی ہے جس نے اولڈ ایر فیلڈ میں اپنی سروس رائفل سے خودکشی کرلی۔انہوں نے بتایا کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کی وجہ کا فوری طور پر پتہ نہیں چل سکا۔

     

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    خواجہ سراؤں نے دوستی کے بہانے نشہ دے کر نوجوان کا عضو خاص کاٹ دیا

    قبل ازیں  ماہ جولائی میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے اہلکار نے گولی مار کر خودکشی کر لی ہے۔

    سی آر پی ایف کے ترجمان پنکج سنگھ کے مطابق ‘ہیڈ کانسٹیبل پنٹو ماڈل نیصبح سرینگر کے رام باغ علاقے میں واقع نیم فوجی دستے کے گروپ سینٹر میں خودکشی کی۔’ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پنکج سنگھ نے کہا کہ ‘منڈل نے اپنی سروس بندوق سے خود کو گولی ماری جس کے بعد ان کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔

  • سینیٹر رحمان ملک نے  بھارت  داعیش اور بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی کے کلاوے جوڑدیئے

    سینیٹر رحمان ملک نے بھارت داعیش اور بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی کے کلاوے جوڑدیئے

    اسلام آباد (حمزہ رحمن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمیٹی چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بھارت خود داعش کی پرورش کر رہا ہے اور بھارت میں داعش کے باقاعدہ ٹریننگ کیمپ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں،بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی اور عالمی سطح پر بھارت کے خلاف ملنے والے شواہد عالمی برادری کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بلوچستان میں داعش ایک عناصر تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور وزارت داخلہ اس سلسلے میں کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرے اور اب تک جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں اُس پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی کے مظالم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ہم کشمیریوں کے حقوق کیلئے ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے۔
    کرونا وباء سے تحفظ کیلئے ویکسین پر بات کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اگر چہ ویکسین دنیا کیلئے ای اچھی اور خوش آئند پیش رفت ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی سرکار کے ہاتھوں اس سہولت سے بھی محروم رہے گے اور ہمیں خود مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کو یہ سہولت فراہم کرنی ہو گی۔
    انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں زونبی کے نام سے ایک نشہ متعارف کرایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی خطرنا ک نشہ ہے جس سے بچے عجیب و غریب حرکا ت شروع کر دیتے ہیں اور اپنا ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ پاتے۔ انہوں نے کہا کہ اس گنونے جرم میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کی اشد ضرورت ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے۔

  • سرینگر،ظالم بھارتی فوج نے تین طلبا شہید کر دیئے

    سرینگر،ظالم بھارتی فوج نے تین طلبا شہید کر دیئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے تین طلبا کو شہید کر دیا

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے مضافاتی علاقہ عمرآباد میں گزشتہ روز شروع ہوئے آپریشن میں تین نوجوان حریت پسند شہید ہوگئے ۔جن کے اہل خانہ نے سرینگر میں احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تین نوجوان، زبیر، اعجاز اور مشتاق طالبعلم تھے جو اپنے فارم جمع کروانے گھر سے نکلے تھے۔

    بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ عسکریت پسندوں کو شہید کیا تا ہم شہید ہونے والے نوجوانوں کے والدین حقیقت سامنے لے آئے، انہوں نے بتایا کہ ہمارے بیٹے طالب علم تھے جو گھر سے نکلے اور انہیں بھارتی ظالم فوج نے شہید کر دیا

    تینوں نوجوانوں کا تعلق شوپیاں اور پلوامہ سے تھا اور وہ سری نگر میں تعلیم کی غرض سے ٹھہرے ہوئے تھے۔ نوجوانوں کی شہادت کے بعد اہلخانہ نے نے بھارتی فوج کی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور جدوجہد آزادی کشمیر کے حق میں نعرے لگائے۔ مظاہرین کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ شہید کیے گئے نوجوانوں کی میتیں ہمارے حوالے کی جائیں۔

    اعجاز مقبول کے اہل خانہ نے بتایا کہ وہ کشمیر یونیورسٹی میں امتحان دینے کے لیے گھر سےگیا تھا جس کے بعدظالم فوج نے اسے شہید کر دیا۔

  • بھارتی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں شہید کشمیری نوجوانوں کے والدین کی دہائی،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    بھارتی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں شہید کشمیری نوجوانوں کے والدین کی دہائی،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    بھارتی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں شہید کشمیری نوجوانوں کے والدین کی دہائی،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں مارے جانے والے کشمیری نوجوانوں کے والدین سڑکوں پر نکل آئے

    سری نگر میں تین کشمیری نوجوانوں کو فیک انکاؤنٹر میں بھارتی فوج نے شہید کیا جو کہ طالب علم تھے اور لاشیں بھی لواحقین کے حوالے نہیں کی جا رہیں، بھارتی فوج اور مودی سرکار کے خلاف کشمیری نوجوانوں کے والدین سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا

    اس موقع پر شدید جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، والدین کا کہنا تھا کہ ایک ہی چراغ تھا جو بجھا دیا، اب کوئی نہیں، ہم کس سے مانگیں ، اس موقع پر خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی جو دھاڑیں مارتے روتے نظر آئیں،

    https://twitter.com/AakashHassan/status/1344216294577426433?s=08

    سرینگر میں احتجاج کے دوران مائیں رو رہی تھیں انہین کوئی دلاسہ دینے والا نہ تھا، بھارتی ظالم فوج نے بے گناہ نہتے کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے، اس پر کشمیری احتجاج ریکارڈ کروائیں تو انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،

    بھارتی فوج جعلی مقابلوں میں شہید کرنے والوں کی لاشیں بھی واپس نہیں کرتی، سرینگر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف کشمیری آج سڑکوں پر نکلے اور بھر پور احتجاج ریکارڈ کروایا

    قبل ازیں پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں تین معصوم شہریوں کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم کشمیریوں کے قتل کی عالمی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ گذشتہ روز جعلی مقابلے میں بھارتی قابض افواج نے تین کشمیری مزدوروں کو شہید کیا، اور واقعے کو مقابلے کا رنگ دینے کی بھونڈی کوشش کرتے ہوئے شہید مزدوروں کے ساتھ اسلحہ رکھ دیا گیا، پاکستان بین الاقوامی سطح پر ان مزدوروں کے قتل کی شفاف طریقےسےتحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق جعلی سرچ آپریشن اور جعلی مقابلوں کےنام پر ان کو شہید کیا گیا، دنیا ان مظالم پربھارت کو جواب دہ بنائے۔دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ کے مطابق کشمیری لوگوں کےخلاف بھارتی جرائم کی طویل فہرست ہے، ایک سال میں تین سو معصوم کشمیری،خواتین اوربچوں کو شہیدکیا جاچکا ہے۔

    بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کے حوالہ سے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر جعلی مقابلوں کے خلاف ٹرینڈ بھی چلایا گیا جس میں بڑی تعداد میں صارفین نے حصہ لیا اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا،

    https://twitter.com/FatiMa_QZi8/status/1344262562423177216

    رواں برس مال جولائی میں بھارتی فوج کی جانب سے تین کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرنےکی تصدیق ہوگئی ہے۔ بھارتی فوج کے افسرکیپٹن بھوپندرا سنگھ اور اس کے 2 ساتھیوں نے 3کشمیری نوجوانوں جو آپس میں کزنز تھے کے قتل کے بعد موت کو فوجی مقابلہ قراردیا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے خود ان کی میتوں پراسلحہ رکھا تا کہ بےگناہ نوجوانوں کوخطرناک دہشتگرد قراردیا جاسکے۔

    اتنا ہی نہیں بلکہ بھارتی فوج نے ہمیشہ کی طرح سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کر کے نامعلوم مقام پرخاموشی سے دفنا دیا تاکہ حقیقت دنیا کےسامنےنہ آسکے تاہم جب دہشتگرد قرار دے کر قتل کیے گئے نوجوانوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو مقتولین کے اہل خانہ نے انہیں شناخت کرلیا۔

    اہلخانہ نے بتایا کہ تینوں بے روزگار نوجوان سیبوں کےباغات میں نوکری کی تلاش کے لیے گھروں سے نکلے تھے لیکن کچھ روز سے ان سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

    حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز نے 18جولائی کو مقبوضہ کشمیر ضلع شوپیاں میں تین کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کیا،جعلی مقابلے کا اعتراف بھارتی فوج خود کر رہی ہے۔

    مشعال ملک کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے پچھلے تین مہینے سے نوجوانوں کو حراست میں لے رکھا تھا،نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرنے کے بعد انکی لاشیں مسخ کی گئی،بھارتی فورسز نے لاشیں بھی ورثا کے حوالے نہیں کی،کشمیر کے ہر گھر میں جعلی انکاونٹر کی داستان موجود ہے۔

    مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فورسز نوجوانوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں،اور جعلی مقابلے میں شہید کر دیتی ہیں،اقوام متحدہ بھارتی بربریت کا نوٹس لے۔اقوام متحدہ کشمیر میں جعلی مقابلوں کی آزادانہ انکوائری کروائے،بھارتی فوج جعلی مقابلوں میں کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کے سامنے آ گئے

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کے سامنے آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کے سامنے آ گئے ہیں،

    قابض بھارتی فوج کا گھناؤنا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے، بھارتی فوج بے گناہ کشمیری نوجوانوں کے جعلی مقابلوں میں شہید کرتی ہے

    رواں برس مال جولائی میں بھارتی فوج کی جانب سے تین کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرنےکی تصدیق ہوگئی ہے۔ بھارتی فوج کے افسرکیپٹن بھوپندرا سنگھ اور اس کے 2 ساتھیوں نے 3کشمیری نوجوانوں جو آپس میں کزنز تھے کے قتل کے بعد موت کو فوجی مقابلہ قراردیا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے خود ان کی میتوں پراسلحہ رکھا تا کہ بےگناہ نوجوانوں کوخطرناک دہشتگرد قراردیا جاسکے۔

    اتنا ہی نہیں بلکہ بھارتی فوج نے ہمیشہ کی طرح سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کر کے نامعلوم مقام پرخاموشی سے دفنا دیا تاکہ حقیقت دنیا کےسامنےنہ آسکے تاہم جب دہشتگرد قرار دے کر قتل کیے گئے نوجوانوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو مقتولین کے اہل خانہ نے انہیں شناخت کرلیا۔

    اہلخانہ نے بتایا کہ تینوں بے روزگار نوجوان سیبوں کےباغات میں نوکری کی تلاش کے لیے گھروں سے نکلے تھے لیکن کچھ روز سے ان سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

    شوپیاں انکاؤنٹر، اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کارروائی کی، بھارتی فوج مان گئی

    شوپیاں انکاؤنٹر،شہید نوجوانوں کے والدین کا بھارتی فوجی اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    قبل ازیں بھارتی فوج نے 18 جولائی کو شوپیان کے علاقے ایمشی پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران تین نوجوانوں کوشہید کرنے کے بعد انہیں عسکریت پسند قرار دیا تھا ۔ تاہم بعد میں شہید ہونے والے نوجوانوں کے اہلخانہ نے ان کی شناخت امتیاز احمد ، ابرار احمد اور محمد ابرار کے نام سے کی تھی جو جموں خطے کے ضلع راجوری سے مزدوری کی غرض سے وادی کشمیر آئے تھے۔

    اہلخانہ نے بھارتی فوج کی طر ف سے جاری کردہ تصویروں کے ذریعے اپنے پیاروں کی شناخت کی تھی۔ قابض بھارتی فوج نے گذشتہ روز اعتراف کیا کہ یہ نوجوان راجوری کے رہائشی تھے۔

    حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز نے 18جولائی کو مقبوضہ کشمیر ضلع شوپیاں میں تین کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کیا،جعلی مقابلے کا اعتراف بھارتی فوج خود کر رہی ہے۔

    مشعال ملک کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے پچھلے تین مہینے سے نوجوانوں کو حراست میں لے رکھا تھا،نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرنے کے بعد انکی لاشیں مسخ کی گئی،بھارتی فورسز نے لاشیں بھی ورثا کے حوالے نہیں کی،کشمیر کے ہر گھر میں جعلی انکاونٹر کی داستان موجود ہے۔

    مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فورسز نوجوانوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں،اور جعلی مقابلے میں شہید کر دیتی ہیں،اقوام متحدہ بھارتی بربریت کا نوٹس لے۔اقوام متحدہ کشمیر میں جعلی مقابلوں کی آزادانہ انکوائری کروائے،بھارتی فوج جعلی مقابلوں میں کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔

  • کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بھی لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا ہے، کشمیر میں لاک ڈاؤن اگرچہ گزشتہ برس سے جاری ہے تا ہم کرونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں مزید سختی کی گئی ہے

    لاک ڈاؤن کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں گھرون میں بچوں نے پپ جی اور دوسری گیمز کھیلنا شروع کر دی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جگہ پر مسلسل گھنٹوں بیٹھ کر ‘پب جی’ اوردوسرے گیمز کھیلنے سے بچوں کے ذہنی وجسمانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور آنکھوں کی بینائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ‘

    پب جی ایک آن لائن ملٹی پلیئر بیٹل گیم ہے جو بچوں میں کافی مشہور ہے۔ یہ اس وقت دنیا کے مقبول ترین موبائل فون گیمز میں سے ایک ہے، جسے ایک تخمینے کے مطابق ماہانہ دس کروڑ افراد اپنے موبائل پر کھیلتے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈاون کے دوران بچے گھروں سے باہر نہیں جا سکتے اس لئے وہ ایسی گیمز کھیلتے ہیں ، جن بچوں کے پاس اینڈرائیڈ موبائل فون نہیں وہ دن بھر ٹی وی پر کارٹون دیکھتے ہیں یا لیپ ٹاپ پر گیمز کھیلتے ہیں

    مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن گزشتہ برس سے جاری ہے جب مودی سرکار نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی اسوقت سے کشمیری گھروں میں محصور ہیں انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں،مساجد کو تالے لگے ہوئے ہیں، تعلیمی ادارے بند ہیں ، ٹرانسپورٹ بھی بند ہیں ،اب موجودہ لاک ڈاؤن میں بھارتی فوج نے کشمیریوں پر کرونا کے حوالہ سے بہانہ بنا کر ظلم و ستم میں مزید اضافہ کر دیا ہے، ایک ماہ کے اندر کم از کم 20 سے زائد کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جا چکا ہے اور ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں‌ ڈالا گیا ہے.

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پب جی ایک مزیدار گیم ہے لیکن اس کے عادی ہونے والوں کے ذہنی وجسمانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہ انتہائی جذباتی قسم کا گیم ہے اس سے کھیلنے والوں میں انتہائی جذباتی اور جارحانہ خیالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں یونس محمود نامی ایک لڑکے نے کشمیری میڈیا سے گفتگو ہوئے کہا کہ پب جی انٹرنیٹ کی وساطت سے چار کھلاڑیوں پر مشتمل ایک گروپ کھیلتا ہے لیکن وادی میں چونکہ ٹو جی انٹرنیٹ سروس ہے جس کی وجہ سے یہ گیم کھیلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    محمد صابر نامی لڑکے کے والد کا کہنا تھا کہ رات میں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار قدرے تیز ہوتے ہی میرے بچے پب جی کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ میرے بچے رات گئے تک پبجی گیم کھیلتے ہیں کیونکہ رات کے وقت انٹرنیٹ کی رفتار بھی قدرے تیز ہوتی ہے میں ان کی صحت کے حوالے سے بہت پریشان ہوں، رات کے دوران پب جی کھیلنے سے وہ صبح کے وقت دیر سے اٹھتے ہیں اور پڑھائی کی طرف دھیان نہیں دے پا رہے .

    بھارت میں پب جی گیم بہت زیادہ معروف ہوچکی ہے جس پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، رواں برس چند ماہ قبل بھارتی ریاست گجرات میں یہ گیم کھیلنے کی عادی ایک خاتون نے پب جی کی خاطر خاوند سے طلاق کا مطالبہ کردیا۔ 19 سالہ خاتون نے ویمن ہیلپ لائن پر کال کرکے اپنے شوہر سے علیحدگی میں مدد کا کہا اور بتایا کہ وہ وہ پب جی میں ملنے والے اپنے نئے گیمنگ پارٹنر کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے۔

    ہیلپ لائن ابھیام کے سربراہ بریندراسن گوہل کے مطابق یہ فون کال اپنی نوعیت کی پہلی کال تھی کیونکہ عام طور سے خواتین ہمیں فون کرکے کہتی ہیں کہ ان کے بچے پب جی کے عادی ہیں۔ہیلپ لائن کی جانب سے بھیجی جانے والی مشاورتی ٹیم نے خاتون کے گھر جا کر اہلخانہ سے اس مسئلے پر بات چیت کی تو علم ہوا کہ موبائل فون کو بہت زیادہ وقت دینے کی وجہ سے خاتون کے گھر والوں سے اس کا جھگڑا ہوا۔

    مشاورتی ٹیم نے خاتون کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کیلئے سمجھایا اوربحالی کے مرکز میں رہنے کا مشورہ دیا جہاں موبائل فون کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اسےسوچنے کیلئے کچھ وقت چاہیے، اگر اس نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا تو وہ کال کرکے بتا دے .

    کرونا لاک ڈاؤن، سائیکل پر ہسپتال جانیوالی خاتون نے سڑک کنارے دیا بچے کو جنم

    کوئی بھوکا نہ سوئے مہم ،بھارتی مسلمانوں کا شاندار کام، مسجد سے تقسیم ہوتا ہے کھانا

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

    کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    انڈونیشیا کے عالم دین نے پب جی گیم پر فتوی دیتے ہوئے اسے مکمل حرام قرار دیا انڈونیشیا کے مذہبی سکالر کا کہنا ہے کہ قیامت برپا ہونے سے پہلے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ہو گی جس کا نام الملحة الکبری ہے یہ جنگ اتنی خوفناک ہوگی کہ ننانوے ہارے گے اور صرف ایک جیتے گا۔ اس گیم میں بھی بلکل ایسا دیکھایا گیا ہے

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

  • وادی جنت نظیر مقبوضہ کشمیر کی پہلی خاتون ریپر کی جدو جہد

    وادی جنت نظیر مقبوضہ کشمیر کی پہلی خاتون ریپر کی جدو جہد

    مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ ‘ریپر’ مہک اشرف وادی کی پہلی خاتون ریپر بن گئیں ہیں۔

    باغی ٹی وی :ڈان آئیکون کی رپورٹ کے مطابق مہک اشرف نے اس وقت ‘ریپر’ گلوکاری کا آغاز کیا جب وہ نویں جماعت کی طالبہ تھیں۔

    19 سالہ مہک اشرف نے امریکی ‘ریپر’ و موسیقار ‘امینم’ کی کہانی اور جدوجہد سے متاثر ہوکر اپنا نام بھی ‘منائم ام’ رکھا ہے۔

    مہک اشرف المعروف منائم ام اس وقت گورنمنٹ ویمن کالج سری نگر سے بیچلر مکمل کرنے کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، تاہم اب تک وہ پوری وادی سمیت پاکستان و بھارت میں اپنی منفرد گلوکاری کی وجہ سے مقبول ہو چکی ہیں-

    منائم ام کو 2016 میں اس وقت توجہ حاصل ہوئی جب قابض بھارتی فوج نے وہاں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان الدین وانی کو شہید کردیا تھا۔

    حزب المجاہدین کے کمانڈر کی شہادت کے بعد وادی میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث وہاں 6 ماہ کے لیےتعلیمی ادارے بند کردیے گئے تھے اور اسی دوران ہی مہک اشرف نے ‘ریپر’ گلوکاری کا آغاز کیا اور جلد ہی لوگوں کی نظروں میں آگئیں۔

    منائم ام کو ابتدائی طور پر مقامی ایف ایم ریڈیو کی خاتون ہوسٹ نے ریڈیو پر متعارف کرایا اور بعد ازاں انہوں نے 2 لڑکوں پر مشتمل ایک میوزیکل بینڈ کے ساتھ بطور گلوکارہ کام کا آغاز کیا اور جلد ہی لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب گئیں۔

    منائم ام کے مطابق لڑکی ہونے کے ناطے ‘ریپر’ گلوکاری میں ان کا آنا معیوب سمجھا گیا اور ابتدائی طور پر ان کے والدین نے بھی ان کی گلوکاری کی مخالفت کی لیکن بعد ازاں والدین ان کے شوق کے آگے ہار گئے اور ان کی سپورٹ کرنا شروع کی۔

    منائم ام کے مطابق ابتدائی طور پر انہیں کہا گیا کہ وہ محض شہرت حاصل کرنے کے لیے گلوکاری کر رہی ہیں اور انہیں بھارتی گلوکارہ ڈھنچک پوجا بھی قرار دیا گیا۔

    حکومت پاکستان نے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے گردوارا بابا گرو نانک پر فلمائے…

    منائم ام نے بتایا کہ تاہم اب لوگ جان چکے ہیں کہ وہ محض شہرت کے لیے ‘ریپر’ گلوکاری نہیں کر رہی تھیں بلکہ وہ اس کے ذریعے مقام حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

    انہوں نے امریکی گلوکارہ و ریپر نکی مناج، کار ڈی بی، ڈریک اور ففٹی پرسنٹ کو اپنا پسندیدہ ریپر قرار دیا۔

    منائم ام مستقبل میں ماحولیاتی آلودگی اور جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے بھی گانے ریلیز کرنا چاہتی ہیں جب کہ وہ اپنی منفرد گلوکاری کے ذریعے وادی کشمیر کے سیاسی و سماجی مسائل کو بھی دنیا کے سامنے لانا چاہتی ہیں۔

    رابی پیر زادہ مصوری میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کریں گی

  • محبوبہ مفتی ایک بار پھر نظربند

    محبوبہ مفتی ایک بار پھر نظربند

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو سرینگر میں واقع ان کی رہائش گاہ میں نطربند کیا گیا ہے۔

    پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ انتظامیہ نے انہیں پھر ایک بار اپنے گھر میں گزشتہ دو دن سے نظر بند رکھا ہے۔محبوبہ مفتی نے ٹویٹ میں کہا کہ ‘انہیں پھر سے غیر قانونی طریقے سے گھر میں نطربند کیا گیا ہے۔’انہوں نے کہا کہ وہ پی ڈی پی یوتھ ونگ صدر وحید پرا کے ضلع پلوامہ کے نایرہ گاں میں واقع رہایش گاہ پر ان کے اہل خانہ سے ملنے کے لیے جارہی تھیں لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے انہیں جانے سے روک دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے وزرا اور ان کے کارکنان کو ہر مقام پر جانے کی اجازت ہے لیکن سکیورٹی کا بہانہ صرف ان کے لیے بنایا جارہا ہے۔

    پی ڈی پی نوجوان لیڈر وحید پرا کو این آئی اے نے منگل کو دلی طلب کر کے وہاں گرفتار کیا تھا اور ان کو جموں کی این آئی اے عدالت میں پیش کیا جارہا ہے۔این آئی اے نے وحید پرا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دیویندر سنگھ اور حزب المجاہدین کے کمانڈر نوید بابو کے کیس میں ملوث ہے۔ محبوبہ مفتی گزشتہ کئی دنوں سے ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کی مہم جوئی کے سلسلے میں جنوبی کشمیر کا دورہ کر رہی تھیں۔

    محبوبہ مفتی نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا: ‘وحید پرا کو بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور مجھے ان کے اہل خانہ کو تسلی دینے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ میری بیٹی التجا کو نظربند کردیا گیا کیوںکہ وہ بھی وحید کے اہل خانہ سے ملنا چاہتی تھی۔’

    انہوں نے لکھا کہ ‘آج تین بجے پریس کانفرنس ہوں گی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ برائے مہربانی میڈیا سے شرکت کی درخواست ہے۔’دلچسپ بات یہ ہے کہ 28 نومبر کو جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کا آغاز ہونے والا ہے اور اس سے قبل ہی محبوبہ مفتی کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

    سی پیک کے خلاف امریکی سازش کے توڑ کیلئے چین کے پانچ ہزار فوجی بھارت میں گھس گئے

    لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

    ‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

    لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

    "پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

    جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم

    بھارت کی کٹھ پتلی حکومت کا حصہ رہنے والی مقبوضہ جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارت میں برسر اقتدار مودی سرکار پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارا جھنڈا ہمیں واپس دو۔ انہوں نے کہا ہے کہ بیشک! آج بی جے پی کا دن ہے لیکن کل ہمارا ہو گا اور اس کا حال بھی ٹرمپ والا ہی ہو گا۔

  • مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے

    مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے

    مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے
    مقبوضہ کشمیر میں1989سے اب تک گیارہ ہزار خواتین کی بے حرمتی کی گئی
    آسیہ اندرا بی سمیت متعدد خواتین غیر قانونی طورپر جیلوں میں نظربند ہیں

    25نومبر کو دنیا بھر میں خواتین پرتشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔مقبوضہ کشمیرمیں کشمیر ی خواتین بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروںکی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں ۔

    ساؤتھ ایشین وائر نے اس دن کے حوالے سے جاری کردہ اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میںجنوری 1989ء سے اب تک بھارتی فوجیوں نے 2201خواتین کو شہید کیا ۔بھارتی فوجیوں نے جنوری 2001سے اب تک کم سے کم700خواتین کو شہید کیا۔

    1989 میں علیحدگی پسندجدوجہد شروع ہونے کے بعد سے کشمیر میں خواتین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی ، تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، معذور اور قتل کیا گیا۔ کشمیری خواتین دنیا میں بدترین جنسی تشدد کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 9فیصد کشمیری خواتین جنسی استحصال کا شکار ہوئی ہیں۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ سعودی عرب کیا تبدیلی لائے گا؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو تسلیم….چیئرمین سینیٹ نے سعودی سفیر سے ملاقات میں بڑا دعویٰ کر دیا

    ٹرمپ بضد، محمد بن سلمان سخت پریشان،سعودی عرب کا بڑا اعلان، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    شاہ محمود قریشی چین کیوں گئے؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    چین سے شاندار خبریں،تمام پروٹوکول ٹوٹ گئے،تاریخی معاہدے تیار، اندر کی کہانی، مبشر لقمان کی زبانی

    سرد جنگ کا خوفناک کھیل،پاکستان اہم ،امریکی پریشان ،ایران تگڑا اوراسرائیل میدان میں ، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ 1989ء سے اب تک 22ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے 11,142خواتین کی بے حرمتی کی جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والے خواتین بھی شامل ہیں۔بھارتی فوج کی چوتھی اجپوتانہ رائفلز کے جوانوں نے 23 فروری 1991 کو جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ایک گاؤں کنن پوش پورہ میں سرچ آپریشن شروع کیا ۔جس کے بعد 23 خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق خواتین کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ شوپیاں میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی دو خواتین بھی اس میں شامل ہیں۔ایک نیوز ویب سائٹ القمر کے مطابق بھارتی پولیس کے اہلکاروں نے گزشتہ سال کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کو اغواء اور بے حرمتی کرنے کے بعد قتل کردیا تھا ۔

    خواتین مزاحمتی رہنماوں ، آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت آدھی درجن سے زیادہ خواتین گذشتہ چار سالوں سے بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں غیر قانونی نظربند ہیں جبکہ انشا طارق جان ، حنا بشیر بیگ ، حسینہ بیگم اور نسیمہ بانو۔ ، ایک شہید توصیف احمد شیخ کی والدہ ، مختلف جیلوں میں بند ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے وبائی مرض کی وجہ سے ان کی فیملی اپنی بیٹیوں کی خیریت سے پریشان ہیں۔گزشتہ سال ڈوڈا میں ، ایک 90 سالہ غلام محمد بٹ گذشتہ سال اس کی بیٹی کے ساتھ دیکھنے کی خواہش کے ساتھ فوت ہوگیا تھا ، جسے فوجیوں نے جون 2000 میں دو خصوصی پولیس افسروں کی مدد سے اغوا کیا تھا۔ ۔

    ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج خواتین کی عصمت دری کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ پورٹ کے مطابق زیادتی کے بیشتر واقعات محاصرے اور تلاشی کے آپریشنز کے دوران پیش آئے ۔ ایچ آر ڈبلیو کی ایک اوررپورٹ کے مطابق ، کشمیر میں سکیورٹی اہلکاروں نے عصمت دری کو انسداد بغاوت کے حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ میں ایک اسکالر انجر سکجلس بائیک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں عصمت دری کا انداز یہ ہے کہ جب فوجی سویلین رہائش گاہوں میں داخل ہوتے ہیں تو وہ عورتوں سے زیادتی سے قبل مردوں کو مار ڈال دیتے ہیں یا بے دخل کردیتے ہیں۔ ایک اور اسکالر شبھ متھور نے عصمت دری کو "کشمیر میں بھارتی فوجی حکمت عملی کا ایک لازمی عنصر” قرار دیا ہے۔

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    ایک استاد اور سکالرسیما قاضی کا کہنا ہے کہ کشمیر میں عصمت دری "جنگ کا ثقافتی ہتھیار” ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ عصمت دری کا استعمال کشمیریوں کے خلاف مزاحمت کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے کیا جاتا ہے اور فوجیوں کے اعتراف کے ایسے دستاویزی ثبوت بھی سامنے آئے ہیں جن میںاعتراف کیا گیا ہے کہ انہیں کشمیری خواتین پرزیادتی کا حکم دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے بارے میں 52 ویں اقوام متحدہ کے کمیشن میں ، پروفیسر ولیم بیکر نے گواہی دی کہ کشمیر میں عصمت دری محض غیر طے شدہ فوجیوں پر مشتمل الگ تھلگ واقعات کا معاملہ نہیں ، بلکہ سیکیورٹی فورسز کشمیری آبادی پر عصمت دری کو خوفناک اورسرگرم انداز میں ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

    فوجیوں کے کچھ انٹرویو زکے دوران اس سوال پرکہ انہوں نے مقامی کشمیری خواتین سے زیادتی کیوں کی ، کچھ نے جواب دیا کہ کشمیری خواتین خوبصورت ہیں۔ دوسروں نے کہا کہ یہ غیر فیملی اسٹیشن ہے۔ ایک سپاہی نے جواب دیا کہ اس نے بدلے میںایک کشمیری خاتون کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ "ان کے مردوں نے اس کی برادری کی خواتین کے ساتھ بالکل ایسا ہی سلوک کیا”۔

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ 8جولائی 2016کو کشمیری نوجوان برہان وانی کے قتل کے بعد سے سینکڑوں کشمیری نوجوان اور طلبہ اور طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے گولیوں اورپیلٹ گنزکے استعمال سے زخمی ہو چکے ہیں ۔ ان زخمیوں میں سے انشاء مشتاق اورافراء شکور سمیت کم سے کم 70بچے اور بچیاں بینائی کھو چکے ہیں جبکہ 18ماہ کی شیر خوار بچی حبہ نثار اور 32سالہ نصرت جان کی بینائی جزوی طورپر متاثر ہوئی ۔ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کشمیریوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ جن کے عزیز اور رشتہ دار لاپتہ ہیں