Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیر ترکی کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کے لیے ہے،ترک صدرطیب اردوان کے بیان سے بھارت میں‌ زلزلہ

    کشمیر ترکی کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کے لیے ہے،ترک صدرطیب اردوان کے بیان سے بھارت میں‌ زلزلہ

    نئی دہلی :کشمیر ترکی کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کے لیے ہے،ترک صدرطیب اردوان کے بیان سے بھارت میں‌ زلزلہ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے دورے پرآئے ہوئے برادراسلامی ملک ترکی کے صدرطیب اردوان کے کشمیرپربیان سے بھارت میں اس وقت زلزلہ برپا ہے اورفوجی جرنیلوں سے لیکرمودی کے یاروں تک سب بے چین دکھائی رے ر ہے ہیں

    باغی ٹی وی کےمطابق بھارتی میڈیا اس وقت سکتے کے عالم میں ہے، بھارتی میڈیا نے ترک صدر طیب اردوان کے بیان کو بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی قراردیتے ہوئے کہا ہےکہ اس بیان کے بعد کشمیریوں‌کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں اوراب وہ بھارت کے کسی بھی چکمے میں نہیں آئیں گے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مودی نے آج شام دہلی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ اوراعلیٰ حکومتی عہدیداروں کا اجلاس طلب کرلیا ہے اورترک صدر کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پربحث کی جائے گی ،

    باغی ٹی وی کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں اس وقت ترک صدر طیب اردوان اورعمران خان کے حق میں نعرے گونج رہے ہیں اورکشمیری اپنے گھروں سے باہرنکل آئے ہیں‌ اورکشمیربنے گا پاکستان،کشمیریوں کی جان عمران خان اوراردوان کے نعروں سے کشمیرکی بلندوبالا پہاڑیاں گونج اٹھی ہیں

    ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ترکی کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کے لیے ہے۔

    رجب طیب اردگان نے اپنے دورے کے دوران پاکستانی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے کہا کہ ‘ مسئلہ کشمیر تنازعہ جبر سے نہیں بلکہ انصاف اور مساوات کی بنیاد پر حل کیا جاسکتا ہے۔’ان کا یہ بیان جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت دفعہ 370 کی منسوخی کے چھ ماہ سے زائد عرصے کے بعد سامنے آیا ہے۔

  • سیاسی لیڈروں کی نظربندی بھارت کے آئین کے خلاف ہے۔ سابق سپریم کورٹ جج

    سیاسی لیڈروں کی نظربندی بھارت کے آئین کے خلاف ہے۔ سابق سپریم کورٹ جج

    سرینگر:سیاسی لیڈروں کی نظربندی بھارت کے آئین کے خلاف ہے۔اطلاعات کےمطابق سپریم کورٹ کے سابق جسٹس نے نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کرنے کو انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہاکہ عمر عبداللہ سمیت جتنے بھی لیڈران کو نظر بند کیا گیا وہ آئین ہند کے آرٹیکل 21کی خلاف ورزی ہے۔

    انہوں نے کہاکہ عمر عبدا ﷲپر پی ایس اے عائد کرنے کے حوالے سے جو ڈوزئیر بنایا گیا وہ زمینی سطح پر میل ہی نہیں کھا رہا ہے۔ سابق جسٹس کے مطابق عمر عبدا ﷲنے کھبی بھی ملک کے خلاف بیان نہیں دیا اور نہ ہی تشدد کے حامی رہے بلکہ وہ بھارتی آئین کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق عدالتِ عظمیٰ کے سابق جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے عمر عبدا ﷲ ، فاروق عبدا ﷲ اور محبوبہ مفتی کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہاکہ حکومت آئین ہند کی دفعہ 21کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ عمر عبدا ﷲ پر عائد پی ایس اے کے حوالے سے جو ڈوزئیر بنایا گیا وہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تین صفحات پر مشتمل ڈوزئیر میں لکھا گیا ہے کہ 370کی تنسیخ کے بعد عمر عبدا ﷲنے اس کے خلاف بیانات دئے جبکہ وہ رائے دہند گان کو ووٹ ڈالنے کے ضمن میں حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے ۔

    مارکنڈے کاٹجو نے کہاکہ ڈوزئیر زمینی حقائق کے برعکس ہے کیونکہ عمر عبدا ﷲ پرآج تک کسی نے یہ الزام نہیں لگایا کہ وہ تشدد کے حامی ہیں اور نہ ہی اُنہوں نے تشدد آمیز بیان دیا لہذا اُن پر پی ایس اے کا اطلاق کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔عمر عبدا ﷲکا جو سیاسی کیرئیر ہے اگر اُس پر نظر دوڑائی جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ آئین ہند کو تسلیم کرتے ہیں ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مارکنڈے کاٹجو نے کہاکہ گورنمنٹ پر تنقید کرنا کوئی جرم نہیں ہے کیونکہ جمہوریت اور ملک کے دستور نے ہر کسی کو شہری کو یہ حق دیا ہے کہ جہاں پر بھی حکومت غلط قدم اُٹھائے تو اُس کے خلاف پُر امن احتجاج کرنا قانونی طورپر جائز ہے۔ انہوں نے کہاکہ سال 1950میں سپریم کورٹ نے رمیش تھاپر کیس میں اس حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ بھی سنایا ۔ مارکنڈے کاٹجو کے مطابق عمر عبدا ﷲ اور دیگر نظر بندوں کی فوری طورپر رہائی عمل میں لائی جانی چاہئے ۔

  • تحریک المجاہدین کے سابق سربراہ کو مسجد میں قتل کر دیا گیا

    تحریک المجاہدین کے سابق سربراہ کو مسجد میں قتل کر دیا گیا

    سرینگر:بڈگام، تحریک المجاہدین کے سابق سربراہ کو مسجد میں قتل کر دیا گیا،اطلاعات کے مطابق ممتاز اہل حدیث عالم اور بیروہ بڈگام کے تحریک المجاہدین کے سابق سربراہ عبدالغنی ڈار کو میسومہ سری نگر کی ایک مسجد میں قتل کر دیا گیا

    ذرائع کے مطابق سرینگر کے علاقے گاوکدل کی مسجد میں ایک شخص کی لاش پراسرار حالت میں پائی گئی۔ جس کی شناخت ضلع بڈگام کے تراگزو علاقے کے رہنے والے عبدالغنی ڈار کے طور پر ہوئی ہے۔ان کی عمر 78برس تھی۔

    ذرائع نے بتایا کہ ان کی موت کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔پولیس جائے واقعہ پر پہنچی ہے اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کردیں۔

  • بھارتی فوجی افسران سے تنگ راشٹریہ رائفل کے سپاہی نے خودکشی کرلی ، تعداد 446 تک پہنچ گئی

    بھارتی فوجی افسران سے تنگ راشٹریہ رائفل کے سپاہی نے خودکشی کرلی ، تعداد 446 تک پہنچ گئی

    سری نگر:بھارتی فوجی افسران سے تنگ راشٹریہ رائفل کے سپاہی نے خودکشی کرلی ، تعداد 446 تک پہنچ گئی ،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں راشٹریہ رائفلز کے تیسرے بٹالین کے سپاہی نے ڈیوٹی کے دوران زہریلی چیز کھا کر خودکشی کرلی۔

    سری نگر سے ذرائع کے مطابق بھارتی فوجی اہلکار نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ضلع اسلام آباد میں دوران ڈیوٹی مبینہ طور پر زہر کھا کر خودکشی کی۔کشمیر میڈیا سروس رپورٹ کے مطابق خودکشی کرنے والے سپاہی کی شناخت ’بلرام سنگھ ‘کے نام سے ہوئی ہے جو راشٹریہ رائفلز کے تیسرے بٹالین کا سپاہی تھا جو ضلع اسلام آباد کے علاقے اشمقام میں تعینات تھا۔

    علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کے شہر جموں کے علاقے ’طلاب ٹیِل ‘ میں تین منزلہ عمارت میں آگ لگ گئی، فائر بریگیڈ کا عملہ آگ بجھانے اور اندر پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کرنے میں مصروف تھا کہ عمارت کی پہلی منزل بیٹھ گئی جس کے نتیجے میں 3 فائر فائٹرز جاں بحق ہوگئے جبکہ 4 شہریوں اور 2 فائرمینز سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے۔

  • بھارت کا گھیرا تنگ ہونے لگا،امریکی سینیٹرز کا مائیک پومپیو کو خط، کشمیر اور بھارت کی صورت حال پر اظہار تشویش

    بھارت کا گھیرا تنگ ہونے لگا،امریکی سینیٹرز کا مائیک پومپیو کو خط، کشمیر اور بھارت کی صورت حال پر اظہار تشویش

    واشنگٹن:بھارت کا گھیرا تنگ ہونے لگا،امریکی سینیٹرز کا مائیک پومپیو کو خط، کشمیر اور بھارت کی صورت حال پر اظہار تشویش،اطلاعات کےمطابق امریکی صدر ٹرمپ کے دورۂ بھارت سے قبل چار سینیٹرز نے وزیر خارجہ کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر خط لکھا اور صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

    امریکی سینیٹر لنزے گراہم سمیت چار سینیٹرز نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو خط ارسال کیا جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے لاک ڈاؤن اور صورتحال پر گہری تشویش اظہار کیا۔امریکی سینیٹرز نے خط میں کہا کہ ’مقبوضہ کشمیر میں لگائی جانے والی پابندیوں اور لاک ڈاؤن کے سنگین نتائج ہوں گے کیونکہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں طویل عرصے مواصلات اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی ہوئی ہے‘۔

    امریکی سینیٹرز نے لکھا کہ کشمیری عوام صحت اوربنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار بری طرح سے متاثر ہوئے اور تعلیمی ادارے مسلسل بند ہیں۔سینٹرز نے مطالبہ کیا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر اور شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں گرفتار افرادکی تعداد تیس دن کے اندر فراہم کرے کیونکہ مودی کے اقدامات سے بھارت کی مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور بھارت کے سیکولر کردار کو خطرہ لاحق ہوگيا ہے۔

    امریکی سینیٹرز نے لکھا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار سنبھالتے ہی ہندو قوم پرستی کے ایجنڈے پر تیزی سے کام کیا ہے۔ اس سے لوگوں میں اس بات کے لیے بےچینی پیدا ہوئی ہے کہ بھارت کا بطور ایک سیکولر جمہوریت کردار خطرے میں ہے۔

    بھارت نے 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے پوری وادی کو جیل میں تبدیل کر کے ہند نواز رہنماؤں سمیت حریت رہنماؤں کو بھی گرفتار کر رکھا ہے۔

  • کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ‌ عمرعبداللہ کی حراست کے خلاف سماعت سے جج نے انکارکردیا

    کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ‌ عمرعبداللہ کی حراست کے خلاف سماعت سے جج نے انکارکردیا

    سری نگر:کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ‌ عمرعبداللہ کی حراست کے خلاف سماعت سے جج نے انکارکردیا ،اطلاعات کےمطابق ہندوستان کے زیرانتظام جموں کشمیر کے سابق وزیراعلی عمرعبداللہ کی پبلیک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست کو چیلنج کرنے والی درخواست کو سپریم کورٹ کے ایک جج نے سننے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے سماعت جمعہ تک ملتوی کردی گئی۔

    جسٹس این وی رمن کی صدارت والی تین رکنی بینچ کے سامنے جیسے ہی معاملے کی سماعت شروع ہوئی بینچ میں شامل جسٹس ایم ایم شانتان گودار نے سماعت سے خود کو الگ کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس معاملے کی سماعت سے خود کو الگ کرتاہوں۔ ان کے اس اعلان کے بعد اب کیس کی سماعت جمعے کو ہوگی۔ عمرعبداللہ کی بہن سارہ پائیلٹ نے گزشتہ پیر کو درخواست دائرکی تھی۔

    واضح رہے کہ عمرعبداللہ پانچ اگست دوہزار انیس سے سی آر پی کی دفعہ ایک سو سات کے تحت حراست میں ہیں اور اس قانون کے تحت عمر عبداللہ کی چھے ماہ کی احتیاطا حراست کی مدت پانچ فروری کو ختم ہونے والی تھی لیکن حکومت نے انہیں دوبارہ پی ایس اے کے تحت حراست میں لے لیا۔

  • کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی  زندہ ہیں ، موت کی افواہیں ایک سازش ہے ، صاحبزادہ نسیم گیلانی

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی زندہ ہیں ، موت کی افواہیں ایک سازش ہے ، صاحبزادہ نسیم گیلانی

    سری نگر :بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی زندہ ہیں ، موت کی افواہیں ایک سازش ہے ،اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کے بیٹے نسیم گیلانی نے سید علی گیلانی کی وفات کی خبروں کی تردید کی ہے ۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کے صاحبزادے نسیم گیلانی نے میڈیا کو بتایا کہ اس کے والد کی حالت مستحکم ہے۔مقبوضہ کشمیرسے آمدہ اطلاعات کے مطابق سید علی گیلانی کی طبیعت پچھلے چھ ماہ سے خراب ہے اور انہیں حال ہی میں ایس کے آئی ایم ایس اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

    نسیم گیلانی کہتے ہیں کہ بدھ کی شام کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مبہم خبریں پھیلائی جارہی تھیں۔ ساوتھ ایشیا وائرکی طرف سے کہاگیا ہے کہ سید علی گیلانی کو گزشتہ روز سینے میں انفیکشن کی وجہ سے تکلیف تھی۔ اور ان کی صحت کافی خراب تھی۔ لیکن بدھ کی شام نمائندے نے ان کے گھر جا کر ان کی بہتر صحت کی تصدیق کی ۔

  • کشمیر:  سڑک حادثے میں پانچ افراد ہلاک

    کشمیر: سڑک حادثے میں پانچ افراد ہلاک

    جموں:کشمیر: سڑک حادثے میں پانچ افراد ہلاک،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے درب شالا علاقے میں سڑک حادثے میں ایک ہی کنبے کے 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک نجی گاڑی اچانگ کھائی میں گر گئی جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد ہلاک ہوگئے۔پولیس ذرائع کے مطابق ہلاک شدہ افراد جموں سے کشتواڑ جا رہے تھے۔ ہلاک شدہ افراد سنجے کمار، پون کمار، ریکھا دیوی، ریتا دیوی اور کیول کرشن تعلق تحصیل درب شالا کے بھادٹ گاوں سے تھا۔

    ذرائع کےمطابق اس علاقے میں بھی کئی ایسے حادثات ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں لوگوں کو جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں ، تازہ حادثہ کے بعد حکام نے پھر سردمہری دکھائی ہے

  • گیلانی کی کتاب پڑھنے کا مشورہ دینے پرکشمیری رہنما نعیم اخترکوسزاسنا دی گئی

    گیلانی کی کتاب پڑھنے کا مشورہ دینے پرکشمیری رہنما نعیم اخترکوسزاسنا دی گئی

    سرینگر:گیلانی کی کتاب پڑھنے کا مشورہ دینے پرکشمیری رہنما نعیم اخترکوسزاسنا دی گئی ،اطلاعات کےمطابق جموں و کشمیر کے سابق وزیر اور پی ڈی پی کے سینیئر رہنما نعیم اختر 5 اگست سے نظر بند ہیں اور چند روز قبل ان پر پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا۔

    ساوتھ ایشین وائر نے انتظامیہ کی طرف سے مرتب کردہ پی ایس اے کے ڈوزئیر کا جو مسودہ حاصل کیا ہے، اس کے مطابق نعیم اختر کشمیری حریت پسند رہنما سید علی گیلانی کی کتاب پڑھنے کا لوگوں کو مشورہ دے رہے تھے۔

    ڈوزیئر میں کہا گیا ہے کہ نعیم اختر نے الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی انتخابی فوائد کے لیے خطرناک کھیل کھیل رہی ہے اور انتخابات جیتنے کے لیے فرقہ وارانہ طور پر تقسیم کرنا چاہتی ہے، جس کے باعث ان پر پی ایس اے عائد کیا گیا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ڈوزیئر میں مزید کہا گیا ہے کہ نعیم اختر نے ایسے بیانات دیے ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف عام لوگوں کو ملک کے خلاف اٹھنے اور اکسانے کی کوشش کی جارہی تھی بلکہ پتھر بازی جیسی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے اکساتے رہے ہیں۔ ڈوزیئر کے مطابق نعیم اختر کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ عوامی نظم میں خلل ڈالنے اور امن عمل کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ نعیم اختر جب وزیر تعلیم تھے تو انہوں نے لوگوں کو علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کی کتاب ‘ولر کنارے’ پڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔

    ڈوزیئر میں کہا گیا ہے کہ باوثوق ذرائع کی اطلاعات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نعیم اختر نے مبینہ طور پر نوجوانوں سے غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھنے اور بھارت مخالف جذبات کو ہوا دینے کے لیے کہا ہے۔اختر نے قومی تفتیشی ایجنسی پر بھی علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق کو نئی دہلی طلب کرنے پر حکومت پر شدید تنقید کی تھی اور الزام لگایا تھا کہ اس کا مقصد کشمیر کے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق گزشتہ برس 5 اگست کو مرکزی حکومت کی جانب سے دفعہ 370 کو منسوخ کرنے اور ریاست کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کر دیا۔ اس فیصلے سے قبل اور بعد میں درجنوں ہند نواز سیاسی رہنماوں کے علاوہ علیحدگی پسند رہنماوں، وکلا، تاجروں سمیت تقریبا 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا تھا۔اگرچہ گرفتار شدگان میں سے متعدد افراد کو رہا کیا گیا، تاہم تین سابق وزرائے اعلی، کئی سابق کابینہ وزرا اور علیحدگی پسند رہنما ابھی بھی نظر بند ہیں۔

    تینوں نظر بند سابق وزرائے اعلی فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے علاوہ علی محمد ساگر، سرتاج مدنی، نعیم اختر، ڈاکٹر شاہ فیصل، ہلال اکبر لون پر پی ایس اے عائد کرکے ان کی معیادِ نظر بندی میں مزید توسیع کردی ہے۔انتظامیہ نے ان رہنماوں پر عائد کردہ پی ایس اے کے ڈوزیئر جاری کیے ہیں۔

    عمر عبداللہ پر عائد پی ایس اے کے ڈوزیئر میں کہا گیا ہے کہ وہ ملی ٹینسی کے عروج اور انتخابات کے بائیکاٹ کے باوجود بھی ووٹ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ٹویٹر کے ذریعے لوگوں کو ملک کی سالمیت اور مرکزی حکومت کی طرف سے آئینی دفعات 370 اور 35 اے کی تنسیخ کے خلاف اکسایا جبکہ محبوبہ مفتی پر عائد پی ایس اے کے ڈوزیئر میں کہا گیا ہے کہ وہ علیحدگی پسندوں کی ساتھی ہیں۔

  • جنت نظیروادی میں زندگی کوقید ہوئے192 واں روز، بھارتی فوج کے مظالم ،کشمیریوں کا قتل عام جاری ، بےحس عالمی برادری پرچپ طاری

    جنت نظیروادی میں زندگی کوقید ہوئے192 واں روز، بھارتی فوج کے مظالم ،کشمیریوں کا قتل عام جاری ، بےحس عالمی برادری پرچپ طاری

    سری نگر: جنت نظیروادی میں زندگی کوقید ہوئے192 واں روز، بھارتی فوج کے مظالم ،کشمیریوں کا قتل عام جاری ، بےحس عالمی برادری پرچپ طاری ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فوج کےمظالم تھم نہ سکے، وادی میں کرفیواورلاک ڈاون 192 ویں روزمیں داخل ہوگیا ہے۔

    مقبوضہ وادی کشمیرمیں بھارت کی طرف سےمسلط کردہ غیرانسانی لاک ڈاون اور مواصلاتی بندش کے باعث مسلسل 192 ویں روز بھی معمولات زندگی بدستور مفلوج ہیں۔ سڑکیں سنسان، وادی میں دکانیں، کاروبار، تعلیمی مراکز بند ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور ایک کروڑ سے زائد افراد دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید ہیں۔

    وادی میں نام نہاد سرچ آپریشن اورپکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔وادی میں خوراک اور ادویات کی قلت بھی برقرار ہے۔ 8 لاکھ سے زائد کشمیریوں کوسخت پریشانیوں کا سامنا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اب تک لگ بھگ 894 بچے شہید ہوچکے ہیں جبکہ 177 ہزار سے زائد یتیم ہوچکے ہیں۔

    دوسری جانب مقبوضہ کشمیرمیں کل حریت رہنما مقبول بٹ کی 36 ویں برسی کےموقع پر شٹرڈاؤن ہڑتال تھی ۔ بھارت نے مظلوم کشمیریوں پر ظلم وبربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور ہزاروں کشمیریوں سمیت مقبوضہ وادی کی سیاسی قیادت کو بھی جیلوں میں بند کر رکھا ہے۔وادی میں موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔ دوسری جانب مودی سرکار کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکام ہےکشمیری کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ 5اگست کو مودی سرکار نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کر کے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر دیا تھا اور بھارت نے کشمیریوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔یکم نومبر سے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور وہاں رہنے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔