Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • پی آئی اے کی طبی سہولیات،اسٹیٹ لائف سے معاہدہ، پالپا کا عدالت جانے کا اعلان

    پی آئی اے کی طبی سہولیات،اسٹیٹ لائف سے معاہدہ، پالپا کا عدالت جانے کا اعلان

    اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے پائلٹس کی نمائندہ تنظیم پاکستان ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے جاری طبی سہولیات کے معاملات اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (PIAHCL) اور اسٹیٹ لائف انشورنس کے درمیان ہونے والے معاہدے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    پالپا کے جنرل سیکریٹری کیپٹن (ر) عارف مجید کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 9 فروری 2026 کو چیف ہیومن ریسورس آفیسر کی طرف سے جاری کیے گئے سرکلر نمبر 03/2026 کے بعد پائلٹس میں شدید تشویش اور ذہنی دباؤ پایا جا رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس سرکلر کے اثرات پائلٹ برادری کے لیے نہایت سنجیدہ نوعیت کے ہیں، جس کے باعث قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پالپا 13 فروری 2026 کو متعلقہ عدالت میں مقدمہ دائر کرے گی تاکہ اراکین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ وہ اپنے ممبران کے ساتھ کھڑی ہے اور انصاف کے حصول کے لیے تمام دستیاب قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔

    دوسری جانب پی آئی اے کے اندرونی حلقوں میں یہ تاثر بھی گردش کر رہا ہے کہ مجوزہ انتظامی تبدیلیوں اور ہولڈنگ کمپنی کے قیام کے پس منظر میں اہم کاروباری گروپ سرگرم ہے، اور بعض غیر مقبول فیصلے موجودہ انتظامیہ سے کروائے جا رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یہ اقدامات مستقبل کی تنظیم نو اور ممکنہ نجکاری کے عمل کا حصہ ہیں۔

    تاہم پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال قومی ایئرلائن کے مستقبل، ملازمین کے حقوق اور ادارہ جاتی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

    ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عارف حبیب کنسورشیم تمام غیر مقبول اور سخت فیصلے موجودہ پی آئی اے انتظامیہ سے کروانا چاہتا ہے، اور موجودہ انتظامیہ اپنی ملازمتوں کے تحفظ کی امید میں یہ اقدامات کر رہی ہے۔جب یہ تمام متنازع اور سخت اقدامات مکمل ہو جائیں گے تو عارف حبیب کنسورشیم موجودہ پی آئی اے انتظامیہ کو ایک طرف کر کے خود مرکزی حیثیت اختیار کر لے گا، گویا جشن اور دھوم دھام سے اقتدار سنبھالے گا۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ حقیقت کو تسلیم کیا جائے۔ ہولڈکو کے قیام کے خلاف پالپا کا مقدمہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے 1857 کے بعد بہادر شاہ ظفر کے خاندان کا ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کرنا۔

  • پارٹی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بعد ہر کوئی کہتا ہے  وہ لیڈر ہے، جنیداکبر

    پارٹی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بعد ہر کوئی کہتا ہے وہ لیڈر ہے، جنیداکبر

    تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر نےکہا ہے کہ ہماری پارٹی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بعد ہر کوئی کہتا ہے وہ لیڈر ہے، بانی پی ٹی آئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑا ہوں، جو وہ کہیں گے فائنل ہوگا۔

    اڈیالہ جیل روڈ پر میڈیا سےگفتگو میں رہنما پی ٹی آئی جنید اکبر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میرا گھر ہے، ناراضی، جھگڑے اور شکوے یہ سب چلتا رہےگا، میں نے جمعرات اور جمعہ کو شکوہ کیا کہ بات کرنی ہے، میں نےکہا مطمئن نہیں ہوں تقریروں میں وجوہات نہیں بتائی جاتیں، محمود خان اچکزئی پر تحفظات نہیں، ان پر تحفظات رکھنے والا میں کون ہوتا ہوں، محمود خان اچکزئی کو ابھی ایڈجسٹ ہونے میں ٹائم لگےگا، ہماری پارٹی کا اپنا کلچر ہے، ہماری پارٹی میں بانی پی ٹی آئی کے بعد ہرکوئی کہتا ہے وہ لیڈر ہے، بانی پی ٹی آئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑا ہوں، جو وہ کہیں گے فائنل ہو گا، جب ہر بندے کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے تو پھر اختلاف ہوتا ہے، دوسری پارٹیوں میں آمریت ہے وہاں اختلاف کم ہوتا ہے، وہاں سب کو پتہ ہوتا ہے مریم نواز نے وزیر اعلیٰ اور شہباز شریف نے وزیر اعظم بننا ہے، مریم نواز کا بیٹا کل آئےگا تو وزیراعلی بنےگا۔

    جنید اکبر کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو ذاتی معالجین تک رسائی نہ دینا محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ بدترین سیاسی انتقام اور فسطائیت ہے۔ ان کی صحت اور زندگی کے ساتھ جان بوجھ کر کھیلا جا رہا ہے۔ اس مجرمانہ فعل کا اب کوئی بھی عذر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فوری طور پر ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی دی جائے،

    اس سے پہلے جنید اکبر نے اپنی آڈیو ٹیپ سامنے آنے پر اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہيں بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا ، برداشت ختم ہوگئی ہے ، چیف وہپ کون ہوتا ہے فیصلہ کرنے والا کہ روزانہ کون بولے گا ،
    ہماری شرافت کو غلط سمجھ رہے ہو ،کسی میں ہمت نہیں کہ پوچھے محسن نقوی ایوان میں کیوں نہیں آیا؟.میں آج سے پارلیمانی کمیٹی اور آپ کا حصہ نہیں ہوں اسپیکر سے کہوں گا مجھے آزاد پوزیشن دیں،میری اپنی پارٹی کے لوگ بولنے نہیں دیتے,

  • 
راولپنڈی: ٹک ٹاک پر نازیبا مواد وائرل کرنے والا ملزم گرفتار

    
راولپنڈی: ٹک ٹاک پر نازیبا مواد وائرل کرنے والا ملزم گرفتار

    
راولپنڈی میں وقار حسن نامی شخص کو گرفتار کر لیا گیا جو ٹک ٹاک پر فیک آئی ڈی بنا کر خواتین کی عزت سے کھیل رہا تھا۔
    ملزم واٹس ایپ اور ٹک ٹاک کے ذریعے نازیبا ویڈیوز پھیلا کر خواتین کو بلیک میل کرنے میں ملوث پایا گیا۔
    ‎گرفتار ملزم کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا موبائل فون بھی برآمد ہوا ہے، جس میں اہم ڈیٹا حاصل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

  • سندھ طاس معاہدہ: پاکستان نےعالمی ثالثی عدالت میں بھارت کے خلاف اعتراضات جمع کرادیے

    سندھ طاس معاہدہ: پاکستان نےعالمی ثالثی عدالت میں بھارت کے خلاف اعتراضات جمع کرادیے

    سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت عالمی ثالثی عدالت میں جاری ہے-

    انڈس واٹرز آربیٹریشن کیس کے دوسرے مرحلے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے، جس دوران پاکستان نے بھارتی پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن، پانی کے بہاؤ اور تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی تحفظات پیش کیےعالمی عدالت برائے ثالثی میں پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ انڈس واٹر ٹریٹی کمشنر مہر علی شاہ اور مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفرا بھی موجود تھے۔

    پاکستانی وفد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بھارت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر منصوبے تعمیر کرتے وقت سندھ طاس معاہدے میں طے شدہ حدود سے تجاوز کر رہا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    پاکستان نے عدالت سے درخواست کی کہ بھارت کو معاہدے کے تحت ان تین دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کی اجازت، ان کی نوعیت اور دائرہ کار سے متعلق واضح وضاحت فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے وفد کا مؤقف تھا کہ بھارتی منصوبوں کی نصب شدہ صلاحیت اور متوقع پانی کے بہاؤ کا درست اور شفاف تعین نہایت اہم ہے تاکہ سندھ طاس معاہدے کی روح کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں،ادھر بھارت نے سماعت میں شرکت کی دعوت کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی عدالت کے روبرو پیش ہوا۔

    ثالثی عدالت کے بینچ کی قیادت امریکا سے تعلق رکھنے والے پروفیسر شان ڈی مرفی نے کی، جبکہ دیگر بین الاقوامی ججز بھی کارروائی کا حصہ تھے، یہ عالمی فورم 127 رکن ممالک پر مشتمل ہے اور بین الاقوامی تنازعات کے حل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

  • سینیٹ  قائمہ کمیٹی، میری ٹائم شعبے میں غیرقانونی زمین الاٹمنٹس کیخلاف کارروائی کی ہدایت

    سینیٹ قائمہ کمیٹی، میری ٹائم شعبے میں غیرقانونی زمین الاٹمنٹس کیخلاف کارروائی کی ہدایت

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم امور کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر محمد فیصل واوڈا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں میری ٹائم شعبے سے متعلق اہم آپریشنل، انفراسٹرکچر اور گورننس کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بندرگاہوں کی کارکردگی، ڈریجنگ آپریشنز، زمین کے انتظام اور برآمدات میں سہولت کاری پر خصوصی توجہ دی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام زیر التواء زمین الاٹمنٹس کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور غیرقانونی الاٹمنٹس منسوخ کی جائیں۔

    اجلاس میں سینیٹر پرویز رشید، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر ندیم احمد بھٹو اور سینیٹر روبینہ قائم خانی سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔ سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر سید وقار مہدی اور سینیٹر سید مسرور احسن نے بھی ایجنڈا آئٹم کے محرک کے طور پر اجلاس میں شرکت کی۔چیئرمین کمیٹی نے ناجائز قبضہ شدہ زمین خالی کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (KICT) پر 239 کنٹینرز تاخیر کا شکار ہیں، جس کی بڑی وجوہات کسٹمز میں تاخیر اور بین الاقوامی کمپنیوں کی شمولیت ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ کنٹینر کلیئرنس سے منسلک سالانہ تقریباً 40 ملین امریکی ڈالر کی بدعنوانی ہوتی ہے، جہاں مبینہ طور پر فی کنٹینر تقریباً ایک لاکھ بارہ ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ کمیٹی نے KICT کو ہدایت کی کہ تمام بیک لاگ فوری طور پر کلیئر کیا جائے اور بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے فشریز ہاربر اتھارٹی کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شفافیت کا فقدان ہے اور کورنگی فشریز میں زمین کے انتظام میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فشریز اتھارٹی کے بعض اہلکار غیرحاضری کے باوجود اپنی تنخواہیں سینئر افسران کے ساتھ غیرقانونی طور پر شیئر کرتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ متعدد بورڈز خودمختار ہیں جن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ سینیٹر واوڈا نے غیر مؤثر بورڈ ممبران کی تنظیمِ نو یا ان کے خاتمے پر زور دیا۔کمیٹی نے فشریز سمیت مختلف علاقوں میں زمین کے مجموعی ریکارڈ سے متعلق ڈیٹا مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    وفاقی وزیر برائے میری ٹائم امور محمد جنید انور نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ وزارت مثبت سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام نظامی مسائل کو ایک ساتھ حل کرنا ممکن نہیں، اسی لیے وزارت مرحلہ وار حکمتِ عملی اپنا رہی ہے۔ انہوں نے سینیٹ کمیٹی کی مکمل حمایت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزارت اس وقت درست راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں نیشنل ڈریجنگ کمپنی قائم کی ہے جو کم لاگت اور برآمدکنندگان کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہوگی۔

    چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) نے آگاہ کیا کہ KPT نے حالیہ عرصے میں دوسری بلند ترین کارگو ہینڈلنگ کی ہے۔ KPT میں کنٹینر ہینڈلنگ میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ سال کے دوران مجموعی طور پر سب سے زیادہ کارگو ہینڈلنگ بھی حاصل کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ بندرگاہ کے ڈرافٹ کی گہرائی بڑھانے پر کام جاری ہے تاکہ 100,000 ٹن تک کے بحری جہازوں کو سنبھالا جا سکے۔ اس کے علاوہ KPT دنیا کی سب سے بڑی بلک ایکسپورٹ سہولت بھی ترقی دے رہا ہے جس کی اسٹوریج گنجائش 80 لاکھ ٹن ہوگی، جبکہ کلنکر کی برآمدات موجودہ 45 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 85 لاکھ ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔ دنیا بھر میں فعال تقریباً 400 بندرگاہوں میں سے KPT اس وقت 90ویں نمبر پر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بندرگاہ پر ڈریجنگ کی سرگرمیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔

    سینیٹر روبینہ قائم خانی نے نشاندہی کی کہ کنٹینر کلیئرنس میں اب بھی ڈویل ٹائم کے مسائل درپیش ہیں۔ وزیر نے جواب میں بتایا کہ ڈویل ٹائم کے مسائل کے حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے اور اس میں نمایاں کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔سینیٹر ندیم بھٹو نے نیشنل ڈریجنگ کمپنی کے کردار پر سوال اٹھایا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ AD پورٹ کمپنی کو 60 ملین امریکی ڈالر مالیت کا کام دیا گیا ہے جبکہ باقی کام نیشنل ڈریجنگ کمپنی کو سونپا گیا ہے۔ آئندہ تمام ڈریجنگ کا کام نیشنل ڈریجنگ کمپنی کو دیا جائے گا۔

    وزیر نے مزید بتایا کہ بندرگاہی آپریشنز میں سہولت کے لیے لیاری پر علیحدہ سڑک پر کام جاری ہے، جبکہ ملیر ایکسپریس وے بھی زیر تعمیر ہے جس کی تکمیل وسط 2026 تک متوقع ہے۔ یہ سڑکیں 24 گھنٹے کنٹینر ٹرانسپورٹیشن میں معاون ثابت ہوں گی۔ چیئرمین KPT نے بتایا کہ جولائی 2026 تک برآمدات کے لیے چار فریٹ ٹرینیں آپریشنل ہوں گی، جبکہ KPT سے ML-1 کنیکٹیوٹی تیز اور مؤثر کنٹینر نقل و حمل میں مدد دے گی۔
    وزیر نے کہا کہ وزارت زمین کی واپسی، ناجائز قبضوں کے خاتمے اور پراپرٹی ڈیلرز کی مداخلت ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کمیٹی چیئرمین کا تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزارت زمین سے متعلق قانونی مقدمات نمٹانے اور ماضی میں لینڈ گریبنگ میں سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    اجلاس کے دوران سینیٹر شہادت اعوان کے سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ گزشتہ 15 برسوں میں 42 جائیدادیں الاٹ کی گئی ہیں۔ سینیٹر اعوان نے نشاندہی کی کہ کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی نے اپنا ماسٹر پلان، زمین الاٹمنٹ پالیسی اور قواعد و ضوابط تاحال اپنی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیے۔ اتھارٹی نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ مطلوبہ معلومات جلد از جلد کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی کی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی جائیں گی۔

  • پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق

    پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے انڈونیشیا کے وزیر برائے سرمایہ کاری و ڈاؤن اسٹریم انڈسٹری اور خودمختار ویلتھ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو روزان روزلانی سے وفد کی سطح پر ملاقات کی۔

    ملاقات میں پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے، ممکنہ مشترکہ منصوبوں اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے مواقع کا جائزہ لیا گیا صحت سمیت ترجیحی شعبوں میں بہترین تجربات کے تبادلے اور تعاون پر بھی گفتگو ہوئی-

    اجلاس کے دوران وزارتِ خزانہ، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول، ترجیحی شعبوں اور سہولت کاری کے نظام پر بریفنگ دی گئی، جبکہ انڈونیشیا کے خودمختار ویلتھ فنڈ اور ڈاؤن اسٹریم سرمایہ کاری کے تجربے سے استفادے پر بھی بات چیت کی گئی۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے پاکستان اور انڈونیشیا کے دیرینہ دوطرفہ تعلقات کو باہمی احترام اور تعاون پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ باہمی سرمایہ کاری دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

    ملاقات میں وزیر صحت، معاون خصوصی برائے وزیراعظم طارق باجوہ، چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ، نیشنل کوآرڈینیٹر SIFC، سیکریٹری خزانہ، قائم مقام سیکریٹری خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • مولانا فضل الرحمان کا کم عمری کی شادی کیخلاف قانون کو چیلنج ،شرمیلا فاروقی کا   سخت ردعمل

    مولانا فضل الرحمان کا کم عمری کی شادی کیخلاف قانون کو چیلنج ،شرمیلا فاروقی کا سخت ردعمل

    مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کی مخالفت پر پی پی پی کی سینیٹر شرمیلا فاروقی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے-

    سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ اگر صدر مملکت نے دستخط کیے تو ملک گیر احتجاج ہوگا، تاہم صدر آصف علی زرداری نے ‘صحیح سمت میں کھڑے ہونے’ اور ‘اس قوم کی بیٹیوں کے ساتھ کھڑے ہونے’ کا فیصلہ کیا اور بل پر دستخط کیے، جو آج باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر کوئی رکنِ پارلیمان، جو خود قانون ساز ہے، ایوان میں کھڑے ہو کر منظور شدہ قانون کو چیلنج کرتا ہے اور ریاست کو للکارتا ہے تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیے؟ تمام اراکین نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق ایوان کو چلائیں گے، اس لیے منظور شدہ قانون کو چیلنج کرنا پارلیمان کی بالاد ستی کے خلاف ہے۔

    سینیٹر شرمیلا فاروقی نے کہا کہ کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کو ‘شرعی’ یا ‘اسلامی معاملہ’ قرار دے کر متنازع بنانے کی کوشش درست نہیں یہ قانو ن بچیوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے بنایا گیا ہے اور اس پر پہلے بھی مشترکہ اجلاس میں تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔

    چیئر کی جانب سے انہیں پوائنٹ آف آرڈر تک محدود رہنے کی ہدایت بھی کی گئی، تاہم انہوں نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ وہ اس قانون کی بانیوں میں شامل ہیں اور ایوان اس کا محافظ ہے، اس لیے ان کا جواب دینا ضروری ہے۔

  • منکی پاکس اور ایچ آئی وی سے متاثرہ ایک اور مریض کی موت

    منکی پاکس اور ایچ آئی وی سے متاثرہ ایک اور مریض کی موت

    نکی پاکس (ایم پاکس) اور ایچ آئی وی سمیت متعدد موذی امراض میں مبتلا ایک اور مریض دورانِ علاج جاں بحق ہو گیا۔ حکام کے مطابق 53 سالہ مریض کا تعلق فیصل آباد سے تھا اور وہ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں زیرِ علاج تھا، جہاں ہفتے کے روز اس کا انتقال ہو گیا۔

    صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والا مریض ایم پاکس اور ایچ آئی وی کے ساتھ ساتھ ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی جیسے سنگین امراض میں بھی مبتلا تھا، جس کے باعث اس کی صحت کی حالت مسلسل بگڑتی رہی۔ ڈاکٹرز کے مطابق مریض کا مدافعتی نظام انتہائی کمزور ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکا۔حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں اب تک ایم پاکس کے باعث دو مریض جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایم پاکس سے پہلی ہلاکت دسمبر 2023 میں اسلام آباد میں رپورٹ ہوئی تھی، جس کے بعد ملک میں اس وائرس کے پھیلاؤ پر تشویش میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ جاں بحق مریض کی کوئی بیرونِ ملک سفر کی ہسٹری موجود نہیں تھی، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسے یہ مرض مقامی سطح پر لاحق ہوا۔ حکام کے مطابق یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں ایم پاکس کے پھیلاؤ کے واضح شواہد موجود ہیں۔محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں ایم پاکس کے 53 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے مریض شامل تھے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایم پاکس جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بروقت تشخیص، مؤثر نگرانی اور عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔

    حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر جلد پر غیر معمولی دانے، بخار، جسم میں درد یا دیگر علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

  • کم عمری کی شادی کو اگر رکن اسمبلی چیلنج کرتا ہے تو اس کی سزا کیا ہو گی؟ شرمیلا فاروقی

    کم عمری کی شادی کو اگر رکن اسمبلی چیلنج کرتا ہے تو اس کی سزا کیا ہو گی؟ شرمیلا فاروقی

    شرمیلا فاروقی نے مولانا فضل الرحمان کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    شرمیلا فاروقی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک کال دی گئی،کہ قانون پر دستخط ہوئے تو ملک گیر احتجاج ہو گا، اب قانون بن گیا،یہ بہت اہم ایشو ہے، جوائنٹ سیشن میں اس پر بات ہوئی، اس قانون پر بات ہو گی، ایک رکن قومی اسمبلی جو خود قانون ساز ہے اس کو چیلنج کرے تو اسکی سزا کیا ہے، آپ نے حلف لیا ہے کہ ایوان کو قانون کے مطابق چلانا ہے، ایک قانون پاس ہوتا ہے اور آپ ریاست کو للکارتے ہیں کہ کر لو جو کرنا ہے، کوئی اس پر سزا دینے والا ہے، یہ شرعی معاملہ نہیں ہے، اسلامی معاملہ نہیں ہے،کم عمری کی شادی کو اگر رکن قومی اسمبلی چیلنج کرتا ہے تو اس کی سزا کیا ہو گی؟

  • پاکستان ایئر فورس کی ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں شرکت،JF-17 بلاک تھری اور سپر مشاق کی نمائش

    پاکستان ایئر فورس کی ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں شرکت،JF-17 بلاک تھری اور سپر مشاق کی نمائش

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان ایئر فورس کا دستہ مملکتِ سعودی عرب میں منعقدہ ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں شرکت کر رہا ہے، جہاں جدید ترین JF-17 تھنڈر بلاک-III ملٹی رول فائٹر جیٹ اور سپر مشاق بیسک ٹرینر طیارہ نمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ورلڈ ڈیفنس شو عالمی سطح پر دفاع اور سیکیورٹی کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے، جہاں پی اے ایف کی شرکت پاکستان کو ایرو اسپیس جدت، آپریشنل مہارت اور قابلِ اعتماد دفاعی حل فراہم کرنے والے ملک کے طور پر اجاگر کرتی ہے JF-17 بلاکIII جدید ایویونکس، AESA ریڈار، بہتر الیکٹرانک وارفیئر سسٹم اور بی وی آر صلاحیتوں سے لیس 4.5 جنریشن فائٹر جیٹ ہے، جو جدید فضائی افواج کی ضروریات پوری کرتا ہے۔

    سپر مشاق طیارہ اپنی کم لاگت، آسان دیکھ بھال اور قابلِ اعتماد کارکردگی کے باعث دنیا بھر میں بنیادی فلائنگ ٹریننگ کا ایک کامیاب پلیٹ فارم تسلیم کیا جاتا ہے اور متعدد دوست ممالک اس کو استعمال کر رہے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پی اے ایف کی اس نمائش میں شرکت دفاعی تعاون کے فروغ، دفاعی برآمدات اور دوست ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاس ہے نمائش کے دوران عالمی وفود، دفاعی حکام اور عسکری صنعت کے نمائندوں کو تعاون، تربیت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے مواقع میسر آئیں گے۔