Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: مزارات پر جعلی خلیفے قابض، نذرانوں کی بندربانٹ، اوقاف کی ملی بھگت بے نقاب

    اوچ شریف: مزارات پر جعلی خلیفے قابض، نذرانوں کی بندربانٹ، اوقاف کی ملی بھگت بے نقاب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)روحانیت کے مرکز اوچ شریف کے تاریخی مزارات مبینہ طور پر جعلی خلیفوں کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔ عقیدت کی آڑ میں سرگرم "خلیفہ مافیا” نے محکمہ اوقاف کے کرپٹ افسران کی سرپرستی میں مزارات کو نفع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں لاکھوں روپے کے نذرانے، چادریں، خیرات اور عطیات روزانہ کی بنیاد پر ہڑپ کیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اولیاء کرام کے ان مقدس مقامات پر اصل خدام کی جگہ غیر متعلقہ، نان اہل افراد کو خلیفہ مقرر کر دیا گیا ہے جن کی نہ کوئی دینی سند ہے نہ تربیت۔ ایک ایک مزار پر پانچ پانچ خلیفے تعینات ہیں جو نذر و نیاز کی تقسیم کے نام پر بدترین بندر بانٹ میں ملوث ہیں۔ ان تقرریوں کا کوئی ضابطہ، قانون یا شفافیت موجود نہیں بلکہ یہ تمام کارروائیاں مبینہ طور پر رشوت، سفارش اور کمیشن کے نظام کے تحت ہو رہی ہیں۔

    محکمہ اوقاف کے افسران پر الزام ہے کہ وہ ان جعلی خلیفوں سے ماہانہ "حصہ” وصول کرتے ہیں اور بدلے میں انہیں کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ ان خلیفوں کی عیاشیاں، بچوں کی شاہانہ زندگی اور مقدس مقامات کی بے توقیری ایک لمحہ فکریہ بن چکی ہے۔ زائرین، جو عقیدت کے جذبے سے درباروں پر حاضری دیتے ہیں، صاف پانی، بیت الخلا، سیکیورٹی اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔

    مقامی علما، شہریوں اور سول سوسائٹی نے اس صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب، اور محکمہ اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اوچ شریف کے مزارات پر قابض جعلی خلیفوں اور محکمہ اوقاف کے بدعنوان افسران کے خلاف فوری طور پر جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اولیاء کرام کے مزارات کو کرپشن، جعلسازی اور دنیاوی ہوس سے پاک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    اس معاملے نے نہ صرف عوام کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے بلکہ ان مقدس مقامات کے تقدس پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی مطالبے کے پیش نظر یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت اور عدلیہ اس سنگین کرپشن اسکینڈل پر کب اور کیا عملی قدم اٹھاتی ہے۔

  • احمد پور شرقیہ: ڈینگی سے بچاؤ کیلئے TERC اجلاس، بین المحکماتی تعاون اور عوامی شمولیت پر زور

    احمد پور شرقیہ: ڈینگی سے بچاؤ کیلئے TERC اجلاس، بین المحکماتی تعاون اور عوامی شمولیت پر زور

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)احمد پور شرقیہ میں ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی (TERC) کا ایک اہم اجلاس اسسٹنٹ کمشنر نوید حیدر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صحت، بلدیاتی ادارے، تعلیمی شعبے اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ ڈینگی انسپکٹر نوید حیدر سیال نے ڈینگی سے بچاؤ کی موجودہ مہم پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    اسسٹنٹ کمشنر نوید حیدر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈینگی ایک سنگین عوامی صحت کا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے تمام محکموں کے اشتراک اور عوامی شمولیت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف حکومتی کوششیں کافی نہیں بلکہ شہریوں کی فعال شراکت سے ہی کامیابی ممکن ہے۔

    اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے، جن میں شہری و دیہی علاقوں میں صفائی مہم کو تیز کرنے، پانی کے ذخائر پر کڑی نگرانی، لاروا کش اسپرے کو مزید وسعت دینے، تعلیمی اداروں میں طلبہ کے لیے آگاہی سیشنز کے انعقاد، اور مساجد، سماجی تنظیموں و مقامی رہنماؤں کو مہم کا حصہ بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

    فوکل پرسن نوید سیال نے بتایا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں فیلڈ میں مسلسل سرگرم عمل ہیں، جدید ڈیجیٹل رپورٹنگ سسٹم کے ذریعے مشتبہ مقامات کی نشاندہی اور بروقت کارروائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں کیسز کی شرح میں کمی آئی ہے، مگر خطرہ ابھی مکمل ختم نہیں ہوا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے اجلاس کے اختتام پر شہریوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں، گلیوں اور بازاروں میں صفائی ستھرائی کو یقینی بنائیں، پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور کسی بھی مشتبہ صورت میں فوری انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ انہوں نے کہا، "ڈینگی کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور صرف اجتماعی کوششوں سے ہی ہم اس خطرے پر قابو پا سکتے ہیں۔”

    یہ اجلاس بین المحکماتی ہم آہنگی اور عوامی شعور کی بیداری کے ذریعے ڈینگی کے مکمل خاتمے کی طرف ایک عملی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

  • اوچ شریف: قاری مختیار بھگلہ برادری سمیت مخدوم عامر علی شاہ کے قافلے میں شامل

    اوچ شریف: قاری مختیار بھگلہ برادری سمیت مخدوم عامر علی شاہ کے قافلے میں شامل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے رتہر نہڑانوالی کی معروف شخصیت قاری مختیار احمد بھگلہ نے اپنی برادری سمیت رکنِ صوبائی اسمبلی مخدوم سید عامر علی شاہ کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر غوث الاعظم ہاؤس میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں انہوں نے باقاعدہ سیاسی شمولیت اختیار کرتے ہوئے سید عامر علی شاہ کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

    قاری مختیار احمد بھگلہ، جو ماضی میں مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی کے سیاسی کیمپ سے وابستہ رہے، نے موجودہ سیاسی منظرنامے میں تبدیلی اور مخدوم سید عامر علی شاہ کی قیادت سے متاثر ہو کر نیا سیاسی فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی برادری کے ہمراہ سیاسی وابستگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقے کی ترقی اور عوامی خدمت کے وژن کی تکمیل کے لیے موجودہ قیادت کے ساتھ چلیں گے۔

    تقریب میں دعا خیر کی گئی اور برادری کے دیگر معززین نے بھی قاری مختیار احمد کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے اس نئے سیاسی اتحاد کو خوش آئند قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے بعد حلقہ پی پی 250 میں سیاسی توازن نئی کروٹ لے سکتا ہے اور یہ پیش رفت مستقبل کے انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

    مخدوم سید عامر علی شاہ نے قاری مختیار احمد بھگلہ اور ان کے ساتھیوں کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ شمولیت نہ صرف جماعت کو تقویت دے گی بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ علاقے کے عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور ترقی کا سفر جاری رہے گا۔

    مقامی سطح پر اس خبر کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے اور اسے اوچ شریف کے سیاسی نقشے میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • اوچ شریف: کپاس کی فصل پر کیڑوں کا حملہ، جعلی ادویات سے تباہی، کسان شدید مالی بحران کا شکار

    اوچ شریف: کپاس کی فصل پر کیڑوں کا حملہ، جعلی ادویات سے تباہی، کسان شدید مالی بحران کا شکار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اور گردونواح کے علاقوں دھوڑکوٹ، ترنڈ، بشارت، حلیم پور، بیٹ احمد بختیاری، رسول پور اور دیگر دیہات میں کپاس کی فصل اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، جہاں سبز تیلے، گلابی سنڈی اور تھریپس جیسے کیڑوں کے حملوں نے فصل کو تباہ کر دیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی میں محکمہ زراعت کی مجرمانہ غفلت اور مارکیٹ میں جعلی و غیر معیاری زرعی ادویات کی بھرمار نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    مقامی کسانوں نے بتایا ہے کہ وہ مسلسل مہنگی کیڑے مار ادویات کا اسپرے کر رہے ہیں، لیکن ان کی فصل روز بروز تباہ ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے بقول مارکیٹ میں دستیاب ادویات جعلی اور غیر مؤثر ہیں، جس کے باعث سال بھر کی محنت ضائع ہو رہی ہے۔ محمد عامر نامی کسان نے بتایاکہ”ہم نے قرض لے کر کپاس کی کاشت کی، اب فصل ہاتھ سے نکل رہی ہے۔ نہ ادویات کام کر رہی ہیں اور نہ کوئی افسر ہماری سن رہا ہے۔”

    ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بعض زرعی افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ناقص ادویات کی فروخت ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ کسان تنظیموں اور زمینداروں نے اس مافیا کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر جعلی ادویات کی فروخت پر قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف کسانوں کو شدید مالی نقصان ہوگا بلکہ کپاس جیسی نقد آور فصل کی تباہی سے ملکی معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔

    کسانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ
    * جعلی زرعی ادویات کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے.
    * ذمہ دار افسران کو برطرف کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں.
    * ادویات کے معیار کی جانچ پڑتال کے لیے جدید اور خودمختار نظام تشکیل دیا جائے.
    * زرعی تحقیقاتی ادارے کیڑوں سے بچاؤ کی مؤثر، سستی اور قابلِ بھروسہ ادویات فوری طور پر متعارف کروائیں۔

    کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت اگر بروقت ایکشن نہ لے تو فصلوں کی تباہی، کسانوں کی خودکشیاں اور غذائی و معاشی بحران ایک ناگزیر المیہ بن سکتے ہیں۔

  • احمد پور شرقیہ: 16 لاکھ آبادی کے لیے صرف 7 ایمبولینسیں اور 1 فائر بریگیڈ گاڑی

    احمد پور شرقیہ: 16 لاکھ آبادی کے لیے صرف 7 ایمبولینسیں اور 1 فائر بریگیڈ گاڑی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگارحبیب خان)پنجاب کی سب سے بڑی تحصیل احمد پور شرقیہ جہاں آبادی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، وہاں ریسکیو 1122 کی سہولیات کی کمی نے عوام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے لیے محض 7 ایمبولینسیں اور ایک فائر بریگیڈ گاڑی کا دستیاب ہونا انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ احمد پور شرقیہ شہر میں صرف 3 ایمبولینسیں موجود ہیں، جن میں سے ایک مسلسل بہاولپور ریفر مریضوں کی منتقلی میں مصروف رہتی ہے، جبکہ باقی دو گاڑیاں پوری تحصیل کے لیے ناکافی ہیں۔ اوچ شریف میں صرف دو ایمبولینسز دی گئی ہیں، جب کہ جھانگڑہ انٹرچینج اور اس کے مضافات کے لیے بھی محض دو گاڑیاں دستیاب ہیں۔ بدترین صورتحال یہ ہے کہ ریسکیو کے پاس کوئی باقاعدہ فائر بریگیڈ گاڑی موجود نہیں، جو ایک فائر ٹینڈر استعمال ہو رہا ہے وہ بھی بہاولپور سے وقتی طور پر حاصل کیا گیا ہے، جو کسی بڑے حادثے کی صورت میں ناکافی ہے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق اس مسئلے سے بارہا مقامی ایم این اے اور ایم پی اے کو آگاہ کیا جا چکا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ مزید 10 ایمبولینسیں اور کم از کم 2 فائر بریگیڈ گاڑیاں فراہم کی جائیں، تاہم متعدد بار یاد دہانیوں کے باوجود اب تک صرف وعدے ہی سننے کو ملے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ احمد پور شرقیہ کے عوام بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے لاہور یا کسی بڑے شہر کے، اور ان کی جانوں کی بھی کوئی قیمت ہونی چاہیے۔ اگر کسی اسکول میں آگ لگ جائے یا کوئی ٹریفک حادثہ پیش آ جائے تو موجودہ سہولیات کسی المیے کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

    احمد پور شرقیہ کے عوام وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر صحت اور ڈی جی ریسکیو 1122 سے اپیل کرتے ہیں کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر 10 ایمبولینسیں، 2 فائر بریگیڈ گاڑیاں اور درکار تربیت یافتہ عملہ فراہم کیا جائے۔ یہ صرف مطالبہ نہیں بلکہ 16 لاکھ شہریوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جس پر تاخیر ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

  • احمدپور شرقیہ: قانون صرف کتابوں میں بند، 18 سال سے کم عمر لڑکے کا نکاح

    احمدپور شرقیہ: قانون صرف کتابوں میں بند، 18 سال سے کم عمر لڑکے کا نکاح

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمدپور شرقیہ کے نواحی گاؤں اسماعیل پور میں کم عمری کی شادی کا ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 18 سال سے کم عمر لڑکے محمد اسامہ گھلو کا نکاح کروا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ نکاح باقاعدہ تقریب کے ساتھ انجام پایا، جہاں نکاح خواں نے نکاح پڑھایا، دلہے کو ہار پہنائے گئے اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب کچھ باشعور شہریوں نے میڈیا اور متعلقہ اداروں کو مطلع کیا، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ پولیس حرکت میں آئی، نہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے نوٹس لیا اور نہ ہی تحصیل یا ضلعی انتظامیہ نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر کیا۔

    یہ امر باعث تشویش ہے کہ حکومت کی جانب سے کم عمری کی شادیوں کے خلاف منظور کیے گئے سخت قوانین محض کاغذی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔ ان قوانین کے مطابق اگر کوئی والدین اپنے کم عمر بچوں کی شادی کرواتے ہیں یا نکاح خواں، گواہ یا سہولت کار اس عمل میں شریک ہو تو ان سب کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، مگر یہاں قانون کا عملی نفاذ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہ صورتحال نہ صرف قانون کی کمزوری کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ معاشرے میں موجود عمومی بے حسی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

    اس واقعے پر علاقے کے شہری حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے محض ایک شادی نہیں بلکہ قانون کی صریحاً خلاف ورزی اور انتظامیہ کی ناکامی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو حکومت بین الاقوامی دباؤ کے تحت کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون سازی کرتی ہے، مگر دوسری جانب ضلعی، تحصیل اور یونین سطح پر موجود ادارے ایسے واقعات پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو متزلزل کرتا ہے بلکہ آئندہ کے لیے خطرناک مثال بھی بن سکتا ہے۔

    شہریوں نے ڈی پی او بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور، اسسٹنٹ کمشنر احمدپور شرقیہ، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور محمد اسامہ گھلو کے نکاح میں ملوث تمام افراد، جن میں والدین، نکاح خواں، گواہان اور تقریب کے سہولت کار شامل ہیں، ان سب کے خلاف فوری اور موثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قانون کی بالا دستی ثابت ہو اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

    یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے محض ایک کم عمر لڑکے کا نکاح نہیں بلکہ ایک ایسا سوال ہے جو ریاستی ذمہ داری، قانونی نفاذ اور اجتماعی ضمیر کی بیداری پر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اگر ایسے واقعات پر بھی خاموشی اختیار کی گئی تو یہ طرز عمل آئندہ کئی بچوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون کو صرف کتابوں کی زینت بنانے کے بجائے اسے عملی شکل دی جائے اور ان افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جو کمزور بچوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔

  • اوچ شریف: کرپشن کے خلاف کارروائی، چار پٹواری برطرف، دھرنا ناکام

    اوچ شریف: کرپشن کے خلاف کارروائی، چار پٹواری برطرف، دھرنا ناکام

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان)اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ نوید حیدر نے بدعنوانی کے خلاف بڑا ایکشن لیتے ہوئے ریکوری میں ناکامی پر چار پٹواریوں کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔ اس اقدام کو تحصیل میں شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، اے سی نوید حیدر کی نگرانی میں جاری اصلاحاتی مہم کے دوران ان پٹواریوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی جو اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مسلسل ناکام رہے تھے۔ برطرفی کے بعد چند پٹواریوں اور گرداوروں نے اسسٹنٹ کمشنر آفس کے باہر دھرنا دیا اور برطرف ملازمین کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

    تاہم اسسٹنٹ کمشنر نوید حیدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ:

    "قانون کی حکمرانی اور میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ بلیک میلنگ یا غیر قانونی احتجاج سے دباؤ نہیں لیا جائے گا۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ برطرف ملازمین کو اپیل کا حق حاصل ہے اور وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا موقف پیش کر سکتے ہیں۔

    ادھر علاقہ مکینوں نے اے سی نوید حیدر کی کارروائی کو سراہتے ہوئے ان کی دیانتداری اور فرض شناسی کی تعریف کی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایسے افسران ہی عوامی خدمت اور انصاف کی علامت ہوتے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا تھا کہ اس قسم کے بے لاگ اقدامات سے نہ صرف انتظامی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔

    یہ کارروائی احمد پور شرقیہ میں کرپشن کے خاتمے اور بہتر گورننس کی جانب ایک نمایاں قدم قرار دی جا رہی ہے، جس کے دور رس اثرات متوقع ہیں۔

  • اوچ شریف: باپ کی بیٹی سے درندگی، مقدمہ درج، ملزم گرفتار

    اوچ شریف: باپ کی بیٹی سے درندگی، مقدمہ درج، ملزم گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے محلہ اکبر ٹاؤن میں ایک لرزہ خیز واقعے نے انسانیت، شرافت اور باپ جیسے مقدس رشتے کو شرمسار کر دیا۔ پولیس نے اپنی ہی سگی 18 سالہ بیٹی سے مبینہ زیادتی کرنے والے ملزم محمد ندیم ولد محمد یعقوب قوم وارن کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، متاثرہ لڑکی کی والدہ نور بی بی زوجہ محمد ندیم نے تھانہ سٹی اوچ شریف میں دی گئی تحریری درخواست میں بیان کیا کہ وہ 8 جولائی 2025 کو گھریلو کام کے سلسلے میں گھر سے باہر گئی تھی۔ واپس آ کر اس نے اپنے شوہر کو بیٹی کے ساتھ نازیبا حالت میں دیکھا، جس پر اس کا دل دہل گیا۔ تاہم رشتہ داروں نے “بدنامی” کے خوف سے خاتون کو خاموش رہنے پر مجبور کیا۔

    متاثرہ خاتون نے بالآخر ہمت کر کے پولیس کو اطلاع دی، جس پر تھانہ سٹی اوچ شریف نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ نمبر 1063/25 بجرم 376 تعزیرات پاکستان کے تحت اندراج کیا اور ملزم محمد ندیم کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔

    علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص اس قسم کی درندگی کا تصور بھی نہ کر سکے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پورے معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہے، اور اس میں انصاف کی بروقت فراہمی ہی متاثرہ خاندان کے دکھ کا مداوا بن سکتی ہے۔

  • احمد پور شرقیہ:سمیرا قتل کیس، 12 گھنٹے میں قاتل گرفتار، ساتھیوں کی فائرنگ سے مبینہ ہلاکت

    احمد پور شرقیہ:سمیرا قتل کیس، 12 گھنٹے میں قاتل گرفتار، ساتھیوں کی فائرنگ سے مبینہ ہلاکت

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمدپور شرقیہ ،تھانہ سٹی پولیس نے نواحی بستی غریب آباد کی 6 سالہ معصوم بچی سمیرا بی بی کے اندھے قتل کی گتھی صرف 12 گھنٹوں میں سلجھا لی اور مرکزی ملزم عمران کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم عمران کو جائے وقوعہ پر نشاندہی اور برآمدگی کے لیے لے جایا گیا، جہاں پہلے سے گھات لگائے اس کے مسلح ساتھیوں نے اچانک پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا۔ جوابی فائرنگ کے تبادلے میں ملزم عمران اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر موقع پر ہلاک ہو گیا۔

    یاد رہے کہ مقتولہ سمیرا، امیرآباد اوچشریف کے رہائشی شاہنواز کی بیٹی تھی، جس کی نعش گزشتہ روز بستی غریب آباد موضع محمد بخش مہر میں فصل جنتر سے ملی تھی، جس پر علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق سمیرا اپنے والد سے علیحدگی کے بعد ماں کے ساتھ غریب آباد میں مقیم تھی، جہاں ملزم عمران نے اسے بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا۔

    پولیس نے بچی کی نعش کو اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں مرکزی ملزم تک رسائی حاصل ہوئی۔ ڈی ایس پی احمد پور شرقیہ، محمود اکبر بزدار نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور قانون شکن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

  • اوچ شریف: رکشے پر موت سوار، کارروائی لاش کے بعد ہی ہوگی؟

    اوچ شریف: رکشے پر موت سوار، کارروائی لاش کے بعد ہی ہوگی؟

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان)کیا اوچ شریف کی سڑکوں پر انسانوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا ٹریفک پولیس صرف وی آئی پی ڈیوٹی کے لیے رہ گئی ہے؟ کون ذمہ دار ہے اُس لمحے کا جب ایک لوڈر رکشہ، ڈرائیور سمیت تین جانوں کو لے کر یوں رواں دواں نظر آتا ہے جیسے زندگی کی نہیں، موت کی سواری ہو؟ یہ وہ سوالات ہیں جو شہریوں کے ذہنوں میں طوفان بن کر اٹھ رہے ہیں۔

    خوفناک اوورلوڈنگ کے ساتھ چلتا ہوا ایک لوڈر رکشہ اوچ شریف کی سڑکوں پر دیکھا گیا، جس میں ڈرائیور سمیت تین افراد انتہائی خطرناک انداز میں بیٹھے ہوئے تھے۔ رکشہ سامان سے اس قدر بھرا ہوا تھا کہ ایک جھٹکے یا موڑ پر یہ جان لیوا سواری موت کا سبب بن سکتی تھی۔ مگر حیرت انگیز طور پر قانون، ضابطہ اور ٹریفک اہلکار سب خاموش تماشائی بنے رہے۔

    نہ کسی وارڈن کی سیٹی بجی، نہ کسی افسر کی آنکھ کھلی — گویا حادثہ ہو، لاشیں گریں، تب ہی کوئی حرکت ہوگی۔ کیا قانون کا اطلاق صرف عوامی اجتماعات یا وی آئی پی گزرگاہوں تک محدود ہے؟ کیا اندرون شہر ہر خلاف ورزی کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے؟

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رکشہ ایک موڑ پر جھول کھا گیا، اور اگر چند لمحے مزید بے قابو رہتا تو شاید آج تین لاشیں اٹھتی۔ شہریوں نے سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سراسر غفلت نہیں بلکہ انسانی جانوں سے کھلا مذاق ہے۔

    شہریوں کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ڈرائیور کے خلاف کارروائی کی جائے، ٹریفک پولیس کی کارکردگی کا آڈٹ ہو، اور ایسے خطرناک ٹرانسپورٹ مافیا کو لگام دی جائے جو سڑکوں پر موت بانٹ رہے ہیں۔

    لیکن سوال پھر وہی ہےکہ کیا کوئی جاگے گا؟ یا ہم کسی لاش کا انتظار کر رہے ہیں؟