Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • بابوسر ٹاپ میں خیبر نیوز کی اینکر شبانہ اپنے شوہر اور چار بچوں سمیت لاپتہ

    بابوسر ٹاپ میں خیبر نیوز کی اینکر شبانہ اپنے شوہر اور چار بچوں سمیت لاپتہ

    بابوسر ٹاپ کے سیاحتی مقام پر خیبر نیوز کی معروف اینکر پرسن شبانہ اپنے شوہر لیاقت علی اور چار بچوں سمیت پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی ہیں۔ یہ خاندان 21 جولائی کو سیاحت کے لیے بابوسر ٹاپ گیا تھا، جس کے بعد سے ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ لاپتہ افراد میں شبانہ، ان کے شوہر لیاقت علی، دو بیٹیاں ایمل اور ایمان، اور دو دیگر بچے شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اہل خانہ کی گمشدگی کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد ریسکیو اداروں نے علاقے میں تلاش کا کام شروع کر دیا ہے۔ مشکل جغرافیائی حالات اور موسم کی خرابی کے باوجود سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے۔ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، سراغ رساں کتوں اور مقامی گائیڈز کی مدد سے سرچ آپریشن کو تیز کیا جا رہا ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت، فیض اللہ فراق نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ دنوں میں دیامر کے علاقے میں آنے والے اچانک سیلابی ریلے کی وجہ سے ایک اور فیملی کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات کے مطابق لاپتہ ہونے والے چھ افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے اور انہیں آخری بار بابوسر ٹاپ کے قریب دیکھا گیا تھا۔”پولیس، ضلعی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، پاک فوج، جی بی اسکاؤٹس اور ریسکیو ٹیمیں مشترکہ طور پر سرچ آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ سیلابی پانی اور سخت موسم کی وجہ سے کارروائی میں دشواری کا سامنا ہے، تاہم ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔”

    مقامی عینی شاہدین کے مطابق، 10 سے 15 سیاح حالیہ دنوں میں شاہراہ بابوسر پر آنے والے اچانک سیلابی ریلوں میں بہہ گئے تھے۔ ان میں سے کچھ لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل بھی اسی علاقے میں لودھراں سے پکنک منانے کے لیے آنے والی ایک فیملی حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ سیلابی ریلے میں بہہ کر 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ، ان کا تین سالہ بیٹا عبد الہادی اور دیور فہد اسلام شامل تھے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تلاش کا عمل آئندہ چند روز تک جاری رکھا جائے گا اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ لاپتہ افراد کو جلد از جلد تلاش کیا جا سکے۔

  • چترال:48 گھنٹوں کے دوران 4 افراد کی خود کشی

    چترال:48 گھنٹوں کے دوران 4 افراد کی خود کشی

    چترال میں گزشتہ 2 دنوں کے دوران 3 خواتین سمیت 4 افراد نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی، تمام افراد نے دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی۔

    پولیس،کاکہناہےکہ،ایک نو عمر لڑکی نے چیو بازار کے علاقے میں دریا میں چھلانگ لگا دی، بعد ازاں اس کی لاش دریا سے نکالی گئی اور پوسٹ مارٹم کے بعد والدین کے حوالے کر دی گئی،سب ڈویژنل پولیس افسر (سٹی سرکل) سجاد حسین نے بتایا کہ متوفیہ کے والدین اپر چترال کی تحصیل موڑکھو سے ہجرت کر کے چترال ٹاؤن کے سنگور گاؤں منتقل ہوئے تھے لڑکی کی خودکشی کی فوری وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم پولیس نے واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت تفتیش شروع کر دی ہے۔

    دوسرے واقعے میں، اپر چترال کے لاسپور وادی کے گاؤں رمن سے تعلق رکھنے والے ایک نو بیاہتا نوجوان، زار نبی نے دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیاسب ڈویژنل پولیس افسر مستوج شیر راجہ، نے اس واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ متوفی کی شادی تین روز قبل ہوئی تھی، انہوں نے کہا کہ لاش کی تلاش جاری ہے۔

    ملک کا حال برا ہو تو میرا حال بھی برا ہو جاتا ہے، انور مقصود

    انہوں نے بتایا کہ مستوج میں ایک اور واقعے میں، نِسور گول کی ایک شادی شدہ خاتون نے دریا میں کود کر اپنی جان لے لی، اس کی لاش بعد میں بازیاب کر لی گئی پولیس نے دونوں واقعات میں وجوہات جاننے کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    ایک اور واقعے میں، اپر چترال کے موڑکھو علاقے کے گاؤں کوشت کی جماعت نہم کی ایک طالبہ نے بھی اسی انداز میں خودکشی کی، اس کی لاش ابھی تک برآمد نہیں ہو سکی،متوفیہ اسلام آباد کے ایک اسکول میں زیر تعلیم تھی اور گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے والدین کے ساتھ گاؤں آئی ہوئی تھی۔

    معروف ماڈل نے فلم پریمیئر پر پروڈیوسر کو چپل دے ماری

  • سانحہ سوات کی انکوائری رپورٹ میں پولیس کی سنگین غفلتوں اور لاپروائی کا انکشاف

    سانحہ سوات کی انکوائری رپورٹ میں پولیس کی سنگین غفلتوں اور لاپروائی کا انکشاف

    سانحہ سوات سے متعلق انکوائری رپورٹ میں محکمہ پولیس کی سنگین غفلتوں اور لاپروائی کا انکشاف ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 27 جون کو واقعہ کے روز ہوٹل کے قریب پولیس کی گاڑی موجود تھی، لیکن دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود پولیس نے سیاحوں کو دریا میں جانے سے نہ روکا دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 106 ایف آئی آرز درج ہوئیں، جن میں سے صرف 14 مقدمات پولیس نے درج کیے، جبکہ باقی کارروائی اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاحوں کی بڑی تعداد کے مقابلے میں پولیس کی ایف آئی آرز انتہائی کم تھیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پولیس ہوٹلوں کو کسی قسم کی حفاظتی ہدایات جاری کرنے کا ثبوت پیش نہ کر سکی حیران کن طور پر سات ہزار سے زائد اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود واقعے کو روکنے کیلئے پولیس کی طرف سے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا، سوات پولیس کی غفلت اور دفعہ 144 پر عمل درآمد نہ ہونے کی باقاعدہ انکوائری کی جائے اور متعلقہ افسروں کے خلاف 60 روز میں کارروائی مکمل کی جائے ساتھ ہی 30 دن کے اندر قانون و ضوابط میں موجود خامیاں دور کر کے نیا حفاظتی نظام وضع کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

    ملک کا حال برا ہو تو میرا حال بھی برا ہو جاتا ہے، انور مقصود

    انکوائری رپورٹ میں دریا کنارے تعمیرات اور سیاحتی مقامات کے لیے ایک نیا ریگولیٹری فریم ورک نافذ کرنے، پولیس کو دفعہ 144 پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دینےاور حساس علاقوں میں پولیس کی نمایاں موجودگی یقینی بنانےکی تجاویز شامل ہیں، پولیس گاڑیوں کےذریعے اعلانات، وارننگ سائن بورڈز کی تنصیب، ٹوارزم اور ڈسٹرکٹ پولیس کے مابین مؤثر رابطہ، مون سون کے دوران دریائی علاقوں کی نگرانی، اور شہریوں میں آگاہی مہم کے لیے سول انتظامیہ سے اشتراک کی بھی سفارش کی گئی ہےرپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے تمام موجودہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

    پاکستان کا بھارت میں منعقدہ کسی بھی اسپورٹس مقابلے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

  • چلاس میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑک بند، پھنسے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کا عمل جاری

    چلاس میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑک بند، پھنسے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کا عمل جاری

    چلاس میں لینڈ سلائیڈنگ کے شدید واقعے کے بعد سیاحتی مقام فیری میڈوز کی سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی ہے، جس کے باعث وہاں پھنسے ہوئے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کے عمل میں تیزی سے کام جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ روز سیاحوں کو ہیلکاپٹر کے ذریعے نکالا گیا تھا تاہم موسمی حالات کی خرابی کی وجہ سے ہیلکاپٹر سروس معطل کر دی گئی ہے جس کے باعث زمینی راستوں سے ریسکیو آپریشن پر زور دیا جا رہا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ چلاس روڈ بھی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متعدد مقامات پر بند ہے جبکہ تھورمنیار کے علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم عارضی طور پر بند ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث سیاحوں کی محفوظ واپسی کے لیے ریسکیو ٹیمیں سڑک کے کھلنے کا انتظار کر رہی ہیں۔پولیس حکام نے مزید بتایا کہ اب بھی کافی تعداد میں سیاح فیری میڈوز میں پھنسے ہوئے ہیں جن کو ریسکیو کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

    چلاس کے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے پاک فوج کے علاوہ دیگر متعلقہ ادارے بھی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں تاکہ ہر ممکنہ مدد فراہم کی جا سکے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ موسمی حالات بہتر ہوتے ہی ریسکیو آپریشن مزید تیز کیا جائے گا تاکہ ہر ممکن جلدی سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متبادل راستوں یا محفوظ علاقوں میں رہیں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔

  • چلاس  میں آلودہ پانی سے پیٹ کے امراض میں اضافہ

    چلاس میں آلودہ پانی سے پیٹ کے امراض میں اضافہ

    گلگت بلتستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقے تھک نالہ میں آلودہ پانی کے استعمال کے باعث پیٹ کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ علاقے میں موجود واحد میڈیکل کیمپ میں ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

    میڈیکل کیمپ کے انچارج اعجاز خان کے مطابق، تھک نالہ میں عوام کے لیے قائم کیا گیا بیسک ہیلتھ یونٹ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا ہے، جس کے بعد ایک عارضی ٹینٹ میں میڈیکل کیمپ قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد علاقے میں صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث پیٹ کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں، جب کہ موجودہ ادویات کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ سے فوری طور پر مزید ادویات کی فراہمی کی درخواست کی گئی ہے۔

    علاقہ مکینوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیکل سہولیات فوری بحال کی جائیں اور علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ بیماریوں پر قابو پایا جا سکے۔

    لیاری عمارت حادثہ: سعید غنی نے ذمہ داری قبول کر لی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی جی سی یونیورسٹی لاہور کے طلبہ سے ملاقات

    اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کا کرتارپور گردوارے کا دورہ

    ورلڈ یونیورسٹی گیمز 2025: جرمنی میں پاکستانی دستے کے 2 ایتھلیٹس لاپتا

  • پاک فضائیہ کا گلگت بلتستان میں ریسکیو مشن کامیابی سے مکمل

    پاک فضائیہ کا گلگت بلتستان میں ریسکیو مشن کامیابی سے مکمل

    پاک فضائیہ نےسخت حالات کے دوران گلگت بلتستان میں ریسکیو مشن کامیابی سے مکمل کر لیا۔

    پاک فضائیہ کے C-130 طیارے نے 25 جولائی کو گلگت بلتستان میں پھنسے سیاحوں اور مقامی افراد کو خصوصی پرواز سے ریسکیو کیا طیارہ صبح 7 بج کر 55 منٹ پر نور خان ایئر بیس سے قادری پہنچا اور 125 مسافروں کو منتقل کیا گیاریسکیو کیے گئے افراد میں 82 شہری، 25 پاک فوج کے اہلکار اور 18 پاک فضائیہ کے اہلکار شامل ہیں۔

    پاک فضائیہ کا طیارہ قادری بیس سے صبح 8 بج کر 52 منٹ پر روانہ ہوا اور کامیاب آپریشن کے بعد نور خان بیس پہنچا ریسکیو آپریشن کے دوران 125 افراد کو قادری سے نور خان بیس بحفاظت منتقل کیا گیاافواج پاکستان اور مقامی انتظامیہ ہر مشکل گھڑی میں عوام کی خدمت اور فلاح کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

    سیاح موسم بہتر ہونےتک سیلاب متاثرہ علاقوں کاسفر نہ کریں،چیف سیکرٹری گلگت

    دوسری جانب گلگت بلتستان حکومت نے سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری کر دیں ترجمان گلگت بلتستان فیض اللہ فراق نے کہا ہے کہ سیلاب کے باعث 9 افراد جاں بحق ہوئے ہیں،دس سے بارہ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    سیلاب کی وجہ سے 200 سے زائد گھر مکمل تباہ ہوئے جبکہ سیلابی ریلے سے 500 سے زائد گھر جزوی متاثر ہوئے ہیں، سیلاب کی وجہ سے متعدد سڑکیں تباہ ہوئیں،گلگت بلتستا ن میں سیلاب کی وجہ سے 27 پل اور 22 گاڑیاں تباہ ہوئیں، انہوں نے کہا کہ ضلع دیامر کے علاقے شاہراہ بابو سر میں سیلاب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے شراٹ ویلی سیلاب سے مکمل طور پر تباہ ہوئی ہے، شراٹ ویلی میں 2 مساجد اور 150 سے زائد گھر متاثر ہوئے،ترجمان نے کہا کہ اسکاؤٹس گلگت بلتستا ن اور افواج پاکستان امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    ترجمان گلگت بلتستا ن فیض اللہ فراق نے کہا کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے،مقامی سڑکوں کی بحالی وتعمیر کا کام جاری ہے، انہوں نے کہا کہ شاہراہ بابو سر کے 3 سے 4 مقامات سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں، بابوسر کے علاقے میں مواصلاتی نظام بھی بحال کر دیا گیا ہے۔

    غزہ کیلئے امداد لیجانے والے بحری جہاز کا رابطہ منقطع

  • بابوسر ٹاپ :سیلابی ریلے میں بہنے والے  3 سالہ  عبد الہادی کی لاش مل گئی

    بابوسر ٹاپ :سیلابی ریلے میں بہنے والے 3 سالہ عبد الہادی کی لاش مل گئی

    چلاس: بابوسر ٹاپ پر سیلاب میں جاں بحق ہونے والی خاتون ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے سیلاب میں لاپتا ہونے والے 3 سالہ بیٹے کی لاش 3 روز بعد مل گئی۔

    سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہونے والی ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے بیٹے عبد الہادی کی لاش کو کل شام 7 بجے مقامی افراد نے بابوسر کے قریب ڈاسر کے مقام پر دیکھا اور حکام کو اس حوالے سے آگاہ کیا،گلگت بلتستان اسکاؤٹس نے اطلاع ملنے پر 3 سال کے عبد الہادی کی لاش کو نالےسے نکال چلاس میں اسپتال پہنچایا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل لودھراں سے پکنک منانے کیلئے جانے والی فیملی اسکردو سے واپس آتے ہوئے بابوسرٹاپ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ گئی تھیسیلابی ریلے میں بہہ کر ڈاکٹر مشعال فاطمہ اور ان کا دیور فہد اسلام جاں بحق ہوئے تھے جب کہ ریلے میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ کا 3 سالہ بیٹا عبدالہادی بھی بہہ گیا تھا۔

    سوات مدرسہ طالبعلم قتل:مقتول طالبعلم فرحان کے نانا کے دل سوز انکشافات

    دوسری جانب ڈائریکٹر ایڈمن شاہدہ اسلام میڈیکل کالج کا بتانا ہے کہ چلاس میں جاں بحق ڈاکٹر مشعال اور فہد اسلام کی میتیں 2 بجے تک لودھراں پہنچادی جائیں گی مرحومین کی نماز جنازہ شام ساڑھے 5 بجے ادا کی جائے گی جب کہ مرحومین کو آدم واہن قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار

  • والد نے چچی اور انکے بیٹے کو بچانے کیلئے سیلابی ریلے میں چھلانگ لگائی تھی،جاں بحق فہد کے بیٹے کا بیان

    والد نے چچی اور انکے بیٹے کو بچانے کیلئے سیلابی ریلے میں چھلانگ لگائی تھی،جاں بحق فہد کے بیٹے کا بیان

    بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہونے والے فہد اسلام کے بیٹے عاصم فہد کا بیان سامنے آیا ہے-

    چند روز قبل لودھراں سے پکنک منانے کیلئے جانے والی فیملی اسکردو سے واپس آتے ہوئے بابوسرٹاپ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ گئی تھی، ریلے میں بہہ کر ڈاکٹر مشعال فاطمہ اور ان کا دیور فہد اسلام جاں بحق ہوئے تھے جبکہ ریلے میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ کا 3 سالہ بیٹا عبدالہادی بھی بہہ گیا تھا جو تاحال لاپتا ہے۔

    اس حوالے سے حادثے میں جاں بحق ہونے والے فہد اسلام کے بیٹےعاصم فہد نے بتایا کہ سیلابی ریلا آیا تو ہم نے پہاڑکے نیچے چھپنے کی کوشش کی، لیکن جب چچی مشعال اورعبدالہادی ریلے میں بہے تو والد نے دونوں کو بچانے کے لیے پانی میں چھلانگ لگا دی تھی۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران فیملی ممبر ڈاکٹر حفیظ اللہ کا کہنا تھا کہ اسپتال میں2 روز سے بجلی نہیں ہے جس کے باعث برف کے بلاک رکھ کرلاشوں کو محفوظ رکھا جا رہا ہے، حکومت لاشوں کو لودھراں پہنچانے کے لیے انتظامات کرے تاکہ تدفین کے انتظامات کیے جا سکیں۔

    ٹک ٹاک نے پہلی سہ ماہی 2025کی کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کر دی

    دوسری جانب شاہراہ بابوسر پر شدید بارشوں کے بعد پھنس جانے والے تمام سیاحوں اور مسافروں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے تصدیق کی ہے کہ ریسکیو آپریشن کامیابی سے مکمل ہوا اور تقریباً 250 سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق کچھ افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے عینی شاہدین کے مطابق 10 سے 15 افراد تاحال لاپتا ہیں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی ہدایت پر ریسکیو، ضلعی انتظامیہ، پولیس، مقامی رضاکاروں اور پاک فوج کی مدد سے مشترکہ سرچ آپریشن لاپتا افراد کے ملنے تک جاری رہے گا۔

    سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ بابو سر سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، آٹھ کلومیٹر کا علاقہ برباد ہوگیا ہے، غذر، استور، تھور ویلی میں سیلاب سے مکانات اور فصلیں تباہ ہوگئیں۔ ترجمان کے مطابق شاہراہ ناران اور بابو سر تیرہ سے چودہ مقامات پر بند ہے، شاہراہ قراقرم بھی بحالی کے بعد مختلف مقامات پر پھر بلاک ہوگئی ہے۔ شاہراہ ریشم پر سیکڑوں مسافر پھنسے ہوئے ہیں، جہاں بحالی کا کام جاری ہے چلاس میں سیاحوں کے لیے مفت رہائش کا بندوبست کر دیا گیا ہے، جبکہ مقامی آبادی کے نقصانات کا بھی تخمینہ لگایا جا رہا ہےرات کی تاریکی میں سرچ آپریشن میں دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے، اس لیے کارروائی کو دن کی روشنی میں دوبارہ شروع کیا جاتا ہے۔

    عمران خان کے بیٹوں کی امریکی نمائندہ خصوصی رچرڈ گرینل سے ملاقات

  • سوات:چھٹیاں کرنے پر مدرسے کے اساتذہ کا مبینہ تشدد ، کم عمر طالب علم جاں بحق

    سوات:چھٹیاں کرنے پر مدرسے کے اساتذہ کا مبینہ تشدد ، کم عمر طالب علم جاں بحق

    مدرسے کا کم عمر طالب علم فاران، مبینہ طور پر اپنے اساتذہ کے ہاتھوں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد جان کی بازی ہار گیا۔

    دلسوز واقعہ سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے گاؤں چلیار میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس نے پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا ،پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق 3 اساتذہ محمد عمر، ان کے بیٹے احسان اللہ، اور ایک اور شخص عبداللہ نے مبینہ طور پر اسے دوسرے طلبہ کے سامنے مارنا شروع کیا، یہ مارپیٹ غیر حاضری کی سزا کے طور پر شروع ہوئی، اور جلد ہی بے رحمانہ تشدد میں تبدیل ہوگئی۔

    https://x.com/malak_suhail/status/1947376216958242989

    ایک ہم جماعت نے بتایا کہ فاران چند دن غیر حاضر رہا تھا اور ابھی واپس آیا تھا، اساتذہ نے اسے بہت زور سے مارنا شروع کر دیا، بعد میں اسے ایک کمرے میں لے جا کر مار پیٹ جاری رکھی، مجھے پانی لانے کے لیے بلایا گیا، اُس نے تھوڑا سا پانی پیا، پھر اپنا سر میری گود میں رکھ دیا، اور خاموش ہو گیا،طلبہ اور اساتذہ نے فاران کو قریبی ہسپتال پہنچایا، مگر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

    https://x.com/JN_Araain/status/1947502105087877630

    کوہستان کرپشن اسکینڈل : گرفتار ٹھیکیدار 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

    ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سوات کے ترجمان معین فیاض نے تصدیق کی ہے کہ تینوں ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، ان میں سے ایک ملزم عبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، باقی 2 کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں، یہ نہایت افسوس ناک اور تشویش ناک کیس ہے، مکمل تفتیش جاری ہے، ہم بچے اور اس کے خاندان کو انصاف دلانے کے لیے پُرعزم ہیں۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی عوام نے نہ صرف مجرموں کو سزا دینے بلکہ آئندہ ایسے سانحات کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ، سیاحوں کا خراج تحسین

    فاران کے چچا نے بتایا کہ جب وہ گھر پر تھا تو مدرسے جانے سے ڈرتا تھا اور واپس نہیں جانا چاہتا تھا، میں خود اسے مدرسے لے گیا، اساتذہ کے حوالے کیا، اور واپس آ گیا، اسی شام ایک استاد کا فون آیا اور بتایا کہ میرا بھتیجا بیت الخلا میں گر کر فوت ہو گیا ہے۔

  • سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ،  سیاحوں کا خراج تحسین

    سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ، سیاحوں کا خراج تحسین

    سکردو میں شدید بارش اور لینڈسلائیڈنگ میں پھنسے سیاحوں کو پاک آرمی نے ریسکیو کرلیا

    پاک آرمی کے فوری ریسکیو آپریشن کو سیاحوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے،خاتون سیاح کا کہنا تھا کہ ہم کراچی سے سکردو آئے تھے، دیوسائی کے مقام پر سیلاب کے باعث ہماری گاڑیاں ڈوب گئیں،الحمد اللہ پاک آرمی نے فوری طور پر ہمیں ریسکیو کیا، میری اور میرے ساتھ آئی خاتون کی طبعیت کافی خراب ہو گئی تھی، پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہمیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، پاک آرمی نے اس ایمرجنسی میں جس طرح کی خدمات سرانجام دیں وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتیں، پاک فوج ریسکیو کئے گئے سیاحوں کو طبی امداد اور کھانا بھی فراہم کر رہی ہے، ہمیں مکمل بھروسہ ہے کہ کسی طرح کی بھی ناگہانی آفت میں ہماری آرمی ہمیں ریسکیو کرلے گی،