Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: ایل پی جی کی غیرقانونی ری فلنگ اور ٹرانسپورٹ میں استعمال کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان

    اوچ شریف: ایل پی جی کی غیرقانونی ری فلنگ اور ٹرانسپورٹ میں استعمال کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار: حبیب خان)ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں ایل پی جی گیس کی غیرقانونی ری فلنگ اور پبلک ٹرانسپورٹ میں اس کے خطرناک استعمال کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کریک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اجلاس میں ڈسٹرکٹ امپلیمنٹیشن کمیٹی کے اراکین، سول ڈیفنس، محکمہ تعلیم، کالجز، موٹر وے، ٹریفک اور پٹرولنگ پولیس سمیت ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے افسران شریک ہوئے جبکہ تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

    ڈاکٹر فرحان فاروق نے کہا کہ غیرقانونی ری فلنگ نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ انسانی زندگیوں کے لیے مہلک خطرہ ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ایسی تمام دکانوں اور پوائنٹس کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے جو غیرقانونی طور پر ایل پی جی کی ڈی کینٹنگ میں ملوث ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے پبلک ٹرانسپورٹ میں ایل پی جی سلنڈر کے استعمال کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس حوالے سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ اجلاس میں تمام اداروں کو باہمی تعاون کے ساتھ فیلڈ میں جا کر کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

    ڈاکٹر فرحان فاروق نے کہا کہ عوامی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس مہم میں عوام کا تعاون بھی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اردگرد موجود غیرقانونی ری فلنگ پوائنٹس کی نشاندہی کریں تاکہ کسی بڑے حادثے سے پہلے اس خطرناک رجحان کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

  • اوچ شریف: 6 محرم الحرام کے جلوس و مجالس کا پُرامن انعقاد، فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    اوچ شریف: 6 محرم الحرام کے جلوس و مجالس کا پُرامن انعقاد، فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اور گردونواح میں 6 محرم الحرام کے موقع پر جلوس اور مجالس کا پُرامن انعقاد ہوا، جہاں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولپور احسن اقبال کی ہدایت پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا گیا۔ سیکیورٹی کے سخت اقدامات کے باعث تمام مذہبی سرگرمیاں بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے اختتام پذیر ہوئیں۔

    تفصیلات کے مطابق اوچ شریف میں 6 ماتمی جلوس برآمد ہوئے جبکہ 8 مجالس عزاء منعقد کی گئیں۔ جلوس حسن جہانیاں شاہ بخاری کے گھر سے برآمد ہوکر جامڑہ چوک پر پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔ امام بارگاہ مخدوم نوبہار سے نکلا جلوس دربار حضرت مخدوم جہانیاںؒ پر ختم ہوا۔ گیلانی امام بارگاہ، محلہ خواجگان اور نندے لعل دربار سے بھی جلوس برآمد ہوئے جو اپنے روایتی راستوں سے گزر کر پرامن انداز میں مکمل ہوئے۔

    جلوسوں کے دوران عزادارانِ امام حسینؑ نے نوحہ خوانی اور ماتم کیا، جبکہ ذاکرین نے واقعہ کربلا کی اہمیت اور شہادتِ امام حسینؑ پر روشنی ڈالی۔ شرکاء کے لیے جگہ جگہ سبیلیں اور لنگر لگائے گئے، جہاں پانی، شربت اور کھانے کی سہولیات فراہم کی گئیں۔

    سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی ڈی ایس پی احمدپور شرقیہ اور ایس ایچ او تھانہ اوچ شریف سجاد حسین سندھو نے خود کی۔ پولیس اہلکار جلوس کے تمام راستوں پر موجود رہے اور گشت کے ذریعے امن و امان کو یقینی بنایا۔

    جلوسوں کے پُرامن اختتام پر سجادہ نشین مخدوم سید زمرد حسین بخاری نے وطن عزیز کی سلامتی اور دفاعی اداروں کے استحکام کے لیے دعا کروائی۔ امام بارگاہ بستی سادات کوٹلہ رحمت شاہ کے لائسنسدار مخدوم سید زاہد حسین بخاری نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی او احسن اقبال اور ایس ایچ او سجاد حسین سندھو کو بہترین سیکیورٹی انتظامات پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

  • اوچ شریف: تھانہ میں ڈی پی او کی کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کی ہدایات

    اوچ شریف: تھانہ میں ڈی پی او کی کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کی ہدایات

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بہاولپور محمد حسن اقبال نے تھانہ اوچ شریف میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جس میں علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کھلی کچہری کا مقصد عوام کے مسائل براہ راست سننا اور ان کے فوری حل کو یقینی بنانا تھا۔

    یہ کچہری انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کے وژن "انصاف آپ کی دہلیز پر” کے تحت منعقد ہوئی۔ ڈی پی او نے شہریوں کی شکایات بغور سنیں اور موقع پر ہی متعلقہ افسران کو ان کے فوری حل کے احکامات جاری کیے۔ اس موقع پر ایس ایچ او تھانہ اوچ شریف، دیگر پولیس افسران اور معززین علاقہ بھی موجود تھے۔

    ڈی پی او محمد حسن اقبال نے کہا کہ تھانوں میں کھلی کچہریوں کا انعقاد پولیس کی اولین ترجیح ہے تاکہ عوامی مسائل کو موقع پر ہی حل کیا جا سکے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ تمام شکایات کا میرٹ پر ازالہ کیا جائے، کیونکہ یہی عوامی اعتماد کی بنیاد ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں سے پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوتے ہیں اور پولیس کو خدمت خلق کا حقیقی ادارہ بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ایس ایچ او کو ہدایت دی گئی کہ شہریوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور ان کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

    شرکاء نے ڈی پی او کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک اعلیٰ پولیس افسر کا براہ راست عوامی مسائل سننا خوش آئند ہے اور اس سے پولیس پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ شہریوں نے کھلی کچہری کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور اُمید ظاہر کی کہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔

    آخر میں ڈی پی او محمد حسن اقبال نے عوام کی بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا اور یقین دہانی کرائی کہ عوامی خدمت کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔

  • اوچ شریف:پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھتے ہی مہنگائی کا طوفان، عوام کا جینا محال

    اوچ شریف:پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھتے ہی مہنگائی کا طوفان، عوام کا جینا محال

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ملک بھر کی طرح اوچ شریف میں بھی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے نے روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت سے فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کی نئی قیمتوں کے مطابق پٹرول 8 روپے 36 پیسے اضافے کے بعد 266.79 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 10 روپے 39 پیسے بڑھا کر 272.98 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ قیمتوں میں اس اضافے نے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 15 سے 25 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ دیہی علاقوں سے شہر آنے والے مزدوروں پر پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آمدن کا بڑا حصہ صرف سفر پر خرچ ہو جاتا ہے، باقی رقم سے گھر کا گزارا ناممکن ہو گیا ہے۔

    ایندھن مہنگا ہونے کے بعد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی 10 سے 20 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک شہری خاتون نے شکوہ کرتے ہوئے کہا، "پہلے 300 روپے میں سبزی آ جاتی تھی، اب 500 میں بھی آدھی تھیلی ملتی ہے۔ بچوں کو پالیں یا بجلی کا بل دیں؟” انہوں نے بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے تحت 2.31 روپے فی یونٹ اضافے کو بھی ناقابل برداشت قرار دیا۔

    ایک محنت کش عبدالرزاق نے بتایا، "میری تنخواہ 25 ہزار ہے اور بجلی کا بل 8700 روپے آ گیا ہے۔ نہ کھانے کا راشن خرید سکتے ہیں، نہ بچوں کی فیس دے سکتے ہیں۔” زرعی شعبہ بھی شدید متاثر ہے۔ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ٹیوب ویل، ٹریکٹر اور دیگر زرعی مشینری کے اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں۔ مقامی زمینداروں کا کہنا ہے کہ فصل اگانا اب گھاٹے کا سودا بنتا جا رہا ہے، جس سے خوراک کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    ادھر چھوٹی صنعتیں، ورکشاپس، ویلڈنگ یونٹس اور دیگر کاروبار بجلی اور ایندھن کی مہنگائی کے باعث بند ہونے کے قریب ہیں۔ کئی مقامات پر مالکان نے ملازمین کو فارغ کر دیا ہے، جس سے بے روزگاری میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    اوچ شریف کے شہری اپنے منتخب ایم این اے اور ایم پی اے سے سخت نالاں ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ نمائندے اس مشکل وقت میں غائب ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے نرخوں پر فوری نظرثانی کی جائے اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، بصورتِ دیگر حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔

  • احمد پور شرقیہ: وین آتشزدگی, ایک اور طالبہ دم توڑ گئی، جاں بحق طالبات کی تعداد 2 ہوگئی

    احمد پور شرقیہ: وین آتشزدگی, ایک اور طالبہ دم توڑ گئی، جاں بحق طالبات کی تعداد 2 ہوگئی

    اوچ شریف(نامہ نگارحبیب خان)لیاقت پور سے احمد پور شرقیہ امتحان دینے کے بعد واپس جانے والی نجی کالج کی طالبات کی وین میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے میں زخمی ہونے والی ایک اور طالبہ اجالا بنت سلیم دم توڑ گئی، جس کے بعد جاں بحق طالبات کی تعداد دو ہو گئی ہے۔ اجالا کو شدید جھلسنے کے باعث نشتر اسپتال ملتان منتقل کیا گیا تھا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکی۔ اس سے قبل طالبہ طیبہ عباس موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی تھی، جن کی نمازِ جنازہ آبائی علاقے لیاقت پور میں ادا کر دی گئی۔

    پولیس ذرائع کے مطابق حادثے کے بعد فرار ہونے والے وین ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ وین مالک، تین نجی کالجوں کی انتظامیہ اور دیگر ذمہ داران کے خلاف اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ یکم جولائی کو احمد پور ٹول پلازہ کے قریب کالج وین میں نصب ایل پی جی سلنڈر میں اچانک لیکیج کے باعث دھماکہ ہوا، جس سے پوری وین آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ وین میں سوار 19 طالبات میں سے 10 جھلس گئیں۔ متاثرہ طالبات میں ثنا بنت اللہ دتہ، ثنا بنت رمضان، تانیا بنت محمد بخش، ماریا بنت محمد اسلم، مشعل بنت ظفر، امِ حبیبہ بنت طاہر، اجالا بنت سلیم، عائشہ بنت الٰہی بخش، راحت بی بی بنت غلام مرتضیٰ اور منازہ عرف طیبہ عباس شامل ہیں، جن کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق سلنڈر پھٹنے سے وین میں آگ بھڑک اٹھی اور طالبات چیختی چلاتی وین سے نکلنے کی کوشش کرتی رہیں، مگر خوفناک شعلوں نے کئی طالبات کو بری طرح جھلسا دیا۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے ریسکیو 1122 کو اطلاع دی، جس نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور زخمی طالبات کو اسپتال منتقل کیا۔

    ابتدائی طبی امداد کے بعد 10 زخمی طالبات کو ٹی ایچ کیو احمد پور منتقل کیا گیا، جہاں سے پانچ طالبات کو مزید علاج کے لیے بہاولپور وکٹوریہ اسپتال بھیجا گیا۔ تاہم برن یونٹ نہ ہونے کے باعث طالبات کو ملتان برن یونٹ منتقل کیا گیا، جہاں اُجالا نے دورانِ علاج دم توڑ دیا۔

    حادثہ نے ایک بار پھر اسکول وینز میں گیس سلنڈر کے استعمال اور متعلقہ اداروں کی غفلت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • احمد پور شرقیہ: ٹرین سے اترنے کی کوشش میں بزرگ شہری کی ٹانگ کٹ گئی،ہسپتال منتقل

    احمد پور شرقیہ: ٹرین سے اترنے کی کوشش میں بزرگ شہری کی ٹانگ کٹ گئی،ہسپتال منتقل

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) ڈیرہ نواب ریلوے اسٹیشن پر افسوسناک حادثہ پیش آیا جس میں ایک 60 سالہ بزرگ شہری ٹرین سے اترتے ہوئے زخمی ہو گیا۔ ریسکیو 1122 بہاولپور کے کنٹرول روم سے موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ صبح 4 بج کر 30 منٹ پر پیش آیا، جب لاہور سے کراچی جانے والی پاک بزنس ٹرین جیسے ہی ڈیرہ نواب اسٹیشن پر آہستہ ہوئی تو ایک مسافر اسلم شاہ ولد امام شاہ ٹرین سے اترنے کی کوشش کے دوران پھسل کر نیچے آ گیا۔

    حادثے کے نتیجے میں اسلم شاہ کی بائیں ٹانگ گھٹنے کے نیچے سے کٹ گئی۔ ریسکیو ٹیم (BPA-32) نے چھ منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ کر فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور زخمی کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

    زخمی کا تعلق موضع ٹبی تکوان، احمد پور شرقیہ سے ہے۔

  • احمدپورشرقیہ:امتحان دینے آنیوالی طالبات کی وین میں آگ لگ گئی، ایک طالبہ جاں بحق اور 10 زخمی

    احمدپورشرقیہ:امتحان دینے آنیوالی طالبات کی وین میں آگ لگ گئی، ایک طالبہ جاں بحق اور 10 زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ ٹول پلازہ کے قریب ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں طالبات سے بھری ہائی ایس وین میں ناقص ایل پی جی سلنڈر کے پھٹنے سے خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کے نتیجے میں ایک نوجوان طالبہ جاں بحق جبکہ 10 دیگر طالبات بری طرح جھلس گئیں اور زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، ہائی ایس وین میں سوار 19 طالبات لیاقت پور سے احمد پور شرقیہ میں امتحان دے کر واپس جا رہی تھیں۔ جیسے ہی گاڑی ٹول پلازہ کے قریب پہنچی، اچانک زور دار دھماکے سے سلنڈر پھٹ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں نے پوری وین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طالبات چیختی چلاتی باہر نکلنے کی کوشش کرتی رہیں، مگر خوفناک آگ نے کئی کو بری طرح جھلسا دیا۔ مقامی افراد نے فوراً امدادی کارروائیاں شروع کیں اور ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔ ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور شدید زخمی طالبات کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا۔

    حادثے میں ایک طالبہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی جبکہ دیگر 10 طالبات کی حالت بدستور نازک بتائی جا رہی ہے۔ جھلسنے والی طالبات میں ثنا بنت اللہ دتہ، ثنا بنت رمضان، تانیا بنت محمد بخش، ماریا بنت محمد اسلم، مشعل بنت ظفر، امِ حبیبہ بنت طاہر، اجالا بنت سلیم، عائشہ بنت الٰہی بخش، راحت بی بی بنت غلام مرتضیٰ اور منازہ عرف طیبہ عباس شامل ہیں جن کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔

    متاثرہ طالبات کو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اسپتال میں رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے جب والدین اور عزیز و اقارب غم سے نڈھال ہو گئے۔

    علاقہ مکینوں اور سوشل ورکرز نے ناقص سلنڈرز کے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی اور مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے دلخراش سانحات سے بچا جا سکے۔

  • اوچ شریف: جرنلسٹ پروٹیکشن بل خوش آئند، آزادیٔ صحافت کا سنگِ میل قرار

    اوچ شریف: جرنلسٹ پروٹیکشن بل خوش آئند، آزادیٔ صحافت کا سنگِ میل قرار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ملک بھر میں "جرنلسٹ پروٹیکشن بل” کی منظوری کو آزادیٔ صحافت کی بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پریس کلب اوچ شریف کے عہدیداران نے بل کی منظوری پر زبردست خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے صحافیوں کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔

    پریس کلب اوچ شریف کے صدر میاں محمد عامر صدیقی نے کہا کہ "یہ قانون صحافیوں کے لیے ایک نیا عہد لے کر آیا ہے۔ اب ہم بغیر خوف و دباؤ کے عوام کی آواز بن سکیں گے۔ حکومت کا یہ قدم لائقِ تحسین ہے، تاہم اس پر مؤثر عملدرآمد بھی ناگزیر ہے۔”

    جنرل سیکرٹری حبیب خان نے کہا، "ہم برسوں سے جس تحفظاتی قانون کے منتظر تھے، آج وہ خواب حقیقت بن گیا ہے۔ اب صحافیوں سے زیادتی کرنے والا قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکے گا۔”

    چیئرمین خواجہ غلام شبیر نے بل کو آزادیٔ اظہار اور جمہوری قدروں کی جیت قرار دیا، جبکہ چیئرمین ایکشن کمیٹی ساجد خان نے کہا کہ "صحافت کوئی جرم نہیں، اور اب قانون بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ بل ہمارے تحفظ، وقار اور اعتماد کی علامت ہے۔”

    پریس کلب کے دیگر عہدیداران شفیق انجم، خواجہ سہیل عباس، ساجد بنوں، ثاقب منظور، حسیب واحد خان، قاری سمیع اللہ فاروقی، محمد اسماعیل خان، مزمل وارن، سلیمان وارن اور باسط علی خان سمیت دیگر ممبران نے مشترکہ بیان میں کہا کہ "یہ قانون آزادیٔ صحافت کا سنگِ میل ہے اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پر مکمل اور شفاف عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ صحافی برادری کو حقیقی ریلیف حاصل ہو سکے۔”

    پریس کلب اوچ شریف کے تمام اراکین نے اس قانون کو صحافیوں کی طویل جدوجہد کا ثمر قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ قانون صرف وفاقی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا

  • شہادتوں کا جذبہ زندہ قوموں کی تاریخ کا روشن باب ہے ، حافظ مسعود اظہر

    شہادتوں کا جذبہ زندہ قوموں کی تاریخ کا روشن باب ہے ، حافظ مسعود اظہر

    لاہور ( )پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین، جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل اور امن کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے آج یہاں ہنگامی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی وزیر ستان میں شہید ہونے والے پاک فوج کے 13جوانوں کے ایک ایک قطرے کا دہشت گردوں سے حساب لیا جائے گا ۔ پاک فوج کا ہر جوان ہماری جان ہے ۔ شمالی وزیر ستان میں 13فوجی جوانوں کی شہادت قومی المیہ ہے ۔ دشمنوں کا مقابلہ کرنے اور اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کا دفاع کرنے والے جوانوں پر قوم کو فخر ہے ۔فوجی جوانوں کی شہادت میں قوم کی حیات ہے ۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی اور تخریب کاری میں بھارت ملوث ہے ۔ بھارت کی صورت میں ہمیں ایک نہایت ہی کمینے اور گھٹیا دشمن کا سامنا ہے جس نے اول دن سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا اور آج بھی وطن عزیز کے خلاف دشمنی اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں مصروف ہے ۔ قوم وطن کے دفاع اور دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے والی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔افواج کو کمزور کرنا وطن کو کمزور کرنے کرنے کے مترادف ہے ، وطن کے دفاع کےلئے جانیں قربان کرنے والے غازی اور شہید ہمارے لئے باعث فخر ہیں ، مضبوط فوج ہی پاکستان کے دفاع اور استحکام کی ضامن ہے ۔ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنے امن وامان کو برقرار رکھنے اور دہشت گردوں دشمنوں کا مقابلہ کرنے والے شہدا نے ناقابل فراموش جرا ت وبہادری اور جوانمردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جانیں مادر وطن پر نچھاور کی ہیں ۔ قوم اپنے ان بیٹیوں کی قربانیوں کو کبھی بھی بھلا نہیں پائے گی ۔ پوری پاکستانی قوم شہدا اور غازیوں کے خاندانوں کے ساتھ ہے ۔ ہمیں شہدااور غازیوں کے خاندانوں پر ناز ہے ۔ شہادتوں کا جذبہ زندہ قوموں کی تاریخ کا روشن باب ہے ، سرحدوں پر مامور جوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ملک کے محافظ ہیں ۔ اسلام اور پاکستان کی تاریخ شہدا اور غازیوں کے تذکروں سے روشن ہے ، جذبہ شہادت کے بغیرپاکستان اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا ہے، جذبہ شہادت کے ساتھ ہی ملک کے دشمنوں کو شکست دی جاسکتی ہے ۔

  • اوچ شریف:قیامت ٹل گئی، میپکو کے خستہ حال کھمبے گھروں پر گر گئے،واپڈاکو لاشوں کا انتظار؟

    اوچ شریف:قیامت ٹل گئی، میپکو کے خستہ حال کھمبے گھروں پر گر گئے،واپڈاکو لاشوں کا انتظار؟

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے چناب رسول پور، بستی مقبول آرائیں میں میپکو کی مجرمانہ غفلت اور ایس ڈی او ملک ظفر اقبال کلیار کی بدترین نااہلی کے باعث ایک ہولناک سانحہ پیش آیا۔ خستہ حال بجلی کے تین دیو ہیکل کھمبے اچانک گر کر سیدھے گھروں پر جا گرے۔ یہ اللہ کا خاص کرم تھا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ورنہ یہ علاقہ موت کا کھیل بن چکا ہوتا۔ اس واقعے نے میپکو حکام کی انسانی جانوں کے تئیں سنگین بے حسی اور لاپروائی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے غم و غصے میں بتایا کہ انہوں نے بارہا میپکو کو ان بوسیدہ کھمبوں کی تبدیلی کے لیے تحریری درخواستیں دیں اور زبانی شکایات بھی کیں، مگر ہر بار انہیں محض "نوٹ کر لیا گیا ہے” کا روایتی جواب دے کر ٹال دیا گیا۔ ایس ڈی او اوچ شریف، ملک ظفر اقبال کلیار، کی عدم دستیابی اور لاپروائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انہیں عوام کے تحفظ کی ذرا بھی پرواہ نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے عوامی تحفظ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔

    کھمبوں کے گرنے سے پورا علاقہ بجلی سے محروم ہو چکا ہے اور بجلی کی ننگی تاریں گھروں کے صحنوں اور گلیوں میں بکھر گئیں جو کسی بھی وقت ایک نیا حادثہ پیدا کر سکتی تھیں۔ اہل علاقہ خوف و ہراس میں مبتلا ہیں، خصوصاً بچے، خواتین اور بزرگوں کی نقل و حرکت انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔ ایمرجنسی میں واپڈا حکام کو فون کر کے بجلی بند کروائی گئی، جس سے ایک بڑا المیہ ٹل گیا۔

    اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ "کیا میپکو جیسے قومی ادارے صرف بل بھیجنے اور تنخواہیں لینے کے لیے بنائے گئے ہیں؟ جب عوام کی جانیں ہی محفوظ نہ ہوں، تو ان اداروں کا وجود کس مقصد کے لیے ہے؟” انہوں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ایس ڈی او ملک ظفر اقبال کلیار کو فوری طور پر معطل کر کے انکوائری کی جائے، علاقے کے تمام خستہ حال کھمبوں کو فوری تبدیل کیا جائے، اور متاثرہ گھروں کو نقصان کا ازالہ دیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اب صرف وعدوں سے بات نہیں بنے گی، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومتِ پنجاب، وفاقی وزارتِ توانائی، اور میپکو ہیڈ آفس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس پالیسیاں وضع کریں۔