Baaghi TV

Category: چکوال

  • دریائے سواں میں ڈوبنے والے محمد افضل کی لاش 3 روز بعد برآمد

    دریائے سواں میں ڈوبنے والے محمد افضل کی لاش 3 روز بعد برآمد

    دریائے سواں میں ڈوبنے والے 40 سالہ شخص محمد افضل کی لاش تین روزہ مسلسل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے بعد برآمد کرلی گئی۔

    ذرائع کے مطابق، کمانڈ اینڈ کنٹرول روم چکوال کو راولپنڈی کنٹرول روم سے اطلاع موصول ہوئی کہ تحصیل چکوال کے علاقے کرلی گاؤں کے قریب دریائے سواں میں ایک شخص ڈوب گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 چکوال کی جانب سے مرکزی اسٹیشن چکوال سے ریسکیو وہیکل جبکہ بلکسر سے ایمبولینس جائے حادثہ کی طرف روانہ کی گئی اور ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق 40 سالہ محمد افضل ولد اللہ بخش، ساکن فیصل آباد، بجلی کی تار لے کر لکڑی کے ذریعے دریائے سواں عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک توازن برقرار نہ رکھ سکا اور دریا میں گر کر ڈوب گیا۔

    ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر سکوبا سرچ میتھڈ کے ذریعے محمد افضل کی تلاش شروع کی۔ ریسکیو حکام کے مطابق اس مقام پر دریائے سواں میں پانی کا بہاؤ تقریباً 70 سے 80 ہزار کیوسک، چوڑائی تقریباً 500 فٹ اور گہرائی تقریباً 35 فٹ تھی، جبکہ تیز پانی کے بہاؤ کے باعث سرچ آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ اندھیرا ہونے کے باعث مزید سرچ آپریشن روکنا پڑا، تاہم ریسکیو اہلکار موقع پر موجود رہے۔

    اگلے روز رات کے دوران دریائے سواں میں پانی کی سطح میں تقریباً 4 سے 5 فٹ اضافہ ہوگیا۔ ریسکیو ٹیموں نے سکوبا ڈائیونگ، بوٹ سرچ اور پیٹرولنگ سرچ کے ذریعے تلاش کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ اس دوران تقریباً 150 میٹر تک سکوبا سرچ، بوٹ کے ذریعے 4 سے 5 کلومیٹر جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 10 کلومیٹر کے علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا۔

    صفدر اقبال، لیڈ فائر ریسکیو کی نگرانی میں 14 ریسکیوز نے سرچ آپریشن میں حصہ لیا، جن میں 2 بوٹ آپریٹرز، 2 سکوبا ڈائیورز، 3 سوئمرز اور بیک اپ اسٹاف شامل تھا۔ مسلسل کوششوں کے باوجود لاش نہ ملنے پر اندھیرا ہونے کے باعث اس روز بھی سرچ آپریشن روک دیا گیا۔

    تیسرے روز ریسکیو ٹیموں نے دوبارہ پیٹرولنگ اور بوٹ سرچ میتھڈ کے ذریعے محمد افضل کی تلاش شروع کی۔ ریسکیو حکام کے مطابق رات کے دوران پانی کی سطح میں مزید تقریباً 2 فٹ اضافہ ہوا، تاہم بعد میں پانی کی سطح معمول پر آگئی۔

    مسلسل تین روزہ سرچ آپریشن کے دوران ریسکیو ٹیموں نے ہرنالی سیداں کے مقام پر محمد افضل کی لاش تلاش کرلی اور اسے دریا سے نکال لیا۔ لاش کو مزید قانونی اور طبی کارروائی کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال راولپنڈی منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔

    ریسکیو 1122 چکوال کی ٹیموں نے دریائے سواں کے تیز بہاؤ، گہرائی اور دشوار حالات کے باوجود تین روز تک مسلسل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھا اور بالآخر لاش برآمد کرلی۔

  • چکوال: 12 سالہ یتیم بچی سے مبینہ زیادتی کا ملزم پیر اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی

    چکوال: 12 سالہ یتیم بچی سے مبینہ زیادتی کا ملزم پیر اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی

    چکوال: 12 سالہ یتیم بچی سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں نامزد پیر سید عبداللہ شاہ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم پیر سید عبداللہ شاہ کو پولیس اسلحہ برآمدگی کے لیے لے جا رہی تھی کہ تلہ گنگ گٹال موڑ کے قریب مبینہ طور پر اس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔

    پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں گدی نشین آستانہ دندہ شاہ بلاول پیر سید عبداللہ شاہ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوگیا۔ واقعے کے بعد زخمی ملزم کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ فائرنگ کے بعد فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کارروائی جاری ہے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل میانوالی سے دم کروانے کے لیے چکوال آنے والی 12 سالہ یتیم بچی نے مذکورہ پیر پر مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے پیر سید عبداللہ شاہ کو گرفتار کیا تھا۔

    دستیاب میڈیکل رپورٹ کے مطابق متاثرہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی تھی۔ واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ آج پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

  • چکوال میں دم کروانے آئی 12 سالہ بچی سے پیر کی مبینہ زیادتی،  مقدمہ درج

    چکوال میں دم کروانے آئی 12 سالہ بچی سے پیر کی مبینہ زیادتی، مقدمہ درج

    چکوال میں دم کروانے کے لیے پیر کے ڈیرے پر آنے والی 12 سالہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ بچی کے اہلخانہ نے پیر پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے تھانہ لاوہ میں مقدمہ درج کرا دیا ہے۔

    اہلخانہ کے مطابق بچی اپنے بھائی کے ہمراہ دم کروانے کے لیے پیر کے ڈیرے پر گئی تھی۔ متاثرہ بچی نے الزام عائد کیا کہ پیر نے اسے اسلحے کے زور پر مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور واقعے کے بارے میں کسی کو بتانے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

    پولیس کے مطابق بچی کو اس کا بھائی دم کروانے کے لیے پیر کے ڈیرے پر لے کر آیا تھا۔ مبینہ طور پر پیر نے انہیں بتایا کہ دم شام کے وقت کیا جائے گا، تاہم شام گزرنے کے بعد رات ہوگئی۔ کھانے کے بعد بچی کو الگ کمرے میں سونے کے لیے بھیج دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق کچھ دیر بعد پیر مبینہ طور پر بچی کے کمرے میں داخل ہوا اور اسے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ بچی نے بعد ازاں واقعے سے اپنے اہلخانہ کو آگاہ کیا، جس کے بعد وہ اسے لے کر پولیس کے پاس پہنچے اور قانونی کارروائی کی درخواست دی۔

    پولیس نے متاثرہ بچی کے اہلخانہ کی درخواست پر مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ متاثرہ بچی کا طبی معائنہ بھی کرایا جا رہا ہے اور پولیس کی جانب سے شواہد اکٹھے کرکے واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

  • چکوال میں آسٹریلوی بچی کی ہلاکت، سی سی ڈی کانسٹیبل ذمہ دار قرار

    چکوال میں آسٹریلوی بچی کی ہلاکت، سی سی ڈی کانسٹیبل ذمہ دار قرار

    چکوال : 9 سالہ آسٹریلوی شہری ہانیہ احمد کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات میں پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ایک کانسٹیبل کو ذمہ دار قرار دے دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کانسٹیبل نے اعلیٰ افسران کی اجازت کے بغیر ایک گاڑی پر سرکاری ایس ایم جی سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کمسن بچی ہانیہ احمد جاں بحق جبکہ اس کے والد عدیل احمد اور بھائی عفان زخمی ہوئے۔

    یہ افسوسناک واقعہ 10 اور 11 جون کی درمیانی شب چکوال میں سی سی ڈی تھانے کے باہر پیش آیا تھا۔ آسٹریلوی شہری عدیل احمد اپنی اہلیہ اور دو کمسن بچوں کے ہمراہ گاڑی میں سفر کررہے تھے کہ دو مسلح افراد نے انہیں روک کر لوٹنے کی کوشش کی۔ اسی دوران قریب موجود سی سی ڈی کانسٹیبل نے فائرنگ کی، جس کی زد میں آکر 9 سالہ ہانیہ احمد جان کی بازی ہار گئی، جبکہ عدیل احمد اور ان کا بیٹا عفان زخمی ہوگئے۔

    واقعے کے ایک ہفتے بعد 18 جون کو سی سی ڈی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ اور پنجاب پولیس کے آئی جی عبد الکریم نے لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحقیقات ایک ہفتے میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم تحقیقات مکمل ہونے کے بعد 200 صفحات پر مشتمل رپورٹ 28 جولائی کو چالان کی صورت میں پراسیکیوٹر کے دفتر میں جمع کرائی گئی۔

    تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کیس کی تفتیش سی سی ڈی چکوال کے سب انسپکٹر محمد عرفان نے کی۔ رپورٹ میں 34 گواہوں کے بیانات شامل کیے گئے ہیں، جبکہ واقعے سے متعلق مختلف شواہد اور اہلکاروں کے بیانات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ملزم کانسٹیبل نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ سی سی ڈی تھانے کے مرکزی دروازے کے قریب موجود تھا کہ اسے باہر سے شور سنائی دیا۔ اس نے دیکھا کہ دو مسلح افراد تھانے کے قریب ایک سفید گاڑی کو لوٹنے کی کوشش کررہے تھے۔ کانسٹیبل کے مطابق ایک مسلح شخص نے اسے دیکھ کر پستول سے فائر کیا، جس کے جواب میں اس نے بھی ڈاکوؤں پر فائرنگ کی۔

    کانسٹیبل نے تفتیش کے دوران یہ بھی بتایا کہ فائرنگ کے دوران گاڑی اسلامیہ چوک کی جانب تیزی سے روانہ ہوگئی، جس کا تعاقب کرنے کے لیے اس نے ایک نجی موٹر سائیکل پر لفٹ لی، تاہم وہ گاڑی تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

    تاہم رپورٹ کے مطابق ڈیوٹی افسر انسپکٹر جہانزیب خان نے کانسٹیبل کے مؤقف کو مسترد کردیا۔ انسپکٹر نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ کانسٹیبل نے ان کی یا کسی بھی سینئر افسر کی اجازت کے بغیر سرکاری ایس ایم جی سے فائرنگ کی اور اس کے بعد بھی بغیر اجازت نجی موٹر سائیکل پر گاڑی کا تعاقب کیا۔

    اس موقع پر تھانے میں موجود تین دیگر اہلکاروں نے بھی انسپکٹر جہانزیب خان کے بیان کی تصدیق کی۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کانسٹیبل کی جانب سے اپنے دفاع میں فائرنگ کرنے کے دعوے کو حقائق کے منافی اور غلط قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جائے وقوع سے پستول کے 14 جبکہ کلاشنکوف کے 13 خول بھی برآمد ہوئے۔ تفتیش کے دوران مختلف شواہد، گواہوں کے بیانات اور واقعے سے متعلق دیگر مواد کو رپورٹ کا حصہ بنایا گیا۔

    تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہانیہ احمد، اس کے والد عدیل احمد اور بھائی عفان کو لگنے والی گولیوں اور خون کے نمونوں سے متعلق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی حتمی رائے تاحال موصول نہیں ہوئی۔

    تحقیقاتی رپورٹ میں کانسٹیبل کو اعلیٰ حکام کی اجازت کے بغیر فائرنگ کرنے اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، جبکہ فرانزک رپورٹ کی حتمی رائے موصول ہونے کے بعد کیس میں مزید قانونی پیش رفت متوقع ہے۔

  • یونیورسٹی آف چکوال کی سنڈیکیٹ کا اہم اجلاس،85 کروڑ 56 لاکھ روپےکے بجٹ کی  منظوری

    یونیورسٹی آف چکوال کی سنڈیکیٹ کا اہم اجلاس،85 کروڑ 56 لاکھ روپےکے بجٹ کی منظوری

    چکوال : یونیورسٹی آف چکوال کی سنڈیکیٹ کا اہم اجلاس پنجاب ہائر ایجوکیشن عارفہ کریم ٹاور لاہور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب رانا سکندر حیات نے کی۔ اجلاس میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف چکوال پروفیسر ڈاکٹر فرخ ارسلان صدیقی سمیت حکومت پنجاب، ہائر ایجوکیشن کمیشن، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن، محکمہ خزانہ و قانون، اراکین پنجاب اسمبلی، ماہرین تعلیم، صنعت و تجارت اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔

    اجلاس میں گزشتہ سنڈیکیٹ اجلاس کی کارروائی کی توثیق، سابقہ فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ اور وائس چانسلر کو تفویض اختیارات کے تحت کیے گئے اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اکیڈمک کونسل، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی اور سلیکشن بورڈ کی سفارشات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

    سنڈیکیٹ نے مالی سال 2026-27 کیلئے یونیورسٹی آف چکوال کے 85 کروڑ 56 لاکھ روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مؤثر مالی منصوبہ بندی، اخراجات میں نظم و ضبط اور بہتر مالی انتظام کے باعث یونیورسٹی نے 45 ملین روپے کا سرپلس حاصل کیا ہے، جسے صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن اور دیگر شرکاء نے خوش آئند قرار دیا۔

    اجلاس میں تدریسی و غیر تدریسی آسامیوں پر بھرتیوں، زیر التوا بھرتیوں، سرچ کمیٹیوں کی ازسرنو تشکیل، سکروٹنی کمیٹیوں اور ریکروٹمنٹ کمپلینٹ ریڈریسل سیل کے قیام سمیت متعدد معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

    سنڈیکیٹ کے کاروباری قواعد، چیئرپرسن، ڈائریکٹر اور پرنسپل کی تقرری سے متعلق مجوزہ قوانین، اساتذہ و ملازمین کی ڈیپوٹیشن، بیرون ملک غیر معمولی رخصت، پارٹ ٹائم میڈیکل آفیسر اور وزٹنگ یا پارٹ ٹائم لیبارٹری انجینئرز کی تقرری سمیت مختلف انتظامی امور پر بھی غور کیا گیا۔

    اجلاس میں یونیورسٹی کے ایونٹ ہالز کے استعمال اور عدالتی احکامات کی روشنی میں بعض انفرادی و انتظامی معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر منیبہ ثناء کی عدالتی احکامات کی روشنی میں دائر اپیل بھی سنی گئی، جس پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

    شرکاء نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ادارہ جاتی استحکام، مالی نظم و ضبط، شفافیت اور تعلیمی معیار کی بہتری کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں منظور کیے گئے فیصلوں کو یونیورسٹی کی ترقی، تحقیق و تدریس کے فروغ اور مالی و انتظامی استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

  • نوجوان صحافی فیضان شیخ کو شانِ پاکستان ایوارڈ سے نواز دیا گیا

    نوجوان صحافی فیضان شیخ کو شانِ پاکستان ایوارڈ سے نواز دیا گیا

    نوجوان صحافی، اینکر پرسن، ڈائریکٹر ڈیلی چکوال اور نیوز ایڈیٹر باغی ٹی وی فیضان شیخ کو صحافتی خدمات کے اعتراف میں 14 اگست 2026ء کو شانِ پاکستان ایوارڈ سے نواز دیا گیا۔

    یومِ آزادی پاکستان کے موقع پر اپووا کے زیر اہتمام لاہور میں منعقدہ تقریب میں فیضان شیخ کو صحافت کے شعبے میں ان کی خدمات، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے حوالے سے نمایاں کردار پر یہ اعزاز پیش کیا گیا۔ فیضان شیخ طویل عرصے سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور بطور صحافی و اینکر پرسن علاقائی مسائل، عوامی معاملات اور اہم خبروں کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔بطور ڈائریکٹر ڈیلی چکوال اور ٹی این این ڈیجیٹل فیضان شیخ مقامی صحافت کے فروغ اور عوامی مسائل کو صحافتی پلیٹ فارم کے ذریعے اجاگر کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، جبکہ نیوز ایڈیٹر و انچارج نمائندگان باغی ٹی وی کی حیثیت سے بھی صحافتی نمائندگان کے امور کی نگرانی اور خبروں کی مؤثر ترسیل میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

    فیضان شیخ کو شانِ پاکستان ایوارڈ ملنا صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ضلع چکوال/تلہ گنگ کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔ ایک نوجوان صحافی کا اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز حاصل کرنا چکوال/تلاگنگ کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ان کی یہ کامیابی علاقے کے دیگر نوجوانوں کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث ہے اور اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ چکوال/تلہ گنگ کے باصلاحیت نوجوان اپنی محنت اور صلاحیتوں کے ذریعے ملکی سطح پر اپنی شناخت بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔صحافتی، سیاسی، سماجی اور کاروباری حلقوں نے فیضان شیخ کو شانِ پاکستان ایوارڈ حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی یہ کامیابی ضلع چکوال/تلہ گنگ کے لیے قابلِ فخر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فیضان شیخ مستقبل میں بھی مثبت، ذمہ دارانہ اور عوامی خدمت پر مبنی صحافت کے ذریعے چکوال/تلہ گنگ کا نام روشن کرتے رہیں گے۔

    فیضان شیخ نے اعزاز ملنے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ شانِ پاکستان ایوارڈ ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ وہ آئندہ بھی صحافت کے ذریعے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے، مثبت صحافت کو فروغ دینے اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض مزید محنت، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔

  • بانیِ اپووا کاد ورہ تلہ گنگ، نمرہ کے بھائی وفات پر اظہارِ تعزیت،فیضان شیخ سے ملاقات

    بانیِ اپووا کاد ورہ تلہ گنگ، نمرہ کے بھائی وفات پر اظہارِ تعزیت،فیضان شیخ سے ملاقات

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے بانی و صدر ایم ایم علی کی تلہ گنگ آمد کے موقع پر انہوں نے مصنفہ نمرہ ملک کے بھائی کے انتقال پر ان کے گھر جا کر تعزیت کی۔ اس موقع پر اپووا چکوال و تلہ گنگ کے کوآرڈینیٹر فیضان شیخ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ بانیِ اپووا نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    بعد ازاں بانیِ اپووا نے اپووا کے ضلعی دفتر کا دورہ کیا، جہاں ان کی اپووا کوآرڈینیٹر فیضان شیخ سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران تنظیمی امور، ادبی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ادبی خدمات کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر چکوال اور تلہ گنگ میں اپووا کے زیرِ اہتمام ایک ادبی کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے بھی لائحۂ عمل طے کیا گیا۔فیضان شیخ کی جانب سے بانیِ اپووا کے اعزاز میں پرتکلف ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا، جس میں معروف کالم نگار اور صحافی ارشد کوٹگلہ بھی شریک ہوئے۔

  • تلہ گنگ میں اساتذہ و عملے کی ترقی، پہلی DPC کامیابی سے مکمل

    تلہ گنگ میں اساتذہ و عملے کی ترقی، پہلی DPC کامیابی سے مکمل

    ضلع تلہ گنگ میں اساتذہ، کلرکس اور کلاس فور (C-IV) ملازمین کی ترقی کا عمل آج کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔ سی ای او ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی تلہ گنگ نے اس اہم پیش رفت پر تمام ترقی پانے والے ملازمین کو دلی مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ ضلع تلہ گنگ میں پہلی ڈسٹرکٹ پروموشن کمیٹی (DPC) کا کامیاب انعقاد ایک اہم سنگِ میل ہے، جو انتظامی کارکردگی اور تعلیمی نظام کی بہتری کی جانب مثبت قدم ہے۔سی ای او اخلاق صاحب نے اس موقع پر تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (DEOs) اور متعلقہ ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت، لگن اور بروقت ذمہ داریوں کی تکمیل قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترقی پانے والے ملازمین اپنی نئی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھائیں گے اور ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے میں کردار ادا کریں گے۔آخر میں انہوں نے تمام افسران و عملے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ کام جاری رکھنے کی توقع ظاہر کی۔

  • تلہ گنگ میں انوکھا فراڈ، قربانی کے دنبے کو مصنوعی دانت لگانے والے چار ملزمان گرفتار

    تلہ گنگ میں انوکھا فراڈ، قربانی کے دنبے کو مصنوعی دانت لگانے والے چار ملزمان گرفتار

    رپورٹ: فیضان شیخ
    : تلہ گنگ میں پولیس نے ایک انوکھا فراڈ بے نقاب کرتے ہوئے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا جو قربانی کے دنبے کو مصنوعی دانت لگا کر مہنگے داموں فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔پولیس ترجمان کے مطابق ایس ایچ او تھانہ سٹی میڈم سمیعہ اور اے ایس آئی تیمور سلطان نے مخبر کی اطلاع پر اے ڈی ایس کالونی کے قریب کارروائی کی، جہاں ایک شہ زور گاڑی میں چار افراد دنبے کو نقلی دانت لگا رہے تھے۔دورانِ تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا کہ دنبے کا دانت ٹوٹنے کے باعث وہ قربانی کے قابل نہیں رہا تھا، جسے مصنوعی دانت لگا کر دوبارہ فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس مقصد کے لیے ایک ڈینٹل ٹیکنیشن کو بھی شامل کیا گیا تھا۔پولیس نے دنبہ، مصنوعی دانت، ڈینٹل اوزار اور گاڑی قبضے میں لے کر ملزمان کے خلاف دفعہ 420 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
    ذرائع کے مطابق تلہ گنگ مویشی منڈی میں اس نوعیت کے دیگر فراڈ بھی سامنے آتے رہتے ہیں، جس پر شہریوں نے انتظامیہ سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • تلہ گنگ: مخیر شخصیت ملک یاسر سگھر کا انسانیت دوست اقدام، اہلیان سگھر کے لیے ایمبولینس عطیہ

    تلہ گنگ: مخیر شخصیت ملک یاسر سگھر کا انسانیت دوست اقدام، اہلیان سگھر کے لیے ایمبولینس عطیہ

    سگھر/تلہ گنگ: تلہ گنگ کی معروف مخیر شخصیت ملک یاسر سگھر، جو ان دنوں اٹلی میں مقیم ہیں، نے انسانیت دوستی کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے سگھر کی عوام کے لیے ایک ایمبولینس عطیہ کر دی، جسے سگھر ویلفیئر ٹرسٹ کے سپرد کیا گیا۔تقریب میں ملک یاسر بطور چیف گیسٹ شریک ہوئے جبکہ ان کے ہمراہ عقیل ملک، حافظ شیر خان دھولڑ، سید مبارک علی ہمدانی اور ملک ندیم رضا موگلہ بھی موجود تھے۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ ایمبولینس کی فراہمی علاقے کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے، جس سے ہنگامی حالات میں مریضوں کو بروقت طبی امداد میسر آئے گی اور قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں مدد ملے گی۔اہلِ علاقہ نے ملک یاسر سگھر کے اس فلاحی اقدام کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اسے دیگر مخیر حضرات کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔