Baaghi TV

Category: خواتین

  • سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر (SAD) کی علامات علاج اور احتیاطی تدابیر

    سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر (SAD) کی علامات علاج اور احتیاطی تدابیر

    موسمی نفسیاتی بیماری سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر
    جونہی موسم بدلتا ہے ہر انسان میں نمایاں تبدیلی نظر آتی ہے اس طرح موسمی اثرات نفسیاتی مریضوں میں تبدیلی کا باعث بنتے ہیں جسے سٙیڈ (SAD)یعنی سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈرseasonal effective disorder کہتے ہیں یعنی کہ موسم کے اثرات خاص طور پر یہ اثرات موسم بہار میں نظر آتے ہیں جونہی موسم کی گرمی کی شدت بڑھن ریزینے لگتی ہے سیٙڈ بھی اپنا موڈ بدل لیتا ہے اس پر گرمی کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں دباو ڈپریشن کی علامت ہے اس کو موڈ ڈس آرڈر بھی کہہ سکتے ہیں موسم کی۔ تبدیلی کی۔ وجہ سے جو اثرات انسان پر پڑتے ہیں زیادہ تر ستمبر اور اپریل میں۔ اپنے عروج پر ہوتے رہے ہیں لیکن اس کے بعد ان کا تعلق گرمی کے ساتھ ہوتا اس کی تاریخ بہت زیادہ پُرانی نہیں پہلی مرتبہ اس کانام 1948میں سنا گیا جب اس کا ایک مریض ملا۔ جو یو ایس میں ڈاکٹر ای رزینیکل نورمو کے پاس آیا جس کے برین پر موسمی اثرات کا۔اثر تھا اس کے بعد ساوتھ افریقہ اور نیو یارک میں کچھ مریض نظر آئے موجودہ صورت حال میں تین فیصد لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں جو فل عروج پر بیمار ہوتے ہیں دس سے بیس فیصد تک درمیانے درجے کےبیمار ہوتے ہیں

    ڈائٹنگ کے دوران پروٹین اور فائبر کا استعمال انتہائی مفید


    تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ مرض مردوں کی۔نسبت عورتوں میں۔زیادہ پایا جاتا ہے ہرمریضوں میں تین خواتین اور ایک مرد ہوتا ہے یہ زیادہ تر ٹین ایج کے بعد شروع ہوتا ہے اس کے عروج کا زمانہ اٹھارہ سے تیس سال ہےکچھ کیس میں بچے بھی شامل ہیں لیکن بہت کم یہ مرض بڑی عمر کے لوگوں میان۔شاذو نادر ہی پایا جاتا ہے سیڈ کے اثرات زیادہ تر شمالی علاقہ جات میں پائے جاتے ہیں یا جن علاقوں میں گرمی کے اثرات زیادہ ہوتے ہیں درمیانے موسم کے علاقوں میں یہ کم پایا جاتا ہے دراصل یہ ڈپریشن اور سٹریس کی۔ایک قسم ہے موسم گرما میں جوں جوں شدت بڑھتی ہے اس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے گرمی کی شدت سے عام نارمل آدمی بھی چڑ چڑا ہو جاتا ہے اور اس میں بد مزاجی آ جاتی ہے دن کے پچھلے پہریا دوپہر کے بعد جب سہ پہر ہونے لگتی ہے موڈ میں تبدیلی آنے لگتی ہے

    ڈائٹنگ کا شوق اور بے وقت کی بھوک


    علامات: اس مرض میں عام طور پر مندرجہ ذیل علامات پائی جاتی ہیں
    تھکاوٹ تناو دباو چڑچڑاپن تشویش جسم کا درد نیند میں کمی۔پیٹ میں خرابی کسی چیز پر توجہ مرکوز نہ کر سکنا بھوک کا کم لگنا وزن کا کم ہونا بے خوابی رونے کو دل کرنا اگر مرض طوالت اختیار کر لے تو انسان میں خود
    کشی کا رحجان بڑھ جاتا ہے
    یہ ایک ایسا مرض ہے جس میں انسانی جسم پر سورج کی روشنی کا بہت کم یا بہت زیادہ ہونا انسان کے بس میں نہیں رہتا یہ نہ صرف نفسیاتی بلکہ جسمانی۔نظام میں بھی تبدیلی پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے اور انسان کی دلچسپیوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے
    احتیاطی تدابیر:
    اس کے لیے نفسیاتی تدابیر اور حربے استعمال کیے جاتے ہیں
    بی ہیوئیر تھراپی ضروری ہے جس سی موڈ میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور انسان اپنی نیند پوری کرے تو نفسیاتی اثرات سے بچ جاتا ہے
    بھر پور نیند لینا
    ورزش کرنا ایسی ورزش جس سے تھکاوٹ پیدا نہ ہو وہ سود مند ثابت ہو سکتی ہے
    روشنی کا مناسب انتظام کرنا ضروری ہے اگر فوٹو تھراپی کام نہ کرے تو دباو کم کرنے والی دوائیں استعمال کریں تاکہ ان علامات میں کمی آ سکے
    اگر ممکن ہو کسی ایسے علاقے میں چلے جائیں جہاں موسم بہتر ہو وہاں جا کر انسان موڈ میں بہتر تبدیلی محسوس کرے گا
    کسی میٹھی چیز کو کھانے سے وقتی طور پر ڈیپریشن کم کیا جا سکتا ہے شوگر کے مریض اس سے پر ہیز کریں وہ مصنوعی میٹھا استعمال کر سکتے ہیں

    سردیوں میں جلد کی حفاظت کرنے کی آزمودہ ٹپس


    اس مرض کو معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ اگر یہ طوالت اختیار کرلے تو انسان کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت پڑ سکتی ہے بہت سے مریض تو اس میں اس حد تکبآگے نکل جاتے ہیں خود کشی کا پلان بنانا شروع کر دیتے ہیں اس میں ہر سال چھ فیصد سے پچیس فیصد تک ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں ان میں 1.5فیصد ٹھیک ہو جاتے ہیں باقی نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں
    اگر کوئی بلڈ پریشر اور شوگر کا مریض ہے اسے اپنی روزمرہ کی دواوں کا استعمال۔ضروری ہے اگر پھر بھی فرق نہ پڑے تو اس کو سکون آور ادویات استعمال کروائیں تاکہ مریض وقتی طور پر سکون میں رہے
    علاج: ویسے تو پرہیز علاج سے بہتر ہے جو انسان زیادہ۔حساس ہیں وہ زیادہ سردی یا زیادہ گرمی میں باہر نکلنے سے گریز کریں اور کوشش کریں وہ اپنے باہر کے کام ایسے ٹائم میں انجام دیں جب وہ خود کو آسانی میں محسوس کریں یا وہ باہر کے کام میں کسی کی مدد لے لیں اس کا علاج لا ئیٹ ٹریٹمنٹ ہے روشنی کا مناسب انتظام کرنے سے اس میں کمی لائی جا سکتی ہے اس کے اثرات صبح و شام زیادہ اچھے نظر آتے ہیں یا عارضی طور پر ایسی جگہ چلا جائے جہاں روشنی کی مقدار مناسب ہو سورج کی روشنی کم ہو فوٹو تھراپی بھی مصنوعی طریقہ علاج ہے جس سے کمرے میں روشنی کا زیادہ انتظام کیا جاتا ہے

    نزلہ زکام کا گھریلو طبی علاج اور غذائی پرہیز


    عام طور پر گرم علاقوں میں لوگ کمروں کے اوپر سبز رنگ کا شیڈ لگواتے ہیں جس سے گرمی کم۔ہو جاتی ہے قدرتی طور پر اگر کمرے کی کھڑکی کے باہر درخت وغیرہ ہوں تو اسکا بہترین حل ہے اس انسان کے چڑچڑے پن میں کمی واقع ہو جاتی ہے انسومنیا کا علاج بھی یہی ہے روشنی کا مناسب انتظام کیا جائے تاکہ مریض کے سر درد اور تھکاوٹ میں کمی۔آ جائے ذہنی دباو کم کرنے والی ادویات کا ستعمال لیکن ان دواوں کے اپنے سائیڈ ایفیکٹس ہیں دوائیوں کے اپنے سائیڈ اثرات سے بچنے کے لیے ماحول میں تبدیلی لائیں اگر اس سے بہتری نہ آئے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور کسی اچھے سائیکاٹرسٹ سے کنسلٹ کریں ایسے لوگوں کو زیادہ گرمی اور زیادہ سردی سے بچایا جائے تو اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے موڈ کو تبدیل کرنے کے لیے مختلف حر ے اپنائے جا سکتے ہیں جس سے وقتی طور پر دھیان بٹ جانے کی وجہ سےمرض کی شدت میں کمی کر کے ایسے لوگوں کو نفسیاتی مریض بننے سے بچایا جا سکتا ہے

  • بچے کی اچھی نیند کے لیے تدابیر

    بچے کی اچھی نیند کے لیے تدابیر

    بچے کی اچھی نیند کے لیے تدابیر
    بچوں کو سلانے کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان کو تھپکی دے کر یا گود میں لے کر نہ سلایا جائے بلکہ ان کو نیند آنے لگےتو فوراً بستر پر لٹا دیا جائے اور جب وہ جاگ جائے تو اس کو فوراً بستر سے اٹھا لیا جائے بچہ اگر سونے والا ہو اوراس کو گاڑی میں ڈال کر گھمانے کے لیے لے جا یا جائے تو وہ نہ صرف یہ کہ گاڑی میں سو جائے گا بلکہ گاڑی میں۔سونے کا عادی ہو جائے گا اس طرح اگر اس کو حالت بیداری میں گاڑی میں لٹا کر یا بٹھا کر گھمانے کے لیے لے جایا جائے تو وہ جاگتا بھی رہے گا اور یہ سمجھنے لگے گا کہ گاڑی جاگنے اور سیر کرنے کی جگہ ہے بچے کے سونے کے لیے گھر میں مکمل خاموشی ضروری نہیں ہے

    بچوں کی تربیت کیسے کی جائے?


    عمر کے اس حصے میں کام کاج کی۔آوازیں باتوں کی آوازیں یا معمولی شوروغل اس کی نیند میں خلل نہیں ڈال۔سکتے لیکن اگر لوگ سوتے ہوئے بچے کے پاس آہستہ آہستہ باتیں کریں کھسر پھسر کریں اور آہستہ آہستہ چلیں پھریں تو پھر ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب تک ایسا ہی خاموشی اور کھسر پھسر کا کا ماحول پیدا نہ کیا جائے تو وہ سو نہیں سکے گا لہذا بچے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو سلاتے وقت گھر کے معمولات میں فرق نہ ڈالا جائے اور حسب دستور کام بھی جاری رکھا جائے اور باتیں بھی بصورت دیگر ماں کی زندگی مصیبت بن جائے گی اور بچہ اس وقت تک سو نہیں سکے گا جب تک مکمل خاموشی نہ ہو جس کو گھر میں قائم رکھنا مشکل کام ہے عمر کے اس حصے میں بچے کی نیند میں خلل صرف اس کی اندرونی تحریک سے پڑ سکتا ہے مثلاً بھوک لگے گی تو وہ جاگ جائے گا اگر زیادہ گہری نیند میں نہ ہو تو سردی سے بھی جاگ سکتا ہے درد سے بھی جاگ سکتا ہے پاخانے کی حاجت ہونے یا ڈکار آنے سے بھی بچے کی نیند میں خلل پڑ سکتا ہے لیکن صرف اس وقت کہ جب یہ تبدیلیاں اچانک ہوں مثلاً ٹیلی۔ویژن یا ریڈیو کی۔آوازوں میں وہ بڑے سکون سے سو جائے گا لیکن اگر یہ چیزیں اچانک بند کی جائیں تو ہو سکتا ہے کہ بچہ جاگ اُٹھے بڑی عمر کے لوگ جس طرح دن کو جاگنے اور رات کو سونے کے عادی ہوتے ہیں بچے اپنی زندگی کے ابتدائی۔دنوں میں اس معمول کے عادی نہیں ہوتے ان کے سونے اور جاگنے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا ان کو دن کو جاگنے اور رات کو سونے کا عادی بنانے میں کچھ وقت صرف ہوتا ہے یہ تبدیلی۔جتنی سمجھداری سے کی۔جائے اتنی ہی جلدی۔نتیجہ بر آمد ہوگا لیکن بچوں کی اکثریت کافی جلدی مقررہ اوقات پر سونے اور جاگنے کی عادی ہو جاتی ہے

    ماں اور بچے کا صحت مند ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ بچے کی پیدائش


    اگر چہ اتنی جلدی نہیں جتنی جلدی ان کے تھکے ماندے والدین چاہتے ہیں بچے کو وقت پر سلانے کی عادت ڈالنے کے لیے حسب ذیل احتیاطی تدابیر مفید ثابت ہوں گی اگر بچے کو دن کے وقت سلایا جائے اور وہ سوتے میں ڈکار کہ وجہ سے جاگ جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن رات کےوقت سلانے سے پہلے اطمینان کر لینا چاہیے کہ بچہ سوتے میں ڈکار نہ لے ورنہ اس کی نیند میں خلل پڑ سکتا ہے رات کو بچے کو اس کے بستر میں لٹانے سے پہلے کپڑے میں اچھی طرح لپیٹ دینا چاہیے تاکہ وہ ہلکی نیند کے دوران اپنی حرکت کی وجہ سے جاگ نہ سکے واضح رہے کہ رات کو سوتے وقت بچے کی نیند یکساں نہیں ہوتی کبھی گہری نیند میں سوتا ہے اور کبھی ہلکی نیند میں کمرے میں اتنا اندھیرا کر دینا چاہیے کہ بچہ اگر جاگ جائے تو اس کو دن کا گمان نہ ہو کیونکہ عام۔طور پر تمام بچے رات کو کئی مرتبہ آنکھ کھول کر دیکھتے رہتے ہیں کمرے میں کوئی ایسی روشن چیز بھی نہیں ہونی چاہیے جس پر بچے کی نگاہ جم جائے بس کمرے میں اتنی روشنی ہونی چاہیے کہ اگر ماں ضرورت پڑنے پر بچے کو دیکھنے آئے تو روشنی جلائے بغیر اپنا کام کر سکے سردیوں میں کمرے کو ہر وقت گرم رکھنا چاہیے کیونکہ ٹھنڈ سے بچہ جاگ جاتا ہے اور اگر گہری نیند ہو تو ٹھنڈے سے اس کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے لیکن اگر بچے کو کپڑوں میں اچھی طرح لپیٹ دیا جائے تو وہ ہر جگہ سو سکتا ہے

  • یہ ہلکا ہلکا میک اپ اور سُندر سا رُوپ

    یہ ہلکا ہلکا میک اپ اور سُندر سا رُوپ

    یہ ہلکا ہلکا میک اپ اور سُندر سا رُوپ
    دن کی تقریبات میں جانا ہو یا کالج یونیورسٹی جانا ہو لڑکیاں چاہتی ہیں کہ وہ۔دن کے وقت بھی خوبصورت ہی دکھائی دیں ایسے میں انہیں ہلکا ہلکا میک اپ کرنا چاہیےکیونکہ دن کے وقت تیز رنگوں پرمُشتمل میک اپ کرنا اچھا نہیں لگتا اس کے برعکس شام یا رات کی تقریبات میں گہرا میک اپ کر لیا جائے تو اچھا لگتا ہے لڑکیوں کو کو شش کرنی چاہیے کہ وہ دن کے وقت سوفٹ لُک میک اپ کریں تاکہ ان کا چہرہ دن میں بھی دمکتا ہوا ہی دکھائی دے میک اپ ماہرین کا کہنا ہے کہ دن کے وقت اگر ہلکے شیڈز کا استعمال کرتے ہوئے میک اپ کر لیا جائے ےو زیادہ بہتر رہتا ہے
    دن کے وقت جب بھی میک اپ کریں کوشش کریں کہ بیس ہلکا ہو میک اپ اسٹک کا استعمال نہ کریں کوشش کریں لیکوئیڈ فاونڈیشن کا استعمال کیا جائے اس فاونڈیشن کی ہلکی سی تہہ لگائیں اور اسے پف کی مدد سے اچھی طرح بلینڈ کر لیں اس کے بعد کیک لائنر لگا لیں تاکہ پسینہ آئے تو فاونڈیشن اپنی جگہ قائم رہے ہلکا نارنجی یا پیچ رنگ کا آئی شیڈو آنکھوں کے اوپر لگائیں چمکدار آئی شیڈو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اس کے بعد آنکھوں کی بیرونی کناروں پر چاکلیٹی آئی۔شیڈو سے وی کے انداز میں آئی شیڈو لگائیں اوراسے اچھی طرح بلینڈ کر لیں اس کے بعد بھنووں کے نیچے کی جانب سنہری ہائی لائٹر لگائیں کالے آئی لائنر کی پتلی سی لائن اس طرح لگائیں کہ وہ کناروں سے باہر کی جانب نکلتا ہوا محسوس ہو بھنووں کو نمایاں کرنے کے لیے کالی پینسل کا استعمال کریں چاہیں تو پیچ رنگ کا بلش آن لگائیں ہونٹوں پر بھی روز پنک یا پیچ رنگ کی ہی لپ اسٹک لگائیں چاہیں تو ہلکا نارنجی یا پیچ لپ گلوس لگا لیں

    چہرے کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے آسان تراکیب


    اسکن آئی شیڈو کو آنکھوں کے اوپر کی جانب لگائیں آنکھوں کے اندرونی کناروں پر بھی اسی آئی شیڈو کا لگا لیں اس کے بعد پپوٹوں کے اوپر والی ہڈی پر گہرے خاکی رنگ کا آئی شیڈو لگائیں اور اسے اچھی طرح بلینڈ کریں آنکھوں کے نیچے کی جانب بھی اسکن آئی شیڈو لگائیں ناک کے درمیان میں ہائی لائٹر لگائیں گلابی بلش آن لگائیں اور ساتھ ہی نیوڈ یا گلابی رنگ کے لپ اسٹک لگالیں
    آنکھوں کے پپوٹوں پر ہلکے گلابی رنگ کا چمکدار آئی شیڈو لگائیں آنکھوں کے اندرونی کناروں پر سلوررنگ کا آئی۔شیڈو لگائیں اور اسے بلینڈ کر لیں بیرونی کنارے پر خاکی اور چاکلیٹی آئی شیڈو کو ملا کر اس طرح لگائیں کہ وہ ہڈی کے اوپر اوپر اور وی کے انداز میں آنکھوں کے باہر کی جانب نکلتا ہوا محسوس ہو اسی آئی شیڈو کو آنکھوں کے نیچے کی جانب بھی لگائیں نیچے سے اور بلینڈ کرتے ہوئے بیرونی کناروں تک لے جائیں یہ شیڈ بھنووں کے کنارے تک لگا ہوا محسوس ہونا چاہیے آنکھوں کے اندر سفید آئی پینسل لگائیں اور اوپر کی جانب کالا۔آئی لائنر اس طرح لگائیں کہ وہ آنکھ کے کنارے پر ختم ہو جائے اور باہر نکلتا ہوا محسوس نہ ہو کالا آئی لائنر نہ زیادہ موٹا ہو اور نہ ہی زیادہ واضح ہونا چاہیے اس کے بعد مسکارا لگا لیں گالوں کی۔ہڈی پر ہائی لائٹر لگائیں اور ہلکی براوں لپ میٹ لپ اسٹک لگائیں

    خشک جلد کی حفاظت کے لیئے ماسک


    آنکھوں کے اوپر چمکدار گلابی آئی۔شیڈو لگائیں اور اسے اچھی طرح بلینڈ کریں پپوٹوں کے اوپر کی جانب ہڈی پر چاکلیٹی یا کالے رنگ کا تھوڑا سا آئی شیڈو لگائیں اوراسے اچھی طرح بلینڈ کر لیں یہ شیڈ زیادہ گہرا محسوس نہیں ہونا چاہیے اس کے بعد کالے آئی شیڈو کو بھنووں کے اوپر لگا لیں ہلکا گلابی آئی شیڈو آنکھوں کے نیچے کی جانب بھی لگا لیں اس انداز کا میک اپ کرنے کے لیے بلش آن اور ہائی لائٹر نہیں لگے گا ہلکے سے اس میک اپ کو مکمل کرنے کے لیے گلابی رنگ کی لپ۔اسٹک لگا کر لپ گلوس لگا لیں سوفٹ لُک میک اپ کرنے کا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ آنکھ کے پپوٹوں پر پہلے ہلکا گلابی شیڈ لگا لیا جائے اس کے بعد کناروں پر نارنجی شیڈ لگایا جائے اور اسے اچھی طرح بلینڈ کر لیں آنکھوں کے اندرونی کناروں پر گلابی یا سلور آئی شیڈو لگا لیں آنکھ کے نیچے کی۔جانب اسکن آئی شیڈو لگائیں پھر کالے رنگ کا آئی لائنر آنکھوں کے اوپر لگا لیں آئی لائنر باہر کی جانب نکلتا ہوا محسوس ہونا چاہیے اس کے بعد پلکوں پر مسکارا لگا لیں

  • سیلف کلیننگ واٹر بوتل

    سیلف کلیننگ واٹر بوتل

    سیلف کلیننگ واٹر بوتل
    آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ دنیا میں ایک ایسی بھی پانی کی بوتل پائی جاتی ہے جس میں پانی ڈالتے ہی پانی جراثیم سے پاک ہو جاتا ہے لارک نامی بوتل کو بنانے والا شخص جسٹن وانگ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے لوگوں کو صاف پانی تک کی رسائی کے وژن سے متاثر تھا لارک نا صاف ری یُوز ایبل پانی کی بوتل ہے بلکہ یہ اپنی نوعیت کی دنیا کی پہلی۔پانی کو صاف کرنے والی بوتل ہے اس بوتل میں یو وی-سی ایل ای ڈی لائٹ کا استعمال کیا گیا ہے جو نہ صرف بوتل میں ڈالے گئے پانی کو صاف کرتی ہے بلکہ بوتل کی صفائی کا ذمہ بھی اس کا ہے یو وی- سی ٹیکنالوجی پانی میں موجود بیکٹیریا کا 99.99 فیصد تک خاتمہ کر دیتی ہے جس کا مطلب ہے آپ سفر کے دوران ندیوں سے لیے گئے پانی کو بھی لارک میں ڈال کر جراثیم سے پاک کر سکتے ہیں بعض اوقات بوتل کو زیادہ دیر بند رکھنے پر اس کے اندر بدبو پیدا ہو جاتی ہےپر لارک میں اسگعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اس بدبو کا خاتمہ بھی کر دیتی ہے بوتل کے اوپر دیا گیا بٹن دباتے ہی ساٹھ سیکنڈز میں بوتل میں موجود پانی صاف ہو جاتا ہے اس کے علاوہ بوتل ہر دو گھنٹے بعد آٹو میٹک طریقے سے خود ہی پانی اور بوتل کی صفائی کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے

  • چہرے کے کیل مہاسوں اور دانوں سے نجات کے لئے تراکیب

    چہرے کے کیل مہاسوں اور دانوں سے نجات کے لئے تراکیب

    چہرے کے کیل مہاسون اور دانوں سے نجات کے لئے تراکیب
    اگر آپ کے چہرے پر ایکنی کا مسئلہ ہے تو آپ باہر کی تلی ہوئی چیزیں کھانےس ے گُریز کریں پانی۔زیادہ پیئیں تربوز اور لیچی کا استعمال۔زیادہ کریں اس کے علاوہ اگر جلد خشک ہے تو یہ ماسک لگائیں
    خشک جلد کے لیے ماسک: سرسوں کا تیل ایک چمچ پانی ایک چمچ لاہوری نمک پاوڈر ایک چٹکی ان تینوں چیزوں کو اتنا مکس کریں کہ یکجان ہو جائیں پھر اس مکسچر کو ماسک کی طرح چہرے پر لگائیں اس سے شروع میں تو جلن ہو گی لیکن پریشان ہونے گھبرانے کی بات نہیں اس ماسک سے بہت فائدہ ہوگا اگر آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ہوں تو آپ کھوپڑے کا تیل لگائیں بیسن سے منہ دھوئیں اور چیکو کا شیک بنا کر پئیں رنگت نکھارنے کے لیے درج ذیل ماسک استعمال۔کریں
    رنگت نکھارنے کے لیے: گلاب کی تازہ پتیاں چند عدد سونف ایک چمچ پہاڑی پودینہ ایک چمچ چھوٹی الائچی دو عدد مصری حسب ضرورت بادام سات عدد ان تمام چیزوں کو گرائینڈ کر لیں اور پانی میں ملا کر پئیں کچھ عرصہ باقاعدگی سے اس کو استعمال کریں چہرے پر خارش ہو تو ایلوویرا جیل کسی بھی اسموتھنگ لوشن میں ملا کر چہرے پر لگائیں

  • سونے کے زیورات چمکائیں اب گھر میں

    سونے کے زیورات چمکائیں اب گھر میں

    سونے کے زیورات چمکائیں اب گھر میں
    جو خواتین باقاعدگی سے سونے کے زیورات پہنتی ہیں ان کے زیورات آب و ہوا کی نمی اور مٹی کی وجہ سے اپنی اصلی چمک آہستہ آہستہ کھونے لگتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب کوئی قریبی شادی کی تقریب آنے لگتی ہے تو خواتین کے ذہن میں سب سے پہلے زیورات پالش کروانے کا خیال آتا ہے تاکہ وہ دوبارہ سے چمک اٹھیں آج کل چونکہ مہنگائی کا دور دورہ ہے ایسے میں خواتین کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح ان کے پیسے بچ جائیں اب چونکہ سونے کے زیورات کی پالش پر بھی دو ہزار سے کم کا خرچہ نہیں آتا آج کل ویسے بھی سونا اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ زیورات کو خواتین کسی جیولر کے پاس پالش کے لیے چھوڑنے کا بھی رسک نہیں لینا چاہتیں ان کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح سے ان کے سونے کے زیورات بھی چمک جائیں اور زیادہ خرچہ بھی نہ کرنا پڑے ایسے میں کچھ طریقے درج ذیل ہیں جن کی مدد سے خواتین گھر بیٹھ کر ہی اپنے سونے کے زیورات کو پھر سے چمکا سکتی ہے

    ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھناچاہئے


    کسی پیالے میں تھوڑا سا گرم پانی ڈالیں اس میں چند قطرے ڈش واشنگ لیکویڈ کے ڈالیں اور اچھی طرح دونوں چیزوں کو مکس کریں جب جھاگ بن جائے تو اس میں تمام سونے کے زیورات ڈال دیں ان زیورات کو پندرہ منٹ کے لیے اسی پیالے میں رہنے دیں اس کے بعد کسی نرم۔دندانے والے برش کی مدد سے اسے رگڑ یں اس کے بعد سادہ پانی سے دھو لیں اور کسی کپڑے سے خشک کر لیں
    پانی کو اُبال کر کسی پائرکس ڈش میں یہ گرم پانی ڈالیں اس میں سونے کے زیورات ڈال دیں ان زیورات کو پانی ٹھبڈا ہونے تک اسی ڈش میں کم از کم پانچ منٹ رکھے رہنے دیں جب پانی ٹھنڈا ہو جائے تو ایک ایک کر کے تمام زیورات کو کسی نرم۔برش سے رگڑ کر تولئے سے صاف کر یں پھر اسے سوکھنے کے لیے رکھ دیں جب خشک ہو جائیں تو استعمال کریں گرم پانی میں بس ایسے سونے کے زیورات ڈالیں جس میں نگینے یا پرل موتی جڑے ہوئے نہ ہوں کیونکہ اگر نگینے جڑے ہوئے زیورات کو گرم پانی میں زیادہ دیر رکھا جائے تو ان نگینوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے

    آنکھوں کی کمزوری اور بینائی کے لئے انتہائی مجرب عمل


    اگر ڈش واشنگ لیکویڈ سے زیورات صاف نہ ہوں تو پھر امونیا کی مدد سے ان زیورات کوچمکانے کی کوشش کر یں ایک پیالے میں مگرپانی لیں اس میں ایک سےچمچ دو کھانے کے چمچ امونیا ڈالیں دونوںچیزوں کو اچھی طرح مکس کریں اس پیسٹ کو سونے کے زیورات پر لگا ئیں صرف ایک منٹ لگا ئیں اور پھر اسے سادے پانی سے دھو لیں یاد رکھیں کہ امونیا والا مکسچر ایک منٹ سے زائد نہ لگا ے رکھیں دھونے کے بعد جیولری کو کسی تولےیا کپڑے سے صاف ضرور کریں اس مکسچر سے زیورات با زار کی پالش کی طرح ہی چمک اٹھیں گے تاہم جیولرز کا کہنا ہے کہ امونیا کی۔مدد سے اگر چنددنوں میں کئ مرتبہ زیورات صاف کر لئے جائیں تو پھر سونے کو نقصان پھنچ سکتا ھے کیونکہ امونیا کی وجہ سے دھات یعنی سونا پگھلنے لگتا ھے
    دو کھانے کے چمچ پانی میں تھوڑا سا ٹوتھ پیسٹ ڈالیں اب اس مکسچر کو برش پر لگائیں اور پھر برش سے سونے کی۔جیولری کر رگڑیں اس کے بعد کسی کپڑے سے صاف کرنے کے بعد جیولری کو واش کر لیں آخر میں اسے کسی تولیے کی۔مدد سے خشک کر لیں ٹوتھ پیسٹ میں موجود اجزاء سونے کے زیورات کو چمکانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جب بھی سونے کی جیولری کو دھوئیں تو اس کے نیچے کوئی چھلنی وغیرہ ضرور رکھیں کیونکہ کبھی کبھار پانی کے پریشر سے کوئی چھوٹا سا جیولری آئٹم گر بھی سکتا ہے اگر نیچے کہ جانب چھلنی نہیں ہو گی تو آپ کے سونے کا کوئی چھوٹا ٹاپس ناک کی۔لونگ وغیرہ گم بھی سکتی ہے
    کسی بھی صابن کو کدو کش کر لیں کدو کش کی گئی تھوڑی سی صابن کو پانی میں ڈالیں اب اسے چولہے پر رکھ کر بوائل کریں اس کے بعد اسے چولہے سے اتار لیں جب مکسچر ٹھنڈا ہو جائے تو زیورات اس مکسچر میں ڈالیں پھر کسی برش کی مدد سے ان زیورات کو اچھی طرح رگڑیں پھر زیورات کو دھو لیں اور تولئے سے خشک کر کے ہوا میں سوکھنے کے لیے رکھ دیں سونے کے زیورات کو صاف کرنے کے لیے کسی نوکیلے دندانوں والا برش ہر گز استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے زیورات یا نگینوں پر خراشیں یا لائنیں پڑ جانے کا خدشہ ہے اس لیے نرم دنداے والے برش استعمال کریں

  • معدے کے مسائل سے نجات  کیسے پائیں؟

    معدے کے مسائل سے نجات کیسے پائیں؟

    معدے کے مسائل سے نجات کیسے پائیں؟
    بیشتر افراد کو زندگی میں کسی وقت پیٹ پھولنے کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے ایسا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب پیٹ بھرا ہوا اور سخت محسوس ہوتا ہے اور غذائی نالی میں گیس کا اجتماع اس کا باعث بنتا ہے پیٹ پھولنے پر معمول سے زیادہ بڑا نظر آنے لگتا ہے اور تکلیف کا احساس بھی ہو سکتا ہے جسم میں سیال مادے کا اجتماع بھی اس کا باعث ہو سکتا ہے تو سب سے پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے جیسے نظام ہاضمہ کے مسائل یعنی قبض کھانےسے الرجی یا مخصوص اجزاء کو جسم کا ہضم کرنے سے انکار پیٹ پھولنے کا باعث بن سکتا ہے بہت زیادہ سافٹ ڈرنکس نمک یا چینی کا استعمال جبکہ غذا میں فائبر کا نہ ہونا بھی اس کی وجہ ہے مگر طرز زندگی کی چند عام چیزوں سے پیٹ پھولنے کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ فوری ریلیف بھی ممکن ہے

    عید کے موقع پر بدہضمی سے بچنے کے آسان طریقے


    چہل قدمی:
    جسمانی سرگرمی سے آنتوں کی۔سرگرمیاں معمول پر آتی ہیں جس سے اضافی گیس اور فضلے کی۔اخراج میں مدد ملتی ہے آنتوں کے افعال معمول پر لانا قبض کے شکار افراد کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے کچھ دیر کی چہل قدمی پیٹ پھولنے اور گیس کے دباو سے تیزی سے ریلیف میں مدد دے سکتی ہے
    پیٹ کی مالش:
    پیٹ کی مالش بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہو سکتی ہے اس مقصد کے لیے دائیں کولہے کی۔ہڈی پر ہاتھ رکھیں اور پھر سرکولر موشن میں ہلکے دباو کے ساتھ دائیں جانب کی پسلیوں تک مالش کریں اس کے بعد پیٹ کے اوپری حصے پر بائیں جانب کی پسلیوں تک مالش کریں پھر آہستگی سے بائیں کولہے کی ہڈی تک لے جائیں اگر مالش کرنے پر تکلیف ہو تو بہتر ہے کہ اسے نہ کریں
    یوگا:
    یوگا کے مخصوص پوز شکم کے مسلز کو غذائی نالی میں موجود اضافی گیس کے اخراج میں مدد دے سکتے ہیں جس سے پیٹ پھولنے کا مسئلہ بھی کم۔ہو جاتا ہے اس حوالے سے کسی ماہر سے مشورہ کیا جا سکتا ہے

    قدرت کے عجوبے اور دلچسپ حقائق


    گرم پانی سے نہانا:
    گرم۔پانی سے نہانے پر پیٹ کو گرمائش ملتی ہے جس سے اس پر دباو کم ہوتا ہے اور غذائی نالی۔زیادہ موثر طریقے سے کام کر سکتی ہے جس سے پیٹ پھولنے میں کمی لانا ممکن ہو جاتا ہے
    پانی کا۔زیادہ استعمال:
    سوڈا کاربونیٹڈ مشروبات میں گیس ہوتی ہے جو پیٹ میں اکٹھی ہو جاتی ہے ان کو بنانے کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ استعمال ہوتا ہے جو پیٹ پھولنے کا باعث بنتی ہے چینی یا مصنوعی مٹھاس والی غذا بھی گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بنتی ہے تو ان مشروبات کی جگہ پانی کو دے دینا تمام مسائل سے بچا لیتا ہے جبکہ قبض سے نجات بھی ممکن ہو جاتی ہے

    کڑی پتے کے طبی فوائد


    فائبر کا استعمال۔بڑھائیں:
    زیادہ فائبر کا استعمال قبض اور پیٹ پھولنے کی روک تھام کرتا ہے مردوں کو روزانہ ٣٨ گرام جبکہ خواتین کو ٢۵ گرام فائبر جزو بدن بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر یہ بھی ذہن میں رہے کہ بہت زیادہ فائبر کھانا یا بہت کم۔وقت میں۔زیادہ کھانا شروع کر دینا زیادہ گیس اور پیٹ پھولنے کا۔باعث بن سکتا ہے تو فائبر کی مقدار میں بتدریج اضافہ چند ہفتوں میں کرنا چاہیے تاکہ جسم اس سے مطابقت حاصل کر سکے
    زیادہ نمک سے پرہیز:
    زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں جسم میں پانی۔اکٹھا ہونے لگتا ہے جس سے پیٹ پھولنے کا احساس ہوتا ہے مگر یہ مسئلہ ہاتھوں اور پیروں میں بھی سامنے آ سکتا ہے
    چیونگم چبانے سے پرہیز:
    چیونگم چبانے کے دوران ہوا بھی پیٹ میں چلی جاتی ہے جو ممکنہ طور پر پیٹ پھولنے اور گیس کا باعث بن سکتی ہے اگر پیٹ پھولنے کے مسئلے کا اکثر سامنا ہوتا ہے تو چیونگم سے گریز ہی۔بہتر ہے
    پروبائیو ٹکس:
    پروبائیو۔ٹکس آنتوں میں موجود اچھے اور مفید بیکٹیریا پر مشتمل۔ہوتے ہیں پروبائیو ٹک سپلیمنٹ آنتوں کے بیکٹیریا کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بن سکتے ہیں

    گلاب کے پھول کے حیران کن جادووئی فوائد


    کھانے میں منا سب وقفہ:
    بیشتر افراد کو زیادہ کھانے پر پیٹ پھولنے کا سامنا ہوتا ہے تو اس سے بچنا بھی آسان ہے اور وہ یہ کہ کھانے کے اوقات میں مناسب وقفہ رکھیں اور کم مقدار میں کھائیں تاکہ نظام ہاضمہ متحرک رکھنے میں مدد مل سکے کھانے کو بہت تیزی سے نگلنا غذائی نالی میں ہوا کو بھرتا ہے اسٹرا سے مشروب پینا لوگوں کو زیادہ ہوا نگلنے پر مجبور کرتا ہے جو گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بن جاتا ہے پیٹ پھولنے کے شکار افراد کواسٹرا سے گریز کرنا چاہیے اور کھانا آرام سے کھانا عادت بنا لیا چاہیے
    جسمانی طور پر متحرک ہونا:
    ورزش جسم کو گیس اور قبض سے بچانے میں مدد دیتی ہے کیونکہ اس سے آنتوں کے افعال ٹھیک ہونے کا امکان بڑھتا ہے ورزش سے جسم میں پسینے کے ذریعے اضافی سوڈیم کا اخراج ہوتا ہے جو سیال کے اجتماع کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے ورزش کرنے سے پہلے اور بعد میں پانی پینا نت بھولیں کیونکہ جسم میں پانی کی کمی قبض کو بدتر بنا سکتی ہے
    گیس خارج کرنے والے کیپسول:
    بازار سے ایسے کیپسول آسانی سے مل جاتے ہیں جو آپ ڈاکٹر کے مشورے سےخرید کر لاسکتے ہیں جو غذائی نالی میں موجود اضافی ہوا کے اخراج کو یقینی بناتے ہیں
    پودینے کے تیل کے کیپسول:
    پودینے کے تیل کے کیپسول بھی بدہضمی اور گیس کے حوالے سے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور پیٹ پھولنے کے مسائل سے ریلیف حاصل کر سکتے ہیں پودینہ آنتوں کے مسلز کو سکون پہنچا کر گیس اور فضلے کو گزرنے میں مدد دیتا ہے تاہم سینے میں جلن کا مسئلہ رہتا ہو تو پھر پودینے کے استعمال سے گریز کریں-

    ڈاکٹر سے کب رجوع کریں:
    پیٹ پھولنا اورشکم میں سوجن کئی بار کسی مرض کی علامت بھی ہو سکتا ہے اگرچہ ایسا امکان بہت کم۔ہوتا ہے جیسے جگر کے امراض آنتوں کے ورم کے امراض ہارٹ فیلئیر گردوں کے مسائل اور کچھ اقسام کے کینسر سے بھی یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے اگر پیٹ پھولنے کا مسئلہ کئی دن کئی ہفتے تک برقرار رہے تو بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ۔درست تشخیص ہو سکے-

  • ڈائٹنگ کے دوران کی جانے والی غلطیاں

    ڈائٹنگ کے دوران کی جانے والی غلطیاں

    روزانہ دوپہر ہری سبزیاں کھانے اپنے من پسند ڈرنکس اور چپس اسنیکس وغیرہ چھوڑنے اور ورزش وغیرہ کرنے کے باوجود بھی اگر آپ کے وزن پر زکوئی خاص اثر نہیں پڑ رہا ہے اوروزن کم کرنے کے لیے ہر طرح کی کوشش کرنے کے بعد بھی اگر کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو رہا تو پھر یہ دیکھیں کہ غلطی کہاں ہو رہی ہے ننانوے فیصد غذائیں جسم کو ایک طرح کے فریب کے ذریعے قابو میں لا کر دبلا کرتی ہیں عام طور پر ایسا بہت زیادہ توانائی والی غذاوں یا کیلوریز پر پابندی لگا کر کیا جاتا ہے یہ چیز ہمیشہ نا امیدی کی طرف لے جاتی ہے لہذا آپ نہایت ہی تھوڑا عرصہ اس کی پابندی کر پاتے ہیں اور وزن میں مزید اضافے کے ساتھ دوبارہ اپنی پرانی عادت پر آجاتے ہیں اس لیے نہ سوچیں کہ کچھ زبردست ہونے والا ہے کیونکہ جب ایسے نتائج حاصل نہیں ہوتے تو اس کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے وزن کم کرنے کا صحیح طریقہ سب سے پہلے اچھی صحت کی طرف توجہ دینا ہے جب آپ کہ توجہ جسم کو صحت مند بنانے کی طرف ہو گی تو وزن خود بخود ہی کم ہو جائے گا
    ورزش زیادہ اور کیلوریز کا استعمال کم کرنا:
    بہت زیادہ ورزش اور غذا یا کیلوریز کا کم استعمال آپ کے نظام۔ہضم کو نہایت سست کر دیتا ہے جب آپ مناسب مقدار میں کیلوریز نہیں لیتے تو آپ کے جسم کا درجہ حرارت کم ہونے لگتا ہے جس سے نظام۔ہضم ہلکا ہو جاتا ہے اور اس کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے اور دل کی دھڑکن کم ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے جسم کو زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے ان سب باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے جسم کے لیے یہ کیلوریز ناکافی ہیں اور جسم کو۔زیادہ توانائی کی ضرورت ہے

    مقبول غذاوں اور مشروبات کی زیادہ مقدار بھی جان لیوا ہو سکتی ہے


    پروٹین کی کمی:
    کم پروٹین والا ڈائٹ پلان وزن میں کمی کی رفتار ہلکی کر دیتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم میں جگر اور ڈیٹوکس کرنے کی صلاحیت کا دارومدار پروٹین پر ہوتا ہے اور مضبوط جگر اور گلوکوز ہی تھائرائڈ ہارمونز بنانے کے لیے ضروری ہے اگر آپ زیادہ عرصے تک صحت مند جسم اور وزن میں کمی چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی غذا میں ہلکا پروٹین ضرور شامل کرنا ہوگی

    نٹی اسپنچ سیلیڈ لذیذ اور منفرد ذائقہ دار ریسیپی


    غذا سے شکر کا بالکل خاتمہ کر دینا:
    غذا سے شکر کو بالکل ختم کر دینے سے ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے ساتھ ہہ جسم میں گلائیکو جن جمع رکھنے کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے جو تھائرائڈ گلینڈ میں تبدیلی کر کے نظام ہضم کو صحیح رکھتا ہے ڈائٹ پلان کے ساتھ ورزش بھی نہایت ضروری ہے خوب پسینہ لانے والی اورسانس کو پھلانے والی ورزش کے بغیر آپ جسم کو شیپ میں نہیں لا سکتیں ورزش کا مقصد یہ نہیں کہ آپ نے تھوڑے عرصے کے لیے ورزش کر کے وزن کم کیا اور پھر چھوڑ دی ورزش کی آپ کے وزن کو ہمیشہ ضرورت ہے صحت مند رہنے کے لیے پابندی کے ساتھ ورزش کریں اور اسے کبھی نہ چھوڑیں اگر یہ سمجھنا کہ کھان چھوڑ کر آپ اپنی کیلوریز کم۔کر سکتی ہیں تو یہ بات صحیح نہیں وزن کم کرنے کے لیے کھانا چھوڑنا بالکل بے کار بات ہے اگر آپ کھانا چھوڑیں گی تو آپ کے اندر کھانے کی خواہش بڑھتی جائے گی دوسرا یہ کہ دن میں تھوڑا تھوڑا کئی مرتبہ کھانے سے جسم زیادہ بہتر طریقے سے کام کرے گا بہ نسبت اس کے دن بھر میں ایک یا دو مرتبہ خوب پیٹ بھر کر کھانا کھائیں عام خیال ہے کہ فیٹس جسم کو موٹا کرتے ہیں قدرتی ذرائع سے حاصل ہونے والے فیٹس کا استعمال سالوں سے کیا جا رہا ہے جن سے وزن میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا جب آپ فیٹس کے بغیر یا کم فیٹس والی چیز کا انتخاب کرتے ہیں تو اصل میں آپ زیادہ شکر اور کم فیٹس والی چیز کا انتخاب کررہے ہوتے ہیں کیونکہ پروٹین کو فیٹس کے ساتھ ملا کر لیا جاتا ہے اگر آپ کم فیٹس والی غذا کا استعمال کریں گے تو آپ کو پیٹ کم بھرا ہوا محسوس ہوگا اور آپ کو مزید کھانے کی خواہش ہوگی جس کہ وجہ سے آپ صحیح مقدار میں فیٹس لینے والے کے مقابلے میں پیٹ بھرنے کے لیے زیادہ کھائیں

  • سہانجنا کے  معجزاتی طبی فوائد

    سہانجنا کے معجزاتی طبی فوائد

    سہانجنا کے طبی فوائد
    موسم سرما کے اختتام پر پاکستان کے میدانی علاقوں میں کثرت سے پائے جانے والے سہانجنا کے درخت پر سفید پھولوں کی بہار آجاتی ہے اس کے پھولوں کی بہا ر آجاتی ہے اس کے پھولوں کو توڑ کر محفوظ کر لیا جاتا ہے سہانجنا جنوبی پنجاب کی معروف غذا ہے اس کے خود رو درخت زیادہ تر جھنڈوں کی صورت میں نظر آتے ہیں گرمیوں میں سائے اور موسم سرما میں صحت بخش غذا حاصل کی۔جاتی ہے اس درخت کو بیج اعر قلموں کے ذریعے اگایا جا سکتا ہے پہلے سال پھول اور دوسرے سال اس کی فصل زیادہ۔اچھی ہوتی ہے یہ درخت دس میٹر تک بلند ہو جاتا ہے کانٹ چھانٹ کر کے اسے دو میٹر تک اونچا رکھتے ہیں تاکہ ہاتھ پہنچ سکے
    https://login.baaghitv.com/anjeer-jannat-ka-phal-janiye-iski-afadiayt-or-ehmiyat/
    موسم بہار یا برسات میں سہانجنا کے درختوں کی۔قلموں یا بیج کو زمین میں لگایا جا سکتا ہے ان کے پتے حاصل کرنے کے لیے شاخوں کو سال بھر میں سات یا آٹھ بار کاٹا جا سکتا ہے جنوبی پنجاب میں اسے باٹا بھی کہا جاتا ہے کڑواہٹ دور کرنے کے لیے اس کے پھولوں کو پانی میں ابال کر خشک کر لیا جاتا ہے سہانجنا کو گوشت میں ڈال کر یا الگ بھی پکایا جا تا ہے کھانے میں نہایت لذیذ ہوتا ہے مگر اس کو پکانے میں محنت درکار ہوتی ہے ملتانی اسے بہت مہارت سے پکاتے ہیں سہانجنا کی لکڑی نرم ہوتی ہے اس لیے اس کی لکڑی خشک ہونے پر صرف ایندھن کے لیے استعمال کی جاتی ہے سہانجنا کی شاخ کو کہیں بھی لگا دیا جائے تو یہ فوراً پھوٹ پڑتا ہے اور چند ماہ میں پھل پھول لے آتا ہے جنوبی پنجاب کے درمیانی۔علاقوں میں یہ ہر جگہ نظر آتا ہے حتی کہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں پر بھی مقامی لوگ کسی نئی جگہ پر گھر بناتے ہیں یا کوئی۔نئی۔زمین آباد کرتے ہیں تو سب سے پہلی سہانجنا اگایا جاتا ہے بے پناہ فوائد کی۔وجہ سے معجزاتی درخت کہلاتا ہے

    ہری سبزیوں کا استعمال ڈپریشن میں کمی کے لئے مفید


    یہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا اعر م رق بعید کے ممالک میں عام پایا جاتا ہے جبکہ افریقہ کے کچھ ممالک میں بھی ملتا ہے اسکی شہرت کا تاریخی پس منظر سینیگال سے شروع ہوتا ہے جہاں قحط کے زمانے میں اسے متعارف کروایا گیا اس کے درخت کا ہر حصہ اہمیت رکھتا ہے اور اسے غذا کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے اس کی کاشت سخت حالات میں بھی آسانی سے ہوسکتی ہے خشک سالی میں غذائی کمی کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ ایک بہترین انتخاب ہے سہانجنا کے پتوں جڑوں بیج تنے اور شاخوں میں کیلشئیم پروٹین وٹامن اے پوٹاشئیم آئرن اور وٹامن ای پایا جاتا ہے اکثر ممالک میں اس کے بیجوں کو پیس کر پینے کا پانی صاف کیا جاتا ہے جس سے بیشتر جراثیم مر جاتے ہیں مٹی اور نقصان دہ دھاتیں نیچے بیٹھ جاتی ہیں اس میں کینسر ٹی بی ہیپاٹائٹس شوگر وغیرہ سے بچاو کے لیے اینٹی بائیوٹکس اینٹی الرجک اور دیگر طبی اجزاء پائے جاتے ہیں اس کے بیج کا تیل زیتون کے تیل کی۔طرح کھانے کے لیے بہترین ہے جبکہ پھول اور پھلیاں غذائیت سے بھر پور اور لذیذ ترین۔ہوتی ہیں سہانجنا کے پتوں کا عرق فصلوں پر سپرے کرنے سے موسمی اور فضائی سختیوں کے خلاف قوت مدافعت بھی بڑھ جاتی ہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-jambolan/
    جانوروں کو جب غذا کے طور پر استعمال کروایا گیا تو ان کے وزن میں بتیس فیصد اوردودھ میں تینتالیس سے پینسٹھ فیصد اضافہ سامنے آیا ترقی یافتہ دنیا میں سہانجنا سے قدرتی۔غذائی ٹانک انرجی ڈرنک ادویات اور میک اپ کا۔سامان بنایا جاتا ہے اس کے خشک پتوں کا سفوف غذائی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اسی مقصد کے لیے یہ۔سینیگال میں اگایا گیا اس کے پتوں کا پچاس گرام سفوف پورے دن کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے پانی صاف کرنے کے لیے بیجوں کو خشک کر کے اس کے چھلکوں کو ہلکا ہلکا کوٹ کر الگ کر لیا جاتا ہے حاصل یونے والے سفید مغز کو کوٹ کر اس کا سفوف تیار کیا جاتا ہے اس سفوف کے ہچاس گرام سے ایک لٹر پانی صاف کیا جا سکتا ہے پا۔ی۔صاف کرنے کے لیے سفوف کو پانی میں اچھی طرح ہلائیں اور پھر تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ دیں سفوف نیچے بیٹھنے کے بعد صاف ہو جائے گا سہانجنے کے بیج کا کیک یا پاوڈر گندے پانی میں موجود بیکٹیریا ٹھوس اجزاء اور دیگر ذرات کو اپنے ساتھ چپکا کر تہہ نشین کر دیتا ہے اور باقی پانی صاف اور پاک ہو کر پینے کے قابل ہو جاتا ہے بیجوں کا سفوف پیٹ کے مرض میں شفا دیتا ہے تازہ پتوں کو پالک کی طرح پکایا جا سکتا ہے یعنی سلاد سے لے کر سالن تک بنایا جا سکتا ہے جبکہ سفوف بعض ممالک میں سوپ بنانے میں استعمال ہوتا ہے اس کی۔پھلیاں بھی پکائی جاتی ہیں یہاں تک کہ ان کی۔جڑیں بھی غذا کے طور پر استعمال کی۔جا سکتی ہیں

    الائچی کے جادوئی فوائد


    البتہ جڑوں میں ایک۔زہریلا الکلائیڈ سپائروجن پایا جاتا ہے لیکن اس کی مقدار خاصی کم۔ہوتی ہے اس کے بُرے اثرات جڑوں کو بہت زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے سامنے آ سکتے ہیں سہانجنا ڈائریا اور جلد پر فنگس انفیکشن معدے اور پیٹ کے مسائل دُور ہو۔جاتے ہیں بڑی عمر والوں کے لیے اس کے بیجوں کو مٹر کی طرح پکا کر کھانا انتہائی مفید ہے اس کے بیجوں کا تیل جلد کی الرجی سوزش اورزخموں کو ٹھیک کر دیتا ہے وٹامن اے سی اور ای اس میں۔وافر مقدار میں پایا جاتا ہے بہترین اینٹی آکسیڈنٹ ہے یہ تیل بہت ہلکا اور ذائقے میں خوشگوار ہونے کی۔وجہ سے زیتون کے تیل جیسا صحت مند ہے اس کا تیل موئسچراِزنگ خصوصیات رکھتا ہے صاب شیمپو عطریات اور دیگر جلد کی۔دیکھ بھال کی مصنوعات میں۔اسے استعمال کیا جاتا ہے سہانجنے کی جڑیں بھی مختلف ادویات عطریات قدرتی کیڑے مار ادویات کھاد جانوروں کے چارے اور دیگر کئی اہم مصنوعات تخلیق کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں سہانجنا میں موجود وٹامن بی سی اور ای اور کاربیک ایسڈ خون میں موجود گلوکوز کی۔سطح کو کنٹرول کر کے ذیابیطس کے مریضوں کی مدد کرتا ہے اسی طرح پینٹو تھینیک ایسڈ پروٹین پوٹاشئیم میگنیشیم اور کاربوہائڈریٹس انسولین کی پیداوار کو درست کرنے میں معاون ہیں اس سے کھانا ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے
    https://login.baaghitv.com/flax-seedsalsi-se-beemarion-k-ilaaj/
    سہانجنا کے پتے جڑیں بیج چھال پھل پھول۔اور پھلیاں دل اور دوران خون کو درست رکھنے میں معاون ہیں اس میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس ٹیومر مرگی سوزش السر بلڈ پریشت کولیسٹرول اور فنگل انفیکشن میں مفید ہے بلڈ پریشر کو برقرار رکھتا ہے دمہ جوڑوں کا درد بے خوابی قلبی مسائل گھبراہٹ جلد کے مسائل۔ڈپریشن بخار متلی پیٹ کی تکلیف جسمانی یا اعصابی کمزوری کا جلد خاتمہ کرنے میں معاون ہے کمزور ہڈیوں کی تعمیر نو کرتا ہے سبزیوں اور اچھا پھل کا متبادل ہے یہ میدانی علاقوں نہروں اور دریاوں کے کناروں پر کثرت سے ملتا ہے سہانجنا ہر طرح کے موسم میں اگایا جا سکتا ہے کم پانی والے علاقوں میں یہ کثرت سے پایا جاتا ہے ڈیرہ غازی خان سے لے کر مظفر گڑھ اور وہاں سے میانوالی تک پھیلے ریتلے میدانوں میں کثرت سے پایا جاتا ہے جنوبی پنجاب بھر میں سہانجنا ایک پسندیدہ سبزی کے طور پر اس قدر پسند اور معروف ہے کہ اسے ملتانی سوغات میں شامل کیا جاتا ہے اس کی پیداوار بڑھا کر بیجوں پھلوں پھولوں اور لکڑی سے معجزاتی فوائد حاصل کرنے کی ضرورت ہے

  • گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں
    گردہ انتہائی نازک عضو ہے یہ انتہائی پچیدہ فرائض سر انجام دے رہا ہے اللہ تعالی کا بنایا ہوا یہ عضو انتہائی باریکی کے ساتھ جسم کے فاسد مادوں کو فلٹر کرنے کا کام۔سرانجام دیتا ہے اس کی انتہائی باریک جھلیاں جسم کو فاسد مادے سح صاف رکھنے میں مدد دیتی ہے ایک گردے میں عممومی طور پر دس لاکھ فلٹر یونٹس پائے جاتے ہیں قدرت کی۔باریکیوں کا اندازہ لگائیے انسان ایک لاکھ تو کیا اتنے چھوٹے سے گردے میں ایک۔ہزار فلٹر یونٹس لگانے کے قابل بھی نہیں اور پھر انہی فلٹر یونٹس کے مابین فاصلہ بھی پایا جاتا ہے یہی فلٹر یونٹس خون اور پیشاب کی نالی کے درمیان ایک واضح رکاوٹ ہیں اس میں انتہائی باریک اور کسی دروازے کی طرح تین تہی خلیے ہر بڑی چیز کے اخراج کو روکتے ہیں ان دروزاہ نما خلیات سے انتہائی باریک مالیکیولز ہی خارج ہو سکتے ہیں جبکہ سوڈیم اور پوٹاشئیم کے مالیکیولز کو پیچھے ہی روک لیا جاتا ہے ایک خطرناک مرض ایف ایس جی ایس کہلاتا ہے

    خون میں کولیسٹرول۔لیول کیسے کم کر سکتے ہیں?


    اس بیماری میں گردوں کے انتہائی باریک اور مائیکروسکوپ سے دکھائی دینے والے فلٹر یونٹس متاثر ہو جاتے ہیں یہ یونٹ جسم۔کو خون میں پیدا ہونے والے بعض کیمیکلز سے پاک کرتے ہیں لیکن اگر یہی فلٹر یونٹس خراب ہو جائیں تو ان کے اندر سے یہی مائع یا کیمیکلز رسنا شروع ہو جاتے ہیں ان باریک سے سوراخوں سے ایک اہم اور خاص قسم کی پروٹین ایلبومن رسنا شروع ہو جاتی ہے یہ پروٹین خون کی کیمسٹری ہر اثر انداز ہوتی ہے خون کے ذریعے سے یہ جسم کے مختلف حصوں میں پھیل جاتی ہے پروٹین کی ان دونوں اقسام کا رسنا ٹھیک نہیں یہ دونوں پروٹینز اپنی اپنی جگہ مختلف امراض کو جنم۔دیتی ہیں ابتدائی طور پر تو اس خرابی کو دور کیا جا سکتا ہے لیکن زیادہ وقت گزرنے کی۔صورت میں یہ مرض لاعلاج ہو جاتا ہے دنیا بھر میں ساٹھ کروڑ سے زائد افراد گردوں کح مختلف امراض میں مبتلا ہیں پاکستان اس حوالے سے آٹھویں نمبر پر ہے پاکستان میں بیس ہزار سے زائد افراد گردوں کے دائمی امراض کے باعث جاں بحق ہو جاتے ہیں بیرون ملک اس کے پھیلاو کی وجوہات میں حرام مشروبات کا استعمال بھی شامل ہے جبکہ ہمارے ہاں ادویات کا بے تحاشا پھیلاو اس کے پھیلاو کی۔بڑی وجہ ہے طاقتور دواوں کا اندھا دھند استعمال گردوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے بہت سے مریض اپنے طور پر پانچ ہانچ سو گرام کی گولیاں کھا جاتے ہیں ان اصلی اور جعلی ادویات کا بے تحاشا استعمال نہ صرف گردوں کو بلکہ دوسرے اعضاء کو بھی متاثر کیا ملاوٹی اور ناقص خوراک غیر معیاری پانی موٹا پا ذہنی پریشانیاں پتھری اور ذیا بیطس سمیت کئی وجوہات ہیں

    مُہلک کانگو وائرس علامات اور احتیاطی تدابیر


    اس کی ایک اور وجہ جنک فوڈ کا بے تحاشا استعمال ہے بہت سے لوگ سردیوں میں پانی نہیں پیتے اور گرمیوں میں پانہ مطلوبہ مقدار میں دستیاب نہیں خاص کر جسمانی مشقت کرنے والوں کو صاف پانی نہیں ملتا پنجاب کح پسماندہ۔علاقوں کے بیشتر لوگ اپنے مرض سے آگاہ ہی نہیں ہوتے انہیں گردے کی خرابی کا علم اکثر اس وقت ہوتا جب یہ مراض لاعلاج ہو گیا ایسے لوگوں کو اس کے بارے میں۔شعور دے کر بہت سی زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے گردے کی پیوند کاری کو ایک محفوظ طریقہ تصور کیا جاتا ہے مگر در حقیقت یہ اتنا سادہ اعر آسان کام نہیں پیوند کاری کے بعد اگر کوئی۔مریض مر جائے تو عام۔طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جسم کے مدافعتی نظام نے پیوند کاری کو قبول نہیں کیا امریکہ میں تیس فیصد کیسوں میں پیوند کاری ناکام۔رہی پھر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جسم کے مدافعاتی نظام نے ہی نئے پیوند شدہ گردے کے خلاف کام کیا جو موت کا سبب بنا ہر کیس میں۔ایسا نہیں ہوتا کئی کیسوں میں یہ ہوتا ہے کہ جب نیا گُردہ لگایا جاتا ہے تو اس میں بھی وہی خرابی یعنی بیماری پھیل جاتی ہے جس سے اصلی گُردہ متاثر ہوا فوری علاج کی صورت میں اس بیماری کو جان لیوا ہونے سے بچایا جا سکتا ہے

    مہندی سے الرجی ہونے کی وجوہات اور علاج


    ہمارے ہاں مختلف عمروں میں ہونے والی اموات پر کبھی کوئی تحقیق نہیں ہوئی کوئی نوجوان جوانی میں کیوں چل بسا کبھی شماریات کے صوبائی یا وفاقی ادارے نے ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا تاہم امریکہ میں نوجوانی میں بڑھنے والی اموات نے معاشرے کو ہلا۔کر رکھ دیا ایک اندازے کے مطابق وہاں تیس سے چالیس سال کے عمر کے نوجوانوں کی اموات میں یورپی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اس کے پیچھے گُردوں کے امراض ہیں انہوں نے کہا پروٹین کی ایک اور قسم جسے سولیوبل یوکائینز پلازمینوجن ایکٹیوِیٹر ریسیپٹر یعنی suPAR کہا جاتاہے جسم میں اس پروٹین کی۔مقدار مناسب ہونے کی صورت میں گردوں کے ایک خطرناک مرض سے بچا جا سکتا ہے پہلے مرحلے میں یہ بیماری خون صاف کرنےطکی صلاحیت متاثر کرتی ہے بعد ازاں دل کے امراض اور ذیابیطس کا بھی سبب بن سکتی ہے گردوں کے فلٹر یونٹس میں خرابی ناقابل اصلاح ہے یہ کام انسان کے بس میں نہیں درحقیقت متیض کے فلٹر یونٹس بُری طرح جُھلس جاتے ہیں انہیں ٹھیک کرنا ممکن نہیں ہوتا

    مقبول غذاوں اور مشروبات کی زیادہ مقدار بھی جان لیوا ہو سکتی ہے


    نئی تحقیق کی روشنی میں گردوں کے بعض امراض کا علاج آسان اور ممکن ہو جائے گا کسی بھی بیماری کی صورت میں جسم کا۔قدرتی مدافعتی نظام متحرک ہو۔جاتا ہے بعض اوقات یہ۔نظام جراثیموں کو مارنے کے لیے ضرورت سے زیادہ suPAR نامی پروٹین پیدا کرتا ہے جو نقصان دہ۔ثابت ہوتی ہے اپنے ہی صحت مند نظام کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے امریکہ کے معروف کڈنی سپیشلسٹ جوچین ریزر نے اس پر تحقیق کی ہے وہ رش یونیورسٹی کے میڈیکل سنٹر میں انٹرنل۔میڈیکل کے شعبے کے چئیر مین بھی ہیں انہوں نے طب کی دنیا کے یکسر نظریات کو غلط قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی میں suPAR پروٹین کی مقدار کم پائی جاتی ہے تو پھر وہ گردوں کے امراض سے محفوظ ہے وہ اس مرض کا شکار نہیں بن سکتا ہے انہوں نے یہ تحقیق جانورں کے مالیکیولز پر کی جو گردوں کے اسی مرض میں مبتلا تھے انہوں نے ثابت کیا کہ گردے کے اس مرض سوپار کو کنٹرول کرکے ٹھیک کیا جا سکتا ہے یعنی گردوں کے اس خطرناک مرض کا علاج ممکن ہے

    اعصابی تناو کم کرنے والی اسمارٹ شرٹ


    تاہم ان کی اس تحقیق سے کچھ محققین متفق نہیں کیونکہ کلینکل تجربات میںsuPAR کی۔مقدار اور ایف ایس جی ایس میں براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی تاہم دونوں اقسام کی تحقیقات میں مریضوں میں suPAR کی۔مقدار کو نظر انداز کرنا مشکل ہے اس بات کو بھی جھٹلانا مشکل ہے کہ اس کا تعلق ہارٹ اٹیک ذیابیطس اور قبل۔از وقت موت سے ہے ان کا یہ بھی خیال ہے کہ خون میں ہی ایسی کوئی چیز شامل ہوتی ہے جو پیوند کاری کے بعد گردے پر دوبارہ حملہ کرتی ہے بس ہمیں اسی کو پکڑنا ہے اپنی دس سالہ تحقیق کے دوران انہوں نے خون میں ایلبومن نامی پروٹین کی۔موجودگی اور اس کے گردوں کے بعض امراض سے تعلق کا پتہ چلایا یہ پروٹین گردے کے فلٹر یونٹ سے رسنے کے بعد خون اور پٹھوں میں شامل ہوئی انہوں نے کہا کہ ایک مالیکیول کی مدد سے اس مرض کی تمام۔تفصیلات کا راز پایا جا سکتا ہے یہ مالیکیول ہی اس مرض کے بارے میں بہترین آگاہی دے سکتا ہے