Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: رمضان کی آمد پر مہنگائی کا طوفان، ذخیرہ اندوز سرگرم، عوام پریشان

    اوچ شریف: رمضان کی آمد پر مہنگائی کا طوفان، ذخیرہ اندوز سرگرم، عوام پریشان

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) رمضان المبارک کی آمد قریب آتے ہی سٹاک مافیا نے اشیائے خورد و نوش کی مصنوعی قلت پیدا کرکے من مانی قیمتوں پر فروخت کے لیے ذخیرہ اندوزی شروع کر دی، جس کے باعث عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ وئیر ہاؤسز، گوداموں اور ڈیروں پر اشیاء کی وافر مقدار میں ذخیرہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ متعلقہ افسران اور ذخیرہ اندوزوں کے گٹھ جوڑ کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ تحصیل و مقامی انتظامیہ کی خاموشی سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور کمشنر بہاولپور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کے قریب آتے ہی اوچ شریف اور گردونواح میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چینی، گھی، سبزیاں، پھل اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جبکہ اسٹاک مافیا کی جانب سے بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی کے باعث مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

    شہری محمد آصف، مشتاق احمد، محمد یوسف، سمیع اللہ فاروقی، طلحہ خان اور محمد اسماعیل سمیت دیگر افراد نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی کے طوفان کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ غریب عوام رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں سہولت کے ساتھ روزے رکھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال رمضان سے قبل مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے، مگر حکومتی اقدامات ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔

    شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ تحصیل و ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ذخیرہ اندوزوں، منافع خوروں اور ناجائز منافع کمانے والے تاجروں کے خلاف کوئی عملی کارروائی نہیں کی جا رہی، جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کر کے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جائے۔

    تاجر برادری کا کہنا ہے کہ حکومت کو محض کارروائیوں پر توجہ دینے کے بجائے مہنگائی کی اصل وجوہات پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی پالیسی مرتب کرنی چاہیے، تاکہ ہر سال رمضان میں پیدا ہونے والی مشکلات کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ شہریوں نے کمشنر بہاولپور اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر نوٹس لے کر ہنگامی اقدامات کیے جائیں، تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور روزے دار کسی قسم کی مشکلات کا شکار نہ ہوں۔

  • اوچ شریف: جلوے بکھیرتی بھکارنیوں کی یلغار، نوجوان گمراہی کا شکار

    اوچ شریف: جلوے بکھیرتی بھکارنیوں کی یلغار، نوجوان گمراہی کا شکار

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) شہر اور گردونواح میں پیشہ ور بھکاریوں کی یلغار، خصوصاً خوبرو نوجوان بھکارنیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں کو پریشان کر دیا۔ مارکیٹوں، بازاروں اور گلی کوچوں میں علی الصبح ہی ان کا راج قائم ہو جاتا ہے، جہاں یہ خواتین نہ صرف بھیک مانگتی ہیں بلکہ نوجوانوں کو بے راہ روی کی طرف مائل کرنے کا ذریعہ بھی بن رہی ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اوچ شریف اور ملحقہ علاقوں میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے باعث بازاروں میں خریداری کرنے آنے والے شہری، خاص طور پر خواتین، شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ گاہکوں سے پہلے ہی بھکاری مارکیٹوں میں پہنچ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ گداگری کے نام پر چلنے والا یہ دھندہ محض بھیک مانگنے تک محدود نہیں رہا بلکہ بعض نوجوان بھکارنیوں کے گروہ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق یہ خواتین بھیک مانگنے کی آڑ میں نوجوانوں کو گناہ کی دعوت دیتی ہیں، جس سے نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے۔ کئی مقامات پر بھکاری خواتین اور ان کے ساتھ موجود چھوٹے بچے مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں، لیکن انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

    شہریوں نے شکایت کی ہے کہ مقامی پولیس، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق گداگری ایکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث یہ پیشہ ور گروہ دن بدن مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔

    عوامی حلقوں نے کمشنر بہاولپور، آر پی او بہاولپور، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں بڑھتی ہوئی گداگری، منشیات فروشی اور فحاشی میں ملوث گروہوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے اور گرینڈ آپریشن کے ذریعے پیشہ ور بھکاریوں کا خاتمہ کیا جائے، تاکہ شہری بلا خوف و خطر خریداری کر سکیں اور نوجوان نسل اخلاقی گراوٹ سے محفوظ رہ سکے۔

  • اوچ شریف: تیز رفتاری کے باعث موٹر سائیکل حادثہ، 16 سالہ لڑکا جاں بحق،چھوٹا بھائی زخمی

    اوچ شریف: تیز رفتاری کے باعث موٹر سائیکل حادثہ، 16 سالہ لڑکا جاں بحق،چھوٹا بھائی زخمی

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے نو شہرہ جدید میں تیز رفتاری کے باعث موٹرسائیکل حادثہ، 16 سالہ لڑکامحمد اشرف جاں بحق جبکہ اس کا 6 سالہ بھائی شدید زخمی ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق جھانگڑہ روڈ پر ایک تیز رفتار موٹر سائیکل بے قابو ہو کر فٹ پاتھ سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں محمد اشرف ولد محمد اکرم موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ اس کا 6 سالہ بھائی محمد اظہر شدید زخمی ہو گیا۔

    ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچی اور زخمی بچے کو طبی امداد دینے کے بعد وکٹوریہ ہسپتال، بہاولپور منتقل کر دیا گیا۔ ریسکیو عملے کے مطابق حادثہ موٹر سائیکل کی تیز رفتاری اور عدم توازن کے باعث پیش آیا۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی، جبکہ جاں بحق نوجوان کی میت قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی۔

  • بہاولپور:دربار حضرت چنن پیر کے عرس پر 27 فروری کو عام تعطیل کا اعلان

    بہاولپور:دربار حضرت چنن پیر کے عرس پر 27 فروری کو عام تعطیل کا اعلان

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان)حضرت عماد الدین المعروف چنن پیر کے عرس کے موقع پر بہاولپور میں کل مقامی تعطیل ہوگی ۔

    ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق (کل) 27 فروری بروز جمعرات مقامی تعطیل ہوگی۔ مقامی تعطیل کا اعلان بسلسلہ عرس مبارک حضرت عماد الدین میلہ چنن پیر ضلع بہاولپور کے حوالے سے کیا گیا ہے۔

    بہاول پور سے تقریباً 60 میل دور صحرائے چولستان میں قلعہ ڈیراور اور دین گڑھ کے درمیان پنجاب کی رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی تحصیل یزمان سے ذرا آگے چنن پیر کا مزار ہے، تقریباً 600 سال قدیم اس مزار پر ہندو اور مسلمان یکساں ایمان سے آتے ہیں۔

    حضرت عماد الدین المعروف چنن پیر کا عرس پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد عرس ہے جو مسلسل سات ہفتے یعنی فروری کی آخری جمعرات بمطابق ہندی مہینے چیت سے شروع ہو کر اپریل کی اوائل جمعرات تک جاری رہتا ہے، مسلسل سات جمعرات تک جاری رہنے والا یہ میلہ پانچویں جمعرات کو اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔

    عرس مبارک کی تقریبات روایتی جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ جاری ہیں، جہاں ملک بھر سے زائرین کی بڑی تعداد دربار حضرت چنن پیر پر حاضری دے رہی ہے۔ یہ دربار صدیوں سے عقیدت و روحانیت کا مرکز رہا ہے، اور ہر سال عرس کے موقع پر لاکھوں عقیدت مند یہاں حاضر ہو کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ نے زائرین کی سہولت کے لیے سیکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ رہیں گے، جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ زائرین کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

    مقامی افراد اور زائرین نے ضلعی انتظامیہ کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ عام تعطیل کے اعلان سے عرس مبارک کی تقریبات میں شرکت مزید آسان ہو جائے گی۔

  • اوچ شریف: بڑھتے حادثات، ریسکیو 1122 کی کارکردگی اور حفاظتی اقدامات پر غور

    اوچ شریف: بڑھتے حادثات، ریسکیو 1122 کی کارکردگی اور حفاظتی اقدامات پر غور

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات اور ریسکیو 1122 کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ریسکیو 1122 اوچ شریف انچارج محمد اکرم نے پریس کلب اوچ شریف اینڈ پی سی ڈیجیٹل میڈیا کے صدر میاں محمد عامر صدیقی، جنرل سیکرٹری حبیب خان اور دیگر عہدیداران خواجہ سہیل عباس شفیق انجم صفدر حسین سے خصوصی ملاقات کی۔

    ریسکیو انچارج محمد اکرم نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر باقر حسین کی ہدایات کے تحت ریسکیو 1122 اپنی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے دن رات مصروف عمل ہے۔ اس وقت اوچ شریف مرکز میں 16 اسٹاف ممبرز، 2 ایمبولینسز اور 6 کوالیفائیڈ ڈسپنسرز دستیاب ہیں جو ہر قسم کی ایمرجنسی میں عوام کو بروقت امداد فراہم کر رہے ہیں۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ روزانہ 8 سے 10 ایمرجنسی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں زیادہ تر ٹریفک حادثات شامل ہیں۔ قومی شاہراہ، جلال پور ایکسپریس روڈ، پنجند روڈ اور ککس موڑ جیسے مقامات حادثات کے ہاٹ اسپاٹ بن چکے ہیں، جہاں روزانہ قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

    ریسکیو انچارج کے مطابق ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں تیز رفتاری، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، ہیلمٹ اور حفاظتی تدابیر کا عدم استعمال اور روڈ سیفٹی کے بنیادی اصولوں کی کمی شامل ہیں۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر باقر حسین نے ہدایت دی ہے کہ ریسکیو 1122 کی تمام ٹیمیں الرٹ رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امدادی کارروائیاں انجام دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی مہم شروع کی جائے گی، تاکہ شہریوں کو روڈ سیفٹی کے اصولوں پر عمل کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔

    اوچ شریف پریس کلب کے صدر میاں محمد عامر صدیقی اور جنرل سیکرٹری حبیب خان نے ریسکیو 1122 کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے وسائل میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہری ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں، ہیلمٹ کا استعمال یقینی بنائیں اور حفاظتی تدابیر اپنائیں تو حادثات کی شرح میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

    ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا شہری روڈ سیفٹی کے اصولوں پر عمل کریں گے، یا مزید قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہیں گی؟

  • اوچ شریف: ککس موڑ پر موت کا رقص،آئے روز حادثات، انتظامیہ تماشائی

    اوچ شریف: ککس موڑ پر موت کا رقص،آئے روز حادثات، انتظامیہ تماشائی

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) ککس موڑ پر موت کا رقص جاری، آئے روز حادثات، انتظامیہ تماشائی

    تفصیل کے مطابق اوچ شریف کے نواح میں واقع ککس موڑجہاں ہر روز موت گھات لگائے بیٹھی ہے، جہاں روزانہ کوئی نہ کوئی قیمتی جان حادثے کی نذر ہو جاتی ہے مگر انتظامیہ کی آنکھیں بند اور ضمیر سو رہا ہے۔

    تازہ ترین واقعے میں 50 سالہ محمد اقبال ولد حاجی احمد جو ہتھیجی کے رہائشی تھے، ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو گئے۔ تیز رفتار ٹرالی اور ٹریلر کے خوفناک تصادم کے باعث وہ شدید زخمی ہوئے۔ ریسکیو ٹیمیں فوراً موقع پر پہنچیں مگر سر پر شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے محمد اقبال ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔

    یہ پہلا سانحہ یا حادثہ نہیں ہے کہ بلکہ ککس موڑ پر ہونے والے حادثات کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست ہے، جہاں اب تک درجنوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ہر حادثے کے ساتھ کسی کا سہاگ اجڑ جاتا ہے، کسی ماں کی گود خالی ہو جاتی ہے اور کئی بچے یتیم ہو جاتے ہیں مگر متعلقہ ادارے خوابِ غفلت میں ہیں۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ حادثات انتظامیہ کی بے حسی اور لاپرواہی کا نتیجہ ہیں۔ اگر یہاں مناسب ٹریفک سائنز، اسپیڈ بریکر اور دیگر حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو کئی قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکتی تھیں۔

    شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر حفاظتی اقدامات کیے جائیں، بصورتِ دیگر عوام احتجاج پر مجبور ہوگی۔
    شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید قیمتی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ کیا انتظامیہ مزید گھروں کے چراغ گل ہونے کے بعد جاگے گی؟ یا پھر عوام کو خود سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق کے لیے لڑنا ہوگا؟

    حکام کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے، ورنہ عوامی غصہ ایک شدید احتجاج میں تبدیل ہو سکتا ہے!

  • احمدپور شرقیہ: تیزاب گردی کی شکار شاہینہ زندگی و موت کی کشمکش میں، انصاف کب ملے گا؟

    احمدپور شرقیہ: تیزاب گردی کی شکار شاہینہ زندگی و موت کی کشمکش میں، انصاف کب ملے گا؟

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگار حبیب خان) احمدپور شرقیہ کے علاقے تھانہ صدر کی حدود میں تیزاب گردی کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جہاں 45 سالہ محنت کش خاتون شاہینہ بی بی اور اس کی 11 سالہ بیٹی مسکان پر رات کی تاریکی میں تیزاب پھینک دیا گیا۔ واقعہ 20 فروری کو رات 11 بجے پیش آیا جب ماں اور بیٹی اپنے گھر میں سو رہی تھیں۔

    تیزاب گردی کے نتیجے میں شاہینہ بی بی بری طرح جھلس گئیں اور انہیں تشویشناک حالت میں نشتر ہسپتال ملتان منتقل کیا گیا، جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں جبکہ 11 سالہ مسکان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    متاثرہ خاتون کے اہل خانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ڈی پی او بہاولپور سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ والدہ زرینہ بی بی کی مدعیت میں ایک نامزد اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    متاثرہ خاتون کے والد غلام یٰسین نے آبدیدہ ہو کر بتایا کہ ان کی بیٹی کو اس کے شوہر مجاہد اور اس کے بہن بھائیوں کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ "ہم تمہیں زہر دے دیں گے” اور ان پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ 10 مرلہ پلاٹ ان کے نام کروائیں اور رقم حوالے کریں۔

    متاثرہ خاتون کے 14 سالہ بیٹے زبیر کا بھی کہنا ہے کہ اس کی والدہ کو مسلسل دھمکایا جا رہا تھاجبکہ واقعے کے بعد بھی گواہوں کو ملزمان کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہسپتال میں بھی شاہینہ کی جان کو خطرہ لاحق ہے لہٰذا وہاں سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

    پولیس کے مطابق تفتیش جاری ہے اور میرٹ پر فیصلہ کیا جائے گا جبکہ سماجی و سیاسی حلقوں نے تیزاب گردی کے اس اندوہناک واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • اوچ شریف: چوروں کی حکمرانی، پولیس بے بس،دکاندار لُٹنے پر مجبور!

    اوچ شریف: چوروں کی حکمرانی، پولیس بے بس،دکاندار لُٹنے پر مجبور!

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگار حبیب خان) تاریخی شہر اوچ شریف میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ پولیس تاحال مجرموں کو پکڑنے میں ناکام ہے۔ چھت پھاڑ چور گینگ ایک بار پھر سرگرم ہوگیا اور پولیس کو چیلنج کرتے ہوئے تھانہ اوچ شریف کے قریب ہی ایک بڑی واردات کر ڈالی۔

    خیرپور ڈاہا روڈ پر واقع شاہد الیکٹریشن کی دکان کی چھت پھاڑ کر نامعلوم چور لاکھوں روپے مالیت کی 7 قیمتی بجلی کی موٹریں اور ایک بنڈل بجلی کی تار چوری کر کے فرار ہوگئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ واردات اس علاقے میں ہوئی جہاں پولیس کی موجودگی عام ہے، مگر اس کے باوجود مجرموں کو روکنے والا کوئی نہیں تھا۔

    مقامی تاجروں اور شہریوں نے پولیس کی مسلسل ناکامی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ پولیس حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اور متعلقہ ادارے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی نہیں کرتے تو کاروبار کرنا ناممکن ہو جائے گا، اور شہریوں کو اپنی حفاظت کے لیے خود اقدامات کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

    اوچ شریف کے تاجروں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر چوری کی بڑھتی وارداتوں پر قابو نہ پایا گیا اور سیکیورٹی کے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو وہ اپنی دکانیں بند کر کے احتجاج کریں گے۔

    پولیس کے مطابق واردات کی تحقیقات جاری ہیں اور جلد چوروں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس ماضی میں بھی محض بیانات دیتی رہی ہے اور عملی اقدامات نظر نہیں آئے۔

    اوچ شریف کے عوام نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور دیگر ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں بڑھتی ہوئی وارداتوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور پولیس کو مؤثر کارروائی کے احکامات جاری کیے جائیں، تاکہ شہری اور تاجر خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔

  • بہاولپور: بس کا اسٹیئرنگ لاک، درخت سے ٹکرا کر الٹ گئی، 15 مسافرزخمی

    بہاولپور: بس کا اسٹیئرنگ لاک، درخت سے ٹکرا کر الٹ گئی، 15 مسافرزخمی

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) چک 181 مراد، چونا والا روڈ کے قریب ایک مسافر بس خوفناک حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں 15 افراد زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب کھچی والا سے بہاولپور جانے والی گل برادرز کی نان اے سی بس (LRO-2678) کا اسٹیئرنگ اچانک لاک ہوگیا، جس کے باعث ڈرائیور قابو نہ رکھ سکا۔ تیز رفتاری کے باعث بس بے قابو ہو کر ایک کیکر کے درخت سے ٹکرا گئی اور الٹ گئی۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی بہاول نگر کنٹرول کو ایمرجنسی کال موصول ہوئی، جس پر فوری طور پر ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کردی گئیںجبکہ بہاولپور کنٹرول کو بھی مطلع کیا گیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں میں شامل افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ زخمیوں میں شامل افراد میں اریبہ دختر محمد اقبال (23 سال)مشتبہ ناک کی ہڈی کا فریکچرسکنہ رفیق آباد اڈہ کھچی والا۔مسرت پروین زوجہ محمد مختیار (50 سال) دائیں بازو کی ہڈی کا فریکچرسکنہ احمد پور شرقیہ۔مزید 13 زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر زخمیوں کو بھی ہسپتال میں ضروری علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

    حادثے کے بعد مقامی شہریوں نے بسوں کی فٹنس اور حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر بسیں فنی خرابیوں کے باوجود سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں جو خطرناک حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔

  • اوچ شریف: سسر کی ناپاک خواہش رد، بہو پر تشدد، حمل ضائع ہونے کا خدشہ

    اوچ شریف: سسر کی ناپاک خواہش رد، بہو پر تشدد، حمل ضائع ہونے کا خدشہ

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) بہاولپور کے علاقے گلشنِ اجمل محلہ باغ ماہی میں سسر کی ناپاک خواہش پوری نہ کرنے پر بہو پر تشدد، جس کے باعث اس کا تین ماہ کا حمل ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

    تفصیلات کے مطابق مسکان صدیق کی شادی 9 ماہ قبل ہوئی تھی تاہم اس کا سسر محمد اجمل اس پر بری نظر رکھے ہوئے تھا۔ گزشتہ روز جب مسکان کا شوہر کام کے سلسلے میں گھر سے باہر تھا تو محمد اجمل نے بہو کے کمرے میں داخل ہو کر ناپاک ارادے سے اسے دبوچ لیا۔ مسکان کے شور مچانے پر اہلِ خانہ اکٹھے ہو گئے تو محمد اجمل نے اپنی عزت بچانے کے لیے اسے زبردستی گھر سے نکال دیا۔

    بعد ازاں محمد اجمل اور اس کے بیٹے مدنی اجمل نے الزام لگایا کہ مسکان گھر سے بھاگ گئی ہے اور اسے گلی میں پکڑ کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے وہ بے ہوش ہو گئی۔ حاملہ بہو کی بگڑتی حالت دیکھ کر سسرالیوں نے ایک مقامی معزز شخص کو بلا کر مسکان کو اس کے والد کے گھر بھجوا دیا اور ساتھ ہی دھمکیاں دیں کہ وہ جھوٹے مقدمات میں پھنسا دیں گے۔

    متاثرہ خاتون مسکان صدیق نے اپنے والد محمد صدیق کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور ظالموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔