Baaghi TV

Category: خواتین

  • شہد اور کھجور کی طبی خصوصیات

    شہد اور کھجور کی طبی خصوصیات

    شہد اور کھجور کی طبی خصوصیات
    کھجور وہ پھل ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں متعدد بار آیا ہے اس کو خوشی کا پھل کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے سے ہی اسے بطور میٹھے کے استعمال کرنے کا عام رواج تھا باالخصوص اسے اسلام کی آمد کے بعد اس متبرک شے کی خصوصیات یا ثمرات مزید ابھر کر سامنے آئےروایت ہے کہ ایک صحابی کے سینے میں درد اٹھا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عجوہ کھجور گٹھلی سمیت پیس کر پلانے کی ہدیت فرمائی اس طرح ان صحابی کا دردر دور ہو گیا بعد کی تحقیق سے مزید خصوصایت سامنے آئیں اس ساے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس شے کی قدرومنزلت کس قدر ہے کھجور کھانے سے دل کے امراض دور ہوتے ہین چند کھجوروں کو رات بھر پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ کھانے سے دل کو تقویت ملتی ہے یہ انتہائی مقوی غذا ہے حکماء اسے کئی اعتبار سے دیگر پھلوں پر فوقیت دیتے ہیں یوں تو شہد اور کھجور کا مزاج گرم ہے لیکن ان کے بے شمار فوائد بھی ہیں دمے کے مریضوں کے لیے بہترین غذا کا درجہ رکھتی ہیں ہاضمہ درست رکھتی ہے جسم میں تازہ خون پیدا کرتی ہے شہد اور کھجور بلغم کا خاتمہ کرتے ہیں اور پھیپھڑوں کو بھی طاقت بخشتے ہیں دماغ اعصاب قلب معدے اور جسم کے پٹھوں کے لیے بھی انتہائی مفید ہے اس کے معدنی نمکیات دل کی دھڑکن کو منظم رکھتے ہیں کھجور فیٹ سوڈیم اور کولیسٹرون فری ہے یہ خون میں کولیسٹرول کی سطح گھٹاتی ہے اور انجائنا کے مریضوں کو فائدہ پہنچاتی ہے
    بچوں اور بڑوں کو اکثر دائمی نزلہ اور زکام اور کھانسی کی شکایت رہتی ہےیہ بظاہر ایک چھوٹی سی بیماری نظر آتی ہے لیکن یہ مرض بعد میں۔شدت اختیار کر جاتا ہے اس کے انسان کو سر درد جسم میں کمزوری آنکھوں سے پانی بہنا حلق میں خراش ہلکا ہلکا بخار اور تھکاوٹ بھی شروع ہو جاتی ہے جس سے جسم ہر وقت سست روی کا۔شکار رہتا ہے ایسے میں یہ نسخہ استعمال کریں ملٹھی لونگ دار چینی فلفل دراز اور الائچی تمام چیزیں آدھا آدھا تولہ۔لے کر اس کو باریک پیس پر سفوف بنا لیں اور شہد میں ملا۔کر اس کی معجون بنا لیں اس معجون کو رات سونے سے قبل آدھا چمچ کھانے سے کھانسی نزلہ۔زکام اور بخار میں ان شاءاللہ کمی واقع ہو جائے گی
    معدہ جگر مثانہ میں گرمی ورم اور سوزش پیدا ہو جائے اور معدے میں درد ہو تو آپ صبح نہار منہ ایک گلاس میں شہد کے دو چمچ ملا کر پئیں انشاءاللہ افاقہ ہوگا

  • بچوں کی تربیت کیسے کی جائے?

    بچوں کی تربیت کیسے کی جائے?

    اکثر بچے بھری محفل میں ایسی حرکتیں کر دیتے ہیں کہ والدین کو انتہائی شرمندگی ہوتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ والدین بچوں کو ایسی باتیں سکھائیں جن پر عمل کر کے بچے مہذب اور اچھی زندگی گزار سکیں بچپن کی سیکھی ہوئی باتیں تمام عمر ان کے ساتھ رہیں گی مندرجہ ذیل چند باتیں ہیں جو بچوں کو ضرور سکھانی چاہئیں
    نماز اور دُعا: بچوں کو سات سال کی عمر سے ہی باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کا کہیں بچوں کو سکھائیں کہ دینے والی خُدا کی ذات ہے اس لیے اُسی سے مانگنے کی عادت اپنائیں اس طرح بچے نماز ادا کرنے کے لیے نہ صرف صاف ستھرے رہیں گے بلکہ ان کا باطن بھی نکھر جائے گا
    صفائی نصف ایمان ہے یہ بات ہمارے مذہب نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دی تھی لہذا ضروری ہے کہ بچوں کو اس بات کے بارے میں بار بار دُہرائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ آپ کی بات پر عمل کرتے رہیں کھانا کھانے سے پہلے بعد میں ہاتھ دھوئیں کلی کریں ناخن باقاعدگی سے ساتھ کریں اپنے بال کپڑے صاف ستھرے رکھیں

    چراغ کی روشنی اوراجنبی شخص


    بچوں پر نظر رکھنا ایک قدرتی اور اچھا عمل ہے لیکن ہر وقت ساتھ ساتھ رہنے سے ان کی خود اعتمادی میں کمی ہو جاتی ہے بعض اوقات زیادہ روک ٹوک انھیں ضدی اور چڑچڑابنا دیتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو خوداعتمادی دیں ان پر بھروسہ کریں زیادہ روک ٹوک سے گریز کریں اس طرح بچے آہستہ آہستہ خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ پُر اعتماد بھی ہو جائیں گے
    اچھی غذا کھانے کی عادت بچپن سے ہی بنتی ہے بچوں کو ہمیشہ غذائیت والے کھانوں کی عادت ڈالیں بچپن میں۔جو والدیں اپنے بچوں کی غذائی ضروریات کا خیال نہیں رکھتے اور عادات کو بہتر نہیں بناتے ان بچوں کی عادتیں بقیہ عمر میں پختہ ہو جاتی ہیں جو کہ ان کی صحت پر بُرےاثرات مرتب کرتی ہیں
    بچوں کو بچپن سے ہی سکھائیں کہ صرف بڑے لوگوں سے ہی تمیز سے پیش نہیں آنا بلکہ اپنے ہم جولیوں اور چھوٹوں کی عزت کرنا بھی ان کا فرض ہے انھیں بتائیں کہ بڑوں کے ساتھ ساتھ وہ دوستوں سے بھی تمیز اور عزت سے بات کریں انہیں اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرنے کی عادت ڈالنا سکھائیں اور بتائیں کہ دوسرے اگر ان سے بُرا سلوک بھی کرتے ہیں تب بھی زبان درازی اور مارپیٹ سےباز رہیں اس کے علاوہ اپنے بچوں کو اوائل عمری میں پیسہ دینا کوئی اچھی عادت نہیں لیکن جب انہیں پیسے دیں تو بھی اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ اس کا بہترین استعمال۔بنائیں اگر وہ اس میں۔لاپرواہی سے کام لیں تو انہیں سمجھائیں کہ پیسے کا استعمال دانش مندی سے کریں

  • خشک جلد کی حفاظت کے لیئے ماسک

    خشک جلد کی حفاظت کے لیئے ماسک

    خشک جلد کے لیے ایک عدد انڈا گلیسرین ایک۔چائے کا چمچ روغن بادام ایک چائے کا چمچ اور شہد ایک چائے کا چمچ لیں اور سب سے پہلے انڈے کو اس طرح پھینٹ لیں کہ جھاگ بن جائے اس کے بعد اس میں گلیسرین روغن بادام اور شہد اچھی طرح ملا لیں پھر اس پیسٹ کو چہرے گردن اور ہاتھوں کی جلد پر لیپ کر لیں اور پندرہ سے بیس منٹ تک لگا رہنے دیں اور اس کے بعد سادہ پانی سے اچھی طرح دھو لیں اور جلد کو تولیہ کے بغیر خشک ہونے دیں اس عمل کومہینے میں۔تین سے چار مرتبہ کریں۔جلد تروتازہ اور نرم و ملائم ہو جائے گی

    انڈے سے چہرے کی جھریاں دور کی۔جا سکتی ہیں انڈا جلد کے مسامات کو نہ۔صرف کس دیتا ہے بلکہ جلد کی۔غذائی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے انڈے کی۔سفیدی غیر معمولی فوائد کی حامل کلینزر مانی جاتی ہے ایک تھکا دینے والے دن کی تھکن دور کرنے کے لیے مندرجہ ذیل نسخہ نہایت کار آمد ہے ایک انڈے کو اچھی طرح پھینٹ کر اس ماسک کو چہرے اور گردن پر لگائیں اور بیس منٹ تک لگا رہنے دیں پھر پانی سے چہرہ اور گردن اچھی طرح دھو لیں ہفتے میں دو بار استعمال کریں چند ہی ہفتوں میں جھریاں ختم ہو جائیں گے

  • ماں اور بچے کا صحت مند ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ بچے کی پیدائش

    ماں اور بچے کا صحت مند ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ بچے کی پیدائش

    ماں اور بچے کا صحت مند ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ بچے کی پیدائش
    بچے ہر گھر کی رونق اور خاندان کو پروان چڑھانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں تاہم۔صرف بچوں کی پیدائش ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ ماں اور بچے کا صحت مند ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہےجتنا کہ بچے کا دنیا میں آنا بچوںکا صحت و تندرستی کے ساتھ دنیا میں۔آنا والدین کی۔اولین ترجیح ہوتی ہے اورہونی چاہیےبھی عورت جو نو ماہ بچے کو اپنی کوکھ میں۔رکھ کر اسے پروان چڑھاتی ہے اورجنم دیتی ہے پھر اس کی پرورش رضاعت اور نگہداشت بھی اسی کی ذمہ داری ہے تووہ اس بات کی پوری طرح حقدارہےکہ اس سارے عرصے میں اس نے جو تکلیفیں سہی ہیں اور جن کمزوریوں کا وہ شکارہوئی ہے پہلے اسکا ازالہ کرلیا جائے امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے جاما میں شائع ہونے والی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق 2004ء سے 2014ء کے درمیان پیدا ہونے والے بچوں کا وزن اس لیے کم رہا کیونکہ پہلے بچے کی ولادت کے بعد اگلے حمل کے دوران کم۔از کم۔ڈیڑھ یا دو سال کا وقفہ اختیار نہیں کیا گیا تھا

    وٹامن ڈی کی کمی کی چند اہم نشانیاں


    ریسرچ رپورٹ ڈیڑھ لاکھ حاملہ خواتین کے ہاں ولادت کے حوالے سے جمع کیے گئے اعدادوشمار کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ سال سے دوبرس کا وقفہ کسی بھی بالغ عمر کی خاتون میں حمل ٹھہرنے کے لیے ضروری ہے اور معالجین کا۔خیال ہے کہ تیس سے چالیس برس کی خواتین کو بچے کی ولادت میں اتنا وقفہ لانا بہت ضروری اور لازمی ہے کیونکہ دوسری صورت میں حمل کے قیام کے دوران میٹرنل پچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر لارا شومرز نے اس رپورٹ کو مرتب کیا ہے لاراشومرز کے مطابق پینتیس برس یا اس سے زائد عمر کی خواتین بچے کی پیدائش چاہتی ہیں تو اس میں خطرات اور پچیدگیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جبکہ اس حد سے کم عمر کی خواتین میں بعض میٹرنل پچیدگیوں کا پیدا ہونا کم ہوتا ہے انہوں نے یہ ضرور واضح کیا کہ بیس سے چونتیس برس تک کی خواتین میں حمل کے دوران بچے کی نشوونما اور پیدائش کے عمومی خطرات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں لارا شومرز کے مطابق پینتیس یا اس سے زائد کی عمر کی خواتین میں ایک بچے کی ولادت کے بعد اگلے حمل کے تیسرے چھٹے اور نویں مہینے میں میٹرنل پچیدگیوں کا پیدا ہونا ایک یقینی امر قراردیاجاسکتا ہے انہوں نے بیس سے چونتیس برس تک کی خواتین میں حمل کے درمیانی وقفے کو بارہ سے اٹھارہ ماہ تک رکھنے کو بھی مناسب خیال کیا لارا شومرز کی رپورٹ میں۔واضح کیا گیا کہ کسی بھی خاتون میں۔ایک بچے کی۔ولادت کے چھ ماہ بعد جو حمل ٹھہرتا ہے وہ کسی حد تک کمزور ہو سکتا ہے اور 59 فیصد ایسے حمل کا ضائع ہونا ممکن ہے

  • بچے کی افزائش پرورش اور بہتر نشوونما کے لیے ماں کی صحت کا بہتر ہونا انتہائی مفید

    بچے کی افزائش پرورش اور بہتر نشوونما کے لیے ماں کی صحت کا بہتر ہونا انتہائی مفید

    بچے کی افزائش پرورش اور بہتر نشوونما کے لیے ماں کی صحت کا بہتر ہونا انتہائی مفید
    یہ کہنا غلط نہیں کہ ہمارا معاشرہ غذائی قلت کا شکار ہے متوسط طبقے کی آمدنی اتنی کم ہے کہ گھریلو اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے تو حاملہ عورت جسے اضافی غذائی اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے وہ کہاں سے پوری کریں غذائی قلت ماں کی۔صحت کو تباہ کر دیتی ہے کیونکہ قدرتی طور پر بچے کی افزائش کا عمل کچھ ایسا ہے کہ بچہ تو ماں سے اپنی غذائی ضرورت پوری کر لیتا ہے لیکن ماں کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جاتی ہے بچے کی افزائش پرورش اور بہتر نشوونما کے لیے ماں کی۔صحت کا بہتر ہونا بہت ضروری ہے ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ ان کے بچے صحت مند ہوں تا کہ آنے والا مستقبل مضبوط اور توانا ہاتھوں میں ہو لیکن اگر ماں ہی صحت مند نہیں ہو گی تو بچہ خودبخود کمزور اور خدانخواستہ کسی جسمانی نقص کے ساتھ بھی دنیا میں۔آسکتا ہے آج جو غذائیں۔ہماری خواتین کھاتی ہیں اول تو وہ خالص نہیں ہوتیں دوسرا یہ کہ۔اگر کہیں دستیاب بھی ہوں تو بہت سارے خاندانوں میں انھیں۔خریدنے کی۔سکت نہیں ہوتی بچے کی پیدائش کا عرصہ یعنی پورے نو ماہ ایک ماں ہی اپنے بچے کو غذا مہیا کرتی ہے ماں کو بچے کی پیدائش سے لے کر دو سال کی عمر تک اپنا دودھ پلانا چاہیے اگر ایسی صورت میں عورت دوبارہ حاملہ ہو جائے تو طبعیت کی خرابی اور غذا کی کمی کی وجہ سے معصوم بچے کا دودھ چھڑوادیا جاتا ہے جو ماں کی صحت کے ساتھ ساتھ بچے کی صحت کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے ایک بچے کی پیدائش کے بعد اگر دوسال کے اندر اندر دوبارہ حمل ٹھہر جائےاور ماں اپنے پہلے بچے کو بھی دودھ پلاتی ہو تو ایسی صورت میں ڈاکٹر اسے اضافی غذا لینے کا مشورہ دیتے ہیں تاہم اگر وہ ایسا نہ کرے تو جو بچہ دنیا میں آنیوالا ہے اور خود ماں کی صحت بُری طرج متاثر ہوتی ہے

  • ماں کا دودھ زندگی کی بنیاد

    ماں کا دودھ زندگی کی بنیاد

    ماں کا دودھ زندگی کی بنیاد
    آیت مبارکہ میں ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو دوسال تک دودھ پلائیں آج کا سائنسی دور بھی یہی کہتا ہے کہ پیدائش سے لے کردوسال تک مائیں اپنے بچے کو اپنا دودھ ضرورپلائیں کیونکہ۔نوزائیدہ بچے کواس عمر میں ماں کا اپنا ہی دودھ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ بچے کی غذائی ضرورت یہ ماں کا دودھ پورا کر لیتا ہے ماں کے دودھ کوزندگی کی بنیاد کہا گیا ہے اس سلسلے پروونشنل مینجر ڈاکٹر امین مندو خیل نے کہا کہ بچے کے لیے ماں کا دودھ ہی اولین غذا ہے جو بچے کو تقویت دیتا ہے اورمختلف جان لیوا اور وبائی امراض سےبچوں کومحفوظ رکھتا ہے بلکہ ماں کے دودھ میں اللہ۔تعالی نے وہ قوت بخشی ہےجو کہ بچے میں قوت مدافعت بھی پیدا کرتا ہے اور بہت سی خصوصیات کا حامل ہےاوربچے کی غذائی کی ضرورتیں ماں کے دودھ سے پوری ہوتی ہیں ڈاکٹرامین مندوخیل نے یہ بھی بتایا کہ ماں کے دودھ پلانے کے زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اس بات کے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ بچے کو ماں کا دودھ پلانے سے ماں کو درج ذیل فائدے ملتے ہیں جو ماں کی زندگی کے لیے بڑے اہم ترین ہیں پیدائش کے دوران وقفہ چھاتی یا بیضہ دانی کے سرطان کے خطرات کم ہو جاتے ہیں ماں۔صحت مند اور تندرست رہتی ہے جبکہ بچے کے لیے بھی درج ذیل فوائد ہیں کہ بچوں کو ماں کا دودھ وبائی امراض ہیضے دست کی بیماری اور اس کی شدت سے بچاتا ہے

    خون کی کمی کی چند اہم وجوہات اور اقدامات


    ماں کا دودھ بچوں میں سانس کے وبائی امراض کان کے درمیانی حصے کی۔سوزش دانتوں کے گلنے سڑنے اور دانتوں کی بے ترتیبی سے بچانے کا باعث بننے کے علاوہ بچے کی ذہانت میں بھی اضافہ کرتا ہے صوبائی نیوٹریشن ڈائکٹریٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد پانیزئی نے اس حوالے سے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماں دودھ بچے کی زندگی کی بنیاد ڈالتا ہے اور ماں کا دودھ دو سال تک بچے کی صحت و تندرستی اور اس کے صحت مند مستقبل کے لیے انتہائی لازم ہے بلکہ آیت کریمہ بھی ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ دو سال تک مسلسل پلائیں ڈاکٹر عابد پانیزئی نے کہا کہ میں ایک بات واضح کروں کہ ہمارے ہاں لوگوں کی ایک سوچ ہے کہ ماں جب بچے کو زیادہ دودھ پلائے گی تو صحت کے حوالے کمزور ہو جائیگی یہ سوچ قطعی غلط ہے بلکہ ماں جتنا دودھ پلائے گی اتنا ہی دودھ ماں کے جسم میں پیدا ہوتا ہے اور ماں کے لیے کوئی کوئی پرابلم نہیں بلکہ اس میں بہتری ہے اور بچہ جب بھی دن میں جتنی بار مانگے ماں بچے کو اپنا دودھ پلائے تاہم ایک بات ضروری ہے کہ ماں جب حاملہ ہو اور بچے کی پیدائش کے بعد دودھ پلاتی ہو تو ماں کی خوراک پر بھی خصوصی توجہ دینی ہو گی کیونکہ یہ توجہ ماں اور بچے دونوں کی۔صحت کے لیے ضروری ہے ڈاکٹر عابد پانیزئی نے کہا بچے کو ایک گھنٹے کے اندر اندر پیدائش کے بعد ماں کا۔دودھ پلانے کا آغاز کر دیا جائے بچے کی زندگی کے پہلے چھ ماہ کے دوران اسے صرف اور صرف ماں کا دودھ دیا جائے اور بچے کو دو سال تک ماں کا دودھ پلانا جاری رکھا جائے

    چھاتی کے ریشے اور کھانسی کے علاج کا انتہائی مجرب نسخہ


    اور اس دوران پہلے چھ ماہ بعد بڑھتے ہوئے بچے کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے لیے محفوظ ٹھوس اور نیم ٹھوس غذا کا آغاز کر دیا جائے بچے کو ماں۔کا۔دودھ پلانے کی۔قلیل اور طویل المعیاد قیمت پورے معاشرے کو ادا کرنا پڑتی ہے ماہرین کا۔کہنا ہے کہ۔ہو بچے جو ماں کا دودھ نہیں پیتے کند ذہن ہوتے ہیں اور اس بناء پر وہ اچھی تعلیم اور بعد ازاں مناسب روزگار سے محروم ہو جاتے ہیں ماں کا دودھ صحیح طرح سے نہ پلانا بیماریوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے علاج معالجے پر ہونے والے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں حاملہ اور دودھ پلانے والی ماوں کی اپنی غذائی ضروریات پوری ہو سکیں مقامی طور پر دستیاب بہترین غذائیں جو دودھ پلانے والی ماوں کی ضرورت ہیں جیسے گوشت مچھلی انڈا دودھ دہی تازہ پھل۔سبزیاں دالیں اور پھلیاں استعمال کریں دن میں کم از کم آٹھ گلاس پانی ضرور پئیں لہذامائیں اپنے بچوں کو اپنا ہی دودھ پلائیں

  • دانتوں کی صفائی کرنے والا روبوٹ

    دانتوں کی صفائی کرنے والا روبوٹ

    دانتوں کی صفائی کرنے والا روبوٹ
    سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں۔بھی بہت سے ایسے کام ہیں جنھیں۔انسان اپنے ہاتھوں سے کرنے ہر مجبور ہے بعض ایجادات ایسی اور اتنی دلچسپ ہیں جنہیں جان کر کوئی بھی حیران ہوئے اور مسکرائے بغیر نہیں رہ سکیں گے روبوٹس پر کام کرنے والی سوئس خاتون سائمن گائرڈزے نے ایسے سست افراد جو برش کرنے میں کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کے لیے ایسا ٹوتھ برش بنا ڈالا ہے جو ان کی مشکل۔آسان بنا دے گا انہوں نے سکیٹ بورڈ ہیلمٹ پر ایک روبوٹک الارم لگا کر اس کے ساتھ ٹوتھ برش کو جوڑ دیا ہے جس کے سامنے کھڑے ہو جائیں وہ خود ہی برش کرے گا اور دانتوں کو چمکا دے گا

  • شادی کس عمر میں کرنی چاہیے؟

    شادی کس عمر میں کرنی چاہیے؟

    شادی کس عمر میں کرنی چاہیے؟
    میرج بیورو اور ایسی سروس فراہم کرنے والے ڈیٹا کو پرکھنے کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ اٹھائیس سے بتیس سال کے درمیان شادیاں زیادہ خوشگوار اور کامیاب رہتی ہیں یونیورسٹی آف یوٹا میں سماجیات ماہر نِک وولفنگر نے امریکہ میں نیشنل سروے آف فیملی گروتھ کے تعاون سے کہا نو عمری سے لے کر تیس سال کے عشرے کی ابتداء میں کی جانے والی شادیاں زیادہ کامیاب ہوتی ہیں اور وہ طلاقوں سے متاثر نہیں ہوتیں اس سے زیادہ عمر پر طلاق کا خدشہ بڑھ جاتا ہے یعنی بتیس سال سے زائد عمر کے بعد طلاق کا خدشہ پانچ فیصد بڑھ جاتا ہے اس سروے میں۔ریاضی کے اصولوں سے بھی مدد لی گئی ہے ماہرین کے مطابق شادی کے وقت آپ کو نہ زیادہ جوان ہونا چاہیے نہ بوڑھا اسی لیے زندگی کے دوسرے عشرے کے اوالر اور تیسرے عشرے کے شرور برس بہت موزوں رہتے ہیں کیونکہ اس عمر میں مرد اور عورت کئہ۔ذمہ داریاں پہلے سے ہی سنبھالنا شروع کر دیتے ہیں اور سنجیدہ اور سمجھدار ہو جاتے ہیں کم۔عمری کا۔لاابالی پن ختم ہو جاتا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو جلدی سمجھ لیتے ہیں اور کمپرومائز کرنے میں دشواری پیش نہیں آتی ماہر فلپ کوہن کہتے ہیں کہ ان کے مطابق شادی پینتالیس سے انچاس سال کی عمر میں کی جائےتو اس کے ناکام۔ہونے کے امکانات کم۔ہو جاتے ہیں لیکن دیگر ماہرین اس سے متفق نہیں دوسری جانب تعلیم اور مالی حیثیت بھی شادی پر اثر انداز ہو سکتی ہے

  • ایک چاکلیٹ کی چوری پر سینکڑوں چاکلیٹس کا تحفہ

    ایک چاکلیٹ کی چوری پر سینکڑوں چاکلیٹس کا تحفہ

    ایک چاکلیٹ کی چوری پر سینکڑوں چاکلیٹس کا تحفہ
    کینساس اسٹیٹ یونیورسٹی کے طالب علم۔کی گاڑی سے ایک چاکلیٹ چوری ہوگئی اور انہوں نے اس کا ذکر سوشل میڈیا پر کیا تو کمپنی نے انہیں ایسی 6500 چاکلیٹس بھجوا دیں یونیورسٹی میں آنے والے نئے طالبعلم کے مطابق اس نے اپنی کار یونیورسٹی میں پارک کی تھی اور دروازے لاک نہیں کیے تھے جب تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا تو اس کی گاڑی کے ڈیش بورڈ پر رکھے ہوئے کپ سے چاکلیٹ غائب تھی اور کاغذ رکھا ہوا تھا وہاں جس پر ایک تحریر لکھی ہوئی تھی آپ کے کپ ہولڈر میں کٹ کیٹ دیکھی مجھے یہ چاکلیٹ بہت پسند ہے جب میں نے چیک کیا تو آپ کی گاڑی کا دروزاہ لاک نہیں تھا اور میں نے چاکلیٹ کے سوا کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا ہے معافی چاہتا ہوں مجھے بھوک لگ رہی تھی اس کے بعد طالب علم نے چاکلیٹ چور کی تحریر اور اور اپنی گاڑی کی تصویر کی تصویر ٹویٹر ہر پوسٹ کر دی جو وائرل ہوتی گئی اور اس ہر دلچسپ تبصرے کیے گئے اس کے بعد کٹ کیٹ کمپنی نے طالبعلم سے رابطہ کر کے اپنا نمائندہ یونیورسٹی بھیجا جو اس کے لیے ایک دو نہیں بلکہ 6500 کٹ کیٹ بار لے کر آیا تھا کمپنی کے اس اقدام پر طلبعلم حیران گیا اور ساری کٹ کیٹ اپنی کار میں بھر کر یونیورسٹی کے دوستوں میں تقسیم کر دیں

  • نیند بھی لیں اور پیسے بھی کمائیں

    نیند بھی لیں اور پیسے بھی کمائیں

    نیند بھی لیں اور پیسے بھی کمائیں
    دنیا بھر میں دفاتر کو یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ ملازمین کو اچھی سہولیات اور ان کے ذہن سے دباؤ کم کرکے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کام کرنے کے مقامات کو بہتر بنانے کا ایک عالمی رحجان چل پڑا ہے امریکا کی مشہور ہیلتھ انشورنس کمپنی ایٹنا نے ایک منفرد قدم اٹھاتے ہوئے ان ملازمین کو مالی فائدہ دینا شروع کر دیا ہے جو کافی نیند لیتے ہیں امریکی ریاست کنیکٹیکٹ میں واقع دفتر میں کام کرنے والے وہ تمام ملازمین سالانہ 300 ڈالر تک کما سکتے ہیں جو روزانہ کم ازکم سات گھنٹے کی نیند لیتے ہیں اس اقدام کی دراصل وجہ یہ ہے کہ نیند کی کمی سے کام کرنے کی صلاحیت بُری طرح اثر انداز ہوتی ہے ادارے کے چئیرمین کہتے ہیں کہ اگر ملازمین اگر ذہنی طور پر حاظر اور تیار ہوں تو کام جلدی اور اچھی طرح کر سکتے ہیں اگر نیند پوری نہ ہوتو ایسا ممکن نہیں اس کا حل ادارے نے یہ پیش کیا ہے ہر 20 راتوں پر جن میں ملازمین 7 یا اس سے زیادہ نیند لیں گے ادارہ انہیں پچیس ڈالرز کی ادائیگی کرے گا یعنی ہر رات کے سو ڈالر یہ سالانہ 300 ڈالرز بن سکتے ہیں اگر ملازمین فٹ بٹ جیسی کوئی ڈیوائس ہاتھوں پر پہنیں تو ان کے نیند کے گھنٹے خودکار طور پر جانے جا سکتے ہیں لیکن ملازمین خود بھی نوٹ کر کے ادارے کو دے سکتے ہیں ایک اندازے کے مطابق پینتیس فیصد امریکی بالغ افراد ایک رات میں سات گھنٹے کی نیند بھی نہیں لیتے نیند کی یہ کمی کئی امراض کا سبب بن سکتی ہے