کشمیر کا نام آتے ذہن میں ظلم و ستم کی فلم چلنے لگ جاتی ہے وہ ظلم جو ہندو مشرک نے پچھلے 73 سالوں سے کشمیریوں پر کیا ہے مگر داد شجاعت ہے اس کشمیری قوم کو کہ جو 73 سالوں سے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے
پچھلے سال 5 اگست کو انڈین گورنمنٹ نے کشمیری باشندوں کی آزادی و خودمختاری پر شب و خون مارتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا جس سے پوری وادی سراپا احتجاج بن گئی کیونکہ یہ آرٹیکل کشمیریوں کو خصوصی حیثیت دیتے ہیں جس کی بدولت ریاست جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والا باشندہ ہی کشمیری کہلوا سکتا ہے ،وادی میں جگہ خرید کر سکونت اختیار کر سکتا ہے اور کشمیری عورت سے شادی کر سکتا ہے یہی آرٹیکل ہندو کیلئے وبال جان تھے سو اس نے اسے ختم کر دیا مگر وہ بھول گیا آرٹیکل کاغذ پر نہیں دلوں میں رقم ہوتے ہیں
اپنی اس سلب آزادی پر کشمیریوں نے احتجاج کیا اور ہندو پر نعرے بازی کیساتھ سنگ بازی بھی کی جسے دیکھتے ہوئے پہلے سے ہی انڈین گورنمنٹ نے وادی میں کرفیو نافذ کرنے کیساتھ موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کر دی اور یوں کشمیری قوم پوری دنیا سے کٹ کر رہ گئی
مذید عالمی وباء کووڈ 19 نے دنیا بھر کی دنیا مقبوضہ وادی میں بھی پنجے جمانے شروع کئے تو بہانے کے متلاشی انڈیا نے 21 اپریل کو مکمل لاک ڈاؤن کر دیا جس سے کشمیری مکمل طور پر گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے اس بہانے غاصب انڈین فوج کو کریک ڈاؤن کے بہانے کشمیریوں کی نسل کشی کا خوب موقع ملا اور وہ ظالم درندے ظلم کی نئی داستان رقم کرتے گئے
چونکہ موبائل و انٹرنیٹ سروس بند رہی اس لئے اس ایک سال کی کل شہادتوں کی تعداد کا تعین مشکل ہے مگر اس ایک سال میں ہندو درندہ صفت فوج نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا،ہزاروں کشمیری عورتوں کی عزتیں پامال کیں اور کروڑوں روپیہ کی املاک نذر آتش کیں
ساتھ ہی موقع پرست چالاک و عیار بنیئے نے انڈیا سے پنڈتوں اور انڈین مذہبی انتہاہ پسند تنظیموں کے کارندے بھی کشمیر میں لا کر بسانا شروع کر دیئے تاکہ دنیا کے سامنے کشمیر کو ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترکہ علاقہ ثابت کیا جا سکے
فوج کے ساتھ ان ہندو جنونیوں نے کشمیری عورتوں کی آبرو ریزی کیساتھ کشمیری مسلمانوں کا قتل عام بھی شروع کر دیا جس پر کشمیریوں کیساتھ عالمی دنیا میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی
ظاہری بات ہے اس ساری صورتحال پر کشمیری مجاھدین اور لوگ خاموش تو نہیں رہ سکتے تھے سو سویلین و مجاھدین کشمیر نے اپنی طاقت کے مطابق انڈین فوج کیساتھ ہندو پنڈتوں اور دہشت پسند مسلح ہندو کارندوں کا کریا کرم کرنا شروع کیا جس سے انڈین فوج کیساتھ بہت زیادہ تعداد میں ہندو پنڈت مارے گئے اور جو بچے وہ وادی سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے اس ساری صورتحال سے پریشان ہندو مشرک نے بھاگتے پنڈتوں کو دوبارہ لاکر بسانے اور اپنی فوج کا مورال بلند کرنے کیلئے ایک بار پھر اپنی فلم انڈسٹری کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا اور اسی ناکام و بدنام
فلمی ہیروؤں نے پھر سے ایک بار فلموں کے ذریعے کشمیر کو فتح کرنے کیساتھ مجاھدین کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنی کی ٹھانی اور ایک نئی فلم ،سرینگر،بنانے کا آغاز کر دیا
ابھی اس فلم کا ایک ٹریلر ہی جاری کیا گیا ہے جس میں کشمیری مجاھدین کو عورتوں کا رسیا اور ہندوؤں پر ظلم کرنے والا دکھایا گیا ہے اور اسی کلپ میں جرآت و بہادری کی مثال خلیفتہ المسلیمین جناب حضرت عمر فاروق کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے خود ساختہ یہ بات کہی گئی ہے کہ بقول حضرت عمر مسلمانوں کیلئے کفار کی عورتیں جائز ہیں اسی لئے مجاھدین کشمیر ہندو عورتوں کو کشمیر سے اٹھاتے ہیں اور ہوس کا نشانہ بناتے ہیں
ہندو مشرک پلید یہ بھول گیا کہ اس سے قبل بھی وہ سینکڑوں فلمیں آزادی کشمیر کی تحریک کو کچلنے اور اپنی پلید بزدل فوج کو ہیرو ثابت کرنے کے لئے بنا چکا ہے مگر نتیجہ ہر بار بے سود ہی رہا ہے جیسے جیسے انڈیا نے فلموں میں اپنی فوج کو بہادر دکھلایا ویسے ہی انڈین فوج میں خودکشیوں کی شرح بڑھ گئی اور مسلح تحریک کو مذید تقویت ملی
دنیا کی ہر بزدلی چاہے وہ دوران معرکہ پتلون میں پیشاب نکلنا ہو یا خود کشی اپنے افسر کو قتل کرنا ہو یا فوج سے بھاگ کر دشمن سے جا ملنا ، اسی ہندو مشرک پلید فوج میں ملے گی
حالات و واقعات گواہ ہیں اس وقت لائن آف کنٹرول پر انڈیا کا کڑا پہرہ ہے اور ہر وقت شدید دو طرفہ بمباری جاری ہے جس سے لائن آف کنٹرول کے آر پار جانا ناممکن ہے مگر پھر بھی کشمیری مجاھدین تحریک آزادی کو اپنی مدد آپ سے زندہ رکھے ہوئے ہیں جو کہ عالمی دنیا کو ایک پیغام ہے کہ جو مرضی ہو جائے یہ تحریک آزادی پایہ تکمیل تک پہنچے گی کیونکہ کشمیری وہ قوم ہے کہ جس نے ایک اذان کو مکمل کرنے کی خاطر 21 جانوں کا نذرانہ دے کر اذان مکمل کی کشمیری ماؤں نے ایک بیٹے کی شہادت کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے بیٹے کو خود بندوق پکڑا کر اندین فوج کے خلاف میدان میں نکالا
یہ تو پھر آزادی کی تحریک ہے کہ جس میں اللہ خود حکم دے رہا قرآن میں کہ
اورتمہیں کیاہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں اوران بے بس مردوں اور عورتوں اوربچوں کے لیے نہیں لڑتے جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنادے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگاربنا دے۔ النساء
یہ ہندو مشرک تحریک آزادی کو اپنے کرنلوں،جرنلوں کے ذریعے کچلنا چاہیں تب بھی ناکام اور اپنے کنجر کنجریوں کے ذریعے فلمیں بنا کر کچلنا چاہیں تب بھی ناکام کیونکہ اللہ تعالی نے ناکامی مسلمانوں کے لئے رکھی ہی نہیں ناکامی تو اس ہندو کا مقدر ہے جو پچھلے 73 سالوں سے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی ذلیل و رسوا ہو گیا اور اب اپنی فوج کا مورال اپ کرنے کیلئے فلموں کا سہارا لینے لگا مگر وہ بھول گیا جہاں گولی کام نہیں آئی وہاں ان کی فلموں پر کشمیری قوم لعنت ڈالتی ہے
یہ بنا لیں جتنی بنا سکتے ہیں ان شاءاللہ فتح حق کی ہی ہو گی باطل فنا ہو گا ان شاءاللہ
Category: کشمیر
-

73 سالہ ظلم کی برسی اور بالی ووڈ کی سازشیں !!! از قلم: غنی محمود قصوری
-

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سابق صدرپرویزمشرف کا 4 نکاتی فارمولا بہترین حل تھا ، امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ
واشنگٹن:مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سابق صدرپرویزمشرف کا 4 نکاتی فارمولا بہترین حل تھا ، امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ،اطلاعات کے مطابق امریکی ادارہ برائے امن نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت کا یہ اصرار کہ کشمیر مکمل طور پر اس کا اندرونی معاملہ ہے صرف ’بھاری تعداد میں سیکیورٹی کی موجودگی سے قائم کیا گیا افسانہ ہے‘۔
ذرائع کے مطابق امریکی کانگریس کے فنڈز سے چلنے والے واشنگٹن میں موجود ایک تھنک ٹینک نے کہا کہ نئی دہلی کے دعوے کو سختی سے کشمیریوں میں گزشتہ برس 5 اگست کے بعد سے بڑھتی ہوئی بے چینی سے جانچا جائے گا جب بھارت نے غیر قانونی طور پر خطے کا الحاق کرلیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ’نئی دہلی کو اپنا یہ بیانیہ منظم رکھنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہوگا کہ آئینی اور سیاسی تبدیلیوں سے کشمیر میں امن کی شروعات ہوگی‘۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کشمیر میں زیادہ تر اشاریے اگست 2019 کے بعد سے تشدد میں اضافہ ظاہر کررہے ہیں۔
اس مؤقف کہ عدم استحکام کی یہ صورتحال تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنے کی ترغیب دے گی کے بارے میں رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ 07-2004 میں پاکستانی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی جانب سے بیک چینل پر مذاکرات کرنے والوں کی تعیناتی کے معاملے پر نئی نظر دوڑائی جائے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کا تجویز کردہ 4 نکاتی فارمولا جسے بیک چینل مذاکرات سے بہتر بنایا گیا تھا، کشمیر کے تنازع کا بہترین حل ہے۔
اس کے بعد رپورٹ میں چاروں نکات کا جائزہ لے کر دیکھا گیا کہ کیا یہ اب بھی قابل عمل ہیں، جس میں پہلا نکتہ سیلف گورننس یعنی کشمیریوں کی حکومت تھا جس پر مشرف اور من موہن ڈیل میں اتفاق ہوا تھا جس کے لیے علاقائی اور خطے دونوں کی سالمیت اور خصوصی حیثیت ضروری ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کے 5 اگست کے اقدام نے اس آپشن کو ختم کردیا ہے۔
تاہم رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کشمیر سے فوجوں کا انخلا 07-2004 کی ڈیل کا دوسرا اہم نکتہ تھا جس پر اگر پاکستان اور بھارت متف ہوجائیں تو اب بھی ممکن ہے۔اس کے تحت بھارت کو کشمیریوں کو ’لائن آف کنٹرل پر عسکری سرگرمیاں روکنے کے لیے بھارتی اور پاکستانی ریاست کے خلاف ہتھیار نہ اٹھانے پر راضی کرنے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ اس کا آغاز علاقے کے چھوٹے چھوٹے حصوں سے کیا جائے اگر وہ کامیاب ہوجائیں تو فوجوں کے انخلا کو کشمیر کے دیگر حصوں تک توسیع دی جاسکتی ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر پاکستان نے اپنی طرف عسکریت پسندی پر قابو پالیا ہوتا ہوسکتا ہے کشمیریوں کو اب بھی مقامی عسکریت پسندوں کے حملوں کا سامنا رہتا۔
رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئیی کہ 5 اگست 2019 سے قبل فارمولے سے تیسرے نکتے کے نفاذ کے لیے کچھ اقدامات کیے گئے تھے جس میں بھارت اور پاکستان اور دونوں اطراف کے کشمیر میں لوگوں اور تجارتی سامان کی آزادانہ نقل و حرکت شامل تھی۔
فروری 2005 میں دونوں اطراف نے اعلان کیا تھا کہ سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس چلائی جائے گی جس کا آغاز اس برس اپریل میں ہوا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اگست 2019 میں بھارت نے کشمیر کے غیر قانونی الحاق کا اعلان کیا اور ’اب مستقبل میں اس فارمولے پر کوئی مذاکرات شروع ہونا بہت مشکل ہے‘۔
-

اب مجھے کشمیر کیلئے بولنے سے کوئی نہیں روک سکتا، مہاتیر محمد کشمیریوں کی حمایت میں ڈٹ گئے
کوالالمپور:اب مجھے کشمیر کیلئے بولنے سے کوئی نہیں روک سکتا، مہاتیر محمد کشمیریوں کی حمایت میں ڈٹ گئے،اطلاعات کے مطابق ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے اپنے پچھلے بیانات پر کوئی افسوس نہیں، بیان کے بعد بھارت سےبرآمدات پر اثر پڑامگرافسوس نہیں، اب مجھے کشمیر کیلئے بولنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
تفصیلات کے مطابق ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کشمیرمیں گزشتہ برس 5اگست کےبھارتی اقدامات غیر قانونی ہیں اور بھارت کا آرٹیکل 370اور35اے کی منسوخی بھی غیرقانونی اقدام ہے۔
ڈاکٹر مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیرمیں 9لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں ، جس کی وجہ سے کشمیری سخت فوجی محاصرے میں زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کی حالت زار کا نوٹس لے۔
ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نے کہا انسانیت کیلئے آواز اٹھانے کو ترجیح دی ہے، اپنے پچھلے بیانات پر کوئی افسوس نہیں، کشمیر پر بات کروں گا، اب کسی کے بائیکاٹ کرنے کی پرواہ نہیں، اب مجھے کشمیر کیلئے بولنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بیان کے بعد بھارت سےبرآمدات پر اثر پڑامگرافسوس نہیں، کشمیرمیں ناانصافیوں پرایکسپورٹ کونقصان ہوا،یہ سودہ مہنگانہیں، کشمیر پرجو بھی میں نے کہا اس پر معافی نہیں مانگوں گا۔
یاد رہے گذشتہ سال ملیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی جارحیت سے دنیا کو آگاہ کیا تھا اور مظلوم کشمیریوں کی آواز بنے تھے۔بعد ازاں ان کے اس بیان کے بعد بھارت نے ملیشیا پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تجارتی معاملات ختم کرنے کا بھی عندیہ دیا تھا۔
مہاتیرمحمد نے اقوام متحدہ میں تقریر میں کہا تھا کہ بھارت نے کشمیرپرحملہ کر کے قبضہ کیا ہوا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود بھارت نے مقبوضہ کشمیرپرقبضہ کیا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے، بھارت کو پاکستان کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ یہ مسئلہ حل ہو اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اقدام عالمی ادارے اور قانون کی حکمرانی کو دیگر طریقے سے نظرانداز کرنے کا باعث بنے گا۔
-

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی لاہور میں وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات.. اہم فیصلے
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لاہور میں وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی صورت حال اورجنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر محمد اختر ملک،چیف وہیپ قومی اسمبلی ایم این اے عامر ڈوگر،ایم این اے زین قریشی،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو مکمل فعال کرنے کے لئے فوری طورپر انتظامی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلی نے وزیرخارجہ کو یقین دلایا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں مختلف محکموں کے سیکرٹریز کو جلد تعینات کر دیا جائے گا جب کہ محکموں کے سیکرٹریز مکمل با اختیار ہوں گے۔ عثمان بزدار نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو انتظامی و مالیاتی لحاظ سے خود مختاری دی جائے گی جب کہ ملتان ڈویژن، بہاولپورڈویژن اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن سے متعلقہ امور مقامی طورپر نمٹائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ملتان میں 100بستروں پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کے قیام کی اصولی منظوری دے دی۔ یہ ہسپتال غلہ منڈی کی پرانی عمارت کی جگہ پر بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ملتان میں واسا اور سیوریج سے متعلقہ مسائل فوری حل کئے جائیں گے۔ عثمان بزدارنے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام تحریک انصاف کی حکومت کا بڑا اقدام ہے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام سے لوگوں کو کام کے سلسلے میں لاہور نہیں آنا پڑے گاجب کہ ماضی میں جنوبی پنجاب کے لوگوں کو کھوکھلے نعروں سے بہلایا گیا۔عثمان بزدارنے کہا کہ سابق حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کی ترقی کے نام پر لئے گئے فنڈ اپنے حلقوں پر لگائے۔جنوبی پنجاب کے عوام نے ترقی کے نام پر دھوکہ دینے والوں کو عام انتخابات میں بری طرح مسترد کیااور تحریک انصاف کو جنوبی پنجاب میں شاندار مینڈیٹ ملا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے دئیے گئے مینڈیٹ کی لاج رکھیں گے۔ اس موقعہ پر وزیر خارجہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت جنوبی پنجاب کے عوام سے کئے گئے وعدے نبھا رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام سے مقامی لوگوں کو ریلیف ملے گا۔ عوام کے مسائل نچلی سطح پر حل ہوں گے اورگورننس بہتر ہوگی۔
عثمان بزدار اور شاہ محمود قریشی نے بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی سرکار کے بد ترین لاک ڈاؤن اور ظلم وستم کی شدید مذمت کیاور کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستانی قوم نے یوم استحصال کشمیر پر ہر سطح پر بھارتی مظالم کو اجاگر کیا-عثمان بزدارنے کہا کہ پوری قوم نے یوم استحصال کشمیر بھرپور طریقے سے منایا۔
لاہورسمیت پنجاب کے ہر ڈویژن میں ایک سڑک کو سرینگرکے نام سے منسوب کریں گے-عثمان بزدار نئ کہا کہ وہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی لازوال جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے،کشمیر کاز سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ مودی نے 5اگست2019ء کو اقوام متحدہ کے ضابطوں کی دھجیاں اڑا دیں۔عثمان بزدار نے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اورغیر قانونی اقدام کو ہر سطح پر بے نقاب کرتے رہیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے بغیرادھورا ہے۔مودی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بربریت کا بازار گرم کررکھا ہے۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں پر ظلم کی انتہا کرکے سفاکیت کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ22کروڑپاکستانی کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ -
مقبوضہ کشمیر،ترال کے آریگام میں بھارتی فوج کا سرچ آپریشن
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے ترال کے آریگام میں بھارتی نے سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جنوبی قصبہ ترال کے نزدیکی گاں آریگام میں بھارتی فوج، سی آر پی۔ ایف اور ایس او جی ترال نے عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بعد علاقے کو محاصرے میں لیا ہے۔اس دواران تمام داخلی اور خارجی راستوں پر پہرے لگا دیے گیے ہیں اور خانہ تلاشیوں کا سلسلسہ شروع کیا گیا ہے۔
قبل ازیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کے منگنر میں سرچ آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے کو تباہ کیا گیا ہے
مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانے سے دو اے کے 47 رائفلیں اور چار میگزین بر امد کئے گئے ہیں۔سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پونچھ رمیش انگرل نے کہا کہ ‘ہمارے پاس مخصوص ان پٹ تھی اور اسی بنیاد پر اسپیشل آپریشن گروپ پونچھ اور مقامی فوج کے یونٹ نے سرچ آپریشن شروع کیا۔
کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران
کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں
وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا
مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت
یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا
کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب
وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان
کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ
مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ
آپریشن کے دوران منگنر کے چوٹی میں کالسا جنگل کے علاقے میں، ایک خفیہ ٹھکانہ دیکھا گیا۔ جب ٹھکانے کی تلاشی لی گئی تو ویہاں دو اے کے 47 اور چار میگزین تھے۔
ایک سالہ محاصرے کے دوران بھارتی فوجیوں نے 217 کشمیری شہید کر دیئے
-

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا امریکی ہم منصب کو فون بھارتی شر انگیزیوں سے آگاہ کردیا
اسلام آباد:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا امریکی ہم منصب کو فون بھارتی شر انگیزیوں سے آگاہ کردیا،اطلاعات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے کشمیر میں بھارتی شرانگیزی سے آگاہ کیا اور سلامتی کونسل میں کشمیرپر مباحثے میں امریکا کی شرکت شکریہ ادا کیا۔
تفصیلات کے مطابق ٹیلیفونک رابطے میں دوطرفہ تعلقات، خطےمیں امن و استحکام اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان امریکا کےساتھ دوطرفہ تعلقات کواہمیت دیتاہے، دونوں جانب قیادت تعلقات کو مزید مستحکم بنانےکیلئےپرعزم ہے، خطےمیں قیام امن کی کاوشوں میں پاکستان اورامریکااتحادی ہیں۔
وزیرخارجہ نےبھارتی رویے اور نفرت انگیزپالیسیوں سے متعلق اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے امریکی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔وزیرخارجہ نے سلامتی کونسل میں کشمیرپر مباحثے میں امریکا کی شرکت پر ہم منصب کا شکریہ بھی ادا کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قوی امیدہےکشمیریوں پرمظالم پرعالمی برادری توجہ دےگی، مسئلہ کشمیرکویواین قراردادوں کےذریعےحل کرنےمیں مددملےگی۔
وزرائےخارجہ کےدرمیان افغانستان میں قیام امن سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا، وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کےمسئلےکےسیاسی حل کیلئےمعاونت جاری رکھےگا، لویہ جرگہ سےبین الافغان مذاکرات کی راہ ہموارہوگی۔
وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نےبین الافغان مذاکرات کےجلدانعقادپر زور دیا اور کورونا وبا میں امریکا کی جانب سے مدد پرشکریہ اداکیا۔
-

ہر آٹھ افراد کے لئے ایک فوجی
پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر منیر اکرم نے عالمی برادری کی طرف سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی پامالیوں کو ختم کرنے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے پر زور دیا ہے. انہوں نے کہا کہ”ہم ، سب سے پہلے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو برقرار رکھنے کے لئے او آئی سی کے اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں پر انحصار کریں۔”ان اقدامات سے نہ صرف ہندوستان کے اپنے آئین کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بھی خلاف ورزی ہوئی جو کسی بھی "فریق” کو یکطرفہ کارروائی کرنے سے روکتے ہیں۔ ان قرار دادوں کے تحت ، تنازعہ کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ جموں و کشمیر کے عوام نے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایک مباحثے کے ذریعے کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں اپنی فوج کی تعداد 900،000 کردی – ہر آٹھ کشمیریوں کے لئے ایک فوجی۔ اس نے فوجی محاصرے ، 24 گھنٹوں کا کرفیو اور مواصلات کا مکمل خاتمہ نافذ کردیا۔ منیر اکرم نے کہا کہ کشمیر میں تمام سیاسی قائدین اور ممتاز کشمیریوں کو قید میں رکھا گیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق پورے ہندوستان میں تیرہ ہزار نوجوانوں اور لڑکوں کو اغوا کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ بہت سے افراد پر تشدد کیا گیا ہے۔ یہ تمام اقدامات اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اپنے آئین کے آرٹیکل 35 کو ختم اور ڈومیسائل "قواعد” کو تبدیل کرکے ہندوستان نے اس طرح کی آبادیاتی تبدیلی کی راہیں کھول دی ہیں۔ 400،000 سے زیادہ ہندوستانی فوجی اور سویلین اہلکار اور ان کے اہل خانہ پہلے ہی کشمیر میں رہائشی حقوق حاصل کر چکے ہیں۔ مقبوضہ علاقے کا یہ "آبادیاتی سیلاب” سلامتی کونسل کی قراردادوں ، چوتھے جنیوا کنونشن اور نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ منیر اکرم نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ہیومن رائٹس کونسل کے متعدد خصوصی نمائندوں نے تشویش کا اظہار کیا۔ اسی طرح ، او آئی سی سیکرٹریٹ اور او آئی سی سے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن (آئی پی ایچ آر سی) نے بھی ایک دن پہلے ہی بیانات جاری کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہندوستان کے غیرقانونی اقدامات کی برسی کے موقع پر ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے تاریخی بابری مسجد کے ایودھیا مقام پر ہندو مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا تھا جسے اسی بی جے پی نے غیر قانونی طور پر تباہ کردیا تھا۔ – آر ایس ایس کے جنونی جن کو ہیکل کی تعمیر کا حق دیا گیا ہے۔ منیر اکرم کا کہنا تھا کہ کشمیر اور ایودھیا اسلام کی میراث کو ختم کرنے اور ہندوستان کو ہندو “راشٹر” (ریاست) میں تبدیل کرنے کے لئے بی جے پی آر ایس ایس ڈیزائن کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اپنے جرائم کا جواز پیش کرنے کے لئے ، نئی دہلی کے حکمرانوں نے کشمیریوں کی مزاحمت کو "دہشت گردی” کے طور پر پیش کرتے ہوئے نوآبادیاتی پلے بوک سے قرض لیا ہے۔ دیہی کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کے جواز کو بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ”دراندازی” کے بھارتی الزامات کے جواب میں ، پاکستان نے جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کے مبصرین کو ایسے تمام الزامات کی تصدیق کرنے کی پیش کش کی ہے ، لیکن ہندوستان نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا ، لیکن انہوں نے متنبہ کیا کہ "ہم کسی بھی بھارتی جارحیت کا اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ جواب دیں گے۔ ایٹمی مسلح ریاستوں کے مابین جنگ کا بھی نہیں سوچا جانا چاہئے۔” منیر اکرم نے کہا کہ”ہمیں خوشی ہے کہ سلامتی کونسل نے بدھ کے روز تیسری مرتبہ (ایک سال میں) کشمیر میں بھارت کی یکطرفہ کارروائیوں کی ملاقات کی ، انہوں نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب مودی ہندو مندر کے افتتاح کے موقع پر ہندو مندر کی شروعات کررہے تھے۔
-

کپواڑہ کے سرحدی علاقے میں 3 کشمیری زخمی
کپواڑہ کے سرحدی علاقے میں 3 کشمیری زخمی
باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق پاک بھارت کنٹرول لائن پر فائرنگ کے تبادلے سے 3 سولین زخمی ہوگئے .یہ زخمی کپواڑہ ضلع کے کارنا علاقے میں پیش آیا.
تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے لائن آٍف کنٹرول پر مسلسل بلا اشتعال فائرنگ جاری ہے . جس وجہ سے سولین زخمی ہو رہے ہیں ایسے ہی دوسری طرف تین کشمیریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں.Three civilians were injured as #India and #Pakistan troops exchanged fire along the Line of Control in #Karnah area of north Kashmir’s #Kupwara district on Friday. pic.twitter.com/p0UDpK2Avh
— The Lal Chowk Journal (@LalChowkJournal) August 7, 2020
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر ایک بار پھر بلااشتعال فائرنگ کی ہے بھارتی فوج نے تتہ پانی سیکٹر میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا. فائرنگ سے فتح پور گاوَں کی 18 سالہ لڑکی شہید ہوگئی جبکہ 2 خواتین اور2 لڑکیوں سمیت 6 شہری زخمی ہوگئیں.بھارتی فوج نے رواں سال 1877 بار سیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزی کیپاک فوج نے نہتے شہریوں پرفائرنگ کرنے والی بھارتی چوکیوں کونشانہ بنایا،بھارتی فوج کی اشتعال انگیزیوں سےرواں سال 15 معصوم شہری شہید ہوچکے،رواں سال بھارتی فوج کی فائرنگ سے 144 شہری زخمی ہوچکے،رواں سال شہید ہونے والوں میں 6 خواتین اور 5 بچے بھی شامل ہیں، رواں سال زخمی ہونے والوں میں 46 خواتین اور 37 بچے شامل ہیں،
-

مودی مسلمانوں کا قاتل،کشمیر کی آزادی کیلئے کیا کرنا ہو گا؟ شہبازشریف کا آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسپیکر شاہ غلام قادر کی زیرصدارت آزادکشمیر اسمبلی کا اجلاس جاری ہے
اجلاس سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقاربھٹو نے نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد رکھی، نوازشریف نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، نوازشریف نے5 ارب ڈالر کی پیشکش کو ٹھکرایا، نیوکلیئر دھماکوں کا کریڈٹ پوری قوم، افواج پاکستان کو جاتا ہے
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 5اگست2019 کا بھارتی اقدام خطے میں بہت بڑا سانحہ ہے، نریندرمودی گجرات کے مسلمانوں کا قاتل ہے،مودی نے5اگست کو پیغام دیا کہ آج کشمیر پر غاصبانہ قبضہ مکمل کررہا ہوں،نہتے کشمیریوں پر بھارتی ظلم روکنا پوری دنیا کیلئے چیلنج ہے،مسئلہ کشمیر کیلئے صرف زبانی نہیں عملی طورپر کردار ادا کرنا ہوگا،کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کیلئے ہر راستہ اختیار کرنا ہے،
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اتفاق،اتحاد اور قوت ایمانی کے ساتھ مسئلہ کشمیر دنیا کے سامنے لانا چاہیے،دشمن پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،پاکستان کا ایٹمی طاقت ہونا خطے میں امن کی سب سے بڑی گارنٹی ہے،خطے میں امن تب ہی قائم ہوگا جب کشمیریوں کو ان کا حق ملےگا،کشمیریوں کو ان کا حق نہ دلایاتو ان کا قرض کبھی نہیں چکا سکیں گے،
قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی میاں شہباز شریف مظفرآباد پہنچ گئے
صدر ریاست سردار مسعود خان، وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے پریڈ گراؤنڈ ہیلی پیڈ پر استقبال کیا
سابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف، مولانا اسد الرحمن ہمراہ ہیں۔ https://t.co/Fj8gZSEI18
— PMLN (@pmln_org) August 7, 2020
قبل ازیں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی قانون ساز اسمبلی آمد ہوئی، اس موقع پر شہبازشریف کی حریت رہنماؤں سے ملاقات بھی ہوئی،ملاقات میں صدر ریاست مسعود خان وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر بھی موجود تھے
https://twitter.com/bhmsclinix/status/1291687705819131905
قبل ازیں قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی میاں شہباز شریف مظفرآباد پہنچے توصدر ریاست سردار مسعود خان، وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے پریڈ گراؤنڈ ہیلی پیڈ پر استقبال کیا ،سابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف، مولانا اسد الرحمن ہمراہ ہیں
-

آزاد ی کشمیر کے لیے لڑنا ہو گا، طلبا تعلیم کے ساتھ جنگ کی بھی تیاری کریں،صدر آزاد کشمیر
آزاد ی کشمیر کے لیے لڑنا ہو گا، طلبا تعلیم کے ساتھ جنگ کی بھی تیاری کریں،صدر آزاد کشمیر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے صدرسردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ اگر جنگ ہوئی تو یہ جنگ صرف پاک فوج نہیں بلکہ پوری قوم لڑے گی اور نوجوان اس کا اول دستہ ہوں گے۔ نوجوان تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے اُن بھائیوں اور بہنوں کو ظلم سے نجات دلانے کی تیاری بھی کریں جو ہمارے جسم و جان کا حصہ ہیں۔ آزاد کشمیر میں طلبہ کو درپیش مسائل کے پیش نظر جلد فور جی انٹرنیٹ مہیا کیا جائے گا جس کے بعد طلبا ء کو آن لائن تعلیم اور ڈیجیٹل ریسورسز سے استفادہ کرنے میں بہت مدد ملے گی۔یہ بات اُنہوں نے ایوان صدر مظفرآباد میں اسلامی جمعیت طلباء آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل مہران معروف کی قیادت میں ملنے والے طلباء کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں عبدالظاہر عباسی، مدثر عباسی اور شعبان شائق شامل تھے۔
صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ نوجوان قرآن اور سنت کی روشنی میں اپنے کردار کی تعمیر کر کے اور اپنے آپ کو عصری علوم کے ہتھیاروں سے لیس کر کے جہاں آزاد کشمیر اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں وہاں دشمنوں کی طرف سے ملک کی سلامتی اور بقاء کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی تیاری کریں۔ کیونکہ بھارت کی جنونی حکمران ہم سے ہماری آزادی چھیننے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد ریاست کی سرکاری جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں میں تعلیمی تعطل سے پیدا ہونے والے مسائل سے ایوان صدر اور حکومت پوری طرح آگاہ ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ طلباء کی مالی دشواریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کے عرصے کی تعلیمی فیسوں میں کچھ کمی کی گئی ہے جس سے طلباء کو کچھ نہ کچھ ریلیف ملے گا۔
اُنہوں نے کہا کہ طلبا ء کا سب سے بڑا مطالبہ آزاد کشمیر کے تمام علاقوں میں انٹرنیٹ کی یکساں فراہمی تھی اس مطالبہ کو پورا کرتے ہوئے حویلی نیلم اور لائن آف کنٹرول کے قریب کچھ علاقوں کے سوا تمام علاقوں میں فور جی انٹرنیٹ جلد فراہم کیا جارہا ہے۔
صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ حکومت نے مالی لحاظ سے کمزور طلباء کو احساس سکالر شپ اور نیڈ بیسڈ سکالر شپس کا انتظام کیا ہے جو جلد طلباء کو ملنا شروع ہو جائیں گا۔
قبل ازیں وفد کے قائد مہران معروف نے طلباء کے مسائل سے صدر ریاست کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد آن لائن تعلیم کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اُس کے لیے انٹرنیٹ کی یکساں سہولت نہ ہونے کے باعث کئی علاقوں کے طلباء شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اُنہوں نے صدر ریاست سے مطالبہ کیا کہ انٹرنیٹ کی سہولت کو قابل رسائی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ اسلامی جمعیت طلباء کے رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تاریخ کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کو آزاد کشمیر کے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل کو اپنے ماضی اور تحریک آزادی کے لیے قربانیاں دینے والوں کے کارناموں سے روشناس کرایا جا سکے