Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازیخان کے نامور استاد پروفیسر فیاض احمد ترین کو خراج تحسین

    ڈیرہ غازیخان کے نامور استاد پروفیسر فیاض احمد ترین کو خراج تحسین

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر جواد اکبر) ڈیرہ غازیخان کے نامور استاد اور ریٹائرڈ پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج پروفیسر فیاض احمد ترین کو ان کی وفات پر شہر بھر میں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

    پروفیسر فیاض احمد ترین کو ڈیرہ غازیخان میں بابائے کیمسٹری کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ تعلیم کے میدان میں وقف کیا اور ہزاروں طلبہ کو علم کی روشنی سے منور کیا۔ ان کے شاگرد آج دنیا کے مختلف ممالک میں ڈاکٹرز، انجینیئرز، وکلاء، پروفیسرز اور دیگر اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

    پروفیسر فیاض احمد ترین نہ صرف ایک عظیم استاد بلکہ ایک نیک انسان بھی تھے۔ وہ انتہائی اصول پسند اور ایماندار تھے۔ ان کی وفات سے تعلیمی اور سماجی حلقوں میں گہرا صدمہ ہوا ہے۔

    پروفیسر فیاض احمد ترین رشتے میں رپورٹر جواد اکبر کے پھوپھا اور صاحبزادہ رحیم آصف مجددی کے ماموں تھے۔

    اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

  • ڈیرہ غازی خان:آرپی او آفس کے ملازم کی ایمانداری کی مثال، گمشدہ موبائل مالک کو واپس کر دیا

    ڈیرہ غازی خان:آرپی او آفس کے ملازم کی ایمانداری کی مثال، گمشدہ موبائل مالک کو واپس کر دیا

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر جواد اکبر) ریجنل پولیس آفس ڈیرہ غازی خان میں تعینات نائب قاصد سید تحسین اصغر نے ایمانداری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک گمشدہ موبائل فون اس کے اصل مالک کو واپس کر کے ایک اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف پولیس کے اس شعبے کی ساکھ میں اضافہ کیا ہے بلکہ شہریوں کا اعتماد بھی بڑھایا ہے۔

    واقعہ کچھ یوں ہے کہ نائب قاصد سید تحسین اصغر کو بازار میں ایک گمشدہ موبائل فون ملا۔ یہ موبائل فون ایک شہری محمد یعقوب کا تھا جو کہ پیشے کے اعتبار سے ایک سکول ٹیچر ہیں۔ سید تحسین اصغر نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے موبائل فون کو اپنے پاس رکھنے یا اسے فروخت کرنے کے بجائے فوری طور پر فون کے مالک سے رابطہ کیا۔

    نائب قاصد نے محمد یعقوب کو کال کرکے اطلاع دی کہ ان کا گمشدہ موبائل فون مل گیا ہے اور انہیں ریجنل پولیس آفس میں بلا کر فون ان کے حوالے کر دیا۔ اس ایماندارانہ اقدام پر محمد یعقوب نے بے حد خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا اور سید تحسین اصغر کی ایمانداری اور فرض شناسی کی تعریف کی۔

    محمد یعقوب، جو کہ اپنی محنت کی کمائی سے خریدا گیا موبائل فون کھو بیٹھے تھے، نے موبائل فون واپس ملنے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ "آج کے دور میں جب لوگ ذاتی مفاد کے لیے دوسروں کے نقصان کا فائدہ اٹھاتے ہیں، ایسے ایماندار لوگوں کا ہونا ہمارے معاشرے کے لیے ایک بڑی نعمت ہے۔ میں ریجنل پولیس آفس کے اس ملازم کی ایمانداری کو دل سے سراہتا ہوں۔”

    اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ڈیرہ غازی خان، کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے بھی سید تحسین اصغر کی ایمانداری کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ "ایمانداری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین ہمارے محکمے کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ ایسے ملازمین نہ صرف محکمہ پولیس کا وقار بڑھاتے ہیں بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔”

    آر پی او نے مزید کہا کہ تحسین اصغر کا یہ اقدام محکمہ پولیس کے لیے ایک قابل فخر لمحہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ہر پولیس ملازم اسی جذبے کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے تاکہ عوام کا اعتماد پولیس پر برقرار رہے۔ انہوں نے تحسین اصغر کو انعام اور تعریفی سند سے نوازنے کا اعلان بھی کیا تاکہ دوسرے ملازمین بھی اس سے ترغیب حاصل کریں۔

    نائب قاصد سید تحسین اصغر، جنہوں نے یہ ایمانداری کا مظاہرہ کیا، نے کہا کہ "میری تربیت اور فرض کا تقاضا یہی تھا کہ میں اس گمشدہ چیز کو اس کے مالک تک پہنچاؤں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایمانداری انسان کی پہچان ہے اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے اپنے فرض کو دیانت داری سے پورا کیا۔”

    یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکا ہے جہاں لوگوں نے سید تحسین اصغر کی ایمانداری کی تعریف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ بہت سے شہریوں نے یہ کہا کہ اگر ہر فرد اور سرکاری ملازم اسی جذبے کے ساتھ کام کرے تو معاشرے میں اخلاقی قدریں مزید مضبوط ہوں گی اور عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بحال ہوگا۔

  • ڈیرہ غازی خان:ریجنل پولیس آفیسرکا اردل روم کا انعقاد، 09 اپیلوں کی سماعت

    ڈیرہ غازی خان:ریجنل پولیس آفیسرکا اردل روم کا انعقاد، 09 اپیلوں کی سماعت

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی نیوز رپورٹر شاہد خان)ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے ریجنل پولیس آفس ڈیرہ غازیخان میں اردل روم کا انعقاد کیا، جہاں انہوں نے 09 اپیلوں اور شوکاز نوٹسز کی سماعت کی۔ اس اجلاس کا مقصد محکمہ پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور افسران و اہلکاران کو سزاء و جزاء کے اصولوں کے تحت کام کرنے کی ترغیب دینا تھا۔

    تفصیلات کے مطابق کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے اردل روم میں پولیس افسران اور اہلکاران کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ ان اپیلوں میں پولیس اہلکاروں کو دی گئی مختلف سزاؤں کے خلاف 09 اپیلیں شامل تھیں۔ سماعت کے دوران آر پی او نے تسلی بخش جواب پیش کرنے پر 03 اپیلوں میں دی گئی سزاؤں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ 06 اپیلوں میں تسلی بخش جواب نہ ملنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر سزاؤں کو برقرار رکھنے کا حکم دیا۔

    شوکاز نوٹسز کی سماعت کے دوران آر پی او نے متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری کے احکامات بھی جاری کیے تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

    کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ پولیس کے تمام افسران اور اہلکاران کو شہریوں کی حفاظت اور جرائم کے خاتمے کے لیے جانفشانی اور ایمانداری سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ میرٹ پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور کسی کو بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ آر پی او نے مزید کہا کہ محکمہ میں سزاء اور جزاء کا عمل ہر صورت جاری رکھا جائے گا تاکہ افسران کی کارکردگی بہتر ہو اور محکمہ پولیس میں شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔

    آر پی او نے یہ بھی واضح کیا کہ محکمہ پولیس کی بہتری کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس عمل کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا۔ افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے فرائض دیانتداری سے انجام دیں اور عوامی شکایات کا بروقت اور منصفانہ ازالہ کریں۔

  • ڈیرہ غازیخان :بواٹہ سے سخی سرور ،بی ایم پی کے ساتھ رینجرز تعینات کرنے کا حکم

    ڈیرہ غازیخان :بواٹہ سے سخی سرور ،بی ایم پی کے ساتھ رینجرز تعینات کرنے کا حکم

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواد اکبر)بواٹہ سے سخی سرور ،بی ایم پی کے ساتھ رینجرز تعینات کرنے کا حکم

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان اور کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود کی زیر صدارت ڈویژنل انٹیلی جنس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پورے ریجن میں امن و امان کی صورتحال اور صوبہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے ملحقہ ٹرائی بارڈر ایریا میں سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سخی سرور سے بواٹا نیشنل ہائی وے تک سکیورٹی اقدامات کو مزید بہتر بنایا جائے، اور امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے بارڈر ملٹری پولیس کے ساتھ رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    اس اجلاس میں تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسران، ڈپٹی کمشنرز، اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ڈویژنل سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران شرکاء نے سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں میں پولیس، بارڈر ملٹری پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس بات پر غور کیا گیا کہ ٹرائی بارڈر ایریا میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔

    اجلاس میں سخی سرور سے بواٹا نیشنل ہائی وے پر سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت بارڈر ملٹری پولیس کے ساتھ رینجرز کی تعیناتی کا حکم دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کریں اور موجودہ سکیورٹی پلان کو مزید موثر بنائیں۔

    اجلاس میں موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر بین الصوبائی اور بین الاضلاعی چیک پوسٹوں پر فول پروف سکیورٹی کی ہدایات بھی دی گئیں۔ شرکاء کو تاکید کی گئی کہ تمام داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ اور کڑی نگرانی کی جائے، تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔ اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی معلومات کے تبادلے کی بھی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو مشترکہ طور پر ناکام بنایا جا سکے۔

    آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے اجلاس کے دوران تمام ڈسٹرکٹ پولیس آفیسران کو ہدایت دی کہ وہ غیر ملکی شہریوں کی سکیورٹی کا خود معائنہ کریں اور ان کی نقل و حرکت کے دوران ایس او پیز کی مکمل پابندی کو یقینی بنائیں۔ حساس مقامات اور اہم تنصیبات پر بھی سکیورٹی کے موثر انتظامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ پر خصوصی زور دیا گیا۔ اس ضمن میں وال چاکنگ، لاوڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی، کرایہ داری ایکٹ کی عدم پابندی، اور ناجائز اسلحے کی روک تھام کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ اجلاس کے دوران ان تمام امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ اپنی کارروائیاں مزید تیز کریں۔

    یہ اجلاس موجودہ ملکی اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں منعقد کیا گیا، اور اس میں تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اداروں کے درمیان قریبی تعاون اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان: کیسے بنا ایس ایچ او بواٹہ ارب پتی؟کیا آڈٹ ہوپائے گا ؟

    ڈیرہ غازیخان: کیسے بنا ایس ایچ او بواٹہ ارب پتی؟کیا آڈٹ ہوپائے گا ؟

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ) کیسے بنا ایس ایچ او بواٹہ ارب پتی؟کیا آڈٹ ہوپائے گا ؟

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان کی آخری اور بلوچستان بارڈر پر واقع بین الصوبائی چیک پوسٹ بواٹہ میں عرصہ سے تعینات ایس ایچ او اقبال لغاری پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اقبال لغاری اور ان کا عملہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے اور انہوں نے کرپشن کے ذریعے اربوں روپے کی جائیداد بنا لی ہے۔

    ذرائع کے مطابق چیک پوسٹ پر فرائض انجام دینے والے اہلکار رات کے وقت مشکوک گاڑیوں سے غیر قانونی طور پر سامان اتار کر نامعلوم افراد کو منتقل کرتے ہیں۔ اس طرح کی سرگرمیاں چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں کے کردار اورذمہ داری پر سوالات اٹھاتی ہیں۔

    مقامی لوگوں نے بی ایم پی کمانڈنٹ اسد خان چانڈیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چیک پوسٹ پر تعینات "کرپشن کے بے تاج بادشاہ” کہے جانے والے اقبال لغاری کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ چند افراد کی وجہ سے پوری فورس کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

    عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اقبال لغاری ارب پتی کیسے بنا؟ اس نے مختلف اضلاع میں زمینیں، بنگلے اور جائیدادیں کس طرح حاصل کیں؟ اس کا آڈٹ کرایا جائے اور کرپشن میں ملوث ایس ایچ او اقبال لغاری سمیت دیگر کے خلاف شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا آغاز کیا جائے تاکہ کرپٹ عناصر کو قانون کے شکنجے میں لایا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازیخان: گڈز ٹرانسپورٹ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے.عبدالسلام ناصر

    ڈیرہ غازیخان: گڈز ٹرانسپورٹ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے.عبدالسلام ناصر

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی سٹی رپورٹر جواد اکبر) گڈز ٹرانسپورٹ ملکی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، جسے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم، ٹرانسپورٹرز کو متعدد مسائل کا سامنا ہے، خاص طور پر سڑکوں کی حالت زار اور مختلف محکموں کی جانب سے ہونے والی مشکلات کی وجہ سے۔ یہ بات صدر گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن عبدالسلام ناصر نے ناصر گڈز ٹرانسپورٹ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر کہی۔

    افتتاحی تقریب پاکستان چوک پر منعقد کی گئی جہاں گڈز ٹرانسپورٹ ڈیرہ کے والد محترم حاجی محمد کریم خان نے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عبدالسلام ناصر نے گڈز ٹرانسپورٹرز کے مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ڈیرہ غازی خان میں ٹرانسپورٹرز کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔” انہوں نے خاص طور پر بلوچستان سے پنجاب آنے والی ٹرانسپورٹ کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا، جس پر ٹریفک پولیس، پیٹرولنگ پولیس اور دیگر محکموں کے لوگ ناکے لگا کر دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔

    عبدالسلام ناصر نے مزید کہا کہ "اس وقت بلوچستان میں شر پسند عناصر اور دشمنان پاکستان کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو توڑا جائے، اور وہ پنجاب کے لوگوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم ان دشمنوں کی سازشوں کا مل کر مقابلہ کریں گے۔ ہم سب پاکستانی ہیں اور اپنے ملک کے لیے جان کی بھی پرواہ نہیں کریں گے۔”

    انہوں نے کمشنر ڈیرہ ناصر محمود بشیر کی تعریف کی جنہوں نے ہمیشہ ٹرانسپورٹروں کے مسائل پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ان کی قیادت میں، ٹرانسپورٹرز کی بہت سی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ ایک مثبت قدم ہے۔

    افتتاحی تقریب میں گڈز ٹرانسپورٹ جنوبی پنجاب اور بلوچستان کی سینئر قیادت نے شرکت کی۔ ان میں سینئر نائب صدر بلال خان علیانی، لیاقت خان لغاری، جمعیت علماء اسلام (ف) کی سینئر قیادت کے اقبال رشید، کامل مسعود، عرفان، پیر مدثر، سیکرٹری جمخانہ سردار ذوالفقار خان لغاری، پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر شبلی شب خیز غوری، سابق صدر بار ایسوسی ایشن بہرام خان بزدار، مسرت عباس دستی ایڈووکیٹ، غلام عباس پتافی ایڈووکیٹ، ڈاکٹر یونس راج، چوہدری وحید، ملک جاوید، ساجد اعوان اور دیگر شامل تھے۔

    تقریب کا مقصد نہ صرف گڈز ٹرانسپورٹ کے مسائل کو اجاگر کرنا تھا بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دینا بھی تھا۔ عبدالسلام ناصر نے ٹرانسپورٹ کی بہتری کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے مزید اقدامات کی ضرورت کا بھی ذکر کیا تاکہ ملکی معیشت کی بہتری میں گڈز ٹرانسپورٹ کا کردار مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازیخان: آرپی اوکیپٹن (ر) سجاد حسن خان کی روزانہ کھلی کچہری، فوری کارروائی کے احکامات

    ڈیرہ غازیخان: آرپی اوکیپٹن (ر) سجاد حسن خان کی روزانہ کھلی کچہری، فوری کارروائی کے احکامات

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،نامہ نگارشہزادخان) آرپی اوکیپٹن (ر) سجاد حسن خان کی روزانہ کھلی کچہری، فوری کارروائی کے احکامات

    ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ڈیرہ غازی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان عوامی مسائل کے حل کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہری کا انعقاد کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں، ریجن بھر سے آنے والے سائلین کی درخواستوں کی سماعت کی جاتی ہے اور فوری طور پر متعلقہ افسران کو کاروائی کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق آر پی او نے ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، راجن پور اور لیہ سے آنے والے سائلین کی شکایات کا بغور جائزہ لیا اور تمام اضلاع کے متعلقہ افسران کو فوری رپورٹ فراہم کرنے کا حکم دیا۔ مارک کی گئی تمام درخواستوں کے مکمل فالو اپ کا بھی حکم دیا گیا تاکہ شکایات کا جلد از جلد ازالہ ہو سکے۔

    آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے اس موقع پر کہا کہ "کسی بھی شہری کے ساتھ زیادتی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو انصاف کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔” ان کا کہنا تھا کہ عوامی دادرسی اور فوری انصاف فراہم کرنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان:ڈی جی اورناز تھیٹر میں بے حیائی کا زور،انتظامیہ کی طوطاچشمی

    ڈیرہ غازیخان:ڈی جی اورناز تھیٹر میں بے حیائی کا زور،انتظامیہ کی طوطاچشمی

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی ،نامہ نگار)ڈی جی اورناز تھیٹر میں بے حیائی کا زور،انتظامیہ کی طوطاچشمی

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازیخان شہر کے مشہور ناز تھیٹر اور ڈی جی تھیٹر میں جاری ڈراموں کی سرگرمیاں ایک نئی بحث کا آغاز کر رہی ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان تھیٹروں میں نہ صرف غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہیں بلکہ ان کے آس پاس مافیا کی موجودگی نے صورت حال کو اور بھی خراب کر دیا ہے۔

    علاقے کے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ چوہدری مشتاق، پائل چوہدری اور علی جانی جیسے افراد قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق ان تھیٹروں میں آنے والے افراد کی سرگرمیوں میں شراب، چرس، اور اسلحے کی نمائش عام بات بن چکی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ان کی سرپرستی کرنے والوں میں شامل ہے

    شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں پر ناچنے والی خواتین آدھے کپڑے پہن کر جسم کا نمائش کرتی ہیں، جو کہ نہ صرف بے ہودگی کی علامت ہے بلکہ اس سے فنکاروں کی عزت بھی مجروح ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ فنکاروں اور طوائفوں کی جانب سے بے ہودہ ڈرامے کیے جا رہے ہیں جو اصل آرٹسٹ کے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف ہیں۔

    ذرائع کے مطابق آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر بھی اس معاملے میں ملوث ہیں کیونکہ انہیں ان سرگرمیوں کے بدلے مالی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ یہ مافیا پنجاب کے مختلف شہروں سے ناچنے والی لڑکیوں کو لاتا ہے اور ان کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ یہ لڑکیاں گن پوائنٹ پر لائی جاتی ہیں اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔

    عوام نے مزید شکایت کی ہے کہ بجلی کی فری استعمال بھی ان غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ ہے جس میں واپڈا کے کچھ ملازمین بھی شامل ہیں۔ اس صورت حال نے شہریوں کو بے حد پریشان کر دیا ہے کیونکہ وہ خوف محسوس کر رہے ہیں کہ یہاں کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔

    پولیس کو بدنام کرنے کی کوشش کے طور پر جعلی وردی میں ملبوس افراد کو بھی یہاں بٹھایا جاتا ہے۔ ان کے ذریعے عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ یہ اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ موویز بنانا منع ہے۔

    علاقے کے عوام نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، کمشنر ڈیرہ غازی خان اور ڈپٹی کمشنر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مافیا کے خلاف فوری کارروائی کریں اور ان غیر قانونی سرگرمیوں کے اڈوں کو بند کریں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی زندگیوں میں سکون محسوس کر سکیں۔

  • ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں ہر گاؤں کو ماڈل بنانے کا فیصلہ، غیر قانونی پٹرول پمپ بھی بند ہوں گے

    ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں ہر گاؤں کو ماڈل بنانے کا فیصلہ، غیر قانونی پٹرول پمپ بھی بند ہوں گے

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواد اکبر) ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں صفائی اور ترقی کے عمل کو مزید تیز کرتے ہوئے "ستھرا پنجاب” پروگرام کے تحت ہر گاؤں کو ماڈل بنایا جائے گا۔ کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن ڈاکٹر ناصر محمود بشیر کی صدارت میں ہونے والے ویڈیو لنک جائزہ اجلاس میں یہ فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں پانچوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

    کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود بشیر نے کہا کہ افرادی قوت اور مشینری کے ٹینڈر جاری کر دیے گئے ہیں اور صرف فیلڈ میں کام کرنے والے اہلکاروں کو تنخواہیں دی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈویژن کو غیر قانونی پٹرول پمپس سے پاک کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے اور تمام غیر قانونی آئل یونٹس کو بند کر کے سربمہر کیا جائے گا۔

    کمشنر نے یہ بھی ہدایت دی کہ پانچوں اضلاع میں زیر التواء بلڈنگز، ہاؤسنگ کالونیز، پٹرول پمپس اور دیگر منصوبوں کے این او سیز فوری طور پر جاری کیے جائیں۔ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے شادی ہالز کو کم از کم ایک ہفتے کے لیے سیل کیا جائے گا، جبکہ بھاری جرمانے، گرفتاریاں اور دیگر قانونی کارروائیاں بھی عمل میں لائی جائیں گی۔

    کاشتکاروں کو گنے کی مکمل ادائیگی یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا، اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ شوگر کین کی ادائیگی کرا کے سرٹیفکیٹ فراہم کریں۔ عام آدمی کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اشیائے خوردونوش کی سرکاری قیمتوں پر دستیابی کو یقینی بنانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں، اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ فیلڈ میں نکلیں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

    اجلاس میں وزیراعلیٰ کے اقدامات (سی ایم انیشیٹوز) اور دیگر اہم معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا اور ان میں مزید بہتری کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔

  • ڈیرہ غازی خان بورڈ ،انٹرمیڈیٹ  نتائج کا اعلان، کامیابی کا تناسب 64.21 فیصد

    ڈیرہ غازی خان بورڈ ،انٹرمیڈیٹ نتائج کا اعلان، کامیابی کا تناسب 64.21 فیصد

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواد اکبر) ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ نے انٹرمیڈیٹ پارٹ فرسٹ (گیارہویں جماعت) کے سالانہ امتحانات 2024 کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے، جس میں مجموعی طور پر کامیابی کا تناسب 64.21 فیصد رہا۔

    ایڈیشنل کمشنر ریونیو طاہر امین نے چیئرمین تعلیمی بورڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے نتائج کو آن لائن جاری کیا۔ اس تقریب میں کنٹرولر امتحانات مظفر حسین، سیکرٹری بورڈ چوہدری عبدالرحمن، اے سی جی فہد نور، اور آئی ٹی ٹیکنیشن احمد علی قریشی سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

    طاہر امین نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ انٹرمیڈیٹ پارٹ فرسٹ کے امتحان میں 50,374 طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ ان میں سے 32,344 طلبہ نے کامیابی حاصل کی، جس سے کامیابی کا مجموعی تناسب 64.21 فیصد رہا۔ 30,884 ریگولر طلبہ میں سے 65.23 فیصد جبکہ 1,460 پرائیویٹ امیدواروں میں سے 48.23 فیصد نے کامیابی حاصل کی۔

    پہلے سالانہ امتحان 2024 میں لڑکیوں کی کارکردگی نمایاں رہی۔ گرلز نے 71.35 فیصد کامیابی کے ساتھ لڑکوں کو پیچھے چھوڑ دیا، جبکہ بوائز میں کامیابی کا تناسب 57.29 فیصد رہا۔ اس سال بھی لڑکیوں نے اپنی مسلسل شاندار کارکردگی سے تعلیمی میدان میں اپنی برتری ثابت کی۔

    مختلف اضلاع میں کامیابی کا تناسب درج ذیل رہا:مظفرگڑھ: 69.59 فیصد کے ساتھ پہلی پوزیشن۔کوٹ ادو: 67.96 فیصد کے ساتھ دوسری پوزیشن۔لیہ: 66.47 فیصد کے ساتھ تیسری پوزیشن۔ڈیرہ غازی خان: 57.44 فیصد کے ساتھ چوتھی پوزیشن۔راجن پور: 56.24 فیصد کے ساتھ پانچویں پوزیشن۔

    کنٹرولر امتحانات مظفر حسین نے کہا کہ کمشنر اور چیئرمین کی ہدایات پر امتحانی عمل کو انتہائی شفاف بنانے کے لیے ان کی ٹیم نے دن رات محنت کی۔ انہوں نے کہا کہ "نتائج کی تیاری سے لے کر اعلان تک ہر مرحلے پر شفافیت کو یقینی بنایا گیا تاکہ تمام طلبہ کو ان کی محنت کا جائز صلہ مل سکے۔”

    تعلیمی بورڈ کے افسران نے طلبہ کو مبارکباد دی اور کامیاب ہونے والے طلبہ کو اپنے تعلیمی کیریئر کو مزید بہتر بنانے کے لیے سخت محنت جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پرائیویٹ طلبہ کی کامیابی کا تناسب کم رہا ہے، جس کو بہتر بنانے کے لیے مستقبل میں مزید سہولیات اور رہنمائی فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    اس موقع پر ایڈیشنل کمشنر طاہر امین نے کہا کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے بورڈ کے افسران مسلسل محنت کر رہے ہیں اور آئندہ امتحانات میں بھی شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

    امتحانات کے نتائج کے اعلان کے بعد طلبہ و طالبات اور ان کے والدین میں خوشی اور امید کی لہر دوڑ گئی۔ کامیاب ہونے والے طلبہ نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنی محنت اور اساتذہ کی رہنمائی کو دیا۔ کچھ طلبہ نے اپنی توقعات سے بہتر نتائج حاصل کیے جبکہ بعض طلبہ اپنے نتائج سے غیر مطمئن دکھائی دیے، لیکن انہوں نے آئندہ امتحانات میں مزید محنت کرنے کا عزم کیا۔

    تعلیمی بورڈ کے افسران نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ تعلیمی اصلاحات پر مزید توجہ دے تاکہ تمام اضلاع میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر کیا جا سکے اور طلبہ کو جدید تعلیم سے آراستہ کیا جا سکے۔