Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری :کپواڑہ میں بھی 3 نوجوان گرفتار،لوگ گھروں میں‌ محصور

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری :کپواڑہ میں بھی 3 نوجوان گرفتار،لوگ گھروں میں‌ محصور

    سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری :کپواڑہ میں بھی 3 نوجوان گرفتار،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیکیورٹی فورسز نے بدھ کے روز جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں تین نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ ان تینوں کے ایک ہائی پروفائل کمانڈر بشیر پیر عرف امتیاز عالم سے قریبی رابطے تھے۔

    ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ایک مخصوص اطلاع پر پولیس اور فوج نے کپواڑہ کے کرال پورہ علاقے میں سرگرم حزب المجاہدین کے ارکان اعزاز پائیر ، ساکن کنن پوش پورہ کپواڑہ ، محمد الطاف پائیر اور عبد الروف ملک کو گرفتار کرلیا گیا ہے جو دارسن کپواڑہ کے رہائشی ہیں ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران ان کے پاس سے کچھ اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع کپواڑہ میں 2000سے اب تک 216مختلف واقعات میں 378افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ 1633واقعات میں 2723افراد شہید کئے گئے جن میں342شہری شامل ہیں۔ضلع کپواڑہ میں اسی عرصے میں 419سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔کپواڑہ میں 8خود کش حملوں میں 19سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 5زخمی ہوئے۔

  • مقبوضہ کشمیر : پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت 396 افراد گرفتار کئے ہیں:بھارتی حکومت نے تسلیم کرلیا

    مقبوضہ کشمیر : پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت 396 افراد گرفتار کئے ہیں:بھارتی حکومت نے تسلیم کرلیا

    کسرینگر:مقبوضہ کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت 396 افراد حراست میں لئے گئے،اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت نے بدھ کے روز پارلیمنٹ میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں حراست میں لئے گئے 4511 افراد میں سے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت 396 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔

    وزیر مملکت برائے امور داخلہ جی کشن ریڈی نے راجیہ سبھا میں شرومنی اکالی دل کے ممبر پارلیمنٹ سردار سکھدیو سنگھ دھندسا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جن لوگوں پرپی ایس اے عائد کیا گیا ،ان میں تین سابق وزرائے اعلی ، محبوبہ مفتی ، عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ شامل ہیں۔

    حکومت نے کہا کہ 7357افراد جن میں پتھراوکے ملزم، شرپسند ، زیرزمین کارکن، علیحدگی پسند،شامل ہیں ، کو اگست ، 2019 سے حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔کشمیر میں PSA کے تحت کل 8 مرکزی رہنماوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق 16 ستمبر ، 2019 کو ، رکن پارلیمنٹ اور تین بار سابق وزیر اعلی اور عمر عبد اللہ کے والد فاروق عبداللہ پر پی ایس اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔عمر ، محبوبہ اور فاروق ان درجنوں کشمیری سیاستدانوں میں شامل تھے جن کو آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔

  • مقبوضہ کشمیر: پلوامہ دستی بم حملے میں سی آر پی ایف اہلکارزخمی

    مقبوضہ کشمیر: پلوامہ دستی بم حملے میں سی آر پی ایف اہلکارزخمی

    سرینگر :مقبوضہ کشمیر: پلوامہ دستی بم حملے میں سی آر پی ایف اہلکارزخمی ,اطلاعات کےمطابق کی شام جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں پولیس اسٹیشن کاک پورہ پر مشتبہ افراد نے دستی بم پھینکا جس سے نیم فوجی دستے کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا

    ساوتھ ایشین وائر کوایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ دھماکے میں سی آر پی ایف کا ایک اہلکار سونو کمار زخمی ہوگیا۔انہوں نے بتایا کہ زخمی کو علاج کے لئے اسپتال منتقل کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق مین گیٹ پر مامور پولیس اہلکاروں نے کچھ ہوائی فائر کئے۔ اہلکار نے بتایا کہ واقعے کے فورا بعد ہی پولیس نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لئے علاقے میں تلاشی کا کام شروع کیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پلوامہ میں 2000سے اب تک 136مختلف واقعات میں 181سیکورٹی فورسز کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کے لئے برسر پیکار ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عظمت کو سلام،شاہ محمود قریشی

    مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کے لئے برسر پیکار ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عظمت کو سلام،شاہ محمود قریشی

    ملتان:مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کے لئے برسر پیکار ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عظمت کو سلام، اطلاعات کےمطابق پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کے لئے برسر پیکار ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔

    خواتین کے عالمی دن کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں اپنے حق خود ارادیت کے لئے برسر پیکار ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عظمت کو خصوصی سلام پیش کرنا چاہتا ہوں۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج کا دن اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم خواتین کو آگے بڑھنے کے لیے یکساں مواقع مہیا کرنے کا تہیہ کریں، ان تمام ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔

  • مدھیہ پردیش: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو آزاد کشمیر تسلیم کر لیاگیا

    مدھیہ پردیش: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو آزاد کشمیر تسلیم کر لیاگیا

    بھوپال: دسویں جماعت کے امتحانی پرچے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو آزاد کشمیر تسلیم کر لیاگیا،بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں دسویں کلاس (سائنس )کے ایک امتحانی سوالنامے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو دو بار آزاد کشمیر لکھ دیاگیا۔ یہ اصطلاح مدھیہ پردیش بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (ایم پی بی ایس ای)کے کلاس 10 کے سوشل سائنس کے پرچے میں سامنے آئی۔

    امتحانی پرچے میں ایک سوال میں طلبا سے ہندوستان کے نقشے پر آزاد کشمیر کی نشاندہی کرنے کو کہا گیا جبکہ ایک اور سوال میں طلبا کو دو کالم میں فہرستیں دی گئیں اور ان کے درست جواب سے میچ کرنے کو کہا گیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس واقعے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلی کمل ناتھ نے سخت کارروائی کا حکم دیا۔ان سوالات کو اب ختم کر دیا گیا ہے اور پرچے کے کل نمبر کم کرکے 90 کردیئے گئے ہیں۔

    ایم پی بی ایس ای کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پیپر سیٹر اور ناظم کو معطل کردیا گیا ہے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

    ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت نے اس واقعے پر حکمران جماعت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ القمرآن لائن کے مطابق بی جے پی کے ترجمان رجنیش اگروال ، نے ٹویٹر پرپرچے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے ، ہندوستانی حکومت نے اس سلسلے میں ایک قرارداد پاس کی ہے۔ کیا مدھیہ پردیش کی کانگریس حکومت ہے جس نے آزادکشمیر کو تسلیم کرلیا۔

    انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس کے ذمہ دار شخص کے خلاف ملکی بغاوت کا مقدمہ درج کیا جائے،کانگریس کے ترجمان نریندر سلوجا نے کہا کہ وزیر اعلی ناتھ نے واقعے پر برہمی کا اظہار کیا۔

  • کشمیری خواتین کے جنسی استحصال کو بھارتی فوج بطور ہتھیار استعمال کرنے لگی

    کشمیری خواتین کے جنسی استحصال کو بھارتی فوج بطور ہتھیار استعمال کرنے لگی

    کشمیری خواتین کے جنسی استحصال کو بھارتی فوج بطور ہتھیار استعمال کرنے لگی
    باغی ٹی وی رپورٹ : کشمیر میں خواتین کے جنسی استحصال کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ ان واقعات کو فوجی مقاصد یعنی سیاسی دہشت گردی ، آزادی کی آواز دبانے اور سٹیٹس کو کے خلاف مزاحمت کچلنے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے- گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیری خواتین اپنے وطن میں امن اور بنیادی حقوق کے حصول کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں –
    کشمیرکی مائیں اب بھی 1991 میں کشمیری خواتین سے ہونے والے اجتماعی زیادتی کے واقعات کا سوچتی ہیں تو خوف سے کانپ جاتی ہیں۔ کشمیر کی نوجوان لڑکیوں کو بھی ان دیکھی آفت کا سوچ کر ہول اٹھتے ہیں جو یہ سنتے سنتے بڑی ہوئی ہیں کہ آزادی کشمیر کی اگر جنگ ہوئی تو جانیں جائیں گی اور اموات کی گنتی ہو جائے گی مگر کتنی کشمیری عورتوں کی عزتیں پامال ہوں گی، قابض فوج کے ہاتھوں کتنوں کے جسم نوچے جائیں گے، ان دردوں کا شمار ممکن نہ ہوگا۔
    5اگست 2019کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد یو پی سے بی جے پی کے رہنما وکرام سنگھ سائنی نے پارٹی کارکنوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ ان کے وزیراعظم مودی نے کشمیر کے راستے کھول دیے، بھارتی جنتا اور خاص طور پر مسلمان لڑکوں کو خوش ہونا چاہیے کہ اب وہ گورے رنگ کی کشمیری لڑکیوں سے شادی رچا سکیں گے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ایسے ہی بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھتر نے ایک جلسے میں کہا کہ ہریانہ کی آبادی میں جنس کے تناسب کو برابر کرنے کے لیے کشمیر سے گوری لڑکیاں لے آئیں گے۔ ان کی اس بات پر جلسے کے شرکا نے ایک ٹھٹھا لگایا اور تالیاں بجائیں جیسے کشمیر کی لڑکیاں نہ ہوئیں ریوڑیاں ہیں جو جب میٹھا کھانے کا جی چاہا اٹھا لائیں گے۔
    شاید کسی کو بھارتی حکمران جماعت سمیت مذہبی شدت پسندوں کی اس سوچ پر حیرت ہو رہی ہو، شاید کسی کو یہ گمان ہو کہ یہ محض سیاسی بیانات ہیں، مگر کشمیر کی 70 سالہ سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کشمیری خواتین کے ساتھ ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ کشمیری خواتین ہمیشہ سے نشانے پر رہی ہیں۔
    القمرآن لائن کے مطابق نوے کی دہائی میں بین الاقوامی میڈیا میں ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے کہ پوری بارات کے سامنے نوبیاہتا دلہن کی عصمت دری کی گئی۔ یہ سب صدیوں پرانی تاریخ نہیں ابھی کوئی 30 سال پرانی باتیں ہیں جن کے متاثرہ خاندان اب بھی اس ناسور کو دل میں لیے بیٹھے ہیں۔
    بھارتی فوج کی جانب یہ عذر پیش کیا جاتا رہا ہے کہ گھروں پر سرچ آپریشن اور گھریلو خواتین سے تفتیش اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ وادی کے رہائشی کشمیری عسکریت پسندوں کو پناہ دیتے ہیں۔ تاہم گھروں پر ہونے والے یہ سرچ آپریشن صرف عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاون نہیں، کشمیریوں کو نفسیاتی شکست دینے کا ایک حربہ رہا ہے۔
    متنا زعہ علاقوں میں خواتین پر سب سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور مقبوضہ علاقوں میں وہ مظالم کا شکار بنتی ہیں یہی صورتِ حال مقبوضہ کشمیر میں بھی ہے- ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق کشمیر انسانی ظلم وجبر کی بدترین مثال ہے اوربالخصوص وہاں عورتوں کے حقوق کی صورتِ حال انتہائی دگرگوں ہے- کشمیر میں خواتین بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں جو یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس (UDHR) اور خواتین کے حقوق کے عالمی بل یعنی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاس کئے گئے Convention on the elimination of all form of discrimnation against women (CEDAW)کے تحت دیئے گئے ہیں یہ بل عورتوں کو سیاسی ،معاشرتی ، ثقا فتی اور زندگی کے کسی بھی شعبہ میں بنیادی حقوق اور آزادی فراہم کرتا ہے- القمرآن لائن کے مطابق بد قسمتی سے عالمی قوانین کا کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر کوئی اثرنہیں ہے اور بھارتی حکومت کشمیر میں عوام بالخصوص خواتین کو اِن کے بنیادی حقوق فراہم نہیں کر رہی- یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومتیں عالمی مبصرین اور غیر ملکی صحافیوں کو جموں و کشمیر میں داخلہ کی اجازت نہیں دیتیں –
    کشمیر میں عورتوں کی عصمت دری بنا خوف و خطر کی جاتی ہے- بھارتی حکومت کے جبر، انتقامی کاروائی اور معاشرے میں بدنامی کے خوف کی وجہ سے بہت سے کیسز رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے- مزید برآں بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نافذ کردہ سیاہ قوانین قابض افواج کے جرائم کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور اس سے کشمیریوں کے دکھ درد میں مزید اضافہ ہوا ہے –
    بیوہ خواتین اپنے مقتول شوہروں کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہیں کیونکہ آٹھ لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں ان کیلئے اپنے اور اپنے بچوں کیلئے روزگار کمانا ناممکن بن گیا ہے – ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق یتیموں کو صحت اور تعلیم کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ کشمیر میں یہ حالات حادثاتی نہیں بلکہ انہیں فوجی مقاصد یعنی سیاسی دہشت گردی ، آزادی کی آواز دبانے اور سٹیٹس کو کے خلاف مزاحمت کچلنے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے ہاتھوں دوہزارسے زائد خواتین شہید،9فیصد جنسی استحصال کا شکار ، لرزہ خیز رپورٹ

    مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے ہاتھوں دوہزارسے زائد خواتین شہید،9فیصد جنسی استحصال کا شکار ، لرزہ خیز رپورٹ

    مقبوضہ کشمیر : دوہزارسے زائد خواتین شہید، 9فیصد کشمیری خواتین جنسی استحصال کا شکار ، لرزہ خیز رپورٹ

    باغی ٹی وی : آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کے ساتھ ہونے والے نارواسلوک کو ختم کرنا ہے۔
    آٹھ مارچ 1907 میں نیو یارک میں لباس سازی کی فیکٹری میں کام کرنے والی سینکڑوں خواتین نے مردوں کے مساوی حقوق اور اپنے حالات بہتر کرنے کے لیے مظاہرہ کیاتھا۔پولیس نے سینکڑوں خواتین کو نہ صرف لاٹھیاں مار کر لہو لہان کیا بلکہ بہت سی خواتین کو جیلوں میں بھی بند کر دیا گیا۔ 1910 میں کوپن ہیگن میں خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں 17 سے زائد ممالک کی تقریبا ایک سو خواتین نے شرکت کی۔ کانفرنس میں عورتوں پر ہونے والے ظلم واستحصال کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔
    سب سے پہلے 1909 میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکا نے عورتوں کا دن منانے کی قرارداد منظورکی۔ 1913 تک ہر سال فروری کے آخری اتوارکو عورتوں کا دن منایا جاتا تھا۔ پھر 1913 میں پہلی دفعہ روس میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔
    اس دن کے موقع پر ساؤتھ ایشین وائر نے اپنی جاری کردہ ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میںجنوری 1989ء سے اب تک بھارتی فوجیوں نے دوہزارسے زائد خواتین کو شہید کیا ۔جنوری 2001سے اب تک کم سے کم670سے زائد خواتین شہید ہوئیں۔1989ء سے اب تک 20ہزار کے قریب خواتین بیوہ ہوئیں۔
    1989 میں حریت پسندجدوجہد شروع ہونے کے بعد سے کشمیر میں خواتین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی ، تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، معذور اور قتل کیا گیا۔ کشمیری خواتین دنیا میں بدترین جنسی تشدد کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 9فیصد کشمیری خواتین جنسی استحصال کا شکار ہوئی ہیں۔
    کشمیری مزاحمتی رہنماوں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں پیش آنے والے سانحہ کنن پوش پورہ، اجتماعی عصمت دری اور سانحہ شوپیاں سمیت خواتین کے خلاف عصمت دری ، قتل اور انسانی حقوق کی پامالی کے دیگر واقعات کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیاہے ۔ فروری 1991 میں کپواڑہ کے کنن پوش پورہ میں بھارتی فوجیوں نے 100 سے زائد خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی جبکہ دو خواتین آسیہ اور نیلوفر کو مئی 2009 میں شوپیاں میں وردی میں بھارتی اہلکاروں نے اغوا کیا ، زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد قتل کردیا جبکہ2018میں جموں کے علاقے کٹھوعہ میں 9 سالہ بچی آصفہ کی بھارتی پولیس اور ایک ہندو پجاری نے اجتماعی عصمت دری کی تھی۔
    گھناونے فعل میں پاٹ پوجا کرنے والا بھی شامل تھا تو کم عمر لڑکے بھی۔ اس پر ہی بس نہیں ہوئی زیادتی کرنے والوں نے تو جو کیا سو کیا، بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماوں نے ملزمان کے حق میں جلسے بھی کئے۔
    ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج خواتین کی عصمت دری کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ پورٹ کے مطابق زیادتی کے بیشتر واقعات محاصرے اور تلاشی کے آپریشنز کے دوران پیش آئے ۔ ایچ آر ڈبلیو کی ایک اوررپورٹ کے مطابق ، کشمیر میں سکیورٹی اہلکاروں نے عصمت دری کو انسداد بغاوت کے حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔القمرآن لائن کی ایک رپورٹ میں ایک اسکالر انجر سکجلس بائیک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں عصمت دری کا انداز یہ ہے کہ جب فوجی سویلین رہائش گاہوں میں داخل ہوتے ہیں تو وہ عورتوں سے زیادتی سے قبل مردوں کو مار ڈالتے ہیں یا بے دخل کردیتے ہیں۔ ایک اور اسکالر شبھ متھور نے عصمت دری کو "کشمیر میں بھارتی فوجی حکمت عملی کا ایک لازمی عنصر” قرار دیا ہے۔
    فوجیوں کے کچھ انٹرویو زکے دوران اس سوال پرکہ انہوں نے مقامی کشمیری خواتین سے زیادتی کیوں کی ، کچھ نے جواب دیا کہ کشمیری خواتین خوبصورت ہیں۔ دوسروں نے کہا کہ یہ غیر فیملی اسٹیشن ہے۔ ایک سپاہی نے جواب دیا کہ اس نے بدلے میںایک کشمیری خاتون کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ "ان کے مردوں نے اس کی برادری کی خواتین کے ساتھ بالکل ایسا ہی سلوک کیا۔
    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ 8جولائی 2016کو کشمیری نوجوان برہان وانی کے قتل کے بعد سے سینکڑوں کشمیری نوجوان اور طلبہ اور طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے گولیوں اورپیلٹ گنزکے استعمال سے زخمی ہو چکے ہیں ۔ ان زخمیوں میں سے انشاء مشتاق اورافراء شکور سمیت کم سے کم 70بچے اور بچیاں بینائی کھو چکے ہیں جبکہ 18ماہ کی شیر خوار بچی حبہ نثار اور 32سالہ نصرت جان کی بینائی جزوی طورپر متاثر ہوئی ۔
    آزادی پسند رہنمائوں آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت متعدد خواتین پر نظربند ہیں۔ جبکہ 3مارچ کو بھارتی تفتیشی ایجنسی، این آئی اے نے ایک نوجوان خاتون انشا طارق (26) کو پلوامہ حملہ کیس میں گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا ۔جس پر حریت تنظیموں اور رہنماوں نے شدید احتجاج کیا۔
    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کشمیریوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ جن کے عزیز اور رشتہ دار لاپتہ ہیں۔

  • خواتین کے عالمی دن پر، کشمیری خواتین پرہونے والے مظالم کی ہیبتناک داستانیں ، پڑھنا نہ بھولیئے

    خواتین کے عالمی دن پر، کشمیری خواتین پرہونے والے مظالم کی ہیبتناک داستانیں ، پڑھنا نہ بھولیئے

    سرینگر:خواتین کے عالمی دن پر، کشمیری خواتین پرہونے والے مظالم کی ہیبتناک داستانیں ، پڑھنا نہ بھولیئے ،اطلاعات کےمطابق آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کے ساتھ ہونے والے نارواسلوک کو ختم کرنا ہے۔

    متنا زعہ علاقوں میں خواتین پر سب سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور مقبوضہ علاقوں میں وہ مظالم کا شکار بنتی ہیں یہی صورتِ حال مقبوضہ کشمیر میں بھی ہے- ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق کشمیر انسانی ظلم وجبر کی بدترین مثال ہے اوریہاں اب تک دس ہزار سے زیادہ خواتین جنسی جرائم کا شکار ہوئی ہیں۔

    وادی کشمیر میں ہندوستانی سیکیورٹی فورسزکے ہاتھوں خواتین کی عصمت دری کے چند اہم اور بڑے واقعات کا جائزہ لیا ہے۔بارہ مولہ کے سوپور علاقے کے قصبے جمیر قدیم میں26 جون 1990 کو بی ایس ایف نے پڑوسی کی تلاشی کے دوران جمیر قدیم کی ایک چوبیس سالہ خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ سوپور پولیس نے اسی سال جولائی میں بی ایس ایف کے خلاف مقدمہ درج کیا ۔

    سرینگر میں7مارچ 1990کو چھان پورہ میں ، سی آر پی ایف نے سری نگر کے چھن پورہ علاقے میں متعدد گھروں پر چھاپہ مارا۔ چھاپوں کے دوران متعدد خواتین کے ساتھ عصمت دری کی گئی ۔ زیادتی کا نشانہ بننے والی نورا (24) کو سی آر پی ایف کے 20 افراد نے زبردستی کچن سے باہر نکالااور اس کی بہن زونہ کے ساتھ زیادتی کی۔ زیادتی کا نشانہ بنانے والے افراد نے دو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ بھی بدتمیزی کی ۔

    1991میں سرینگر میں بربر شاہ کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے ایک ذہنی مریض بوڑھی عورت کے ساتھ زیادتی کی۔ کنن پوش پورہ میں 23 فروری 1991 کو ، بھارتی فوج کے ایک یونٹ نے وادی کے ضلع کپواڑہ کے کنن پوش پورہ کے جڑواں گاوں میں تلاشی اور تفتیشی کارروائی شروع کی۔ فوجیوں نے خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی جن کی تعداد 23 سے 100 تک تھی ۔

    پازی پورہ-بیلی پورہ ،جو کنن پوش پورہ سے صرف چند کلومیٹر دور ہے،میں 20 اگست 1991 کو ، فوجیوں نے بڑے پیمانے پر خواتین کی عصمت دری کی، اس معاملے میں عصمت دری کا نشانہ بننے والوں کی تعداد آٹھ سے پندرہ کے درمیان تھی۔

    ضلع گاندر بل کے علاقے چک سید پورہ میں 10 اکتوبر 1992 کو ، 22 ویں گرینیڈیئرز کی ایک فوجی یونٹ چک سیدپورہ گاوں میں داخل ہوئی۔ فوج کے متعدد فوجیوں نے 9خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی جن میں ایک 11 سالہ بچی اور ایک 60 سالہ خاتون شامل ہیں۔

    سوپورکے علاقے ہاران میں20 جولائی 1992 کو آرمی سرچ آپریشن کے دوران متعدد خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ضلع کپواڑہ کی تحصیل ہندواڑہ میں یکم اکتوبر 1992 کو ، گور ہکھر ، باکھیہرکے علاقے میں دس افراد کو ہلاک کرنے کے بعد ، بی ایس ایف فورسز نے گاوں میں گھس کر خواتین کی عصمت دری کی۔ ایک انٹرویو میں ایک خاتون نے عصمت دری کا شکار ہونے والی اپنی بیٹی کی شناخت چھپانے کی کوشش کی ۔

    ضلع اننت ناگ کی تحصیل بیج بہاڑہ میں 1993کوبیج بہاڑہ کے قتل عام سے قبل اجتماعی عصمت دری کا ایک بہت بڑا واقعہ پیش آیا۔ بعدازاں ، اگست میں ، فوجیوں نے بیج بہاڑہ قصبے کے نواح ،گجنگی پورہ میں، ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کی۔ کپواڑہ کے گاوں ہائی ہاما میں17 جون 1994 کو راشٹریہ رائفلز کے دستوں نے سات خواتین کے ساتھ عصمت دری کی ، جس میں دو افسران میجر رمیش اور راج کمار بھی شامل تھے۔

    ضلع بڈگام کے شیخ پورہ علاقے میں (1994) ایک 60 سالہ خاتون کے کے اہل خانہ کو بند کرکے اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ ضلع گاندر بل کے علاقے کنگن میں (1994) کوتھیانو بڈاپاتری میں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے ایک خاتون اور اس کی 12 سالہ بیٹی کے ساتھ زیادتی کی۔

    ضلع پلوامہ کے وڈون گاوں میں 30 دسمبر 1995 کو ، راشٹریہ رائفلز کے سپاہی ایک گھر میں داخل ہوئے اور تین خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی ۔پلوامہ کے علاقے ناربل پانزلگام میں نومبر 1997 کوایک لڑکی کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

    سری نگر میں 13 اپریل 1997 کو بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے قریب بارہ نوجوان کشمیری لڑکیوں کی اجتماعی عصمت دری کی۔ سرینگر کے علاقے واوسا میں 22 اپریل 1997 کو ، ہندوستانی مسلح افواج کے متعدد اہلکار گاوں میں ایک 32 سالہ خاتون کے گھر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے اس کی 12 سالہ بیٹی اور14 ، 16 اور 18 سال کی تین دیگر بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کی۔ ایک اور خاتون کو فوجیوں نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ زیادتی روکنے پر پیٹا۔

    ڈوڈہ میں (1998) میں گاوں لدنہ کی ایک پچاس سالہ رہائشی نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ 5 اکتوبر 1998 کو آٹھویں راشٹریہ رائفلز کے اہلکار اس کے گھر آئے۔اس کے بعد اسے ایک ہندو کپتان نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس سے کہا: "تم مسلمان ہو ، اور تم سب کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا۔”

    جموں کے ضلع ڈوڈہ کے بیہوٹا مرمت میں 29 اکتوبر 2000 کو ، 15 بہار رجمنٹ کے اہلکارایک کورڈن اور سرچ آپریشن کے دوران ایک عورت کو اٹھا کر ایک کیمپ میں لے گئے۔ اگلے دن بیس خواتین نے کچھ مردوں کے ساتھ اس عورت کی رہائی کے لئے ریلی نکالی ۔ ان خواتین کو چار سے پانچ گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا اور ان پر جنسی تشدد کیا گیا۔

    سرینگر کے علاقے زیرو برج میں (2004) چار سکیورٹی اہلکاروں نے 28 اکتوبر کو ایک گیسٹ ہاس میں 21 سالہ خاتون سے زیادتی کی۔

    ہندواڑہ میں6 نومبر (2004)کو شہر بیڈپائین میں ایک ماں اور اس کی بیٹی کے ساتھ ایک میجر نے زیادتی کی ۔

    2009 میں مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں کے علاقے بونگام میں 29 اور 30 مئی کی درمیانی رات ہندوستانی فوجیوں نے دو خواتین ، آسیہ اور نیلوفر جان کو مبینہ طور پر اغوا کیا ، زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا۔
    جموں کے علاقے کٹھوعہ میں جنوری ، 2018 میں ، کٹھوعہ کے قریب رسانہ گاوں میں ، 8 سالہ بچی ، آصفہ بانو کی اغوا کے بعد، عصمت دری کی گئی اور قتل کیا گیا

  • عوامی تحریک یوتھ ونگ کے زیراہتمام’مسئلہ کشمیر کے حل‘‘ کے عنوان سے  کانفرنس کا انعقاد

    عوامی تحریک یوتھ ونگ کے زیراہتمام’مسئلہ کشمیر کے حل‘‘ کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

    لاہور :پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ کے زیراہتمام مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں آل پارٹیز یوتھ اینڈ طلباء کانفرنس میں پاکستان کی 30 سے زائد یوتھ اور طلباء تنظیمات کے رہنماوں نے شرکت کی ، ’

    ’مسئلہ کشمیر کے حل‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں عوامی تحریک یوتھ ونگ ، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ، مسلم لیگ ق یوتھ، جماعت اسلامی یوتھ، جمیعت یوتھ، پنجاب یوتھ، پیپلز یوتھ آرگنائزیشن ، انصاف یوتھ، اہل حدیث یوتھ فورس، امامیہ یوتھ، مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ، انصاف یوتھ فیڈریشن، جعفریہ سٹوڈنٹ، جمیعت سٹوڈنٹ، پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت دیگر جماعتوں کے یوتھ ونگز کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

    یوتھ رہنماوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم اور 200 دن سزائد سے جاری کرفیو پر شدید تشویش کا اظہار کیا، رہنماوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کانفرنس کے انعقاد پر عوامی تحریک یوتھ ونگ کو خراج تحسین پیش کیا۔

    کانفرنس کی صدارت عوامی تحریک یوتھ ونگ کے مرکزی صدر مظہر محمود علوی نے کی۔کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ 23 مارچ یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان کی تمام یوتھ ونگز اور طلباء تنظیمات آزاد کشمیر مظفرآباد میں کشمیر مارچ کریں گی۔ اس حوالے سے انتظامی کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئیں۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مظہر محمود علوی نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا واحدحل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرنا ہے، پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلے عام خلاف ورزیاں کررہا ہے، نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، خواتین اور بچوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کشمیریوں پر مظالم روکنے کے لیے دنیا کے موثر ممالک اور اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا چاہیے۔

    مظہر علوی نے کہا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی خاموشی بھی اس حوالے سے افسوسناک ہے۔ کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے عالمی سطح پر پائے جانے والی سرد مہری ساری دنیا کے لیے سوالیہ نشان ہے۔کشمیر کا مسئلہ ڈائیلاگ کے ذریعے حل ہونا چاہیے، یواین کی قراردوں پر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے، کشمیرکاحق خودارادیت عالمی طور پر مسلمہ ہے، بھارت ہٹ دھرمی تر ک کر کے مکالمے کا دروازہ کھولے اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی ٹیبل پر مسئلہ کشمیر کو حل کرے۔ بھارت مسئلے کو حل کرنے کی نیت سے مذاکرات کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ مسئلہ کشمیر کاحل نہ نکل سکے۔ خطے کے امن کے لیے کشمیر کے مسئلہ حل ہونا ضروری ہے۔

    کانفرنس سےکنوینیئر نیشنل یوتھ الائنس چوہدری علی رضا نت،سردار عثمان عتیق، ملک حمزہ کرامت، سید خطیب الحسن، مہر صدام حسین، سہیل چیمہ،حافظ عامرشہزاد،ملک شاہدنوید،سید خطیبالحسن،فوادصدیقی،حیدرصفدر،حیدرکرار،عمرعبدالحمید،حافظقسیم،راجہ عمیر، محسن شہزاد مغل، محسن مصطفوی، ضلج انقلابی، میر احسن و دیگر رہنماوں نے بھی خطاب کیا۔

  • کرونا وائرس مقبوضہ کشمیر پرحملہ آور،  پہلے مریض کی تصدیق

    کرونا وائرس مقبوضہ کشمیر پرحملہ آور، پہلے مریض کی تصدیق

    سری نگر:کرونا وائرس مقبوضہ کشمیر پرحملہ آور، پہلے مریض کی تصدیق،اطلاعات کےمطابق چین سے دنیا بھر میں پھیلنے والا ہلاکت خیز کورونا وائرس مقبوضہ کشمیر بھی پہنچ گیا جہاں پہلے مریض کی تصدیق ہوگئی ہےعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کی تصدیق ہوگئی ہے، مریض کو گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    قبل ازیں مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے دو مشتبہ مریضوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا یہ دونوں حال ہی میں ایران اور جنوبی کوریا سے واپس لوٹے تھے جہاں کورونا وائرس کے کثیر مریض ہیں تاہم دونوں کا طبی ٹیسٹ ہونا باقی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کی تصدیق کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر تمام اسکولوں کو 31 مارچ تک کے لیے بند کر دیا گیا ہے جب کہ اجتماعات پر پابندی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3 ہزار 500 ہے جن میں چین سے باہر اب تک 414 ہلاکتیں ہوئی ہیں اور 20 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔