Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • آخر میرا قصور کیا تھا، مجھے ملک سے نکالا اور جیلوں میں ڈالا گیا،نوازشریف

    آخر میرا قصور کیا تھا، مجھے ملک سے نکالا اور جیلوں میں ڈالا گیا،نوازشریف

    گلگت:صدر مسلم لیگ ن نواز شریف کا کہنا ہے کہ ہمارے علاوہ کسی جماعت نےگلگت بلتستان میں کام نہیں کیا، گلگت میں سڑکوں پر کھڈے دیکھ کر بہت دکھ ہوا-

    گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا جب میں وزیراعظم تھا تو کئی بار اسکردو اور گلگت گیا تھا، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے؟ میں چاہتا تھا کہ گلگت میں بہت ترقی ہو، گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتاہوں کہ گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا، ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے مانسہرہ سے گلگت تک روڈ بننی تھی، کیوں نہیں بنی، مجھے کوئی بتا سکتا ہے کہ گلگت کی سڑک کیوں نہیں بنی؟ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔

    انہوں نے کہا میں وہ نوا زشریف ہوں جو کسی کی برائی یا تنقیدکرکے ووٹ نہیں مانگتا، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، میرا دل روتا ہےکہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں اسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو، گلگت ائیر پورٹ جو ہم بنا کر گئے تھے اسے کسی نے بڑا نہیں کیا، یہاں تو بوئنگ جیٹس آنے چاہیے تھے، شہباز شریف سے بات کر کے یہاں کے ائیر پورٹ کو بڑا کرنے کا کہوں گا، یہاں ہفتے میں 3 پروازیں آتی ہیں، 30 پروازیں ہونی چاہئیں، ہم نے 9 گھنٹے کے سفر کو تین گھنٹے تک پہنچایا۔

    صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا یہاں منصوبے شروع ہوتے ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، یہاں پانی موجود ہے، دھوپ ہے، یہاں تو توانائی کا مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہیے، یہاں سردیوں اور گرمیوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، مجھے یہاں طویل لوڈشیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے، آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، اگر یہاں ہماری حکومت بنی تو ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔

    صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ 2017 میں این ایف سی کے لیے کمیٹی بنائی تھی اور 2018 میں ہمیں فارغ کر دیاگیا، مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا،کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے

    انہوں نے کہا کہ یہاں کی حکومت نے کیوں یہاں بہت ساری چیزوں کو نظرانداز کیا، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی،لواری ٹنل 70 سال سے بند تھی، اربوں روپے خرچ کرکے اسے ہم نے پورا کیا، چاہتا ہوں یہاں کے لوگوں کا یہیں علاج ہونا چاہیے، کسی کو اسلام آباد یا دوسرے شہر جانا نہ پڑے-

    انہوں نے کہا کہ سیاحت سے یہاں کے لوگوں کو روزگار ملے گا، میں سمجھتا ہوں یہاں کے لوگوں کو بھی گھر بنانے کے لیے قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کی آبادی تو بہت کم ہے، سب کو گھر مل جائیں گے، یہاں کے نوجوانوں کو بلاسود قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کے ہونہار بچوں کو اسکالر شپ اور لیپ ٹاپ بھی دیں گے، خواتین کی یونیورسٹی بھی قائم کی جائے گی،دیامر بھاشا ڈیم بنانے کے لیے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے زمین کے لیے دیا تھا، زمین تو ہے لیکن دیامر بھاشا ڈیم نہیں بنا، 2015 میں 100 ارب دینے کے باوجود ڈیم اب تک نہیں بنا، ڈیم بننے کا فائدہ آپ کو اور باقی پاکستان کو بھی ہوتا، ہماری حکومت ہوتی تو یہ مسائل نہ ہوتے۔

  • گلگت بلتستان انتخابات، پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ

    گلگت بلتستان انتخابات، پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ

    لاہور: گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے سلسلے میں پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکاروں کو سیکیورٹی ڈیوٹی کے لیے گلگت بلتستان بھجوانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس نے متعلقہ حکام کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے جس میں 5 ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کے انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی عمل کے دوران امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے اضافی نفری فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کے اہلکار پولنگ اسٹیشنز اور حساس مقامات پر سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن اور شفاف انداز میں مکمل ہو سکے۔

    واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر انتخابات 7 جون کو منعقد ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔انتخابی میدان میں مجموعی طور پر 403 امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن میں 396 مرد اور 8 خواتین امیدوار شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ آزادانہ، منصفانہ اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

  • 
گلگت بلتستان پر توجہ دی جائے تو یہ سوئٹزرلینڈ بن سکتا ہے، سعد رفیق

    
گلگت بلتستان پر توجہ دی جائے تو یہ سوئٹزرلینڈ بن سکتا ہے، سعد رفیق

    ‎مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کی ترقی پر بھرپور توجہ دی جائے تو یہ دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی خطوں میں شامل ہو سکتا ہے اور سوئٹزرلینڈ جیسی ترقی کی مثال بن سکتا ہے۔ انہوں نے اسکردو میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خطے کی اہمیت اور عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
    ‎خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومتوں نے گلگت بلتستان میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا، جن کا مقصد علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سیاحت کے فروغ اور عوامی سہولیات میں اضافہ تھا۔ ان کے مطابق خطے میں مزید سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کے ذریعے معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے آزادی کی جدوجہد اور پاکستان کے ساتھ الحاق میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بقول یہاں کے لوگوں کی قربانیاں تاریخ کا ایک روشن باب ہیں اور پاکستان ان خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔
    ‎ن لیگی رہنما نے اپنے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے اپنی جانوں اور قربانیوں کے ذریعے اس خطے کو پاکستان کا حصہ بنانے میں کردار ادا کیا، اسی لیے پوری قوم ان کی احسان مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے عوام نے ہمیشہ وطن سے محبت اور وفاداری کا مظاہرہ کیا ہے۔
    ‎خواجہ سعد رفیق نے یہ بھی کہا کہ اگر مسلم لیگ ن کی حکومتوں کا تسلسل برقرار رہتا تو ملک کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہوتی۔ ان کے مطابق سیاسی عدم استحکام اور حکومتوں کی تبدیلیوں نے ترقیاتی عمل کو متاثر کیا، جس کا اثر ملک کی مجموعی ترقی پر پڑا۔
    ‎انہوں نے گلگت بلتستان کے قدرتی حسن، بلند پہاڑوں، جھیلوں اور سیاحتی مقامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ عالمی سطح پر سیاحت کا بڑا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مناسب منصوبہ بندی، جدید انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے ذریعے یہاں لاکھوں سیاحوں کو متوجہ کیا جا سکتا ہے۔

  • پیپلز پارٹی نے کبھی نہیں کہا ہمیں سلیکٹ کر کے لاؤ، بلاول کا شگر میں جلسہ سے خطاب

    پیپلز پارٹی نے کبھی نہیں کہا ہمیں سلیکٹ کر کے لاؤ، بلاول کا شگر میں جلسہ سے خطاب

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ وفاق اور جی بی میں الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہئیں،ہم نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں، بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری جب انتخابی مہم کے سلسلے میں ضلع شگر کی جلسہ گاہ پہنچے تو کارکنوں اور مقامی عوام نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ اس موقع پر پارٹی کارکنوں نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور بلاول بھٹو زرداری کے حق میں نعرے لگائے، جبکہ جلسہ گاہ میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت دیکھنے میں آئی۔ گلگت بلتستان کے ضلع شگر کی تحصیل گلاب پور میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ جی بی کے عوام نے تمام سازشیں ناکام بنائیں، ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دیا،عوام ترقی کریں گے، معاشی فائدہ ہو گا، پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو ہم نے وہ کام جو 90 کی دہائی میں کرنے تھے 2015 میں شروع کئے،پیپلز پارٹی عوام کی نمائندہ جماعت ہے،گلگت بلتستان کی عوام کو مایوس نہیں کریں گے،گلگت بلتستان کی عوام کو ان کا حق دیں گے تو ترقی کا راستہ بنے گا،آپ نے الیکشن میں نکلنا ہے اورووٹ دیکرفارم 45ساتھ لانا ہے،آج بھی ہمار امطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان میں صاف و شفاف الیکشن ہوں،آپ کو فارم 45 ہاتھ میں لیکر واپس جانا ہے،آپ نے میرا ساتھ دینا ہے،فارم 47 کا بندوبست میں خود کروں گا،امید ہے ہماری کوئی سیٹ اس بار چوری نہیں ہوگی، کبھی نہیں کہا میرے لیے فارم 47 کا بندوبست کریں,پیپلز پارٹی نے کبھی نہیں کہا ہمیں سلیکٹ کر کے لاؤ، گلگت بلتستان کے عوام کو انکے حقوق دلوائیں گے، میری ذمہ داری ہے، آپکی ذمہ داری ہے کہ ملکر جدوجہد کریں عوام کو وہ حقوق دلوائیں جو قائد عوام نے وعدہ کیا تھا،بینظیر بھٹو کے نامکمل مشن کو مکمل کرنا ہے

  • بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں سکردو پہنچ گئے

    بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں سکردو پہنچ گئے

    گلگت: الیکشن کمیشن نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے گلگت بلتستان کے انتخابی دورے کے لیے این او سی جاری کر دیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کو یکم سے 5 جون 2026 تک انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی ہے پیپلز پارٹی کی قیادت انتخابی مہم اور دیگر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکے گی،نوٹیفکیشن چیف الیکشن کمشنر کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے جبکہ دورہ الیکشن ایکٹ اور جنرل الیکشن 2026 کے ضابطہ اخلاق کی مکمل پابندی سے مشروط ہوگا۔

    الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں امیدواروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں سکردو پہنچ گئے، جہاں گورنرپنجاب،گورنرگلگت بلتستان اورپارٹی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا بلاول بھٹو زرداری آج تحصیل گلاب پور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے جبکہ اپنے دورے کے دوران وہ چلاس ، غذر اور گلگت میں بھی انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے۔

  • گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع

    گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع

    گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کا عمل مکمل ہونے کے بعد چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع ہو گئی ہے، جس کے لیے ووٹنگ 7 جون کو ہوگی، جبکہ انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم تیز کر دی ہے مختلف اضلاع میں جلسوں، کارنر میٹنگز اور انتخابی رابطہ مہم کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 7 جون کو ہوں گے اور مجموعی طور پر 24 جنرل نشستوں کے لیے 664 امیدوار میدان میں ہیں،گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی مجموعی طور پر 33 نشستیں ہیں جن میں 24 جنرل جبکہ 9 مخصوص نشستیں ہیں۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق گلگت حلقہ 1 سے 34، حلقہ 2 سے 58 اور حلقہ 3 سے 32 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں نگر 1 سے 38 اور نگر 2 سے 30 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے، ہنزہ کے واحد حلقے سے 38 امیدوار سیاسی قسمت آزمائی کریں گے، اسکردو 1 سے 33، اسکردو 2 سے 23، اسکردو 3 سے 18 اور اسکردو 4 سے 25 امیدوار مدمقابل ہوں گے۔

    اسی طرح کھرمنگ سے 21 اور ضلع شگر سے 19 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں گانچھے 1 سے 15، گانچھے 2 سے 29 اور گانچھے 3 سے 15 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں استور 1 سے 19 جبکہ استور 2 سے 57 امیدوار مدمقابل ہوں گے، اسی طرح دیامر 1 سے 29، دیامر 2 سے 15، دیامر 3 سے 14 اور دیامر 4 سے 11 امیدوار میدان میں ہیں، غذر 1 سے 20، غذر 2 سے 42 اور غذر 3 سے 25 امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں، گلگت 2 میں سب سے زیادہ 58 امیدواروں کے درمیان بڑا مقابلہ ہوگا، جبکہ دیامر 4 میں سب سے کم 11 امیدوار انتخابی معرکے میں شریک ہوں گے۔

    گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ 2009 میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت منعقد ہوئے تھے اور پہلے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی جبکہ موجودہ گورنر مہدی شاہ پہلے وزیراعلیٰ بنے تھے اس کے بعد 2015 میں مدت ختم ہونے پر دوسرے عام انتخابات ہوئے جن میں ن لیگ کو اکثریت ملی اور حافظ حفیظ الرحمان دوسرے وزیراعلیٰ بنے ن لیگ کی حکومت نے بھی مدت پوری کی اور سال 2020 میں تیسرے عام انتخابات ہوئے جن میں اس وقت وفاق میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت ملی اور خالد خورشید تیسرے وزیراعلیٰ بن گئے۔

    تاہم پی ٹی آئی حکومت اپنی مدت پوری نہ کر سکی اور 2023 میں خالد خورشید جعلی ڈگری کیس میں نااہل ہو گئے، جس کے بعد پی ٹی آئی حکومت ختم ہو گئی، بعد ازاں حاجی گلبر خان کی سربراہی میں نیا گروپ سامنے آیا اور مخلوط حکومت قائم ہوئی، جس میں حاجی گلبر خان وزیراعلیٰ بن گئے اب حاجی گلبر حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد چوتھے انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔

  • شفاف انتخابات اولین ترجیح  ہے،چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان

    شفاف انتخابات اولین ترجیح ہے،چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر امیدوار کو نااہل قرار دیا جائے گا-

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ 2020 کی طرح اس بار بھی اضافی انتخابی عملہ دیگر صوبوں سے طلب کیا گیا ہے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہو گی ، وفاقی و صوبائی عہدیدار انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے، گورنرز، وزراء اور سرکاری عہدیداروں کے انتخابی مہم میں شرکت پر پابندی ہے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے، مقدمات اور دیگر قانونی کارروائی ہو گی، علاقائی، لسانی اور فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سیاسی جماعتیں اورامیدوار اشتعال انگیز تقاریر سے گریز کریں انتخابی عمل کو پرامن، شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے تعاون کیا جائے ، مانیٹرنگ افسران ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد یقینی بنائیں، سیاسی جماعتوں کو دوبارہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیلئے سرکلرجاری کر دیا گیا ،شفاف، منصفانہ اور پرامن انتخابات اولین ترجیح ہے ، نفرت اور انتشار پھیلانے والوں کیخلاف تعزیراتِ پاکستان کے تحت کارروائی ہو گی۔

  • گلگت بلتستان انتخابات : سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے نفری طلب

    گلگت بلتستان انتخابات : سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے نفری طلب

    گلگت بلتستان انتخابات کی سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے نفری طلب کرلی گئی۔

    پنجاب پولیس کے 5000 اہلکار گلگت بلتستان بھجوائے جائیں گے،رائٹ مینجمنٹ فورس کے 1500 اہلکار گلگت بلتستان الیکشن کی سکیورٹی پر تعینات ہو ں گے،اس کے علاوہ پنجاب کانسٹیبلری کے 1242 ،پنجاب ہائی وے پٹرول کے 1958 اہلکارگلگت بلتستان بھیجے جائیں گے۔

    لاہور پولیس کے 300 اہلکار بھی سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے بھجوائے جائیں گے،اس حوالے سے اے آئی جی آپریشنز نے ایس ایس پی ایم ٹی کو مراسلہ جاری کر دیاجس میں کہاگیاہے کہ اہلکاروں کو بھجوانے کے لئے مناسب ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا جائے،ٹرانسپورٹ اور عملے کی تفصیلات بھی سی پی او کو بھجوا نے کا حکم دیاگیاہے۔

  • گلگت بلتستان میں الیکشن مہم کے دوران  پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر گرفتار

    گلگت بلتستان میں الیکشن مہم کے دوران پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر گرفتار

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں الیکشن مہم کے دوران جنید اکبر کو گرفتار کیا گیا۔

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جنید اکبر کی گرفتاری اور انہیں الیکشن مہم سے روکنا قابل مذمت ہے،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بھی سیاسی اسپیس نہ دینے سے جمہوریت کا نقصان ہوگا۔

    دوسری جانب گرفتاری کے موقع پر جنید اکبر کا کہنا تھا کہ مجھے کہا گیا کہ آپ کی این او سی نہیں ہے اس لیے آپ گلگت سے نکل جائیں، اور اب پھر ہمیں چیک پوسٹ پر روکا گیا ہے۔ کیا گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے؟ بزدل نہ بنیں، ہمت کریں اور میدان مقابلہ کریں۔

    پی ٹی آئی کے مطابق جنید اکبر، سلیم الرحمن، ڈاکٹر امجد، محبوب شاہ، نعیم اور چیف کوآرڈینیٹر گلگت بلتستان الیکشن نواز شانگلہ کو گرفتار کیا گیا ہے

    گلگت بلتستان میں جنید اکبر کی گرفتاری،سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی ٹیم، جس کی قیادت جنید اکبر کر رہے تھے، کو کل ورکرز اور عوام نے شاندار استقبال کیا، جس سے پورے علاقے میں تحریک انصاف کا ایک نیا سیاسی مومنٹم پیدا ہوا۔افسوس کے ساتھ آج انہیں غذر میں داخلے سے روکا گیا اور بعد ازاں واپسی کے دوران مبینہ طور پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔یہ چیف الیکشن کمشنر کا انتظامیہ نام بتا رہی ہے اور ہمیں تو پتہ ہی ہے چیف الیکشن کمشنر نے ہمیشہ سے ہی بتایا کہ پچھلے جتنے بھی واقعات ہیں فیصلے وقت بند کمرے میں ہوتے ہیں، خالد خورشید کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف، عمران خان کی قیادت میں، ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام ہر صورت میں یقینی بنایا جائے۔ ہم نہ کسی ادارے کے خلاف ہیں اور نہ ہی تصادم چاہتے ہیں، بلکہ صرف شفافیت، انصاف اور جمہوری اصولوں کی بالادستی کے حامی ہیں۔تمام ورکرز سے گزارش ہے کہ وہ پُرامن رہیں، نظم و ضبط قائم رکھیں اور اپنے سیاسی و جمہوری حقوق کے لیے آئینی و قانونی راستہ اختیار کریں۔

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی رہنما بابر سلیم سواتی کا کہنا تھا کہ صوبائی صدر پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا جنید اکبر خان کی گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ میں گرفتاری انتہائی قابلِ مذمت، غیر جمہوری اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ ایک عوامی مینڈیٹ رکھنے والے رہنما کو اس انداز میں گرفتار کرنا نہ صرف سیاسی کارکنوں کی توہین ہے بلکہ عوام کے حقِ نمائندگی پر بھی حملہ ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور قیادت ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ جنید اکبر خان پارٹی کا ایک بہادر، نظریاتی اور عوامی رہنما ہیں جنہوں نے ہمیشہ عوام کے حقوق کی آواز بلند کی۔ سیاسی انتقام اور گرفتاریاں حق و سچ کی جدوجہد کو نہیں روک سکتیں۔ہم وفاقی و گلگت بلتستان حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر جنید اکبر خان کو رہا کیا جائے اور سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند کیا جائے

  • گلگت بلتستان انتخابات،جماعت اسلامی کے 2 امیدوار ن لیگ کے حق میں دستبردار

    گلگت بلتستان انتخابات،جماعت اسلامی کے 2 امیدوار ن لیگ کے حق میں دستبردار

    گلگت بلتستان انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور جماعتِ اسلامی کے درمیان دو اہم حلقوں میں انتخابی اتحاد طے پا گیا۔ اتحاد کے تحت استور حلقہ 2 اور گلگت حلقہ 2 میں جماعتِ اسلامی کے امیدوار مسلم لیگ (ن) کے حق میں دستبردار ہو گئے ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صوبائی صدر حافظ حفیظ الرحمٰن نے کہا ہے کہ یہ انتخابی اتحاد مرکزی قیادت کی مشاورت سے عمل میں آیا۔ انہوں نے اس فیصلے پر جماعتِ اسلامی کا شکریہ بھی ادا کیا۔دوسری جانب جماعتِ اسلامی گلگت بلتستان کے سابق امیر مولانا عبد السمیع کا کہنا ہے کہ 2015ء میں مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی بہتر رہی تھی، اسی بنیاد پر اتحاد کا فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ جماعتِ اسلامی کے امیدوار باضابطہ طور پر مسلم لیگ (ن) کے حق میں دستبردار ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں تیزی اختیار کر گئی ہیں، جبکہ پہلی بار 21 خواتین نے بھی کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا کے انتخابی عمل میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔