Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر میں قائداعظم ؒ، صدر، وزیراعظم کی تصاویر اور بیانات والے پوسٹرز لگ گئے،کشمیریوں نے عمران خان سے امیدیں لگالیں

    مقبوضہ کشمیر میں قائداعظم ؒ، صدر، وزیراعظم کی تصاویر اور بیانات والے پوسٹرز لگ گئے،کشمیریوں نے عمران خان سے امیدیں لگالیں

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر میں قائداعظم ؒ، صدر، وزیراعظم کی تصاویر اور بیانات والے پوسٹرز لگ گئے،کشمیریوں نے عمران خان سے امیدیں لگالیں ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ، صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تصاویر اور بیانات والے پوسٹرز لگ گئے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ پوسٹرز سرینگر، گندربل، بانڈی پورہ، بڈگام اور دیگر علاقوں میں لگے۔ سرینگر میں جموں کشمیر لبریشن الائنس کی جانب سے لگائے گئے پوسٹرز پر قائداعظمؒ کی تصویرکے ساتھ پاکستان ہماری شہ رگ ہے بھی لکھا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر سے ذرائع کے مطابق پوسٹرز پر صدر عارف علوی کی تصویرکے ساتھ آزادی کشمیریوں کا پیدائشی حق ہے اور وزیراعظم عمران خان کی تصویر کے ساتھ کشمیریوں کے لیے ہر سطح پر ہر قسم کا تعاون کریں گے اور ’کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے‘ کے بیانات بھی درج ہیں۔وزیراعظم کے بیانات ’جموں کشمیر کے لیے ہر سطح پر ہر قسم کا تعاون کریں گے‘ کے بینر لگے ہوئے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی میں27 اکتوبر کی بھارتی جارحیت کے خلاف یوم سیاہ منانے کے پوسٹرز بھی لگائے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ 27 اکتوبر1947 کو بھارتی افواج نے وادی کشمیر پر جارحیت کر کے ناجائز قبضہ کیا تھا۔

    یاد رہےکہ دوسری طرف پاکستان میں اپوزیشن جماعتیں اپنی سیاست زندہ رکھنےکےلیے یہ پراپیگنڈہ کررہی ہیں کہ عمران خان کے دورمیں کشمیر ایشوکمزور ہوا ہے لیکن کشمیریوں نے پاکستانی اپوزیشن کے ان الزامات جوجھوٹ کا پلندہ قراردیتے ہوئےکہا ہےکہ اگر73 سال کی تاریخ میں کسی نے مسئلہ کشمیر موثرطورپرپیش کیا ہے تووہ پہلی بارعمران خان نے کیا ہے اوراس کی کریڈٹ بھی عمران خان کوجاتا ہے

  • اقوام متحدہ کی پچھترویں سالگرہ کی خوشی میں دفتر خارجہ میں خصوصی تقریب

    اقوام متحدہ کی پچھترویں سالگرہ کی خوشی میں دفتر خارجہ میں خصوصی تقریب

    اقوام متحدہ کی پچھترویں سالگرہ کی خوشی میں دفتر خارجہ اسلام آباد میں ’یو۔این‘ ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر آفس کے اشتراک سے خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے تقریب میں خاص طور پر شرکت کی۔ سیکریٹری خارجہ سہیل محمود، اسلام آباد میں تعینات سفراء سفارتکاروں، اقوام متحدہ کے اداروں کے سربراہان اور اعلی حکام بھی توریب میں شریک ہوئے۔ اس موقعہ پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے وڈیو پیغام کے ذریعے تقریب سے خطاب کیا۔ وزیرخارجہ نے اس موقعہ پر کہا کہ سماجی ومعاشی بہتری کے مقاصد کے حصول کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اقوام متحدہ کے تمام اداروں، فنڈز اور پروگرامز کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میں کشمیری عوام کی حالت زار انتہائی ابتر ہے۔ قابض بھارتی افواج منظم انداز میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ وادی کے عوام شدید مصائب اور مظالم کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کی ضمانت دی گئی۔ سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور، قیام کے اغراض ومقاصد کے ساتھ پاکستان کی مکمل وابستگی کا عہد کرتے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے تمام اداروں میں پاکستان کی بھرپور شرکت کا جائزہ پیش کیا اورکہا کہ عالمی امن و سلامتی سے پائیدار ترقی اور انسانی حقوق تک ہر شعبے میں پاکستان کی شرکت نمایاں ہے۔
    تقریب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی پچھترویں سالگرہ کے موقع پر یادگاری ڈاک ٹکٹ کی رونمائی کی۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان پوسٹ نے جاری کیا ہے۔
    اقوام متحدہ کی پچھترویں سالگرہ کے موقع پر تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔ یادرہے کہ اقوام متحدہ کا دن ہر سال 24 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1945 میں اقوام متحدہ کے منشور کے نفاذ کی یاد دلاتا ہے

  • مقبوضہ کشمیر : جب تک کشمیر کا قومی پرچم بحال نہیں تب تک بھارتی ترنگا بھی قبول نہیں، پی ڈی پی کا اعلان

    مقبوضہ کشمیر : جب تک کشمیر کا قومی پرچم بحال نہیں تب تک بھارتی ترنگا بھی قبول نہیں، پی ڈی پی کا اعلان

    مقبوضہ کشمیر میں پی ڈی پی رہنماؤں کی پریس کانفرنس سے بھارتی جھنڈا ہٹا دیا

    باغی ٹی و ی : مقبوضہ کشمیر میں پی ڈی پی رہنماؤں کی پریس کانفرنس سے بھارتی جھنڈا ہٹا دیا گیا۔ پریس کانفرنس میں صرف کشمیری اور پی ڈی پی کے پرچم رکھے گئے، بھارتی ترنگے کی توہین پر انڈین میڈیا سیخ پا ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ جب تک کشمیری پرچم اور آرٹیکل 370 کے واپسی نہیں ہوتی تب تک بھارت سے کوئی واسطہ نہیں۔

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ جب تک کشمیر کا قومی پرچم بحال نہیں تب تک بھارتی ترنگا بھی قبول نہیں۔ بھارتی جھنڈا ناقابل قبول ہے۔مقبوضہ کشمیر کی سابقہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے انہتاپسند مودی سرکار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو دستور پر چلنا چاہیے نہ کہ بی جے پی کے منشور پر ۔

    ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا جھنڈا بھارت سے ناطہ جوڑتا تھا۔ جب تک کشمیری پرچم اور آرٹیکل 370 کے واپسی نہیں ہوتی تب تک بھارت سے کوئی واسطہ نہیں۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مسئلہ کشمیر عالمی افق پر اجاگر ہوا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے مودی سرکار کے خلاف نیا اتحاد بنا لیا


    واضح‌ رہے کہ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کی تمام سیاسی پارٹیوں نے اتحاد کیا تھا اور آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے مشترکہ جدو جہد کرنے کا علان کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ آرٹیکل تین سو ستر کا خاتمہ کورونا وائرس کی طرح ہے جسکی علامات کچھ دیر بعد ظاہر ہونگی،،،بھارت نواز کشمیری رہنما سجاد لون بھی مودی سرکار پر برس پڑے۔

    نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی سربراہی میں گیارہ سیاسی جماعتوں نے اتحاد تشکیل دیا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کو بحال کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔

  • 30 سال میں مقبوضہ کشمیر میں کتنے پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ، رپورٹ جاری

    30 سال میں مقبوضہ کشمیر میں کتنے پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ، رپورٹ جاری

    30 سال میں مقبوضہ کشمیر میں کتنے پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ، رپورٹ جاری

    باغی ٹی وی : گذشتہ 30 سال میں 15 سو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جن میں متعدد افسران بھی شامل ہیں، ملی ٹنسی و متعلقہ واقعات کے دوران جاں بحق ہوئے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اس ضمن میں جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں گذشتہ 31 برسوں کے دوران مختلف جنگجوؤں کے مخالف آپریشنز و دیگر کارروائیوں میں 1568 پولیس اہلکاروں ہلاک ہوئے ہیں۔

    ان میں ایک ڈی آئی جی، ایک ایس پی، 22 ڈی ایس پیز، 26 انسپکٹر، 37 سب انسپکٹر، 65 اسسٹنٹ سب انسپکٹر، 148 ہیڈ کانسٹیبل، 193 سیلکشن گریڈ کانسٹیبل، 537 کانسٹیبل،508 ایس پی او، 1 این او اور24 فالوور شامل ہیں۔

  • پاکستان مظلوم کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی امداد جاری رکھے گا۔ وزیر خارجہ

    پاکستان مظلوم کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی امداد جاری رکھے گا۔ وزیر خارجہ

    نیویارک میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے وزارتِ خارجہ اسلام آباد میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔ انہوں نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے انتخابات میں پاکستان کی نمایاں کامیابی پر وزیر خارجہ کو مبارکباد دی۔ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے پچھترویں اجلاس اور اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے انتخابات کے دوران، بہترین کوآرڈینیشن پر، پاکستانی مشن کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے انتخابات میں پاکستان کی واضح کامیابی، بین الاقوامی برادری کی جانب سے، انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے ہماری کاوشوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاسلسلہ بدستورجاری ہے۔ بھارت بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے، لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نہتے کشمیریوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے کیلئے ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کو ،انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں اور اقوام متحدہ سمیت تمام موثر عالمی فورمز پر اٹھانا ہو گا جب کہ پاکستان مظلوم کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی امداد جاری رکھنے کے حوالے سے پر عزم ہے۔ اقوام متحدہ نیویارک میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو اقوام متحدہ میں اجاگر کرنے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے

  • چیئرمین کشمیرکمیٹی شہریارآفریدی کوبہترین خدمات پروفاقی وزیرکاعہدہ مل گیا

    چیئرمین کشمیرکمیٹی شہریارآفریدی کوبہترین خدمات پروفاقی وزیرکاعہدہ مل گیا

    اسلام آباد: چیئرمین کشمیرکمیٹی شہریارآفریدی کوبہترین خدمات پروفاقی وزیرکاعہدہ مل گیا،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر چیئرمین کشمیر کمیٹی کو وفاقی وزیر کا عہدہ دے دیا گیا۔

    وفاقی حکومت نے چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار خان آفریدی کی کشمیر کمیٹی کو فعال بنانے کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں وفاقی وزیر کا عہدہ دے دیا۔ شہریار آفریدی وزیر مملکت کے طور پر چیئرمین برائے پارلیمانی کشمیر کمیٹی کی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔

    انہیں دنیا بھر میں کشمیر کاز کے حوالے سے سفارت کاری کیلئے کردار ادا کرنے کیلئے وفاقی وزیر کا عہدہ سونپا جارہا ہے۔ نئے عہدے کا تعین وزیرِاعظم کی ہدایات پر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل شہریار خان آفریدی وزیر مملکت برائے داخلہ اور وزیر مملکت برائے بین الصوبائی رابطہ (سیفران) و انسداد منشیات بھی رہ چکے ہیں۔ ان سے دونوں قلمدان واپس لینے کے بعد چیئرمین کشمیر کمیٹی بنایا گیا تھا۔

  • نوازشریف زرداری نےکشمیرکازکوبہت نقصان پہنچایا:مولانافضل الرحمن کشمیریوں کےکروڑوں روپے ہڑپ کرگئے،شہریارآفریدی

    نوازشریف زرداری نےکشمیرکازکوبہت نقصان پہنچایا:مولانافضل الرحمن کشمیریوں کےکروڑوں روپے ہڑپ کرگئے،شہریارآفریدی

    اسلام آباد: کشمیری کہہ رہےہیں کہ نوازشریف اورزرداری نےمسئلہ کشمیرکوبہت نقصان پہنچایا:عمران خان کشمیریوں کےلیےآخری حد تک جائیں گے،اطلاعات کے مطابق مسئلہ کشمیر پر قائم پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ میں شامل اہم جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے دورِحکومت میں کشمیر کے مسئلے کو پس پشت ڈالے رکھا۔

    ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں نے کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ کو موجودہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے لیے ’بارگیننگ چپ’ کے طور پر استعمال کیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ‘مولانا فضل الرحمٰن کی بدترین کارکردگی کے باوجود کشمیر کمیٹی کو صرف سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اسے (مسئلہ) کشمیر کو سرد خانے میں رکھا۔شہریار آفریدی نے سابق حکومتوں کی 10سالہ کارکردگی پر بات کرتے ہوئے ثابت کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے چیئرمین کشمیر کمیٹی کی حیثیت سے اپنے ذاتی مفادات کے لیے کشمیر کاز پر سمجھوتہ کیا۔

    چیئرمین کشمیر کمیٹی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما ڈاکٹر ولایت حسین، نبیلہ ارشاد اور ڈاکٹر مجاہد گیلانی کے ہمراہ کانفرنس میں کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے 10 سال چیئرمین کشمیر کمیٹی رہنے کے دوران اس کے لیے مختص رقم 47 کروڑ 40 لاکھ روپے میں سے 46 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کیے لیکن آصل میں کشمیر کاز کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سال کے دوران مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں رہنے والی کشمیر کمیٹی کی جانب سے 24 اجلاس منعقد کیے گئے اور 62 پریس ریلیز جاری کی گئیں جبکہ ایک پریس ریلیز قومی خزانے کو 76 لاکھ روپے کی پڑی اور 2 ماہ میں ایک پریس ریلیز جاری کی گئی۔

    شہریار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ مولانا نے 10 برسوں میں مسئلہ کشمیر پر لابی کیلئے غیرملکی وفود سے ایک مرتبہ بھی ملاقات نہیں کی اور جب برہان وانی کی شہادت کے بعد مسئلہ کشمیر پر آواز اٹھانے کے لیے انہیں 2016 میں بظاہر یورپ جانا تھا تب اعجاز الحق نے 22 رکنی پارلیمانی وفد کی سربراہی کی کیونکہ مولانا اس وفد کا حصہ نہیں بنے تھے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ 2017 میں برہان وانی کی پہلی برسی کے موقع پر پاکستان میں اقوام متحدہ کے نمائندے کو مفاہمت کی یاد داشت پیش کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمٰن موجود نہیں تھے اور ایک مرتبہ پھر اعجاز الحق کو وفد کا ساتھ دینا پڑا۔

    چیئرمین کشمیر کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں اینڈ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ظلم پر بولنے میں مولانا کی جانب سے مسلسل ہچکچاہٹ کے باعث اعجاز الحق کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی بنائی گئی تاکہ کشمیر سفارتکاری کو دیکھا جاسکے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن چیئرمین کشمیر کمیٹی کے طور پر مراعات سے مستفید ہوتے رہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے مزید 2 کشمیریوں کو شہید کر دیا

    مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے مزید 2 کشمیریوں کو شہید کر دیا

    باغی ٹی وی : مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے مزید 2 کشمیریوں کو شہید کر دیا۔

    کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی دہشت گردی جاری ہے۔ بھارتی فورسز نے ضلع شوپیاں میں نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑ میں مزید دو کشمیریوں کو شہید کیا۔

    تین روز قبل بھی بھارتی فوج نے شوپیاں میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران تین کشمیریوں کو شہید کر دیا تھا۔ جس کے بعد بھارتی فوج کے خلاف علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے مودی سرکار کے خلاف نیا اتحاد بنا لیا


    گزشتہ ہفتے ضلع کلگام میں بھی بھارتی فورس نے فائرنگ کر کے تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا۔ گزشتہ ہفتے بھارتی فورسز کے ہاتھوں 10 کشمیری شہید ہوئے تھے۔

    ادھر آرٹیکل تین سو ستر کا خاتمہ کورونا وائرس کی طرح ہے جسکی علامات کچھ دیر بعد ظاہر ہونگی،،،بھارت نواز کشمیری رہنما سجاد لون بھی مودی سرکار پر برس پڑے۔

    نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی سربراہی میں گیارہ سیاسی جماعتوں نے اتحاد تشکیل دیا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کو بحال کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔

    ایک سال بعد بھارتی نظر بندی سے رہا ہونے والی سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی پانچ اگست کو سیاہ ترین دن اور مودی سرکار کے اقدام کو ڈاکہ زنی قرار دے چکی ہیں

  • مقبوضہ کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے مودی سرکار کے خلاف نیا اتحاد بنا لیا

    مقبوضہ کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے مودی سرکار کے خلاف نیا اتحاد بنا لیا

    مقبوضہ کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے دلی سرکار کے خلاف نیا اتحاد تشکیل دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : آرٹیکل تین سو ستر کا خاتمہ کورونا وائرس کی طرح ہے جسکی علامات کچھ دیر بعد ظاہر ہونگی،،،بھارت نواز کشمیری رہنما سجاد لون بھی مودی سرکار پر برس پڑے۔

    نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی سربراہی میں گیارہ سیاسی جماعتوں نے اتحاد تشکیل دیا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کو بحال کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔

    ایک سال بعد بھارتی نظر بندی سے رہا ہونے والی سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی پانچ اگست کو سیاہ ترین دن اور مودی سرکار کے اقدام کو ڈاکہ زنی قرار دے چکی ہیں۔ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بیانیے کو ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھارت نواز سمجھے جانے والے سیاستدان بھی بھارت کے خلاف میدان میں آ گئے ہیں۔

    پیپلز کانفرنس کے رہنما سجاد لون نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو کورونا وائرس جیسا خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار کے اس اقدام کے اثرات بعد میں نمودار ہونگے۔ کشمیری قیادت نریندر مودی کے ہاتھوں بے وقوف بنتی رہی اور کشمیریوں کا حق چھن گیا۔

    واضح‌ رہے کہ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں جمعہ کی صبح حریت پسندوں اور بھارتی فورسز کے مابین جاری فائرنگ کے تبادلے میں ایک کشمیری نوجوان شہید ہوگیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ایک عہدیدار نے بتایا کہ آپریشن میں ایک حریت پسند کی شہادت ہو ئی ہے۔ ، تاہم انہوں نے کہا کہ اس کی شناخت کے بارے میں ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔اس افسر نے بتایا کہ اس سے قبل فورسز کی مشترکہ ٹیم نے کچھ حریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاعات کے بعد بڈگام کے علاقے چڈورہ میں تلاشی لی۔ رواں ہفتے کے اوائل میں پیر کی صبح وسطی کشمیر کے ضلع سرینگر کے علاقے رام باغ برزلہ میں لشکر طیبہ کے اعلی کمانڈر بھی شہید ہو گئے تھے۔وسطی کشمیر میں ایک ہفتے کے دوران یہ تیسرے نوجوان کی شہادت ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کے مظالم جاری، ایک کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کے مظالم جاری، ایک کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے کوکرناگ کے لارنو علاقے میں ہفتے کی صبح حریت پسندوں اور بھارتی فورسز کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    ساؤتھ ایشین وائر کوایک عہدیدار نے بتایا کہ پولیس، فوج کی 19 آر آر اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیم نے علاقے میں حریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر کورڈن اور سرچ آپریشن شروع کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ جب فورسز کی مشترکہ ٹیمیں مشتبہ مقام پر پہنچیں توتصادم شروع ہو گیا۔ اس دوران ایک حریت پسند شہید ہو گیا۔

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ایک سینئر پولیس افسر نے بھی بھارتی فورسز اور کشمیری حریت پسندوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے کی تصدیق کی۔

    ذرائع کے مطابق علاقے میں دو سے تین کشمیری حریت پسندنوجوانوں کے چھپے ہونے کی اطلاع پر پولیس سرچ آپریشن کر رہی ہے۔

    قبل ازیں مقبوضہ کشمیر میں وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں جمعہ کی صبح حریت پسندوں اور بھارتی فورسز کے مابین جاری فائرنگ کے تبادلے میں ایک کشمیری نوجوان شہید ہوگیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ایک عہدیدار نے بتایا کہ آپریشن میں ایک حریت پسند کی شہادت ہو ئی ہے۔ ، تاہم انہوں نے کہا کہ اس کی شناخت کے بارے میں ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔اس افسر نے بتایا کہ اس سے قبل فورسز کی مشترکہ ٹیم نے کچھ حریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاعات کے بعد بڈگام کے علاقے چڈورہ میں تلاشی لی۔ رواں ہفتے کے اوائل میں پیر کی صبح وسطی کشمیر کے ضلع سرینگر کے علاقے رام باغ برزلہ میں لشکر طیبہ کے اعلی کمانڈر بھی شہید ہو گئے تھے۔وسطی کشمیر میں ایک ہفتے کے دوران یہ تیسرے نوجوان کی شہادت ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کشمیر میں سال 1988سے اب تک مجموعی طور پر40757 کشمیریوں کو شہید کیا گیا جن میں 25192حریت پسند اور 15147عام شہری شامل ہیں۔1988سے 2000تک 12396حریت پسنداور 10310عام شہری شہید ہوئے۔1988سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں6993سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020 میں 112واقعات میں218کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ،مئی میں 16،جون میں 51، جولائی میں 24، اگست میں 20، ستمبر میں 20 اور اکتوبر میں 7کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ رواں سال 48 سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے139واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 31واقعات میں30شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ22سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020 میں 121مختلف واقعات میں 251افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    سرکاری اعداد وشمارکے مطابق2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں 160 حریت پسند وں کوشہید اور 102 کو گرفتار کیا گیا ۔
    2019 میں مجموعی طور پر 158 حریت پسند شہید کیے گئے جبکہ 2018 میں 254 اور 2017 میں 213 حریت پسند شہید ہوئے تھے۔