روشنی جذب کرنے والی جیکٹ
ماہرین نے ایک جیکٹ تیار کی ہے جو عین ایک پودے کی طرح کام کرتی ہے یعنی یہ سورج کی روشنی جذب کر کے توانائی جمع کرتی ہے یہ سولر چارجڈ جیکٹ بہت آرام دہ ہلکی پھلکی اور بارش سے بچانے والی ہے رات کے وقت اس پرفون کی۔لائٹ یا چارج ڈال کر کچھ بھی لکھ سکتے ہیں اور وہ الفاظ گھنٹوں تک جیکٹ پر چمکتے رہتے ہیں پولیس اہلکار بھی اسے استعمال کر سکتے ہیں سولر جیکٹ کی۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ جتنا اندھیرا ہوگا یہ اتنی ہی روشن ہوتی جاتی ہے اس سے قبل دن کی روشنی اور توانائی جذب کر کے رات میں چمکنے والے کپڑے صرف تجربہ گاہ تک ہی محدود تھے اور باہر کے ماحول میں ان کی افادیت ختم ہو جاتی تھی لیکن یہ جیکٹ حقیقی دنیا کے لیے بنائی گئی ہے یہ اتنی نرم وملائم ہے کہ مُٹھی میں سما جائے اس سے پسینہ باہر نکل جاتا ہے لیکن بارش کا پانی اندر نہیں آسکتا جیکٹ کی سب سے اوپری سطح پر خاص قسم کی ایک پرت موجود ہے جس سح فاسفورس پرمبنی روشن ہونے والا ایک مرکب ہے اس پرروشنی پڑتی ہے تو جیکٹ اسےجذب کرتی ہے اور رات میں اسے دھیرے دھیرے خارج کرتی ہے اس طرح جیکٹ زندہ پودوں کی۔طرح روشنی جمع کرتی رہتی ہے جیکٹ جتنی زیادہ روشنی جذب کرتی ہے اس سے اتنی ہی زیادہ دیر کے لیے روشنی خارج ہوتی ہےیہ جیکٹ تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور اسے کئی اہم امور کے لیے استعمال کیاجا سکتا ہے اس جیکٹ کی قیمت چارسو پینتالیس ڈالر رکھی گئی ہے
Category: خواتین

روشنی جذب کرنے والی جیکٹ

شریفہ کے طبی فوائد
شریفہ کے طبی فوائد
اردونام شریفہ ہندی نام شریفہ اور سیتا پھل انگریزی نام کسٹرڈ ایپل خوش ذائقہ اور مشہور پھل ہے دل کے لیے مفید ہے اور صفرا کو دور کرتا ہے اس کا مزاج سرد ہے جس کی وجہ سے بلغم پیدا کرتا ہے صفراوی مزاج اشخاص کے لیے بےحد مفید ہے پختہ شریفہ میں پانی 64.32 فیصد اور شکر 6.55 ہوتی ہے شریفہ زیادہ استعمال کرنے سے خون میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے دمہ کھانسی جگر کی خرابی اور پیشاب کی نالی کے امراض میں مفید نہیں رگوں کو کمزور کرتا ہے اس لیے دماغی طاقت کو کم کرتا ہے شریفہ قابض ہے شریفہ کا رس ہی استعمال کرنا چاہیے شریفہ کےبیج کا سفوف آنکھ میں پڑ جائے تو آنکھ کو بہت نقصان پہنچاتا ہے جووں اور پھوڑوں کے خاتمے اور دل کے لیے نہایت مفید ہے سر میں جووں کے لیے شریفہ کے کچے پھل کو پیس کر رات کو سر پر لیپ کیا جائے اور صبح نہا لینے سے بالوں میں پڑی جوئیں ختم ہو جاتی ہیں اختناق الرحم کے لیے شریفہ کے تخم کو چھیل کت اس کی گری کو باریک پیس کر بتی بنا لی جائے اور اس کو جلا کر اس کا دھواں باوگولہ یا کسی بھی وجہ سے بے ہوش مریض کی۔ناک میں پہنچایا جائے تو اس سے بے ہوش فوراً ہوش میں۔آجاتا ہے پختہ شریفہ کو کوٹ کر اس میں نمک ملا کر اٹھتے ہوئے پھوڑے یا گانٹھ پر باندھنے سے وہ جلدی پک کر پھوٹ جاتا ہے
گرتے ہوئے بالوں کو روکنے کا آسان علاج
گرتے ہوئے بالوں کو روکنے کا آسان علاج
بدلتے موسم کی وجہ سے بال بھی تیزی سے گرنے لگتے ہیں اس کے لیے اپنی غذا پر توجہ دینی چاہیے اور گیلے بالوں میں کنگھی کرنے اور انہیں زور سے تولیے سے رگڑ کر سکھانے سے بھی بال گرتے ہیں کیونکہ جب بال گیلےہوں تب ان کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں اس کے علاوہ بالوں کو گرنے سے روکنے کے لیے مندرجہ ذیل نسخہ آزمائیں انشاءاللہ کچھ ہی دنوں میں فرق پڑے گا
میتھی دانہ ایک انڈاگنے کا جوس اور آملہ پاوڈر لے لیں پھر ان سب چیزوں کو مکس کر کے بالوں میں لگا لیں میتھی دانہ اور آملہ۔پاوڈر کو گنے کے جوس میں بھگو کررات بھر رکھیں پھر اس میں انڈا ڈال کر مکس کر کے سر پر لگا لیں ایک گھنٹے بعد سر دھو لیں ہفتے میں دو بار اس کو لگائیں
پیٹ کم کرنے کی آسان اور آزمودہ ترکیب
پیٹ کم کرنے کی آسان اور آزمودہ ترکیب
پیٹ کم۔کرنے کے لیے باقاعدگی سے ورزش کریں اور توانائی سے بھر پور غذاوں کا استعمال کریں اور مچھلی اور سفید اُبلے چنے فریش سلاد تازہ پھل۔وغیرہ استعمال کریں اس کے علاوہ پیٹ کم کرنے کے لیے یہ نسخہ۔استعمال۔کریں
پودینہ پہاڑی سو گرام
اجوائن سو گرام
سونف سو گرام
مصری دو سو گرام
ان تمام چیزوں کو مکس کر کے رکھ لیں کھانے کے بعد آدھا یا ایک چمچ استعمال۔کریں اس کے باقاعدہ استعمال۔سے انشاءاللہ۔آپ کو فرق محسوس ہوگا اس کے علاوہ نہار منہ ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک عدد لیموں اور ایک چمچ شہد ڈال کر مکدس کر کے پینے سے چربی کم ہوتہ ہے اس کے علاوہ اس سے چہرے پر گلو بھی آتا ہے
چہرے کے دانوں سے نجات کے لیے آسان نسخہ
چہرے پر دانوں کے لئے مندرجہ ذیل ٹوٹکہ آزمائیں کھٹی اور تلی ہوئی چیزیں کھانے سے پرہیز کریں اور پانی زیادہ سے زیادہ سے پئیں
ثناء کے پتے آٹھ سے دس عدد
عرق گلاب ایک کپ
عرق گلاب کو تہلکا سا گرم کرلیں اب اس میں ثناء کے پتے ڈال دیں پتوں کو اس میں بھگونا ہے جب عرق گلاب ٹھنڈا ہو جائے تو اسے چھان لین اور اسے کسی سپرے والی بوتل میں بھر کر رکھ لیں دن میں دو سے تین مرتبہ اس کو چہرے پر اسپرے کریں اسپرے کرنے کے بعد جب چہرہ سوکھ جائے تو اس پر کھوپرے کا تیل لگائیں اس کو کچھ عرصے تک باقاعدگی سے آزمائیں دانے نکلنا بند ہو جائیں گے اور چہرہ بھی صاف ہو جائے گا
جلد کو ٹائٹ کرنے کے لئے نسخہ
چاول کا آٹا ایک چمچ
عرق گلاب ایک کپ
سب سے پہلے چاول کا آٹا گھول کر ہیسٹ بنا لیں پھر اس میں عرق گلاب آہستہ آہستہ شامل کریں اور چمچ ہلاتی جائیں لوشن تیار ہو جائے گا پھر دار چینی پاؤڈر ایک چٹکی جائفل ایک چٹکی کالی مرچ دو عدد اور ایلوویرا جیل ایک چمچ ان سب چیزوں کو مکس کر کے اس کا پاؤڈر بنا لیں اور اسے لوشن میں ملا کر روزانہ رات سے پہلے لگائیں
چہرے کی چمک کے لئے
ہلدی دوسوپچاس گرام
سن فلاور دوسوپچاس ملی لیٹر
تلسی کے پتے پچیس عدد
نیم کی پتے پچیس عدد
گیندے کی پتیاں پچیس عدد
ان سب چیزوں کو سن فلاور آئل میں ملائیں پھر اسے کسی پیلے رنگ کی بوتل میں ڈال دیں اس کے بعد اسے باقاعدگی سے ایک مہینے تک دھوپ میں رکھیں ایک مہینے بعد ان تمام چیزوں کو نچوڑ کر نکال لیں اور تیل کو چھان لیں اور پھر کسی بوتل میں بھر کر رکھ لیں جب کوئی لوشن یا کریم استعمال کریں تو اس میں ایک قطرہ اس تیل کا ڈال کر مکس کریں اور اپنے چہرے پر لگائیں اس تیل کا اگر باقاعدگی سے استعمال کیا جائے تو چہرہ دمکنے لگے گااس تیل کو ہر طرھ کی جلد کی حامل خواتین اپنے چہرے پر استعمال کر سکتی ہیں
رنگ صاف کرنے کے لئے
لیموں کے چھلکے اور مالٹے کے چھلکے انڈے کے چھلکے اور کدو کے بیج ان سب کو چھاؤں میں خشک کر کے پیس لیں اور سفوف بنا لیں گلاب کاعرق اور وٹامن ای کے کیپسول اور گلیسرین اور لیموں کا عرق حسب ضرورت لے کر ان سب کو مکس کر لیں پھر اس میں چھلکوں کا سفوف حسب ضرورت ڈال کر پیسٹ بنا لیں اس ماسک کو چہرے پر دس سے پندرہ منٹ لگانے کے بعد ٹھبڈے پانی سے منہ دھولیں ہفتے میں دو سے تین مرتبہ استعمال کریں
جوڑوں کے درد سے نجات کیسے پائیں?
جوڑوں کے درد کے عارضے آرتھرائٹس میں درد کے علاوہ دیگر علامتیں مثلاً سوجن پٹھوں میں سختی اور چلنے پھرنے میں دشواری بھی دیکھی جاتی ہے اور امریکا میں ڈاکٹروں نے پانچ کروڑ چالیس لاکھ افراد میں آرتھرائٹس کی تشخیص کی ہے آرتھرائٹس فاونڈیشن کے مطابق بالغ افراد کے علاوہ تین لاکھ شیر خوار بچوں میں بھی آرتھرائٹس کے اثرات دیکھے گئے اوسٹیو آرتھرائٹس جو اس بیماری کی سب سے عام قسم ہے اس سے سالانہ۔تین کروڑ دس لاکھ امریکی متاثر ہوتے ہیں یہ اعدادو شمار انتہائی پریشان کن ہیں تاہم ان کے علاج بالخصوص سوزش کم۔کرنے کی کافی کوششیں کی۔گئیں ایسی بہت سی کوششوں میں غذائی تبدیلی بھی شامل ہے جس میں آرتھرائٹس کے مریضوں کو بعض غذاوں کے استعمال سے روکا گیا
فرائی کی ہوئی غذائیں:
فرائیڈ چکن فرنچ فرائیز ڈونٹس ایسی غذائیں ہیں جن سے ہر ایک کو پرہیز کرنا چاہیے یا پھر کبھی کبھا ر ہی کھانا چاہیے لیکن آرتھرائٹس کے مریضوں کو ان سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے تلی ہوئی چیزیں چکنائی سے بھر پور ہوتی ہیں خاص طور پر جمنے والی اور مصنوعی چکنائی ان میں۔زیادہ ہوتی ہے جس سے موٹاپا چڑھتا ہے اور جوڑوں پر دباو بڑھتا ہے اور ان میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے جسم میں اضافی چربی سے ایسے ہارمونز کی پیداوار بڑھ جاتی ہے جو سوزش کو۔بڑھاتے ہیں اگر آپ کو خستہ کرارے اور نمکین فرائیز پسند ہیں تو گھر پر بناکر ان۔پر سمندری نمک اور کالی مرچ چھڑک کر کھائیں
نمک:
جس طرح اسفنج اپنے اندر پانی کو جذب کر لیتا ہے اسی طرح نمک ایک قدرتی اسفنج ہے اور نمک جب بڑی مقدار میں جسم میں پہنچتا ہے تو جسم۔غیر ضروری سیال مادوں کو اپنے اندر روک لیتا ہے جس سے جسم کے مختلف حصوں اور جوڑوں پر دباو بڑھتا ہے نمک کی۔زیادتی سے بلڈ پریشر بھی بڑھ جاتا ہے بہت سی تیار غذاوں میں نمک اور دوسرے کیمیکلز کی۔زیادہ مقدار استعمال کی۔جاتی ہے تاکہ انہیں زیادہ عرصے تک قابل استعمال رکھا جاسکے بہت سے لوگوں کو نمک کے زیادہ استعمال سے جوڑوں میں۔سوزش کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے اس لیے جہاں تک ممکن ہو سکے نمک کا استعمال کم کر دیں
سرخ گوشت:
نہ صرف تلی ہوئی غذاوں میں جمنے والی چکنائی ہوتی ہے بلکہ گوشت خاص طور پر سرخ گوشت میں بھی سیچوریٹیڈ فیٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس سے کولیسٹرول بڑھتا ہے اور سوزش بھی زیادہ ہو جاتی ہے گوشت میں ایڈوانسڈ گلیکوٹین اینڈ پروڈکٹس کی۔سطح بھی بلند ہوتی ہے جس سے سوزش کو تحریک ملتی ہے خاص طور پو اس وقت جب گوشت کو بھون کر گرل کر کے یا فرائی کر کے کھایا جائے
شکر:
مٹھائی کیک بسکٹ اور کینڈیز یہ ساری چیزیں سادہ شکر سے تیار کی۔جاتی ہیں جو آپ کے خون میں شکر کی مقدار کو بڑھا دیتی ہے اوراس کے جواب میں جسم میں سوزش پیدا ہوتی ہے اس سوزش سے جوڑوں میں سوجن بڑھنے لگتی ہے اور درد بھی زیادہ ہونے لگتا ہے اگر میٹھا کھانے کو دل چاہے تو سیب کھالیں یا انگور یا تربوز کھالیں
ریفائن کاربو ہائیڈریٹس:
ریفائن شکر کی طرح ریفائن کاربو ہائیڈریٹس سے بھی بنیادی طور پرتمام صحت بخش چیزیں نکال دی جاتی ہیں اور جو کچھ بچ جاتا ہے وہ ہماری صحت کے لیے حقیقی معنوں میں کچھ نہیں ہوتا اس کی ایک مثال سفید آٹا ہے جس سے ڈبل۔روٹی رول کریکرز کیک اور پیسٹریاں بنائی جاتی ہے حس طرح آٹے سے چوکت نکال کر اسے زیادہ قابل قدراور غیرصحت بخش بنا دیا جاتا ہے اسی طرج چاول کے دانے کے بیرونی بھورے چھلکے کو الگ کرکے جو گورا چٹا چاول بنایا جاتا ہے اس میں صحت کے لیے فائدہ مند اجزاء کم۔رہ جاتے ہیں وزن کم۔کرنے کے خواہش مند افراد دلیہ کھاتے ہیں اس میں بھی شکر شامل ہوتی ہے یوں ریفائن شکر کی طرح ریفائن کاربوہائیڈریٹس بھی سوزشی مرکبات کی مقدار بڑھا کر سوزش پیدا کرتے ہیں اس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ثابت اناج استعمال کریں یعنی بھوسہ نکالے بغیر آٹا اور سفید چاول کی جگہ بھورا چاوک۔استعمال کریں جس میں۔فائبر زیادہ ہوتا ہے
پروسیسڈ کیمیکلز:
اگر آپ کسی غذا کو اس کی قدرتی حالت یا ثابت صورت میں نہیں۔استعمال کر رہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے کسی نہ کسی طرح مصنوعی طور پر تیار کیا جارہا ہے ماونٹ سینائی سکول آف میڈیسن کے ریسرچرز نے خوراک کے ذریعے بیماریوں اسے بچاو کا جائزہ لیا تھا جس سے معلوم۔ہوا کہ تیار شدہ غذائیں اگر کم مقدار میں استعمال کی جائیں تو اس سے جسم میں۔سوزش کم پیدا ہوتی ہے اور جسم کا قدرتی دفاعی نظام بہتر طور پر کام۔کرتا ہے اسلیے کین ڈبے یا پیکٹ میں تیار خوراک کھانے سے گریز کریں اور اپنی خوراک میں زیادہ پھل سبزیاں اور مغزیات شا مل کریں
مصنوعی مٹھاس:
مصنوعی مٹھاس اگرچہ شکر نہیں ہوتی لیکن شکر کی متبادل سمجھی جانے والی یہ چیز بھی صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ویسے تو اسپارٹیم کے استعمال کی اجازت دے رکھی ہے اور چار ہزار سے زیادہ غذائی مصنوعات میں اسے استعمال بھی کیا جا رہا ہے لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ اس سے انسانی جسم میں مسائل پیدا ہوتے ہیں خاص طور پر آرتھرائٹس کے مریضوں کی تکلیف بڑھ جاتی ہے آرتھرائٹس فاونڈیشن کے مطابق آپ کے جسم کا مدافعتی نظام اس مصنوعی مٹھاس کو کوئی خارجی چیز سمجھ کر اس پر حملہ آور ہو جاتا ہے اس رد عمل سے سوزش کو ہوا ملتی ہے اور جوڑوں کا درد بے قابو ہونے لگتا ہے اگر خوراک کو میٹھا بنا کر کھانے کا دل چاہے تو اسمیں شہد شامل۔کر لیں انگور سیب یا گُڑ ملالیں اور پھر بغیر میٹھا کیے کھا لیں شروع میں غذاوں کا پھیکا پن آپ کو پسند نہیں آئے گا لیکن عادت ہو جائے تو اس میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی
جاپانی پھل کے بے شمار طبی فوائد
جاپانی پھل کے بے شمار طبی فوائد
اس پھل کو عرف عام میں جاپانی پھل کہتے ہیں لیکن تحقیق کے مطابق اس کی ابتدائی کاشت چین میں ہوئی تھی اور یہ لذیذ خوش ذائقہ پھل ہزاروں برس سے انسانوں کے استعمال میں ہے اگرچہ املوک کی سیکڑوں قسمیں ہیں لیکن ہاچیا اور فویو قسمیں سب سے زیادہ مقبول ہیں دل کی شکل کا ہاچیا پھل قابض سمجھا جاتا ہے جبکہ اس میں نباتاتی کیمیکل ٹینین کی کثرت ہوتی ہے اس لیے اسے کچا کھانا مشکل ہوتاہے کیونکہ اس کا ذائقہ کسیلا ہوتا ہے اور اچھی طرح پک جانے کے بعد ہی کھایا جاتا ہے ٹماٹر جیسا فویو غیر قابض ہو تا ہے اور کسی حد تک کچا بھی کھایا جاتا ہے لیکن پکا پھل بے حد لذیذ اور خوش ذائقہ ہوتا ہے 168 گرام وزنی املوک میں 118 کیلوریز 31 گرام کاربس ایک گرام پروٹین 0.3گرام چکنائی چھ گرام فائبر وٹامن اے یومیہ مقدار کا 55فیصد وٹامن سی 22فیصد وٹامن ای چھ فیصد وٹامن کے پانچ فیصد وٹامن بی سکس آٹھ فیصد پوٹاشیم آٹھ فیصد کاپر نو فیصد اور مینگانیز یومیہ مقدار کا تیس فیصد ہوتا ہے اس کے علاوہ وٹامن بی ون بی ٹو فولیٹ میگنیشیم اور فاسفورس کی بھی مقدار کثرت سے ہائی جاتی ہے وٹامنز اعر منرلز کے علاوہ اس میں مختلف اقسام کے بناتاتی مرکبات مثلاً ٹینین فلیوو نوئڈ اور کیرو ٹو نوئڈز بھی پائے جاتے ہیں جو صحت کو مختلف انداز سے فائدہ پہنچاتے ہیں اینٹی آکسیڈینٹ اجزاء فری ریڈیکلز سے پیدا ہونے والے آکسیڈیٹو سٹریس کا مقابلہ کرکے خلیات کو تباہ ہونے سے بچاتے ہیں یا اس تباہی کی رفتار کو دھیما کردیتے ہیں یہ آکسیڈیٹو سٹریس بہت سی دیرینہ۔بیماریوں کا۔پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے جس میں امراض قلب ذیابیطس کینسر اور الزائمر جیسے اعصابی امراض شامل ہیں جاپانی پھل میں چونکہ فلیوونوئڈز جیسے طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ اجزا وافر ہوتے ہیں اس لیے اس کو کھانے سے دل کی بیماریوں عمر سے متعلق ذہنی زوال اور پھیپھڑے کے سرطان کا خطرہ گھٹ جاتا ہے جو لوگ اپنے دل کو صحت مند رکھنا چاہتے ہیں انہیں یہ پھل۔ضرور کھانا چاہیے کیونکہ ا س میں۔مختلف اینٹی آکسیڈینٹس پائے جاتے ہیں اور متعدد تحقیقات سے یہ معلوم۔ہو چکاہے کہ فلیوو نوئڈز سے بھر پور غذا کھانے سے دل کے امراض کاخطرہ گھٹ جاتا ہے ایسی غذاوں سے بلڈ پریشر بھی کم رہتا ہے اور خراب ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح گھٹ جاتی ہے جبکہ سوزش میں بھی کمی آتی ہے مزید برآں اگر جاپانی پھل کچا کھایا۔جائے جوکہ کسیلا ہوتا ہے تواسمیں ٹینین کی زیادتی سے بڑھا ہوا بلڈ پریشر گھٹ سکتا ہے دل کی بیماری جوڑوں میں درد آرتھرائٹس کا۔عارضہ ذیا بیطس کینسر اور موٹاپا یہ سب دیرینہ۔سوزش کی وجہ۔سے ہوتے ہیں جاپانی پھل ایک اہم۔اینٹی آکسیڈنٹ وٹامن۔سی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور صرف ایک جاپانی پھل سے وٹامن سی یومیہ مقدار کا۔بیس فیصد حاصل کیا جا سکتا ہے وٹامن سی فری ریڈیکلز سے پہنچنے والے نقصانات سے خلیات سے محفوظ رکھتا ہے اور اس طرح جسم میں۔سوزش کا۔مقابلہ۔کرتا ہے جسم میں اگر کولیسٹرول خصوصا خراب ایل ڈی ایل کولیسٹرول زیادہ ہو جائے تو اس سے دل کی بیماری فالج اور دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جن غذاوں میں۔ریشے زیادہ ہوتے ہیں مثلاً پھل۔اور سبزیاں وہ۔کولیسٹرول لیول کم کردیتی ہیں جاپانی۔پھل۔میں چونکہ حل پذیر ریشے بہت زیادہ ہوتے ہیں اس لیے نہ صرف خراب کولیسٹرول۔جسم سے خارج ہو جاتا ہے بلکہ۔آنتیں بھی متحرک ہوتی ہیں جس سے قبض نہیں رہتا اور خون میں شکر کی۔مقدار کم۔ہو جاتی ہےکیونکہ جاپانی پھل میں موجود حل پذیر ریشے کاربوہائیڈریٹس کو ہضم کرنے اور شکر کو جسم میں جذب کرنے کی رفتار گھٹا دیتے ہیں غذائی ریشوں کا ایک اور فائدہ یہ ہوتا ہے اس سے بڑی آنت میں موجود صحت کے لیے مفید جرثوموں کی صحت اچھی رہتی ہے جس سے آپ کے نظام۔انہضام اور مجموعی صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے املوک کھانے سے ہمیں وٹامن اے اور اینٹی آکسیڈینٹس کی وافر مقدار بھی ملتی ہے جو آنکھوں کی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں اس پھل میں لیوٹین اور زیگزانتھین جیسے کیروٹونوئڈ آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو عرصہ دراز تک بصیرت کو بہتر رکھتے ہیں ان غذائی اجزاء سے آنکھوں کے مختلف امراض سے حفاظت ہوتی ہے جن میں عمر سے متعلق ماکیولر ڈی جنریشن بھی شامل ہے جو آنکھوں کے پردہ۔کو۔متاثر کرتی ہے اور بینائی کمزور ہو۔جاتی ہے
کچی لہسن اور پیاز کا استعمال بریسٹ کینسر سے بچاؤ کے لئے انتہائی مفید
خواتین اگر روزانہ کچی پیاز اور لہسن کھائیں تو چھاتی کے سرطان کا خطرہ ٦٧ فیصد تک کم ہو سکتا ہے یونیورسٹی آف بفیلو اور یونیورسٹی آف پورٹوریکو کی۔جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے سلسلے میں سائنسدانوں نے پورٹوریکو میں۔چھ سو سے زائد خواتین کی غذائی عادات کا جائزہ لیا تھا جہاں گزشتہ چند عشروں میں اس بیماری کی شرح بہت زیادہ بڑھ گئی ہے انہوں نے تحقیق میں یہ دیکھا ہے کہ جن خواتین نے پیاز اور لہسن سء تیار اچار سوفریٹو دن میں ایک بار سے زیادہ کھایا تھا ان میں بریسٹ کینسر کا امکان ٦٧ فیصد سے بھی کم۔ہو گیا تھا تاہم۔سائنسدانوں نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ کسی اور صورت میں پیاز اور لہسن کے استعمال سے اسی قسم کے فوائد حاصل نہیں ہو سکتے سوفریٹو تیار کرنے کے اگرچہ مختلف طریقے ہیں لیکن۔ان میں۔عموماً کچی لہسن اور پیاز استعمال ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ ٹماٹر شملہ مرچ اور دھنیا کی پتیاں بھی ڈالی جاتی ہیں ہو سکتا ہے کہ پیاز اور لہسن کو کچا کھانا ہی بیماری سے تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہو
اس سے پہلے تحقیقات میں معلوم ہوا تھا کہ جڑوں والی سبزیوں میں جو اینٹی آکسیڈنٹ اجزاء ہوتے ہیں وہ کینسر سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن جب انہیں پکایا جاتا ہے تو ان کی یہ خوبی ختم ہو جاتی ہے اعدادوشمار کے مطابق امریکا اور برطانیہ میں ہر آٹھ خواتین میں سے ایک کو زندگی کے کسی بھی مرحلے میں۔چھاتی کا سرطان ہو سکتا ہے اور صرف خواتین ہی نہیں مرد بھی بریسٹ کینسر میں مبتلا ہو سکتے ہیں پورٹوریکو کی خواتین میں بریسٹ کینسر کے واقعات 1960ء کی دہائی میں فی ایک لاکھ خواتین میں اٹھارہ میں دیکھے جاتے تھے جو 1990ء کی دہائی میں فی ایک لاکھ خواتین پچاس تک بڑھ گئےتھے اگرچہ پورٹوریکو میں۔چھاتی کا سرطان تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن امریکا میں بھی یہ بہت عام ہے امریکا کے نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے اعدادوشمار کے مطابق وہاں۔ہر سال ایک ایک لاکھ امریکی۔خواتین میں زے 127.5 خواتین اس مرض میں گرفتار ہوتی ہیں طبی تحقیقات کے مطابق پیاز اور لہسن زیادہ کھائیں جائیں تو پھیپھڑے پروسٹیٹ اور معدے کے کینسر کا احتمال کم ہو جاتا ہے نومبر 2008 ء سے 2014ء کے درمیان سائنسدانوں نے ہورٹوریکو میں ان خواتین کا تجزیہ کیا تھا جو اطبائے سٹڈی آف بریسٹ کینسر میں شریک تھیں ان خواتین میں سے 314 نے اس بیماری کا مقابلہ کیا تھا جبکہ 346 خواتین میں کبھی کوئی موذی رسولی نہیں دیکھی گئی اور کچھ ایسی خواتین بھی تھیں جو نان میلانوما جلدی۔سرطان میں مبتلا تھیں
یہ تمام خواتین جن کی عمر تیس سے اناسی سال کے درمیان تھی غذائی عادات سے متعلق ایک سوالنامہ بھی پُر کیا گیا تھا کہ گزشتہ۔سال سے پہلے تک وہ کتنی پیاز اور لہسن استعمال کرتی رہی ہیں اس میں خصوصاً یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ کتنی مرتبہ سوفریٹو کھاتی ہیں جو پورٹوریکو میں عام استعمال ہوتا ہے اس جائز سے جو نتیجہ اخذ ہوا اس سے معلوم ہوا کہ پیاز اور لہسن کے زیادہ استعمال سے بریسٹ کینسر کا خطرہ گھٹا تھا لیکن اعدادو شمار کے حوالے سے یہ زیادہ متاثر کن نہیں تھا تاہم جن خواتین نے روزانہ۔سوفریٹو کھایا تھا ان میں۔اس بیماری کا خطرہ نمایاں۔طور پر کم۔دیکھا گیا تھا پیاز اور لہسن کا تعلق ایلئیم کے نباتاتی خاندان سے ہے لیبارٹری میں جانوروں اور خلیات کے جائزے میں دیکھا گیا ہے کہ ایلئیم کے مرکبات اور دوسرے خلیات کو بے قابو ہو کر تقسیم ہونے سے روکتے ہیں جائزوں میں۔دیکھا گیا تھا کہ پیاز میں پایا جانے والا ایک اینٹی آکسیڈنٹ کیروسٹین چھاتی کے ایک۔سرطان میں ایک تبدیل شدہ پروٹین کو بڑھنے سے روکتا ہے اور لہسن میں پایا جانے والا ایک مرکب خلیات کی بے قابو تقسیم کو روک دیتا ہے تاہم اگر ان اینٹی آکسیڈینٹس اجزاء کو چالیس سے ساٹھ منٹ پر سو ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر گرم کیا جائے تو ان کی مقدار نمایاں طور ہر کم ہو جاتی ہے اس لیے پیاز اور لہسن کو کچی حالت میں کھانا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے
کولیسٹرول لیول کیسے کم کر سکتے ہیں؟
کولیسٹرول لیول کیسے کم کر سکتے ہیں؟
کولیسٹرول کیا ہے ؟
کولیسٹرول چربی کی ایک قسم ہے جس کی مناسب مقدار کا جسم میں ہونا ضروری ہے ایک نارمل آدمی کے جسم مکں کولیسٹرول کی مقدار تقریباً سو گرام یا اس سے تھوڑی سی زیادہ ہوتی ہے کولیسٹرول جسم میں بنتا اور جمع ہوتا ہے اس کی مناسب مقدار جسم میں ضروری ہارمونز پیدا کر نے کے لیے اور نظام ہضم میں مدد دینے کے لیے ضروری ہے مثلاً گوشت انڈے دودھ مکھن اور گھی وغیرہ میں کولیسٹرول کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے اس طرح کی غذا کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے جب خون میں کولیسٹرول کی مقدار حد سے بڑھ جائے تو پھر یہ خون کی نالیوں کے اندرونی حصے میں جمع ہو کر اور چکنائی کہ تہیں بنا کر خون کے نارمل بہاو میں رکاوٹ پیدا کرکے ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے جس سے فوری موت بھی واقع ہو سکتی ہے
کولیسٹرول کا لیول:
جسم میں کولیسٹرول اوت مختلف قسم کے لیپوپروٹینز اور چکنائی کی مقدار معلوم کرنے کے لیے خون کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے اسے لیپڈ پروفائل کا نام دیا جاتا ہے اس ٹیسٹ کو کروانے کے لیے کم از کم بارہ گھنٹے بھوکا رہنا ضروری ہے تبھی خون میں کولیسٹرول کی مقدار کا صحیح پتہ چلتا ہے ایک تندرست انسان کا لیپڈ پروفائل یہ ہوتاہے کولیسٹرول 200-120ملی گرام/ڈیسی لیٹر ایچ ڈی ایل 52-41 ملی گرام/ڈیسی لیٹر ایل ڈی ایل 188-108 ملی گرام/ڈیسی لیٹر ٹرائی گلیسرائیڈز 150 ملی گرامڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر
کولیسٹرول کی اقسام اور ان کا کام:
کولیسٹرول خون میں گرش کرتاہے جسم میں موجود چکنائی اور پروٹینز کے چھوٹے چھوٹے مرکبات کولیسٹرول کو اس کے استعمال کی۔جگہ پر لے جاتے ہیں ان مرکبات کو لیپو پرٹینز کہتے ہیں اس کی اقسام وی ڈی وی ایل یعنی ویری لو ڈینسٹی لیپو پروٹینز؛ ایل ڈی ایل یعنی لو ڈینسٹی لیپو پروٹینز؛ ایچ ڈی ایل یعنی ہائی ڈینسٹی لیپو پروٹینز ہیں ایل ڈی ایل اور وی ایل ڈی ایل جسم میں موجود کولیسٹرول کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں جبکہ ایچ ڈی ایل اصل خون میں موجود کولیسٹرول کو کم کرنے کا کام کرتے ہیں کیونکہ یہ جسم سے زیادہ کولیسٹرول کو جگر تک پہنچاتے ہیں جہاں سے وہ صفرا وغیرہ بنانے کے کا آتا ہے اگر خون میں ایل ڈی ایل اور وی ایل ڈی ایل کی مقدار زیادہ ہو گی تو پھر کولیسٹرول کی۔زیادہ مقدار خون میں شامل ہو کر شریانوں کو تنگ کرنے کا باعث بنے گا مرغن غذائیں یو کولیسٹرول والی زیادہ خوراک کھانے سے جسم میں مختلف قسم کی چربی بھی زیادہ ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے خون کی نالیوں میں کلوٹ آنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے
خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھانے والے عوامل:
خون میں کولیسٹرول کی زیادتی کے باعث دل کے دورے کے امکانات آٹھ سے دس گنا بڑھ جاتے ہیں خون میں کولیسٹرول زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ اگر سگریٹ نوشی یا شراب نوشی کی بھی لت ہو تو پھر ہر وقت دل کے دورے کا خطرہ رہتا ہے زیادہ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ دل کو خون پہنچانے والی نالیوں میں کلوٹ بن کر دل کو خون کی سپلائی بند کرنے کا سبب بن سکتے ہیں موٹاپے کے ساتھ اگرذیابیطس بھی ہو تو دل کے دورے کے امکانات اوت بھی بڑھ جاتے ہیں
خون میں کولیسٹرول۔لیول کم کرنے کی آسان تراکیب:
کولیسٹرول کی۔خون میں زیادتی خطرناک تو ہوتی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ خون کی۔شریانوں میں کلوٹ یا پلاک بن کر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ طرز زندگی میں مثبت تبدیلی اور کھانے پینے میں اعتدال کر کے نہ صرف اس پر قابو پایا جا سکتاہے بلکہ نارمل۔زندگی گزاری جا سکتی ہے خون میں کولیسٹرول کی۔زیادتی کی ایک۔وجہ موٹاپا بھی ہے جتنا وزن زیادہ ہوگا اتنا ہی کولیسٹرول بڑھنے گا امکان زیادہ ہو گا ایک اندازے کے مطابق ہر ایک کلو گرام زیادہ وزن کے لیے جسم کو تقریباً بائیس ملی گرام زیادہ کولیسٹرول روزانہ پیدا کرنا پڑتا ہے یعنی اگرکسی کا وزن نارمل وزن سے بیس کلو زیادہ ہے تو اس کا جسم روزانہ چار سو چالیس ملی گرام۔زیادہ کولیسٹرول بنائے گا کولیسٹرول کم کرنے کے لیے سب سے پہلے موٹاپے کو کنٹرول کیا جائے کولیسٹرول کی زیادتی والی غذا ست مکمل پرہیز کرنا چاہیے زیادہ چکنائی والی اور تمام مرغن غذاوں سے مکمل پرہیز کیا جائے کولیسٹرول صرف جانوروں سے حاصل کی جانے والی خوراکوں میں پایا جاتا ہے اچھی صحت کے لیے ایک دن میں ایک شخص کو سو ملی گرام سے زیادہ کولیسٹرول نہیں کھانا چاہیے انڈوں کا استعمال بند کر دیں یا صرف انڈوں کی سفیدی لیں گوشت کا استعمال کم کریں چربی والا گوشت بالکل استعمال نہ کریں کریم مکھن چیز کریم والے دودھ دیسی گھی گردے کلیجی نہاری مغز اور سری پائے وغیرہ سے پرہیز کریں سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں
مختلف تازہ سبزیاں اور پھل بہترین غذا ہیں اس لیے سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے کیونکہ سبزیوں اور پھلوں میں کولیسٹرول بالکل نہیں ہوتا سبزیاں کھانے سے انسان۔صحت مند اور سمارٹ رہتا ہے اس لیے تندرست سمارٹ اور چاق و چوبند رہنے کے لیے زیادہ زیادہ پھل۔اور سبزیاں استعمال کریں کھانے میں سادہ سلاداور ریشے والی سبزیاں زیادہ شامل کریں
مختلف تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ روزانہ ناشتے میں لہسن اور کچی گاجروں کا استعمال کولیسٹرول کم۔کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے روزانہ کچی گاجریں کھانے سے معدہ بھی ٹھیک رہتا ہے بھوک بھی زیادہ نہیں لگتی اور کولیسٹرول کی مقدار بھی ٹھیک رہتی ہےخون میں کولیسٹرول اور چربی یعنی ٹرائیڈ گلیسٹرائیڈ کی مقدار کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ غذا میں زیادہ چکنائی کی مقدار بالکل ختم کر دی جائے ہر قسم کے گھی اور مکھن سے مکمل پرہیز کیا جائے پورے جسم کو چربی کی ضرورت بہت کم ہوتی ہے اگر جسم میں چربی کی۔مقدار پہلے ہی زیادہ ہو تو اس کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی اس لیے ضروری ہے کہ کھانے میں چکنائی کی مقدار بالکل۔کم کر دیں چکنائی کا استعمال کرنے کے لیے ہرقسم کی چکنائی والی اشیاء کھانا بند کر دیں
صرف غیر سیرشدہ تیل مثلاً مکئی کا تیل سویا بین کا تیل اور مونگ پھلی کا تیل استعمال کریں زیتون کا تیل بہت فائدہ مند ہے اس کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے کے لیے بہت مفید ہے عرب ممالک میں زیادہ لوگ اسے استعمال کرتے ہیں اسی وجہ سے ان علاقوں میں ہارٹ اٹیک بہت کم ہوتے ہیں کولیسٹرول کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بازارطسے کھانے نہ کھائے جائیں اس کے علاوہ مختلف قسم کی کولڈ ڈرنکس کافی اور کیفین والے دوسرے مشروبات لینے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے مختلف قسم کی۔غذا کو اس کی اصلی حالت میں استعمال کرنا چاہیے چھان کے بغیر آٹا استعمال کرنا بھی مفید ہے اس کے علاوہ ریشے دار غذائیں کھانے سے بھی فائدہ ہوتا ہے
خوراک میں ریشے کی مقدار کولیسٹرول اور چربی کو خون میں جذب ہونے سے روکتی ہے اس طرح خون میں کولیسٹرول کا لیول مناسب حد تک رہتا ہے سگریٹ نوشی بھی ایک طرح سے کولیسٹرول لیول زیادہ کرنے کا سبب بنتی ہے کیونکہ سگریٹ نوشی خون میں شامل ہو کر ایچ ڈی ایل کو کم۔کرنے کا سبب بنتی ہے خون میں شامل۔ایچ ڈی ایل اصل میں خون میں کولیسٹرول کم کرنے کا سبب بنتا ہے اس لیے اس کی موجودگی ضروری ہے اس وجہ سے سگریٹ نوشی سے پرہیز بہت ضروری ہے سگریٹ نوشی کی طرح شراب نوشی بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ خون میں موجود الکوحل خون سے چکنائی دور کرنے کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے خون میں چکنائی اور کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ کولیسٹرول کم کرنے کے لیے غذائی احتیاطوں کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی اور شراب نوشی سے بھی پرہیز کیا جائے
ایک تحقیق کے مطابق صرف غذا میں مباسب تبدیلی کر کے دو سے تین ماہ کے اندر تقریباً پچاس سے ساٹھ ملی گرام کولیسٹرول کم کیا۔جا سکتا ہے اس کے علاوہ خوراک میں جو کاآٹا پھلیاں کریم نکلی ہوئی دہی کا استعمال بھی فائدہ مند ہے روزانہ صبح لہسن کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے میں۔مدد دیتا ہے روزانہ ایک گاجر کا استعمال بھی انتہائی مفید ہے کولیسٹرول لیول کم۔کرنے کے لیے ضروری ہے کہ طرز زندگی میں بھی تبدیلی کی جائے مستقل مزاجی کے ساتھ کھانے میں تبدیلی اور اس کے ساتھ مثبت سوچ بھی کولیسٹرول کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے اللہ پر پورا یقین رکھیں مثبت سوچ اپنائیں مثبت سوچ اور کامل یقین کے ساتھ آپ ہر قسم کے مسائل۔پر قابو پا سکتے ہیں ذہنی انتشار دماغی الجھنوں سے بچنے کی کوشش کی جائے روحانی بالیدگی کے لیے پانچ وقت کی نماز کہ پابندی کی۔جائے خون میں کولیسٹرول کی۔زیادتی کوئی بڑا مسئلہ نہیں اس کو کم کرنے کا حل آپ کے پاس ہے ادویات اور ڈاکٹر سے زیادہ اس کو آپ نے خود کنٹرول کرنا ہے طرز زندگی میں تبدیلی لا کر مثبت سوچ اپنا کر سادہ۔غذا استعمال کر کے آ پ خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھنے سے روکنے کے علاوہ دوسری بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں کھانا صرف زندہ رہنے کے لیے کھایا جاتا ہے نہ کہ صرف کھانے کے لیے زندہ رہا جاتا ہے موٹاپا کولیسٹرول کی وجہ بنتا ہے اور بھی بہت سی بیماریوں کا۔سبب بن سکتا ہے اس لیے کھانا ہمیشہ کم کھایا جائے خاص کر رات کو سونے سے پہلے تو بہت ہی ہلکا پھلکا کھانا کھا لیا جائے تاکہ معدہ اور نظام انہضام اور دوسرے افعال پر خومخواہ بوجھ نہ پڑے اس سلسلے میں آپؐ نے فرمایا کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کر کھائیں جب بھی کھانا کھائیں تو پیٹ کےتین حصے کر لیں ایک کھانے کے لیے ایک ہوا کے لیے اور ایک پانی کے لیے اس حساب سے کھانا کھائیں گے تو موٹاپا بھی نہیں ہو گا اور کولیسٹرول بھی نہیں بڑھے گا اور دوسری بیماریاں بھی نہیں ہوں گی روزانہ ورزش کو معمول بنا لیں ورزش انسان کو صحت مند اور توانا رکھتی ہے ورزش کسی بھی قسم کی ہو اگر یہ باقاعدگی کے ساتھ کی جائے تو موٹاپا کم۔کرنے کے ساتھ ساتھ آدمی کو صحت مند رکھنے کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتی ہے اور اس سے یقینی طور پر کولیسٹرول کی مقدار بھی کم ہو سکتی ہے ذیا بیطس بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک کا چولی۔دامن کا۔ساتھ ہے اگر ان بیماریو۔ کا۔علاج نہ کروایا جائےتو دل کے دورے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ان کے علاوہ اگر آپ کو کسی۔قسم کی۔بیماری ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ڈاکٹر کے مشورے سے اس کا علاج کریں
گوشت دھوئے بغیر پکائیں کیسے؟
گوشت دھوئے بغیر پکائیں کیسے؟
دراصل گوشت پروٹین اور غذائیت سے بھر پور ہونے کے باعث ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے اپنے بچوں کو انکی خواہش کے مطابق ڈشز پکا کر کھلائے اس کے نقصانات ایک طرف لیکن حقیقت ہے کہ گوشت معیاری ہوتو اس کااستعمال ضروری ہے موجودہ ریسرچ کے مطابق گوشت دھونے سے جو آلودہ پانی کے چھینٹے اڑتے ہیں اس سے کیمپی لو بیکٹیریا پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے گوشت دھونے کے باعث اڑنے والے آلودہ پانی کے چھینٹے کپڑوں اور باورچی خانے میں آتے ہیں ریسرچ کے مطابق ان کے ذریعے کیمی لو بیکٹیریا افزائش پاتا ہے اور تیزی سے پھیلتا ہے جس سے فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اگر گوشت کو دھویا نہ جائے تو صاف کر کے کیسے پکایا جائے آپ حیران ہوں گی کہ گوشت تو اتنا آلودہ ہوتا ہے اسے دھوئے بغیر پکانا تو ناممکن سی بات ہے یہاں آپ کو گوشت دھونے کا صحیح اور محفوظ طریقہ جس سے آپ کیمپی لو بیکٹیریا سے بھی بچ جائیں گے اور مزیدار پکوان سے بھی لطف اندوز ہو پائیں گے
گوشت دھونے کا طریقہ:
گوشت صاف کیے بغیر کبھی بھی فریز نہ کریں گوشت پرلگا خون اور آلودگی ململ یا کسیبھی نرم۔کپڑے کی مدد سے گیلا کر کے صاف کر لیں کپڑا سفید یا پھر ایسے ہلکے رنگ کا ہو جس کا رنگ نہ نکلتا ہو اس کے بعد نیم گرم پانی میں ایک عدد لیموں کا رس یا ایک چمچ سفید سرکہ ڈال کر گوشت کو پانچ منٹ تک بھگو دیں ہاتھ سے مل کر صاف کریں اور ایک۔دفعہ۔گوشت کو سادہ پانی میں ڈال کر نکال لیں ایسا کرنے سے گوشت تمام جراثیم سے پاک ہو جاتا ہے اس طریقہ کار کو اپنانے کے بعد آپ کو گوشت کے آلودہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں رہے گا اور آپ جراثیم کے پھیلنے کے خوف سے بھی بچ جائیں گےڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر
کیمپی لو بیکٹیریا انفیکشن کیا ہے؟
یہ بیکٹیریا ڈائریا اور فوڈ پوائزننگ کا ایک اہم اور بنیادی سبب مانا جاتا ہے یہ بیکٹیریا معدے کی نالی میں انفیکشن پیدا کرکے ڈائریا بخار اور اینٹھن کا۔سبب بنتے ہیں حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کر کے اس سے بچا جا سکتا ہے اکثر یہ علامات خود ہی دور ہو جاتی ہیں اور کبھی اینٹی بائیوٹکس لینے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے
کیمپی لو بیکٹیریا کے اسباب:
یہ بیکٹیریا جنگلی اور گھریلو جانوروں کی آنتوں میں رہتے ہیں یہ انسانوں تک گوشت دودھ اور انسانوں کے فضلہ کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں انسان کے نظام انہضام میں داخل ہو کر یہ آنتوں کی چھوٹی بڑی پرتوں کو متاثر کرتے ہیں آنتوں کے ساتھ ساتھ یہ بیکٹیریا جسم کے دیگر اعضاء کو بھی متاثر کر سکتا ہے یہ بڑھتے ہوئے بچوں کو کمزور قوت مدافعت اوردائمی۔امراض میں مبتلا افراد کو زیادہ متاثر کرتا ہے
کیمپی لو بیکٹیریا انفیکشن کی علامات:
یہ علامات انفیکشن سے متاثر ہونے کے بعد دو سے پانچ دن کے اندر ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں اور ایک ہفتے تک جاری رہ سکتی ہیں ان علامات میں۔ڈائیریا پیٹ کا درد اینٹھن بخار تھکاوٹ متلی اور قے شامل ہیں غیر معمولی صورتحال میں یہ انفیکشن جوڑوں کے درد یا گیلین بارسنڈروم کا باعث بن سکتا ہے کیمپی لو بیکٹیریا ایک متعددی مرض ہے یہ انفیکشن ایک انسان سے دوسرے انسان تک باآسانی منتقل ہو سکتا ہے متاثرہ فرد کے فضلہ خاص طور پر چھوٹے بچوں کے ڈائپر وغیرہ کے ذریعے یہ بیکٹیریا دیگر افراد میں منتقل ہو سکتا ہے گھر میں موجود پالتو جانوروں کے ذریعے بھی یہ بیکٹیریا آپ تک منتقل ہو سکتا ہےاسکے علاوہ گوشت دھونے کے باعث اڑنے والے آلودہ پانی کے چھینٹے کپڑوں اور باورچی خانے میں آتےہیں ان کے ذریعے بھی کیمپی لو بیکٹیریا افزائش پاتا ہے اور تیزی سے پھیلتا ہے جس سے فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے









