سینیٹر رحمان ملک کی سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کے اجلاس میں بھارتی مظالم کیخلاف قرارد متفقہ طور پر منظورکر لی گئی۔ قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم و مسلسل کرفیو کی شدید مذمت کی گئی۔ سینیٹر رحمان ملک نے قرارداد میں اقوام متحدہ کا بھارتی مظالم پر خاموشی پر مایوسی کا اظہار کیا۔سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اقوام متحدہ سے خطاب کی شدید مذمت کی گئی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ مودی نے گذشتہ 465 دنوں سے کشمیر میں طویل ترین فوجی کرفیو کے حوالے سے اقوام متحدہ نےایک لفظ تک نہیں کہا۔ کمیٹی مظلوم بھارتی مظالم پراقوام متحدہ کی خاموشی و غیر سنجیدہ رویے پر مایوسی کا اظہار کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ افسوس کہ اقوام متحدہ کی کسی بھی رکن نے کشمیر میں بھارتی مظالم پر آواز نہیں اٹھائی۔ مقبوضہ کشمیر مسلسل بھارت کیجانب سے طویل ترین کرفیو میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی اقوام متحدہ سے اپنے سلامتی کونسل کے منظور کردہ قراردادوں پر عمل کروانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے مزید کہا کہ کمیٹی متفقہ طور پر مطالبہ کرتی ہے کہ سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیر سے فوری طور پر بھارتی کرفیو کو ہٹانے کے لئے اقدامات کرے۔
Category: کشمیر

بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے بےگناہ کشمیری نوجوانوں کی میتیں اہلخانہ کے سپرد
بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے بےگناہ کشمیری نوجوانوں کی میتیں اہلخانہ کے سپرد
باغی ٹی وی : قابض بھارتی فوج نے دہشت گرد قرار دیکر شہید کیے گئے تین کشمیری نوجوانوں کی میتیں اہلخانہ کے سپرد کر دیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق تینوں کشمیریوں کو بھارتی فوج نے بارا مولا میں دہشتگرد قرار دےکر شہید کیا تھا تاہم تحقیق میں تینوں بے گناہ ثابت ہوئے۔
بھارتی فورسز نے تینوں کشمیریوں کی قبر کشائی کر کے میتیں اہل خانہ کے سپرد کیں۔مقبوضہ کشمیر میں شہید کیے گئے نوجوانوں کے ورثا کا کہنا ہے کہ ہمارے بچوں کو سفاکی سے قتل کیا گیا، انصاف کے منتظر ہیں اور قاتلوں کو لازمی کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تینوں کشمیری مزدوروں کو بھارتی فورسز نے جولائی میں شہید کیا تھا۔کے ایم ایس رپورٹ کے مطابق تینوں کو ضلع راجوڑی میں ان کے آبائی شہر میں سپرد خاک کیا گیا، جنازے میں کشمیریوں نے بڑی تعداد نے شرکت کی۔گزشتہ برس جب سرکاری چھٹیوں کا اعلان کیا گیا تھا تب 13 جولائی اور 5 دسمبر کی چھٹی منسوخ کیے جانے کی وجہ سے وادی کے متعدد سینیئر سیاستدانوں نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے انتظامیہ کے اس فیصلے کی شدید مذمت بھی کی تھی۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سرکاری تعطیلات کی فہرست میں 26 اکتوبر کو شامل کیا گیا ہے۔
یہ وہ دن ہے جس دن مہاراجہ ہری سنگھ نے 1947 میں بھارت کے ساتھ "انسٹورمنٹ آف ایکسیشن” پر دستخط کیے تھے۔نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکرٹک پارٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ نے 13 جولائی کے دن کو یوم شہدا قرار دیا تھا۔ انہوں نے ڈوگرہ حکومت کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے 22 شہدا کی یاد میں اس دن کو منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد 1948 سے گزشتہ برس تک 13 جولائی کو سنہ 1931 کے سانحہ میں شہید ہونے والے شہدا کو یاد کیا جاتا ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز میں خود کشی کے واقعات میں اضافہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز میں خود کشی کے واقعات میں اضافہ
مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع بارہمولہ میں ایک بھارتی فوجی نے خودکشی کرلی ہے۔پولیس کے ایک اہلکار نے میڈیا کو بتایا ہے کہ رکشیت کمار نامی فوجی اہلکار نے ضلع کے علاقے اوڑی میں واقع کیمپ میں اپنی سروس رائفل سے خودکشی کی۔جموں کے علاقے گاجنسو میں گزشتہ روز بھارتی بارڈرسیکورٹی فورس کے اہلکار چکر پانی پرساد تیواری نے خودکشی کر لی تھی۔
گزشتہ برس دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد عائد پابندیوں کی وجہ سے جہاں جموں و کشمیر کے لوگ ذہنی دباو میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں وہیں وادی میں تعینات فوجی اور پولیس اہلکار بھی موجودہ صورتحال کی وجہ سے خودکشی اور ساتھی اہلکاروں کی طرف سے ہلاک کرنے کے واقعات کا شکار ہو رہے ہیں۔
مقبوضہ جموں وکشمیر پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق "گزشتہ برس پانچ اگست کے بعد وادی میں تعینات نیم فوجی دستوں کے 23 اہلکاروں نے خودکشی کی ہے جبکہ چھ اہلکار وں کے انہیں کے ساتھیوں نے ہلاک کیا۔بھارتی فوج میں بھی خودکشی کا ایک کیس سامنے آیا ہے۔ ابھی تک کل ملا کر 32 اہلکار خودکشی یا پھر یا اپنے ساتھیوں کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔”
جنوری اور اگست 2020 کے درمیان ، سیکیورٹی فورسز کے 18 اہلکارخودکشی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے، جس کی وجہ سے اب تک 24 اموات ہوئیں۔ جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی )جے کے سی سی ایس(کے سالانہ انسانی حقوق کے جائزے کے مطابق ، 2019 میں ، مسلح افواج کے 19 ممبروںنے مبینہ طور پر خودکشی کی۔ جب کہ ضلع ادھم پور میں ایک تین اہکار ہلاک ہوگئے ۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستانی مسلح افواج (فوج ، بحریہ ، ایئرفورس)کے ایک ہزار ایک سو سے زیادہ ارکان خودکشی سے ہلاک ہوگئے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر اور شمال مشرق جیسے تنازعہ والے علاقوں میں "طویل عرصے سے تعیناتی” مسلح افواج کے ممبروں کی ذہنی صحت کوخطرہ ہے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سرینگر میں تعینات سی آر پی ایف کے ترجمان پنکج سنگھ کے مطابق "ہر معاملے کی ایک الگ وجہ ہوتی ہے۔ ان معاملوں میں پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ چھٹی نہ ملنا اس کی وجہ نہیں ہے۔ جہاں تک میری نجی رائے ہے کہ وادی کے ماحول میں کام کرنا آسان نہیں۔ نیم فوجی دستے عسکریت پسند مخالف سرگرمیوں کے علاوہ امن و امان قائم رکھنے کے لیے بھی تعینات کیے جاتے ہیں۔ ذمہ داری بہت ہے اور ڈیوٹی کا وقفہ بھی کافی لمبا۔”ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ "ایک اہلکار صبح سات بجے تعینات ہوتا ہے اور شام سات بجے تک وہیں کھڑا رہتا ہے۔ وہ بھی انسان ہے۔ ذہنی دباو ہونا تو لازمی ہے۔
سی آر پی ایف کے انتظامیہ اپنے اہلکاروں کے لیے کئی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔”ساوتھ ایشین وائر کے مطابق افسران اپنے اہلکاروں میں خودکشی کے واقعات میں اضافے کی وجہ وقت پر چھٹی نہ ملنے کے بجائے وادی کی صورتحال کو ٹھہرا رہے ہیں۔ بھارتی فوج کا کہنا تھا کہ وہ اپنے جوانوں کی ذہنی تندرستی کے لیے کافی عرصے سے مہم چلا رہے ہیں۔ایک سینئر آرمی آفیسر نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ "نیم فوجی دستوں میں خودکشی کے معاملے زیادہ ہیں۔ فوج میں ایک یا دو ہی رواں برس سامنے آئے ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج کا نظام اور کام کرنے کا طریقہ کافی مختلف ہے۔
"ان کا مزید کہنا تھا کہ "ایک فوجی ہر حالت میں کام کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے یہ پتہ ہوتا ہے کی پیشہ ورانہ دبا اور گھریلو دباو سے کیسے نمٹا جائے۔ نیم فوجی دستوں کے بارے میں زیادہ نہیں کہہ سکتا لیکن میں نے سنا ہے کہ وہ بھی کافی اقدامات اب اٹھا رہے ہیں اور ماہرین کی مدد بھی لے رہے ہیں۔
"سرینگر شہر میں تعینات کچھ سی آر پی ایف اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ” گھر سے دور رہتے ہیں۔ یہاں کے حالات ٹھیک نہیں۔ اور جب گھر پر کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو فکر مند ہوجاتے ہیں۔ جس وجہ سے اکثر اپنے سینئر یا ساتھیوں سے بحث ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں یہ واقعات پیش آتے ہیں۔”ان کا کہنا تھا کہ "دفعہ 370 اور 35 اے منسوخی کے بعد جہاں وادی کی زمینی صورتحال کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا۔ ہمارے گھر والے کس حال میں تھے یہ پریشانی ہر وقت ذہن میں تھی۔ فون بھی نہیں چل رہے تھے۔ اور ان دنوں تو چھٹیاں بھی نہیں مل رہی تھی۔ اب ایسے میں ذہنی دباو تو پڑے گا ہی اور پھر کسی نہ کسی پہ تو نکلے گا۔ یا تو پھر خود پر ہی نکلے گا۔ "ان کا کہنا تھا کہ "فوج کے جوانوں کو کافی بہتر سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ اور ان کا کام بھی ہم سے کافی آسان ہے۔ ہم سے تو بس کام لیا جاتا ہے ہمارے بارے میں سوچا نہیں جاتا۔ اور جب بھی کوئی ہمارے بارے میں بات کرتا ہے تو اسے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔
2018 میں بارڈر سکیورٹی فورس کے جوان تیج بہادر یادو، جو جموں وکشمیر کے سرحدی علاقے میں تعینات تھا، نے فیس بک پر دعوی کیا تھا کہ انہیں ملنے والا کھانا غیر معیاری ہے۔ جس کے بعد اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔ یادوں جیسے کئی اور سپاہی ہیں جنہوں نے جب بھی سوال کئے ہیں انہیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ماہر نفسیات ڈاکٹر جنید نبی کا ماننا ہے کہ "نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کے ساتھ ہمیشہ سختی کی جاتی ہے۔ یہاں تعینات اہلکار اکثر دیگر ریاستوں کہ ہوتے ہیں۔ اپنے دوستوں سے رشتے داروں سے دور ہوتے ہیں۔ گھر کے مسائل سیدھے ان کے ذہن پر دبا ڈالتے ہیں۔ نیم فوجی دستوں کو چاہیے کہ وہ سینئر اور جونیئر رشتے میں بہتری لائے۔ کمیونیکیشن گیپ دور کریں۔
"ان کا مزید کہنا تھا کہ "دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد یہاں کا مواصلاتی نظام بند تھا۔ ہم تو یہاں کے رہنے والے ہیں ہمارے گھر والے فکر مند ہو جاتے تھے۔ لیکن جو دیگر ریاستوں سے یہاں آئے ہیں ان کے گھر والے کتنے پریشان ہوں گے اور وہ کتنے پریشان ہوتے ہوں گے۔ اس سے دبا وبڑھتا ہے کم نہیں ہوتا۔”دباو کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں میں ڈاکٹر جنید کا کہنا تھا کہ "آپس میں میل جول رکھنے سے، ہنسی مذاق کیجیے، موسیقی اور دیگر چیزوں میں ملوث رہیں۔ کبھی بھی خالی نہ بیٹھے۔ کسی الجھن میں ہوں تو دوسروں سے بانٹیں۔ گھریلو مسائل کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ اور جب بھی ضرورت ہو ماہرین سے رابطہ کریں۔”ان کا مزید کہنا تھا کہ "ایک شخص خودکشی کیسے کرتا ہے؟ اس کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ پہلا اچانک سے۔ اس معاملے میں متاثر کو بچانا آسان ہوتا ہے۔ لیکن جو دوسرا ہے وہ زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ وہ شخص پورا ارادہ اور تمام تیاری کر کے خودکشی کرتا ہے۔ اسی لئے ہمیں چاہئے کی ماہرین کی مدد ہروقت لینی چاہیے اور کچھ بھی دل میں دبا کے نہیں رکھنا چاہیے

بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پوشیدہ رکھنا چاہ رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ، بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک برتا جا رہا ہے اس پر ہمیں بے حد تشویش ہے۔ ایک نیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جس طرح انسانی حقوق کی پامالی جاری رکھی ہوئی ہیں وہ ایک المناک داستان ہے جسے بھارت پوشیدہ رکھنا چاہ رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے جب بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو منظر عام پر لانا چاہا تو انہیں اتنا مجبور کیا گیا کہ انہیں بھارت میں اپنے دفاتر بند کرنا پڑے ۔ان کے اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ۔ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض فورسز کے ظلم و ستم کو بے نقاب کیا اور دہلی میں ہونیوالے حالیہ فسادات میں پولیس کے گٹھ جوڑ اور پشت پناہی کا پردہ چاک کیا۔ یہی دو چیزیں بھارت کو ناگوار گزریں اور انہوں نے حیلوں بہانوں سے (unlawful activity prevention act2019 ) کی آڑ میں ان پر بے جا پابندیاں لگانا شروع کر دیں۔ آج ہیومن رائٹس کونسل کو انسانی حقوق کی تنظیموں پر لگائ جانے والی قدغنوں اور بے جا پابندیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں جتنی انسانی حقوق کی تنظیمیں ہیں انہیں اس بھارتی رویے کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے ۔ آج بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ بھارت کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جمہوریت میں وہ سلوک روا نہیں رکھا جاتا جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہتے اور معصوم شہریوں کے ساتھ رکھا جا رہا ہے۔ جمہوریت میں اقلیتوں کے ساتھ وہ ناروا سلوک نہیں برتا جاتا جو بھارت اپنے ملک میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان نے گلگت بلتستان کے بارے میں غیرذمہ دارانہ اور بلاجواز بھارتی بیان سختی سے مسترد کردیا
پاکستان نے گلگت بلتستان کے بارے میں غیرذمہ دارانہ اور بلاجواز بھارتی بیان سختی سے مسترد کردیا.بھارت کو اس معاملے پر بات کرنے کاکسی بھی قسم کا کوئی قانونی، اخلاقی یا تاریخی حق حاصل نہیں۔ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کا واویلا کرنے سے بھارت نہ تو حقیقت تبدیل کرسکتا ہے اور نہ ہی غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور غیرقانونی اقدامات سے ہی توجہ ہٹا سکتا ہے۔ بہتر سال سے زائد عرصہ سے بھارت غیرقانونی طورپر اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر پر غیرقانونی اور غیرانسانی طورپر قابض ہے تاہم کشمیری عوام پر قابض بھارتی افواج کے ذریعے مسلسل بہیمانہ تشدد اورمظالم کے باوجود کشمیریوں کی خودساختہ مقامی مزاحمتی تحریک مزید طاقتور وتوانا ہوئی ہے۔ پاکستان بھارت پر زور دیتا ہے کہ جموں وکشمیر کے حصوں پر اپنا غیرقانونی اور طاقت کے بل پرقائم قبضہ فوری ختم کرے اوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج اقوام متحدہ کے زیرنگرانی غیرجانبدارانہ اور آزادانہ رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ استصواب رائے کا حق دینے کی عالمی ذمہ داری بجالائے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت میں کام بند کردیا
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے پربھارت میں کام بند کردیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق بھارت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بینک اکاؤنٹ منجمد کردیے گئے جس کے نتیجے میں اس نے اپنے ملازمین کو فارغ کرکے بھارت میں جاری کام بندکردیا۔ ایمنسٹی نے کہا کہ مودی حکومت انسانی حقوق کی تنظیموں کے خلاف منظم مہم چلا رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے انڈیا میں سینیئر ریسرچ ڈائریکٹر رجت کھوسلہ نے برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسے مودی حکومت کی جانب سے شدید ہراسانی کا سامنا ہے جس میں منظم حملے اور دھمکیاں بھی شامل ہیں، جس کی وجہ بھارت میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں مسلم کش فسادات ہوں یا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، مودی حکومت ایمنسٹی کے کسی سوال کے جواب نہیں دینا چاہتی۔
رجت کھوسلا نے امید ظاہر کی کہ دنیا بھر کے ذمہ داران بیٹھیں گے اور بھارت میں ہمارا کام بند کیے جانے کا نوٹس لیں گے۔
قبل ازیں ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ دہلی پولیس نے فروری میں مسلم کش فسادات کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں۔ اسی طرح ایمنسٹی نے مودی حکومت پر اس بات کے لیے بھی زور دیا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں گرفتار تمام سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور صحافیوں کو رہا کرے اور انٹرنیٹ بحال کرے۔
بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے پر مودی حکومت نے ایمنسٹی انڈیا کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔ ایمنسٹی انڈیا کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا، پھر اس کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے اور تنظیم کے بینک اکاؤنٹس کو منجمد کردیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایمنٹسی کو عطیات دینے والے افراد کو انکم ٹیکس کے نوٹسز بھجوائے گئے
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری،دو کشمیری شہید
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری،دو کشمیری شہید
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں سرہامہ کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور کشمیری حریت پسندوں کے درمیان ایک بڑے تصادم میں دو کشمیری حریت پسند شہید ہو گئے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ، اس علاقے سے گزشتہ رات سے آپریشن اور تصادم جاری تھا۔ کشمیر زون پولیس نے کہا ہے کہ ان شہدا کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا۔پولیس کے مطابق اسلحہ اور گولہ بارود سمیت امتیازی مواد برآمد کرلیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال سرچ آپریشن جاری ہے۔
اس دوران پولیس سرچ آپریشن کے دوران گھروں میں گھس کر چادر و چاردیواری کا تقدس بھی پامال کر رہی ہے، خواتین اور بچوں پر بھی تشدد کیا جاتا ہے

مقبوضہ کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے چین کے ساتھ الحاق کا عندیہ دے دیا
سری نگر:مقبوضہ کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے چین سے الحاق کا عندیہ دے دیا ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ زیر محاصرہ کشمیر کے وہ تمام لوگ جو بھارت کے ساتھ اپنے مستقبل پر یقین رکھتے تھے اب نئی دہلی کے بجائے چینی حکومت کے زیر انتظام آنے کو ترجیح دیں گے۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ‘دی وائر’ آن لائن کے میزبان کرن تھاپر کو انٹرویو کے دوران فاروق عبداللہ نے کہا کہ آج کشمیری خود کو بھارتی شہری نہیں سمجھتے اور نہ ہی وہ بھارتی شہری بننا چاہتے ہیں، وہ غلام ہیں اور چاہیں گے کہ چین حکمرانی کرے۔
انہوں نے کہا کہ وہ تمام کشمیری جو پاکستان میں شمولیت کے خلاف تھے اب بھارتی اور چینی بارڈر پر کھڑے ہیں، جبکہ جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق اور لداخ میں کی گئی تبدیلیوں کی وجہ سے چین پہلے ہی غصے میں ہے۔
بھارت نے گزشتہ سال آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا، جو بھارت اور کشمیر کے درمیان مشروط معاہدے کے لیے اہم سمجھا جاتا تھا۔پاکستان اس معاہدے کو مکمل طور پر متنازع قرار دیتا ہے۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہر کشمیری یہ یقین رکھتا ہے کہ نئے ڈومیسائل قوانین ہندو اکثریت کو خطے میں بڑھانے کے لیے ہیں، کشمیریوں اور باقی بھارت کے درمیان جو خلا پہلے سے تھا اب مزید بڑھتا جارہا ہے۔
دی وائر کی ویب سائٹ پر شام 5 سے 6 بجے کے درمیان نشر کیے گئے 44 منٹ کے انٹرویو میں نیشنل کانفرنس کے صدر اور ماضی میں تین بار جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ رہنے والے فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا یہ دعوی کرنا کہ کشمیری عوام نے اگست 2019 میں کی جانے والی اس ترمیم کو مان لیا ہے اور کوئی احتجاج نہیں ہوا یہ مکمل بکواس ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی فوجیوں اور دفعہ 144 ہٹادی جائے تو لاکھوں کی تعداد میں لوگ باہر نکلیں گے، نئے ڈومیسائل قانون کا مقصد وادی میں ہندوؤں کو لانا اور ان کی اکثریت کو بڑھانا ہے جس کی وجہ سے کشمیری عوام میں غصہ مزید بڑھا ہے۔
مرکزی حکومت خصوصا وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے بارے میں میزبان کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘کشمیری انتہائی حد تک مایوس ہیں، انہیں مرکزی حکومت پر اعتماد نہیں ہے، وہ اعتماد جس نے کشمیریوں کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑا تھا مکمل طور پر ختم ہوگیا۔
انہوں نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون میں تبدیلی کی جانے والے دن 5 اگست 2019 سے 72 گھنٹے قبل نریندر مودی کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے متعلق بتایا کہ انہوں نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو برقرار رکھنے اور آرٹیکل 370 اور 35 ‘اے’ کو نہ ختم کرنے کی یقین دہانی کرانے کے لیے ان سے ملاقات کی۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے پوچھا کہ وادی میں فوجیوں کی تعداد زیادہ کیوں ہے؟ کیا کسی فوجی کارروائی کا خطرہ ہے۔
فاروق عبداللہ نے بتایا کہ وزیراعظم نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے بارے میں کوئی جواب نہیں دیا اور اپنے تاثرات سے انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ وادی میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کی وجہ سیکیورٹی وجوہات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان دو آرٹیکلز کو کوئی خطرہ نہیں ہے، انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وزیراعظم کی جانب سے انہیں گمراہ کیا گیا اور دھوکا دیا گیا۔انہوں مزید کہا کہ جب اگست 2019 میں اچانک آئین میں تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا تو نیشنل کانفرنس اور مرکزی دھارے میں شامل تمام سیاسی جماعتیں کشمیریوں کی نظر میں اپنی عزت کھو بیٹھیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ دو کشتیوں کے سوار کی طرح بن گئے تھے، بھارتی حکومت نے انہیں غدار کے طور پر دیکھا اور گرفتار کرلیا، کشمیریوں انہیں بھارت کے نوکر کے طور پر دیکھا اور ان پر ‘بھارت ماتا کی جئے’ اور ‘عبداللہ سچ کی خدمت کرو’ کے طعنے دیے۔
انہوں نے کہا کہ اس بات نے انہیں بہت پریشان کردیا تھا، 7 یا 8 ماہ تک قید میں رہنے کے بعد کچھ حد تک کشمیریوں کی نظر میں ان کی اور دیگر جماعتوں کی ساکھ بحال ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ اب یہ سمجھ گئے ہیں کہ وہ بھارتی حکومت کے غلام نہیں۔
فاروق عبداللہ نے بتایا کہ دوسری تمام جماعتیں اگست 2019 کے معاملے پر ایک ساتھ گپکار اعلامیے پر جمع ہوئیں، جنہوں نے اس سال 22 اگست کو اپنا عزم دہرایا کہ کشمیریوں کا وقار بحال کرا کر رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب آرٹیکل 370 اور 35 ‘اے’ کو بحال کروا کر کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت واپس دلوانا ہے اور اس کے لیے وہ پرامن طریقے سے اپنی آخری سانس تک لڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ سپریم کورٹ ہماری پارٹی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست سنے گی اور اسے مزید ملتوی نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے انٹرویو کے دوران سپریم کورٹ کے ججز سے درخواست کی کہ وہ یہ آئینی معاملہ جلد از جلد سنیں۔

مقبوضہ کشمیر ،بھارتی فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کر دیا
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں جمعرات کی صبح بھارتی فورسز نے ایک کشمیری نوجوان حریت پسند کو شہید کر دیا۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق یہ شہادت جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ترال کے علاقے مگھما میں ہوئی۔کشمیر زون پولیس کے مطابق ، ایک نامعلوم نوجوان شہید ہو ا جبکہ آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ۔
علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں اور کسی کو بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔دریں اثنا ، ضلع بڈگام کے علاقے چڈورا میں بھارتی فورسز کی پارٹی پر حملے میں سی آر پی ایف (سنٹرل ریزرو پولیس فورس) کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔

مختلف ممالک کےسفرا،سفارتکار, دفاعی اتاشی آج ایل او سی کا دورہ کریں گے
مختلف ممالک کےسفرا،سفارتکار, دفاعی اتاشی آج ایل او سی کا دورہ کریں گے۔ بین الاقوامی اداروں کےنمائندےبھی آج ایل اوسی کادورہ کریں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آرسفراکو ایل او سی کی صورت حال پر بریفنگ دیں گے۔ آزربائیجان، بوسنیا،یورپی یونین کےسفرا،دفاعی اتاشی کاوفددورہ کرےگا۔ سعودی عرب،جنوبی افریقہ،ترکی اور فلسطین کے سفرابھی دورہ کریں گے۔ یونان،آسٹریلیا،ایران،کرغزستان اور عراقی سفیر بھی ایل او سی جائیں گے۔ برطانوی،اٹلی،پولینڈ،ازبکستان اور جرمنی کے سفیر بھی وفد میں شامل ہوں گے۔سویٹزرلینڈ، فرانس،مصر،لیبیا،یمن،افغانستان بھی دورہ کرنے والوں میں شامل ہیں۔ عالمی ادارہ برائے خوراک کے نمائندے بھی ایل او سی جائیں گے۔
سفرا،دفاعی اتاشیوں کاوفدخودبھارتی فورسز کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لے گا۔ سفارت کاروں کا وفد بھارتی فائرنگ کےشکار متاثرین سے بھی ملاقات کریں گے۔ پاکستان نے کبھی غیر ملکی سفیر ،ادارےکو ایل او سی کےکسی علاقے میں جانےسےنہیں روکا۔ پاکستان نےاقوام متحدہ مبصرمشن،سفارتکاروں اور بین الاقوامی اداروں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا۔ پاکستان چاہتاہےایل اوسی پر کوئی بھی جا کر زمینی حقائق کا جائزہ لے سکتا ہے۔ بھارت نےغیرملکی سفیروں کے ایل او سی کےدورےپرپابندی عائد کررکھی ہے۔ بھارت نےیو این مبصر مشن اور میڈیا پربھی ایل اوسی جانےپرپابندی لگارہی ہے









