Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: سید جلال الدین شاہ دربار کے قریب حجرے میں آگ، ایک شخص جاں بحق

    اوچ شریف: سید جلال الدین شاہ دربار کے قریب حجرے میں آگ، ایک شخص جاں بحق

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) سید جلال الدین شاہ دربار کے ساتھ واقع حجرے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں ایک شخص جھلس کر جاں بحق ہو گیا۔

    ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا، جہاں جھلسی ہوئی لاش برآمد ہوئی۔ متوفی کی شناخت منور حسین ولد کملو، سکنہ خیرپور ڈاہا، اوچ شریف کے طور پر ہوئی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع ایک نامعلوم شخص نے دی، تاہم اس نے واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ آگ لگنے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔

  • اوچ شریف: تیز رفتار ہائی ایس کی موٹر سائیکل کو ٹکر، ایک جاں بحق، دوسرا زخمی

    اوچ شریف: تیز رفتار ہائی ایس کی موٹر سائیکل کو ٹکر، ایک جاں بحق، دوسرا زخمی

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) تیز رفتار ہائی ایس کی موٹر سائیکل کو ٹکر، ایک جاں بحق، دوسرا زخمی

    تفصیل کے مطابق اوچ شریف روڈ پر جبار شہید پیٹرولنگ پولیس کے قریب ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جس میں ہائی ایس کی تیز رفتاری نے دو موٹر سائیکل سواروں کو نشانہ بنا لیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق ہائی ایس نے بے قابو ہو کر سامنے آتے ہوئے موٹر سائیکل کو زور دار ٹکر مار دی۔ حادثے کے نتیجے میں 80 سالہ سردار احمد ہیڈ انجری کے باعث موقع پر ہی جاں بحق ہو گیاجبکہ 45 سالہ ریاض احمد شدید زخمی ہو ا، جنہیں فوری طور پر احمد پور شرقیہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    حادثہ اس وقت پیش آیا جب دونوں افراد اپنی موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ اچانک ہائی ایس نے انہیں ٹکر مار دی۔ ریسکیو سٹاف نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش کو ورثاء کے حوالے کیا اور زخمی کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔

    حادثہ میں جاں بحق شخص اور زخمی ہونے والے 45 سالہ ریاض احمد کا تعلق احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقہ مڈ رشید سے بتایا گیاہے۔

  • اوچ شریف: تعلیمی اداروں پر اضافی ٹیکسوں کے خلاف اساتذہ، طلباء اور تاجروں کا احتجاج

    اوچ شریف: تعلیمی اداروں پر اضافی ٹیکسوں کے خلاف اساتذہ، طلباء اور تاجروں کا احتجاج

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے الشمس چوک پر نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ، سکول کے طلباء اور انجمن تاجران نے تعلیمی اداروں کو کمرشل بنانے اور اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ احتجاجی ریلی کی قیادت مرکزی صدر انجمن تاجران اوچ شریف اور سول سوسائٹی کے رہنما عمر خورشید سہمن نے کی۔ ریلی ڈاکخانہ چوک سے الشمس چوک تک نکالی گئی، جس میں بڑی تعداد میں اساتذہ، طلباء اور تاجروں نے شرکت کی۔

    ریلی کے شرکاء نے حکومت کے فیصلے کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں کو کمرشل قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ احتجاج کے دوران اساتذہ اور تاجروں نے کہا کہ تعلیمی اداروں پر بھاری ٹیکسوں کا نفاذ نہ صرف نجی تعلیمی اداروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے بلکہ طلباء کے تعلیمی مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔

    مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ میونسپل کمیٹی اوچ شریف کی جانب سے آئے دن سکولوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر سیل کر دیا جاتا ہے، جس کے باعث بچوں کی تعلیم میں مسلسل خلل پیدا ہو رہا ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ انتظامیہ کے ان اقدامات سے طلباء اور والدین ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔

    خطاب کرتے ہوئے عمر خورشید سہمن نے کہا کہ "یہ اقدامات بچوں کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور قوم کے نونہالوں کا مستقبل تاریک ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اگر حکومت نے اس فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو ہم احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے۔” انہوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا کہ فوراً تمام سکولوں کو ڈی سیل کیا جائے اور تعلیمی اداروں پر عائد بھاری ٹیکسوں کو ختم کیا جائے۔

    احتجاج کے دوران سکول سربراہان اور دیگر شرکاء نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات پر کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا تو ہم ڈپٹی کمشنر بہاولپور آفس کے سامنے دھرنا دیں گے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تعلیم جیسے بنیادی شعبے کو کاروباری زمرے میں شامل نہ کیا جائے اور فوری طور پر تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کا حل نکالا جائے تاکہ طلباء کی تعلیم اور اساتذہ کی محنت متاثر نہ ہو۔

    مظاہرین نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں پر عائد غیر ضروری ٹیکسوں اور رکاوٹوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

    احتجاج کے بعد شرکاء پرامن طور پر منتشر ہو گئے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو وہ مزید سخت احتجاجی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔

  • اوچ شریف: مسافر وین نہر میں جا گری،مسافروں کومعمولی چوٹیں، تمام محفوظ

    اوچ شریف: مسافر وین نہر میں جا گری،مسافروں کومعمولی چوٹیں، تمام محفوظ

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) عباسیہ لنک کنال کے قریب ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں علی پور سے ملتان جانے والی مسافرہائی ایس وین نہر میں جا گری۔ وین کے ڈرائیور نے سڑک کراس کرتے ایک راہگیر کو بچانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں گاڑی بے قابو ہو کر نہر میں جا پہنچی۔

    حادثے کے وقت وین میں 15 مسافر سوار تھے، جو خوش قسمتی سے پانی کی سطح کم ہونے کے باعث اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم ایک مسافرریاض خلیل (55 سال) سکنہ علی پور زخمی ہو گیا، جسے ریسکیو ٹیم نے فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے رورل ہیلتھ سینٹر اوچ شریف منتقل کر دیا۔

    ریسکیو عملے نے تصدیق کی کہ تمام مسافر محفوظ ہیں اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • اوچ شریف:نواحی علاقہ رسول پور میں پل پنجند کی خستہ حالی، عوام کا احتجاج

    اوچ شریف:نواحی علاقہ رسول پور میں پل پنجند کی خستہ حالی، عوام کا احتجاج

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے رسول پور میں پل پنجند کی خستہ حالی کے باعث عوام سراپا احتجاج بن گئے اور حکام سے فوری مرمت و تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ برسوں سے مخدوش حالت میں موجود یہ پل درجنوں دیہاتوں کو قومی شاہراہ اور سی پیک سے جوڑنے کا واحد ذریعہ ہے، لیکن اس کی خطرناک صورتحال روزانہ سیکڑوں شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہی ہے۔

    پل کے پشتے کمزور ہو چکے ہیں جبکہ حفاظتی جنگلے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی کسانوں کو اپنی زرعی اجناس منڈیوں تک لے جانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس سے علاقے کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں گاڑیاں اس پل سے گزرتی ہیں، لیکن حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ عرصہ دراز سے ارباب اختیار کو پل کی مرمت کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں، مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر حکام نے بروقت قدم نہ اٹھایا تو کسی بڑے حادثے کا خدشہ ہے، جو نہ صرف قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتا ہے بلکہ علاقے کی ترقی کو بھی شدید متاثر کر سکتا ہے۔

    اہلیانِ علاقہ نے کمشنر بہاول پور، ڈپٹی کمشنر بہاول پور، وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر پل کی مرمت اور توسیع کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پل نہ صرف مقامی ٹریفک کے لیے اہم ہے بلکہ سی پیک کے راستے کو بھی سہولت فراہم کرتا ہے، اس لیے اس کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔

  • اوچ شریف: سڑکوں پر اسپیڈ بریکرز کی کمی، بڑھتے حادثات کا ذمہ دار کون؟

    اوچ شریف: سڑکوں پر اسپیڈ بریکرز کی کمی، بڑھتے حادثات کا ذمہ دار کون؟

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) شہر کی مصروف سڑکوں پر اسپیڈ بریکرز کی عدم موجودگی کے باعث حادثات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے اور حفاظتی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اوچ شریف کی اہم شاہراہوں، خصوصاً علی پور روڈ، خیر پور ڈاہا روڈ اور احمد پور شرقیہ روڈ پر اسپیڈ بریکرز نہ ہونے کے باعث تیز رفتار گاڑیاں اور موٹر سائیکل سوار شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں، تجارتی مراکز اور رہائشی علاقوں میں بھی اسپیڈ بریکرز کی کمی کے سبب حادثات معمول بن چکے ہیں۔

    گزشتہ دنوں اوچ گیلانی کے رہائشی رفیق حسین تیز رفتار گاڑی کی زد میں آ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حادثہ مخدوم سید علی گیلانی شہید چوک پر پیش آیا، جہاں گاڑی بے قابو ہو کر انہیں کچلتی ہوئی گزر گئی اور ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں اس حادثے کی وجہ تیز رفتاری اور اسپیڈ بریکرز کی عدم موجودگی کو قرار دیا گیا ہے۔

    مقامی افراد محمد علی، محمد مکی، ادریس احمد، شہزاد احمد، باسط علی، سرفراز احمد اور دیگر شہریوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی غفلت کے باعث شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سڑکوں پر اسپیڈ بریکرز تعمیر کیے جائیں تاکہ مزید جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

    شہریوں نے کہا کہ اگر بروقت اسپیڈ بریکرز نہ بنائے گئے تو مزید حادثات رونما ہو سکتے ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر ہوگی۔ کیا انتظامیہ شہریوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے گی، یا پھر یہ مسئلہ بھی فائلوں میں دب کر رہ جائے گا؟

  • اوچ شریف: 74 ہجری میں تعمیر شدہ تاریخی مسجد مٹی میں ملنے لگی، تحفظ کا ذمہ دار کون؟

    اوچ شریف: 74 ہجری میں تعمیر شدہ تاریخی مسجد مٹی میں ملنے لگی، تحفظ کا ذمہ دار کون؟

    اوچ شریف باغی ٹی وی ( نامہ نگار حبیب خان )محمد بن قاسم کے دور کی یادگار اوچ موغلہ کی تاریخی مسجد اپنی آخری سانسیں لینے گی،کیا یہ عظیم ورثہ حکومتی عدم توجہی کی نذر ہو جائے گا؟ 74 ہجری میں تعمیر کی گئی یہ قدیم مسجد، جو فنِ تعمیر کا شاندار نمونہ اور تاریخ کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے، آج زبوں حالی کا شکار ہے۔ کیا اس ورثے کی حفاظت کے لیے کوئی اقدامات کیے جائیں گے؟

    یہ تاریخی مسجد جو مٹی سے بنی ہوئی تھی وقت کے ساتھ ساتھ بوسیدہ ہو چکی ہے۔ اس کی دیواریں گرنے کے قریب ہیں اور اردگرد کی نئی تعمیرات اور زمین کی بھرائی اس قدیم ورثے کو مکمل طور پر دفن کرنے کے درپے ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا آنے والی نسلیں اس عظیم تاریخ کے آثار دیکھ پائیں گی؟

    مقامی روایات کے مطابق یہ مسجد محمد بن قاسم کی فتوحات کے دور کی ایک نشانی ہے، لیکن آج اس کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آ رہی۔ کیا آثارِ قدیمہ کے ماہرین، مقامی انتظامیہ یا متعلقہ حکومتی ادارے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے؟ کیا کوئی ایسا اقدام کیا جائے گا جس سے یہ ورثہ مزید تباہ ہونے سے بچ سکے؟

    یہ مسجد نہ صرف ایک قدیم عبادت گاہ بلکہ اسلامی تاریخ اور ثقافت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق اس کے کھنڈرات بھنبھور اور الور کے قدیم آثار سے مماثلت رکھتے ہیں جو اس کی تاریخی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ اگر اس کی حفاظت نہ کی گئی توایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی تاریخ اور شناخت کھو دیں گے

    یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ اس تاریخی مسجد کی بحالی اور تحفظ کے لیے کون اقدامات کرے گا؟ کیا محکمہ آثارِ قدیمہ یا حکومت کوئی عملی قدم اٹھائے گی یا پھر یہ مسجد بھی دیگر تاریخی ورثوں کی طرح ماضی کا ایک دھندلا عکس بن کر مٹی میں دفن ہوجائے گی؟

    مقامی شہریوں، سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں نے اس ثقافتی اور مذہبی ورثے کی بحالی کے لیے حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ تاریخی علامت آنے والی نسلوں کو ہمارے شاندار ماضی کی گواہی دے سکے۔

  • اوچ شریف: دو موٹر سائیکلوں میں خوفناک تصادم، خاتون سمیت دو  زخمی

    اوچ شریف: دو موٹر سائیکلوں میں خوفناک تصادم، خاتون سمیت دو زخمی

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان)دو موٹر سائیکلوں میں خوفناک تصادم، خاتون سمیت دو زخمی

    تفصیل کے مطابق تحصیل احمد پور شرقیہ کے علاقے کوٹلہ موسیٰ خان اڈہ میں دو موٹر سائیکلیں آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کا عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق دو موٹر سائیکلیں تیز رفتاری کے باعث آمنے سامنے سے ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں 50 سالہ رحیم بخش ولد جند وڈا اور 40 سالہ حسینہ مائی زوجہ اللہ یار شدید زخمی ہوگئے۔ دونوں زخمیوں کو سر پر گہرے زخم آئے، جن سے کافی خون بہہ رہا تھا۔ ریسکیو عملے نے موقع پر پہنچ کر فوری طبی امداد فراہم کی اور بعد ازاں انہیں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا۔

  • اوچ شریف:علی پور روڈ پر موٹرسائیکل سوار کھڑی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا کر شدید زخمی

    اوچ شریف:علی پور روڈ پر موٹرسائیکل سوار کھڑی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا کر شدید زخمی

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان ) علی پور روڈ لائن والی پلی نلکا اڈہ کے قریب ایک تیز رفتار موٹرسائیکل سوار کھڑی ہوئی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔

    حادثے میں متاثرہ شخص کی شناخت 55 سالہ عبدالمالک ولد اللہ بخش کے طور پر ہوئی جو موضع پتی خیارہ کا رہائشی ہے۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ عبدالمالک کی بائیں ران کی ہڈی ٹوٹ گئی جبکہ سر پر گہرا زخم آیا، جس کے باعث وہ شدید زخمی حالت میں بے ہوش ہوگیا۔

    مقامی افراد نے فوری طور پر ریسکیو کو اطلاع دی، جس کے بعد امدادی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر زخمی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کردیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ علی پور روڈ پر اکثر حادثات پیش آتے ہیں، جن کی بڑی وجہ سڑکوں پر کھڑی بھاری گاڑیاں اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ ہے۔ عوام نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سڑک پر کھڑی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرے تاکہ مزید حادثات سے بچا جاسکے۔

  • اوچ شریف: مخدوم سید شمس الدین گیلانیؒ کا 39واں عرس عقیدت و احترام سے منایا گیا

    اوچ شریف: مخدوم سید شمس الدین گیلانیؒ کا 39واں عرس عقیدت و احترام سے منایا گیا

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) درگاہ قادریہ غوثیہ گیلانیہ عالیہ محبوب سبحانی اوچ شریف کے سجادہ نشین حضرت مخدوم الملک مخدوم سید حامد محمد شمس الدین گیلانیؒ کا 39واں سالانہ عرس مبارک عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔

    عرس کی دوروزہ تقریبات شمس محل میں منعقد ہوئیں، جس میں سجادہ نشین مخدوم سید افتخار الحسن گیلانی اور ولی عہد مخدوم سید عمر رضا گیلانی جلوہ افروز ہوئے۔ علماء کرام اور نعت خوان حضرات نے نذرانہ عقیدت پیش کیا۔

    اس موقع پر حضرت مخدوم سید افتخار الحسن گیلانی نے ملک کی سلامتی، امن و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کرائی۔ درگاہ کو عطر و گلاب سے غسل دیا گیا، جبکہ ملک بھر سے آئے ہوئے عقیدت مندوں اور زائرین نے مزار پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔

    عرس کی تقریبات کے اختتام پر زائرین روحانی فیض حاصل کرنے کے بعد اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔