Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: بیوہ خاتون کا مکان چھین لیا گیا، جان کو خطرہ، انصاف نہ ملا تو خودسوزی کا اعلان

    اوچ شریف: بیوہ خاتون کا مکان چھین لیا گیا، جان کو خطرہ، انصاف نہ ملا تو خودسوزی کا اعلان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اسلام نگر اوچ شریف کی رہائشی بیوہ خاتون کوثر بی بی انصاف کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ آنکھوں میں آنسو، زبان پر فریاد، اور دل میں خوف لیے کوثر بی بی نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ اُسے تحفظ دیا جائے اور اُس کا چھینا گیا مکان واپس دلوایا جائے۔

    کوثر بی بی کے مطابق اُس کے شوہر سید محمد رمضان شاہ نے اپنی زندگی میں ہی ڈھائی مرلہ مکان اس کے نام کر دیا تھا تاکہ وہ بیوی کی حیثیت سے باعزت زندگی گزار سکے۔ مگر شوہر کی وفات کے بعد اس کے بھائی، دوسری بیوی، بیٹے اور سوتن کے دیور اختر نے مبینہ طور پر گٹھ جوڑ کر کے مکان پر قبضہ جما لیا اور اُسے زبردستی بے دخل کر دیا۔

    بیوہ خاتون کا کہنا ہے کہ صرف بے گھر ہی نہیں کیا گیا بلکہ اب ان افراد کی جانب سے روزانہ حراساں کیا جا رہا ہے۔ کوثر بی بی نے بتایا کہ وہ مسلسل دھمکیوں، کردارکشی اور عزت پامال کیے جانے جیسے حالات کا شکار ہے۔

    اپنی تحریری درخواست میں کوثر بی بی نے تمام شواہد بھی پیش کیے ہیں اور کہا ہے کہ اگر اُسے انصاف نہ ملا تو وہ خود سوزی پر مجبور ہو جائے گی۔ اس کا کہنا تھا: "کیا بیوہ ہونا جرم ہے؟ کیا ہم اس معاشرے میں صرف مرنے کے لیے رہ گئے ہیں؟”

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کوثر بی بی نہایت شریف اور سادہ لوح خاتون ہے جس کے ساتھ شدید ظلم روا رکھا جا رہا ہے۔ اگر مقامی انتظامیہ نے فوری مداخلت نہ کی تو یہ معاملہ ریاستی نااہلی اور انسانیت سوز غفلت کی علامت بن جائے گا۔

  • اوچ شریف: محکمہ اوقاف کی غفلت، تاریخی مساجد میں آئمہ و مؤذنین کے عہدے خالی، نمازی پریشان

    اوچ شریف: محکمہ اوقاف کی غفلت، تاریخی مساجد میں آئمہ و مؤذنین کے عہدے خالی، نمازی پریشان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف میں محکمہ اوقاف کے زیرانتظام درجنوں تاریخی مساجد میں آئمہ، خطباء اور مؤذنین کے عہدے طویل عرصے سے خالی چلے آ رہے ہیں، جس کے باعث نمازیوں اور زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق جامع مسجد درگاہ حضرت شیر شاہ سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ، جامع مسجد درگاہ حضرت راجن قتالؒ سمیت دیگر بزرگانِ دین کے مزارات سے ملحقہ متعدد تاریخی مساجد میں عرصہ دراز سے آئمہ و خطباء اور مؤذنین کی سرکاری تعیناتیاں نہیں ہو سکیں۔ یہ تمام مزارات اور مساجد فروری 1966ء میں ناظم اعلیٰ اوقاف مغربی پاکستان کے تحت محکمہ اوقاف کی تحویل میں دی گئی تھیں۔

    ان مزارات سے محکمہ اوقاف کو چراغی، تیل، جھنڈ، لنگر، نمک اور پھول دانہ کی مد میں ہر ماہ لاکھوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنی بڑی مالیاتی آمدنی کے باوجود محکمہ اوقاف نہ صرف مساجد میں آئمہ و مؤذنین کی تعیناتیوں میں ناکام رہا ہے بلکہ زائرین کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی مجرمانہ غفلت برت رہا ہے۔

    بیشتر مساجد میں نمازوں کی امامت اور اذان کی ادائیگی مقامی افراد رضا کارانہ طور پر انجام دے رہے ہیں۔ اہلِ علاقہ اور زائرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر سید طاہر رضا بخاری سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان تاریخی اور روحانی اہمیت کی حامل مساجد میں آئمہ، خطباء اور مؤذنین کی باقاعدہ تعیناتیاں کی جائیں تاکہ نمازیوں کو مذہبی فرائض کی ادائیگی میں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  • اوچ شریف: دھوڑکوٹ بند پر درختوں کی غیرقانونی کٹائی، ہوٹل مالکان ملوث

    اوچ شریف: دھوڑکوٹ بند پر درختوں کی غیرقانونی کٹائی، ہوٹل مالکان ملوث

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے دھوڑکوٹ سرکاری بند پر درختوں کی بےدردی سے کٹائی جاری ہے۔ مقامی ہوٹل مالکان مبینہ طور پر ایندھن کے لیے بڑے پیمانے پر درخت کاٹ رہے ہیں، جس سے ماحولیاتی توازن اور سیلابی تحفظ دونوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

    شہریوں نے اس عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ حکام فوری نوٹس لیں اور متعلقہ محکمے غیر قانونی درختوں کی کٹائی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ درخت بند کو مضبوط رکھنے اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف قدرتی ڈھال کا کردار ادا کرتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق درختوں کی کٹائی کا سلسلہ کئی روز سے جاری ہے لیکن متعلقہ محکمہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو علاقہ شدید ماحولیاتی خطرات کی زد میں آ سکتا ہے۔ شہریوں نے بند پر دوبارہ شجرکاری کر کے سرکاری اثاثے کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

  • اوچ شریف: تین پل خستہ حالی کا شکار، ایم پی اے مخدوم عامر علی شاہ کا پنجاب اسمبلی میں فوری فنڈز کا مطالبہ

    اوچ شریف: تین پل خستہ حالی کا شکار، ایم پی اے مخدوم عامر علی شاہ کا پنجاب اسمبلی میں فوری فنڈز کا مطالبہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقوں میں واقع تین اہم پل — پل پنجند، پل رائیساں اور پل جھانگڑہ — خستہ حالی کے باعث عوام کے لیے خطرے کی علامت بن چکے ہیں۔ حلقہ پی پی 250 سے رکنِ صوبائی اسمبلی مخدوم سید عامر علی شاہ نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ان پلوں کی مخدوش حالت کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت سے فوری فنڈز جاری کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

    اسمبلی کے فلور پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مخدوم عامر علی شاہ نے کہا کہ یہ پل نہ صرف اوچ شریف کے دیہی علاقوں کو شہری مراکز سے جوڑنے کا ذریعہ ہیں بلکہ زرعی اجناس کی ترسیل اور مقامی معیشت کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ "ان کی ٹوٹ پھوٹ اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ روزانہ سفر کرنے والے شہری اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر ان پر گزرنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال کسی بڑے سانحے کو دعوت دے رہی ہے۔”

    ایم پی اے نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ فوری اقدامات کرے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ "یہ صرف بنیادی ڈھانچے کا نہیں، انسانی جانوں کا مسئلہ ہے۔”

    مقامی سطح پر بھی ان پلوں کی بگڑتی صورتحال پر سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں نے بتایا کہ متعدد بار متعلقہ حکام کی توجہ دلائی گئی لیکن تاحال کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے ایم پی اے مخدوم سید عامر علی شاہ کے جرات مندانہ مؤقف کو سراہتے ہوئے اُمید ظاہر کی ہے کہ حکومت اب ان پلوں کی مرمت و بحالی کے لیے فنڈز فراہم کرے گی اور اس دیرینہ مسئلے کا فوری حل نکالے گی۔

  • اوچ شریف:سب تحصیل کمپلیکس مسائل کا گڑھ بن گیا، عمارت شکستہ، سہولیات ناپید، سائلین پریشان

    اوچ شریف:سب تحصیل کمپلیکس مسائل کا گڑھ بن گیا، عمارت شکستہ، سہولیات ناپید، سائلین پریشان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف میں قائم سب تحصیل کمپلیکس بدترین بدانتظامی، ٹوٹ پھوٹ اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کا شکار ہو چکا ہے۔ خستہ حال عمارت میں ریونیو، لینڈ ریکارڈ، محکمہ تعلیم اور یونین کونسل کے دفاتر قائم ہیں، جہاں نہ واٹر سپلائی فعال ہے، نہ سیوریج سسٹم مؤثر، اور نہ ہی چار دیواری موجود ہے۔ قریبی مکینوں نے دفاتر کے عقب میں جانور باندھ رکھے ہیں جبکہ دفتری عملہ اور سائلین پینے کے صاف پانی سمیت دیگر سہولیات کی عدم دستیابی سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سب تحصیل کمپلیکس کی عمارت عرصہ دراز سے شکستہ حالت میں ہے۔ ریونیو آفس کی چھتیں بوسیدہ ہو چکی ہیں اور یونین کونسل کا دفتر بھی اسی خطرناک عمارت میں موجود ہے۔ لینڈ ریکارڈ آفس کے لیے رہائشی کمروں کو ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ اردگرد خود رو گھاس اور گندگی کے ڈھیر تعفن پھیلا رہے ہیں۔ نائب تحصیل دار کے رہائشی کوارٹر بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ واٹر سپلائی کی ٹینکی ناکارہ ہو چکی ہے اور پائپ لائنیں زنگ آلود ہیں، جب کہ ڈسپوزل یونٹ کی خرابی کے باعث سیوریج کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔

    چار دیواری کی عدم موجودگی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ عقبی سمت میں مکینوں نے دیواریں توڑ کر راستے بنا لیے ہیں اور دفاتر کے عقب میں مویشی باندھ رکھے ہیں۔ صفائی نہ ہونے کے سبب گھاس پھونس اگ چکی ہے اور گندگی کا راج ہے۔ دو رویہ سڑک کی تعمیر کے بعد سب تحصیل کمپلیکس کی سطح پانچ فٹ نیچے چلی گئی ہے جس کی وجہ سے بارش کے بعد تمام پانی کمپلیکس میں جمع ہو جاتا ہے، اور یہ علاقہ تالاب کا منظر پیش کرتا ہے، جس سے دفاتر میں آنے والے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    شہریوں محمد ریاض، تصور حسین، ملک محمد اسلم، محمد یونس، عبدالجبار، نصیر احمد، عبدالمجید، امتیاز احمد اور مظہر علی سمیت دیگر نے کمشنر بہاولپور ڈویژن مسرت جبیں اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے سب تحصیل کمپلیکس کی بحالی، صفائی، چار دیواری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو۔

  • بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی کے لیکچرار پر طالبہ کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام، مقدمہ درج

    بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی کے لیکچرار پر طالبہ کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام، مقدمہ درج

    بہاولپور (نامہ نگار) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وزیٹنگ لیکچرار کی جانب سے طالبہ کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آ گیا۔ پولیس تھانہ بغداد الجدید نے مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جبکہ وائس چانسلر نے مذکورہ لیکچرار پر یونیورسٹی میں داخلے اور تدریسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ سافٹ ویئر انجنئیرنگ کی طالبہ (م) نے ایف آئی آر نمبر 1173/25 تھانہ بغداد الجدید میں موقف اختیار کیا ہے کہ احمد محمود نامی وزیٹنگ لیکچرار نے گزشتہ روز اسے اپنے گھر بلایا۔ وہاں اس نے نہ صرف 50 ہزار روپے رشوت طلب کی بلکہ جنسی خواہشات کی تکمیل نہ ہونے پر امتحان میں فیل کرنے کی دھمکی دی اور دست درازی کی کوشش کی۔

    پولیس نے مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جبکہ یونیورسٹی کی ہراسمنٹ کمیٹی نے بھی واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ جنسی ہراسانی کے معاملے پر زیرو ٹالرینس کی پالیسی رکھتی ہے، اور اسی بنیاد پر لیکچرار احمد محمود کے نہ صرف کلاسز پڑھانے پر پابندی عائد کی گئی ہے بلکہ اس کے یونیورسٹی میں داخلے پر بھی مکمل طور پر روک لگا دی گئی ہے۔

  • اوچ شریف: محکمہ ڈاک کی غفلت، بیٹ بختیاری کا شہری پارسل لینے آیا، خالی ہاتھ لوٹ گیا

    اوچ شریف: محکمہ ڈاک کی غفلت، بیٹ بختیاری کا شہری پارسل لینے آیا، خالی ہاتھ لوٹ گیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) محکمہ ڈاک اوچ شریف کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ داری کا ایک اور واقعہ، نواحی علاقے بیٹ بختیاری کے رہائشی محمد آصف کو شدید گرمی میں طویل فاصلہ طے کر کے پوسٹ آفس پہنچنے کے باوجود پارسل نہ دیا گیا۔

    محمد آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا ضروری پارسل اوچ شریف ڈاکخانے پہنچ چکا تھا، مگر متعلقہ عملے نے اسے گھر پہنچانے کے بجائے فون کر کے خود آنے کو کہا۔ محمد آصف کے مطابق جب وہ شدید گرمی میں تھکا ہارا پوسٹ آفس پہنچا تو عملے نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ملازم ابھی آیا نہیں، کل آ کر پارسل لے جانا۔ کئی گھنٹوں کے انتظار کے باوجود بھی کسی نے شنوائی نہ کی، جس پر وہ خالی ہاتھ اور مایوس واپس لوٹا۔

    محمد آصف کا کہنا تھا کہ اس کی عزتِ نفس کو مجروح کیا گیا، اور وہ اذیت ناک تجربے سے گزرا۔ اس نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور محکمہ ڈاک کے ناقص نظام کو درست کیا جائے۔

    اوچ شریف کے دیگر شہریوں نے بھی شکایات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں، محکمہ ڈاک کی تاخیر، بدانتظامی اور غیر ذمہ دار عملے کی شکایات عام ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ محکمہ ڈاک کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ شہریوں کی بنیادی سہولیات میں مزید رکاوٹ نہ آئے۔

  • احمد پور شرقیہ: پسند کی شادی میں ناکامی پر نوجوان کی خودکشی، ورثہ کا پوسٹ مارٹم سے انکار، احتجاج

    احمد پور شرقیہ: پسند کی شادی میں ناکامی پر نوجوان کی خودکشی، ورثہ کا پوسٹ مارٹم سے انکار، احتجاج

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) تھانہ دھوڑکوٹ کی حدود میں موضع ودھنور کے رہائشی نوجوان نے پسند کی شادی نہ ہونے اور والد کی ڈانٹ سے دلبرداشتہ ہو کر زہریلی دوا پی کر خودکشی کر لی۔ متوفی کی شناخت 22/23 سالہ عبدالحمید ولد سعید احمد، قوم حسام کے طور پر ہوئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق عبدالحمید نے گھریلو رنجش اور مرضی کی شادی میں ناکامی پر گھر میں موجود فصلِ کپاس پر استعمال ہونے والی زہریلی اسپرے پی لی۔ تشویشناک حالت میں اسے فوری طور پر بہاول وکٹوریہ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔ واقعے کی اطلاع پر مقامی پولیس افسر خدا بخش ایس آئی نے ضابطے کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے احمد پور شرقیہ ہسپتال منتقل کیا۔

    تاہم لواحقین نے پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ لاش بغیر پوسٹ مارٹم کے حوالے کی جائے۔ پولیس نے قانونی تقاضوں کے تحت پوسٹ مارٹم کو ضروری قرار دیا جس پر متوفی کے ورثہ نے سول ہسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی۔ احتجاج کی اطلاع پر ایس ایچ او تھانہ سٹی احمد پور شرقیہ فوری طور پر موقع پر پہنچے، ورثہ سے مذاکرات کیے اور انہیں اعتماد میں لے کر روڈ کھولوا دیا۔

    پولیس اور ورثہ کے درمیان جاری کشیدگی وقتی طور پر ختم کر دی گئی ہے، جبکہ قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • پنجاب کے 1183 تاریخی مقامات کھدائی کے منتظر، ہزاروں سال پرانی تہذیبیں مٹنے لگیں

    پنجاب کے 1183 تاریخی مقامات کھدائی کے منتظر، ہزاروں سال پرانی تہذیبیں مٹنے لگیں

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) پنجاب بھر میں 7 ہزار قبل مسیح سے لے کر برٹش دور تک کے 1183 آثار قدیمہ کی سائٹس کھدائی نہ ہونے کے باعث مٹنے کے خطرے سے دوچار ہو چکی ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کی 29 سال پرانی تحقیق کے مطابق ان میں سے کسی ایک مقام پر بھی عملی کام شروع نہیں کیا جا سکا۔ فنڈز کی عدم دستیابی اور حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے ہزاروں سالہ تاریخی ورثہ زمین میں دفن ہو کر معدوم ہونے لگا ہے۔

    1992 میں مرتب کی گئی محکمانہ فہرست کے مطابق صرف بہاولپور اور چولستان میں 454 سائٹس موجود ہیں، جبکہ مجموعی طور پر صوبے بھر میں 7 ہزار قبل مسیح کی 19، 3300 قبل مسیح کی ہاکڑہ تہذیب، 2500 قبل مسیح کی ہڑپہ کے ابتدائی دور کی 56، درمیانے دور کی 31، 1400 قبل مسیح کی 5، 700 قبل مسیح کی 256 سائٹس، ابتدائی اسلامی دور (آٹھویں تا گیارہویں صدی) کی 145، سلاطین دور (12ویں تا 15ویں صدی) کی 195، مغلیہ دور (15ویں تا 18ویں صدی) کی 324 اور سکھ و برطانوی دور (18ویں صدی تا 1947) کی 176 سائٹس شامل ہیں۔

    ضلع بہاولپور میں 60، ملتان میں 50، خانیوال میں 51، وہاڑی میں 39، لودھراں میں 36، راجن پور میں 11، ڈیرہ غازی خان میں 14، مظفر گڑھ میں 20، لیہ میں 11 اور جھنگ میں 55 آثار قدیمہ کی نشان دہی کی جا چکی ہے۔ اوچ شریف میں محلہ بخاری جبکہ چولستان میں قلعہ ڈراوڑ سے 40 کلومیٹر دور گویری والا اور کڈھ والا سائٹس یزمان کی ہڑپہ دور کی تاریخ بیان کرتی ہیں، جن کی کھدائی سے قبل مسیح کے قدیم شہر منظر عام پر آ سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان مقامات پر سنجیدہ کھدائی شروع کی جائے تو پنجاب میں ہڑپہ اور سندھ میں موہنجو داڑو کے درمیانی دور کی مکمل گمشدہ تہذیب کو دریافت کیا جا سکتا ہے۔ تاہم محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے آج تک کسی بھی سائٹ پر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا، جس کے باعث یہ قیمتی ورثہ وقت کے ساتھ مٹتا جا رہا ہے۔ ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری فنڈز فراہم کر کے ان تاریخی مقامات کی کھدائی اور تحفظ کا عمل شروع کیا جائے تاکہ ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کی بقا ممکن ہو سکے۔

  • اوچ شریف: تربیلا ڈیم میں ڈوبنے والے نوجوان کی 3 روز بعد لاش برآمد

    اوچ شریف: تربیلا ڈیم میں ڈوبنے والے نوجوان کی 3 روز بعد لاش برآمد

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان)اسلام آباد کے تربیلا ڈیم میں نہاتے ہوئے ڈوبنے والا اوچ شریف کا نوجوان محمد علی اکبر مانک تین روز کی مسلسل تلاش کے بعد مردہ حالت میں مل گیا، جس کے بعد چک مانک گاؤں میں کہرام مچ گیا اور علاقہ سوگ میں ڈوب گیا۔

    محمد علی اکبر مانک، جو روزگار کے سلسلے میں اسلام آباد میں مقیم تھا، تین روز قبل دوستوں کے ہمراہ تفریح کے لیے غازی تربیلا ڈیم گیا تھا، جہاں نہاتے ہوئے وہ اچانک گہرے پانی میں ڈوب گیا۔ واقعے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے تین دن مسلسل سرچ آپریشن جاری رکھا اور آج بالآخر اس کی لاش برآمد کر لی گئی۔

    لاش کی اطلاع جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، گاؤں میں غم و اندوہ کی فضا چھا گئی، والدین اور عزیز و اقارب پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اسلام آباد میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں دوست احباب اور اہل علاقہ نے شرکت کی، بعدازاں میت کو آبائی گاؤں چک مانک منتقل کیا گیا جہاں آج تدفین عمل میں لائی جائے گی۔

    اہل علاقہ نے نوجوان کی ناگہانی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ہر دل کو دہلا دینے والا ہے اور والدین کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ ہے۔