Baaghi TV

Category: حیدرآباد

  • میرپور خاص: ایم کیو ایم وفد کی حیسکو اور سوئی گیس حکام سے ملاقات،مسائل کے حل کے لیے اقدامات پر اتفاق

    میرپور خاص: ایم کیو ایم وفد کی حیسکو اور سوئی گیس حکام سے ملاقات،مسائل کے حل کے لیے اقدامات پر اتفاق

    میرپور خاص (باغی ٹی وی،نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنماؤں کا وفد، جس میں ڈاکٹر ظفر کمالی، شفیق احمد، خالد تبسم، آفاق احمد خان، سلیم میمن، نعمان فاروق، اور غلام فاروق شامل تھے، نے حیسکو اور سوئی سدرن گیس کے افسران کے ساتھ تفصیلی میٹنگز کیں۔

    ملاقاتوں کے دوران، وفد نے حیسکو سپرنٹنڈنگ انجینئر، امیر میمن، اور ایکسیئن حیسکو، علی رضا، سے بجلی کی فراہمی اور بلوں میں عوام کو درپیش مشکلات پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد نے سختی سے کہا کہ بلاجواز ایف آئی آر کے اندراج سے صارفین کے مسائل مزید بڑھ رہے ہیں اور اس معاملے میں فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔

    حیسکو افسران نے بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی، اور اس کے ساتھ ہی نئے ٹرانسفارمرز کی تنصیب کے بارے میں بھی عوام کو آگاہ کیا۔

    اسی طرح، سوئی سدرن گیس کے زونل مینیجر، جمال الدین ناریجو، اور ڈپٹی چیف انجینئر، اشوک کمار، نے گیس کی لوڈشیڈنگ اور مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی کی بحالی کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ناکارہ سروس لائنوں کی تبدیلی کے لیے کام جلد شروع کیا جائے گا۔

    وفد نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ گیس اور بجلی کے مسائل کے حل کے لیے دونوں محکموں کی لائژن کمیٹی تشکیل دی جائے، تاکہ ان مسائل کو جلد حل کیا جا سکے۔ اس کمیٹی کی تشکیل سے عوامی شکایات کا فوری اور مؤثر حل ممکن ہو گا۔

    ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک مثبت اور خوشگوار ماحول میں کام کیا جائے، اور انتظامیہ کے ساتھ مستقل رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ عوام کی خدمت کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ عوامی خدمات میں بہتری لائی جائے اور لوگوں کی مشکلات کو کم کیا جائے۔

    یہ ملاقاتیں عوامی خدمت کے حوالے سے حیسکو اور سوئی سدرن گیس کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہیں۔

  • ٹھٹھہ: پولیس کی کامیاب کارروائیاں، چوری شدہ 20 قیمتی موبائل فونز برآمد

    ٹھٹھہ: پولیس کی کامیاب کارروائیاں، چوری شدہ 20 قیمتی موبائل فونز برآمد

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگاربلاول سموں) ٹھٹھہ پولیس کی جانب سے کامیاب کارروائیوں کے دوران لاکھوں روپے مالیت کے گمشدہ اور چوری شدہ 20 قیمتی موبائل فونز ٹریس کر کے اصل مالکان کو واپس کر دیے گئے۔ ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان کے احکامات پر انچارج ڈیجیٹل انویسٹیگیشن سیل اور ٹھٹھہ پولیس کے مختلف تھانوں نے یہ کارروائیاں کیں۔

    مختلف اوقات میں چوری اور گمشدہ موبائل فونز کو برآمد کر کے ان کے اصل مالکان حسن علی جوکھیو، رمضان میمن، ذوالفقار جاکھرو، پرکاش کمار، جمعہ خان پٹھان، امجد اقبال، یوسف میرانی اور دیگر افراد کے حوالے کیا گیا۔

    اس موقع پر ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان نے ڈیجیٹل انویسٹیگیشن سیل کی کارکردگی کو سراہا اور ٹیم کو تعریفی اسناد اور نقد انعامات دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چوری اور گمشدہ موبائل فونز کی روزانہ کی بنیاد پر تلاشی جاری رکھی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ فونز اصل مالکان کو واپس کیے جا سکیں۔

    قیمتی موبائل فونز واپس ملنے پر مالکان نے ٹھٹھہ پولیس اور ایس ایس پی ڈاکٹر محمد عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور ان کی کاوشوں کو سراہا۔

  • میرپورخاص:مقابلہ حسن قرات و نعت ،پروقار تقریب منعقد ہوئی

    میرپورخاص:مقابلہ حسن قرات و نعت ،پروقار تقریب منعقد ہوئی

    میرپورخاص (باغی ٹی وی ،نامہ نگار سید شاہزیب شاہ )مقابلہ حسن قرات و نعت ،پروقار تقریب منعقد ہوئی

    تفصیل کے مطابق میرپورخاص ریلوے اسٹیشن کے سامنے واقع ریلوے پرائمری اسکول میں ہر سال کی طرح اس سال بھی جشن آمد رسول ﷺ کے حوالے سے مقابلہ حسن قرات و نعت کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس سادہ مگر پروقار تقریب میں طلبہ و طالبات کے مابین مقابلہ ہوا، جس میں کامیاب طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا۔

    تقریب میں دعوت اسلامی کے سید ریحان باپو، مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل اتحاد عباسیہ پاکستان عثمان عامر عباسی، ماسٹر شمش الدین پنھور، فضل عطاری، سید کامران عطاری، مولانا محمد بخش قادری، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نبی بخش گرگیز، اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر خمیسو خان سموں، اسکول کے ہیڈ ماسٹر ساجد راؤ، جمن علی لغاری اور سابق اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر محمد رمضان ظھار الحق مغل (ریٹائرڈ) نے شرکت کی۔

    تقریب کے دوران قرات و نعت کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔ شرکاء نے اس تقریب کو دینی و روحانی لحاظ سے نہایت اہم قرار دیا اور بچوں کی صلاحیتوں کو سراہا۔

  • میرپورخاص:ایم این اے عبدالعلیم خانزادہ کا ایم کیو ایم پاکستان ڈسٹرکٹ آفس کا دورہ

    میرپورخاص:ایم این اے عبدالعلیم خانزادہ کا ایم کیو ایم پاکستان ڈسٹرکٹ آفس کا دورہ

    میرپور خاص (باغی ٹی وی،نامہ نگار سید شاہزیب شاہ ) حق پرست رکن قومی اسمبلی عبدالعلیم خانزادہ نے ایم کیو ایم پاکستان میرپور خاص ڈسٹرکٹ آفس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے ذمہ داران سے خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات میں مرحلہ وار کھلی کچہری کے انعقاد کا عندیہ دیا گیا تاکہ عوامی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔

    عبدالعلیم خانزادہ نے تعلیمی بورڈ کے ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی، بجلی اور گیس کی غیر ضروری لوڈشیڈنگ، سیوریج کے گندے پانی کے باعث گیس کی بندش سمیت دیگر اہم مسائل پر گفتگو کی۔ انہوں نے حیسکو ایس ڈی اوز کے تحکمانہ رویے اور بلاجواز ایف آئی آرز کے اندراج پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ وہ انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کے مسائل کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے گا۔ ایم کیو ایم پاکستان عوامی خدمت کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لانے کے لیے کوشاں ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان میرپور خاص ڈسٹرکٹ کے جوائنٹ انچارجز آفاق احمد خان، سلیم میمن، محمود عباسی اور دیگر ڈسٹرکٹ کمیٹی اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالعلیم خانزادہ نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

  • میرپورخاص : توہین رسالت پر مکمل ہڑتال،پولیس ملازمین کی برطرفی، کیا یہ انصاف ہے؟

    میرپورخاص : توہین رسالت پر مکمل ہڑتال،پولیس ملازمین کی برطرفی، کیا یہ انصاف ہے؟

    میرپور خاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) توہین رسالت کے خلاف میرپور خاص میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہر کی تمام دکانیں بند رہیں۔ علمائے کرام اور تاجر برادری نے مشترکہ طور پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی، ڈی آئی جی میرپور خاص اور تمام ایس ایچ اوز کی نوکریاں فوری طور پر بحال کی جائیں۔

    احتجاج کے دوران علمائے کرام نے کہا کہ میرپور خاص عاشق رسول کا شہر ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی گستاخی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے ساتھ کٹ سکتے ہیں، لیکن حضور اکرم ﷺ کی شان میں توہین کسی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔

    تاجر برادری نے بھی اس موقف کی حمایت کی اور حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کو ان کے عہدوں پر بحال کیا جائے، تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکے۔

    احتجاجی مظاہرین نے ایک آواز ہو کر کہا کہ حکومت کو عوام کی آواز سننی چاہیے اور ان کے مطالبات پر فوری کارروائی کرنی چاہیے۔

  • میرپورخاص:ناموس رسالتﷺ پر حملے، تاجر برادری کا شدید احتجاج،وزیر تعلیم کی برطرفی  کامطالبہ

    میرپورخاص:ناموس رسالتﷺ پر حملے، تاجر برادری کا شدید احتجاج،وزیر تعلیم کی برطرفی کامطالبہ

    میرپورخاص (باغی ٹی وی،نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ )ناموس رسالتﷺ پر حملے، تاجر برادری کا شدید احتجاج،وزیر تعلیم کو برطرف کرنے کامطالبہ

    تفصیل کے مطابق مرکزی انجمن تاجران میرپورخاص سندھ کے صدر عبدالجبار خان نے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناموس رسالتﷺ کے تحفظ کے حوالے سے میرپورخاص پولیس کی شاندار کارروائی کی تعریف کی اور سندھ حکومت کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اجلاس میں تاجروں، وکلاء اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل عمرکوٹ کے ایک مقامی شہری نے مبینہ طور پر ناموس رسالتﷺ کی توہین کی، جس پر میرپورخاص پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو گرفتار کیا۔ یہ کارروائی علاقے کے عوام اور تاجروں کی جانب سے قابل تعریف قرار دی گئی۔ پولیس کی اس اقدام کو ایک قابل فخر عمل سمجھا جا رہا تھا، جس نے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی۔

    تاہم سندھ حکومت نے اس واقعے کے بعد میرپورخاص پولیس کے اعلیٰ افسران اور اہلکاروں کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا جس پر تاجروں، مقامی رہنماؤں اور عوام نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عبدالجبار خان نے کہا کہ”ناموس رسالتﷺ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ سندھ حکومت کا فیصلہ غیر منصفانہ اور عوامی جذبات کے منافی ہے۔ ہم پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہیں، جنہوں نے ناموس رسالتﷺ کی حفاظت کے لیے فوری کارروائی کی، لیکن حکومت کے اس فیصلے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔”

    عبدالجبار خان نے واضح کیا کہ "اگر ہمارے ایمان سے کھیلنے کی کوشش کی گئی تو ہمیں حضرت عمر فاروقؓ کا انصاف اور قانون یاد ہے۔ ہم کسی بھی قیمت پر ناموس رسالتﷺ پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس معاملے میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔”

    اپنی تقریر کے دوران عبدالجبار خان نے ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو صاحب نے ناموس رسالتﷺ کا پرچم بلند کیا تھا، مگر آج کے حکمرانوں نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ "بدقسمتی سے آج ایسے لوگ اقتدار میں آ چکے ہیں جو مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں،

    عبدالجبار خان نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم کو فوری طور پر وزارت سے برطرف کیا جائے اور پولیس افسران کی برطرفی کا فیصلہ واپس لیا جائے، تاکہ انصاف کی بالادستی قائم رہے۔

    اس موقع پر مرکزی انجمن تاجران کی لیگل ایڈ کمیٹی کے صدر ایڈووکیٹ دلاور حسین پنھور نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا”یہ واقعہ کسی خاص مسلک یا جماعت کا نہیں ہے، یہ ایمان کا معاملہ ہے۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اپنے فیصلے کو واپس لے کر ایک نئی تاریخ رقم کرے۔ ہم مختلف مسالک اور تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ناموس رسالتﷺ کے معاملے میں ہم سب ایک قوم ہیں۔”

    رنگ روڈ کے صدر محبوب الہی کھوکھر اور شعبہ تعلیم کے صدر روشن عالم سموں نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی تاجروں نے اپنے حقوق کے لیے ہڑتالیں کی ہیں، تو انہوں نے اپنے کاروبار بند کیے ہیں، مگر ناموس رسالتﷺ کے لیے ہم اپنی جان، مال اور روزگار سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    اس موقع پر تاجر برادری کی مختلف ذیلی ایسوسی ایشنز کے نمائندے بھی موجود تھے جنہوں نے سندھ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف اتحاد اور یکجہتی کا اظہار کیا۔

    اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت فوراً اپنے فیصلے کو واپس لے، پولیس افسران کو بحال کرے اور ناموس رسالتﷺ کی حرمت کو یقینی بنائے۔ اس معاملے پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو سخت احتجاج کیا جائے گا۔

  • سندھ کے عظیم حکمران سلطان جام نظام الدین سموں کی 516ویں برسی منائی گئی

    سندھ کے عظیم حکمران سلطان جام نظام الدین سموں کی 516ویں برسی منائی گئی

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی نامہ نگاربلاول سموں کی رپورٹ) سندھ کے عظیم حکمران سلطان جام نظام الدین سموں کی 516ویں برسی منائی گئی

    سندھ کے نامور حکمران سلطان جام نظام الدین سموں کی 516 ویں برسی کل مکلی کے تاریخی قبرستان میں منائی گئی۔ اس موقع پر عوامی پریس کلب ٹھٹھہ کے صدر بلاول سموں، جنرل سیکریٹری محمد عمر سرائی، نائب صدر عبید اللہ جماری کی قیادت میں ایک وفد نے جام نظام الدین کے مزار پر حاضری دی۔ وفد نے مزار پر چادر چڑھائی اور دعا کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول سموں نے کہا کہ سلطان جام نظام الدین کا دور حکومت سندھ کی تاریخ کا ایک سنہرا دور تھا، جو خوشحالی، امن اور آزادی کا عکاس تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جام نظام الدین کے 48 سالہ حکمرانی کے دور میں سندھ کی سلطنت گجرات، کشمیر، سرحد، بلوچستان اور پنجاب تک پھیلی ہوئی تھی، جہاں لوگ امن و انصاف سے بہرہ ور تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں سندھ میں نہریں کھدوائی گئیں اور لاکھوں ایکڑ زمین آباد کی گئی، جس سے سندھ کی زراعت کو فروغ ملا۔

    بلاول سموں نے موجودہ حکمرانوں کو سلطان جام نظام الدین کی حکمرانی سے سبق سیکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام کی خوشحالی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ اس موقع پر عوامی پریس کلب کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے جن میں ریاض خاصخیلی، زاہد امیر جوکھیو، مختیار چانڈیو، عدنان سموں، مظہر جکھڑ، اکرم سرائی شامل تھے۔

    سلطان جام نظام الدین سموں کی تاریخی حیثیت اور حکمرانی

    سلطان جام نظام الدین سموں سندھ کے معروف سموں خاندان کے حکمران تھے، جنہوں نے 15ویں صدی عیسوی میں سندھ پر حکومت کی۔ ان کا دور حکومت تاریخ میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ دور نہ صرف سیاسی استحکام بلکہ سماجی اور معاشی ترقی کا بھی زمانہ تھا۔

    جام نظام الدین کا حکمرانی کا دور (1461-1509) 48 سال تک محیط رہا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک مضبوط اور مقبول حکمران تھے۔ ان کی حکومت کے دوران سندھ ایک خودمختار اور آزاد ریاست رہی، جس کی حدود کشمیر، گجرات، بلوچستان اور پنجاب تک وسیع تھیں۔ اس دور میں سندھ کی سلطنت نے زراعت، تجارت اور فنون میں بے مثال ترقی کی، جس سے خطے کی معاشی حالت بہتر ہوئی اور عوام خوشحال تھے۔

    جام نظام الدین نے نہری نظام کو بہتر بنانے کے لیے کئی نہریں کھدوائیں، جنہوں نے سندھ کی زراعت میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کیں۔ ان کے دور میں لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کیا گیا، جس کی بدولت خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور عوام کی ضروریات پوری ہوئیں۔

    ان کے دور میں امن و امان کا قیام بھی قابل ذکر تھا۔ سلطان جام نظام الدین کی قیادت میں سندھ کی سرحدوں کو مضبوط بنایا گیا اور کسی بھی غیر ملکی طاقت کو سندھ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں ہوئی۔ ان کے عدالتی نظام میں انصاف کا بول بالا تھا اور عوام کے درمیان یکجہتی اور رواداری کو فروغ دیا گیا۔

    جام نظام الدین سموں کو عوام دوست حکمران سمجھا جاتا ہے، جنہوں نے اپنی سلطنت میں خوشحالی، عزت اور امن کو فروغ دیا۔ ان کی حکمرانی کا طرز آج بھی سندھ کے لوگوں کے لیے ایک مثالی نظام سمجھا جاتا ہے۔

    ثقافتی ورثہ: جام نظام الدین کے دور حکومت میں سندھ کے لوگوں نے فنون لطیفہ اور ثقافت میں بھی اہم پیش رفت کی۔ مکلی کے تاریخی قبرستان میں جام نظام الدین سمیت کئی دیگر حکمرانوں اور عظیم شخصیات کی قبریں موجود ہیں، جو سندھ کے عظیم تاریخی ورثے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مکلی کا یہ قبرستان نہ صرف سندھ کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے بلکہ یہ عالمی ثقافتی ورثے میں بھی شامل ہے۔

    جام نظام الدین کی یادگار: آج بھی جام نظام الدین کی برسی ہر سال ٹھٹھہ میں مکلی کے قبرستان میں منائی جاتی ہے، جہاں سندھ کے مختلف علاقوں سے لوگ ان کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے آتے ہیں۔

  • ٹھٹھہ: پولیس اہلکاروں کے مسائل پر ایس ایس پی کا اردلی روم، متعدد افسران کو سزائیں

    ٹھٹھہ: پولیس اہلکاروں کے مسائل پر ایس ایس پی کا اردلی روم، متعدد افسران کو سزائیں

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگاربلاول سموں) ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان کی قیادت میں پولیس اہلکاروں کے مسائل کو سننے اور ان کا حل نکالنے کے لیے دفتر میں اردلی روم کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر پولیس اہلکاروں کے زیر التوا شوکاز نوٹسز اور محکمانہ کاروائیوں پر قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلے کیے گئے۔

    ایس ایس پی ٹھٹھہ نے دوران اردلی روم پولیس اہلکاروں کے سسپنشن، شوکاز اور دیگر مسائل پر احکامات جاری کیے۔ 20 پولیس اہلکاروں کو غیر حاضری، ڈیوٹی میں غفلت، مس کنڈکٹ اور منظم جرائم کی سرپرستی میں ملوث ہونے پر مختلف سزائیں دی گئیں، جن میں معطلی اور انکوائریز شامل ہیں۔

    ایس ایس پی ڈاکٹر محمد عمران خان نے ڈسٹرکٹ پولیس کے افسران اور جوانوں کو ہدایت کی کہ آئندہ سے ہر بدھ کو پولیس اہلکاروں کے چھٹی، ٹرانسفر، اور ویلفیئر کے مسائل حل کرنے کے لیے دفتر میں اردلی روم کا باقاعدہ انعقاد کیا جائے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تمام اہلکار اپنی ڈیوٹی دیانتداری، محنت اور لگن سے انجام دیں اور عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں، تاکہ پولیس اور عوام کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہو سکیں۔

  • ٹھٹھہ :پولیس کی بڑی کارروائی، 16 ملزمان گرفتار، بھاری مقدار میں منشیات برآمد

    ٹھٹھہ :پولیس کی بڑی کارروائی، 16 ملزمان گرفتار، بھاری مقدار میں منشیات برآمد

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگاربلاول سموں) ٹھٹھہ پولیس نے منشیات اور گٹکا فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 16 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں منشیات، گٹکا اور دیگر سامان برآمد کیا ہے۔

    ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان کے احکامات پر ٹھٹھہ، گھارو، کیٹی بندر، ساکرو، کینجھر اور جھرک پولیس نے مختلف مقامات پر کامیاب کارروائیاں کیں۔ پولیس نے 3 گٹکا فروشوں شھباز خاصخیلی، محبوب جاکھرو اور نیلو کولھی کو 20 کلو گٹکا مٹیریل، 1330 پیکٹ گٹکا ماوا اور ایک رکشہ سمیت گرفتار کیا۔

    اسی طرح، پولیس نے 13 منشیات فروشوں انور چاندیو، قاسم چاندیو، ھارون کچھی، غلام دستگیر مگسی، سومار کھڈائی، سکندر عرف سکو سمیجو، حسین میربحر، انور عرف انو بلوچ، امیر حیدر عرف کدو جوکھیو، قادر بخش چوہان، خان محمد لاسی، احسان منگنھار اور گلزار جسکانی کو 1600 گرام چرس، 94 بیگز اور 30 لیٹر دیسی شراب سمیت گرفتار کیا۔

    پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائیاں آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی پی حیدرآباد رینج طارق رزاق دہاریجو کی ہدایات پر کی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ منشیات اور گٹکا کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی بھی صورت میں مجرموں کو نہیں بخشا جائے گا۔

  • ٹھٹھہ: گورنمنٹ گرلز کالج کی فرسٹ ائیر کی طالبہ پراسرار طور پر لاپتہ، اغوا کا خدشہ

    ٹھٹھہ: گورنمنٹ گرلز کالج کی فرسٹ ائیر کی طالبہ پراسرار طور پر لاپتہ، اغوا کا خدشہ

    ٹھٹھہ(باغی ٹی وی نامہ نگاربلاول سموں کی رپورٹ) گورنمنٹ گرلز کالج ٹھٹھہ کی فرسٹ ائیر کی طالبہ نجمہ ملاح، جو کہ مکلی حیدری چوک کی رہائشی غریب مزدور کی بیٹی ہے، پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی۔ نجمہ ملاح کی گمشدگی پر گھر میں کہرام مچا ہوا ہے، اور اس کے والدین پر غشی کے دورے پڑ رہے ہیں۔

    نجمہ ملاح کے والد یوسف ملاح اور چچا رستم ملاح نے میڈیا کو بتایا کہ نجمہ پیر کے روز کالج گئی تھی لیکن گھر واپس نہیں آئی۔ کالج کے اوقات مکمل ہونے کے بعد، جب ہم نے کالج کی پرنسپل سے رابطہ کیا، تو انہوں نے بتایا کہ نجمہ کالج میں پڑھائی کے بعد روزانہ کی طرح گھر کے لئے نکل گئی تھی، اور اس کے بعد ہمیں اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

    نجمہ ملاح کے ورثاء نے الزام لگایا ہے کہ ان کی بیٹی کو کالج سے اغوا کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مکلی نرسری کے رہائشی کچھ مشتبہ افراد، بشمول حمزہ لاشاری، اشفاق درس، اللہ بخش لاشاری، سومار لاشاری، گل محمد، نظیر، یعقوب اور دیگر افراد نے پری پلاننگ کے تحت نجمہ کو اغوا کیا ہے، کیونکہ ان افراد نے کچھ عرصہ قبل نجمہ کو اغوا کرنے کی دھمکی دی تھی۔

    نجمہ کے والد یوسف ملاح نے کہا کہ وہ ایک غریب انسان ہیں اور ٹھیلا چلا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، اور ان کی بیٹی کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کالج انتظامیہ کو بھی تفتیش میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، نجمہ کے ورثاء نے وزیر تعلیم سید سردار شاہ، ڈی سی ٹھٹھہ، اور ایس ایس پی ٹھٹھہ سے درخواست کی ہے کہ نجمہ کو جلد بازیاب کرایا جائے۔