Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • لینڈ سلائیڈنگ کے سبب قراقرم ہائی وے  لوتر کے مقام پر بند

    لینڈ سلائیڈنگ کے سبب قراقرم ہائی وے لوتر کے مقام پر بند

    بھاری لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے اپر کوہستان میں لوتر پولیس اسٹیشن کی حدود میں قراقرم ہائی وے بند ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق لینڈسلائیڈنگ سے گلگت بلتستان اور کوہستان کے کچھ حصوں کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے نتیجے میں آنے اور جانے والے راستوں پر سیکڑوں مسافر اور خاندان پھنسے ہوئے ہیں۔اپر کوہستان کنٹرول روم کے پولیس اہلکار منہاج الدین نے روڈ بلاک ہونے کی تصدیق کی، جبکہ گلگت بلتستان میں دیامر ڈسٹرکٹ کے پولیس آفیسر کے اسسٹنٹ عبدالخالق نے بھی سڑک بندش کی تصدیق کی۔عبدالخالق کا کہنا تھا کہ شاہراہ قراقرم کل رات سے لوتر کے مقام پربند ہے، جو اپر کوہستان کی حدود ہے، حال ہی میں کوہستان پولیس کے اہلکار سے رابطہ ہوا، جنہوں نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کافی زیادہ ہوئی ہے اور ایک صفائی مشین سے رات تک اسے کھولنا ممکن نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مسافر سڑکوں دونوں اطراف پھنسے ہوئے ہیں، تاہم دیامر پولیس اسلام آباد اور دیگر شہروں کی طرف جانے والے مسافروں کو بتانے کے لیے سڑکوں پر موجود ہے کہ وہ چلاس شہر میں اس وقت تک انتظار کریں گے جب تک سڑک کھل نہیں جاتی۔اپر کوہستان کنٹرول روم میں منہاج الدین نے بتایا کہ سڑک کھولنے کا کام جاری ہے، لیکن لوتر کے مقام پر سڑک کے 100 میٹر کے حصے میں بڑے پتھر پڑے ہوئے ہیں۔

    ایلون مسک کی دولت میں اچانک اربوں ڈالرز کی کمی

    بھارتی یونیورسٹی کے قریب دیوار پر ‘آزاد کشمیر’ اور ‘آزاد فلسطین’ کے نعرے درج

    این ایل سی کی خلیجی ممالک کے لیے بحری سروس کا آغاز

    بھارت کا انٹرنیٹ کیلئے اسپیس ایکس کے ساتھ معاہدہ

  • گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں پھنڈر سرمائی کھیلوں کا انعقاد

    گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں پھنڈر سرمائی کھیلوں کا انعقاد

    این ایل سی (نیشنل لاجسٹک سیلز) کی جانب سے گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں پھنڈر سرمائی کھیلوں کا شاندار انعقاد کیا گیا۔

    اس ایونٹ کا مقصد نہ صرف مقامی سطح پر کھیلوں کی ترویج بلکہ سیاحت کے فروغ کو بھی اجاگر کرنا تھا۔ این ایل سی نے پھندر ونٹر سپورٹس کلب اور غذر سپورٹس نیٹ ورک کے ساتھ مشترکہ طور پر ان کھیلوں کا اہتمام کیا۔پھنڈر سرمائی کھیلوں کے دوران خواتین کی آئس ہاکی ٹیم "پھنڈر ٹراوٹس” نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے یاسین جانباز کو شکست دی اور آئس ہاکی چمپیئن شپ اپنے نام کر لی۔ اسی طرح مردوں کے آئس ہاکی مقابلے میں بھی پھنڈر ٹراؤٹس نے جی بی سکاؤٹس کو شکست دے کر فتح حاصل کی۔

    ان مقابلوں کا مقصد گلگت بلتستان میں روایتی کھیلوں کو فروغ دینا اور علاقے میں سیاحت کے امکانات کو بڑھانا تھا۔ اس ایونٹ میں نہ صرف مقامی افراد بلکہ ملک بھر سے بڑی تعداد میں شائقین نے شرکت کی۔ اس میلے نے نہ صرف مقامی لوگوں کو تفریح فراہم کی بلکہ سماجی اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھی اضافہ کیا۔

    ویمن اور مین آئس ہاکی مقابلے: میلے میں موسم سرما کے روایتی کھیلوں کے علاوہ خواتین اور مردوں کی ٹیموں کے آئس ہاکی کے مقابلے بھی شامل تھے۔ ان مقابلوں کی خاص بات یہ تھی کہ خواتین نے مختلف کھیلوں میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، جس سے اس ایونٹ کی کامیابی میں مزید اضافہ ہوا۔یہ ایونٹ مقامی لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوا اور گلگت بلتستان کے سرد موسم میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک نیا باب کھولا۔

    کیا ائیر بیسز پر حملہ کرنے پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے؟جسٹس حسن اظہر

    پاکستانی لڑکے سے شادی کیلیے کراچی آئی امریکی خاتون کی واپسی کے لئے شرط

  • انڈپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں فری لانسنگ ہب کا قیام

    انڈپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں فری لانسنگ ہب کا قیام

    سکردو: ایس سی او نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لئے فری لانسنگ ہبز کے قیام کا آغاز کیا ہے۔ اس سلسلے میں انڈپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں ایک فری لانسنگ ہب قائم کیا گیا ہے، جس سے ان افراد کو آئی ٹی کے شعبے میں اپنے ہنر کو مزید نکھارنے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

    ڈی جی ایس سی او نے ان سینٹرز کا دورہ کیا اور اپنی گفتگو میں کہا، "خصوصی افراد ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں جو محنت، عزم اور قابلیت سے اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں۔ یہ باصلاحیت افراد دوسروں کے لیے بھی مثال قائم کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "خصوصی افراد کی کامیابیوں کو تسلیم کرنا اور ان کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔”

    پاک فوج اور ایس سی او کی جانب سے انڈیپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں فری لانسنگ ہب کا قیام ایک سنگ میل ہے، جس کے ذریعے خصوصی افراد کو آئی ٹی کی تربیت اور آن لائن پلیٹ فارمز پر کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس ہب میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل بچے اور بچیاں لیپ ٹاپ کی فراہمی سے مستفید ہو سکیں گے۔اس اقدام کے ذریعے ان افراد کو آن لائن کام کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے نہ صرف ان کی کفالت کے ذرائع میں اضافہ ہوگا بلکہ انہیں اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔

    ایس سی او نے اس ہب میں لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس سے یہ خصوصی افراد آئی ٹی کے میدان میں اپنی مہارت کو مزید بہتر بنا سکیں گے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے۔یہ اقدام خصوصی افراد کے لیے ایک نئی امید اور روشنی کا پیغام ہے، جو ان کی خودمختاری اور معاشرتی انضمام کے لیے اہم قدم ہے۔

    شہداء کو خراجِ عقیدت، اوورسیز پاکستان گلوبل فاؤنڈیشن کا تین روزہ کنونشن

    پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا امریکی خاتون کا انوکھا مطالبہ

  • پہلا ایف سی این اے گلگت بلتستان فٹبال چیمپئن شپ کا آغاز

    پہلا ایف سی این اے گلگت بلتستان فٹبال چیمپئن شپ کا آغاز

    پہلا ایف سی این اے گلگت بلتستان فٹبال چیمپئن شپ،گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ فیفا کے اصولوں کے مطابق پہلا ایف سی این اے گلگت بلتستان فٹبال چیمپئن شپ 23 جنوری سے 1 فروری 2025 تک پاک آرمی کے زیر نگرانی منعقد کیا جا رہا ہے ۔

    ٹورنامنٹ کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب گلگت میں لالک جان سٹیڈیم میں منعقد ہوئی ۔تقریب کے مہمان خصوصی کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل امتیاز گیلانی تھے۔تقریب میں چیف سیکرٹری جی بی سمیت علاقے کی کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی ۔ٹورنامنٹ میں کل 15 فٹبال کی ٹیمز شامل ہیں جن میں سے 11 ٹیمیں مختلف اضلاع سے ہیں جو تمام اضلاع کی نمائندگی کر رہی ہیں اور 4 ٹیمیں مختلف محکموں کی نمائندگی کر رہی ہیں ۔
    چیمپئن شپ لیگ بنیادوں پر کھیلی جا رہی ہے اور ٹیموں کو ڈراز کے ذریعے چار پولز میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

    یہ چیمپئن شپ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو فٹبال کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرے گی اور کھیل کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔ تقریب میں شریک شائقین فٹ بال کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کا فٹ بال ایک پسندیدہ گیم ہے لیکن ماضی میں اس کھیل کو نظر انداز کیا گیا ۔لوگوں نے پاک ارمی کا شکریہ ادا کیا جس کی بدولت دوبارہ سے گلگت میں فٹ بال کے میںچیز کا انعقاد ممکن ہو سکا اور لوگوں کو ایک صحت مندانہ تفریح مہیا کی.

    مریم نواز کا لاکھوں خاندانوں کو نگہبان رمضان پیکج دینے کا اصولی فیصلہ

    انجینئرنگ یونیورسٹی،ملازمین کی تنخواہوں سے ٹیکس کاٹا لیکن جمع نہ کروایا

    میں نے حملہ آور کو کمرے میں بند کر دیا تھا، سیف علی خان کا دعویٰ

  • ایف ڈبلیو او کا خنجراب پاس کا تجارتی راستہ سال بھر کھلا رکھنے کا آپریشن

    ایف ڈبلیو او کا خنجراب پاس کا تجارتی راستہ سال بھر کھلا رکھنے کا آپریشن

    پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایف ڈبلیو او (فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن) نے خنجراب پاس کو سال بھر تجارتی اور سیاحتی سرگرمیوں کے لیے کھلا رکھنے کا آپریشن شروع کیا ہے۔ یہ فیصلہ دونوں حکومتوں کے مشترکہ اقدام کے تحت لیا گیا ہے جس سے خنجراب پاس کا تجارتی راستہ سردیوں میں بھی فعال رہنے لگا ہے، جو پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے۔

    خنجراب پاس سطحِ سمندر سے 16,000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور یہ دنیا کے بلند ترین سرحدی راستوں میں سے ایک ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور سفری تعلقات کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خنجراب پاس کا کھلا رہنا خطے کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک نیا سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔ماضی میں خنجراب پاس نومبر کے وسط سے اپریل کے وسط تک برفباری اور شدید سردی کے باعث بند رہتا تھا۔ مگر اس سال کے آغاز میں حکومت پاکستان اور چین نے مل کر اس راستے کو سال بھر کے لیے کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے تحت ایف ڈبلیو او نے جدید مشینری اور کارکنوں کی مدد سے اس راستے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ ان کارکنوں کو شدید برفانی طوفان، منفی 15 سے منفی 35 ڈگری تک کے درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مگر وہ دن رات اس راستے کو کھلا رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    خنجراب پاس کے سال بھر کھلے رہنے سے نہ صرف تجارتی قافلوں کی روانی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس سے پاکستان اور چین کے اقتصادی تعلقات کو مزید تقویت مل رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سامان کی ترسیل میں آسانی آئی ہے اور خطے کی معیشت میں نئی جان آئی ہے۔خنجراب پاس کا کھلا رہنا سیاحت کے شعبے کے لیے بھی بہت فائدے کا باعث بن رہا ہے۔ سیاحتی قافلے اس تاریخی اور قدرتی خوبصورتی سے مالامال مقام کا دورہ کرنے کے لیے تسلسل کے ساتھ آ رہے ہیں، جس سے مقامی کاروباروں کو بھی فروغ مل رہا ہے۔

    خنجراب پاس کا آل ویدر آپریشن نہ صرف پاکستان اور چین کی اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کر رہا ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کی ایک روشن مثال بھی پیش کر رہا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے دونوں ممالک کی حکومتیں اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب اہم قدم اٹھا رہی ہیں، اور یہ خطے میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھولنے کا باعث بنے گا۔

    یورپ کے ساتھ پاکستانی برآمدات میں 3.8 بلین ڈالر کا قابل ذکر اضافہ

    نیو گوادر ایئرپورٹ کا افتتاح ،کراچی سے پہلی پرواز لینڈ کرگئی

  • حاملہ خاتون طبی امداد نہ ملنے پر بچے سمیت جاں بحق

    حاملہ خاتون طبی امداد نہ ملنے پر بچے سمیت جاں بحق

    وادی نیلم کے گاؤں ہلمت میں ایک حاملہ خاتون طبی امداد نہ ملنے پر بچے سمیت جاں بحق ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : ورثا کے مطابق حاملہ خاتون کو طبیعت خراب ہونے پر مقامی اے ڈی ایس اسپتال لایا گیا،ورثا نے بتایا کہ اے ڈی ایس اسپتال میں نرس نہ ہونے پر مریضہ کو ڈی ایچ کیو اسپتال ریفر کیا گیا،سڑک کی بندش پر مریضہ کو کندھوں پر اٹھا کر لایا جا رہا تھا کہ خاتون راستے میں دم توڑ گئی۔

    واضح رہے کہ گریس ویلی کی سڑک برف باری کی وجہ سے 15روز سے بند ہے، اس حوالے سے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایکسویٹر خراب ہونے کی وجہ سے سڑک کی بحال نہیں ہو سکی، ملک کے پہاڑی علاقوں میں برف باری کی وجہ سے سڑکوں کی بندش کے خلاف مقامی لوگوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔

    ٹرمپ پر حملے کی پیشگوئی کرنے والے پادری کی امریکا میں خوفناک زلزلے کی پیشگوئی

    مذاکراتی کمیٹی کوعمران خان سے ملاقات کی اجازت مل گئی

    مصر کے قدیم ترین دینی تعلیمی ادارے کا پاکستان میں اپنا کیمپس کھولنے کا اعلان

  • گلگت بلتستان میں  پاک فوج  کی جانب  فری لانسنگ ہب کا قیام

    گلگت بلتستان میں پاک فوج کی جانب فری لانسنگ ہب کا قیام

    گلگت:گلگت بلتستان کے علاقے طاوس میں پاک فوج اور ایس سی او کی جانب سے فری لانسنگ ہب کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ایس سی او کی جانب سے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول طاوس میں فری لانسنگ ہب قائم کیا گیااسکول کے پرنسپل شاہین بیگ نے پاک فوج کے احسن اقدام کو سراہا،نوجوانوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک بہترین فری لانسنگ ہب بنایا گیا، اس فری لانسنگ ہب سے نہ صرف اسکول کے بچوں کو فائدہ ہوگا بلکہ باہر کے لوگ بھی اس سے مستفید ہوں گے، اس فری لانسنگ ہب سے بچے آن لائن بزنس، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ سیکھیں گے۔

    اسکول کے پرنسپل کا کہنا تھا کہ ایسے فری لانسنگ وقت کی اہم ضرورت ہیں، اس ہب کے ذریعے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع قائم ہوں گے، اسکول کے بچوں کو اس ہب سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔

    توجہ برائے وزیراعظم پاکستان، تجزیہ : شہزاد قریشی

    سعودی وزارت حج وعمرہ نے عمرہ زائرین کو بڑی خوشخبری سنادی

    فیصلوں پر اعتماد میں نہیں لیا جا رہا ، حمایت ختم کرنے پر حکومت ختم ہو جائےگی ، پیپلز پارٹی

  • خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

    خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

    ماضی میں جہاں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع تھے، اب وہاں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی کے میدان میں نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) نے ان دونوں خطوں میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس اور فری لانسنگ ہبز قائم کر کے ان کی تقدیر بدلنے کی ایک نیا راستہ دکھایا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ان علاقوں کی معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ یہاں کے نوجوانوں کو عالمی سطح پر اپنی مہارتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم بھی فراہم کرے گا۔

    ایس سی او نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مختلف آئی ٹی پارکوں کا آغاز کیا ہے جن کا مقصد ان خطوں کو آئی ٹی سے منسلک اور ڈیجیٹلائزڈ بنانا ہے۔ ان پارکوں کا قیام نہ صرف مقامی کمیونٹیز کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ حکومتی اداروں کو بھی جدید سافٹ ویئر ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی نظام فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
    ایس سی او نے صرف 16 ماہ کے مختصر عرصے میں 61 آئی ٹی پارکس اور فری لانسنگ ہبز قائم کر کے ایک شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ ان پارکوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کی سہولت موجود ہے، جس سے نوجوانوں کو ایک محفوظ اور جدید کام کرنے کا ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ایس سی او کے ٹیکنالوجی پارکس کا مقصد نہ صرف مقامی کمیونٹیز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے بلکہ یہ نوجوانوں کی مہارتوں کو بھی فروغ دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ ان فری لانسنگ ہبز میں نوجوان اپنے ہنر کو نکھارنے اور عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

    ایس سی او کا وژن آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں ایک مستقل آئی ٹی ماحول کی فراہمی کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے۔ یہ اقدامات ان دونوں علاقوں کو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی آئی ٹی کے مرکز میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کریں گے۔ایس سی او کے حالیہ منصوبے کے تحت آزاد جموں و کشمیر میں 50 سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس اور فری لانسنگ ہبز قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اکیسواں منصوبہ ہے جو اس بات کی گواہی ہے کہ ایس سی او نے اس علاقے میں آئی ٹی کی ترقی کے لیے مسلسل اقدامات کیے ہیں۔
    ایس سی او کا مقصد ان ٹیکنالوجی پارکوں کے ذریعے مقامی کمیونٹیز اور انتظامیہ کو ایک ماحول دوست اور توانائی کی بچت کرنے والا نظام فراہم کرنا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف نوجوانوں کے لیے نئی ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں بلکہ یہ پارک جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ماحول کی بہتری کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

    ایس سی او نے معذور بچوں کے لیے آزاد زندگی کے مراکز بھی فراہم کیے ہیں جہاں وہ نہ صرف تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی کی تربیت بھی لے رہے ہیں۔ اسی طرح، ایس سی او نے خواتین کے لیے بھی فری لانسنگ ہبز قائم کیے ہیں جہاں وہ محفوظ اور معاون ماحول میں کام کر رہی ہیں اور معاشی خودمختاری حاصل کر رہی ہیں۔ایس سی او کی کاوشوں کے نتیجے میں اب تک 6,500 سے زائد نوکریاں پیدا کی گئی ہیں اور 1,600 سے زیادہ فری لانسرز کو بااختیار بنایا گیا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملے ہیں بلکہ ان کی مہارتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے پورے علاقے کی معیشت کو فائدہ پہنچا ہے۔ایس سی او کا ارادہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مزید 100 آئی ٹی سیٹ اپز قائم کرنے کا ہے۔ یہ قدم 2025 تک اس علاقے کو آئی ٹی کے عالمی مرکز میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔

    ایس سی او کی کوششوں سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام ایک خواب سے حقیقت تک کے سفر کا حصہ بن چکا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں مواقع ملے ہیں بلکہ یہ پورے خطے کو اقتصادی ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن کی سمت میں ایک نئے دور میں داخل کر رہے ہیں۔ ایس سی او کی کاوشیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ اگر صحیح منصوبہ بندی اور وسائل کی فراہمی ہو تو خوابوں کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔

    ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

    بھارتی سابق کپتان سارو گنگولی کی بیٹی کی گاڑی کو حادثہ

  • 2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    دنیا کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ جڑی ہوئی اور وسیع ہو چکی ہے، اور یہ تبدیلی انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔ جدید ہوائی جہاز نیو یارک سے سنگاپور یا لندن سے کیپ ٹاؤن تک محض چند گھنٹوں میں لوگوں کو پہنچا سکتے ہیں، جبکہ پہلے یہ سفر کئی ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہوتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر ایسا لگتا ہے کہ آپ کے تمام دوست اور جاننے والے کسی نہ کسی عجیب و غریب مقام پر تعطیلات گزار رہے ہیں۔ تو پھر ہم کس جگہ کا انتخاب کریں؟سی این این ٹریول کا ماننا ہے کہ ہر جگہ کا اپنا جواز ہے جو اسے دیکھنے کے قابل بناتا ہے۔ تاہم، ان کے عملے نے 2025 میں سفر کے لیے ان 25 مقامات کی فہرست تیار کی ہے جو خاص طور پر ملاحظہ کرنے کے قابل ہیں۔ان 25 مقامات میں سے پاکستان کا علاقہ گلگت بھی شامل ہے جسے 2025 کے خوبصورت ترین مقامات میں 9ویں نمبر پر رکھا گیا ہے

    1970 کی دہائی میں پاکستان ایک ایڈونچر ٹریول ہاٹ سپاٹ تھا، اس کی بلند و بالا پہاڑی مناظر "ہپی ٹریل” کے راستے پر یورپ سے جنوبی ایشیا جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم اسٹاپ تھے۔ لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ دن چلے گئے۔ پھر بھی، ان بلند پہاڑوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔گلگت بلتستان کا علاقہ جو قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع ہے، وہاں تک پہنچنا آسان نہیں ہے — پروازوں کے شیڈول غیر متوقع ہو سکتے ہیں، سڑکیں موسم کی بنا پر بند ہو سکتی ہیں — لیکن اس علاقے میں ایسے بلند پہاڑ ہیں جو کسی بھی مٹھائی سے زیادہ لذیذ اور دلکش ہیں۔

    oplus_2

    یہاں دنیا کے 14 "آٹھ ہزاربلند” پہاڑوں میں سے پانچ پہاڑ واقع ہیں، جن میں کے 2 شامل ہے، جو دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ ہے، مگر دشواری اور خطرے کے اعتبار سے اسے پہلی پوزیشن حاصل ہے۔

    سیاحت اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے، اس علاقے میں ہائیکنگ اتنی آسان نہیں ہے کہ آپ اسے ہمالیہ کے مشابہ سمجھیں، جہاں ایک ہلکا سا سفر ممکن ہو۔ اس علاقے میں ٹریکنگ کرنا ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ تجربہ ہو سکتا ہے، اور اس لیے یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جہاں آپ اکیلے سفر کریں۔

    گلگت بلتستان میں موجود قدرتی مناظر اور بلند پہاڑ سیاحوں کے لیے ایک خواب کی مانند ہیں۔ یہاں کی ٹریکنگ، برف پوش پہاڑ، اور گلیشیئرز دنیا کے سب سے دشوار گزار لیکن خوبصورت سفر کا حصہ ہیں۔ آپ اگر اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو اس میں بہترین ٹور آپریٹرز کی مدد سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے، تاکہ آپ اس کے قدرتی حسن اور چیلنجز کو بھرپور طریقے سے محسوس کر سکیں۔

    پاکستان کے ان پہاڑی علاقوں کی خوبصورتی اب بھی غیر دریافت شدہ اور کم معلوم ہے، اور یہ ان لوگوں کے لیے ایک بہترین منزل ہے جو خود کو قدرتی مناظر اور انتہائی چیلنجنگ ہائیکنگ کے تجربے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

  • سوات اور گرد ونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور گرد ونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور گرد ونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے –

    باغی ٹی وی : زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سوات اور اس کے ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، لوگ خوفزدہ ہو کر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے،ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کی گہرائی 165 کلومیٹر تھی۔

    زلزلہ پیما مرکز اسلام آباد کے مطابق زلزلے کا مرکز پاک افغانستان تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔