Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • احمدپورشرقیہ:امتحان دینے آنیوالی طالبات کی وین میں آگ لگ گئی، ایک طالبہ جاں بحق اور 10 زخمی

    احمدپورشرقیہ:امتحان دینے آنیوالی طالبات کی وین میں آگ لگ گئی، ایک طالبہ جاں بحق اور 10 زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ ٹول پلازہ کے قریب ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں طالبات سے بھری ہائی ایس وین میں ناقص ایل پی جی سلنڈر کے پھٹنے سے خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کے نتیجے میں ایک نوجوان طالبہ جاں بحق جبکہ 10 دیگر طالبات بری طرح جھلس گئیں اور زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، ہائی ایس وین میں سوار 19 طالبات لیاقت پور سے احمد پور شرقیہ میں امتحان دے کر واپس جا رہی تھیں۔ جیسے ہی گاڑی ٹول پلازہ کے قریب پہنچی، اچانک زور دار دھماکے سے سلنڈر پھٹ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں نے پوری وین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طالبات چیختی چلاتی باہر نکلنے کی کوشش کرتی رہیں، مگر خوفناک آگ نے کئی کو بری طرح جھلسا دیا۔ مقامی افراد نے فوراً امدادی کارروائیاں شروع کیں اور ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔ ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور شدید زخمی طالبات کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا۔

    حادثے میں ایک طالبہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی جبکہ دیگر 10 طالبات کی حالت بدستور نازک بتائی جا رہی ہے۔ جھلسنے والی طالبات میں ثنا بنت اللہ دتہ، ثنا بنت رمضان، تانیا بنت محمد بخش، ماریا بنت محمد اسلم، مشعل بنت ظفر، امِ حبیبہ بنت طاہر، اجالا بنت سلیم، عائشہ بنت الٰہی بخش، راحت بی بی بنت غلام مرتضیٰ اور منازہ عرف طیبہ عباس شامل ہیں جن کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔

    متاثرہ طالبات کو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اسپتال میں رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے جب والدین اور عزیز و اقارب غم سے نڈھال ہو گئے۔

    علاقہ مکینوں اور سوشل ورکرز نے ناقص سلنڈرز کے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی اور مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے دلخراش سانحات سے بچا جا سکے۔

  • اوچ شریف: جرنلسٹ پروٹیکشن بل خوش آئند، آزادیٔ صحافت کا سنگِ میل قرار

    اوچ شریف: جرنلسٹ پروٹیکشن بل خوش آئند، آزادیٔ صحافت کا سنگِ میل قرار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ملک بھر میں "جرنلسٹ پروٹیکشن بل” کی منظوری کو آزادیٔ صحافت کی بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پریس کلب اوچ شریف کے عہدیداران نے بل کی منظوری پر زبردست خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے صحافیوں کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔

    پریس کلب اوچ شریف کے صدر میاں محمد عامر صدیقی نے کہا کہ "یہ قانون صحافیوں کے لیے ایک نیا عہد لے کر آیا ہے۔ اب ہم بغیر خوف و دباؤ کے عوام کی آواز بن سکیں گے۔ حکومت کا یہ قدم لائقِ تحسین ہے، تاہم اس پر مؤثر عملدرآمد بھی ناگزیر ہے۔”

    جنرل سیکرٹری حبیب خان نے کہا، "ہم برسوں سے جس تحفظاتی قانون کے منتظر تھے، آج وہ خواب حقیقت بن گیا ہے۔ اب صحافیوں سے زیادتی کرنے والا قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکے گا۔”

    چیئرمین خواجہ غلام شبیر نے بل کو آزادیٔ اظہار اور جمہوری قدروں کی جیت قرار دیا، جبکہ چیئرمین ایکشن کمیٹی ساجد خان نے کہا کہ "صحافت کوئی جرم نہیں، اور اب قانون بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ بل ہمارے تحفظ، وقار اور اعتماد کی علامت ہے۔”

    پریس کلب کے دیگر عہدیداران شفیق انجم، خواجہ سہیل عباس، ساجد بنوں، ثاقب منظور، حسیب واحد خان، قاری سمیع اللہ فاروقی، محمد اسماعیل خان، مزمل وارن، سلیمان وارن اور باسط علی خان سمیت دیگر ممبران نے مشترکہ بیان میں کہا کہ "یہ قانون آزادیٔ صحافت کا سنگِ میل ہے اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پر مکمل اور شفاف عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ صحافی برادری کو حقیقی ریلیف حاصل ہو سکے۔”

    پریس کلب اوچ شریف کے تمام اراکین نے اس قانون کو صحافیوں کی طویل جدوجہد کا ثمر قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ قانون صرف وفاقی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا

  • شہادتوں کا جذبہ زندہ قوموں کی تاریخ کا روشن باب ہے ، حافظ مسعود اظہر

    شہادتوں کا جذبہ زندہ قوموں کی تاریخ کا روشن باب ہے ، حافظ مسعود اظہر

    لاہور ( )پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین، جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل اور امن کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے آج یہاں ہنگامی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی وزیر ستان میں شہید ہونے والے پاک فوج کے 13جوانوں کے ایک ایک قطرے کا دہشت گردوں سے حساب لیا جائے گا ۔ پاک فوج کا ہر جوان ہماری جان ہے ۔ شمالی وزیر ستان میں 13فوجی جوانوں کی شہادت قومی المیہ ہے ۔ دشمنوں کا مقابلہ کرنے اور اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کا دفاع کرنے والے جوانوں پر قوم کو فخر ہے ۔فوجی جوانوں کی شہادت میں قوم کی حیات ہے ۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی اور تخریب کاری میں بھارت ملوث ہے ۔ بھارت کی صورت میں ہمیں ایک نہایت ہی کمینے اور گھٹیا دشمن کا سامنا ہے جس نے اول دن سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا اور آج بھی وطن عزیز کے خلاف دشمنی اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں مصروف ہے ۔ قوم وطن کے دفاع اور دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے والی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔افواج کو کمزور کرنا وطن کو کمزور کرنے کرنے کے مترادف ہے ، وطن کے دفاع کےلئے جانیں قربان کرنے والے غازی اور شہید ہمارے لئے باعث فخر ہیں ، مضبوط فوج ہی پاکستان کے دفاع اور استحکام کی ضامن ہے ۔ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنے امن وامان کو برقرار رکھنے اور دہشت گردوں دشمنوں کا مقابلہ کرنے والے شہدا نے ناقابل فراموش جرا ت وبہادری اور جوانمردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جانیں مادر وطن پر نچھاور کی ہیں ۔ قوم اپنے ان بیٹیوں کی قربانیوں کو کبھی بھی بھلا نہیں پائے گی ۔ پوری پاکستانی قوم شہدا اور غازیوں کے خاندانوں کے ساتھ ہے ۔ ہمیں شہدااور غازیوں کے خاندانوں پر ناز ہے ۔ شہادتوں کا جذبہ زندہ قوموں کی تاریخ کا روشن باب ہے ، سرحدوں پر مامور جوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ملک کے محافظ ہیں ۔ اسلام اور پاکستان کی تاریخ شہدا اور غازیوں کے تذکروں سے روشن ہے ، جذبہ شہادت کے بغیرپاکستان اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا ہے، جذبہ شہادت کے ساتھ ہی ملک کے دشمنوں کو شکست دی جاسکتی ہے ۔

  • اوچ شریف:قیامت ٹل گئی، میپکو کے خستہ حال کھمبے گھروں پر گر گئے،واپڈاکو لاشوں کا انتظار؟

    اوچ شریف:قیامت ٹل گئی، میپکو کے خستہ حال کھمبے گھروں پر گر گئے،واپڈاکو لاشوں کا انتظار؟

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے چناب رسول پور، بستی مقبول آرائیں میں میپکو کی مجرمانہ غفلت اور ایس ڈی او ملک ظفر اقبال کلیار کی بدترین نااہلی کے باعث ایک ہولناک سانحہ پیش آیا۔ خستہ حال بجلی کے تین دیو ہیکل کھمبے اچانک گر کر سیدھے گھروں پر جا گرے۔ یہ اللہ کا خاص کرم تھا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ورنہ یہ علاقہ موت کا کھیل بن چکا ہوتا۔ اس واقعے نے میپکو حکام کی انسانی جانوں کے تئیں سنگین بے حسی اور لاپروائی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے غم و غصے میں بتایا کہ انہوں نے بارہا میپکو کو ان بوسیدہ کھمبوں کی تبدیلی کے لیے تحریری درخواستیں دیں اور زبانی شکایات بھی کیں، مگر ہر بار انہیں محض "نوٹ کر لیا گیا ہے” کا روایتی جواب دے کر ٹال دیا گیا۔ ایس ڈی او اوچ شریف، ملک ظفر اقبال کلیار، کی عدم دستیابی اور لاپروائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انہیں عوام کے تحفظ کی ذرا بھی پرواہ نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے عوامی تحفظ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔

    کھمبوں کے گرنے سے پورا علاقہ بجلی سے محروم ہو چکا ہے اور بجلی کی ننگی تاریں گھروں کے صحنوں اور گلیوں میں بکھر گئیں جو کسی بھی وقت ایک نیا حادثہ پیدا کر سکتی تھیں۔ اہل علاقہ خوف و ہراس میں مبتلا ہیں، خصوصاً بچے، خواتین اور بزرگوں کی نقل و حرکت انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔ ایمرجنسی میں واپڈا حکام کو فون کر کے بجلی بند کروائی گئی، جس سے ایک بڑا المیہ ٹل گیا۔

    اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ "کیا میپکو جیسے قومی ادارے صرف بل بھیجنے اور تنخواہیں لینے کے لیے بنائے گئے ہیں؟ جب عوام کی جانیں ہی محفوظ نہ ہوں، تو ان اداروں کا وجود کس مقصد کے لیے ہے؟” انہوں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ایس ڈی او ملک ظفر اقبال کلیار کو فوری طور پر معطل کر کے انکوائری کی جائے، علاقے کے تمام خستہ حال کھمبوں کو فوری تبدیل کیا جائے، اور متاثرہ گھروں کو نقصان کا ازالہ دیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اب صرف وعدوں سے بات نہیں بنے گی، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومتِ پنجاب، وفاقی وزارتِ توانائی، اور میپکو ہیڈ آفس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس پالیسیاں وضع کریں۔

  • جنوبی پنجاب: نہروں میں نہانے پر پابندی، دفعہ 144 نافذ

    جنوبی پنجاب: نہروں میں نہانے پر پابندی، دفعہ 144 نافذ

    اوچ شریف / ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،نامہ نگار+سٹی رپورٹر)جنوبی پنجاب کے دو بڑے اضلاع بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں شہریوں کی قیمتی جانوں کے تحفظ کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت نہروں، آبی گزرگاہوں اور دریاؤں میں نہانے، تیرنے، کشتی رانی، کھیل کود اور غیر ضروری اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق نے ضلع بھر میں نہروں اور پانی کے دیگر ذخائر میں نہانے پر 30 روزہ پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد نے 27 جولائی تک دفعہ 144 کے نفاذ کا حکم جاری کرتے ہوئے دریائے سندھ اور تمام بڑی نہروں کے کنارے سرگرمیوں پر مکمل روک لگا دی ہے۔

    دونوں اضلاع میں جاری اعلامیوں کے مطابق یہ فیصلے بڑھتے ہوئے ڈوبنے کے واقعات، انسانی جانوں کے ضیاع اور موسم برسات کے خطرات کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے والدین سے خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نہروں اور دریا کے قریب جانے سے روکیں اور قانون کی پابندی کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی حفاظت یقینی بنائیں۔

    دونوں ڈپٹی کمشنرز نے واضح کیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور ان کا مقصد صرف ایک ہے: انسانی جانوں کو بچانا اور ممکنہ سانحات کا راستہ روکنا۔

    انتظامیہ کا یہ فیصلہ عوامی تحفظ کے لیے ایک بروقت اور سنجیدہ اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ہیڈ پنجند بند شکستہ، سیلاب سر پر، بند ٹوٹا تو تباہی یقینی! ذمہ دار کون؟

    ہیڈ پنجند بند شکستہ، سیلاب سر پر، بند ٹوٹا تو تباہی یقینی! ذمہ دار کون؟

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ہیڈ پنجند بند شکستہ، سیلاب سر پر، بند ٹوٹا تو تباہی یقینی! ذمہ دار کون؟

    تفصیلات کے مطابق ہیڈ پنجند سے خیرپور ڈاہا تک دریائی حفاظتی بند شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے، جس سے مقامی آبادی کو ممکنہ سیلابی تباہی کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ حالیہ طوفانی بارشوں کے بعد بند کی سطح پر گہرے کھڈے پڑ چکے ہیں، جبکہ کئی مقامات سے مٹی اور پتھر بہہ جانے کے باعث اس بند کی مضبوطی کو شدید خطرات درپیش ہیں۔

    عینی شاہدین اور مقامی افراد کے مطابق بند کی حالت اتنی خستہ ہو چکی ہے کہ اگر بروقت مرمت نہ کی گئی تو آئندہ مون سون میں بند کے ٹوٹنے کا قوی امکان ہے، جو وسیع پیمانے پر انسانی اور زرعی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ کسانوں اور دیہاتیوں نے محکمہ ایریگیشن کی مجرمانہ غفلت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ تاحال خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے اور زمینی صورتحال کا کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا گیا۔

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور، اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ اور چیف انجینئر ایریگیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر حفاظتی بند کی مرمت اور بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔
    عوامی حلقوں نے متعلقہ اداروں کی ناقص کارکردگی، وسائل کے ضیاع اور عدم توجہی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی سانحے سے پہلے اقدامات نہ کیے گئے تو ذمہ داری مکمل طور پر حکومت اور محکمہ ایریگیشن پر عائد ہو گی۔

  • اوچ شریف: سگے بیٹے کا جائیداد کے لیے ماں پر بہیمانہ تشدد، پولیس بےحس تماشائی

    اوچ شریف: سگے بیٹے کا جائیداد کے لیے ماں پر بہیمانہ تشدد، پولیس بےحس تماشائی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)تھانہ اوچ شریف کی حدود بستی پہلوان والی میں انسانیت کو شرما دینے والا واقعہ سامنے آیا، جہاں جائیداد کی لالچ میں ایک بیٹے نے ماں جیسے مقدس رشتے کو داغدار کر دیا۔ مقامی شخص عطا حسین نے اپنی بیوی شہناز اور سالی شاریہ کے ساتھ مل کر اپنی ضعیف ماں پٹھانی مائی پر وحشیانہ تشدد کیا، ان کے سر کے بال نوچ ڈالے اور بہنوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ماں کو بدترین بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔

    ذرائع کے مطابق، جب پٹھانی مائی نے اس ظلم کے خلاف مزاحمت کی تو اُسے مزید مارا پیٹا گیا۔ دکھ اور بے بسی کی تصویر بنی ضعیف ماں تھانہ اوچ شریف پہنچی، مگر پولیس نے نہ کوئی کارروائی کی نہ شنوائی کی زحمت گوارا کی۔

    پٹھانی مائی نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے ہاتھ جوڑ کر فریاد کی ہے کہ وہ اس ظلم سے بچائیں۔ روتے ہوئے اس نے کہا، "بی بی جی! میرا بیٹا درندہ بن چکا ہے، اور پولیس بھی اُس کی پشت پر ہے۔ اگر میری داد رسی نہ ہوئی تو میں خودکشی کر لوں گی۔”

    علاقہ مکینوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مظلوم ماں کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے اور ظالم بیٹے و اس کے ساتھیوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس دلخراش واقعے نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی کو بے نقاب کیا ہے بلکہ معاشرتی اقدار کی پستی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

  • بہاولپور: کھیلتے ہوئے کرنٹ لگنے سے دو سالہ بچہ جاں بحق

    بہاولپور: کھیلتے ہوئے کرنٹ لگنے سے دو سالہ بچہ جاں بحق

    بہاولپور(باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) کھیلتے ہوئے کرنٹ لگنے سے دو سالہ بچہ جاں بحق، علاقے میں کہرام

    بہاولپور کے علاقے بندرا پُل، امام بارگاہ والی گلی میں ایک المناک واقعہ پیش آیا جہاں کھیلتے ہوئے دو سالہ معصوم بچہ کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت شہزاد ولد سہیل کے نام سے ہوئی ہے، جو کھیل کے دوران گھر کے باہر رکھے چلتے پیڈسٹل فین سے ٹکرا گیا، اور زوردار جھٹکے سے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    ریسکیو 1122 ذرائع کے مطابق اہل علاقہ نے فوراً اطلاع دی، مگر جب ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچی تو بچہ زندگی کی آخری سانسیں لے چکا تھا۔ ابتدائی معائنے میں تصدیق ہوئی کہ کرنٹ کی شدت سے بچے کی موت واقع ہو چکی ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا پھیل گئی، ہر آنکھ اشکبار اور دل غمزدہ تھا۔ بچے کے لواحقین شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور انہوں نے میت کو اسپتال منتقل کرنے سے انکار کر دیا۔ اہلِ علاقہ کے مطابق بچہ گھر کے باہر کھیل رہا تھا جہاں ایک کھلا پنکھا بغیر کسی حفاظتی انتظام کے چل رہا تھا۔ وہی پنکھا معصوم جان کے لیے جان لیوا بن گیا۔

    یہ افسوسناک واقعہ علاقے میں حفاظتی تدابیر کی شدید کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ والدین اور محلے دار ایسے آلات کو کھلے عام رکھنے سے گریز کریں تاکہ بچوں کی قیمتی جانوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

  • اوچ شریف: گٹکا فروشوں کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کا  کریک ڈاؤن، دو ہزار ساشے تلف، دکانداروں پر جرمانے

    اوچ شریف: گٹکا فروشوں کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، دو ہزار ساشے تلف، دکانداروں پر جرمانے

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) پنجاب فوڈ اتھارٹی بہاولپور کی فوڈ سیفٹی ٹیم نے اوچ شریف میں مضر صحت اور ممنوعہ گٹکا فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کرتے ہوئے دو ہزار سے زائد ساشے موقع پر ضبط کر کے تلف کر دیے۔ کارروائی کے دوران کئی دکانداروں پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے اور متعدد کو وارننگ نوٹس جاری کیے گئے۔

    ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق گٹکا محض ممنوعہ نہیں بلکہ زہریلا مواد ہے جو نوجوان نسل کو کینسر جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا: "اوچ شریف میں اب کوئی گٹکا فروش محفوظ نہیں، جہاں گٹکا ہوگا وہاں فوڈ اتھارٹی کا چھاپہ ہوگا!”

    کریک ڈاؤن کے دوران صرف گٹکا ہی نہیں بلکہ ناقص صفائی، زائدالمیعاد اشیاء، ملاوٹ شدہ مصالحہ جات اور غیر معیاری خوردنی سامان کی بھی نشاندہی کی گئی، جن پر فوری جرمانے اور انتباہی نوٹس جاری کیے گئے۔

    فوڈ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ گٹکا فروخت اب "سرعام جرم” تصور کیا جائے گا اور ملوث افراد کے خلاف FIR درج کر کے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ یہ پیغام نہ صرف گٹکا فروشوں بلکہ ان کے سہولت کاروں اور ذخیرہ اندوزوں کے لیے بھی ہے کہ اب قانون حرکت میں آ چکا ہے۔

    پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اوچ شریف کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ممنوعہ اشیاء کی فروخت کی اطلاع فوری طور پر ہیلپ لائن 1223 یا فوڈ اتھارٹی کی موبائل ایپ کے ذریعے دیں، تاکہ صحت دشمن عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی جا سکے۔

  • سعودی سفارت خانہ کے شعبہ الملحق الدینی کے نمائندہ کا اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا دورہ

    سعودی سفارت خانہ کے شعبہ الملحق الدینی کے نمائندہ کا اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا دورہ

    پاکستان میں سعودی سفارت خانہ کے شعبہ الملحق الدینی کے نمائندہ خصوصی وایڈیشنل ڈائیریکٹر انٹر نیشنل لنکجز اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور ڈاکٹر حافظ مسعودعبد الرشید اظہر نے وفد اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ڈاکٹر کامران سے ملاقات کی اور انھیں یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا منصب سنبھالنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ، پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں یونیورسٹی عالمی رینکنگ تک پہنچے گی۔ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر نے ڈاکٹر کامران کو ماضی قریب میں المجلس الاسلامی باکستان، کلیة القرآن الکریم والتربیة الاسلامیة اور سعودی حکومت کے تعاون سے یونیورسٹی میں تعمیر کردہ تقریباََ چار کروڑ کی لاگت سے ایک ہزار نمازیوں کی گنجائش رکھنے والی پر شکوہ مسجد جامع ابن کثیر سمیت مختلف پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور وہ پراجیکٹس جو سعودی حکومت کی طرف سے منظور ہونے کے باوجود ابھی تک یونیورسٹی میں شروع نہیں کیے جاسکے ،ان پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر کامران نے رکے ہوئے پراجیکٹس از سر نو شروع کرنے پر زور دیا جس پر ڈاکٹر حافظ مسعودعبدالرشید نے کہا میں ابنائے جامعہ میں سے ہوں میری شدید خواہش ہے کہ میں اپنی مادر علمی کی خدمت کروں۔ ڈاکٹر کامران نے اسلامیہ یونیورسٹی میں سیرت چیئر کی مستقل بلڈنگ کی ضرورت پر بھی زور دیا جس پر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کہا ہم یونیورسٹی کو ڈیلیور کرنا چاھتے ہیں۔ڈاکٹر کامران نے سعودی حکومت کے تعاون سے اسلامیہ یونیورسٹی میں مکمل کئے گئے پراجیکٹس پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کو آپ جیسے ہونہار طالب علم پر فخر ہے۔رئیس المجلس الاسلامی ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے ڈاکٹر کامران کو کنگ فہد قرآن کمپلکس کے طبع شدہ درجنوں اردو ترجمہ وتفاسیر والے قرآن مجید پیش کیے ۔ ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر کے ہمراہ وفد میں معروف سکالر پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبیدالرحمان ، حکیم احمد حسین اتحادی گولڈ میڈلسٹ ، حافظ عبداللہ بن مسعود اور دیگر بھی شامل تھے۔ وفد نے ڈاکٹر کامران کے علاوہ یونیورسٹی کے دیگر سٹاف شہزاد احمد ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز، رجسٹرار یونیورسٹی شجیع الرحمان اور خزانہ دار عبدالستارظہوری، عرفان غازی ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات غلام محمد سے بھی ملاقات کی ۔