Baaghi TV

Category: خواتین

  • سر پر سینگ رکھنے والا انوکھا شخص

    سر پر سینگ رکھنے والا انوکھا شخص

    سر پر سینگ رکھنے والا انوکھا شخص
    خیالی کہانیوں مین اکثر جنات اور بھوتوں کا حلیہ بیان کرتے ہوےئ بتایا جاتا ہے کہ ان کر سرپر سینگ ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں کسی شخص کے سر پر سینگ ہو ایسا شائد کبھی دیکھا یا سنا نہ ہو تاہم بھارت میں حقیقت میں ایک شخص کے سر پر سینگ نکل آیا بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے اےک گاؤں سے تعلق رکھنے والے 74 سالہ شیام یادو کا کہنا ہے کہ پانچ سال پہلے ان کا سر کسی چیز سے ٹکرایا تھا جس کے بعد ان کے سر پر سینگ نما چیز نکلنے لگی شیام یادو نے بتایا کہ سر پر نکلنے والی اس سینگ نما چیز کو پہلے نظر انداز کیا کیونکہ اس میں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی ایک مرتبہ حجام سے بال کٹوانے کے دوران شیام یادو نے اس سینگ نما چیز کو حجام سے ہی نکلوا دیا تھا جس کے بعد دوبارہ نکل آیا اور پہلے سے بجھی زیادہ سخت اور لمبا ہوگیا جس کی وجہ سے انہیں فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھانا پڑا

    شفاف لکڑی بالکل شیشے کی طرح


    ساگر شہر میں واقع ترتھ ہسپتال میں ڈاکٹرز نے ابتدائی طور پر مریض کے سی ٹی اسکین کئے تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ اس بیماری کو ٹھیک کرنے کے لیے کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے ڈاکٹرز کے مطابق شیام یادو کے سر سے نکلنے والا سینگ ایک کیمیکل سے بنتا ہے جسے میڈیکل کی اصطلاح میں کیریٹن کہتے ہیں اور کیہ کیریٹن ناخنوں اور بالوں میں بھی پایا جاتا ہے نیورو سرجن بھاگ یودے نے شیام کے سر سے اس سینگ نما چیز کو اسٹیریلائزریزر کی مدد سے نکالا اور مریض کو دس روز کے لئے ہسپتال میں رکھا گیا اور اس دوران ان کے کچھ ضروری ٹیسٹ وغیرہ کئے گئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ مستقبل میں انہیں دوبارہ اس بیماری کا خطرہ لاحق تو نہیں ہوگا ڈاکٹرز کا کہنا تھا اس بیماری کا نام سیبے شیس ہورن جسے ڈیول ہورن بھی کہتے ہیں اور یہ بیماری عام طور پر بہت ہی کم کسی کو ہوتی ہے اور اب تک اس بیماری کے ہونے کی کوئی وجہ معلوم نہیں کی جا سکی مگر اس بیماری کو روشنی اور سورج کی شعاعیں مزید بگاڑ سکتی ہیں اس بیماری کو مختلف طریقوں سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے جن میں شعاعوں کی مدد سے سرگری اور کیمو تھراپی شامل ہیں شیام یادو کے سر سر اس سینگ کو نکالنے کے بعد زخم ہو گیا تھا جس کے بعد ان کے زخم پر جلد کی پیوند کاری کی گئی تھی اور اب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہیں ڈاکٹرز نے بتایا کہ اس کیس کو انٹر نیشنل جرنل آف سرجری میں بھیج دیا گیا ہے کیونکہ اس طرح کی بیماری بہت ہی کم لوگوں کو ہوتی ہے اور یہ بیماری بے حد پُر اسرار ہے کیونکہ اس بیماری کے ہونے کی کوئی وجہ معلوم نہیں کی جا سکی

  • وضو کے حیران کن فوائد اور سائنس

    وضو کے حیران کن فوائد اور سائنس

    وضو اور سائنس
    وُضُو میں جو ترتیب وار اعضاء دھوئے جاتے ہیں یہ بھی حکمت سے خالی نہیں پہلے ہاتھوں کو پانی میں ڈالنے سے جسم کااعصابی نظام مُطلع ہو جاتا ہے پھر آہستہ آہستہ چہرے اوردماغ کی رگوں کی طرف اس کے اثرات پہنچتے ہیں وضو میں پہلے ہاتھ دھونے پھر کُلی کرنے پھر ناک میں پانی ڈالنے پھر چہرہ اور دیگر اعضاء دھونے کی ترتیب فالج کی روک رھام کے لیے مفید ہے اگر چہرہ دھونے اور مسح کرنے سے آغاز کیا جائے تو بدن کئی بیماریوں میں مُبتلا ہو سکتا ہے
    وضو اور ہائی بلڈ پریشر:
    ایک ہارٹ سپیشلسٹ کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض کو وضو کرواو پھراس کا بلڈ پریشر چیک کرولازمًا کم ہوگا ایک مسلمان ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے نفسیاتی امراض کا بہترین علاج وُضُو ہح مغربی ماہرین نفسیاتی مریضوں کو وضو کی طرح روزانہ کئی بار بدن پرپانی لگواتے ہیں

    پانی سے چہرے کی جھریوں اور چھائیوں کا علاج


    ہاتھ دھونے کی حکمتیں:
    وضو میں۔سب سے پہلے ہاتھ دھوئے جاتے ہیں مختلف چیزوں میں ہاتھ ڈالتے رہنے سے ہاتھوں میں مختلف کیمیاوی اجزاء اور جراثیم لگ جاتے ہیں اگر سارا دن نہ دھوئے جائیں تو جلد ہی ہاتھ ان جِلدی امراض میں مبتلا ہو سکتے ہیں ہاتھوں کے گرمی دانے جلدی سوزش ایگزیما پھپھوندی کی بیماریاں جلد کی۔رنگت تبدیل ہو جانا وغیرہ جب ہم ہاتھ دھوتے ہیں تو انگلیوں کی پوروں سے شعاعیں نکل کر ایک ایسا حلقہ بناتی ہیں جس سے ہمارا اندرونی برقی نظام متحرک ہو جاتا ہے اور ایک حد تک برقی رو ہمارے ہاتھوں میں سمٹ آتی ہے اس سے ہمارے ہاتھوں میں حُسن پیدا ہو جاتا ہے

    اخروٹ میں چُھپے صحت کے راز


    کلی کرنے کی حکمتیں:
    پہلے ہاتھ دھو لیے جاتے ہیں جس سے وہ جراثیم اے پاک ہو جاتےہیں ورنہ یہ کلی کے ذریعے منہ میں۔اور پھر پیٹ میں جا کرمتعدد امراض کا باعث بن سکتے ہیں ہوا کے ذریعے لاتعداد مہلک جراثیم نیز غذا کےاجزاء ہمارے منہ اوردانتوں میں لُعاب کے ساتھ چپک جاتے ہیں چُناچہ وضو میں کلیوں اور مسواک کے ذریعے منہ کی بہترین صفائی ہا جاتی ہے اگر منہ کو صاف نہ کیا جائے تو ان امراض کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے: ایڈز کا اس کی ابتدائی علامات میں مُنہ کا پکنا بھی شامل ہے مُنہ کے کناروں کا پھٹنا منہ اور ہونٹوں کی داد قوبا منہ میں پھپھوندی کی بیماریاں اورچھالے وغیرہ نیز روزہ نہ ہو تو کلی کے ساتھ غر غرہ کرنا بھی سُنت ہے اور پابندی کے ساتھ غرغرے کرنے والا ٹانسلز بڑھنے اور گلے کے بہت سارے امراض اور گلے کے کینسر سے محفوظ رہتا ہے

    نادان کی دوستی دشمنی سے بدتر ہے


    ناک میں پانی ڈالنے کی حکمتیں
    پھیپھڑوں کو ایسی ہوا درکار ہوتی ہے جو جراثیم دُھوئیں اور گردو غبار سے پاک ہو اور اس میں اسی فیصد رطوبت یعنی تری ہو اور جس کا درجہ حرارت نوے درجہ فارن ہائیٹ سے زائد ہو ایسی ہوا فراہم کرنے کے لیے اللہ نے ہمیں ناک کی نعمت سے نوازا ہے ہوا کو مرطوب یعنی نم بنانے کیلئے ناک روزانہ تقریباً روزانہ چوتھائی گیلن نمی پیدا کرتی ہے صفائی اور دیگر سخت کام نتھنوں کےبال سر انجام دیتے ہیں ناک کے اندر ایک خوردبین جھا ڑو ہے اس جھاڑو میں غیر مرئی یعنی نظر نہ آنے والے رُوئیں ہوتے ہیں جو ہوا کے ذریعے داخل۔ہونے والے جراثیم کو مار دیتے ہیں نیزان غیر مرئی رُووں کے ذمے ایک اور دفاعی نظام بھی ہے جسے انگریزی میں لائسوزیم کہتے ہیں ناک اس کے ذریعے سے آنکھوں کو انفیکشن سے محفوظ رکھتی ہے وضو کرنے والا ناک میں پانی چڑھاتا ہے جس سے جسم کے اس اہم تریں آلے ناک کی صفائی ہو جاتی ہے اور پانی کے اندر کام کرنے والی برقی رو سے ناک کے اندرونی غیر مرئی رُووں کی کارکردگی کو تقویت پہنچتی ہے اور مُسلمان وضو کی برکت سے ناک کےبیشمار پچیدہ امراض سے محفوظ ہو جاتا ہے دائمی نزلہ اور ناک کے زخم کے مریضوں کے لیے ناک کا غُسل یعنی وضو کی طرح ناک میں پانی چڑھانا بے حد مفیدہے

    چاکلیٹ کھانسی کی موثر ترین دواہے


    چہرہ دھونے کی حکمتیں:
    آج کل فضاوں میں دھوئیں وغیرہ کی آلو دگیاں بڑھتی جا رہی ہیں مختلف کیمیاوی مادے سیسہ وغیرہ میل کچیل کی شکل میں آنکھوں اور چہرے وغیرہ پرجمتارہتا ہےاگرچہرہ نہ دھویا جائے تو چہرےاور آنکھیں کئی امراض سے دو چار ہو جائیں ایک یورپین ڈاکٹر نے اپنے مقالے جس کا نام آنکھ پانی صحت تھا اس میں اس نے اس بات پر زور دیا کہ اپنی آنکھوں کو دن میں کئی باردھوتے رہو ورنہ تمھیں بے شمار بیماریوں سے دوچار ہونا پڑے گا چہرہ دھونے سے منہ پر کیل نہیں نکلتے ہو کم نکلتے ہیں ماہرین حسن وصحت اس بات پر متفق ہیں کہ ہر طرح کے کریم اور لوشن وغیرہ چہرے پر داغ چھوڑ جاتے ہیں چہرے کو خوبصورت بنانے کے لیے چہرے کو کئی بار دھونا لازمی ہے امریکن کونسل فار بیوٹی کی سر کردہ ممبر بیچر کہتی ہیں مسلمانوں کو کسی قسم کے کیمیاوی لوشن کی حاجت نہیں وضو سے ان کا چہرہ دُھل کر کئی بیماریوں سے محفوظ ہوجاتا ہے محکمہ ماحولیات کے ماہرین کا کہناہے چہرے کی الرجی سے بچنے کے لیے اس کو بار باردھونا چاہیے اور ایسا صرف وضو کے ذریعے ہی ممکن ہے مغربی ممالک میں مایوسی یعنی ڈپریشن کا مرض ترقی پر ہے دماغ فیل ہو رہے ہیں پاگل خانوں کی تعداد میں۔اضافہ ہو رہا ہےنفسیاتی امراض کے ماہرین کے پاس مریضوں کا تانتا بندھا رہتا ہے مغربی جرمنی کے ڈپلومہ ہولڈر ایک پاکستانی فزیو تھراپسٹ کا کہنا ہے مغربی جرمنی میں ایک۔سیمینار ہوا جس کا موضوع تھا مایوسی کا علاج ادویات کے علاوہ کن کن طریقوں سے ممکن ہے ایک ڈاکٹر نے اپنے مقالے میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا کہ میں نے ڈپریشن کے چند مریضوں کو روزانہ پانچ بار منہ دُھلوائے کچھ عرصے بعد ان کی بیماری کم۔ہو گئی پھر ایسے ہی مریضوں کے دوسرے گروپ کے روزانہ پانچ بار ہاتھ منہ اور پاوں دُھلوائے تو مرض میں بہت افاقہ ہو گیا یہی ڈاکٹر اپنے مقالے کے آخر میں اعتراف کرتا ہے مسلمانوں میں مایوسی کا مرض کم پایا جاتا ہے کیوں کہ دن میں کئی مرتبہ ہاتھ مُنہ اور پاوں دھوتے ہیں یعنی وُضُو کرتے ہیں اور ایسا صرف وُضو سے ہی ممکن ہے وضو میں چہرہ دھونے سے چہرے کا مساج ہو جاتا ہے خون کا دوران چہرے کی طرف رواں ہو جاتا ہے میل کچیل اتر جاتا ہے اور چہرے کا حُسن دوبالا ہو جاتا ہے

    چھاتی کے ریشے اور کھانسی کے علاج کا انتہائی مجرب نسخہ


    اندھا پن سے تحفظ:
    آنکھوں کا ایک ایسا مرض جس میں آنکھوں کی رطوبت اصلیہ یعنی اصلی تری کم یو ختم ہو جاتی ہےاور مریض آہستہ آہستہ اندھا ہو جاتا ہےطبی اصول کے مطابق اگر بھنووں کو وقتاً فوقتاً تر کیا جاتا رہےتو اس خوفناک مرض سےتحفظ حاصل ہو سکتا ہے اور وضو کرنے والا منہ دھوتا ہے اوراس طرح اس کی بھنویں تر ہوتی رہتی ہیں اور منہ پرپانی کی تری کے ٹھہراوسے گردن کے پٹھوں تھائی رائیڈ گلینڈ اور گلے کے امراض سے حفاظت ہوتی ہے

    رونے سے ختم ہونے والی خطرناک بیماریاں


    کہنیاں دھونے کی حکمتیں:
    کُہنی پر تین بڑی رگیں ہیں جن کا تعلق بالواسطہ دل جگر اور دماغ سے ہےاور جسم کا یہ حصہ عموماً ڈھکا رہتا ہے اگر اس کو پانی اور ہوا نہ لگے تو متعدددماغی اور اعصابی امراض پہدا ہوسکتے ہیں وضو میں کہنیوں سمیت ہاتھ دھونے سے دل جگر اور دماغ کو تقویت پہنچتی ہے اور اس طرح انشاءاللہ وہ ان کےامراض سے محفوظ رہیں گے مزید یہ کہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھونے سے سینے کے اندر ذخیرہ شُدہ روشنیوں سے براہ راست انسان کا تعلق قائم ہو جاتا ہے اور روشنیوں کا ہجوم این بہاو کی شکل اختیار کر لیتا ہے اس عمل سے ہاتھوں کے عُضلات یعنی کٙل پرزے مزید طاقتور ہو جاتے ہیں

    گردن میں درد کے علاج کی گھریلو ٹپس


    مسح کی حکمتیں:
    سر اور گردن کے درمیان شہ رگ واقع ہے اسکا تعلق ریڑھ کی ہڈی اور حرام مغز اور جسم کے تمام تر جوڑوں سے ہے جب وضو کرنے والا گردن کا مسح کرتا ہے تو ہاتھوں کے ذریعے برقی رو نکل کر شہ رگ میں ذخیرہ ہو جاتی ہے اور ریڑھ کی ہڈی سے ہوتی ہوئی جسم کے تمام اعصابی نظام میں پھیل جاتی ہے اور اس سے اعصابی نظام کو توانائی حاصل ہوتی ہے ایک شخص نے بتایا کہ میں فرانس میں ایک جگہ وضو کر رہا تھا ایک شخص کھڑا بڑے غور سے مجھے دیکھتا رہا جب میں فارغ ہو ا تو میرے سے پوچھا آپ کون ہیں اور کس ملک سے ہیں؟ میں نے کہا میں پاکستانی ہوں اور مسلمان ہوں ہوچھا پاکستان میں کتنے پاگل خانے ہیں ؟ اس عجیب و غریب سوال پر میں نے چونکا مگر میں نے کہہ دیا دو چار ہوں گے اس نے پھر پوچھا ابھی تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا وضو کہنے لگا کیا روزانہ کرتے ہو؟ میں نے کہا ہاں بلکہ پانچ وقت وہ بڑا حیرن ہوا اور بولا میں مینٹل ہاسپٹل میں سرجن ہوں اور پاگل پن کے اسباب کی تحقیق میرا مشغلہ ہے میری تحقیق یہ ہےکہ دماغ سے سارے بدن میں۔سگنل جاتے ہیں اور اعضاء کام۔کرتے ہیں ہمارا دماغ ہر وقت مائع کے اندر تیر رہا ہے اس لیے ہم بھاگ دوڑ کرتے ہیں اور دماغ کو کچھ نہیں ہوتا اگر وہ کوئی سخت شے ہوتی تو اب تک ٹوٹ چُکی ہوتی دماغ سے چند باریک رگیں موصل بن کر ہمارے گردن کی پُشت سے سارے جسم کو جاتی ہیں اگر بال بُہت بڑھا لیے جائیں اور گردن کی پُشت کو خشک رکھا جائے تو ان رگوں میں خُشکی پیدا ہو جانے کا خطرہ کھڑا ہو جاتا ہے اور بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کہ دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور وہ پاگل۔ہو جاتا ہےلہذا میں نے سوچا کہ گردن کی پُشت کو دن میں دو چار بار ضرور تر کیا جائےابھی میں نے دیکھا کہ ہاتھ منہ دھونے کے ساتھ آپ نے گردن کے پیچھے بھی کچھ کیا ہے واقعی آپ لوگ پاگل نہیں ہو سکتے مزید یہ کی مسح کرنے سے لُولگنے اورگردن توڑ بخار سے بھی انسان بچ جاتا ہے اسی طرح ایک اور صاحب نے بتایا کہ میں نے بیلجئیم میں یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو اسلام کی دعوت دی اس نے سوال کیا وضو میں کیا کیا سائنسی حکمتیں ہیں؟ میں۔لاجواب ہوگیا اس کو ایک عالم کے پاس لے گیا لیکن ان کو بھی اس کی معلومات نہ تھیں یہاں تک کہ سائنسی معلومات رکھنے والے ایک شخص نے اس کو وضو کی کافی خوبیاں بتائیں مگر گردن کے مسح کرنے کی حکمت بتانے سے وہ بھی قاصر رہا وہ چلا گیا کچھ عرصے کے بعد آیا اور کہنے لگا ہمارے پروفیسر نے لیکچر کے دوران بتایا کہ اگر گردن کی پُشت اور اطراف پر روزانہ پانی کے چند قطرے لگادئیے جائیں تو ریڑھ کی ہڈی اور حرام مغز کی خرابی سے پیدا ہونے والے مرض سے تحفظ حاصل ہو جاتا ہے یہ سن کر وضو میں گردن کے مسح کی۔حکمت میری سمجھ میں آ گئی لہذا میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں اور وہ مسلمان ہو گیا

    ہلدی اور شہد کا مکسچر مختلف دائمی بیماریوں کا علاج


    پاوں دھونے کی حکمتیں:
    پاوں سب سے زیادہ دُھول۔آلود ہوتے ہیں پہلے پہل انفیکشن پاوں کی اُنگلیوں کے درمیانی حصہ سے شروع ہوتا ہےوضو میں پاوں دھونے سے گردو غبار اور جراثیم بہہ جاتے ہیں اور بچے کُھچے جراثیم پاوں کی انگلیوں کے خلال سے نکل جاتے ہیں لہذا وضو میں سنتکے مطابق پاوں دھونے سے نیند کی کمی۔دماغی خُشکی گھبراہٹ اور مایوسی جیسے پریشان کن امراض دور ہوتے ہیں

    شہد اور کھجور میں چھپے صحت کے راز


    وضو کا بچا ہوا پانی پینا:
    وضو کا۔بچا ہوا پانی پینے میں شِفاء ہے اس سلسلے میں ایک مسلمان۔ڈاکٹر کا کہنا ہے وضو کا پانی پینے کا پہلا اثر مثانے پر پڑتا ہے پیشاب کی رکاوٹ دور ہوتی ہے اور پیشاب کھل کر آتا ہے جگرمعدہ اور مثانے کی گرمی دور ہوتی ہے روایت میں ہے کہ کسی برتن یا لوٹے میں وُضو کیا ہو تو اُس کا بچا ہواپانی قبلہ کھڑے ہو کر پینا مستحب ہے وُضو کے طبی فوائد پڑھ کر آپ خوش تو ہوں گے مگر سارے کا سارا فنِ طِب ظنیات پر مبنی ہے سائنسی تحقیقات بھی حتمی نہیں ہوتیں بدلتی رہتی ہیں ہاں رسول پاکؐ کے احکامات اٹل ہیں وہ نہیں بدلیں گے ہمیں سنتوں پر عمل طبی فوائد پانے کے لیے نہیں صرف اور صرف رضائے الہی عزوجل کی خاطر کرنا چاہیے لہذا اس لیے وضو کرنا کہ میرا بکڈ پریشر نارمل۔ہو جائے یا میں تازہ دم ہو جاوں گی یا گا یا ڈائیٹنگ کے لیے روزہ رکھنا یا سفرِ مدینہ اس لیے کرنا کہ آب و ہوا بھی تبدیل ہو جائے گی اور گھر اور کاروباری جھنجھٹ سے بھی کچھ دن سکون ملے گا یا دینی مطالعہ اس لیے کرنا کہ میرا ٹائم پاس ہو جائے گا اس طرح کی نیتوں سے اعمال بجا لانے سے ثواب کہاں سے ملے گا؟ اگرہم اللہ کو خوش کرنے کے لیے کریں گے تو ثواب بھی ملے گا اور ضمناً اس کے فوائدبھی حاصل ہوں گے لہذا ظاہری اور باطنی آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے وضو بھی ہمیں اللہ کی رضا کے لیے ہی کرنا چاہیے

  • مشین کو دھوکہ دے کر روپے ہتھیانے والا شخص

    مشین کو دھوکہ دے کر روپے ہتھیانے والا شخص

    مشین کو دھوکہ دے کر روپے ہتھیانے والا شخص
    جرمنی کے شہر کولون میں مشروب بنانے والی کمپنی نے عوام میں بوتلوں کو دوبارہ استعمال کا شعور بڑھانے کے لیے ایک ری سائیکلنگ مشین لگائی لیکن ایک۔چالاک شخص نے بوتل کے بدلے اس سے ہزاروں ڈالر کی رقم بنا لی جب ری سائیکل کرنے کے لیے کوئی پلاسٹک یا شیشے کی بوتل۔مشین کے اندر داخل کی جائے تو وہ اس کے بدلے وہ ایک دو یورو یا کچھ پیسے دیتی ہے جتنی زیادہ بوتلیں ہوں اتنے ہی زیادہ پیسے ملتے ہیں لیکن کولون کی ایک۔عدالت میں ایک شخص کو پیش کیا گیا جس نے مشین کو دھوکہ۔دے کر اور ایک بھی بوتل داخل کیے بغیر مشین سے سینتالیس لاکھ روپے کی رقم حاصل کر لی اور اس پر مجرم کو دس ماہ کی قید کی سزا سُنائی گئی

  • سردیوں میں جلد کی حفاظت کرنے کی آزمودہ ٹپس

    سردیوں میں جلد کی حفاظت کرنے کی آزمودہ ٹپس

    سردیوں کا موسم ویسے تو تقریباً سب کے لیے پسندیدہ ہوتا ہے ڈرائی فروٹ رنگ برنگی سبزیاں اور رس دار پھل اس موسم کا وہ تحفہ ہوتے ہیں جن سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا مگر اس موسم کے استقبال میں ہماری جلد ہمارا ساتھ نہیں دیتی موسم کی خشکی کے سبب اس کی رنگت ماند پڑ جاتی ہے اس کی چمک دمک کہیں گُم ہو جاتی ہے جس کو واپس لانے کے لیے مہنگے موسچرائزرز اور کولڈ کریمز کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان سب کا اثر عارضی ہوتا ہے جبکہ باورچی خانے میں اس مسئلے کا انتہائی ارزاں حل موجود ہوتا ہے
    دودھ اور بادام کا ماسک:
    ایک چمچ بادام پیس کر اس میں دو چمچ دودھ ملا کر پیسٹ بنالیں اس کو چہرے پر لگا لیں خشک ہو نے ہر ٹھنڈے پانی سے منہ دھو لیں دودھ اور بادام میں موجود وٹامن ای جلد کی رنگت نکھارتا ہے اور اس کوترو تازہ بناتا ہے
    لیموں اور شہد کا ماسک:
    دو چمچ شہد میں آدھا لیموں نچوڑ لیں اس کو اچھی طرح ملا کر پیسٹ بنا لیں اور چہرے پر لگائیں خشک ہونے کے بعد دھو لیں اس سے نہ صرف رنگت سفید ہوتی ہے بلکہ جلد کے دھبے بھی صاف ہوتے ہیں
    پپیتے کا ماسک:
    پکے ہوئے پپیتے اور کیلے کو پیس کر یکجان کر لیں اس کے اندر دو چمچ شہد ملا لیں اس کے بعد اس کو چہرے پر اور دیگر خشک جگہوں پر لگا لیں کچھ دیر کے بعد منہ سادہ پانی سے دھو لیں اس سے نہ صرف چہرے کی تازگی میں اضافہ ہوگا ساتھ ہی چہرے پر ہڑنے والی جھریاں بھی ختم ہوں گی
    مکھن کے دودھ اور دہی کا ماسک:
    مکھن کا دودھ وہ ہوتا ہے جو چھاچھ بنانے کے بعد مکھن نکالنے کے بعد حاصل ہوتا ہے اس کو ہم وزن دہی کے ساتھ ملا کر دس سے پندرہ منٹ تک جلد پر لگائے رکھیں اور پھر دھو لیں اس سے چہرے پر ہونے والی تبدیلیاں آپ کو حیران کر دیں گی
    زیتون کے تیل اور انڈے کی زردی کا ماسک:
    دو انڈوں کی زردی میں چند قطرے زیتون کا تیل ملا لیں اور اس کو اچھی طرح بلینڈ کر لیں اس کے بعد چہرے پر بیس منٹ لگا رہنے دیں اس کے بعد دھو لیں اس سے جلد چمکدار ہونے کے ساتھ ساتھ تروتازہ ہو جائے گی اور داغ دھبے بھی دور ہو جائیں گے

    چہرے کے نکھارکے لیے نہایت آزمودہ ماسک


    پٹرولیم جیلی کا استعامل:
    نہانے سے قبل پٹرولیم جیلی کو پورے جسم اور چہرے پر ہلکے ہاتھوں سے مساج کر لیں پندرہ منٹ بعد نیم گرم پانی سے نہا لیں اس خشکی کا خاتمہ ہو جاتا ہے
    گلیسرین کا ماسک:
    گلیسرین انتہائی سستی اور آسانی سے مل جانے والی جُز ہے چہرے کو سادہ پانی سے دھونے کے بعد ہلکا خشک ہونے کے بعد روئی سے دھیرے دھیرے گلیسرین کو چہرے پر لگا دیں اس کو دھونے کی بھی ضرورت نہیں ہے یہ دن بھر چہرے کو خشکی سے بچا کر رکھتی ہے
    گلیسرین لیموں اور عرق گلاب:
    گلیسرین لیموں کا رس اور عرق گلاب تینوں ہم وزن لے کر مکسچر بنا لیں۔اس مکسچر کو ہاتھوں اور پاوں پر لگائیں اس سے خشکی دور ہونے کے ساتھ ساتھ جھریاں اور داغ دھبے بھی دور ہوں گے
    دہی شہد اور عرق گلاب کا ماسک:
    ایک چمچ دہی تھوڑا سا شہد اور دو تین قطرے عرق گلاب کے ملا کر پیسٹ بنالیں پھر اس کو منہ پر لگا کر ہلکا مساج کریں۔اور پندرہ منٹ لگا رہنے دیں اس کے بعد ٹھنڈے پانی سے منہ دیں اس سے نہ صرف خشکی دور ہو گی بلکہ جلد نرم و ملائم اور تروتازہ ہوگی

  • ایسا گاوں جہاں صرف عورتیں ہی رہتی ہیں

    ایسا گاوں جہاں صرف عورتیں ہی رہتی ہیں

    ایسا گاوں جہاں۔صرف عورتیں ہی رہتی ہیں
    آپ نے خواتین کے لیے علیحدہ سکول کالج جامعات ووکیشنل سینٹرز جمنازیم اور عبادت گاہوں کا تو سنا ہوگالیکن کبھی یہ سنا ہے کہ خواتین کا عیلحدہ گاوں ہے جہاں مردوں کو جانے کی بالکل۔اجازت نہیں ؟ نہیں تو آج ہم کو یہ دلچسپ بات بتاتے ہیں نہیں تو آج ہم کو یہ دلچسپ بات بتاتے ہیں کہ ایک ایسے گاوں کے بارے میں جہاں۔صرف عورتیں۔رہتی ہیں اور کسی آدمی کو جانے کی۔اجازت نہیں بلکہ مردوں کے تو داخلے پر سخت ترین پابندی ہے جی جناب براعظم افریقہ کے ملک کینیا میں واقع گاوں اموجا ہے جہاں صرف خواتین رہتی ہیں یہ گاوں مکمل طور پر ایسی خواتین کے لیے ہے جہاں جنسی زیادتی گھریلو تشدد اور ناکام شادیوں یا زبردستی کم عمری میں شادی جیسے واقعات کی شکار خواتین قیام پذیر ہیں یعنی مردوں کے زیر عتاب رہنے والی خواتین ہی اس گاوں میں رہتی ہیں اس گاوں کا قیام 1990ء میں پندرہ خواتین کے ایک ایسے گروپ کی جانب سے عمل میں۔آیا جنہیں علاقے میں موجود برطانوی فوجیوں کہ جانب سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد ان خواتین نے ایک ایسی کمیونٹی بنانے کے بارے میں سوچا جہاں صرف خواتین سکون سے رہ سکیں اس وقت گاوں میں تقریباً سینتالیس کے قریب خواتین اور دوسو بچےزندگی گزار رہے ہیں یہ خواتین اپنی روزمرہ کی ضرورتوں۔کو۔پورا کرنے کے لیے اور دیگر اخراجات کے لیے دستکاری کا سامان اور زیورات تیار کر کےوہاں۔آنے والےسیاحوں کو فروخت کرتی ہیں

  • ڈائٹنگ کے دوران پروٹین اور فائبر کا استعمال انتہائی مفید

    ڈائٹنگ کے دوران پروٹین اور فائبر کا استعمال انتہائی مفید

    پروٹین اور فائبر کا استعمال:
    ڈائیٹنگ کے دوارن ناشتے اور کھانے کے وقت پروٹین اور فائبر پرمشتمل غذاوں کا استعمال کریں تاکہ نظام۔انہضام کا رمل۔سست ہو جائے اور آپ کواپنا پیٹ بھرا ہوا محسوس ہو اسطرح بے وقت بھوک محسوس نہیں ہوگی اگر آپ ایک پیالہ بند گوبھی یا پھول گوبھی میش کر کے کھائیں تو اس سے پانچ گرام فائبر آسانی سے مل۔جائے گا چنے سے تیار کردہ چک پی پاستا ایک وقت میں۔آٹھ گرام کھانے سے بھی آٹھ گرام فائبر اور چودہ گرام پروٹین ملے گی ا سکے علاوہ دال کا سوپ ایک کپ بنا لیں مٹر کھائیں اس سے بھی پروٹین اور فائبر کی اچھی خاصی مقدار حاصل ہو گی ایک کپ بروکلی رس بیری کدو امرود اور کیلے اپنی غذا میں شامل کریں اگر میٹھا کھانا ہو تو منٹ آئس کریم۔اور منٹ فلیور کی کوئی بھی میٹھی چیز کھا لیں منٹ فلیور میٹھا یا آئس کریم کا ایک کپ ایک سو پچاس کیلوریز پرمشتمل۔ہوتا ہے جب بھی بے وقت بھوک کا احساس ہو توآدھا کپ انجیت کھا لیں

    مزیدارٹوس گرین سیلیڈ بنانے کی ترکیب


    فٹنس ایکسپرٹ زوکر بروٹ کا کہنا ہے کہ آدھا کپ انجیر اگر دوپہر کے وقت کھالی جائے تو لنچ کا ہی کام۔دے گی اور آپ کو اپنا پیٹ بھرا ہوا محسوس ہونے لگے گا آدھا کپن انار کھانے سے بھی مناسب مقدار میں فائبر حاصل۔ہوتا ہے اور بے وقت بھوک کا احساس بھی نہیں ہوتا ناشتے یا دوپہر یا رات کے کھانے میں۔ایک کپ جو کا دلیہ کا استعمال خون میں موجود شوگت لیول کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے ناروے میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق اگردن میں دو عدد کیوی پھل کھا لیا جائے تو جسم میں ٹریگلی۔سٹرائیڈ یعنی خون میں غیر صحتمند چربی جو دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے اس کو کم۔کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اس کے علاوہ کیلا کھائیں چاہیں تو اس کے اوپت ڈارک چاکلیٹ چھڑک لیں امریکن کیمکل سوسائٹی کی۔جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ڈارک چاکلیٹ میں اینٹی آکسیڈینٹس اور فائبر موجود ہوتا ہےجو معدے کی۔سوزش کم۔کرتا ہے اس کے علاوہ چقندر چنے پاپ کورن ناشپاتی شکر قندی گریپ فروٹ لوبیا پھلیاں السی کے بیج ایوا کاڈوسیب گاجر بادام کو بھی بے وقت بھوک سے نجات حاصل۔کرنے کے لیے استعمال۔کیا۔جا سکتا ہے ان تمام چیزوں سے ایک ڈائٹ پلان تیار کر لیں اوراس کے مطابق عمل کریں اس سے آپ کا کولیسٹرول لیول بھی کنٹرول میں رہے گا اور وزن بھی کم۔ہوگا اور بے وقت بھوک بھی تنگ نہیں کرے گی اگر بے وقت بھوک لگے تو اوپربتائی گئ چیزوں میں سے کوئی بھی کھا لیں تاکہ جسم کو مناسب فائبر اورپروٹین مل۔سکے

  • ڈائٹنگ کا شوق اور بے وقت کی بھوک

    ڈائٹنگ کا شوق اور بے وقت کی بھوک

    ڈائٹنگ کا شوق اور بے وقت کی۔بھوک
    ہمارے اردگرد کئی لڑکیاں دیکھنے میں دُبلی پتلی نظر آرہی ہوتی ہیں لیکن اگر ان کا میڈیکل ٹیسٹ کروایا جائے تو کئی لڑکیوں کے ٹیسٹ میں۔سامنے آتا ہے کہ ان کا کولیسٹرول بڑھا ہوا ہے ایسے میں لڑکیوں کو فوراً ڈائٹنگ کا خیال۔آ جاتا ہے اگر کوئی لڑکی دبلی پتلی ہے تو اس یہ ضروری نہیں کہ اس کے جسم کا کولیسٹرول لیول بھی کنٹرول میں ہو صرف ایسی لڑکیاں ہی نہیں بلکہ وہ خواتین جن کا شادی کےاچانک وزن بڑھ جاتا ہے یا وہ لڑکیاں جواپنی جاب کے دوران پورادن اپنی سیٹ پربیٹھ کر کام کرتی ہیں ایسی لڑکیوں کا اندرونی طور پر کولیسٹرول لیول بڑھ رہا ہوتا ہے اور ظاہری طور پر ان کاوزن بھی بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہوتا ہے بہت سی لڑکیوں کو ہروقت کچھ نہ کچھ کھانے پینے کی عادت ہوتی ہے ایسی لڑکیاں اپنی بے وقت کی بھوک برداشت نہیں کر پاتیں اوراپنی ڈائیٹنگ کو ایک سائیڈ پررکھتے ہوئے کچھ نہ کچھ کھانے لگ جاتی ہیں جب ان لڑکیوں کو پوچھا جائے تو اکثر کا یہی جواب ہوتا ہے کہ ان سے بھوک برداشت نہیں ہوتی یہ لڑکیاں بے وقت کی۔بھوک مٹانے کے لیے فاسٹ فوڈ فرنچ فرائزسوفٹ ڈرنکس چپس نمکو اور میٹھی بیکری آئٹمز وغیرہ کھاتی ہیں اسی وجہ سے ان سب کا استعمال ان کی ڈائٹنگ کو متاثر کر دیتا ہے اور ان کے جسم میں کولیسٹرول اور شوگر لیول کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے فاسٹ فوڈ کی وجہ سے پیٹ کے مسائل بھی کافی دیکھنے میں آتے ہیں اس بے وقت کیبھوک مٹانےاور ڈائٹنگ کو کامیابی سے جاری رکھنے کی ماہرین نے مندرجہ ذیل ٹپس دی ہیں
    ناشتہ کرنا کبھی نہ چھوڑیں:
    فٹنس ایکسپرٹس کا لڑکیوں کو مشورہ ہے کہ وہ ناشتہ ضرور کریں کیونکہ صبح کےوقت متوازن ناشتہ دوپہر تک بھوک کا احساس نہیں ہونے دیتا پیٹ بھر ہوا محسوس ہوتا ہے اور پھر بے وقت کی بھوک مٹانے کے لیے فاسٹ فوڈ یا بیکری آئٹمز کھانے کی ضرورت نہیں محسوس ہوگی آفس جانے والی لڑکیاں دیر سے اُٹھنے کے باعث جلدی میں ناشتہ چھوڑ کر آفس چلی جاتی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ایسا ہرگز نہ کریں اپنی عادت کو چھوڑ کر وقت سے پہلے اُٹھنے کی کوشش کریں تاکہ تسلی سے ناشتہ کر سکیں اور دوپہر تک کوئی بیکری کی چیزیں یا چپس وغیرہ کھانی نہ پڑے

    چند عادتیں اپنائیں اورپچاس سال میں بھی تیس سال کی لگیں


    کھانا آہستہ سکون تسلی سے اور چبا کر کھائیں:
    آپ جس بھی ڈائٹ پلان پر عمل کر رہی ہیں آپ کو چاہیے کہ کھانا اچھی طرح چبا کر کھائیں اگر آپ روٹی سلاد یا کوئی بھی کھائیں توکوشش کریں۔آہستہ آہستہ اورچبا کر کھائیں اگر اچھی طرح اور چبا کر کھانا یا کوئی بھی چیز کھائی جائے تووہ معدے پربوجھ نہیں بنتی اور جلدی ہضم۔ہو جاتی ہے ساتھ ہی دیر تک کھانا چبانے سے نفسیاتی تسکین بھی حاصل ہوگی کہ آپ کے منہ میں کھانا ہے اور آپ کھا رہی ہیں ایسے میں آپ کہ۔بھوک بھی ختم ہو جائے گی اورآپ کا پیٹ بھی بھرنا شروع ہو جائے گا اور پہٹ بھرنے کا احساس بھی ہونے لگے گا

    چھوٹے باولز پیالوں اور ڈشز کااستعمال:
    اپنا کھانا چھوٹے باولز یا ڈشز میں نکالیں اور کھائیں اس اسطرح آپ جب اس برتن کو خالی کر لیں گی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ نے پورا کھانا کھالیا ہے یوں آپ ڈائیٹنگ کے دوران زیادہ کھانا کھانے سے بچی رہیں گی ساتھ ہی آپ کو یہ احساس بھی ہوگا کہ آپ نے پورا کھانا کھا لیاہے اور آپ کا پیٹ بھر گیا ہے

    بڑھتی عمر کے ساتھ خود کو صحت مند رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے


    کھانا کھانے کے دوران ٹی وی نہ۔دیکھیں:
    اکثر خواتین اور لڑکیوں کی۔عادت ہوتی ہے کہ وہ کھانا کھانے کے دوران کھانا کھاتی ہیں یا انھیں ٹی وی دیکھتے ہوئے کچھ نہ کچھ کھانے کی عادت ہوتی ہے اور وہ کچھ نہ کچھ کھانے کی عادی ہوتی ہیں ایسے میں ان کا وزن تیزی سے بڑھنے لگتا ہے اور ایسے میں انھیں پتہ بھی نہیں لگتا اور وہ زائد کیلوریز پر مشتمل چیزیں ایک ہی وقت میں بیٹھ کر کھا رہی ہوتی ہیں یوں ڈائیٹنگ کے باوجود اپنا وزن کم کرنے میں ناکام رہتی ہیں اگر اپنے کولیسٹرول لیول پر قابو پاناچاہتی ہیں اوروزن کم۔کرنا چاہتی ہیں تو ٹی وی دیکھتے ہوئے کھانا کھانے کی عادت کو ختم کر لیں اس طرح اسے ہی اپنے وزن اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو سکیں گی اور ٹی وی دیکھتے ہوئے یا باتیں کرتے ہوئے کھانا کھائیں تو کھانا زیادہ کھایا جاتا ہے اور معدے پر بھی بوجھ پڑتا ہے جس سے معدے کے کئی مسائل جنم لیتے ہیں اس کے علاوہ ڈائٹنگ کے دوتان پرہٹینز اور فائبر والی اشیاء کھائیں کیونکہ وہ دیرپا ہضم ہوتی ہیں اس طرح آپ کو بھوک نہیں محسوس ہوگی اور پیٹ بھرا ہوا لگے گا

    پرُسکون اور صحت مند رہنا ہے تو یہ غلطیاں ہر گز نہ کریں


    پانی زیادہ استعمال کریں:
    دن میں کم از کم۔دو لیٹرپانی استعمال کرنا چاہیے جب اتنا پانی پئیں گی تو پیٹ خالی ہونے کا احساس نہیں ہوگا اوربے وقت بھوک کا احساس نہیں۔ہوگا ساتھ ہی زیادہ پانی استعمال کرنے سے جسم کے اندرونی اعضاء بھی بہتر انداز میں کام کر پائیں گے تاہم ڈائیٹنگ کے دوران جب بھی بھوک کا احساس ہو تو بجائے اس کے کہ فاسٹ فوڈ یا چپس وغیرہ کھائیں پانی پی لیں اس سے پیٹ بھر ہوا محسوس لگنے لگے گا

  • پیشاب کے ٹیسٹ سے لبلبے کے کینسر کی تشخیص

    پیشاب کے ٹیسٹ سے لبلبے کے کینسر کی تشخیص

    پیشاب کے ٹیسٹ سے لبلبے کے کینسر کی تشخیص
    تحقیق کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ لبلبے کے سرطان کا سراغ لگانے والے دنیا کے پہلے پیشاب کے ٹیسٹ سے بڑی تعداد میں مریضوں کی۔جان بچائی جا سکے گی یہ بات قابل ذکر ہے کہ جومریض لبلبے کے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں دیگرکینسرز کے مقابلے میں ان کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہوتے ہیں جن مریضوں میں اس بیماری کی۔تشخیص ہو جاتی ہے ان میں سے تقریباً پانچ فیصد تشخیص کے پانچ سال بعد تک زندہ رہ پاتے ہیں پیشاب کا یہ ٹیسٹ کوئن میری یونیورسٹی آف لندن نے تیار کیا ہے جو بیماری کے ابتدائی مراحل میں اس کی انتباہی علامتوں کو واضح کردیتا ہے سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس خاموش قاتل بیماری کا شکار ہونے والے مریضوں کی پانچ فیصدزندہ بچ جانے والی شرح اس ٹیسٹ کے ذریعے ساٹھ فیصد تک لے جائی جا سکے گی جس کی تشخیص عموماً دیر سے ممکن ہوتی ہے
    https://login.baaghitv.comncreas-ko-clean-karney-wali-ghazayen/
    اس ٹیسٹ کے ابتدائی تجربات میں دیکھا گیا کہ نوے فیصد ٹیسٹ کے نتائج بالکل درُست تھے اور اس ٹیسٹ کے ذریعے علامات ظاہر ہونے سے پانچ سال پہلے بیماری کا سراغ لگانا مُمکن ہے ٹیسٹ کے نتائج چوبیس گھنٹوں کے اندر مل جاتے ہیں پروفیسر تاتجانہ جورسیوک پچھلے دس سالوں سے اس ٹیسٹ ٹیوب کو بنانے میں ڈیولپ کرنے میں مصروف تھیں۔جس کا ابھی فی الحال کوئی نام نہیں رکھا گیا انہوں نے بتایا کہ لبلبے کے سرطان کی افزائش میں عموماً دس سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے اس لیے پیشاب کے اس ٹیسٹ کے ذریعے ہم بہت پہلے اس کا پتہ لگا سکتے ہیں فی الحال اس کینسر کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب یہ آخری مراحل میں ہوتا ہے اور ہم کچھ نہیں کر سکتے اگر ہم اس سرطان کا سرغ پہلے لگا لیں جب اس کا آپریشن ممکن ہو اور رسولیاں دیگر اعضاء تک نہ ہھیل چُکی ہوں تو مریض کے زندہ بچ جانے کے امکان کافی روشن ہو سکتے ہیں جورسولیاں ایک سینٹی میٹر یا اس سے بھی چھوٹی ہوں اگر ان کا نکال کر کاٹ دیا جائے تو پانچ سال تک بچنے کی شرح کو ساٹھ فیصد تک لے جایا جا سکتا ہے پیشاب کے اس ٹیسٹ میں تین پروٹینز کی مقدار کی پیمائش کی جاتی ہے جو لبلبے کا سرطان جسم میں خارج کرتا ہے اوت وہ پیشاب میں موجود ہوتے ہیں ایک الگورتھم استعمال کرتے ہوئے خطرے کے اسکور کا حساب لگایا جاتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ آیا کہ مریض کے مزید ٹیسٹ لینے کی ضرورت ہے یا نہیں یہ کوئی تشخیصی ٹیسٹ نہیں بلکہ تشخیص میں مدد دینے والا ٹیسٹ ہے

    چالیس سال کے بعد آہستہ چلنا وقت سے پہلے بڑھاپے کی نشانی


    کوئن میری یونیورسٹی کی ٹیم نے انسانی سیمپلز پر ان بایومارکرز کو ٹیسٹ کیا ہے اور اب جن مریضوں کے لبلبے میں سرطان کی مشتبہ علامتیں دیکھی جائیں گی یا جن کے خاندان میں اس سرطان کے مریض پہلے موجوف ہوں گے انہیں اس ٹیسٹ سے گزارا جائے گا اورتین ہزار مریض اس ٹیسٹ سے گُزریں گے جسمیں اندازً چارسال لگ سکتے ہیں اگر یہ ٹیسٹ کامیاب ہوا تو پھر فوری طور پر استعمال کرنا مُمکن ہوگا پروفیسر تاتجانہ نے بتایا کہ لبلبے کے سرطان کے دس فیصد مریضوں میں یہ ایک موروثی مسئلہ پایا گیا ہے اس وقت اس قسم کے مریضوں میں تشخیص کے لیے سی ٹی سکین ایم آر آئی یا انڈوسکوپ الٹرا ساونڈ سکین کے ساتھ بایوسپی سے بھی تشخیص واضح نہیں ہو پاتی ہے ا۔نہوں نے کہا الٹرا ساونڈ سکین بہت نا خوشگوار تجربہ ہوتا ہے اور مریض کو بے ہوش کرنا پڑتا ہے ای یو یس کے دوران ایک پتلی لچکدار نالی منہ کے ذریعے معدے میں تک پہنچائی جاتی ہے اور ان حصوں کی تصاویر حاصل کی جاتی ہیں جہاں ممکنہ طور پر کینسر کا شُبہ ہوتا ہے واضح رہے کہ ہر سال برطانیہ میں نوہزار ایک سو افراد اور امریکا میں پانچ ہزار چھ سو ستر مریض لبلبے کے سرطان کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں اس قسم کے ایک چوتھائی مریض تشخیص کے ایک ماہ کے اندر ہی انتقال کر جاتے ہیں جبکہ تین چوتھائی ایک سال کے اندر دوسری دنیا کوچ کر جاتے ہیں

  • چہرے کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے آسان تراکیب

    چہرے کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے آسان تراکیب

    چہرے کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے آسان تراکیب
    چہرے کی خوبصورتی کے لیے خواتین مختلف طریقے اپناتی ہیں۔اور کئی جتن کرتی ہیں چہرے پر داغ دھبے یا دانے ہوں یا موسم کے اثرانداز ہونے کی وجہ سے جلد کا رنگ خراب ہو تو خواتین مختلف کریموں کا استعمال کرتی نظر آتی ہیں یا بیوٹی پارلر کا رُخ کرتی ہیں جس سے وقتی طور پر تو چہرے پرشگفتگی اور چمک آجاتی ہے لیکن دیرپا اور مستقل طور پر ان پریشانیوں سے نجات نہیں حل کر پاتیں اور پیسوں ضیاع علیحدہ ہوتا ہے اکثر خواتین وقت کی کمی کا رونا روتے ہوئے اور سستی کاہلی کی۔وجہ سے ایسی بازاری اشیاء جلد کی تازگی اور خوبصورتی کے لیے استعمال کرتی ہیں اور اکثر کہتی ہیں کہ قدرتی اشیاء سے استفادہ کرنا ایک محنت اور زحمت طلب کام ہے اگر ہم۔تھوڑی سی محنے کر لیں تو ہم جلد ہی مطلوبہ خوبصورتی اور نتائج حاصل کر سکتے ہیں مندرجہ ذیل۔چند آسان طریقے ہیں جو ہر موسم میں۔ہماری جلد کے لیے بہترین اور مفید ثابت ہوتے ہیں

    ترو تازہ اور حسین چہرہ لیکن کیسے؟


    لیموں گلیسرین اور عرق گلاب ہم۔وزن لے کر مکس کر لیں اور کسی صاف بوتل میں ڈال کر فریج میں رکھ لیں اور صبح اچھے سے ہاتھ منہ دھو کر اس کو اپنے چہرے پر لگائیں اور رات کو سوتے وقت بھی اس کا۔استعمال کریں صرف چہرے کی جلد ہی توجہ طلب نہیں ہوتی بلکہ اس کو آپ اپنے ہاتھوں اور پاوں پر بھی استعمال کرنے کی عادت بنائیں کچھ ہی دنوں میں اس کا نتیجہ نظر آئے گا
    بھاپ کو بھی اپنے چہرے کو خوبصورتی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے چہرے ہر ہونے والی چکناہٹ اور میل کچیل کا خاتمہ آسانی سے کر سکتے ہیں بھاپ سے سارا میل کچیل صاف ہو جاتا ہے اور جلد کے مسام سے بھی میل کے ذرات نکل جاتے ہیں جن خواتین کی جلف چکنی ہو تو وہ روزانہ ہی بھاپ لیں تو ان کے لیے بہت فائدہ مند رہے گی اور جن کی جلد نارمل ہے انہیں بھی ہفتہ میں دو تین دفعہ بھاپ لے لینی چاہیے اس سے ان کی جلد بھی تروتازہ رہے گی بھاپ لینے کے لیے آپ کسی صاف برتن میں پانی اُبالیں اور سر پر تولیہ ڈھانپ کر اپنے بالوں کو بچاتے ہوئے اور آنکھوں کو بند کر کے پانچ سے سات منٹ تک بھاپ لیں اور پھر منہ جو ٹھںڈے پانی سے دھو لیں
    نیند کو بھی اپنے چہرے کی خوبصورتی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اکثر خواتین گھر کے کام۔کاج کی۔وجہ سے یا چھوٹے بچوں کی وجہ سے اور زیادہ تر لڑکیاں پڑھائی کی۔وجہ سے یا موبائل اور ٹی وی کی وجہ سے اپنی نیند پوری نہیں کر پاتی جس کی۔وجہ سےان کے چہرے کی تروتازگی جاتی رہتی ہے چہرہ مُرجھا جاتا ہےاور ہر وقت چہرے پر تھکن کے آثار رہتے ہیں اس لیے بہت ضروری ہے کہ نیند پُوری کریں اور اس کے ساتھ ساتھ متوازن غذا بھی کھائیں ہو سکے تو سبزیوں کا زیادہ استعمال کریں فاسٹ فوڈ اور چکن وغیرہ سے پرہیز کریں

    سردیوں میں جلد کی حفاظت کے لیے عمدہ گھریلو ابٹن


    خشک جلد کے لیے ایک عدد انڈا گلیسرین ایک۔چائے کا چمچ روغن بادام ایک چائے کا چمچ اور شہد ایک چائے کا چمچ لیں اور سب سے پہلے انڈے کو اس طرح پھینٹ لیں کہ جھاگ بن جائے اس کے بعد اس میں گلیسرین روغن بادام اور شہد اچھی طرح ملا لیں پھر اس پیسٹ کو چہرے گردن اور ہاتھوں کی جلد پر لیپ کر لیں اور پندرہ سے بیس منٹ تک لگا رہنے دیں اور اس کے بعد سادہ پانی سے اچھی طرح دھو لیں اور جلد کو تولیہ کے بغیر خشک ہونے دیں اس عمل کومہینے میں۔تین سے چار مرتبہ کریں۔جلد تروتازہ اور نرم و ملائم ہو جائے گی

  • چالیس سال کے بعد آہستہ چلنا وقت سے پہلے بڑھاپے کی نشانی

    چالیس سال کے بعد آہستہ چلنا وقت سے پہلے بڑھاپے کی نشانی

    چالیس سال کے بعد آہستہ چلنا وقت سے پہلے بڑھاپے کی نشانی
    سائنسدانوں نے کہا ہے کہ عمر کی چالیسویں دہائی میں لوگوں کے چلنے کی رفتار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے دماغ کے ساتھ ساتھ ان کے جسم پر کتنی تیزی سے بڑھاپا طاری ہورہا ہے تحقیق کاروں نے چلنے کی رفتار کے آسان ٹیسٹ کو استعمال کرتے ہوئے یہ اندازہ لگانے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ کسی متعلقہ انسان پر بڑھاپا کتنی تیزی سے آ رہا ہے انہوں نے اس تحقیق کے دوران دیکھا کہ آہستہ چلنے والوں کے نہ صرف جسم تیزی سے بُوڑھے لوگوں جیسے ہو رہے تھے بلکہ ان کے چہرے دیکھ کر بھی ان کی عمر اصل سے زیادہ لگ رہی تھی اور ان کے دماغ بھی نسبتاً زیادہ چھوٹے ہوتے ہیں اکثر اوقات ڈاکٹر حضرات کسی بھی شخص کی چلنے کی رفتار سے اس شخص کی مجموعی صحت کا اندازہ لگالیتے ہیں خاص طورپر پیسنٹھ سال سے زائد کی عمر کے لوگوں کا کیونکہ چلنے کی رفتار پٹھوں کی مضبوطی پھیپھڑوں کی کارگردگی توازن ریڑھ کی ہڈی کی مضبوطی اور بصارت کے بارے میں واضح اشارے کرتی ہے

    خراٹے روکنے والا تکیہ


    اس تحقیق کے لیے نیوزی لینڈ میں ایک ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا جو1970ء میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی پینتالیس کی عُمر تک نگرانی کی گئی تھی چلنے کا رفتار کا ٹیسٹ اس سے بہت پہلے اُس عمر میں کیا گیا تھا جب وہ ادھیڑ عمر بالغ تھے اس تحقیق میں شامل لوگوں کا جسمانی ٹیسٹ ذہنی کارگردگی کا ٹیسٹ اور دماغ کی سکیننگ بھی کی گئی اور بچپن کے دنوں میں ہردو چار سال بعد ان کہ سوجھ بوجھ کے ادراکی ٹیسٹ بھی لیے گئے تھے کنگز کالج لندن اور ڈیوک یونیورسٹی امریکا سے تعلق رکھنے والے جائزہ رپورٹ کے مصنف پروفیسر ٹیری ای موفیٹ نے بتایا کہ اس جائزے سے ہمیں معلوم ہوا کہ جو لوگ آہستہ چلتے ہیں تو بڑھاپا آنے سے پہلے ہی ان کی یہ عادت بتا دیتی ہے کہ ان کی صحت کن مسائل کا شکار ہو سکتی ہے جبکہ پینتالیس سال کی عُمر میں بھی خاصا فرق دیکھا گیا بہت تیزی سے چلنے والوں کی رفتار فی سیکنڈ دومیٹر تھی عام۔طوت پر یہ دیکھا گیا کہ جو لوگ آہستہ چلتے ہیں ان میں بڑھاپے کے آثار بُہت تیزی سے نمایاں ہونے لگتے ہیں ان کے پھیپھڑے دانت اور جسم کا مدافعتی نظام تیز رفتار لوگوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہڑ جاتا ہے اس جائزے میں خلاف توقع جو چیز نظر آئی وہ یہ تھی کہ جب ادھیڑ عمر سست افراد کے دماغ کی سکیننگ کی۔گئی تو وہ بوڑھے لوگوں جیسے تھے

    بڑھاپے میں سبز پتوں والی سبزیوں کا استعمال انتہائی فائدہ مند


    تحقیق کاروں نے یہ بتایا کہ جب وہ لوگ تین سال کے تھے اس وقت ان کی ذہانت زبان اور ان کی حرکت کرنے کی صلاحیتوں کو دیکھ کر ہم یہ پیش گوئی کرنے کے قابل تھے کہ پینتالیس سال کہ عُمر میں ان کے چلنے کی رفتار کیا ہوگی وہ بچے جو چالیس سال کے بعد سب سے کم رفتار چلنے والے بنے یعنی جو ایک سیکنڈ میں 1.2میٹر کا فاصلہ طے کر رہے تھے ان کا اوسط آئی کیو لیول بارہ پوائنٹ ان لوگوں سے کم تھا جو سب سے زیادہ تیز چلنے والے یعنی ایک سیکنڈ میں 1.75 میٹر کا فاصلہ طے کررہے تھے تحقیق کاروں کی بین الاقوامی ٹیم نے جاما نیٹ ورک اوپن کے لیے اپنی تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ صحت اور آئی کیو میں۔اس فرق کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان کی زندگی گزارنے کے طور طریقے میں فرق تھا یا زندگی کی ابتداء میں انہوں نے کسی کو اچھی صحت میں دیکھ کر اس کا اثر لیا تھا تحقیق کاروں نے کہا کہ نوجوانی کی عمر میں چلنے کی رفتار کی پیمائش کے ذریعے بڑھاپے کی آمد کو موخر کرنے کے لیے علاج پر توجہ دی جا سکتی ہے۔