Baaghi TV

Category: کشمیر

  • دادا سے کرونا وائرس آٹھ ماہ اور سات برس کے پوتے پوتی میں منتقل

    دادا سے کرونا وائرس آٹھ ماہ اور سات برس کے پوتے پوتی میں منتقل

    دادا سے کرونا وائرس آٹھ ماہ اور سات برس کے پوتے پوتی میں منتقل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں دو کمسن بچوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے

    سرینگر کے علاقہ نٹی پورہ کے رہائشی شخص جو سعودی عرب سے واپس لوٹا تھا اور اس میں کرونا کی تشخیص ہوئی تھی اب اس کے پوتے اور پوتی میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے، جن کی عمریں ایک کی آٹھ ماہ اور دوسرے کی سات سال ہے ، حکام کا کہنا ہے کہ دادا سے اس کے پوتے اور پوتی کو لوکل ٹرانسمیشن کے ذریعے کرونا پھیلا،

    سرینگر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 13 ہو گئی ہے،ایک مریض صحتیاب ہو چکا ہے جبکہ ایک کی ہلاکت ہو چکی ہے،

    مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس کے 5482 مشتبہ مریض ہیں جن کو زیر نگرانی رکھا گیا ہے، ان میں سے اکثر بیرون ملک آئے ہیں جبکہ بیرون ملک سے واپس آنے والوں سے ملنے والے افراد کو بھی آئسولیشن وارڈز میں رکھا گیا ہے.

    مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے مزید روکنے کے لئے سرینگر کی تمام مساجد، گردواروں کو بند کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے، درگارہ حضرت بل اور نقش بند صاحب کو بھی بند کر دیا گیا ہے، حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں میں نماز ادا کریں.

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے بچا کے لیے احتیاطی اقدامات کیے جارہے ہیں۔مقبوضہ جموں وکشمیر حکومت نے ایک اہم فیصلے کے تحت پنجاب، ہماچل پردیش اور لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ بین ریاستی سرحدوں کو مکمل طور سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح گاڑیوں کی بین الاضلاع نقل و حمل کو بھی ضرورت کے مطابق محدود کیا جائے گا۔ تاہم لازمی سروسز کے ساتھ وابستہ گاڑیاں معمول کے مطابق چلیں گی اور سری نگر جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی نقل و حمل میں بھی کمی لائی جائے گی۔

  •  دنیاکو کورونا کی ہلاکتوں اور لاک ڈاﺅن سے بچنے کے لیے مظلوم کشمیریوں کالاک ڈاﺅن ختم کروانا ہو گا :قاری زوار بہادر

     دنیاکو کورونا کی ہلاکتوں اور لاک ڈاﺅن سے بچنے کے لیے مظلوم کشمیریوں کالاک ڈاﺅن ختم کروانا ہو گا :قاری زوار بہادر

    لاہور: جمعیت علماءپاکستان کے رہنماءمفکر اسلام علامہ قاری محمد زوار بہادر نے کہاہے کہ دنیاکو کورونا کی ہلاکتوں اور لاک ڈاﺅن سے بچنے کے لیے مظلوم کشمیریوں کالاک ڈاﺅن ختم کروانا ہو گا ۔اگرمظلوم کشمیریوںکو آزادی دلوادی جائے تو اللہ رب العزت کی بارگاہ سے امید ہے کہ پوری دنیا سے یہ عذاب ختم ہو سکتا ہے اقوام عالم مظلوم کشمیری عوام کو گزشتہ تقریباً8 ماہ سے جاری لاک ڈاﺅن ختم کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    قاری زوار بہادر نے کہا ہےکہ مودی ہٹلر نے مقبوضہ کشمیر میں بچوں ، بوڑھوں ، خواتین اور عوام الناس کو گھروں میں بند کرکے لاک ڈاﺅن کیا ہوا ہے ۔اشیائے خوردونوش اور ادویات کی کمی کی وجہ سے وہاں عوام موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پوری دنیا ایک خطرناک وائرس کا مقابلہ کررہی ہے اور تقریباًدنیا کا بڑا حصہ لاک ڈاﺅن میں ہے ۔

    امریکہ ،برطانیہ، فرانس اور یورپ کے بیشتر ممالک لاک ڈاﺅن میں ہیں دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت نے گزشتہ 8 ماہ سے وادی کشمیر میں لاک ڈاﺅن اور کرفیو لگا رکھا ہے مگر دنیا کے تمام ممالک نے کشمیری عوام کی آزادی اور لاک ڈاﺅن ختم کرنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا ۔آج دنیا کشمیری عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ کرسکتی ہے ۔

    جب تک ان مظلوم کشمیریوںکا لاک ڈاﺅن ختم نہیں ہوتا دنیا کا یہ امتحان جاری رہے گا ۔ نام نہادانسانی حقوق کے علمبرداراورمسلم ممالک نے کشمیری مسلمانوں کی آزادی کیلئے کوئی کردارادا نہیں کیا اور خاموش تماشائی بنے رہے آج یہی بڑے ممالک بہت بڑی آزمائش میں ہیں ۔انہیںجلدکشمیری مسلمانوں کی آزادی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔

    جاری کردہ انچارج
     میڈیا سیل جمعیت علماءپاکستان

  • لداخ کے ایک گائوں میں کوروناوائرس سے نمٹنے کا آسان ،  شاندار اورقابل تقلید طریقہ

    لداخ کے ایک گائوں میں کوروناوائرس سے نمٹنے کا آسان ، شاندار اورقابل تقلید طریقہ

    سرینگر: لداخ کے ایک گائوں میں کوروناوائرس سے نمٹنے کا آسان ،شانداراورقابل تقلید طریقہ،اطلاعات کےمطابق مرکزی زیر انتظام خطہ لداخ کے ایک گائوں میں نوجوانوںنے کوروناوائرس سے نمٹنے کا ایک انوکھا طریقہ اپنایا ہے ۔

    لداخ کے ضلع کرگل میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نزدیک واقع لاتو نامی گائوں کے نوجوانوں نے اپنے گائوں کے داخلی پوائنٹ پر پانی کی ایک ٹینکی، صابن اور سینی ٹائزر جیسی حفظان صحت سے متعلقہ چیزیں مہیا کی ہیں اور داخلی پوائنٹ پر متعدد جگہ پر جلی حروف میں لکھا ہے کہ بغیر ہاتھ دھوئے گائوں میں داخل ہونا منع ہے۔لداخ میں اب تک کورونا وائرس کے 13 مثبت کیسز سامنے آئے ہیں-

    یاد رہےکہ مقبوضہ کشمیرمیں بھی کرونا وائرس کی وجہ سے پہلی ہلاکت ہوگئی ہے، دوسری طرف مفتی اعظم مقبوضہ کشمیر نے لوگوں کو کل مساجد کی بجائے گھروں میں نمازجمعہ اداکرنے کی درخواست کردی ہے

  • مقبوضہ کشمیر:لوگوں کو مساجد میں نماز جمعہ پڑھنے سے گریز کرنا چاہئے:مفتی اعظم ناصر الاسلام

    مقبوضہ کشمیر:لوگوں کو مساجد میں نماز جمعہ پڑھنے سے گریز کرنا چاہئے:مفتی اعظم ناصر الاسلام

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرکے مفتی اعظم ناصر الاسلام نے جمعرات کو کہا کہ لوگوں کو مساجد میں نماز جمعہ پڑھنے سے گریز کرنا چاہئے۔ساوتھ ایشین وائر کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری کشمیر کے ائمہ اور خطباسمیت تمام لوگوں اور مساجد کے منتظمین سے میری عاجزانہ اپیل ہے کہ وہ جمعہ کی اجتماعی نماز سے احتراز کریں۔

    انہوں نے کہا کہ مسجد کے معززین سمیت صرف تین افراد مسجدوں میں پانچ وقت کی نماز پڑھیں ، باقی لوگوں کو گھر میں ہی نماز پڑھنی چاہئے ۔مقبوضہ جموں و کشمیر کورونا وائرس سے متاثر ہ ایک 65 سالہ شخص کی موت ہوئی ہے۔کووڈ-19 سے متاثرہ شخص کی موت حرکت قلب بند ہونے سے ہوئی ۔ اس طرح سے اس سنگین بیماری کی وجہ سے موت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ممتاز کاروباری شخصیت محمد اشرف سرینگر کے ڈلگیٹ میں چیسٹ ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔وہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر کے مریض بھی تھے۔ان کا آبائی علاقہ سوپور ہے اور وہ اب سرینگر کے حیدرپورہ علاقے میں سکونت پذیر تھے۔چند روز قبل ان کا کیس مثبت پایا گیا تھا۔انہوں نے حال ہی میں انڈونیشیا اور ملائیشیا تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کی تھی اور اترپردیش، نئی دہلی اور جموں سے ہو کر کشمیر پہنچے تھے۔شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں جن چار افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ بدھ کے روز مثبت آئے ہیں، ان سب نے ایک ساتھ مذہبی اجتماعات میں شرکت کی تھی۔

    ڈویژنل کمشنر کشمیر نے ایڈیشنل کمشنر کشمیر تصدق حسین میر سے معاملے کی تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔حکم نامے کے مطابق چیسٹ ڈیزیز ہسپتال اور اسکمز کی جانب سے متوفی کی جانچ میں لاپرواہی برتی گئی ہے۔ ہسپتال کی غلطی کی وجہ سے اس شخص کو اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے ملنے کا موقع ملا جس وجہ سے وائرس مزید پھیل گیا۔سرینگر میونسپل کارپوریشن کے میئر جنید عظیم متو نے سرینگر میو نسپل حدودمیں تعمیراتی سرگرمیوں پر اگلے احکامات تک مکمل پابندی عائد کی ہے ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ابھی تک 8 افراد کے ٹیسٹ مثبت پائے گیے ہیں، جبکہ پورے جموں و کشمیرمیں ان افراد کی کل تعداد 11 ہے۔ گزشتہ رات کورونا وائرس کی وبا کے خوف سے وادی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں اذانیں دی گئیں۔بیشتر اضلاع میں لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر اذان کے علاوہ توبہ استغفار کرتے بھی دکھائی دیے۔یہ سلسلہ تقریبا رات ایک بجے تک جاری رہا۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جموں و کشمیر میں 5124 افراد کو زیر نگرانی رکھا گیا ہے اور اب تک 11 کیسزمثبت پائے گئے ہیں۔

    3061 افراد کو گھریلو قرنطینہ میں جبکہ 80 افراد کو ہسپتالوں میں قرنطینہ میں رکھاگیا ہے۔ 1477 افراد کو گھروں میں نگرانی پر رکھا گیا ہے جبکہ 506 افراد نے 18 روزہ نگرانی کی مدت پوری کر لی ہے۔326 نمونوں کو ٹیسٹنگ کے لیے بھیج دیا گیا ہے جن میں سے 294 کو منفی پایا گیا ہے اور 25 مارچ 2020 تک 21 رپورٹ آنا باقی ہیں۔کشمیر میں درجنوں مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد ‘متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر’ نے ان تمام افراد جو حالیہ ایام میں بیرونی سفر سے آئے ہیں، سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ براہ کرم اپنے سفر کی تفصیلات متعلقہ اداروں اور ایجنسیوں کو رضاکارانہ طور پر خود ہی بتائیں ۔

    نظربند حریت رہنما میرواعظ مولوی عمر فاروق کی قیادت میں اس اتحاد کی طرف سے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ایسے افراد اگر قرنطینہ میں رکھے جانے کے ڈر سے اصل حقیقت چھپاتے ہیں تو وہ اپنے کنبے، محلے، علاقے اور معاشرے کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کرگل نے کوروناوائرس کے پیش نظر ان افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے جنہوں نے متاثرہ ممالک کے سفر کی تاریخ کا انکشاف نہیں کیا۔کورونا وائرس کے پھیلا وکی روک تھام کے لئے سرینگر میں کنٹرول روم قائم میں 400 افراد سے متعلق شکایات موصول کی گئی ہیں جنہوں نے اپنی سفری تفصیلات چھپا ئی تھیں۔

    جن میں 200 افراد کی نشاندھی ہو چکی ہیں اور ان کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ضلع سرینگر میں 1750 افراد کو بیرونی ممالک سے وارد کشمیر ہوئے تھے کو 90 قرنطینہ مراکز میں زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔جموں و کشمیر میں کورونا کے مثبت کیسز کی تعداد 11 ہے جس میں بدھ کے روز ضلع بانڈی پورہ میں ایک ہی علاقے کے چار افراد مثبت پائے گئے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت

    مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت

    مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس سے 65 سالہ شخص ہلاک ہو گیا

    وائرس سے متاثرہ مریض سرینگر اسپتال میں زیرعلا ج تھا،مریض کو شوگر، بلڈ پریشر اور موٹاپے کے امراض لاحق تھے،مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد8 ہو چکی ہے،

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے بچا کے لیے احتیاطی اقدامات کیے جارہے ہیں۔مقبوضہ جموں وکشمیر حکومت نے ایک اہم فیصلے کے تحت پنجاب، ہماچل پردیش اور لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ بین ریاستی سرحدوں کو مکمل طور سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح گاڑیوں کی بین الاضلاع نقل و حمل کو بھی ضرورت کے مطابق محدود کیا جائے گا۔ تاہم لازمی سروسز کے ساتھ وابستہ گاڑیاں معمول کے مطابق چلیں گی اور سری نگر جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی نقل و حمل میں بھی کمی لائی جائے گی۔

  • بھارتی فوج کے ہاتھوں پہلے سے لاک ڈاون مقبوضہ کشمیرکوآج تاریخ کے مشکل ترین لاک ڈاون کا سامنا ، رات سے نیاسلسلہ شروع

    بھارتی فوج کے ہاتھوں پہلے سے لاک ڈاون مقبوضہ کشمیرکوآج تاریخ کے مشکل ترین لاک ڈاون کا سامنا ، رات سے نیاسلسلہ شروع

    سرینگر:بھارتی فوج کے ہاتھوں لاک ڈاون مقبوضہ کشمیرکوآج تاریخ کے مشکل ترین لاک ڈاون کا سامنا ، رات سے کشمیریوں پرسختی کا نیاسلسلہ شروع،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس کے پھیلا وکی روک تھام کو یقینی بنانے کے پیش نظر مقبوضہ کشمیر میں بدھ کے روز بھی مکمل لاک ڈان کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث وادی کے طول و عرض میں معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔

    لوگوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا گیا بغیر ایمرجنسی کے کسی بھی شخص کو چلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔تجارتی مرکز لال چوک کے ساتھ ساتھ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں ۔لوگوں پر نظر رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے ڈرون کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں کوروناوائرس کے متاثر افراد کی تعداد 7تک پہچ گئی ہے جن میں جموں کے 4 اور کشمیر وادی کے 3مثبت کیسز شامل ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں اب تک 4765 ایسے افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جو یا تو بیرون ممالک سے واپس آئے ہیں یا مشتبہ افراد کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں سے 7 افراد کو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

    2928 افراد کو ہوم کورنٹین میں رکھا گیا ہے، تاہم ابھی تک کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔گزشتہ روز سامنے آنے والے کیسز میں سے دو کا تعلق دارالحکومت سرینگر اور تیسرے کا تعلق شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سرینگر کے نواحی شہر کے علاقے نوہٹہ میں واقع 625 برس قدیم تاریخی جامع مسجد کا انتظام و انصرام چلانے والی انجمن اوقاف نے کورونا وائرس کے پھیلا کے خطرات کے پیش نظر فی الحال جامع مسجد میں تمام اجتماعی نمازیں موقوف کرنے کا اعلان کیا ہے۔انجمن اوقاف کی سربراہی

  • سری نگر:بھارتی سیکورٹی اہلکار آپس میں لڑ لڑ کرمرنےلگے ، 2 ہلاک

    سری نگر:بھارتی سیکورٹی اہلکار آپس میں لڑ لڑ کرمرنےلگے ، 2 ہلاک

    سری نگر:سری نگر:بھارتی سیکورٹی اہلکار آپس میں لڑ لڑ کرمرنےلگے ، 2 ہلاک کئی زخمی ، اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں سرینگر شہر کے ڈلگیٹ کے علاقے میں منگل کے روز فائرنگ کے واقعے میںسی آر پی ایف کے واٹر ونگ میں دو نیم فوجی جوان ہلاک ہوگئے۔

    ساوتھ ایشین وائر کو ایک فوجی افسر نے بتایا کہ 144 بٹالین سی آر پی ایف کے د واہلکاروں کانسٹیبل سیجو اور کانسٹیبل جلال وجے نے سہ پہر 04:05 بجے ایک دوسرے پر فائرنگ کی۔ جس سے دونوں شدید زخمی ہوگئے۔فائرنگ کے تبادلے کی آواز سن کر ساتھی موقع پر پہنچ گئے انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا ۔

    پولیس افسر نے مقتول فوجیوں کی شناخت کے نام سے کی۔سی آر پی ایف کے انچارج ترجمان ، نیرج راٹھور نے بھی سی آر پی ایف کے دو جوانوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے دوران اب تک تقریبا چھ ہزار فوجی اور سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ سال 2010 سے سال 2019 کے دوران 1113 فوجی اہلکاروں نے خودکشی کی۔

  • مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ 8 ماہ بعد رہا ,بھارت کشمیر میں نئی چال چلنے لگا

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ 8 ماہ بعد رہا ,بھارت کشمیر میں نئی چال چلنے لگا

    سرینگر:مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کو 8 ماہ بعد رہا کر دیا گیا ۔وہ 5 اگست سے زیر حراست تھے۔ ان کی رہائی سے قبل ان کے والد و جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ کو بھی رہا کیا جا چکا ہے۔ فی الوقت پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نظربند ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سال گزشتہ کے ماہ اگست کی پانچ تاریخ کو مرکزی حکومت نے آئینی دفعات 370 و 35 اے کی تنسیخ اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے ساتھ ہی عمر عبداللہ کی سیاسی سرگرمیاں مفلوج ہوکر جیل کی سرگرمیوں میں تبدیل ہوگئی تھیں۔

    عمر عبداللہ گزشتہ آٹھ ماہ سے جیل میں تھے اور ان پر بائیکاٹ کے باوجود لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر راغب کرنے اور سوشل میڈیا پر لوگوں کو مشتعل کرنے کے پاداش میں ماہ فروری کے پہلے ہفتے میں پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران عمر کی دوران حراست لی گئی لمبی اور سفید داڑھی والی تصویریں وائرل ہوگئیں جو سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں میں بالعموم اور سیاسی حلقوں میں بالخصوص گرم مباحثے کا باعث بن گئی تھیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اپنی والدہ کی خواہش کے برعکس لیکن اپنے خاندانی روایات کے عین مطابق عمر عبداللہ نے سال1998 میں اپنی سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز کیا اور این ڈی اے حکومت کے دوران 23 جولائی 2001 سے 23 دسمبر 2002 تک مرکزی وزیر مملکت برائے امور خارجہ کے عہدے پر براجمان رہے۔سیاسی کیرئر کے روز اول سے ہی عمر عبداللہ کا اپنے بیانات اور تقاریر کے باعث پارٹی میں بھی اور باقی سیاسی حلقوں میں بھی طوطی بولنے لگا اور لوگ انہیں اپنے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے نسبت سنجیدگی سے لینے لگے۔

    القمرآن لائن کے مطابق سیاسی میدان میں کئی نشیب وفراز دیکھنے کے بعد عمر عبداللہ سال 2009 میں جموں کشمیر کے عمر کے لحاظ سے سب سے چھوٹے وزیر اعلی کے طور پر راج گدی پر بیٹھے۔ اس دوران انہیں جموں کشمیر بالخصوص وادی کشمیر میں خاصی عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔

    عمر عبداللہ نے سیاسی زندگی کے آغاز سے قبل سال 1994 میں ایک فوجی افسر کی صاحبزادی پائل عبداللہ سے نکاح کرکے اپنی ازدواجی زندگی بھی شروع کی تھی لیکن وہ شادی بعد ازاں طلاق پر منتج ہوئی۔تختہ اقتدار سے محرومی کے بعد عمر عبداللہ اپوزیشن میں رہ کر سوشل میڈیا پر بھی کافی سر گرم رہے۔

    حزب اقتدار جس میں بی جے پی بھی ایک شرکت دار تھا، کے خلاف تیکھے وار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور سوشل میڈیا پر بھی کسی بھی مسئلے پر اظہار خیال کرنے کے کسی بھی موقعے کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس بنا پر وہ ٹویٹر ٹائیگر کے نام سے بھی مشہور ہوگئے۔

  • کشمیری حریت رہنما یاسین ملک نے مرنے کے بعد جسمانی اعضا عطیہ کرنے کی وصیت کردی

    کشمیری حریت رہنما یاسین ملک نے مرنے کے بعد جسمانی اعضا عطیہ کرنے کی وصیت کردی

    سرینگر: کشمیری حریت رہنما یاسین ملک نے مرنے کے بعد جسمانی اعضا عطیہ کرنے کی وصیت کردی،اطلاعات کےمطابق ظالم بھارت کی قید میں موجود حریت رہنما یاسین ملک نے مرنے کے بعد جسمانی اعضا عطیہ کرنے کی وصیت کردی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک بیان میں یاسین ملک کا کہنا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے کشمیریوں کی آزادی کے لیے آخری دم تک لڑیں گے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں کبھی ہتھیار نہیں ڈالوں گا اور جب میں اس دنیا سےچلا جاؤں گا تو میرے اعضا عطیہ کردیے جائیں۔

    اہلیہ مشال ملک نے یاسین ملک کے حوالے سے کہا کہ حریت رہنما پر ڈیتھ سیل میں بھارتی حکام کا بہیمانہ تشدد جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر یوں کی آزادی کے لیے یاسین ملک نے اپنی جوانی اور خاندان کو قربان کردیا۔ کشمیریوں پر بھارتی فورسز کے بہیمانہ مظالم پر دنیا گونگی اور بہری بنی ہوئی ہے۔

  • سارک اجلاس میں معاون خصوصی کے بیان پر بھارتی ردعمل مسترد،بھارت کوبات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی ، دفترخارجہ

    سارک اجلاس میں معاون خصوصی کے بیان پر بھارتی ردعمل مسترد،بھارت کوبات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی ، دفترخارجہ

    اسلام آباد :سارک اجلاس میں معاون خصوصی کے بیان پر بھارتی ردعمل مسترد،بھارت کوبات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی ، دفترخارجہ ،اطلاعات کےمطابق پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی سارک کانفرنس میں تبصرے پر سیاست کو مسترد کر دیا

    ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘سارک کے رکن ممالک کی ویڈیو کانفرنس میں ڈاکٹر ظفر مرزا کے تبصرے کے رخ کو موڑنے کی بھارتی وزارت خارجہ کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں’.

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ‘ڈاکٹر ظفر مرزا کے تبصرے سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کی کوششیں گمراہ کن ہیں، ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا وائرس کے تناظر میں مقبوضہ جموں اور کشمیر میں ہیلتھ ایمرجنسی کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی’۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ڈاکٹر ظفر مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلات پر پابندیوں کو ختم کرنے اور طبی سامان کی رسائی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا، اس حوالے سے نہ صرف پاکستان بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت سمیت دنیا بھر سے متعدد آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

    سارک ممالک کے اجلاس میں پاکستان کی شرکت کے حوالے سے مزید کہا گیاہے کہ ‘کوویڈ 19 پر سارک کے رکن ممالک کی ویڈیو کانفرنس میں پاکستان کی شرکت کا مقصد رکن ممالک سے اظہار یکجہتی کرنا تھا’۔ترجمان دفتر خارجہ اپنے ردعمل میں کہا کہ ‘جنوبی ایشیا کے عوام بخوبی واقف ہیں کہ کون سا ملک سارک کے عمل کو سیاسی بنانے کے لیے کوشاں ہے’۔

    یاد رہے کہ 15 مارچ کو کورونا وائرس سے متعلق سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس ہوئی تھی جہاں وزییر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس حوالے سے رکن ممالک کے وزرائے صحت کے اجلاس کی میزبانی کی پیش کش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے توجہ کی ضرورت ہے۔

    معاون خصوصی برائے صحت نے کہا تھا کہ ‘مجھے یقین ہے کہ سارک اراکین کووڈ ایمرجنسی کے دوران پورے خطے تک رسائی کریں گے کیونکہ صحت بنیادی حق ہے، اس حوالے سے بھارت کے زیرتسلط کشمیر سے کوروناوائرس کے کیسز کی رپورٹ تشویش کا باعث ہے’۔