Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • امریکی ناظم الامور   امریکا-پاکستان کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم

    امریکی ناظم الامور امریکا-پاکستان کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم

    امریکی ناظم الامور نیٹالی اے بیکرنے صبح کی کافی کے دوران اپنی ذاتی زندگی اور کام کے بارے میں کچھ دلچسپ باتیں شیئر کیں۔

    نیٹالی اے بیکر نے کہا کہ سفارتی مصروفیات کے باوجود عوام کے قریب رہنا پسند کرتی ہوں۔ امریکی ناظم الامورنے نئے سلسلے NBExplores Pakistan ‘ کے آغاز کا بھی اعلان کیا،نیٹالی بیکر نے پاکستانی عوام سے اپنے تعلق کو "دل سے قریب” قرار دیا انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کاروبارکرنے والی امریکی کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ اجلاس کی تیاری کر رہی ہوں، امریکی کمپنیاں پاکستان میں روزگا رکے مواقع پیدا کریں گی پاکستان بھرمیں لنکن کارنرکے ذریعے امریکامیں تعلیم اور ثقافت کے حوالے سے آگاہی فراہم کررہے ہیں،م یں عربی، ہسپانو ی ،کچھ فارسی اور تھوڑی تھوڑی اردوبھی بول لیتی ہوں۔

  • موٹروے پرچلنے والی گاڑیوں کیلئے اہم ہدایات جاری

    موٹروے پرچلنے والی گاڑیوں کیلئے اہم ہدایات جاری

    وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے ایم نائن موٹروے پر پیش آنے والے مہلک حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

    وفاقی وزیر نے ہدایت جاری کی ہے کہ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے انسپکٹر جنرل حادثے کی مکمل تحقیقات کریں اور جلد از جلد تفصیلی رپورٹ پیش کریں جاری بیان میں انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ کے عمل کو مزید سخت بنایا جائے، خاص طور پر ٹائروں کی حالت کو خصو صی طور پر چیک کیا جائے۔

    عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ ایسی تمام گاڑیوں کو موٹروے پر داخلے کی اجازت نہ دی جائے جن کے ٹائر گھسے ہوئے، کمزور یا زائد المعیاد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ موٹروے میں داخلے سے قبل تمام گاڑیوں کا مکمل معائنہ یقینی بنایا جائے تاکہ مسافروں کی جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگرچہ کمرشل ٹرانسپورٹ کی سخت جانچ ضروری ہے تاہم نجی گاڑیوں کی بھی مکمل سیفٹی چیکنگ ہونی چاہیے انہوں نے موٹروے پولیس کو ہدایت کی کہ قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر چلنے والی ہر گاڑی کیلئے مقررہ حفاظتی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک حادثات سے بچا جا سکے۔

    عبدالعلیم خان نے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ متاثرہ خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔

    حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ موٹروے پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

  • میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    تجزیہ شہزاد قریشی۔میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ

    جرمنی کے شہر میونخ میں منعقدہ میونخ سیکیورٹی کانفرنس ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر گئی ہے کہ دنیا ایک نئے جغرافیائی و سیاسی دوراہے پر کھڑی ہے۔ یہ محض ایک سالانہ اجلاس نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد، تصادم اور تعاون کے بدلتے ہوئے توازن کا آئینہ دار فورم ہے۔ اس سال کی کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب روس۔یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، چین۔امریکہ رقابت اور یورپ کے داخلی سیکیورٹی خدشات عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

    کانفرنس میں امریکہ، یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت نے اس امر کو واضح کیا کہ عالمی سلامتی اب علاقائی حدود سے نکل کر مکمل طور پر باہم جڑی ہوئی حقیقت بن چکی ہے۔ امریکہ کی نمائندگی نے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ یورپی قیادت نے دفاعی خودمختاری اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس مباحثے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی اتحاد بھی نئے تقاضوں کے مطابق اپنی سمت کا تعین کر رہا ہے۔

    پاکستان کی شرکت اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل رہی۔جرنل عاصم منیر کی موجودگی اور اعلیٰ سطحی سفارتی روابط نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان خطے کی سیکیورٹی حرکیات میں محض ایک مبصر نہیں بلکہ ایک فعال فریق ہے۔ جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجک صورتحال، افغانستان کی غیر یقینی کیفیت، اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کے تناظر میں پاکستان کا کردار عالمی برادری کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کو مزید متوازن اور مؤثر بنانا چاہیے۔

    یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کانفرنس کے مباحثوں میں اب طاقت کے یک قطبی تصور کی جگہ کثیر قطبی نظام کی بات زیادہ سنائی دے رہی ہے۔ عالمی اداروں کی ساکھ، بین الاقوامی قانون کی عملداری اور علاقائی اتحادوں کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں میونخ کانفرنس جیسے فورمز کا کردار محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عملی پیش رفت کی بنیاد بننا ہوگا۔

    پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ عالمی فورمز پر اپنی موجودگی کو داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور علاقائی امن کے ساتھ جوڑے۔ سفارتی کامیابی اسی وقت پائیدار ثابت ہوتی ہے جب اس کے پیچھے قومی اتحاد اور معاشی خود کفالت موجود ہو،میونخ سیکیورٹی کانفرنس نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ اب وہی ممالک مؤثر کردار ادا کر سکیں گے جو نہ صرف عالمی سیاست کو سمجھیں بلکہ اپنے قومی مفادات کو عالمی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ بھی کریں۔

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس،توازن کا آئینہ دار فورم!

    بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ،دنیا کو پرامن بنا دیں گی؟
    کانفرنس میں فیلڈ مارشل کی موجودگی،پاکستان عالمی اتحادکیلئے ناگزیر
    دنیا تیزی سے بدل رہی،اسلام آباد محض مبصر نہیں،فعال فریق ہے

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،جرمنی کے شہر میونخ میں سیکیورٹی کانفرنس ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرہی ہے کہ دنیا ایک نئے جغرافیائی و سیاسی دوراہے پر کھڑی ہے،یہ محض ایک سالانہ اجلاس نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد، تصادم اور تعاون کے بدلتے ہوئے توازن کا آئینہ دار فورم ہے،اس سال کی کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی،جب روس،یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، چین،امریکہ رقابت اور یورپ کے داخلی سیکیورٹی خدشات عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں،کانفرنس میں امریکہ، یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیاء کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت نے اس امر کو واضح کیا کہ عالمی سلامتی اب علاقائی حدود سے نکل کر مکمل طور پر باہم جڑی ہوئی حقیقت بن چکی ہے،امریکہ کی نمائندگی نے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی اہمیت پر زور دیا جبکہ یورپی قیادت نے دفاعی خودمختاری اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا،اس مباحثے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی اتحاد بھی نئے تقاضوں کے مطابق اپنی سمت کا تعین کر رہا ہے،پاکستان کی شرکت اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل رہی،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی اور اعلیٰ سطحی سفارتی روابط نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان خطے کی سیکیورٹی حرکات میں محض ایک مبصر نہیں بلکہ ایک فعال فریق ہے،جنوبی ایشیاء کی اسٹریٹجک صورتحال، افغانستان کی غیر یقینی کیفیت اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کے تناظر میں پاکستان کا کردار عالمی برادری کے لئے اہمیت رکھتا ہے،پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کو مزید متوازن اور مؤثر بنانا چاہیے،یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کانفرنس کے مباحثوں میں اب طاقت کے یک قطبی تصور کی جگہ کثیر قطبی نظام کی بات زیادہ سنائی دے رہی ہے،عالمی اداروں کی ساکھ، بین الاقوامی قانون کی عملداری اور علاقائی اتحادوں کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں،ایسے میں میونخ کانفرنس جیسے فورمز کا کردار محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عملی پیش رفت کی بنیاد بننا ہوگا،پاکستان کے لئے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ عالمی فورمز پر اپنی موجودگی کو داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور علاقائی امن کے ساتھ جوڑے،سفارتی کامیابی اسی وقت پائیدار ثابت ہوتی ہے جب اس کے پیچھے قومی اتحاد اور معاشی خود کفالت موجود ہو،میونخ سیکیورٹی کانفرنس نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے،اب وہی ممالک مؤثر کردار ادا کر سکیں گے جو نہ صرف عالمی سیاست کو سمجھیں بلکہ اپنے قومی مفادات کو عالمی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ بھی کریں گے

  • مشترکہ بزنس فورم میں شرکت  کیلئے وزیرِ اعظم  2 روزہ سرکاری دورے پر آسٹریا روانہ

    مشترکہ بزنس فورم میں شرکت کیلئے وزیرِ اعظم 2 روزہ سرکاری دورے پر آسٹریا روانہ

    وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف آسٹریا کے چانسلر کریسچئین اسٹاکر کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے کے لیے ویانا روانہ ہوگئے۔

    وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وفد میں شامل ہیں، وزیرِ اعظم ویانا میں فیڈرل چانسلری میں کرسچئین اسٹاکر سے دوطرفہ اور وفود کی سطح پر ملاقات کریں گے اس کے علاوہ دونوں رہنما سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے معروف کاروباری شخصیات کے اجلاس کی مشترکہ صدارت بھی کریں گے۔

    بعد ازاں وزیرِ اعظم پاکستان آسٹریا بزنس فورم میں شرکت کریں گے اور خطاب بھی کریں گے وزیرِ اعظم ویانا میں اقوامِ متحدہ کے تحت منعقدہ ‘پائیدار ترقی، عالمی امن و خوشحالی کا راستہ’ کے موضوع پر خصوصی تقریب میں بھی شرکت و خطاب کریں گے وزیرِ اعظم اس دوران انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کریں گے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم کا یہ سرکاری دورہ پاکستان اور آسٹریا کے مابین دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے اور سرمایہ کاری، سلامتی اور عالمی تعاون کے شعبوں میں روابط مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • مراد سعید نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

    مراد سعید نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر مراد سعید نے حلف اٹھائے بغیر سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔

    پی ٹی آئی سینیٹر مراد سعید نے سینیٹ کی رکنیت سے اپنا استعفیٰ چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو ارسال کر دیا ہےمراد سعید جولائی 2025 میں خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی کی حمایت سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے تاہم اس کے بعد وہ ایوان بالا میں نہیں آئے اور حلف بھی نہیں اٹھایامراد سعید پی ٹی آئی کے 6 سینیٹرز میں شامل تھے جن کی کامیابی کا نوٹیفکیشن 24 جولائی 2025 کو جاری کیا گیا تھاالیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ نومنتخب سینیٹرز کی مدت اپریل 2030 میں ختم ہوگی۔

    وزیر اعظم معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں،صدر مملکت

    صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے ، طارق فضل چوہدری

    خیبر پختونخوا: بھارتی ترانہ گانے پر 4 طلبہ یونیورسٹی سے فارغ

  • وزیر اعظم معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں،صدر مملکت

    وزیر اعظم معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں،صدر مملکت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میں نے کارکنان کی حمایت سے 14 برس کی قید حوصلے کے ساتھ کاٹی،ہ پارٹی کارکنوں کی حمایت نے انہیں ہر مشکل وقت میں حوصلہ دیا۔

    صدر آصف علی زرداری نے رحیم یار خان میں پارٹی رہنماوٴں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ملک کو معاشی بحالی کی راہ پر گامزن کرنے اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے نظریاتی ورثے پر قائم ہے اور عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھے گی۔

    جنوبی پنجاب کی مقامی قیادت اور سابق ٹکٹ ہولڈرز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری کا کہنا تھا کہ سندھ اور جنوبی پنجاب کی ثقافت میں یکسانیت اور بھائی چارہ نمایاں ہےانہوں نے 14 برس قید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کارکنوں کی حمایت نے انہیں ہر مشکل وقت میں حوصلہ دیا۔

    صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے ، طارق فضل چوہدری

    صدر زرداری نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی مشکلات اور مہنگائی گزشتہ حکومت کی بدانتظامی کا نتیجہ ہیں، تاہم موجودہ وزیر اعظم معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں قومی سلامتی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے سرحدی کشیدگی اور دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کا ذکر کیا اور بھارتی وزیر اعظم پر تنقید کی۔

    انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ افواجِ پاکستان نے ہمیشہ جرات اور عزم سے وطن کا دفاع کیا ہے کہا کہ زرعی ترقی کے لیے کسانوں کو جدید سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ غذائی تحفظ اور قومی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    خیبر پختونخوا: بھارتی ترانہ گانے پر 4 طلبہ یونیورسٹی سے فارغ

    قبل ازیں رحیم یار خان آمد پر مخدوم احمد محمود نے صدر زرداری کا استقبال کیا اور کہا کہ پارٹی کارکن نظریے اور اصولوں پر قائم ہیں۔ تقریب میں گورنر پنجاب، اراکین اسمبلی اور دیگر مقامی رہنما بھی شریک تھے۔

  • صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے ، طارق فضل چوہدری

    صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے ، طارق فضل چوہدری

    طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے اور ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کر دی گئی ہےجبکہ حکومت نے ان کی صحت کے پیش نظر انہیں اسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے اور ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہےعمران خان کی صحت سے متعلق اقدامات بھی قانون اور ضابطوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں،صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ بے بنیاد پروپیگنڈا یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرے حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے اور اس معاملے کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے قومی سنجیدگی اور برداشت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان کے طبی معائنے کے لیے 2 رکنی میڈیکل پینل تشکیل دیا ہے جو جلد ان کا معائنہ کر کے صحت کی صورتحال پر رپورٹ مرتب کرے گا۔ میڈیکل پینل میں ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں۔

  • حکومت کی کوشش ہے کہ 9 مئی جیسے واقعات کی فضا پیدا کی جائے،سہیل آفریدی

    حکومت کی کوشش ہے کہ 9 مئی جیسے واقعات کی فضا پیدا کی جائے،سہیل آفریدی

    خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کے علاج کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید تاخیر سنگین نتائج جنم دے سکتی ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پورے پاکستان میں عوام اپنی مدد آپ کے تحت پرامن احتجاج کر رہے ہیں اور اپنے آج اور مستقبل کی بات کر رہے ہیں، تاہم سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وفاقی حکومت کا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے پرامن احتجاج کو سبوتاژ کیا جائے اور اس میں اپنے عناصر شامل کر کے 9 مئی جیسے واقعات کی فضا پیدا کی جائے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کارکنان مکمل طور پر پرامن ہیں، گزشتہ دو دنوں سے مختلف مقامات پر احتجاج جاری ہے لیکن اب تک کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان ذمہ دار اور پرامن ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود حکومتی تاخیری حربے اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ نیت صاف نہیں، ہم بار بار واضح کر چکے ہیں کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ سیاست سے بالاتر ہے، ان کا علاج ذاتی معالج کی نگرانی میں اور اہل خانہ کو اعتماد میں لے کر کیا جانا ان کا بنیادی انسانی اور آئینی حق ہے، یہ کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات پر جتنی تاخیر کی جائے گی اتنا ہی ملک کے حالات حکومت اپنے ہاتھوں سے خراب کرے گی، جب عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں تو علاج میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں بنتی، اگر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو وہ چھپ نہیں سکے گی اور اگر کوئی غلطی نہیں ہوئی تو تاخیر کی ضرورت ہی کیا ہے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم اپنے کارکنان کو مسلسل ہدایت دے رہے ہیں کہ کسی بھی اشتعال انگیزی یا انتشار پھیلانے کی کوشش کو ناکام بنائیں، اگر کوئی شرپسند عناصر احتجاجی صفوں میں گھسنے کی کوشش کریں تو انہیں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد آئینی، قانونی اور پرامن ہے اور رہے گی، اگر قوم اور پارٹی کو مطمئن نہیں کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ پارٹی قیادت مشاورت سے کرے گی حکومت جان بوجھ کر پینک پیدا کرنا چاہتی ہے جو نہایت خطرناک طرز عمل ہے، ماضی میں تشدد اور گولیوں کے واقعات سب کے سامنے ہیں، اس لیے حکومت کو انسانی جانوں سے کھیلنے سے باز رہنا ہوگا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس پر تالوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ لنگڑی جمہوریت کی علامت ہے جسے موجودہ حکمرانوں نے خود بند گلی میں دھکیل دیا ہے اور یہ تالا انہیں سیاسی طور پر بہت مہنگا پڑے گاسپریم کورٹ کے احکامات پر فوری عمل ہی ملک میں استحکام کی واحد ضمانت ہے اور مزید تاخیر سنگین نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔

  • سپارکو کی رمضان المبارک کے چاند سے متعلق پیشگوئی جاری

    سپارکو کی رمضان المبارک کے چاند سے متعلق پیشگوئی جاری

    پاکستان کے قومی خلائی ادارے اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے رمضان المبارک کے چاند سے متعلق پیش گوئی جاری کر دی۔

    سپارکو کے ترجمان کے مطابق رمضان المبارک کا چاند 18 فروری کی شام انسانی آنکھ سے دیکھے جانے کا امکان ہے جس کے بعد پاکستان میں پہلا روزہ 19 فروری کو ہونے کی توقع ہےرمضان المبارک کا نیا چاند 17 فروری کو شام 5 بج کر ایک منٹ پر پیدا ہوگا جبکہ 18 فروری کو غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 25 گھنٹے اور 48 منٹ ہوگی جسے انسانی آنکھ سے دیکھا جا سکتاہے۔

    سپارکو نے واضح کیا ہے کہ چاند نظر آنے اور رمضان المبارک کے آغاز کا حتمی اعلان رویت ہلال کمیٹی پاکستان کی جانب سے کیا جائے گا جس کا فیصلہ ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں کی روشنی میں ہوگا۔

    کراچی: جماعت اسلامی کا کل شہر میں 10 مقامات پر دھرنوں کا اعلان

    دوسری جانب سعودی عرب میں رمضان المبارک 1447 ہجری کے مقدس مہینے کے استقبال کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

    سعودی میڈیا کے مطابق حکومتی سطح پر استقبال رمضان کی تیاریاں عروج پر ہیں جب کہ اللہ کے مہمانوں کو خوش آمدید اور شاندار میزبانی کی تیاری بھی مکمل کرلی گئی گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی رمضان کے شایان شان استقبال کے لیے اھلاً و سہلاً یا رمضان المبارک کے بینرز جگہ جگہ آویزاں کردیئے گئے۔

    سعودی عرب کی شاہراؤں اور گلی محلوں کو بھی برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے قرآن پاک کی مقدس آیتوں اور احادیث مبارکہ سے سجے بل بورڈز بھی لگائے گئے ہیں رمضان کے مقدس ساعتوں سے لمحہ لمحی نیکی بٹورنے کے سنہری مواقعوں سے مستفید ہونے کے لیے متعدد اصلاحی اور تبلیغی پروگرام بھی ترتیب دیئے گئے ہیں۔

    بنگلہ دیش انتخابات،نئے سیاسی دور کا آغاز،تحریر:کامران اشرف

    ماہ مقدس میں افطار کروانا بھی بڑی نیکی ہے جس کے لیے بڑے بڑے افطار اجتماعات میں منعقد کیے جائیں گے سب سے زیاد رونقین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں دیکھنے میں آرہی ہیں جہاں شاہراہیں، گلیاں اور اہم مقامات کو رنگ برنگے قمقموں اور فانوس سے سجایا گیا ہے دنیا بھر سے مسلمان عمرہ ادائیگی اور عبادات کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینی منور کا رخ کریں گے۔ اللہ کے مہمانوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے جارہے ہیں۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب سمیت متعدد اسلامی ممالک میں رمضان کا آغاز 19 فروری سے ہونے کا قومی امکان ہے تاہم حتمی اعلان چاند نظر آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا سری لنکا میں پرتپاک استقبال

  • وفاق کا عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ، 2 رکنی میڈیکل ٹیم تشکیل

    وفاق کا عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ، 2 رکنی میڈیکل ٹیم تشکیل

    بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق جاری بحث کے دوران وفاقی حکومت نے ان کے طبی معائنے کے لیے 2 رکنی میڈیکل پینل تشکیل دے دیا ہے، جو جلد ان کا معائنہ کر کے صحت کی صورتحال پر رپورٹ مرتب کرے گا۔

    حکام کے مطابق میڈیکل پینل میں ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں، جو کچھ ہی دیر میں بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کریں گے،دوسری جانب نجی چینل سے گفتگو میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پمز کی جانب سے جاری رپورٹ میں عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد نظر جانے کی کوئی بات نہیں تھی، ڈاکٹرز نے کنفرم کیا تھا کہ ان کی آنکھ کے ساتھ سیریس ایشو نہیں ہے ان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے گا، تاہم یہ ابھی نہیں کہا جا سکتا کہ انہیں کس اسپتال منتقل کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ یقین دلاتے ہیں کہ عمران خان کی آنکھ کا مکمل علاج اسپیشلسٹ ڈاکٹرز سے کروایا جائے گا عمران خان کو جیل میں جو سہولیات حاصل ہیں وہ کسی اور قیدی کو میسر نہیں، جیل میں کسی قیدی کے پاس ٹریڈمل اور ورزش کے لیے بائیسیکل نہیں ،بانی پی ٹی آئی کا بروقت علاج ہوگا یہ تاثر غلط ہے کہ عمران خان کے لیے کوئی ڈیل کا معاملہ کیا جا رہا ہے، جس سے ہر کوئی مطمئن ہوگاان کی صحت پر سیاست نہ کرنا چاہتے ہیں، نہ کرنی چاہیے ان کو پروسیجر کے تحت بروقت علاج معالجہ فراہم کیا جائے گا۔

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا سری لنکا میں پرتپاک استقبال

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کے معائنے کے لیے بہترین طبی ماہرین کی رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے ہم نے درخواست کی ہے کہ صحت سے متعلق قیاس آرائیاں نہ کی جائیں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ ہے لیکن کوئی جانی خدشہ نہیں کوشش ہے بہترین آئی اسپیشلسٹ سے ان کا علاج کروایا جائے۔

    ٹی 20 ورلڈکپ: پاک بھارت ٹاکرے سے قبل کولمبو اسٹیڈیم میں 4 فٹ لمبا سانپ نکل آیا