Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازیخان: آر پی او کے چھاپے اور کھلی کچہریاں، فوری ایکشن کے احکامات

    ڈیرہ غازیخان: آر پی او کے چھاپے اور کھلی کچہریاں، فوری ایکشن کے احکامات

    ڈیرہ غازی خان / مظفرگڑھ ( باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر+نامہ نگار)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات کی روشنی میں ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان، کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے ضلع ڈیرہ غازی خان اور مظفرگڑھ کے ہنگامی دورے کیے۔ ان دوروں کا مقصد عوامی شکایات کا فوری ازالہ اور پولیس اسٹیشنز کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔ آر پی او نے کھلی کچہریوں کا انعقاد تھانہ دراہمہ (ڈی جی خان) اور تھانہ قریشی (مظفرگڑھ) میں کیا، جہاں انہوں نے شہریوں کے مسائل سنے اور موقع پر متعلقہ افسران کو فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے۔

    آر پی او سجاد حسن نے کھلی کچہریوں میں انجمن تاجران، بار نمائندگان، گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن، سول سوسائٹی، میڈیا اور شہریوں کی کثیر تعداد سے خطاب کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ اوپن ڈور پالیسی وزیراعلیٰ کی عوام دوست پالیسیوں کا عملی مظہر ہے، اور اس کا مقصد ان دور دراز علاقوں کے شہریوں کو براہ راست انصاف کی فراہمی ہے جو پولیس دفاتر تک نہیں پہنچ سکتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی شکایات کے حل میں تاخیر یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

    آر پی او نے ڈی جی خان کے تھانہ دراہمہ، سٹی، بی ڈویژن اور مظفرگڑھ کے تھانہ کرم داد قریشی کے سرپرائز وزٹ بھی کیے۔ انہوں نے انسپکشن کے دوران اسپیشل انیشیٹو پولیس اسٹیشنز کی ایس او پیز، زیرِ تفتیش مقدمات، پینڈنگ درخواستوں، اشتہاری مجرمان کی گرفتاری، حوالات، مال خانہ، فرنٹ ڈیسک اور اسلحہ خانہ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ آر پی او نے حوالات میں موجود ملزمان سے براہِ راست گفتگو کی اور تھانہ جات میں آنے والے شہریوں سے مسائل دریافت کیے۔

    اس موقع پر انہوں نے متعلقہ افسران کو ایف آئی آر کے بروقت اندراج، سروس ڈلیوری کے معیار میں بہتری، اور تھانہ کلچر میں عوام دوست تبدیلی کے لیے واضح ہدایات جاری کیں۔ تھانہ کرم داد قریشی میں ڈی پی او مظفرگڑھ کے ہمراہ منعقدہ اجلاس میں انہوں نے سرکل آفیسران اور تمام ایس ایچ اوز کی کارکردگی کا جائزہ لیا، اور ان کو جرائم کی روک تھام، تفتیش میں شفافیت، اور کرپٹ اہلکاروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی ہدایت کی۔

    آر پی او نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں کہا کہ پولیس ریفارمز اور انصاف کی فراہمی وزیراعلیٰ کی اولین ترجیح ہے، اور ہم اس مشن پر بلا امتیاز اور میرٹ کی بنیاد پر عمل پیرا ہیں۔ ان دوروں سے نہ صرف پولیس اہلکاروں کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔

  • ڈیرہ غازی خان: مہنگائی اور ناقص اشیاء فروخت کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن، سات گرفتار، کریانہ سٹور سیل

    ڈیرہ غازی خان: مہنگائی اور ناقص اشیاء فروخت کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن، سات گرفتار، کریانہ سٹور سیل

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر ضلع ڈیرہ غازی خان میں گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں جاری ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر نذر حسین کورائی نے پاکستان چوک کا اچانک دورہ کیا جہاں انہوں نے سبزی، پھل، گوشت اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں اور معیار کا جائزہ لیا۔ ریٹ لسٹ آویزاں نہ کرنے، زائد قیمتیں وصول کرنے اور زائد المیعاد اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    کارروائی کے دوران چار پھل فروش، ایک بیف پلاؤ فروش اور ایک کریانہ سٹور مالک سمیت سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ناغہ کے روز پلاؤ فروخت کرنے والے دکاندار کو بھی موقع پر حراست میں لیا گیا جبکہ زائد المعیاد بسکٹ اور اشیاء خورد و نوش برآمد ہونے پر کریانہ سٹور سیل کر دیا گیا۔ تمام گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ تھانوں میں استغاثے جمع کرا دیے گئے ہیں۔

    اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نذر حسین کورائی کا کہنا تھا کہ گراں فروش کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ پنجاب حکومت کی واضح ہدایات کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور ریٹ لسٹ کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کوئی دکاندار زائد قیمت وصول کرے یا غیر معیاری اشیاء فروخت کرے تو فوری طور پر انتظامیہ یا متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: گلبرگ سکینڈل میں نیب متحرک، ملزمان کی گرفتاری کا امکان

    ڈیرہ غازی خان: گلبرگ سکینڈل میں نیب متحرک، ملزمان کی گرفتاری کا امکان

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر،جواد اکبر)گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی کے اربوں روپے کے میگا کرپشن سکینڈل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیب ملتان کی خصوصی ٹیم متاثرین کی شکایات پر کارروائی کے لیے ڈیرہ غازی خان پہنچ گئی ہے۔ یہ ٹیم متاثرین کے بیانات، دستاویزات اور شواہد کی جانچ پڑتال کر رہی ہے تاکہ اسکینڈل کے مرکزی کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی، جو سابق ایم پی اے علی اصغر گورمانی اور ان کے ساتھیوں کی ملکیت بتائی جاتی ہے، میں سینکڑوں شہریوں سے مبینہ طور پر اربوں روپے وصول کیے گئے تھے۔ متاثرین کو نہ پلاٹس دیے گئے اور نہ ہی ان کی رقوم واپس کی گئیں، جس سے کئی خاندان مالی طور پر تباہ ہو گئے۔

    متاثرین کی طویل قانونی اور عوامی جدوجہد کے بعد بالآخر ایڈووکیٹ میاں سلطان محمود ڈاہا کی قیادت میں متاثرین کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا گیا۔ میاں سلطان ڈاہا نے نہ صرف متاثرین کی آواز بن کر ان کے ساتھ ہر فورم پر آواز بلند کی بلکہ وفاقی محتسب اور نیب حکام کو بھی معاملے سے باخبر کر کے بالآخر اداروں کو کارروائی پر مجبور کر دیا۔

    نیب ملتان کی خصوصی ٹیم نے متاثرین سے ابتدائی بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد کیس میں ملوث افراد کے خلاف ثبوت اکٹھے کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب کی ٹیم جلد ذمہ داران کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

    شہریوں نے نیب کی کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ان کی لوٹی گئی رقم واپس ملے گی اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

    متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے تھے، لیکن اب میاں سلطان ڈاہا جیسے نڈر اور عوام دوست وکیل کی قیادت میں ان کی آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچ چکی ہے۔ نیب کی کارروائی کو وہ ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

    عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نیب اپنی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچائے تاکہ آئندہ کوئی طاقتور فرد سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے کی جرأت نہ کرے۔

  • ڈیرہ غازی خان: سپربند آر-2 میں شگاف، انتظامیہ غائب، زمینداروں نے سیلابی تباہی روک لی

    ڈیرہ غازی خان: سپربند آر-2 میں شگاف، انتظامیہ غائب، زمینداروں نے سیلابی تباہی روک لی

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) دریائے سندھ میں طغیانی کے نتیجے میں ڈیرہ غازی خان کے نواحی علاقے دراہمہ کے قریب واقع سپربند آر-2 شدید دباؤ برداشت نہ کرتے ہوئے شگاف کا شکار ہو گیا، جس سے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ متاثرہ علاقوں میں کپاس، دھان، کماد اور سبزیاں پانی میں بہہ گئیں، جب کہ درجنوں مکانات میں پانی داخل ہونے سے مقامی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہو گئی۔ انتظامیہ کی غیر موجودگی کے باعث مقامی زمینداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت شگاف پر قابو پایا۔

    عینی شاہدین کے مطابق بند پر کئی روز سے پانی کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا اور مقامی زمینداروں نے محکمہ انہار و ضلعی انتظامیہ کو متعدد بار آگاہ بھی کیا، مگر بروقت کوئی اقدام نہ کیا گیا۔

    صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ضلعی انتظامیہ اور محکمہ انہار کے افسران جائے وقوعہ پر نہ پہنچے۔ ذرائع کے مطابق کمشنر اشفاق چوہدری اور ڈپٹی کمشنر عثمان خالد اس دوران شہر میں نکاسی آب کی نگرانی کے نام پر فوٹو سیشنز میں مصروف رہے، جبکہ دریا کنارے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔

    دوسری جانب مقامی زمینداروں جن میں اللہ ڈتہ سکھانی، خدا بخش سکھانی، غلام عباس کارلو، طالب کارلو، منظور حسین کلر، خادم حسین کلر اور کھول برادری کے دیگر افراد شامل تھے، نے اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ٹریکٹر ٹرالیاں، مٹی، بوریاں اور انسانی قوت استعمال کر کے سپربند کے شگاف کو بھرنے کی کامیاب کوشش کی، جس سے پانی کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکا۔

    مقامی افراد نے انتظامیہ کی غفلت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید تاخیر ہوئی تو نہ صرف فصلیں، بلکہ قیمتی جانیں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

    دوسری طرف بارشوں کے باعث دریائے سندھ کے مغربی کنارے واقع علاقے جن میں شاہ صدر دین، پیر عادل، جکھڑ امام شاہ، غوث آباد، دری میرو، بستی بھائی، لاڈن، سمینہ سادات اور دراہمہ سمیت کئی نشیبی علاقے زیرآب آچکے ہیں۔
    سیلابی پانی سے متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف، راشن، ادویات، عارضی رہائش اور طبی سہولیات کی فراہمی وقت کی اشد ضرورت ہے، تاہم اب تک نہ تو کوئی امدادی ٹیم پہنچی ہے اور نہ ہی ضلعی یا صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ متاثرہ دیہاتوں میں آیا ہے، جس سے مقامی افراد میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    متاثرہ علاقوں میں اب بھی پانی جمع ہے اور خدشہ ہے کہ اگر مزید بارشیں ہوئیں یا دریا میں پانی کی سطح بڑھی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ مقامی سماجی تنظیموں نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انسانی و زرعی نقصان کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: دلانہ پتی زئی میں پولیس اور CCD کی ڈاکوؤں سے جھڑپ، کوہِ سلیمان میں سرچ آپریشن جاری

    ڈیرہ غازی خان: دلانہ پتی زئی میں پولیس اور CCD کی ڈاکوؤں سے جھڑپ، کوہِ سلیمان میں سرچ آپریشن جاری

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹرجواد اکبر) ڈیرہ غازی خان پولیس اور کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (CCD) کی مشترکہ کارروائی کے دوران دلانہ پتی زئی میں ڈکیت گینگ سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق ڈاکو گینگ کی موجودگی پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لیا، جس پر ڈاکوؤں نے فائرنگ شروع کر دی۔

    پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت سے جواب دیتے ہوئے گینگ کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا، تاہم ڈاکو پہاڑی راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کوہِ سلیمان کے دشوار گزار علاقوں کی طرف فرار ہو گئے۔ پولیس اور CCD کی ٹیموں نے فوری تعاقب کیا اور بارڈر ملٹری ایریا میرشالی میں دوبارہ آمنا سامنا ہوا، جہاں ایک اور مرحلے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    ڈاکو گینگ ایک مرتبہ پھر پہاڑوں کی اوٹ میں فرار ہو گیا، تاہم سرچ آپریشن بدستور جاری ہے اور علاقے کو مکمل طور پر محاصرے میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات مزید تیز کر دیے گئے ہیں۔

    ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، اہلکاروں سے ملاقات کی، آپریشن کی بریفنگ لی اور پولیس کی بہادری کو سراہا۔ انہوں نے اہلِ علاقہ سے بھی ملاقات کی اور اعتماد دلایا کہ:

    "ڈیرہ پولیس عوام کے ساتھ ہے، پہاڑی و سرحدی علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔”

  • ڈیرہ غازی خان: بارش کے بعد نکاسی آب تیز، کمشنر و ڈپٹی کمشنر کا ہنگامی دورہ

    ڈیرہ غازی خان: بارش کے بعد نکاسی آب تیز، کمشنر و ڈپٹی کمشنر کا ہنگامی دورہ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری نے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کے ہمراہ بارش کے بعد شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور نکاسی آب کے عمل کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ریسکیو، ضلع کونسل، میونسپل کارپوریشن اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

    کمشنر اشفاق چوہدری نے کہا کہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور بارش کے پانی کی نکاسی مکمل استعداد کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے عملے کی موجودگی اور فیلڈ میں کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ نکاسی آب میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمام ڈسپوزل ورکس اور ڈی واٹرنگ سیٹ مکمل فعال ہیں، اور شہر بھر سے جلد پانی نکال دیا جائے گا تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  • دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، تونسہ کے نشیبی علاقے زیرِ آب، انخلاء اور ریسکیو آپریشن جاری

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، تونسہ کے نشیبی علاقے زیرِ آب، انخلاء اور ریسکیو آپریشن جاری

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث تحصیل تونسہ کی بیٹ جڑھ لغاری سمیت کئی نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، جس پر ضلعی انتظامیہ نے فوری ریسکیو اور انخلاء کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کشتی میں سوار ہو کر سیلاب سے متاثرہ بستیوں کا معائنہ کیا اور ریسکیو سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے ہدایت جاری کی کہ دریائے سندھ میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے، لہٰذا نشیبی علاقوں کے مکین فوری طور پر رضاکارانہ طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ حکومت نے تحصیل تونسہ شریف کے تمام سرکاری اسکولز کو عارضی ریلیف کیمپس قرار دے دیا ہے تاکہ متاثرین کو فوری پناہ دی جا سکے۔

    محمد عثمان خالد نے تونسہ میں جاری سیوریج لائنز کی تنصیب کا بھی معائنہ کیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ سیوریج کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے آر ایچ سی شادن لنڈ کا بھی دورہ کیا، مختلف شعبوں کا جائزہ لیا اور بہتری کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔

    ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں اور حکومت سے تعاون کرتے ہوئے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کریں۔

  • بلوچستان واقعہ: والد کے جنازے پر آنے والے دو بھائی بھی دہشتگردی کا نشانہ بن گئے،

    بلوچستان واقعہ: والد کے جنازے پر آنے والے دو بھائی بھی دہشتگردی کا نشانہ بن گئے،

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)بلوچستان میں 10 اور 11 جولائی کی درمیانی شب پیش آنے والے دلخراش واقعے میں دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل کیے گئے 9 مسافروں میں لودھراں کے دو سگے بھائی بھی شامل تھے جو اپنے والد کے انتقال کی اطلاع پر گھر واپس آرہے تھے۔ افسوسناک طور پر اب ان کے خاندان کو ایک نہیں بلکہ تین جنازوں کا سامنا ہے۔

    تحصیل دنیاپور ضلع لودھراں سے تعلق رکھنے والے جابر طور اور عثمان طور اپنے والد نذیر طور کے انتقال کی اطلاع ملنے کے بعد کوئٹہ سے روانہ ہوئے تاکہ نمازِ جنازہ میں شرکت کر سکیں۔ مگر راستے میں فتنہ الہند کے دہشتگردوں نے ان کی بس کو روک کر انہیں اہل خانہ کے سامنے شناختی کارڈ دیکھ کر اتارا اور پھر پہاڑی علاقے میں لے جا کر بے دردی سے قتل کر دیا۔

    مقتولین کے بھائی صابر طور نے بتایا کہ دونوں بھائی والد کی تدفین کی تیاری کے لیے آرہے تھے، مگر اب ہمارے گھر سے دو کے بجائے تین جنازے اٹھیں گے۔ یہ غم لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ جابر اور عثمان طور کے چھوٹے بچے اور خواتین اس صدمے سے نڈھال ہو چکے ہیں۔

    دوسری طرف مقتولین میں گوجرانوالہ کے علاقے واہنڈو (صائب) سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ صابر حسین بھی شامل تھے جو بلوچستان کے ایک پکوان سینٹر پر کام کرتے تھے۔ صابر 15 سال سے محنت مزدوری کر رہے تھے اور اپنے 4 بچوں سمیت پورے خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ان کے بڑے بیٹے کی عمر صرف 14 سال ہے۔

    صابر کی ہلاکت سے ان کا خاندان معاشی طور پر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ محض شناخت کی بنیاد پر قتل کیا جانا انسانیت سوز درندگی ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

    یاد رہے کہ 10 جولائی کی شام کوئٹہ سے لاہور جانے والی دو مسافر کوچز اے کے موورز اور سپر میختر بلوچستان کے علاقے ژوب میں دہشتگردوں نے روکا، شناختی کارڈ چیک کیے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12 افراد کو بس سے اتار کر علیحدہ کیا۔ ان میں سے 9 کو شناخت کے بعد پہاڑوں میں لے جا کر فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔

    لاشیں بعد ازاں بارڈر ایریا بواٹہ پر پنجاب کی انتظامیہ نے وصول کیں اور انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد، کمانڈنٹ بارڈر فورس محمد اسد خان چانڈیہ اور کمشنر اشفاق احمد چوہدری اس عمل کی نگرانی کر رہے تھے۔

  • ڈیرہ غازیخان:بلوچستان میں مسافروں کا قتل، لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ

    ڈیرہ غازیخان:بلوچستان میں مسافروں کا قتل، لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ

    ڈیرہ غازیخان( باغی ٹی وی رپورٹ)بلوچستان میں دہشتگردوں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کیے گئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں کی لاشیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔ اس دلخراش واقعے پر ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے جبکہ مقتولین کے ورثا غم سے نڈھال ہیں۔

    ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے لاہور آنے والی دو مسافر بسوں اے کے موورز اور سپر میختر کو 10 جولائی 2025 کی شام 5 بج کر 30 منٹ پر بلوچستان کے ضلع ژوب میں نامعلوم دہشتگردوں نے روکا۔ ان مسلح حملہ آوروں نے شناختی کارڈ چیک کیے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12 مسافروں کو بسوں سے اتار کر الگ کیا۔ بعدازاں 9 مسافروں کو شناخت کی بنیاد پر فائرنگ کر کے بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ تین افراد معجزاتی طور پر بچ نکلے۔

    بلوچستان کے سرحدی علاقے میں یہ واقعہ پیش آنے کے بعد کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے فوری طور پر بلوچستان انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ مقتولین کی لاشیں بلوچستان پنجاب سرحدی علاقے "بواٹہ” پر تحصیلدار و کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس محمد اسد خان چانڈیہ نے وصول کیں۔ اس موقع پر ڈی پی او سید علی، اے ڈی سی آر عثمان بخاری، اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ لاشوں کو سرکاری ایمبولینسز کے ذریعے ریونیو افسران کی نگرانی میں متعلقہ اضلاع کی جانب روانہ کر دیا گیا۔

    کمشنر اشفاق احمد اور ڈپٹی کمشنر عثمان خالد کی نگرانی میں شہداء کے جسد خاکی بلوچ لیوی لائنز ڈیرہ غازی خان سے روانہ کیے گئے۔ تمام لاشوں کی حوالگی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔

    شہداء کی شناخت اور تعلق:
    1. جابر طور اور عثمان طور (دو سگے بھائی) تحصیل دنیا پور ضلع لودھراں جواپنے والد نذیر طور کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
    2. محمد عرفان ولد غلام اکبر ڈیرہ غازی خان۔
    3. صابر حسین ولد محمد ریاض کامونکی، ضلع گوجرانوالہ۔
    4. محمد آصف ولد سلطان چوک قریشی (ٹیچر)۔
    5. غلام سعید ولد غلام سرور خانیوال
    6. محمد جنید لاہور
    7. محمد بلال ولد عبد الوحید اٹک۔
    8. بلاول گجرات
    یہ افسوس ناک واقعہ بلوچستان اور پنجاب کے سنگم پر واقع کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو پہلے ہی بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کی جانب سے تھریٹس موصول ہو چکی تھیں، جس کے نتیجے میں بارڈر ملٹری پولیس، بلوچ لیوی فورس اور دیگر اداروں کو ہائی الرٹ کیا گیا تھا۔

    اس افسوسناک واقعے کے بعد کمشنر اشفاق احمد چوہدری، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور کمانڈنٹ اسد خان چانڈیہ نے بلوچستان سے ملحقہ تمام بارڈر پوائنٹس خصوصاً بواٹہ، فورٹ منرو، کھر اور دیگر اہم راستوں پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ بارڈر ملٹری پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ تمام مشکوک گاڑیوں اور افراد کی سخت تلاشی لی جا رہی ہے۔

    پنجاب سے بلوچستان جانے والی تمام ٹریفک کو تا حکم ثانی بواٹہ چیک پوسٹ پر روک دیا گیا ہے۔ تمام داخلی و خارجی راستوں پر پیدل گشت، موبائل وائرلیس ٹیمز اور ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔

    کمشنر اشفاق چوہدری اور ڈپٹی کمشنر عثمان خالد نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ انتظامیہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معصوم شہریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور حکومت مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے شہداء کے اہلخانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ ہر ضلع کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرہ خاندانوں سے مکمل تعاون کیا جائے اور لاشوں کی تدفین و دیگر انتظامات سرکاری سطح پر کرائے جائیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: خستہ حال عمارتوں کے سروے کا فیصلہ، ضلعی انتظامیہ متحرک

    ڈیرہ غازی خان: خستہ حال عمارتوں کے سروے کا فیصلہ، ضلعی انتظامیہ متحرک

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) حکومتِ پنجاب کی ہدایت پر ڈیرہ غازی خان میں خستہ اور بوسیدہ عمارتوں کے خلاف اہم اقدام اٹھا لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل قدسیہ ناز نے میونسپل کارپوریشن اور تمام میونسپل کمیٹیوں کے سربراہان کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا ہے، جس میں ان سے اپنی متعلقہ حدود میں موجود خطرناک اور بوسیدہ عمارتوں کا فوری سروے مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس سروے کا مقصد انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ممکنہ حادثات سے قبل حفاظتی اقدامات کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ سروے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر ادارہ اپنی حدود میں واقع عوامی، رہائشی اور تجارتی عمارتوں کا مکمل اور جامع جائزہ لے۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کا کہنا تھا کہ جن عمارتوں کو خطرناک قرار دیا جائے گا، انہیں گرانے کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ کی اس کارروائی کو شہری حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ بروقت سروے اور عملی اقدامات سے ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے گا۔