Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: خاتون پر وحشیانہ تشدد، زیورات و موبائل لوٹ لیا گیا، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

    اوچ شریف: خاتون پر وحشیانہ تشدد، زیورات و موبائل لوٹ لیا گیا، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان)موضع اوچ گیلانی میں ایک المناک واقعہ پیش آیا جہاں مسلح افراد نے ایک گھریلو خاتون شبانہ بی بی زوجہ محمد طارق پر بہیمانہ تشدد کرتے ہوئے اس کے طلائی زیورات اور قیمتی موبائل فون لوٹ لیا، بعدازاں خاتون اور اس کے شوہر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر فرار ہو گئے۔

    متاثرہ خاتون نے تھانہ اوچ شریف میں دی گئی درخواست میں بتایا کہ محمد بلال نامی شخص کافی عرصے سے اسے ہراساں کر رہا تھا۔ شوہر محمد طارق کی جانب سے بلال کو روکنے پر اس نے ساتھیوں امیر بخش، احمد یار، اقبال اور دیگر کے ہمراہ شبانہ بی بی کے گھر پر حملہ کیا۔ ملزمان زبردستی گھر میں گھسے، خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا، اس کی انگلی سے طلائی انگوٹھی اتاری، قیمتی موبائل چھینا، اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

    واقعے کے دوران شوہر محمد طارق جب بیوی کی چیخ و پکار سن کر پہنچے تو انہیں بھی ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں سے شدید زد و کوب کیا گیا۔ اطلاع پر تھانہ اوچ شریف پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ نمبر 379/25 درج کر لیا جس میں دفعات 148، 149، 354، 337ف، 506، 457، اور 379 ت پ شامل کی گئی ہیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔

    متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب، آر پی او بہاولپور اور ڈی پی او بہاولپور سے اپیل کی ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے، لوٹا گیا سامان واپس دلوایا جائے اور ان کے خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شدید خوف میں زندگی گزار رہے ہیں اور انصاف کے بغیر ان کی سلامتی خطرے میں ہے۔

    علاقہ مکینوں نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری اور سخت ایکشن لیں تاکہ آئندہ کسی کو ایسی جرأت نہ ہو۔ پولیس نے عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔

  • یزمان: ٹی وی کا سوئچ لگاتے ہوئے 12 سالہ بچی کرنٹ سے جاں بحق

    یزمان: ٹی وی کا سوئچ لگاتے ہوئے 12 سالہ بچی کرنٹ سے جاں بحق

    بہاولپور (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) تحصیل یزمان کے نواحی گاؤں 47/ڈی بی چک کُد والا میں افسوسناک واقعہ، 12 سالہ بچی رمشہ کرنٹ لگنے سے زندگی کی بازی ہار گئی۔ بچی گھر میں ٹی وی کا سوئچ لگانے کی کوشش کر رہی تھی کہ اچانک زور دار کرنٹ لگنے سے زمین پر گر گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب رمشہ تنہا کمرے میں سوئچ بورڈ کے قریب کھڑی تھی۔ کرنٹ لگنے کے فوراً بعد ایک مقامی فرد، جو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہے، نے فوری طور پر سی پی آر (Cardiopulmonary Resuscitation) دے کر بچی کی جان بچانے کی کوشش کی۔ اسی دوران ریسکیو 1122 کو اطلاع دی گئی، جو کچھ ہی دیر میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق بچی کو فوری طبی امداد کے ساتھ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال یزمان منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔ ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جب بچی کو اٹھایا گیا تو اس کے وائیٹل سائنز موجود نہیں تھے، تاہم راستے میں بھی سی پی آر جاری رکھی گئی۔

    اس دلخراش واقعے کے بعد گاؤں کی فضا سوگوار ہو گئی۔ بچی کی ناگہانی موت پر اہلِ خانہ اور اہلِ علاقہ شدت غم سے نڈھال ہیں اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ معصوم رمشہ کی رحلت نے پورے علاقے کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے، جب کہ مقامی افراد نے حادثے کی وجہ ممکنہ ناقص وائرنگ یا بجلی کے انتظامات میں کوتاہی کو قرار دیا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گھریلو بجلی کی تنصیبات کی فوری جانچ اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے دل دہلا دینے والے سانحات سے بچا جا سکے۔

  • اوچ شریف: بہاول نہر میں 20 فٹ چوڑا شگاف، سینکڑوں ایکڑ فصلیں زیر آب، گھروں میں پانی داخل

    اوچ شریف: بہاول نہر میں 20 فٹ چوڑا شگاف، سینکڑوں ایکڑ فصلیں زیر آب، گھروں میں پانی داخل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے بستی جھبیل اور موضع دائم والا کے قریب بہاول نہر میں 20 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے زبردست تباہی پھیل گئی۔ سینکڑوں ایکڑ پر محیط زرعی زمین زیرِ آب آ گئی، جب کہ نہری پانی کئی گھروں میں بھی داخل ہو گیا، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ متاثرہ کسانوں اور رہائشیوں نے محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ کی غفلت کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے مکمل تباہی کا ذمہ دار قرار دیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق شگاف رات تین بجے پڑا اور مقامی افراد نے فوری طور پر حکام کو اطلاع دی، مگر کئی گھنٹوں تک کوئی اہلکار موقع پر نہ پہنچا۔ کسان محمد رمضان نے بتایا کہ "ہم نے پوری رات فون کیے، لیکن کسی نے ہماری فریاد نہ سنی۔ اگر بروقت کارروائی ہوتی تو ہماری فصلیں بچائی جا سکتی تھیں۔” متاثرہ علاقوں میں کپاس، گنا اور دھان کی لاکھوں روپے مالیت کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ گھروں میں پانی داخل ہونے سے مال مویشی اور گھریلو سامان بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    مکینوں کا کہنا ہے کہ محکمہ آبپاشی کے پاس نہ کوئی پیشگی ہنگامی منصوبہ تھا، نہ ہی موقع پر موجودگی نظر آئی۔ ایک محکمہ ایریگیشن کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "مرمتی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں، لیکن تیز بہاؤ کام میں رکاوٹ بن رہا ہے۔” تاہم، مقامی افراد کے مطابق یہ اقدامات بہت تاخیر سے کیے گئے ہیں اور اب ان کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔

    اہل علاقہ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کو فوری امداد فراہم کی جائے اور محکمانہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کا تدارک ممکن ہو۔ اس سانحے نے احمد پور شرقیہ میں ایریگیشن نظام کی کمزوریوں اور انتظامیہ کی لاپروائی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

  • پنجاب: سرکاری ہسپتالوں میں باہر کی دوا لکھنے پر پابندی، پہلا شوکاز نوٹس جاری

    پنجاب: سرکاری ہسپتالوں میں باہر کی دوا لکھنے پر پابندی، پہلا شوکاز نوٹس جاری

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مریضوں کو ہسپتال کے باہر سے دوا خریدنے پر مجبور نہ کریں۔ اس سلسلے میں احمد پور شرقیہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد فیصل کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 5 جولائی 2025 کو شام 6:30 بجے ہسپتال کے اچانک دورے کے دوران معلوم ہوا کہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک مریض کو سیرپ "ٹرول” تجویز کیا، جو اہسپتال میں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مریض کو بازار سے خریدنا پڑا۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت پنجاب کی واضح ہدایات کے مطابق ڈاکٹروں کو باہر کی ادویات تجویز کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

    نوٹس میں مذکور ہے کہ یہ عمل نہ صرف غفلت کا مظہر ہے بلکہ محکمانہ قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔ متعلقہ میڈیکل آفیسر کو تین دن کے اندر وضاحت طلب کی گئی ہے، بصورت دیگر ان کے خلاف باقاعدہ محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق یہ پہلا شوکاز نوٹس منظر عام پر آیا ہے اور آئندہ بھی اگر کسی ڈاکٹر نے باہر کی دوا تجویز کی تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • اوچ شریف: یوم عاشورہ کا پُرامن انعقاد، انتظامیہ کو خراجِ تحسین

    اوچ شریف: یوم عاشورہ کا پُرامن انعقاد، انتظامیہ کو خراجِ تحسین

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) یوم عاشورہ کا پُرامن انعقاد، انتظامیہ کی مثالی کارکردگی پر خراجِ تحسین،شیخ ناصر سلیم کی میزبانی میں تقریب، اداروں اور شہریوں کے مثالی تعاون کو سراہا گیا

    یوم عاشورہ کے موقع پر اوچ شریف میں امن و امان، نظم و ضبط اور ہم آہنگی کی قابلِ تحسین مثال قائم ہوئی، جس پر ضلعی و تحصیل انتظامیہ، پولیس، اور ریسکیو 1122 کی خدمات کو بھرپور سراہا گیا۔ اس سلسلے میں صدر چیمبر آف ایگریکلچر جنوبی پنجاب اور معروف سماجی رہنما شیخ ناصر سلیم کی رہائش گاہ پر ایک باوقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ضلعی انتظامیہ بہاولپور، کمشنر بہاولپور ، ڈپٹی کمشنر بہاولپور ،ارپی او بہاولپور ڈی پی او بہاولپور سمیت تحصیل احمد پور شرقیہ کی انتظامیہ، مقامی پولیس اوچ شریف اور ریسکیو 1122 کے افسران اور دیگر معززین شریک ہوئے۔

    تقریب کا مقصد عاشورہ جیسے حساس دن کے پُرامن اور منظم انعقاد پر تمام متعلقہ اداروں کی انتھک کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ اپنے خطاب میں شیخ ناصر سلیم نے کہا کہ "انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو سروسز نے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا بلکہ عوام کے ساتھ قریبی تعاون سے اتحاد، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا، جو پورے خطے کے لیے قابلِ فخر مثال ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی اداروں کی لگن اور عوامی شعور کے باہمی اشتراک کا ثمر ہے، جس نے اوچ شریف کو امن، بھائی چارے اور اعتماد کی علامت بنا دیا ہے۔ شیخ ناصر سلیم نے ان تمام اداروں کو عوام کا سچا خادم قرار دیتے ہوئے ان کی شب و روز محنت پر دلی خراجِ تحسین پیش کیا۔

    تقریب میں شریک افسران نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے شہریوں کے تعاون کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ عوامی خدمت، سیکیورٹی، اور امن کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔

    تقریب کا اختتام ملک کی ترقی، امن، استحکام اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔ یہ تقریب اوچ شریف میں اداروں اور عوام کے درمیان مضبوط تعلق اور باہمی اعتماد کی روشن علامت بن کر سامنے آئی۔

  • احمد پور شرقیہ: وین آتشزدگی میں ایک اور طالبہ جاں بحق، اموات کی تعداد 3 ہوگئی

    احمد پور شرقیہ: وین آتشزدگی میں ایک اور طالبہ جاں بحق، اموات کی تعداد 3 ہوگئی

    اوچ شریف (نامہ نگار، حبیب خان)احمد پور شرقیہ میں پانچ روز قبل پیش آنے والے طالبات کی وین آتشزدگی کے المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والی طالبات کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ نشتر ہسپتال ملتان میں زیر علاج 20 سالہ طالبہ ماریا بنت محمد اسلم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج دم توڑ گئی۔ اس سے قبل دو طالبات، منازہ عرف طیبہ عباس اور اجالا بنت سلیم بھی جان کی بازی ہار چکی ہیں۔

    یہ افسوسناک حادثہ پانچ روز قبل احمد پور شرقیہ ٹول پلازہ کے قریب اس وقت پیش آیا جب نجی کالج کی 19 طالبات امتحان دینے کے بعد احمد پور شرقیہ سے لیاقت پور واپس جا رہی تھیں۔ طالبات سے بھری ہائی ایس وین میں نصب ناقص ایل پی جی سلنڈر اچانک لیک ہونے کے بعد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری وین شعلوں کی لپیٹ میں آ گئی۔ دھماکے اور آگ کے باعث موقع پر ہی ایک طالبہ جاں بحق ہو گئی تھی جبکہ دیگر 10 طالبات بری طرح جھلس گئی تھیں، جن میں سے دو مزید دوران علاج دم توڑ چکی ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے بعد وین سے بلند ہوتے شعلے دور سے نظر آ رہے تھے، طالبات مدد کے لیے چیختی چلاتی رہیں لیکن خوفناک آگ نے اُنہیں بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ قریبی شہریوں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔ امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور جھلسنے والی طالبات کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا۔ جن طالبات کی حالت تشویشناک تھی، اُنہیں نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیا گیا جہاں مزید دو طالبات جاں بحق ہو گئیں۔

    جھلسنے والی طالبات میں ثنا بنت اللہ دتہ، ثنا بنت رمضان، تانیا بنت محمد بخش، مشعل بنت ظفر، امِ حبیبہ بنت طاہر، عائشہ بنت الٰہی بخش، راحت بی بی بنت غلام مرتضیٰ سمیت دیگر طالبات شامل ہیں جن کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس نے تین نجی کالجز کی انتظامیہ، وین کے مالک اور ڈرائیور کے خلاف غفلت، لاپرواہی اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وین ڈرائیور سمیت دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ذمہ داران کی تلاش جاری ہے۔

    حادثے کے بعد علاقے کی فضا سوگوار ہے، جاں بحق طالبات کے گھروں میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے اور والدین شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ شہری حلقوں کی جانب سے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس حادثے کے ذمہ دار تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کسی ماں کی گود نہ اجڑے اور ایسے اندوہناک واقعات کا تدارک ممکن ہو سکے۔

  • اوچ شریف: جوس کارنر والانوجوان کرنٹ لگنے سے جاں بحق

    اوچ شریف: جوس کارنر والانوجوان کرنٹ لگنے سے جاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)وچ شریف شہر کی معروف جوس شاپ "شاکر جوس کارنر” کے مالک نوجوان محمد شاکر حسین افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ المناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ معمول کے مطابق اپنی دکان پر جوس تیار کر رہے تھے کہ اچانک بجلی کا کرنٹ لگ گیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اچانک پیش آیا اور وہاں موجود افراد نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔ امدادی ٹیم نے بروقت پہنچ کر ابتدائی طبی امداد (سی پی آر) فراہم کی اور زخمی نوجوان کو شدید نازک حالت میں مریم نواز شریف ہسپتال اوچ شریف منتقل کیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

    نوجوان کی ناگہانی موت کی خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، جس پر فضا سوگوار ہو گئی۔ علاقہ مکینوں اور کاروباری برادری نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    مرحوم محمد شاکر حسین کی نمازِ جنازہ دربار حضرت جمال درویش میں ادا کی گئی، جس میں سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات سمیت اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔

    واضح رہے کہ محمد شاکر حسین نہ صرف ایک محنتی کاروباری نوجوان تھے بلکہ اپنے اخلاق اور خوش اخلاقی کی وجہ سے عوام میں خاص مقبولیت رکھتے تھے۔ ان کی ناگہانی وفات نے شہر بھر کو غم کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

  • اوچ شریف: باکمال انجنیئرنگ اور بے مثال کرپشن، ایک ہی بارش میں سب کچھ بے نقاب

    اوچ شریف: باکمال انجنیئرنگ اور بے مثال کرپشن، ایک ہی بارش میں سب کچھ بے نقاب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف میں حال ہی میں تعمیر کی گئی سڑک پہلی ہی بارش میں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، جس پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ چوک بھٹہ روڈ موچی والی سولنگ تا کوٹلہ شیخاں تک نئی کارپٹ سڑک حالیہ بارشوں کے باعث جگہ جگہ سے بیٹھ گئی ہے، اور سڑک کناروں پر خطرناک گڑھے بن چکے ہیں۔

    مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر بننے والے گہرے کھڈے نہ صرف ٹریفک کی روانی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ حادثات کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ کئی موٹر سائیکل سوار اور گاڑیاں ان کھڈوں میں گر کر زخمی ہو چکے ہیں۔ عوام نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ ناقص تعمیرات ناقص میٹریل، کمیشن مافیا اور محکمہ ہائی وے کی غفلت کا نتیجہ ہیں۔

    شہریوں نے محکمہ ہائی وے کی غیر سنجیدگی اور سست روی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھڈوں کو پر کرنے کے لیے کوئی مستقل اور تکنیکی حل نہیں اپنایا جا رہا، جبکہ عملہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بارشوں کے بعد سڑک پر پانی کھڑا ہونے سے صورتحال مزید خطرناک ہو گئی ہے۔

    مقامی رہائشیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مرمت نہ کی گئی تو یہ سڑک جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام، منتخب نمائندگان اور محکمہ ہائی وے فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں، اور اس کی شفاف انکوائری کرا کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

  • اوچ شریف: سول ڈیفنس کی سرپرستی میں خیرپور ڈاہا روڈ پر پٹرول بم نصب

    اوچ شریف: سول ڈیفنس کی سرپرستی میں خیرپور ڈاہا روڈ پر پٹرول بم نصب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے خیرپور ڈاہا میں انسانی زندگیوں کو چند نوٹوں کے عوض داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ غیر قانونی منی پٹرول پمپ، ایرانی اسمگل شدہ تیل کی کھلے عام فروخت، ناقص حفاظتی انتظامات، اور محکمہ سول ڈیفنس و انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی نے پورے علاقے کو خطرناک بارودی سرنگ میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں ہر لمحہ تباہی کی بو محسوس کی جا سکتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق محکمہ سول ڈیفنس کے بعض افسران مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض خاموشی کی قیمت وصول کر رہے ہیں۔ بغیر لائسنس، بغیر حفاظتی اقدامات، اور بغیر تربیت کے درجنوں فیول ایجنسیاں پٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں مصروف ہیں۔ یہ تیل پلاسٹک کی بوتلوں، کھلے کینوں اور غیر معیاری برتنوں میں بیچا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف انسانی جانیں خطرے میں ہیں بلکہ پورے محلوں کو لمحوں میں راکھ میں تبدیل کرنے کا خدشہ موجود ہے۔

    ایرانی اسمگل شدہ تیل کے استعمال سے نہ صرف گاڑیوں کے انجن تباہ ہو رہے ہیں بلکہ عوام کو مہنگے داموں دھوکہ دہی سے تیل فروخت کیا جا رہا ہے۔ پیمانے میں کمی، معیار میں جعلسازی، اور قیمتوں میں من مانی معمول بن چکا ہے۔ اس کے باوجود پولیس، تحصیل انتظامیہ اور ضلعی افسران کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے:
    کیا یہ خاموشی کسی اندرونی گٹھ جوڑ یا کرپشن کی علامت ہے؟
    کیا ضلعی انتظامیہ اس موت کے کاروبار میں شریکِ جرم بن چکی ہے؟

    عوامی حلقے، سماجی کارکنان، اور تاجر برادری سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا رپورٹس، سوشل میڈیا ویڈیوز، اور بارہا شکایات کے باوجود اگر کوئی کاروائی نہ کی گئی تو کسی بڑے سانحے کی صورت میں مکمل ذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں پر عائد ہو گی۔

    مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری پنجاب، اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور فوری طور پر خیرپور ڈاہا میں غیر قانونی فیول ایجنسیوں، ایرانی تیل کی اسمگلنگ، اور محکمہ سول ڈیفنس میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف فیصلہ کن کریک ڈاؤن کریں۔ عوامی سلامتی کو مزید نظر انداز کرنا ایک مجرمانہ کوتاہی ہو گی جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

  • اوچ شریف: مستوئی روڈ پر اندوہناک حادثہ، موٹر سائیکل سوار جاں بحق

    اوچ شریف: مستوئی روڈ پر اندوہناک حادثہ، موٹر سائیکل سوار جاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگارحبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے مستوئی روڈ پر ایک افسوسناک اور غفلت پر مبنی حادثے میں 30 سالہ موٹر سائیکل سوار محمد ذیشان جاں بحق ہو گئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب سڑک کنارے کھڑی ایک ٹرالی سے لکڑیاں اتارنے کے لیے لوہے کی زنجیر (ٹوچین) سڑک پر باندھی گئی تھی، تاہم اندھیرے اور مناسب حفاظتی علامات کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ زنجیر نظر نہ آ سکی۔

    عینی شاہدین کے مطابق محمد ذیشان ولد عبدالقادر ایک مریض کو موٹر سائیکل پر اسپتال لے جا رہے تھے کہ تیز رفتاری کے باعث ان کی موٹر سائیکل مذکورہ زنجیر سے ٹکرا گئی، جس سے وہ سڑک پر جا گرے اور ان کے سر، گردن اور سینے پر شدید چوٹیں آئیں۔ موقع پر موجود افراد نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی، جنہوں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ابتدائی طبی امداد فراہم کی، OPA اور CPR کے ذریعے جان بچانے کی کوشش کی اور انہیں شدید زخمی حالت میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کیا، مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

    حادثے کے بعد علاقہ غم و اندوہ میں ڈوب گیا ہے جبکہ شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی افراد نے حادثے کی ذمہ داری غیر محفوظ انداز میں ٹرالی سے سامان اتارنے اور سڑک پر بغیر کسی وارننگ کے رکاوٹیں ڈالنے پر عائد کی ہے۔ عوام نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑکوں پر عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

    مرحوم محمد ذیشان کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے میں ادا کی جائے گی۔ ان کی ناگہانی موت پر ہر آنکھ اشکبار ہے، اور پورا علاقہ سوگوار ہے۔