Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیری دوہری آزمائش میں ایک طرف کرونا تودوسری طرف بھارتی فوج کے مظالم ، یاسین ملک کاتادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان

    کشمیری دوہری آزمائش میں ایک طرف کرونا تودوسری طرف بھارتی فوج کے مظالم ، یاسین ملک کاتادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان

    سری نگر:کشمیری دوہری آزمائش میں ایک طرف کرونا تودوسری طرف بھارتی فوج کے مظالم ، یاسین ملک کاتادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف)کے زیرحراست رکھے گئے چیئرمین محمد یاسین ملک نے ٹاڈا عدالت کے جج کے تعصب کے خلاف تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیاہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ، محمد یاسین ملک نے سری نگر میں اپنے اہل خانہ کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں جسمانی طور پر عدالت کے سامنے پیش کرنے کا ہر قانونی حق حاصل ہے لیکن ہندوستانی حکومت کے کہنے پر جج اور سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن نے ایسا نہیں کیا۔ انہیں اجازت دی جائے کہ وہ خود ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش ہوں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ انھیں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا ، جہاں وہ نہ تو وکلا کے دلائل سن سکے اور نہ ہی انہیں بولنے کی اجازت دی گئی۔

    دہلی کی تہاڑ جیل میں زیر حراست محمد یاسین ملک نے افسوس کا اظہار کیا کہ جج ان کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے ۔جے کے ایل ایف کے چیئرمین نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمات دراصل سیاسی تھے اور جج کے تعصب نے کیس کو خراب اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ، وہ جج اور ہندوستانی حکومت کے اس آمرانہ رویے کے خلاف غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ہڑتال یکم اپریل 2020 سے شروع ہوگی۔

    کالعدم تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف)کے رہنما کے خلاف الزامات جموں کی ٹاڈا عدالت میں 1989-90 میں اس وقت کے وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سعید کو اغوا کرنے اور انڈین ایئر فورس کے چار اہلکاروں کے قتل کے کیس زیر سماعت ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پچھلے سال اکتوبر میں ، یاسین ملک کو جموں کی ٹاڈا عدالت میں پیش کیا جانا تھا لیکن تہاڑ جیل کی انتظامیہ نے انہیں عدالت میں پیش کرنے سے انکار کیا تھا ۔ تب حکام نے دعوی کیا تھا کہ وزارت داخلہ نے انہیں یاسین ملک کو کسی بھی عدالت میں پیش نہ کرنے کی ہدایت کی تھی

  • میرپور آزاد کشمیر میں  کورونا وائرس کے پہلے مریض کی تصدیق

    میرپور آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کی تصدیق

    میرپور آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کی تصدیق

    باغی ٹی وی :میرپور آزاد کشمیر نیوسٹی قرنطینہ سینٹر میں مریض میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی لیاقت نامی شخص کو ایران کی ٹریول ہسٹری کے باعث تین دن قبل ائسولیشن میں رکھا گیا تھا-لیاقت نامی مریض کا تعلق پلندری ازادکشمیر سے ہے.
    واضح‌رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تشخیص تیزی سے ہو رہی ہے .پنجاب میں اب تک 34 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے جب کہ بلوچستان میں 16، خیبرپختونخوا میں 16، اسلام آباد میں 4 اور گلگت بلتستان میں تین افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔گزشتہ روز پنجاب میں کورونا وائرس سے مبینہ ہلاکت سامنے آئی تھی تاہم صوبائی وزیر برائے صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میو اسپتال میں زیر علاج شخص جگر کے عارضے میں مبتلا تھا۔

    خیال رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک 8 ہزار کے قریب اموات ہو چکی ہیں جب کہ متاثرہ افراد کی تعداددو لاکھ ہو گئی ہے۔

  • سارک کانفرنس میں‌کرونا پرگفتگو کےدوران کشمیریوں کا ذکرکرکے ڈاکٹرظفرمرزا نے سفارت کاری کا حق ادا کردیا،مودی دیکھتا رہ گیا

    سارک کانفرنس میں‌کرونا پرگفتگو کےدوران کشمیریوں کا ذکرکرکے ڈاکٹرظفرمرزا نے سفارت کاری کا حق ادا کردیا،مودی دیکھتا رہ گیا

    اسلام آباد: “سارک کانفرنس میں‌کرونا پرگفتگو کے دوران کشمیریوں کا ذکرکرکے ڈاکٹرظفرمرزا نے سفارت کاری کا حق ادا کردیا ،اطلاعات کےمطابق پاکستان نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مقبوضہ کشمیر سے فوری طور پر کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کردیا ۔

    https://www.youtube.com/watch?v=e4qtbnjfQAw

    وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا ڈاکٹر ظفر مرزا نے سارک کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں کشمیریوں کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے لاک ڈاون ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بغیر روک ٹوک امداد کی فراہمی پر بھی زور دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں ،کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے مقبوضہ کشمیر میں اطلاعات کی ترسیل ناگزیر ہے۔ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں مواصلاتی لاک ڈاون ختم کرے اور اطلاعات کی ترسیل پر پابندیاں اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو بلا تعطل طبی سہولیات فراہم کی جائیںاور انہیں بغیر کسی رکاوٹ کے امداد فراہم کی جائے ۔

    ڈاکٹرظفر مرزا کاکہنا تھا کہ ہمیں کرونا سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہو گا ،ڈبلیو ایچ او کی 4نکات پر مشتمل ایڈوائرس کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بہتر ذریعہ ہے اور پاکستان اس ضمن میں اقدامات کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سارک کل انسانیت کا پانچواں حصہ ہے ،سارک ممالک میں کرونا کے تصدیق شدہ کیسز موجود ہیں،سارک ممالک میں دنیا کے میگا سٹی موجود ہیں اور پاکستان کو سارک ممالک میں کرونا وائرس پھیلنے پر تشویش ہے

    ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے علاقائی سطح پر کوششوں کے لیے سارک سیکریٹریٹ کو بااختیار بنانے اور مینڈیٹ دینے پر زور دیا۔سارک ممالک کے حوالے سے اپنی تجاویز میں انہوں نے کہا کہ ‘خطے میں سفری حوالے سے اسکریننگ کی جائے، چین کی مؤثر کوششوں سے سیکھنے کے لیے سارک آبزر ور اسٹیٹ کا ایک طریقہ کار مرتب کیا جائے’۔

    ان کا کہنا تھا کہ سارک سیکریٹریٹ کوڈیٹا کے تبادلےکا بھی مینڈیٹ دیاجائے اور خطے میں ڈبلیو ایچ او کے طریقہ کار پر عمل کیا جائے تاکہ یہ وائرس پھیل نہ سکے۔انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان کی جانب سے سارک وزرائے صحت کانفرنس کی دی گئی تجویز پر فوری عمل کرنا چاہیے’۔

    کوروناوائرس کے خلاف پاکستان کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے وائرس کی روک تھام کے لیے اہم اقدامات کیےہیں کیونکہ پر سکون اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کی مدد سے اقدامات کیے جارہے ہیں، پاکستان نے مغربی سرحد 3ہفتوں کے لیے بند کر دی ہے اور کیسز کو محدود کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ 13 مارچ کو پہلی مرتبہ ہماری قومی سلامتی کمیٹی نے صحت کے معاملات پر طریقہ کار طے کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا اور وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔

    معاون خصوصی نے کہا کہ ‘ہماری پالیسی کے 4 بنیادی پہلو ہیں جن میں پہلا گورننس اور مالیات، دوسرا بچاؤ کی تدابیر، تیسرا کیسز میں کمی اور چوتھا قدم آگاہی شامل ہے’۔قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ کو وفاقی اور صوبائی سطح پر بین الرابطے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ معاملات پر وزیراعظم عمران خان براہ راست نظر رکھے ہوئے ہیں، 3ہفتوں کے لیےک تمام تعلیمی ادارے بند، بین الاقوامی پروازیں 3 ایئرپورٹس تک محدود اور تمام بڑے اجتماعات بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔خیال رہے کہ سارک ممالک میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ سری لنکا، بنگلہ دیش، مالدیپ، بھوٹان اور نیپال شامل ہیں، ویڈیو کانفرنس میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی بھی موجود تھے۔

    چین کے شہر ووہان سے دسمبر 2019 میں شروع ہونے والا نیا کووڈ-19 کورونا وائرس اب تک دنیا کے تقریبا 156 ممالک تک پھیل چکا ہے اور دنیا بھر میں ایک لاکھ 56 ہزار 400 سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

    چین کے بعد کورونا وائرس نے ابتدائی طور پر جنوبی کوریا اور ایران جیسے ممالک کو متاثر کیا اور وہاں مختصر عرصے میں مریضوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی مگر پھر کورونا وائرس نے اپنی رفتار مزید بڑھائی اور یورپ کے ساتھ ساتھ امریکا کو اپنا نیا مرکز بنایا۔

    کورونا وائرس کے مریضوں میں محض آخری 2 دن میں ہی 30 ہزار سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور سب سے زیادہ اضافہ یورپ میں دیکھا گیا، جہاں صرف اسپین میں ہی ایک دن میں 1500 کیسز ریکارڈ کیے گیے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں کرونا نہیں  بھارتی فوج نے چار نوجوان شہید کردیے

    مقبوضہ کشمیر میں کرونا نہیں بھارتی فوج نے چار نوجوان شہید کردیے

    سری نگر : بھارتی فوجیوں نے ضلع اننت ناگ میں چار نوجوان شہید کردیے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ایک کارروائی میں اتوار کی صبح ضلع اننت ناگ میں چار کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق فوجیوں نے نوجوانوں کو صبح ضلع کے علاقے وتر گام میں محاصرے اورتلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔ بھارتی فوجیوں نے وترگام، اچھہ بل اور اسلام آباد کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو بند کردیا اور گھرگھر تلاشی شروع کردی۔

    شہید نوجوانوں میں سے ایک کی شناخت طارق احمد کے طورپر ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ظلم جاری کشمیریوں کی ہوئی شہادتیں

    مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ظلم جاری کشمیریوں کی ہوئی شہادتیں

    مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ظلم جاری ہے، قابض فوج نے ظالمانہ کارروائی کرتے ہوئے 4 نوجوانوں کو شہید کر دیا۔

    باغی ٹی وی:بھارتی فوج کے مظالم سے مقبوضہ وادی انگار وادی بن چکی ہے، بھارت نے فوجی دہشت گردی کے دوران مزید کشمیریوں کو شہید کر دیا۔ ضلع اننت ناگ اسلام آباد کے گاؤں میں قابض فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں نوجوانوں کو شہید کیا، بھارتی فوج نے علاقے کو مکمل سیل کر دیا۔

    بھات کی ظالم فوج گلیوں اور سڑکوں پر گشت کر کے خوف وہراس پھیلاتی رہی، ظالمانہ کارروائی کے خلاف کشمیری عوام نے بھارت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔224 روز سے جاری کرفیو اور لاک ڈاؤن سے مقبوضہ وادی میں زندگی آج بھی قید ہے، وادی میں صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے، کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مظالم کے باوجود کشمیری بھارت سے آزادی کے لیے پرعزم ہیں۔

    واضح‌رہے کہ اس کے قبل اطلاعات کےمطابق بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے طلبا و طالبات نے وادی سے بھارتی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا.۔

    بھارتی اقدام کے تناظر میں نیویارک کے سکِڈمور کالج کی ایک یونیورسٹی کے محققین نے کالج اور یونیورسٹی کے مجموعی طور پر 600 طلبا و طالبات سے اکتوبر اور دسمبر 2019 کے درمیانی عرصے میں سروے کیا جس میں سے 91 فیصد جواب دہندہ نے مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوج کے انخلا کا مطالبہ کیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنت نظیر وادی کے ضلع بارہ مولا میں بھارتی فوج نے داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کیا اس دوران چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے بزرگ اور بچوں کو ہراساں جب کہ خواتین کیساتھ بدتمیزی کی گئی۔

    قابض بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران روایتی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک کشمیری نوجوان مدثر احمد بٹ کو گولیاں مار کر شہید کردیا اور لاش بھی لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار کردیا جس پر اہل خانہ کے ہمراہ علاقہ مکین احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے اور بھارتی فوج کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔

    بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھارتی فوج کی جارحیت پر پردہ ڈالنے کے لیے نوجوان کو مقابلے میں مارنے کا جھوٹا دعویٰ کیا، تاہم عینی شاہدین اور علاقہ مکینوں نے اس جھوٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے میڈیا کو حقائق سے آگاہ کر دیا۔

  • کشمیر میں 7 ماہ سے لگے کرفیو سے نظریں چھپانے والو ! اللہ تعالی نے پوری دنیا پر کرفیو لگا دیا :مبشرلقمان

    کشمیر میں 7 ماہ سے لگے کرفیو سے نظریں چھپانے والو ! اللہ تعالی نے پوری دنیا پر کرفیو لگا دیا :مبشرلقمان

    لاہور:کشمیر میں 7 ماہ سے لگے کرفیو سے نظریں چھپانے والو ! اللہ تعالی نے پوری دنیا پر کرفیو لگا دیا ،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے معروف صحافی سینیئرتجزیہ نگارمبشرلقمان نے دنیا والوں کے نام اپنے پیغام میں‌ کہا ہےکہ جوبویا گیا وہ آج کاٹ رہے ہیں ، کشمیر میں 7 ماہ سے کرفیولگا ہے کسی نے پرواہ تک نہ کی

    باغی ٹی وی کےمطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں مبشرلقمان نے دنیا والوں کویاد اورباورکراتے ہوئے ایک بہت بڑی بات کہی ہےکہ جب کشمیری بھارتی فوج کے مظالم میں چیخ چلا رہے تھے اوربھارتی فوج نے کشمیریوں پرمظالم کی انتہا کا نیا سلسلہ شروع کیا کسی نے کشمیریوں‌پرہونے والے مظالم کی پرواہ تک نہ کی

    مبشرلقمان نے کہا کہ آج اس بے رخی اورکشمیریوں پربھارتی فوج کے ظلم بھرے کرفیوسے دنیانے نظریں چرائیں تو اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کو کرفیو بنادیا ، اب تو احساس ہوا ہی ہوگا کہ کرفیوکتنا برا ہوتا ہے اورگھروں میں محصورہوجانا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے

  • مقبوضہ کشمیر کے 90 فیصد طلبہ کا بھارتی فوجیوں کی بے دخلی کا مطالبہ،بھارت کی غلامی قبول کرنے سے انکار

    مقبوضہ کشمیر کے 90 فیصد طلبہ کا بھارتی فوجیوں کی بے دخلی کا مطالبہ،بھارت کی غلامی قبول کرنے سے انکار

    مقبوضہ کشمیر:مقبوضہ کشمیر کے 90 فیصد طلبہ کا بھارتی فوجیوں کی بے دخلی کا مطالبہ،بھارت کی غلامی قبول کرنے سے انکار،اطلاعات کےمطابق بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے طلبا و طالبات نے وادی سے بھارتی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کردیا۔

    بھارتی اقدام کے تناظر میں نیویارک کے سکِڈمور کالج کی ایک یونیورسٹی کے محققین نے کالج اور یونیورسٹی کے مجموعی طور پر 600 طلبا و طالبات سے اکتوبر اور دسمبر 2019 کے درمیانی عرصے میں سروے کیا جس میں سے 91 فیصد جواب دہندہ نے مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوج کے انخلا کا مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے واشنگٹن پوسٹ میں تقریباً اتنی تعداد نے مقبوضہ کشمیر میں ایک ریفرنڈم کرانے کی حمایت کی تھی۔مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل سے متعلق سوال پر 64 فیصد طلبا و طالبات نے پاکستان جبکہ 79 فیصد نے مغربی طاقتوں کی حمایت میں اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

    سروے کے نتائج ہندو توا کی حامل حکومت کے اس دعویٰ کو مسترد کرتی ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں وادی کو محدود آزادی مل گئی اور وادی کو بھارت کا حصہ بنا کر دہائیوں پرانا مسئلہ حل ہوگیا۔اسکیڈمور کالج میں پولیٹیکل سائنس کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر یلینا بیبرمین نے کہا کہ ‘ سروے سے حاصل نتائج کی روشنی میں یہ سمجھا بہتر ہوگا کہ کشمیری نوجوان کچھ خودمختاری کو ترجیح دیں گے’۔

    اسکیڈمور کالج میں پولیٹیکل سائنس کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر یلینا بیبرمین نے بتایا کہ سروے مقبوضہ کشمیر کے مرکزی شہر سری نگر میں کیا گیا۔سروے سے واضح ہوا کہ کشمیری طلبا و طالبات نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے پیش کردہ ‘چار نکاتی مارمولے’ کو زیادہ اہمیت دی۔

  • ایک طرف کرونا کے حملے تو دوسری طرف قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں ایک اور کشمیری نوجوان شہید

    ایک طرف کرونا کے حملے تو دوسری طرف قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں ایک اور کشمیری نوجوان شہید

    سری نگر: ایک طرف کرونا کے حملے تو دوسری طرف قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں ایک اور کشمیری نوجوان شہید،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جارحیت میں ایک اور کشمیری نوجوان شہید ہوگیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنت نظیر وادی کے ضلع بارہ مولا میں بھارتی فوج نے داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کیا اس دوران چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے بزرگ اور بچوں کو ہراساں جب کہ خواتین کیساتھ بدتمیزی کی گئی۔

    قابض بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران روایتی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک کشمیری نوجوان مدثر احمد بٹ کو گولیاں مار کر شہید کردیا اور لاش بھی لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار کردیا جس پر اہل خانہ کے ہمراہ علاقہ مکین احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے اور بھارتی فوج کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔

    بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھارتی فوج کی جارحیت پر پردہ ڈالنے کے لیے نوجوان کو مقابلے میں مارنے کا جھوٹا دعویٰ کیا، تاہم عینی شاہدین اور علاقہ مکینوں نے اس جھوٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے میڈیا کو حقائق سے آگاہ کر دیا۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران اندھا دھند فائرنگ کر کے 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا تھا۔ اس طرح رواں ہفتے بھارتی فوج کی جارحیت میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد 3 ہوگئی ہے۔

  • عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    بھارت کو کشمیر میں خونی پنجے گاڑے ستر برس بیت گئے مگر سلام ہو ان بہادر ونڈر کشمیری مردوزن پر کہ نہتے ہو کر بھی دشمن کے دانت کٹھے کر رہے ہیں۔

    1989 سے آج تک لاکھوں جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود وطن کی آزادی کے لیے کشمیر ی اب بھی کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ کشمیر کی مائیں اپنے بیٹوں میںبے جگری سے جینے اور شوق شہادت کا یہ جذبہ نسل درنسل منتقل کرتی چلی آرہی ہیں۔

    تحریک کے روز اول سے ہی کشمیری خواتین اپنے بیٹوں ‘ بھائیوں اور شوہروں کو وطن پر قربان کرنے کیلئے ہر لمحہ تیارر ہتی ہیں ۔ عملی طورپر دیکھیں تو عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا کردار نہیں ملتا لیکن کشمیر مومنٹ کے تیز ہونے کے بعد 1989 میں کشمیری خواتین نے تنظیم سازی کرنے لگیں تو ساتھ ہی حریت تحریکوں کے خواتین ونگ بھی بننا شروع ہو گئے۔

    اس وقت سے آسیہ اندرابی ’ دختران ملت،زمردہ حبیب تحریک خواتین، یاسمین راجہ مسلم خواتین مرکز، فریدہ بہن جی ماس مومنٹ جموں وکشمیر اور پروینہ آہنگر اے پی ڈی چلا رہی ہیں۔

    ان خواتین کے تنظیموں میں سینکڑوں خواتین ممبرز بھی موجود ہیں جو نہ صرف عام کشمیری کو آزادی کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہیں۔ بلکہ 90 کے دہائی میں جب درندہ صفت بھارتی فوجیوں نے خواتین کی عزتیں پامال کرنا شروع کیں تو آسیہ اندرابی نے آگاہی مہم کے دوران خواتین کو اپنے پاس چاقو رکھنے اور دفاع کے طورپر اس کو استعمال کرنے کے طریقے بھی سیکھائے ۔

    یہی نہیں تحریک کے آغاز سے اب تک کشمیری خواتین مجاہدین کو پناہ دینے ان تک کھانا پہنچانے اور انہیں سیکورٹی فورسز سے بچانے میں بھی پیش پیش رہی ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد تو ہم مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھ رہے ہیں ۔

    لیکن پہلا آرگنائز احتجاجی مظاہرہ 1990 میں دختران ملت کی کال پر ہوا اور اس وقت خواتین نے مسجد میں جاکر نعرہ لگائے۔ اب وادی میں وہ دور لوٹ آیا ہے جب کشمیری خواتین کا اپنے رشتہ داروں کی تلاش اور کیسیز کی پیروی کے لیے دہلی کی عدالتوں اور تہاڑ جیل کے چکر لگانا معمول بن چکا ہے ۔

    پاکستانی قوم بھی کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے بے خبر نہیں، تحریک آزادی کے ستر سالوں کے اعصاب شکن مراحل سے گزر کرگزشتہ دو سو دنوں میں آزادی کی جد جہد میں عورتوں کی بھرپور شمولیت آنے والی صبح نو کے لیے امید کا پیغام دے رہی ہے۔ جہدوجد آزادی میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔

    مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔ مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گی۔

    چوبیس سال سے میرے شوہر جیل میں ہیں۔ لاکھوں کشمیری خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر کئی سالوں سے لاپتہ ہیں اور تاریخ میں پہلی بار کشمیری خواتین کے لیے (آدھی بیوہ )کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت کچھ بھی کر لے ہمارے اٹل ایمان کو شکست نہیں دے سکتا۔

    چیئرپرسن جموں کشمیر ماس موومنٹ فریدبہن جی کہتی ہیں کہ میرے بھائی بلال پر پاکستان سے وابستگی کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا بعدازاں دہلی دھماکوں کے بعد بھارتی فوجیوں نے نہ صرف مجھے گرفتار کیا بلکہ پانچ سال کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا اور 2001ء میں جیل سے رہا ہوئی تو بھارت کی جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کی قانونی مددکا بیڑہ اٹھایا۔ زمردہ حبیب تحریک خواتین کشمیر کی چیئرپرسن ہیں ۔

    وہ 1992ء سے آزادی کی تحریک میں متحرک ہیں اور اسی پاداش میں 5 سال کے لیے تہاڑ جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے قربانیاں گواہ ہیں کہ کشمیری عورت کو ڈرایا یا دھمکایا نہیں جاسکتا۔ مسلم خواتین مرکز کی چیئرپرسن یاسمین راجہ جو غلام نبی بٹ کی بیٹی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بچپن سے ہی پاکستان کی نغمے گاتی تھی۔

    ایک مرتبہ پاکستانی قومی ترانہ پڑھنے پر مجھے سکول سے نکال دیا گیا۔ مگر میری پاکستان کے ساتھ لگن کم نہیں ہوئی۔ اس دوران کئی بار جیل گئی ہوں اور رہا ہوئی ہوں۔ تحریک آزادی کشمیر کی ان چند نمایاں خواتین کے علاوہ دیگرکشمیری خواتین کا بھی آزادی کی جدوجہد میں کلیدی کردار رہا ہے۔

    اسلام اور آزادی کی اس شمع کو جلا رکھنے کے لیے برہان وانی کی شہادت کے بعد سے چلنے والی تیز ترین عوامی جدوجہدکو دبانے کے لیے بھارت کے ظلم وستم سے جہاں سو کشمیری شہید ہو ئے ان میںخواتین بھی شامل ہیں

    گزشتہ چھ ماہ میں یاسمین رحمان‘ سعیدہ بیگم ‘ نیلوفر‘ یاں اور فوزیہ صدیق سمیت کئی خواتین نے جام شہادت نوش کیا۔ وہیں خواتین کے پرامن ریلیوں ‘ جلسوں ‘ اور حتی کہ گھروں میں گرنے والے آنسووں گیس کے گولوں ‘ پیلٹ گن کے چھروں سے انشاء مقبول ‘ عرفی جان‘ شیروزہ میر‘ افراء جان‘ شیروزہ شکور کو آنکھوں کی روشنی سے ہاتھ دھونا پڑا۔

    یہی نہیں اس وقت ہزاروں کشمیری مائیں غربت کے باعث بچوں کی آنکھوں کا علاج نہیں کروا پا رہی ہیں ۔ جو پیلٹ گن کے چھرو ںسے متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 9 جولائی 2016ء سے 31 دسمبر 2016ء تک 1008 نوجوان پیلٹ گنوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے ۔ ان میں سے سو سے زائد کے والدین نے غربت کے باعث ان کی آنکھوں کا علاج ادھورا چھوڑ دیا ۔

    اعدادو شمار کے آئینے میں دیکھیں تو کشمیر میڈیا سروسز کے مطابق 1989ء سے 31 دسمبر 2016 ء تک کشمیر میں بیوہ خواتین کی تعداد 22,835 ہے۔ جبکہ 10,825 خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے واقعات پیش آچکے ہیں اور شہادتوں کے نتیجے میں 107,603بچے یتیم ہو چکے ہیں۔یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تحریک آزادی میں سرگرم کشمیری خواتین مالی پریشانی کے باوجودفلسطینی بہنوں کی طرح ہمت و حوصلہ کی مثال قائم کئے ہوئے ہیں۔

    کشمیر کی مظلوم عورتیں اسلام کے علمبردار خواب غفلت میں
    تحریر: یاسمین میر

  • کرونا وائرس: مقبوضہ جموں و کشمیر لمبے عرصے کے لیے بند کردیئے گئے

    کرونا وائرس: مقبوضہ جموں و کشمیر لمبے عرصے کے لیے بند کردیئے گئے

    سرینگر: کرونا وائرس: مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے،اطلاعات کے مطابق نیشنل ہیلتھ مشن کے ڈائریکٹر بھوپندر نے کہا ہے کہ کمارکرونا وائرس کی وجہ سےمقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے’

    مقبوضہ کشمیر :سے ذرائع کے مطابق آڈیٹوریم ہال میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نےکہا کہ’ این ایچ ایم کی لوگوں سے اپیل کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے جموں و کشمیر انتظامیہ تیار ہیں۔’

    انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں یونیورسٹی سطح تک تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے 31 مارچ تک بند رہیں گے جبکہ بورڈ امتحانات اپنے مقرر شدہ تاریخوں پر ہونگے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بھوپندر کمار نے کہا کہ’ ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پر ہجوم مقامات کا دورہ نہ کرے اور بلاوجہ سفر کرنے سے پرہیز کرے۔

    لوگوں سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے ڈائریکٹر این ایچ ایم نے کہا کہ’ اس سلسلے میں انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی جارہی اطلاعات پر ہی بھروسہ کیا جانا چاہیے۔’بھوپندر کمار نے کہا کہ لوگوں کو ہر طرح کی احتیاط برتنی چاہیئے اور صاف صفائی کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔علامات پائی جانے کی صورت میں فورا ڈاکٹر سے رابطہ کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صورتحال پر کڑی نگاہ رکھی جارہی ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر انہوں نے کورونا وائرس سے متاثرہ کسی بھی ملک کا دورہ کیا ہے تو وہ رضاکارانہ طور اپنے سفر کی تفصیلات حکام دیں۔ڈائریکٹر نے کہا کہ اس بیماری کے پھیلا کو موثر طور روکا جاسکتا ہے۔اسی مقصد کے لئے کورونا وائرس کے بارے میں معلومات عام کی جارہی ہے۔بھوپندر کمار نے مزید کہا کہ علامات اور سفری تفصیلات کی معلومات دینے کے لئے جموں اور سرینگر ائیر پورٹز پر مخصوص کانٹر قائم کئے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بیرون ریاستوں سے جموں وکشمیر آنے والے مسافروں کی لکھن پور او رلور منڈا میں سکریننگ کی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ جموں ، کٹرا اور ادھمپور ریلوے سٹیشنز پر ہیلپ ڈیسک قائم کئے جاچکے ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ حکومت نے سماجی، مذہبی یا سیاسی اجتماعات منعقد نہ کرنے کی لوگوں کو صلاح دی ہے۔ اس موقع پر ناظم اطلاعات ڈاکٹر سید سحرش اصغر اور جموں وکشمیر میں نوڈل آفیسر کورونا وائرس ڈاکٹر شفقت اقبال بھی موجو د تھے۔