Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا ہرصورت احترام کیا جانا چاہیے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا بھارت کو میٹھا میٹھا پیغام

    مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا ہرصورت احترام کیا جانا چاہیے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا بھارت کو میٹھا میٹھا پیغام

    اسلام آباد:مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا ہرصورت احترام کیا جانا چاہیے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا بھارت کو میٹھا میٹھا پیغام ،اطلاعات کےمطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا ہرصورت احترام کیا جانا چاہیے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا ہرصورت احترام کیا جانا چاہیے، نہ صرف کشمیر بلکہ پوری دنیا میں انسانیت کا احترام کیا جانا چاہیے، انسانی حقوق کمشنر کی دو رپورٹس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی مکمل عکاسی ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگونتریس نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک آبی معاہدہ موجود ہے، معاہدہ میں عالمی بنک ضامن ہے، ہمارا بھی ایسا ہی معاہدہ اسپین کے ساتھ ہے، پانی ہتھیار نہیں بلکہ امن کا ضامن ہونا چاہیے۔

    ادھر ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اسلام آباد میں مہاجرین کے وفد نے ملاقات کی ، وفد میں افغانستان، تاجکستان اور یمن کے مہاجرین شامل تھے، مہاجرین کے نمائندوں نے دوران گفتگو انتونیو گوتریس کو پاکستان میں تعلیم، کاروبار،اور ہنر سے متعلق تجربات سے آگاہ کیا۔ پناہ گزینوں نے سیکرٹری جنرل کو اپنے ممالک میں ظلم و ستم اور تشدد کی روداد بھی سنائیں۔

    انتونیوگوتریس نے کہا کہ پاکستان نے افغان جنگ سے متاثر 45 لاکھ پناہ گزینوں کو پناہ دی اور ان کے لیے بہترین انتظامات کیے، پاکستان کے عوام نے افغان مہاجرین کی بھرپور مہمان نوازی کی، طویل عرصے تک افغان مہاجرین کی میزبانی پرپاکستان کا شکر گزار ہوں۔

  • "اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں "بھارت میں پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے پر 3 کشمیری طلبہ گرفتار

    "اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں "بھارت میں پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے پر 3 کشمیری طلبہ گرفتار

    نئی دہلی :”اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں "بھارت میں پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے پر 3 کشمیری طلبہ گرفتارکرلیئے گئے ہیں،اطلاعات کےمطابق بھارتی پولیس ان کشمیری طلبا کو گرفتارکرنے کے علاوہ دیگرکشمیری طالب علموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے ماررہی ہے،

    ادھربھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق تینوں طلبہ بھارتی ریاست کرناٹکا کےضلع ہبالی کے ایک انجینئرنگ کالج میں زیر تعلیم ہیں جن کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں سے ہے۔

    بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کالج میں زیر تعلیم کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین طلبہ نے پاکستان کی حمایت میں نعرے لگائے اور ویڈیو بھی بنائی جو وائرل ہو گئی، جس پر کارروائی کی گئی اور انہیں گرفتار کیا گیا۔

    بھارتی حکام کے مطابق مذکورہ ویڈیو میں ایک طالب علم کو ابتدائی طور پر بیک گراؤنڈ میوزک کے ساتھ کچھ بولتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد وہ سب دوسرے ”آزادی ” کا نعرہ لگاتے ہیں۔ پھر جو میوزک چل رہا ہے اس میں انہوں نے "پاکستان زندہ باد” بھی شامل کیا۔

    اسی سبب تینوں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی پولیس نے بغاوت کا الزام لگا کر گرفتار کیا ہے جن پر ضلع بجرنگ دل کے ہندو انتہاپسندوں نے حملے کی بھی کوشش کی تھی۔

  • مقبوضہ کشمیر، نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان

    مقبوضہ کشمیر، نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان

    سرینگر:دفعہ 35 اے اور 370 کے خاتمے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر خزانہ الطاف بُخاری کی صدارت میں نئی سیاسی جماعت تشکیل دی جا رہی ہے جس کا اعلان اگلے ہفتے سرینگر میں ہونے کا امکان ہے۔

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق دہلی سے فون پر بات کرتے ہوئے بُخاری نے نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کے تعلق سے خبروں کی تصدیق کی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ میں اپنے ہم خیال سیاسی رہنماؤں کے ساتھ جموں و کشمیر میں ایک نئی علاقائی جماعت کا اعلان بہت جلد سرینگر میں کرنے جا رہا ہوں۔

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق اُن کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں جموں میں ایک اجلاس کے دوران یہ فیصلہ لیا گیا اور اُمید ہے کہ اگلے ہفتے کے آخر تک سرینگر میں جماعت کا اعلان کیا جائے گا۔

    جماعت کے نام کے بارے میں پوچھے جانے پر اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت اُن کی ہم خیال لیڈران جماعت کا آئین، پرچم اور نام کے انتخاب میں مصروف ہیں۔ اگلے ہفتے سرینگر میں جماعت کے اعلان کے موقع پر سب کچھ واضح ہوگا۔

    بخاری اور دیگر سیاسی رہنما کے جنوری مہینے کی 7 تاریخ کو لیفٹینیٹ گورنر جی سی مُرمو سے ملاقات کی تھی۔ 9 جنوری کو غیر ملکی سفارتکاروں کے وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد الطاف بُخاری کی نئی جماعت کے متعلق خبریں گردش کر رہی تھیں تاہم بُخاری اور دیگر رہنماؤں نے تمام خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قیاس آرائیاں بے بنیاد ہے۔ تاہم اگر ضرورت پڑی تو جماعت کی تشکیل دی جا سکتی ہے۔

    اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کی سیاست میں نئی سیاسی جماعت کاقیام پہلے ہی اختلافات کا شکارہوگیاتھا۔ جب قیادت کے مسئلے پر رہنما ایک دوسرے سے الجھ پڑے تھے جن میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے سرپرست مظفر حسین بیگ شامل تھے۔بخاری اور مظفر بیگ دونوں نے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 اور ڈومیسائل اسٹیٹس کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔

  • محبوبہ مفتی کو ایک اور جھٹکا، شاہ محمد تانترے مستعفی

    محبوبہ مفتی کو ایک اور جھٹکا، شاہ محمد تانترے مستعفی

    سرینگر:پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے سینیئر رہنما شاہ محمد تانترے نے ہفتے کے روز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفی دیا۔

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق شاہ محمد تانترے نے لیفٹیننٹ گورنر جی سی مرمر پارٹی رہنماؤں کی ملاقات پر غیر ضروری ردعمل ظاہر کرنے پر اپنی ناراضگی کا حوالہ دیتے ہوئے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفی دے دیا ہے۔

    ساٹھ سالہ شاہ محمد تانترے کو 2014 اسمبلی انتخابات میں پونچھ کے حویلی حلقے سے ٹکٹ ملی تھی اور انہیں انتخابات میں جیت حاصل ہوئی۔

    شاہ محمد تانترے نے کہا ہے کہ دفعہ 370 عضوِ معطل ہو چُکا تھا، کیونکہ کانگریس نے اس میں تقریباً 3 درجن بار ترامیم کی تھی۔

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق جنوری میں، پی ڈی پی نے پارٹی کے آٹھ رہنماؤں کو پارٹی کی رُکنیت سے نکال دیا تھا، جن میں دلاور میر، رفیع احمد میر، ظفر اقبال، عبد المجید پڈرو، راجہ منظور خان، جاوید حسین بیگ ، قمر حسین، عبدالرحیم شامل تھے۔ ان رہنماؤں نے سید الطاف بُخاری کی سربراہی میں لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کی تھی۔

    پی ڈی پی نے کہا تھا کہ ان رہنماؤں نے پارٹی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی تھی جس کے بعد انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

    شاہ محمد تانترے نے کہا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کو برطرف نہیں تھی۔ پہلے انہیں شوکاز نوٹس جاری کرنا چاہیے تھا۔ میں نے پارٹی سے مطالبہ کیا تھا کہ اس غلط فیصلے پر نظر ثانی کی جائے، تاہم پارٹی کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد میرے ضمیر نے پارٹی کے ساتھ مزید منسلک رہنے کی اجازت نہیں دی اور میں پارٹی کو الواع کہا’۔

    انہوں نے کہا لیفٹینٹ گورنر سے ملاقات کرنا کوئی جرم نہیں ہے، موجودہ حالات میں ہمیں مرکز اور لیفٹیننٹ گورنر سے بات کرنا ہوگی۔ ہمیں ریاست کے درجے کی بحالی کے ساتھ ساتھ یہاں کی زمین اور ملازمتوں کی تحفظ کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

    تانترے نے کہا 370 کے ہٹانے سے پہلے ہم ملک کے ساتھ جُڑے ہوئے تھے اور اب بھی ہیں۔ لوگوں کو آگے آنا چاہیے اور یہاں کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے انہیں اقدامات اٹھانے چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کے سیلف رُول کا مطالبہ کھوکھلے نعرے تھے اور ہمیں ایک نئے انداز کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، تاکہ تحلیل ریاست میں امن اور خوشحالی ہو’۔

    پی ڈی پی کے باغی رہنما و جموں و کشمیر کے سابق وزیر خزانہ الطاف بُخاری کی صدارت میں نئی سیاسی جماعت تشکیل دی جا رہی ہے جس کا اعلان اگلے ہفتے سرینگر میں ہونے کا امکان ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ شاہ محمد تانترے اسی پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے۔

  • مقبوضہ وادی میں زندگی کوقید ہوئے195 واں روز، کشمیریوں کاقتل عام جاری ، عالمی برادری پرچپ طاری

    مقبوضہ وادی میں زندگی کوقید ہوئے195 واں روز، کشمیریوں کاقتل عام جاری ، عالمی برادری پرچپ طاری

    سری نگر: مقبوضہ وادی میں زندگی کوقید ہوئے195 واں روز، کشمیریوں کاقتل عام جاری ، عالمی برادری پرچپ طاری ،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فوج کےمظالم جاری ہیں ، وادی میں کرفیواورلاک ڈاون 195 ویں روزمیں داخل ہوگیا ہے۔

    مقبوضہ وادی کشمیرمیں بھارت کی طرف سےمسلط کردہ غیرانسانی لاک ڈاون اور مواصلاتی بندش کے باعث مسلسل 195 ویں روز بھی معمولات زندگی بدستور مفلوج ہیں۔ سڑکیں سنسان، وادی میں دکانیں، کاروبار، تعلیمی مراکز بند ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور ایک کروڑ سے زائد افراد دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید ہیں۔

    وادی میں نام نہاد سرچ آپریشن اورپکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔وادی میں خوراک اور ادویات کی قلت بھی برقرار ہے۔ 8 لاکھ سے زائد کشمیریوں کوسخت پریشانیوں کا سامنا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اب تک لگ بھگ 894 بچے شہید ہوچکے ہیں جبکہ 177 ہزار سے زائد یتیم ہوچکے ہیں۔

    بھارت نے مظلوم کشمیریوں پر ظلم وبربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور ہزاروں کشمیریوں سمیت مقبوضہ وادی کی سیاسی قیادت کو بھی جیلوں میں بند کر رکھا ہے۔وادی میں موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔ دوسری جانب مودی سرکار کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکام ہےکشمیری کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ 5اگست کو مودی سرکار نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کر کے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر دیا تھا اور بھارت نے کشمیریوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یکم نومبر سے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور وہاں رہنے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔

  • بھارت نے کشمیریوں کی 6ہزارایکڑزمین ہتھیانے کا خوفناک منصوبہ بنالیا

    بھارت نے کشمیریوں کی 6ہزارایکڑزمین ہتھیانے کا خوفناک منصوبہ بنالیا

    سری نگر :بھارت نے کشمیریوں کی 6ہزارایکڑزمین ہتھیانے کا خوفناک منصوبہ بنالیا،اطلاعات کےمطابق مودی سرکار نے متعصبانہ اقدام کےتحت کشمیریوں کی زمین ہتھیاناشروع کردی اور چھ ہزارایکڑزمین بھارتی اورعالمی سرمایہ کاروں کو دینےکافیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    مودی سرکارنےمتعصبانہ اقدام کےتحت کشمیریوں کی زمین ہتھیاناشروع کردی ہے اور چھ ہزارایکڑزمین بھارتی اورعالمی سرمایہ کاروں کو دینےکافیصلہ کرلیا ہے ۔ذرائع کےمطابق اس حوالےسے بھارت نے فوجی حکام کے ذریعے ان زمینوں‌پرقبضہ پکا کرنے کےلیئے منصوبے کا آغازکردیا

    سری نگرسے ذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ بھارتی فوج ان زمینوں پرپہلے قبضہ کرتی ہے اورپھرعالمی سرمایہ کاروں کووزٹ کروانے کے بہانے سے اس ایریا کو ریڈ زون قراردے کرکشمیریوں کوان زمینوں سے دوررہنے کے لیے خبردار کرتی ہے تاکہ کشمیری اپنی زمینوں‌ کے معاملے پراحتجاج سے دور رہیں‌

    تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں کرفیواورلاک ڈاؤن کوایک سوچھیانوےروزہوگئے، وادی میں انٹرنیٹ اورموبائل سروس بدستورمعطل ہے اور تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکزبندہیں۔

    کشمیرمیڈیا سروس کےمطابق بھارتی فورسز نے بارہ ہزارکشمیریوں کوگرفتارکررکھاہے، جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے، گرفتار افرادمیں آسیہ اندرابی،یاسین ملک اوردیگرحریت رہنمابھی شامل ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، کرفیو اور پابندیوں کے باعث اب تک مقامی معیشت کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔

    یاد رہے گذشتہ روز امریکی سینیٹر لنزے گراہم سمیت چار سینیٹرز نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو خط ارسال کیا تھا ، جس میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے لاک ڈاؤن اور صورتحال پر گہری تشویش اظہار کیا گیا۔

    امریکی سینیٹرز نے خط میں کہا تھا کہ ’مقبوضہ کشمیر میں لگائی جانے والی پابندیوں اور لاک ڈاؤن کے سنگین نتائج ہوں گے کیونکہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں طویل عرصے مواصلات اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی ہوئی ہے‘۔

  • بھارت پلوامہ جیسا ڈرامہ دوبارہ رچا نے کی سازش تیارکررہا ہے: کشمیر میڈیا سروس نے خبردار کر دیا

    بھارت پلوامہ جیسا ڈرامہ دوبارہ رچا نے کی سازش تیارکررہا ہے: کشمیر میڈیا سروس نے خبردار کر دیا

    سرینگر: بھارت پلوامہ جیسا ڈرامہ دوبارہ رچا نے کی سازش تیارکررہا ہے:پاکستان کو ہوشیاررہنے کی ضرورت ہے ، بھارت ڈراموں کے ذریعے کشمیرپراپنے قبضے کوطول دینے کی کوشش کررہا ہے،اطلاعات کےمطابق کشمیرمیڈیا سروس نے پلوامہ واقعہ کو ایک سال مکمل ہونے پر رپورٹ جاری کی ہے، رپورٹ میں خبردارکیا گیا ہے کہ بھارت پلوامہ کی طرز کا ایک اور ڈرامہ رچا سکتا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیرکے مؤقف پر پاکستانی کوششوں کونقصان پہنچایا جاسکے۔

    تفصیلات کے مطابق پلوامہ واقعہ کو ایک سال مکمل ہونے پر کشمیرمیڈیا سروس نے رپورٹ جاری کردی، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کشمیرکی جدوجہد آزادی کو دبانے اورپاکستان کو بدنام کرنے کیلئے ایک اورفالس فلیگ آپریشن کرسکتا ہے۔۔

    ماہرین اورتجزیہ کاروں کے مطابق پلوامہ کا ڈرامہ دنیا کو اس لیے دکھایا گیا تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ کشمیرمیں جدوجہدآزادی نہیں بلکہ دہشتگردی ہورہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پلوامہ حملے کی آڑ میں نہ صرف مودی سرکارکو کامیاب کروانے کاباعث بنی بلکہ اس کے بعد مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کا بھی خاتمہ کیا گیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت نے پلوامہ کا ڈرامہ اس لیے بھی رچایا تاکہ عالمی برادری کی ہمدردی اورکشمیرمیں مظالم کو چھپایا جاسکے۔رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ پلوامہ واقعہ کے بعد بھارتی دراندازی، پائلٹ کی گرفتاری اورپھرواپسی نے پاکستان کو اخلاقی فتح دلائی۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں جنوبی ایشیا میں جنگ جیسی صورتحال پیدا کرنے کے لیے پارلیمنٹ، اڑی اور پلوامہ جیسے حملوں میں ملوث تھیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت نے کشمیریوں کی زمین اور جائیدادوں پر قبضہ کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا، مودی سرکار نے 6 ہزارایکڑ زمین بھارتی اور عالمی سرمایہ کاروں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق انتظامیہ نے منصوبے کو عملی جامہ پہننانے کیلئے نشاندہی کا کام بھی مکمل کرلیا، بھارت اپریل یا مئی میں مقبوضہ وادی میں عالمی بزنس کانفرنس بھی منعقد کروائے گا۔

  • وکلاگردی کا وائرس پھیل گیا ، لاہورکے بعد مظفرآباد میدان جنگ،وکلا نے لوگوں کی جانیں بچانے والے ادارے 1122 پرحملہ کردیا

    وکلاگردی کا وائرس پھیل گیا ، لاہورکے بعد مظفرآباد میدان جنگ،وکلا نے لوگوں کی جانیں بچانے والے ادارے 1122 پرحملہ کردیا

    مظفر آباد:وکلاگردی کا وائرس پھیل گیا ، لاہورکے بعد مظفرآباد میدان جنگ،وکلا نے لوگوں کی جانیں بچانے والے ادارے 1122 پرحملہ کردیا ،اطلاعات کےمطابق مظفر آباد کی ضلع کچہری اس وقت میدان جنگ میں تبدیل ہوئی جب وکلا نے قریبی 1122 کے دفتر پر حملہ کیا۔ پولیس نے اپنے دفاع میں وکلا پر لاٹھی چارج کیا ور آنسو گیس کے شل پھینکے۔

    مظفرآباد سے ذرائع کےمطابق آج راولپنڈی روڈ میدان جنگ بنی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔وکلا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے وکیل ساتھی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے لیکن پولیس نے ان کے پرامن احتجاج پر دھاوا بول دیا۔

    ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک وکیل کے خلاف ٹریفک قوانین کی مسلسل خلاف ورزی پر چالان کیا جس پر وکلا نے قانون کو ہاتھ میں لیکر پولیس پر حملہ کیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔

  • بھارتی وزارت دفاع  پلوامہ حملے میں ہلاک فوجی کے اہل خانہ کوملنے والا  معاوضہ ہڑپ کرگئی

    بھارتی وزارت دفاع پلوامہ حملے میں ہلاک فوجی کے اہل خانہ کوملنے والا معاوضہ ہڑپ کرگئی

    سرینگر:بھارتی وزارت دفاع پلوامہ حملے میں ہلاک فوجی کے اہل خانہ کوملنے والا معاوضہ ہڑپ کرگئی ،ریاست جھارکھنڈ کے ضلع گملا سے تعلق رکھنے والے وجئے سورینگ کو پلوامہ حملے میں ہلاک ہوئے ایک برس کا وقفہ گزر گیا ہے، لیکن اب تک ان کے اہل خانہ کو حکومت کی جانب سے اعلان شدہ رقم موصول نہیں ہوئی ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق گزشتہ برس 14 فروری کو جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہلاک ہونے والے جوانوں میں گملا ضلع کے بسیا بلاک علاقے کے فرساما گاؤں کے رہنے والے وجئے سورینگ بھی شامل تھے۔اس حملے کے بعد ریاستی حکومت نے اپنی ریاست کے جوانوں کے اہل خانہ کو لاکھوں روپے کی مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    وجئے سنگھ کو ریاستی حکومت کی جانب سے 10 لاکھ، جھارکھنڈ کے وزیر اور ایم ایل اے، سکریٹریٹ کے عہدیداروں اور ملازمین نے اپنے ایک دن کی تنخواہ دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن ایک برس مکمل گزرنے کے بعد بھی یہ اعلانات صرف اعلان ہی رہے ہیں۔

    وجئے سورینگ کے والد نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ کئی تنظیموں کی جانب سے مالی امداد دینے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن آج ایک برس مکمل ہوگئے ہیں کسی نے بھی خیر خبر نہیں لی۔ وہیں کافی جدوجہد کے بعد حکومت کی جانب سے اعلان شدہ 10 لاکھ روپے کی مالی امداد بھی بہت تگ ودو کے بعد اب ملی ہے۔

    مارچ 2019 میں ہی بی سی سی ایل کی جانب سے 90 لاکھ روپے اور سی سی ایل کی جانب سے 84 لاکھ روپے اپنے ملازمین کے ایک دن کے تنخواہ سے کاٹ کر جمع کیے گئے تھے۔جو ابھی تک اہل خانہ کو نہیں ملے

  • عمر عبداللہ پر پی ایس اے، جموں و کشمیر انتظامیہ کو سپریم کورٹ کا نوٹس

    عمر عبداللہ پر پی ایس اے، جموں و کشمیر انتظامیہ کو سپریم کورٹ کا نوٹس

    سرینگر:،عمر عبداللہ پر پی ایس اے، جموں و کشمیر انتظامیہ کو سپریم کورٹ کا نوٹس،اطلاعات کےمطابق جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی بہن سارہ عبداللہ پائلٹ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا۔

    سپریم کورٹ نے سارہ پائلٹ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جموں و کشمیر انتظامیہ کو 2 مارچ کو جواب دینے کو کہا ہے۔سارہ پائلٹ نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ ‘ چونکہ یہ ایک حبس کارپس کیس ہے تو امید تھی کہ ہمیں اس معاملے میں جلد ہی فیصلہ مل جائے گی۔ لیکن ہمیں انصاف کے نظام پر مکمل اعتماد ہے’۔

    سابق وزیراعلیٰ‌ مقبوضہ کشمیر عمرعبداللہ کی لخت جگرسارہ پائلٹ نے مزید کہا کہ ‘ ہم یہاں موجود ہیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام کشمیریوں کو بھارت کے تمام شہریوں کی طرح حقوق ملنے چاہئیں اور ہم اس دن کے منتظر ہیں’۔

    اس سے قبل جسٹس موہن ایم شانتانا گودار نے اس معاملے کی سماعت ملتوی کر دی تھی اور ساتھ ہی اس معاملے سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ گذشتہ روز اس معاملے کی سماعت کے لیے جسٹس ارون مشرا اور جسٹس اندرا بینرجی کی نیا بنچ تشکیل دیا گیا تھا۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 2 مارچ کو ہوگی۔

    حکام نے 6 فروری کو سابق وزرائے اعلی عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے ) عائد کیا تھا تاکہ انکی مدت نظربندی طویل کی جاسکے