Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ،خواجہ آصف

    ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغان باشندوں کو کئی دہائیوں تک پناہ دی، لیکن اس کا مناسب اعتراف نہیں کیا گیا۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئےخواجہ آصف نے کہاکہ دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے ہر حال میں مسترد کیا جانا چاہیے پا کستان نے افغان باشندوں کو کئی دہائیوں تک پناہ دی، لیکن اس کا مناسب اعتراف نہیں کیا گیا، بھارت افغانستان کے پیچھے چھپ کر پاکستان پر حملے کررہا ہے، جبکہ پاکستان نے کبھی بھی افغانستان کے خلاف جارحیت نہیں کی،اپنی مٹی کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے بھار ت کو جس طرح ماضی کی جنگوں میں شکست ہوئی، وہ دوبارہ حملے کی سوچ بھی نہیں سکتا۔

    وزیر دفاع نے واضح کیاکہ پاکستان افغانستان میں دو جنگوں میں فریق رہا اور آزادی کے فوراً بعد افغانستان کی جانب سے پاکستان پر دوبارہ حملہ ہوایہ جنگیں کوئی جہاد نہیں تھیں اور ہمیں ماضی کے اسباق سے سبق سیکھنا چاہیے نائن الیون کے ذمہ دار کا آج تک پتا نہیں چل سکا، اور افغانستان نے اس واقعے میں کوئی کردار نہیں ادا کیا۔

    خواجہ آصف نے تاریخی ہیروز کو یاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے وطن کی جنگ لڑی، ہمیشہ ہمارے لیے مشعل راہ رہیں گے۔ پاکستان کی شناخت اور وراثت پر فخر کرنا چاہیے، اور سڑکیں، عمارات اور یادگاریں اپنے ہیروز کے نام کرنی چاہییں تاکہ نئی نسل اپنی ثقافت اور تاریخ سے واقف ہوختلافات اپنی جگہ، لیکن دہشتگردی کے خلاف متحد ہونا ہر شہری کا فرض ہے افسوس کہ آج بھی بعض حلقے دہشتگردی کی واضح مذمت نہیں کرتے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے اور پاکستان کو تاریخ کے اسباق سے سبق سیکھنا ہوگا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کبھی ویزا نظام نہیں تھا اور لوگ اجازت نامے پر جا سکتے تھے خود بھی انہوں نے بغیر ویزا افغانستان کا دورہ کیا،روس کے خلاف افغانستان میں لڑنے والی جنگ بھی کوئی جہاد نہیں تھی، اور امریکیوں کی مدد کے باوجود ہمیں اس سے کوئی درس حا صل نہیں ہوا،جب تک ہم ماضی کی غلطیوں اور تاریخی حقائق کا اعتراف نہیں کریں گے، ملک ترقی اور مضبوطی کی راہ پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

  • بنگلہ دیش کے معاملے میں وہی کیا جو کرنا چاہیے تھا، محسن نقوی

    بنگلہ دیش کے معاملے میں وہی کیا جو کرنا چاہیے تھا، محسن نقوی

    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے حال ہی میں کہا ہے کہ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے معاملے میں پاکستان نے بالکل وہی قدم اٹھایا جو کرنا ضروری تھا۔ یہ اعلان پی ایس ایل کی فرنچائز ملتان کے آکشن کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران سامنے آیا۔
    ‎محسن نقوی نے بتایا کہ مسئلہ بنگلہ دیش کے ساتھ پیدا ہوا اور اس حوالے سے آئی سی سی کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی اور بنگلہ دیش سے آنے والی اطلاعات کا انتظار کیا جا رہا ہے اور جیسے ہی کوئی حتمی معلومات آئیں گی، اسے عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
    ‎پی سی بی چیئرمین نے مزید کہا کہ مہمان کو عزت دینا پاکستان کی روایت ہے اور نہ ہی وہ کسی قسم کے دباؤ یا دھمکیوں سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش ہمارے بھائی ہیں اور اسی وجہ سے ہم نے وہی اقدامات کیے جو اس موقع پر ضروری تھے۔
    ‎ذرائع کے مطابق، گزشتہ روز لاہور میں پی سی بی اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کئی اہم نکات طے کیے گئے۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہائبرڈ ماڈل کو 2031 تک جاری رکھنے کی شرط رکھی، جبکہ ورلڈ کپ 2031 میں پاکستان کے میچز بنگلہ دیش میں کروانے کی بات بھی کی گئی۔
    ‎دوسری جانب، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے آئی سی سی سے میچوں کی آمدنی میں حصہ دینے کی درخواست کی، جبکہ پاکستان کی جانب سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ آئی سی سی ضمانت دے کہ بھارتی ٹیم ایف ٹی پی کے تحت رواں سال ستمبر میں بنگلہ دیش کا دورہ کرے گی۔
    ‎میٹنگ میں پی سی بی کی نمائندگی چیئرمین محسن نقوی نے کی، جبکہ بنگلہ دیش کی جانب سے بورڈ کے صدر امین الاسلام شریک ہوئے۔ آئی سی سی کی طرف سے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ بھی موجود تھے۔
    ‎اس موقع پر پی سی بی نے واضح کیا کہ اگر بنگلہ دیش بورڈ کو راضی کر لیا جائے تو پاکستان بھی اس معاملے پر مطمئن ہو جائے گا۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہمیشہ واضح اور مستقل رہا ہے اور وہ ہر فیصلے میں ملکی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
    ‎یہ ملاقات اس وقت سامنے آئی ہے جب آئی سی سی اور مختلف ممالک کے کرکٹ بورڈز کے درمیان عالمی کرکٹ کے شیڈول، میچز کی میزبانی، آمدنی کی تقسیم اور ٹیموں کے دوروں کے حوالے سے مسائل زیر بحث ہیں۔ پاکستان نے اپنی ذمہ داری کو برقرار رکھتے ہوئے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات مضبوط رکھنے پر زور دیا ہے تاکہ کرکٹ شائقین کے لیے ایک مثبت اور مستحکم ماحول یقینی بنایا جا سکے۔

  • کاروباری کمیونٹی کے مفادات کے تحفظ کے اقدامات حکومت کی اولین ترجیح ہے،اسحاق ڈار

    کاروباری کمیونٹی کے مفادات کے تحفظ کے اقدامات حکومت کی اولین ترجیح ہے،اسحاق ڈار

    وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت کی مضبوط بنیادوں، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ، اور کاروباری کمیونٹی کے مفادات کے تحفظ کے اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آج ایک اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں وزیرِ تجارت، وزیراعظم کے خصوصی معاون طارق باجوا، وزیر مملکت برائے فائنانس و ریلوے، وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار، وزارت خارجہ کے سینئر اہلکار اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

    اجلاس میں ملک میں اقتصادی ترقی کو تیز کرنے، تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے، اور کاروباری حضرات و برآمد کنندگان کے مفادات کو فروغ دینے پر تفصیلی گفتگو کی گئی، اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تجارتی اور اقتصادی ترقی کے لیے چیمبرز آف کامرس کے ساتھ قریبی تعاون کو فروغ دیا جائے۔

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی معیشت کی مضبوط بنیادوں، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ، اور کاروباری کمیونٹی کے مفادات کے تحفظ کے اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں جبکہ اجلاس میں تجارتی پالیسیوں، برآمدات کے فروغ، اور اقتصادی ترقی کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • رواں سال فطرانہ اور فدیہ کتنا ہوگا؟اسلامی نظریاتی کونسل نے  اعلان کردیا

    رواں سال فطرانہ اور فدیہ کتنا ہوگا؟اسلامی نظریاتی کونسل نے اعلان کردیا

    اسلامی نظریاتی کونسل نے رمضان 2026 کے لیے ملک بھر میں زکوٰۃ الفطر اور فدیہ کی نئی رقوم کا اعلان کردیا ہے۔

    کونسل کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق مختلف اجناس کے حساب سے فطرانہ اور فدیہ کی رقوم اس طرح ہوں گی،کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کے مطابق گندم کے حساب سے فطرانہ اور فدیہ کی کم از کم رقم 300 روپے فی کس مقرر کی گئی ہے جو افراد جو کے حساب سے فطرانہ یا فدیہ ادا کرنا چاہیں گے، ان کے لیے رقم ایک ہزار 100 روپے فی کس مقرر کی گئی ہے۔

    جبکہ کھجور کے حساب سے یہ رقم ایک ہزار 600 روپے فی کس ہوگی کشمش کے حساب سے فطرانہ اور فدیہ 3 ہزار 800 روپے فی کس مقرر کیا گیا ہے اور منقہ (خشک انجیر) کے حساب سے فطرانہ اور فدیہ 5 ہزار 400 روپے فی کس ادا کرنا ہوگا۔

    fitrana

    جو افراد پورا رمضان روزے رکھنے سے قاصر ہوں، ان کے لیے 30 دن کا فدیہ گندم کے حساب سے 9 ہزار روپے،جو کے حساب سے 33 ہزار روپے،کھجور کے حساب سے 48 ہزار روپے،کشمش کے حساب سے ایک لاکھ 14 ہزار روپے اور منقہ کے حساب سے ایک لاکھ 62 ہزار روپے ہو گا-

    اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق سرکاری سبسڈی والے آٹے کے حساب سے پورے ماہ کا فدیہ 6 ہزار روپے جبکہ فی کس فطرانہ یا فدیہ 200 روپے مقرر کیا گیا ہےڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے واضح کیا کہ زکوٰۃ الفطر ہر مسلمان پر لازم ہے، چاہے مرد ہو یا عورت، بڑا ہو یا بچہ، جان بوجھ کر روزہ توڑنے کی صورت میں کفارہ ادا کرنا ضروری ہے، جو یا تو مسلسل 60 روزے رکھنے یا 60 مسکین افراد کو دو وقت کا کھانا کھلانے کی صورت میں ادا کیا جا سکتا ہے۔

  • پیکا کے متنازعہ ترمیمی قانون کے خلاف صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت ملتوی

    پیکا کے متنازعہ ترمیمی قانون کے خلاف صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت ملتوی

    پیکا کے متنازعہ ترمیمی قانون کے خلاف صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کی ،سینئر صحافی حامد میر، پی ایف یو جے اور اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے پیکا ایکٹ کو چیلنج کر رکھا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے وکیل میاں سمیع الدین نے دلائل دیے ،وکیل نے متنازع پیکا ایکٹ میں ترمیم کے بعد شامل کی گئی شقیں پڑھ کر سنائیں ،وکیل نے کہا کہ جو اختیارات عدلیہ کے پاس ہونے چاہئیں وہ ایگزیکٹو کو دے دی گئیں، جوڈیشل ٹریبونل ہونا چاہیے جس کا چیف جسٹس کی مشاورت سے تقرر ہو،سیکشن ٹو سی جعلی اور جھوٹی سوشل میڈیا پوسٹس پر پابندی سے متعلق ہے، جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ فیک انفارمیشن کے متعلق فیصلہ کون کرے گا کہ معلومات غلط اور جھوٹی ہیں؟ یہ بتائیں اور سمجھائیں کہ فیک نیوز کا تعین کیسے کرنا ہے؟ فیک نیوز پر پروسیڈنگ کیسے شروع ہو گی؟ وکیل نے کہا کہ کمپلینٹ فائل کرنے کا ایک نیا طریقہ بتا دیا گیا ہے کہ متاثرہ فریق کے علاوہ تھرڈ پارٹی بھی کمپلینٹ فائل کر سکتی ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اس سے کوئی پراکسی بھی کمپلینٹ دائر کر سکے گی اور اس قانون کا غلط استعمال ہو گا، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ فیک انفارمیشن سے کیا نقصان پہنچ رہا ہے،فیک انفارمیشن ایک غلطی بھی ہو سکتی ہے جس کا کسی کو نقصان نہ ہو،

    راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر آصف بشیر چوہدری روسٹرم پر آ گئے ،آصف بشیر چوہدری نے کہا کہ پی ایف یو جے پچھلے سال چھ فروری کو یہ کیس لے کر عدالت آئی تھی، کیس زیر التواء ہے اور اسٹے نہیں ملا اس دوران ہمارے دو درجن سے زائد صحافیوں کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی،سڑک کی جلد توڑ پھوڑ پر تعمیر میں ناقص مٹیریل کے استعمال کی خبر دینے والے پر بھی مقدمہ درج کر لیا گیا،یہ قانون سازی ہے، اس کو حکم امتناع سے معطل نہیں کیا جا سکتا، کیس کو سن کر فیصلہ کریں گے، عدالت نے کیس پر مزید سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی

  • ایرانی تیل کے جہازوں کی ضبطی اور چابہار سے واپسی،بھارتی دوغلاپن بے نقاب

    ایرانی تیل کے جہازوں کی ضبطی اور چابہار سے واپسی،بھارتی دوغلاپن بے نقاب

    ایرانی تیل کے جہازوں کی ضبطی اور چابہار سے واپسی، بھارت کا سفارتی دوغلا پن ایک مرتبہ پھر بے نقاب ہو گیا

    مفاد پرست بھارت نے چابہار بندرگاہ سے خاموش واپسی کے بعد ایران کے تیل بردار جہاز بھی ضبط کر لیے ،ایران کے خلاف اقدامات بھارت کی متضاد خارجہ پالیسی اور امریکی دباؤ کے آگے جھکاؤ کا واضح ثبوت بن گیا ،ایرانی میڈیا کے مطابق؛ بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرہ عرب میں اسمگلنگ کے الزام میں تین آئل ٹینکروں کو ضبط کیا،تینوں آئل ٹینکرز کو بحیرہ عرب میں ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل کے فاصلے پر روکا گیا، ایرانی میڈیا کے مطابق؛ضبط شدہ بحری جہاز ال جافزیہ ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی ایران سے منسلک تھے،اس سے قبل ایران سے شراکت داری کے دعوؤں کے باوجود بھارت امریکی دباؤ میں چابہار بندرگاہ سے دستبردار ہو چکا ہے ، بھارت امریکی پابندیاں لاگو ہونے سے قبل ایران کو طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم بھی ادا کر چکا تھا ،

    عالمی ماہرین کے مطابق؛ ایران کے خلاف اقدامات بھارت کی موقع پرستانہ اور متضاد خارجہ پالیسی کی واضح مثال ہے .چابہار سے واپسی کے بعد ایرانی تیل بردار جہازوں کی ضبطی بھارت کی جانب سے ایران کو چھرا گھونپنے کے مترادف ہے،دکھاوے،جھوٹ اور دھوکے سے چلنے والی مودی کی نا اہل حکومت کی خارجہ پالیسی زمین بوس ہو چکی ہے

  • ہتکِ عزت کیس: شہباز شریف کیخلاف عمران خان کی درخواست ، 3رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم

    ہتکِ عزت کیس: شہباز شریف کیخلاف عمران خان کی درخواست ، 3رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

    ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی،سماعت کے دوران جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کی کیا پوزیشن ہے؟ جس پر وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ کیس اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہے عدالت نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد کارروائی مؤخر کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی، جبکہ آئندہ سماعت پر تشکیل دیے گئے بینچ کے روبرو کیس کو دوبارہ سنا جائے گا۔

    دوسری جانب، القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی جبکہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی درخوا ستیں غیر مؤثر ہونے پر خارج کر دی گئیں سپریم کورٹ نے 9 مئی لاہور واقعات میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر تین رکنی بینچ بنانے کا حکم دیا،عدالت نے سائفر کیس اور 9 مئی واقعات میں ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

  • ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے پر سرکاری ملازم گرفتار

    ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے پر سرکاری ملازم گرفتار

    نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ریاست مخالف اور دہشت گرد تنظیم کی حمایت میں مواد پھیلانے کے الزام میں ایک سرکاری ملازم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم ظفر اقبال ریڈیو پاکستان میں نائب قاصد کے طور پر تعینات تھا، جس کے خلاف اندرونی انکوائری مکمل ہونے کے بعد اسے ملازمت سے بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔ترجمان این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم ظفر اقبال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی حمایت میں مجموعی طور پر 13 اشتعال انگیز اور ریاست مخالف پوسٹس شیئر کیں۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مواد نہ صرف قانون کے خلاف تھا بلکہ اس کا مقصد عوام میں نفرت، اشتعال اور فتنہ انگیزی پھیلانا تھا۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم نے پہلے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) سے ایک اسٹے آرڈر بھی حاصل کر رکھا تھا، تاہم شواہد سامنے آنے کے بعد قانون حرکت میں آیا اور ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت باقاعدہ کارروائی کی گئی۔حکام کا کہنا ہے کہ ظفر اقبال اس سے قبل ریڈیو پاکستان کوئٹہ میں بطور نائب قاصد خدمات انجام دے چکا ہے۔ اس کے دہشت گرد عناصر سے ممکنہ روابط کے شبے پر سیکیورٹی اداروں نے انکوائری شروع کی، جس دوران سوشل میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور قابلِ اعتراض مواد سامنے آیا۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق عدالت نے ملزم کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے تاکہ تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔ عدالت نے اس کے ڈیجیٹل ڈیوائسز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فرانزک اور تکنیکی تجزیے کے لیے تحویل میں لینے کی بھی اجازت دے دی ہے۔حکام کے مطابق تفتیش کے دوران یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا ملزم اکیلا اس سرگرمی میں ملوث تھا یا اس کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک بھی کام کر رہا تھا۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ریاست مخالف اور دہشت گرد بیانیے کے پھیلاؤ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رکھا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

  • محسن نقوی کی آج وزیر اعظم سے ملاقات متوقع

    محسن نقوی کی آج وزیر اعظم سے ملاقات متوقع

    چیئرمین پی سی بی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی آج وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات متوقع ہے۔

    ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی محسن نقوی وزیر اعظم شہباز شریف کو آئی سی سی اور بی سی بی سے ہونے والی ملاقات پر اعتماد میں لیں گے محسن نقوی آئی سی سی کی درخواست کے بارے میں بھی وزیر اعظم کو آگاہ کریں گے وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف کھیلنے کا فیصلہ ہوگا بنگلادیش کرکٹ بورڈ اور پی سی بی کے نقط نظر سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

  • اقوامِ متحدہ کے اسسٹنس مشن برائے افغانستان کی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں، پاکستان

    اسلام آباد: پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے اسسٹنس مشن برائے افغانستان (UNAMA) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا-

    پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں بلکہ نام نہاد اسلامک امارتِ افغانستان (آئی ای اے) کے یکطرفہ، غیر مصدقہ اور غیر مستند الزامات پر انحصار کرتی ہےپاکستان نے افغانستان میں کسی بھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی کسی شہری جانی نقصان کا سبب بنا۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی تمام کارروائیاں صرف اُن دہشتگرد عناصر کے خلاف تھیں جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولتکاری اور عمل درآمد میں براہِ راست ملوث تھے پاکستان کی کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت حقِ دفاع کے دائرے میں، درست انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن میں شہری آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے سے مکمل اجتناب کیا گیا دہشتگرد تربیتی مراکز اور کیمپوں کو نشانہ بنانے کے شواہد پہلے ہی عالمی برادری کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔

    پاکستان نے UNAMA رپورٹ میں اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرنے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ افغانستان طالبان کے زیرِ انتظام دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق، افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث رہی ہیں-

    ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں شہری نقصان کی اصل ذمہ داری اُن عناصر پر عائد ہوتی ہے جو دہشت گر دوں کو شہری آبادیوں میں پناہ دیتے اور انہیں آپریشنل سہولت فراہم کرتے ہیں ایسے حالات میں پاکستان کی جوابی کارروائیوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

    دفتر خارجہ نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ غیر جانبدار، قابلِ تصدیق اور متوازن رپورٹس مرتب کرے اور دہشتگردی کے اصل محرکات اور ذمہ داروں کو نظر انداز نہ کرے پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقا سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔