Baaghi TV

Category: خواتین

  • یہ پینڈورا باکس ہے کیا? حقیقت یا افسانہ?

    یہ پینڈورا باکس ہے کیا? حقیقت یا افسانہ?

    یہ پینڈورا باکس ہے کیا? حقیقت یا افسانہ?
    اکثر سننے کو ملتا ہے کہ فلاں سیاست دان نے پینڈورا باکس کھول دیا اس سے مسائل پیدا ہوں گے اور لوگوں کو بہت سی ایسی باتوں کا پتا چلے گا جنہیں وہ نہیں جانتے تھے اور جانیں گے تو حیران اور پریشان ہوں گے یعنی عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ پینڈورا باکس خفیہ خبروں کا کوئی جائے مقام ہے جہاں اُنہیں دفن کیا جاتا ہے اس آرٹیکل میں ہم جانیں گے کہ اصل میں پینڈورا کون تھی اور اس کا باکس کیا تھا اسمیں کیا چیزیں تھیں
    کہا جا تا ہے کہ زی اس بادشاہ نے پینڈورا کو باکس بند حالت میں دیا تھا جب پینڈورا کا باکس کھولا گیا تو اس میں سے عذاب اور قہر ناک درد نکلا ہر طرف موت کی حکمرانی تھی بیماری غربت اور غلامی تھی برائی اور صرف مجسم برائی تھی عورت پینڈورا برایراست اس کا نشانہ بنی

    اسلام میں عورت کا مرتبہ و مقام،عورت اللہ کی بڑی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت،اور دنیا میں پیار محبت کا ایک تاج محل


    پینڈورا باکس جب کھلتا ہے تو است بند کرنا ممکن نہیں رہتا یہ پینڈورا باکس ہے کیا? کیا یہ حقیقت ہے? کیا یہ افسانہ ہے?یونانی دیو مالائی کا تحفہ ہیں? سچ یہی ہے کہ پینڈورا دیو مالائی تصور ہے اور باکس بھی اسی طرح کا خیالی باکس ہے یونانی دیو مالائی کا مطالعہ کریں تو انسان کی اس دنیا میں آمد سے پہلے کی دنیا دیوتاؤں دیوئیوں اور جنات کی دنیا تھی چاند کی دیوہ سرج کا دیوتا ہوا اور آندھیوں کا دیوتا ایولس سورج کی دیوی الیکٹرونا محبت اور خونصورتی کی دیوی ایفروڈائیٹ سورج موسیقی اور تیمارداری کا دیوتا اپالو جنگوں کا دیوتا اپریس آسمانوں اور جنتوں کا دیوتا اٹلس غرضیکہ ہر جذبے ہر خیال تصور قدر آسمان و زمین دریا و پہاڑ اور بحرو بر کے دیوتا بھی تھے دیویاں بھی تھیں یونانی دیومالائی میں ہی حضرت آدم و حوا کی کہانی ایک خوبصورت عورت کی ہے دیوتا اور دیوی عام طور پر لافانی سمجھے جانے والے افسانوی کردار اس وقت کی انسانی زندگی کے حکمران ہو کرتے تھے

    ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھناچاہئے


    آج بھی انگریزی دنون کے نام ان کے ناموں کی نسبت سے بولے جاتے ہیں تب جناتی کردار واکے انسانوں کو دیو پیکر کہا جاتا تھا ایسے ہی دو بھائی پرومیتھیس اور ایپی میتھیس تھے یہ دونوں دیو پیکر بھائی تھے یہ دیو تا کی طرف سے جنگوں میں لڑا کرتے تھے ان دیوتاؤں کے بادشاہ کو زی اس کہا جاتا تھا اس نے پرومیتھیس سے کہا کہ گارے اور مٹی سے اکی انسان تخلیق کرو ایپی کے ذمے زی اس نے یہ کام لگا رکھا تھا کہ وہ جانور تخلیق کرے اور ان کو مختلف خوبیاں عطا کرے مثال کے طور پر لومڑی کو چالاکی چیتے کو پھرتی اور شیر کو بہادری وغیرہ سے منسوب کیا جانا تب کے دیو مالائی قصے کہانیوں کا ہی تخلیق کردہ ہے ورنہ کس نے لومڑی کی چالاکی کا خود مشاہدہ کیا ہے یا ان جانوروں سے منسوب خوبیوں یا خصوصیات کا کیا ثبوت ہے?

    بڑھتی عمر کی غذائی ضروریات


    ایپی میتھیس کا یہی کام تھا اس نے سارے خصائص ان سب جانوروں کو دے دیئے تھے جو وہ تخلیق کر چکا تھا اب انسان کو گارے اور مٹی سے بنانے کے بعد اس کے پاس ایسی کوئی خوبی اور تخصیص ہی باقی نہ رہی جو وہ انسان کو دے سکتا اس پر پرومیتھیس نے ایک فیصلہ کیا ایپی کی ناکامی ثابت ہو چکی تھی پرومیتھیس نے کہا یہ انسان سیدھا کھڑا ہوگا یہ بندر بن مانس یا کسی چوپائے کی طرح نہیں ہوگا اس طرح کے دیوتا ہوا کرتے تھے اس نے کہا کہ یہ انسان کی دیوتا کی طرح ہو گا اور سیدھا کھڑا ہو گا زی اس یہ سب دیکھ رہا تھا اب پرومیتھیس نے فیصلہ کیا کہ انسان کو آگ کا بھی تحفہ دے دیا جائے زی اس ایسا نہیں چاہتا تھا اب دیوتاؤں اور ان کے بادشاہ میں اختلاف سامنے آ گیا پرو نے آگ چُرا لی یہ آگ اس نے زی اس کے چراغ سے چُرائی یا بادشاہوں کی کڑکتی بجلی سے یہ معلام نہیں ہے نعض کے مطابق یہ آگ سورج سے چوری کی گئی یہ انسان کو دی گئی یا نہیں اس بارے میں بھی درست علم نہیں یہ سارا دیومالائی سلسلہ ہے اس میں سچ تو دیومالائی ہی ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زی اس بادشاہ نے کہا تھا پہلے عورت بنائی جائے اسے مٹی اور پانی سے بنایا جائے وہ ایک وعروت اس لیے بنوا رہا تھا کہ اسے سزا کے طور پر دوسروں پر استعمال کیا جا سکت پھر ہر دیوی اور پر دیوتا سے کہا گیا کہ وہ اس تیار شدہ عورت کو کوئی نہ کوئی خوبی تیار کرے کسی نے خوبی دی کسی نے کشش کسی نے ترنم کسی نے رقص کی خوبی دی کسی نے اسے تجسس سے بھر دیا اور کسی نے اسے ایسی خوبی دی جس سے وہ ہر کسی کو گرویدہ بنا لیتی اپنی بات پر قائل کر لیتی اس کے دلائل کے آگے بڑے بڑے پانی بھرتے اس عورت کو پینڈارو کا نام دے دیا گیا پینڈورا کو ایک برتن دیا گیا یہ صراحی تھی یا صراحی نما برتن تھا یہ باکس ہر گز نہیں تھا

    بریسٹ کینسر کیا ہے؟ اس کی علامات اور وجوہات، ہر نو میں سے ایک خاتون اس بیماری میں مبتلا ہوتی ہے بروقت تشخیص سے زندگی بچائی جا سکتی ہے


    پینڈورا کا جار سولہویں صدی تک جاری رہا پھر ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم کے ایک سکالر ایریس مس نے ایک کہانی کا ترجمہ کیا یہ کہانی یونانی شاعر ھی سوائڈ نے سات سو قبل مسیح لکھی تھی ایریس مس یونانی کہانی کا ترجمہ لاطینی زبان میں کر رہا تھا وہ یونانی لفظ پائتھوس کا ترجمہ کر رہا تھا اس کا اصل ترجمہ جار تھا لیکن اس نے لاطینی زبان کا لفظ پیگزائس ترجمے میں استعمال کیا اس کے معنی باکس کے تھے چنانچہ اب تک اسے پینڈورا باکس ہی کہا جاتا ہے پینڈورا باکس مشہور کیسے ہوا جب خوفناک واقعات رونما ہوتے معاملات الجھتے چلے جاتے تو لوگ اسے پینڈورا باکس سے منسوب کرتے جاتے کہا جاتا ہے کہ انسان ایسی دنیا میں رہتا تھا جس میں پریشانی اور مایوسی نہ تھی جب پینڈورا کا باکس کھولا گیا تو پریشانیوں خطروں مایوسیوں اور ناکامیوں نے انسان کو گھیرے میں لے لیا دیکھا جائے تو ان سب منفی رویوں جذبوں اور کاموں کو عورت سے منسوب کیا جاتا تھا عورت ناکامی اور مایوسی کی علامت سمجھی جاتی تھی زی اس بادشاہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پینڈورا کو جار بند حالت میں دیا تھا عورت کا تجسس تھا جس کے بارے میں بادشاہ کا خیال تھا کہ یہ اس وقت خطرے کا منہ کھول دے گا جب پینڈورا اس جار کو اور آج کے باکس کو کھول دے گی گویا دیوتاؤں کا بادشاہ ڈرتا تھا کہ یہ عورت ایک دن سارے عذاب کو انسان پر مسلط کر دے گی بادشاہ اس بات پر بھی پچھتایا تھا کہ اس نے پینڈورا سے کہہ دیا تھا کہ کسی صورت بھی اس جار یا باکس کو نہ کھولے انسان کی نافرمانی کا آغاز اس دیو مالائی تاریخ کے مطابق اس وقت ہوا جب پینڈورا نے اپنے جار کو کھول دیا گویا اس نے بدی کا برائی کا اور عذاب کا منہ کھول دیا

    آج کل کے تیزی سے بدلتے حالات میں بچوں کی اچھی پرورش والدین کی اہم اور بڑی ذمہ داری


    اس نافرمانی کو آدم و حوا سے متوازی کہانی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے عام خیال یوں کیا جاتا ہے حضرت حوا نے حضرت آدم کو اس درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کیا جس سے اللہ نے دونوں کو منع کیا تھا اصل بات یہ نہیں تھی اس طرح کہنے والے عورت کو انسان کے جملہ مسائل کا ذمہ قرار دے کر اس کی مذمت کرتے ہیں یہ شیطان تھا جس نے آدم اور حوا کو اس درخت کا پھل کھانے کی ترغیب دی جس کے کھانے سے دونوں کے ستر ایک دوسرے پر کھل گئے اور سزا کے طور پر ان کو حکم دیا گیا کہ وہ زمین پر اتر جائیں جب ساری خوبیاں دیویوں نے پینڈورا کو دے دیں تو بادشاہ زی اس کا پھر بھی خیال تھا کہ اس کے پاس کوئی خوبی نہیں ہے چنانچہ اسے ایک جار دے کر کہا گیا کہ اسے کھولنا نہیں ہے گویا عورت امتحان میں ڈال دی گئی اسے تجسس اور ٹوہ لگانے کی خوبیاں دے کر کہا گیا کہ اب ٹوہ نہیں لگانی ہے اس جار میں کیا ہے بادشاہ ڈرتا رہا کہ وہ اس جار کو کھوکے گی اس جار میں کیا تھا اس میں بدی اور بُرائی تھی گویا بدی اور بُرائی جب بھی کُھلے گی تو عورت کے ہاتھوں سے ہی کُھلے گی اور عام ہوگی مرد کو سزا دینے کے لئے عورت کی تخلیق کی گئی مرد تو پہلے ہی کسی خوبی کے لائق نہ تھا ساری خوبیاں اس کی تخلیق سے پہلے جانور لے اُڑے تھے گویا مرد ناکارہ تھا اور عورت اس کے ناکارہ پن کی سزا تھی اس طرح سے دونوں کسی بھی قابل نہ تھے کہ دیوتاؤں کو للکار بھی سکتے اس مرد اور عورت نے زمین کو بُرائی سے بھر دیا بدی کو عام کر دیا اب کوئی نہیں جانتا تھا کہ پینڈورا باکس میں کیا تھا جب اس باکس کو کھولا جائے گا تو کیا برآمد ہوگا ?

    تحریک پاکستان میں مسلم خواتین کا کردار بہادری اور جذبہ آج کی عورتوں کے لیے مثالی نمونہ


    پینڈورا باکس کی کہانی اس زبان کے ظہور سے پہلے کی کہانی ہے لیکن جدید زبان نے پینڈورا کو مرنے نہیں دیا اب بھی پینڈورا سے مراد عذاب ہے الجھن ہے پریشانی اور مصیبت ہے ہر کوئی ڈرتا ہے کہ یوں نہ کرو پینڈورا ناجس کھل جائے گا اگر کھُل گیا تو ایسا نہ کیجیے گا ویسا نہ کیجیے گا ہم اس بات سے ڈرتے ہیں جس کے بارے میں جانتے ہی نہیں کہ وہ بات کیا ہے پینڈورا باکس کا تعلق جاننے یا نہ جاننے سے ہے اس کا تعلق کھولنے سے ہے اسی دیومالائی روایت کو مان لیا جائے تو عورت کی زبان کے کُھلنے سے سب ڈرتے ہیں کوگ روایتاً بھی کہہ ڈالتے ہیں کہ میری زبان نہ کُھلواؤ تو بہتر ہے گویا ان کا کہنا دراصل یا دلانا ہے کہ مخاطب کو ڈرنا چاہئے کہ یہ زبان کُھلے گی تو بہت سے راز کُھلیں گے اس دیومالائی روایت کے مطابق پینڈورا نے ایک دن دیکھا زی اس نے اس کی نگرانی پر ایپی میتیھیس کو مقرر کر رکھا تھا وہ کہیں چلا گیا ہے اور اسے دیکھ نہیں رہا

    ماں اور بچے کا صحت مند ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ بچے کی پیدائش


    وہ اس جار یا باکس پر چڑھ گئی اس نے اوپر بڑی الماری میں سے اس کی کنجی چوری کر لی اسے جار کے تالے کے سوراخ میں گھمایا لیکن اسے فوری طور پر شدید جھٹکا لگا اسے احساس جرم کی شدت نے آن گھیرا اس نے تصور میں دیکھا کہ ایپی میتھیس غصے سے خونخوار ہو رہا ہے بس پھر کیا تھا اس نے فوراًہی چابی دوسرے سمت میں گھمائی اور اس جار یا باکس کو کھولے بغیر پھر بند کر دیا کنجی وہیں رکھ دی جہاں سے اُٹھائی تھی اس نے تین بار اسی طرح سے جار کھولنا چاہا اور ایپی میتھیس کے ڈر سے اسے بند کر دیا اسے خیال آتا کہ وہ اندر جھانک لے گی تو پاگل ہو جائے گی پھر ایک دن اس نے پاگل پن کے خوف کو ختم کر دیا چابی نکالی اسے گھمایا آنکھیں بند کیں اور ڈھکن کھول دیا اس نے اس خیال سے آنکھیں کھول دیں کہ اندر سے ریشم و کم خواب برآمد ہوں گے ان میں خوبصورت رزق و برق لباس اور زیورات بھی ہوں گے جھمکے اور خوبصورت گلوبند اور ہار ملیں گےسونے کے سکے اور چوڑیاں ہوں گی لیکن وہاں نہ ریشم تھا نہ سونا چاندی نہ وہاں چمکتے دمکتے زیورات تھے اور نہ طلائی کنگن ہی اسے مل سکے

    ّکس انسان کے متعلق حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ وہ خداکا دشمن ہے


    پھر اچانک اس کے چہرے کا خوش گوار تحیر خوفناک تاثرات میں بدلتا گیا مایوسی اور خوف نے اسے آن گھیرا اس جار یا باکس کو دیوتاؤں کے بادشاہ زی اس نے کرب و اذیت سے بھر رکھا تھا اس میں عذاب اور قہر ناک درد تھا بیماری غربت اور غلامی تھی برائی اور صرف مجسم برائی تھی پینڈورا باکس کُھل گیا تھا تباہی باہر اُمڈی پڑی تھی اور وہ پہلی عورت پینڈورا اس کا براہ راست نشانہ تھی موت کی اب حکمرانی تھی اداسی اور بے حد اداسی تھی اس میں سے ہر شے خوفناک کیڑے مکوڑوں کی صورت میں رینگتی ہوئی باہر نکل رہی تھی ان کیڑے مکوڑوں اور حشرات نے پینڈورا کے جسم پر قبضہ کر لیا وہ اس سے چمٹ ھئے اس کے خوبصورت وجود کا حصہ بنتے گئے اس نے گھبراہٹ خوف اور پہریشانی میں ڈھکن بند کر دیا ایپی میتھیس نے اس کی چیخیں سن کر اندر کی طرف بھاگا تاکہ پینڈورا کو دیکھے کہ وہ کیوں چیخ و پکار کر رہی ہے

    جوڑوں کے درد سے نجات کیسے پائیں?


    پینڈورا باکس کے اندر سے ایک آواز اس وقت بھی آرہی تھی اور درخواست کر رہی تھی کہ ہمیں باہر آنے دو ہمیں بھی آزادی چاہیئے ایپی نے یہ دیکھا تو کہا باکس میں تو کچھ بھی نہیں تھا وہ تو سب کا سب اندر کا خوف تھا دہشت کا وہ منظر تھا جو اس انسان کے اندر ہوتا ہے باہر تو کچھ بھی نہیں تھا وہ تو سب کا سب آزاد ہو چکا انسان کا اندر خالی ہو جائے تو باہر کیا رہ جاتا ہے یہ کہہ کراس نے ڈھکن دوبارہ سے کھول دیا اب اس باکس میں کیا رہ گیا تھا کہنے والے کہتے ہیں کہ امید زندہ تھی وہ اب بھی اندر تھی جو ایک خوبصورت ڈریگن فلائی بن کے باہر نکل آئی برائی اور جرم نے پینڈورا کے جسم پر جس قدر زخم لگائے تھے اسے قدر کچوکے لگائے تھے انھیں بھر رہی تھی انھیں مندمل کرنے میں لگ گئی تھی اور پینڈورا کو دکھ اور تکلیف سے نجات مل رہی تھی لیکن جو زخم آئے تھے انھیں بھرنے میں مدد درکار تھی امید زندہ تھی اور پینڈورا کے باکس سے نکلنے واحد اچھائی تھی

    وضو کے حیران کن فوائد اور سائنس


    یہ ساری کہانی افسانوی ہے لیکن اس افسانے میں کتنی بڑی حقیقت پوشیدہ ہے اس کا ہمیں اس وقت احساس ہوتا ہے جب ہمارے اندر سے حبس باطن اُمڈتا اُمڈتا سارے معاشرے کو زخمی کرتا جاتا ہے ہمیں احساس نہیں ہوتا ہمارے اپنے اندر کے مسائل کھوکھلے ہوتے جانے سے انجان رہتے ہیں ہمیں یہ خیال بھی نہیں رہتا کہ ہم کب پینڈورا کا رُوپ دھار لیتے ہیں دوسروں کے عیب تلاش کرتے ہیں اپنے تجسس کو اس کی جائزہ حدود اور درست سمت سے محرام کرتے جاتے ہیں ہم دوسروں کے لئے باکس بن جاتے ہیں پھر کوئی دن آتا ہے کہ کوئی ہمارے لئے باکس بن جاتا ہے ہمارے سامنے روزانہ کئی پینڈورا باکس کھلتے ہیں لیکن ہن دوسروں کو ان کے کھولنے کا مجرم قرار دیتے ہیں

    ایسا گاوں جہاں صرف عورتیں ہی رہتی ہیں


    ہمارے لئے اور بھی راستے ہوتے ہیں کئی راستے ہمیں معلوم بھی ہوتے ہیں ہم کحھلے راستوں کو اکثر یہ کہہ کر بھی چھوڑ جاتے ہیں یہ طویل ہیں مختصر نہیں پینڈورا باکس کھلنے سے سب ڈرتے ہیں ہمارے ہاں بہت سے باکس ہیں جن کے کُھلنے سے پینڈورا کا کردار سامنے آ سکتا ہے جس کسی اشرفیہ رُکن کا معاملہ سامنے آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ بس ہمیں رہنے دیں ورنہ پینڈورا باکس کھل جائے گا درست کہتے ہیں یہ باکس کھلے گا تو قوم کو دکھ تکلیف اور غم کے تجربے سہنا ہوں گے پھر کیا ہونا چاہئے اب کرداروں کو باکس میں بند کر کے انصاف قانون اور اقدار کے ایوانوں کی بلند و بالا الماریوں میں رکھ دیا جائے ان کلی کُنجیاں بہت اوپر رکھ دی جائیں باہر ایپی میتھیس بیٹھا دیئے جائیں وہ پہرا دیتے رہیں کہ کوئی کنجیاں نہ لے سکے

    بچوں کی تربیت کیسے کی جائے?


    ایسا کب تک ممکن ہے جن تک پینڈورا زندہ ہے تجسس اور طلب زندگی ہے کہ اسن بلند الماریوں کے قفل کھلنے کی نگاہ منتظر ہے ان الماریوں میں جا بجا باکس پڑے ہیں ان پر ہم سب کے نام لکھے ہیں اشرافیہ کے کام ان میں بند پڑے ہیں پینڈورا میں بے پناہ دکھ تکا لیف غربت غلامی بے آبروئی چاپلوسی چالاکی کے کیڑے رینگ رہے ہیں اس کا باکس کھلنے کی دیر ہے یہ سب باہر آجائیں گے لیکن جب یہ باہر آ جائیں گے تو آخر میں امید زندہ ہو جائے گی ان سے نجات کی امید زخموں اور آہوں سے نجات کی امید آئے یہ پینڈورا باکس کھول ہی دیں کم از کم ہماری آنے والی نسلوں کو تو امید مل سکے گی یہی پینڈورا باکس تھا جسے آج کل ہر سیاست دان کھولتا ہے اور اخبارون میں پڑھنے کو ملتا ہے کہ فلاں سیاست دان نے پینڈورا باکس کھول دیا

  • خون میں کولیسٹرول۔لیول کیسے کم کر سکتے ہیں?

    خون میں کولیسٹرول۔لیول کیسے کم کر سکتے ہیں?

    خون میں کولیسٹرول۔لیول کم کرنے کی آسان تراکیب:
    کولیسٹرول کی۔خون میں زیادتی خطرناک تو ہوتی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ خون کی۔شریانوں میں کلوٹ یا پلاک بن کر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ طرز زندگی میں مثبت تبدیلی اور کھانے پینے میں اعتدال کر کے نہ صرف اس پر قابو پایا جا سکتاہے بلکہ نارمل۔زندگی گزاری جا سکتی ہے خون میں کولیسٹرول کی۔زیادتی کی ایک۔وجہ موٹاپا بھی ہے جتنا وزن زیادہ ہوگا اتنا ہی کولیسٹرول بڑھنے گا امکان زیادہ ہو گا ایک اندازے کے مطابق ہر ایک کلو گرام زیادہ وزن کے لیے جسم کو تقریباً بائیس ملی گرام زیادہ کولیسٹرول روزانہ پیدا کرنا پڑتا ہے یعنی اگرکسی کا وزن نارمل وزن سے بیس کلو زیادہ ہے تو اس کا جسم روزانہ چار سو چالیس ملی گرام۔زیادہ کولیسٹرول بنائے گا کولیسٹرول کم کرنے کے لیے سب سے پہلے موٹاپے کو کنٹرول کیا جائے کولیسٹرول کی زیادتی والی غذا ست مکمل پرہیز کرنا چاہیے زیادہ چکنائی والی اور تمام مرغن غذاوں سے مکمل پرہیز کیا جائے کولیسٹرول صرف جانوروں سے حاصل کی جانے والی خوراکوں میں پایا جاتا ہے اچھی صحت کے لیے ایک دن میں ایک شخص کو سو ملی گرام سے زیادہ کولیسٹرول نہیں کھانا چاہیے انڈوں کا استعمال بند کر دیں یا صرف انڈوں کی سفیدی لیں گوشت کا استعمال کم کریں
    https://login.baaghitv.com/beetroot-give-protection-from-cancer-and-alzayemer/
    چربی والا گوشت بالکل استعمال نہ کریں کریم مکھن چیز کریم والے دودھ دیسی گھی گردے کلیجی نہاری مغز بالائی اور سری پائے وغیرہ سے پرہیز کریں سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں مختلف تازہ سبزیاں اور پھل بہترین غذا ہیں اس لیے سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے کیونکہ سبزیوں اور پھلوں میں کولیسٹرول بالکل نہیں ہوتا سبزیاں کھانے سے انسان۔صحت مند اور سمارٹ رہتا ہے اس لیے تندرست سمارٹ اور چاق و چوبند رہنے کے لیے زیادہ زیادہ پھل۔اور سبزیاں استعمال کریں کھانے میں سادہ سلاداور ریشے والی سبزیاں زیادہ شامل کریں مختلف تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ روزانہ ناشتے میں لہسن اور کچی گاجروں کا استعمال کولیسٹرول کم۔کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے روزانہ کچی گاجریں کھانے سے معدہ بھی ٹھیک رہتا ہے بھوک بھی زیادہ نہیں لگتی اور کولیسٹرول کی مقدار بھی ٹھیک رہتی ہےخون میں کولیسٹرول اور چربی یعنی ٹرائیڈ گلیسٹرائیڈ کی مقدار کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ غذا میں زیادہ چکنائی کی مقدار بالکل ختم کر دی جائے ہر قسم کے گھی اور مکھن سے مکمل پرہیز کیا جائے پورے جسم کو چربی کی ضرورت بہت کم ہوتی ہے اگر جسم میں چربی کی۔مقدار پہلے ہی زیادہ ہو تو اس کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی اس لیے ضروری ہے کہ کھانے میں چکنائی کی مقدار بالکل۔کم کر دیں
    https://login.baaghitv.com/magical-benefits-of-cucumber/
    چکنائی کا استعمال کرنے کے لیے ہرقسم کی چکنائی والی اشیاء کھانا بند کر دیں صرف غیر سیرشدہ تیل مثلاً مکئی کا تیل سویا بین کا تیل اور مونگ پھلی کا تیل استعمال کریں زیتون کا تیل بہت فائدہ مند ہے اس کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے کے لیے بہت مفید ہے عرب ممالک میں زیادہ لوگ اسے استعمال کرتے ہیں اسی وجہ سے ان علاقوں میں ہارٹ اٹیک بہت کم ہوتے ہیں کولیسٹرول کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بازارطسے کھانے نہ کھائے جائیں اس کے علاوہ مختلف قسم کی کولڈ ڈرنکس کافی اور کیفین والے دوسرے مشروبات لینے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے مختلف قسم کی۔غذا کو اس کی اصلی حالت میں استعمال کرنا چاہیے چھان کے بغیر آٹا استعمال کرنا بھی مفید ہے اس کے علاوہ ریشے دار غذائیں کھانے سے بھی فائدہ ہوتا ہے خوراک میں ریشے کی مقدار کولیسٹرول اور چربی کو خون میں جذب ہونے سے روکتی ہے اس طرح خون میں کولیسٹرول کا لیول مناسب حد تک رہتا ہے سگریٹ نوشی بھی ایک طرح سے کولیسٹرول لیول زیادہ کرنے کا سبب بنتی ہے کیونکہ سگریٹ نوشی خون میں شامل ہو کر ایچ ڈی ایل کو کم۔کرنے کا سبب بنتی ہے خون میں شامل۔ایچ ڈی ایل اصل میں خون میں کولیسٹرول کم کرنے کا سبب بنتا ہے اس لیے اس کی موجودگی ضروری ہے اس وجہ سے سگریٹ نوشی سے پرہیز بہت ضروری ہے

    نبی پاک کا فرمان’جس گھر میں سرکہ ہو وہ کبھی محتاج نہیں ہوتا’سرکے کے حیران کن فوائد


    سگریٹ نوشی کی طرح شراب نوشی بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ خون میں موجود الکوحل خون سے چکنائی دور کرنے کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے خون میں چکنائی اور کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ کولیسٹرول کم کرنے کے لیے غذائی احتیاطوں کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی اور شراب نوشی سے بھی پرہیز کیا جائے ایک تحقیق کے مطابق صرف غذا میں مباسب تبدیلی کر کے دو سے تین ماہ کے اندر تقریباً پچاس سے ساٹھ ملی گرام کولیسٹرول کم کیا۔جا سکتا ہے اس کے علاوہ خوراک میں جو کاآٹا پھلیاں کریم نکلی ہوئی دہی کا استعمال بھی فائدہ مند ہے روزانہ صبح لہسن کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے میں۔مدد دیتا ہے روزانہ ایک گاجر کا استعمال بھی انتہائی مفید ہے کولیسٹرول لیول کم۔کرنے کے لیے ضروری ہے کہ طرز زندگی میں بھی تبدیلی کی جائے مستقل مزاجی کے ساتھ کھانے میں تبدیلی اور اس کے ساتھ مثبت سوچ بھی کولیسٹرول کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے اللہ پر پورا یقین رکھیں مثبت سوچ اپنائیں مثبت سوچ اور کامل یقین کے ساتھ آپ ہر قسم کے مسائل۔پر قابو پا سکتے ہیں ذہنی انتشار دماغی الجھنوں سے بچنے کی کوشش کی جائے روحانی بالیدگی کے لیے پانچ وقت کی نماز کہ پابندی کی۔جائے

    ہلدی کے نایاب فائدے


    خون میں کولیسٹرول کی۔زیادتی کوئی بڑا مسئلہ نہیں اس کو کم کرنے کا حل آپ کے پاس ہے ادویات اور ڈاکٹر سے زیادہ اس کو آپ نے خود کنٹرول کرنا ہے طرز زندگی میں تبدیلی لا کر مثبت سوچ اپنا کر سادہ۔غذا استعمال کر کے آ پ خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھنے سے روکنے کے علاوہ دوسری بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں کھانا صرف زندہ رہنے کے لیے کھایا جاتا ہے نہ کہ صرف کھانے کے لیے زندہ رہا جاتا ہے موٹاپا کولیسٹرول کی وجہ بنتا ہے اور بھی بہت سی بیماریوں کا۔سبب بن سکتا ہے اس لیے کھانا ہمیشہ کم کھایا جائے خاص کر رات کو سونے سے پہلے تو بہت ہی ہلکا پھلکا کھانا کھا لیا جائے تاکہ معدہ اور نظام انہضام اور دوسرے افعال پر خومخواہ بوجھ نہ پڑے

    بڑھتی عمر کی غذائی ضروریات


    اس سلسلے میں آپؐ نے فرمایا کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کر کھائیں جب بھی کھانا کھائیں تو پیٹ کےتین حصے کر لیں ایک کھانے کے لیے ایک ہوا کے لیے اور ایک پانی کے لیے اس حساب سے کھانا کھائیں گے تو موٹاپا بھی نہیں ہو گا اور کولیسٹرول بھی نہیں بڑھے گا اور دوسری بیماریاں بھی نہیں ہوں گی روزانہ ورزش کو معمول بنا لیں ورزش انسان کو صحت مند اور توانا رکھتی ہے ورزش کسی بھی قسم کی ہو اگر یہ باقاعدگی کے ساتھ کی جائے تو موٹاپا کم۔کرنے کے ساتھ ساتھ آدمی کو صحت مند رکھنے کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتی ہے اور اس سے یقینی طور پر کولیسٹرول کی مقدار بھی کم ہو سکتی ہے ذیا بیطس بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک کا چولی۔دامن کا۔ساتھ ہے اگر ان بیماریوں کا۔علاج نہ کروایا جائےتو دل کے دورے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ان کے علاوہ اگر آپ کو کسی۔قسم کی۔بیماری ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ڈاکٹر کے مشورے سے اس کا مکمل علاج کریں

  • چیز نان بنانے کی ترکیب

    چیز نان بنانے کی ترکیب

    چیز نان
    اجزاء:
    میدہ ڈیڑھ کپ
    انڈا آدھا
    خمیر ایک کپ
    چینی آدھا کھانے کا چمچ
    نمک پاو چائے کا چمچ
    خشک دودھ ایک کھانے کا چمچ
    پگھلا ہوا گھی آدھا کپ
    چیڈر چیز آدھا کپ
    ہرا دھنیا ایک کھانے کا چمچ

    ترکیب:
    ایک باؤل میں میدہ چینی نمک خمیر انڈا اور خشک دودھ ڈال کر نیم گرم پانی سے آہستہ آہستہ گوندھ کر نرم ڈو بنا لیں اور ایک گھنٹے کے لیے رکھ دیں تا کہ ڈو پھول جائے اور ڈبل ہو جائے پھر اس کے تین سے چار پیڑے بنا کر سوسر کے سائز کا پھیلا دیں پھر مکس کی ہوئی چیٍر چیز اور ہرا دھنیا بھر کر دوبارہ پیڑا بنا لیں اسے کواٹر پلیٹ کے سائز کا بیلیں اور گریس کی ہوئی اوون ٹرے میں رکھ کر 190 سینٹی گریڈ پر 12 سے 14 منٹ پر بیک کر لیں پھر نکال کر گھی سے برش کر لیں اور فوراً سرو کریں

  • چھوٹے گھروں کو سجانا ہوا آسان

    چھوٹے گھروں کو سجانا ہوا آسان

    چھوٹے گھروں کو سجانا ہوا آسان
    بڑے گھروں کی نسبت چھوٹے گھروں اور فلیٹس کو سجانا خواتین کے لیے قدرے مشکل امر ہے وہ فیصلہ نہیں کر پاتیں کہ کس قسم کے فرنیچر سے گھر کو سجایا جائے تاکہ وہ کھلا کھلا اور ہوادار محسوس ہو جدید طرز تعمیر میں سٹوڈیو اپارٹمنٹس کی جمالیاتی کشش متاثر کن ہو سکتی ہے یہاں اگر آپ کو کم مکانیت کا سامنا کرنا پڑے تو گھبرائیے مت اور چھوٹے حجم کا فرنیچر رکھیں راڈ آئرن یا سٹیل کےریک میں کرسٹل فنشنگ کی جا سکتی ہے راڈ آئرن کے صوفہ سیٹس کھانے کے میز کرسیاں اور بستر ہر چیز دستیاب ہے اگر آپ کے پاس لکڑی کا شاندار بیڈ سیٹ موجود ہو تو بس چار چھ برس بعد اس پر پالش کروالیا کریں یہ نیا کا نیا دکھائی دے گا بار بار فرنیچر بدلنا گھریلو معشیت ہر بوجھ بنتا ہے پالش کے شیڈ فیشن کے بدلتے ہوئے رحجان کو دیکھ کر منتخب کیے جا سکتے ہیں گرمیوں میں سبز اور نیلے رنگ کے پردے یا بیڈ شیٹس آنکھوں کو ٹھنڈا تاثر دیں گے اس موسم میں سیاہ گہرا کتھئی یا نیوی بلیو آنکھوں کو بھلا نہیں لگتا لیکن اگر چھوٹے بچوں والا گھر ہو تو خواتین کو رنگوں کے انتخاب پر کسی حد تک سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے

    روشنی جذب کرنے والی جیکٹ


    آج کل تختے نما بیڈ سیٹس بھی فرنیچر مارکیٹ میں دیکھے جا سکتے ہیں یہ بلند قامت مسہریوں کی طرح نہیں ہوتے اور شاندار دکھائی دیتے ہیں اگر آپ ایل ای ڈی بلبس ہر کمرے میں نہیں لگانا چاہتے تو صرف بیڈ کے دونوں جانب ٹیبل لیمپس میں زرد بلب لگوائیے تاہم دودھیا یا سفید روشنی کمرے کے درجہ حرارت کو معتدل رکھتی ہے جبکہ پڑھنے کے لیے زرد بلب اچھے لگتے ہیں اس لیے کمروں میں روزشنیوں کا امتزاج ہو تو زیادہ بہتر رہتا ہے آپ اپنی ضرورت کے حساب سے کمرہ روشن کریں اور مرضی کے ماحول میں کام کریں دو رنگوں میں رنگے کمروں کی دیواریں بھی جمالیاتی حسن میں اضافہ کرتی ہیں ایک دیوار پر وال پیپر بھی چسپاں کیا جا سکتا ہے یا ایک دیوار برکس کے فطری آہنگ سے بنوائی جائے تو بھی کمرے میں جاذبیت آ جاتی ہے دیوار کی تعمیر ازسر نو ممکن نہ ہو تو توصرف وال پیپر سے بھی یہ مقصد حل کیا جا سکتا ہے اگر آپ پینٹ ہاوس میں رہائش اختیار کر رہی ہیں تو اشیاء کی بھر مار بھی نہ کیجیے لیمینیڈ فرش آرام دہ سادہ سے پلنگ کے ساتھ روشنی کا معقول انتظام آپ کہ تھکان دور کرنے کے لیے بہترین ہے کچھ لوگ گھروں کی آرائش میں تجریدی مصوروں کی دیواری آرائش کے لیے پسند کرتے ہیں کچھ کو فن خطاطی میں روحانیت کا رمز متاثر کرتا ہے اور کچھ پرنٹس ہی لگا لیتے ہیں اب دوکانوں پر قدیم عماراتی نقوش کے ساتھ آئینے بھی دستیاب ہیں اور جدید تراش خراش کے سرج کی۔شباہت کے لیے ڈیکوریشن مرر بھی دستیاب ہیں یہ آپ کہ صوابدید پر ہے کہ آپ کس طرح کی آرائش سے تسکین محسوس کرتی ہیں

  • مقبول غذاوں اور مشروبات کی زیادہ مقدار بھی جان لیوا ہو سکتی ہے

    مقبول غذاوں اور مشروبات کی زیادہ مقدار بھی جان لیوا ہو سکتی ہے

    مقبول غذاوں اور مشروبات کی زیادہ مقدار بھی جان لیوا ہو سکتی ہے
    زیادتی ہر چیز کی بُری ہوتی ہے چاہے وہ آپ کی پسندیدہ خوراک ہی کیوں نہ ہو فیس بک پر ایک ویڈیو میں انکشاف کیا گیا کہ مبول ترین غذائیں اور مشروبات بھی آپ کہ جان لے سکتے ہیں اگر آپ نے ان کو ایک ہی وقت میں زیادہ استعمال کر لیا اور اگر آپ بچ بھی گئے تو آپ کی طبعیت بہت زیادہ خراب ہو سکتی ہے آپ کے جسم میں وٹامن سی کی حد سے زیادہ مقدار پہنچانے کے لیے آپ کو بیک وقت اگرچہ گیارہ سو سنگترے کھانے کی ضرورت ہو گی لیکن چھالیے کی طرح کے ایک مسالے جائفل اور الکحل کی کم مقدار بھی آپ کے جسم کو زہر آلود بنانے کے لیے کافی ہو سکتی ہے فیس بک پر ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ آپ ایک۔وقت میں چار سو اسی کیلے کھا جائیں تو ان میں موجود پو ٹاشئیم کی اتنی مقدار جسم میں پہنچ جائے گی جس سے آپ کی زندگی خطرے سے دو چار ہو سکتی ہے اسی طرح آپ بہت زیادہ پانی پی لیں تو اس سے بھی موت واقع ہو سکتی ہے لیکن اس کے لیے آپ کو بہت مختصر وقت میں چھ لٹر پانی پینا ہو گا تاہم کچھ دیگر غذائیں اور مشروبات بھی ہیں جن کی بہت کم مقدار سے جسم۔پر زہریلے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں مثلاً ایک مسالہ جائفل ہے جسکا ایک جزو مائیریسٹئیم کہلاتا ہے یہ ذہن یا نفس پراثر انداز ہونے والامادہ ہے جس کی۔زیادتی سے جسم پرلرزہ طاری ہو سکتا ہے دھڑکن بہت تیز ہو سکتی ہے اور طبیعیت نڈھال ہونے کے بعد موت بھی واقع ہو سکتی ہے یہ ساری کیفیات جائفل کی دوچائے کے چمچ کے مقدارسفوف پھانکنے سے سامنے آ سکتی ہیں

    جاپانی پھل کے بے شمار طبی فوائد


    بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ۔سبز رنگت والے آلو نہیں کھانے چاہئیں اور اسی طرح اس رنگ کے آلو سے تیار چپس سے بھی پرہیز کرنا چاہئیے لیکن اگر آپ ان سے اس کی وجہ پوچھیں تو شاید انھیں معلوم نہ ہو آلو کی۔رنگت سبز اس وقت ہوتی ہے جب اس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے اور آلو کے چھلکے کا سبز رنگ دراصل کلوروفل کی۔موجودگی ظاہر کرتا ہے جو زہریلا نہیں ہوتا لیکن اس رنگ سے یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ اس آلو میں زہریلا مادہ سو لانائن بھی موجود ہے جو انسانوں کو بیمار بلکہ ہلاک بھی کر سکتا ہے اگر آپ ایک سبز آلو کھا لیں تو اس سےبھی آپ کے جسم کو نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن اگر سبز رنگ کے پچیس آلو آپ کے کھانے میں آگئے تو یہ موت کا پیغام بن سکتے ہیں اگر آپ نے چیری کھاتے ہوئے غلطی سے اس کا بیج بھی نگل لیا ہے تو بہت زیادہ پریشان نہ ہوں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس بیج میں سریع الاثر زہر سائنائڈ کی بھی بہت خفیف مقدار ہوتی ہے اگر آپ چیری کے بیج کو دانتوں سے کچل کر اس کے ایک یا دو بیج بالکل پسی ہوئی حالت میں نگل لیں تو یہ صورت حال مہلک ہو سکتی ہے فیس پر یہ ویڈیو سائنسی تحقیق اور شواہد کی۔بنیاد پر تیار کی گئی ہے

    کچی لہسن اور پیاز کا استعمال بریسٹ کینسر سے بچاؤ کے لئے انتہائی مفید


    مقبول غذاوں اوت مشروبات کی ہلاکت خیز مقدار
    بائیس چائے کے چمچ کی مقدار پسی ہوئی سیاہ مرچ
    گیارہ۔سو سنگترے پچیس سبز آلو چھ لیٹر پانی
    ستر کلو گرام وزنی شخص اگر ایک وقت میں ستر کپ کافی پی جائے
    چار سو اسی کیلے بیک وقت کھانا
    اگر ایک سو پچاس پونڈ وزنی شخص ساڑھے دس کپ شکر ایک وقت میں پھانک لیں
    اڑتالیس چائے کے چمچ سیزننگ
    الکحل کے تیرہ شاٹس
    پچاسی فل سائز کے چاکلیٹ بارز
    چیری کے ایک یا دو پسے ہوئے بیج کھا لے

  • مُہلک کانگو وائرس علامات اور احتیاطی تدابیر

    مُہلک کانگو وائرس علامات اور احتیاطی تدابیر

    مُہلک کانگو وائرس علامات اور احتیاطی تدابیر
    کانگو کریمئین فیور یا کانگو وائرس فیور زیادہ تر افریقی ممالک اور جنوبی امریکہ میں پایا جاتا ہے لیکن اب دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی پہنچ چکا ہے کانگو وائرس جنگلی مکھی یا جانوروں پر پلنے والے چیچڑ کے ذریعے پھیلتا ہے یہ زیادہ تر بھیڑ بکری گائے بھینس یا دوسرے مویشیوں سے ایک سے دوسرے میں تیزی سے منتقل ہوتا ہے اسے چھوت کا مرض بھی کہا جاتا ہے کیونکہ متاثرہ جانور کو چھونے یا ہاتھ لگانے سے چیچڑ کے ذریعے یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہو تا ہے یا ان کی استعمال کی گئی چیزوں سے بھی منتقل۔ہوتا ہے وائرس والے چیچڑ جانوروں کو کاٹے تو اسے کانگو وائرس منتقل ہوتا ہی اور اگرانسانوں کو براہراست کاٹ لے توبھی وائرس منتقل۔ہو جاتا ہے اسلام آباد انٹر نیشنل۔انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے وبائی امراض کی۔نگرانی کے شعبے نے کریمئین کانگو ہیمرجک فیور سی سی ایچ ایف سے بچاو اور اس پر قابو پانے کے سلسلے میں ہدایات جاری کیں اس مشاورتی مراسلے کے مطابق یہ مخصوص نوعیت کا بخار جس میں جریان خون مریض کی موت کا سبب بنتا ہے پسو یا چیچڑی کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جس میں بنیاوائریڈیا فیملی کء نائرو وائرس موجود ہوتے ہیں انتہائی سنگین صورت میں ہلاکت کی شرح سو فیصد سے چالیس فیصد ہو سکتی ہے

    ایگزیما کا آسان اور مفید گھریلو علاج


    مخصوص ہیلوما جنس کے پسواس قسم کے وائرس کو اپنے اندر ذخیرہ بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے میں منتقل بھی کرتے ہیں مختلف اقسام کے جنگلی جانور اور مویشی اس وائرس کے خاموش کیرئر ہوتے ہیں یعنی ان میں یہ وائرس ہوتے ہیں لیکن علامتیں واضح نہیں ہوتیں جبکہ بالغ پسو یا چیچڑی ان جانوروں کا خون چوس کر زندہ رہتی ہیں بلوچستان سی سی ایچ ایف سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ قرار دیا جاتا ہے لیکن پاکستان کے مختلف علاقوں سے اس بیماری کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں 2016ء کے دوران سی سی ایچ ایف کے ایک سو ایک مصدقہ کیسز سامنے آئے تھے جن میں تینتیس افراد کی۔موت واقع ہوئی تھی 2017ء میں اکتالیس متاثرہ کیسز سامنے آئے تھے جن میں سولہ بلوچستان پندرہ پنجاب سات خیبر پختونخواہ اور تین کا تعلق فاٹا سے بتایا جاتا ہے 16اگست 2017ء کو خیبر ایجنسی فاٹا سے اس بیماری میں مبتلا ہو کر ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع آئی تھی جو تازہ ترین تھی انسانوں کو اس بیماری سےبچانے والی کوئی ویکسین اب تک نہیں بنائی جا سکی ہے اس انفیکشن کے واقعات کم کرنے کی واحد صورت یہی ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے کانگووائرس ہیمرجک بخار اس پسو یا چیچڑی کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جس نے متاثرہ مویشی گائے بکرا بکری اونٹ بھیڑ اور دنبہ سے چپک کر اس کا خون چوسا ہو اس کے علاوہ یہ وائرس متاثرہ مویشی ذبح کرنے کے دوران یا بعد میں اس کے خون یا گوشت کو ہاتھ لگانے سے یا متاثرہ شخص کے خون سیال مادہ یا عضو یا جسم کے کسی بھی حصے سے نکلنے والے موادسے بھی منتقل ہو سکتا ہے متاثرہ مویشی کا گوشت بناتے اور دھوتے ہوئے دستانوں کا استعمال ضرور کریں متاثرہ مویشی کا گوشت کھایا جا سکتا ہے مگر خوب تیز آنچ پر اچھی طرح پکانے کے بعد ہی

    موسم سرما کی آمد آمد نزلے سے بچاؤ کے فطری طریقے


    کانگو وائرس سے کس کو خطرہ ہو سکتا ہے؟
    سب سے زیادہ کانگو وائرس کا خطرہ چرواہوں قصائی متاثری شخص کی قربت کوئی بھی شخص جس نے مویشی کو چھوا ہو اور مویشی کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کو ہو سکتا ہے
    کانگو وائرس سے کیسے بچا جائے؟
    مویشی کو خریدتے ہوئے یا اس کی دیکھ بھا ل کرتے ہوئے پوری آستینوں کے لباس دستانے آگے سے بند کپڑے اور جوتے موزوں کے ساتھ پہنیں دافع حشرات اودیات جس میں ڈِیٹ شامل ہو جسم کے کھلے حصوں پر لگائیں گھر آکر فوراً اپنے جسم کا معائنہ کریں کہ اس پر کوئی پسو موجود تو نہیں ذبح کرتے ہوئے اپنے منہ اور ناک کو ماسک سے ڈھانپ کر رکھیں جانور ذبح کرتے ہوئے دستانوں کا استعمال کریں دستانے اتارتے ہی فوری طور پر ہاتھ دھوئیں اگر آپ کے ہاتھوں اعر دستانوں پر خون لگا ہے تو پھر آپ اپنی آنکھوں اور ناک کو مت رگڑیں اور نہ چھوئیں اپنے ہاتھوں کو صابن پانی اور سپرٹ سے دھوئیں جانوروں کی کھال کو پلاسٹک کی شیٹ سے ڈھانپ کر علیحدہ رکھیں خون یا پانی کو سڑک پر نہ بہائیں متاثرہ شخص کو چھونے سے گریز کریں جانوروں کی صفائی کا خیال۔رکھیں ان کے جسم کو دھوئیں اور چیچڑوں سے محفوظ رکھیں باڑے کو بھی صاف رکھیں اور سپرے کریں

    شریفہ کے طبی فوائد


    پسو یا چیچڑیوں کو کیسے ہٹائیں؟
    چیچڑی کو چمٹی کپڑے یا ٹشو کی مدد سے جلد کے بہت قریب رکھتےہوئے پکڑیں چیچڑی کی کاٹی ہوئی جگہ اور ہاتھوں کو اچھی طرح صابن اور پانی سے دھوئیں کاٹی ہوئی جگہ پر جراثیم کش دوا لگائیں چیچڑی کو خالی ہاتھوں سے نہ چھوئیں اسے کچلنے کی کوشش نہ کریں یا ماچس سے نہ جلائیں
    علامات:
    وائرس کا۔جسم میں۔داخل۔ہونے کے پانچ چھ دن بعد فلو کی طرح کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں جیسا کہ ہلکا بخار جسم درد سر درد قے متلی نقاہت کی علامات پانچ سے سات دن رہتی ہیں بھوک ختم ہو جاتی ہے قے متلی لگاتار رہنے سے شدید کمزوری ہونے لگتی ہے مریض کے جسم۔پر چھوٹے چھوٹے سرخ دانے نکل آتے ہیں منہ میں چھالے نکل آتے ہیں مسوڑھوں سے خون آنے لگتا ہے ایک دو روز بعد جلد کے نیچے خون جمنے لگتا ہے ناک سے بھی خون بہنے لگتا ہے مریض کے جسم میں پلیٹلٹس کی شدید کمی ہو جاتی ہے جس کے باعث حالت بگڑتی چلی جاتی ہے مریض کے جسم میں جگنا زیادہ ہیمرج ہو گا اتنا ہی موت کا خطرہ بڑھ جائے گا

    پیٹ کم کرنے کی آسان اور آزمودہ ترکیب


    ڈاکٹر کے پاس کب جائیں؟
    اچانک بخار تیز ہونے کی صورت میں پٹھوں یا کمر یا سر میں درد ہونے کی صورت میں قے ہونے کی صورت میں جسم پرشدید نیل پڑنے اور ناک سے خون بہنے کی صورت میں ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں کیونکہ یہ سارک سی سی ایچ ایف کی علامات ہو سکتی ہیں چیچڑیوں کے کاٹنے کے بعد علامات ایک سے تین دن میں ظاہر ہوں گی متاثرہ جانور یا انسان کے خون سے متاثر ہونے کی صورت میں علامات پانچ سے سات دن میں ظاہر ہوں گی

  • مہندی سے الرجی ہونے کی وجوہات اور علاج

    مہندی سے الرجی ہونے کی وجوہات اور علاج

    مہندی سے الرجی ہونے کی وجوہات اور علاج
    عام طور پر حنا یا مہندی کسی نقصان یا الرجی کا باعث نہیں بنتی اور یہ وقتی طور پر بالوں کو نارنجی یا سرخی مائل رنگ میں رنگ دیتی ہے بازار میں ملنے والی مہندی جس سے بال سیاہ رنگ میں رنگے جا سکتے ہیں اور جسے کالی مہندی بھی کہا جا سکتا ہے قدرتی مہندی نہیں ہو تی قدرتی حنا ایک خاص پودے سینا ایٹالیکا کے پتوں سے بنائی جاتی ہے جبکہ کالی مہندی بنانے میں انڈیگو کے علاوہ کئی کیمیکل اور ڈائی استعمال کیے جاتے ہیں جن کا ذکر ڈبے میں دی گئی ترکیب میں بھی نہیں کیا جاتا زیادہ الرجی کالی مہندی میں موجود کسی کیمیکل کی وجہ سے ہوتی ہے اس الرجی کو ڈرماٹائٹیز الرجک کونٹیکٹ کہا جاتا ہے جلد پر اس کی نوعیت شدید صورت اختیار کر سکتی ہے ابتدا میں ان کو استعمال کرنے سے کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آتا مگر آہستہ آہستہ یہ آپ کی قوت مدافعت کو کمزور بنا دیتی ہے اور پھر یہ مسئلہ اچانک ابھر کر سامنے آتا ہے عام طور پر ڈاکٹر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے یہی مشورہ۔دیتے ہیں کہ مہندی کا استعمال فوری طور پر روک دیا جائے الرجی اسکن ری ایکشن کے لیے مختلف اوورل اور الرجی پر سکن پر لگانے کے لیے ادویات تجویز کی جاتی ہیں الرجی کے شدید ردعمل کی صورت میں مریض کو ہسپتال بھی داخل پڑنا سکتاہے

  • اعصابی تناو کم کرنے والی اسمارٹ شرٹ

    اعصابی تناو کم کرنے والی اسمارٹ شرٹ

    اعصابی تناو کم کرنے والی اسمارٹ شرٹ
    اسپین کی ایک فیشن کمپنی نے الٹیمیٹ اسمارٹ شرٹ 3.0 کے نام سے ایسی ذہین قمیض بنائی ہے جس کے بارے میں کمپنی کا۔دعوی ہے کہ یہ اعصابی تناو کم کرتی ہے رگوں میں خون کا بہاو بہتربناتی ہے اور اپنے پہننے والے کی جسمانی توانائی میں بھی اضافہ کرتی ہے سیپیا بام کی یہ کمپنی کئی سال سے ذہین قمیض تیار کر رہی ہے جبکہ نئی اسمارٹ شرٹ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے اسی وجہ سے اس کے نام میں 3.0 موجود ہے اس کے دو علیحدہ علیحدہ ڈیزائن ہیں ایک مردوں کے لیے اور دوسرا خواتین کے لیے ہے اسمارٹ شرٹ کے صحت بخش فوائد کے بارے میں کمپنی کہتی ہے کہ یہ شرٹ اپنے پہننے والے کی جلد میں۔تیزابیت کے علاوہ خون میں یورک ایسڈ کی۔مقدار کو بھی قابو میں رکھتی ہے جو اگر زیادہ ہو جائے تو پٹھوں اور ہڈیوں میں درد کی وجہ بنتا ہے ان تمام خصوصیات کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ اسے پہننے والے کا اعصابی تناو اور تھکن دونوں کم ہوں گے اور اس کی صحت بہتر رہے گی

    شیشہ بتائے گا اب حسین چمکدار اور نرم و ملائم جلد کے راز


    اسمارٹ شرٹ میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو اس سے پہلے والی اسمارٹ شرٹس میں تھیں مثلاً اس میں کالر اور آستینوں پر میل کچیل جمع نہیں ہوتا اور ہوا کا گزر بہتر ہوتا ہے جس کی۔وجہ سے پہننے والے کو پسینہ کم۔آتا ہے جبکہ پسینے کی بدبو بھی بہت کم پیدا ہوتی ہے اگر شدید گرمی میں بہت زیادہ پسینہ آجائے تو تب بھی اس پر پسینے کے دھبے نمودار نہیں ہوتے ان سب کے علاوہ نئی اسمارٹ شرٹ میں پہننے والے کی صحت بہتر رکھنے کے لیے بایو سیرامک نینو پارٹیکلز بھی اس کے دھاگے میں شامل کر دئیے گئے ہیں جن کی بدولت یہ ویسی ہی مفید فار انفرا ریڈ ریز پیدا کر سکتی ہے جیسی سورج سے خارج ہوتی ہیں نہ نظر آنے والی ان لہروں کی گرمی رگوں میں خون کے بہاو سے لے کر میٹا بولزم تک ہر چیز میں افاقہ ہوتا ہے دوسری جانب یہ شرٹ ان خطرناک الٹراوائلٹ شعاعوں کو بھی روک لیتی ہے جو کئی قسم کے کینسر کی وجہ بن سکتی ہے اتنی ساری خوبیوں کے باوجود یہ شرٹ بہت کم خرچ ہے جسے کمپنی کی ویب سائٹ سے براہِ راست صرف اٹھانوے ڈالر جو تقریباً سولہ ہزار پاکستانی روپے بنتے ہیں میں خریدا جا سکتا ہے اس شرٹ میں مختلف خصوصیات مثلاً جلد کی تیزابیت اور خون میں یورک۔ایسڈ جس کی زیادہ مقدات پٹھوں اور ہڈیوں میں درد کی وجہ بنتا ہے کی مقدار میں کمی کرنے کے علاوہ اعصابی تناو اور تھکن دور کرنے کی خصوصیات رکھتی ہے

  • پیار کرنے والا لووٹ روبوٹ

    پیار کرنے والا لووٹ روبوٹ

    پیار کرنے والا لووٹ روبوٹ
    جدید زمانے میں۔لوگ جانوروں کی۔بجائے روبوٹ پالنا شروع ہو گئے ہیں ایسا ہی محبت کرنے والا ایک روبوٹ تیار کیا گیا ہے جس کا نام لووٹ ہے جاپانی کمپنی گرووایکس نے اس روبوٹ کو اپنی آبادی کے لیے ہی تیار کیا ہے جہاں پالتو روبوٹ دنیا بھر میں سب سے زیادہ خریدے جاتے ہیں لووٹ کا آپ کو ہر حال میں خوش رکھنا چاہتا ہے اس کی بڑی بڑی کارٹون جیسی آنکھیں ہر زاویے پر گھومتی رہتی ہیں اس پر دبیز نرم۔کپڑا پہنایا گیا ہے جو آپ کو ایک زندہ وجود کا احساس دیتا ہے کمپنی کے مطابق یہ مالکان سے محبت مانگتا ہے اور دن میں کئی بار اپنے ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے کہ اسے گود میں اٹھایا جائے اسی وجہ سے یہ کئی افراد کے دلوں کو موم کر سکا ہے اگر آپ گھر میں جائی۔ تو یہ اپنے پہیوں پت دوڑتا دوڑتا آپ کے پیچھے آتا ہے اگر اسے گود میں لے کت پھسلایا جائے تو تھوڑی دیر میں نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہے لووٹ کچھ اس طرح بنایاگیا ہے کہ یہ زندہ وجود لگتا ہے اسے گدگدی کی جائے تو یہ ہنستا ہے اور کبھی کبھی ڈانس بھی کرتا ہے یہی خواص اسے دیگر سے ممتاز کر کے اسے لووٹ بناتے ہیں لیکن اس کے لیے ٹیکنالوجی کے اعلی ترین پہلووں کو استعمال کیا گیا ہے مثلاً اس کی۔جلد کے نیچے سینسر لگے ہیں تاہم۔لووٹ اتنا سستا نہیں اس کی۔موجودہ قیمت ۵۵٠٠ڈالز ہیں جو پاکستانی کرنسی میں کم و بیش آٹھ لاکھ پچیس ہزار روپے بنتی ہے

  • ہُد ہُد کی خوبی

    ہُد ہُد کی خوبی

    ہُدہُد کی خوبی
    حضرت سلیمان کی بادشاہت کا اعلان ج اس زمین پر ہوا تو درندوں چرندوں کے ساتھ پرندے بھی اطاعت کے لیے بارگاہ عالی میں حاظر ہوئے انہوں نے حضرت سلیمانؑ کو زبان داں اور محرم راز پایا تو جان و دل سے آپؑ ہر فدا ہو گئے اپنی چوں چوں ترک کی اور پیغمبر خدا کی صحبت اختیار کی چند ہی دنوں کے اندر اندر سب پرندے بنی آدم۔سے زیادہ فصیح و بلیغ زبان میں باتیں کرنے لگے حضرت سلیمانؑ کے دربار میں کیا چرند کیا پرند سبھی حکمت و دانائی کی باتیں کرتے یہ اصل میں اپنی خلقت کا ا ظہار تھا غرور یا شیخی کا اس میں دخل نہ تھا اور ان باتوں کا مقصد یہ بھی تھا کہ پیغمبر خدا کو تعلیم و ہدایت کی۔تبلیغ کرنے میں کچھ مدد ملے ایک دن دربار لگا ہوا تھا اور معمول کے مطابق حاظرین دربار اپنی اپنی بولیاں بول رہے تھے علم حکمت اور دانائی کی۔نہریں جاری تھیں اس روز پرندے اپنی صفات اور ہنر بیان کر رہے تھے آخر میں ہد ہد کی باری آئی اس نے کہا اے علم حکمت کے بادشاہ مجھ میں ایک خوبی سب سے ادنی ہے صرف وہی عرض کرنے کی۔جسارت کرتا ہوں کہ داناوں نے کہا ہے مختصر کلام ہی سود مند ہوتا ہے حضرت سلیمان نے فرمایا وہ کون سی ادنی خوبی تیری ذات میں ہے؟ ہد ہد نے ادب سےعرض کیا وہ خوبی یہ ہے کہ جب میں بے پناہ بلندیوں پر پرواز کرتا ہوں تو پانی اگر زمین کی گہرائیوں میں بھی ہو تو مجھے نظر آ جاتا ہے میں یہ بھی جان لیتا ہوں۔کہ اس پانی کی خاصیت کیا ہے کتنی گہرائی میں ہے اس کا رنگ کیا ہے زمین سے نکل رہا ہے یا پتھر سے رِس رہا ہے

    چراغ کی روشنی اوراجنبی شخص


    اے پیغمبر تو مجھے اپنے لشکر جرار کے ساتھ لے کر چل تاکہ پانی کی ضرورت پڑے تو میں نشاندہی کروں حضرت سلیمانؑ نے ہد ہد کی اس خاصیت کی بہت تعریف و توصیف فرمائی اعر اجازت عطا ہوئی کہ بے آب و گیاہ صحراوں میں سفر کے دوران تو ہمارے ہر اول کے ساتھ رہا کر تاکہ پانی کا۔کھوج لگاتا رہے اُدھر بری عادات والے کوے نے جب سنا کہ ہد ہد کو ہر اول میں۔شریک رہنے کا اعزاز حضرت سلیمانؑ کی۔جانب سے عطا ہوا ہے تو مارے حسد کے سیاہ پڑ گیا انگاروں پر لوٹنے لگا فوراً پیغمبر خدا کے سامنے آ کر کہا اس ہد ہد نے آپؐ کے حضور سخت گستاخی کی ہے اور قطعی جھوٹا دعوی کیا ہے اسے اس جھوٹ اور غلط بیانی کی سزا دی جائے اس سے ہوچھئے کہ اگر تیری نظر ایسی تیزی نظر ایسی تیز ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے پانی کی خبر لاتی ہے تو پھر ذرا اسی خاک میں چھپا ہوا وہ پھندا کیوں نہیں دکھائی دیتا جو شکاری تجھے پھانسنے کے لیے لگاتا ہے ایسا ہی ہنر رکھتا ہے تو گرفتار کیوں ہوتا ہے آسمان کی بے پناہ بلندیوں سے وہ جال کیوں نہیں دیکھ لیتا؟

    نقلی انڈوں کی پہچان کیسے کی جائے؟


    کوے کی یہ بات سن کر حضرت سلیمانؑ نے ہدہد سے کہا اے ہدہد کوے نے جو بات کہی وہ تو نے سنی اب اس کا جواب تیرے ذمے ہے اہنے دعوے کی صداقت کا ثبوت پیش کرو ورنہ سزا کے لیے تیار ہو جاو ہدہد نے بے خوف ہو کر عرض کیا اے بادشاہ ناراض مت ہوئیےاور بدنیت دشمن نے حسد سے جل بھن کر میرے خلاف جو بات کی ہے اس پر دھیان نہ دیجیے اب رہا یہ سوال کہ مجھے وہ مُٹھی بھر خاک میں چھپا ہوا پھندا کیوں نظر نہیں آتا تو اس بارے میں کیا عرض کروں اگر حق تعالی کی حکمت و مرضی میری عقل کی۔روشنی نہ بجھائے تو میں یقیناً پرواز کے دوران وہ حقیر پھندا بھی دیکھ لوں لیکن جب فرمانِ قضا و قدر جاری ہو اور میرا وقت آجائے تو نگاہ کی۔خوبی کیا کرے ایسے موقع پر عقل کام نہیں کرتی چاند سیاہ ہو جاتا ہے اورسورج گہن میں آجاتا ہے میری عقل اور بسارت میں یہ طاقت کہاں کہ فرمانِ۔خداوندی کا مقابلہ کر سکے اے عزیز اسی طرح جب قوموں اور افراد پر عذابِ الہی ان کے بد اعمالوں کے سبب نازل ہوتا ہےتو ان کی عقل اور بینائی سلب کر لی جاتی ہے (حکایت مولانا رومی )