Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • پی ٹی آئی کی سکیورٹی فورسز کے خلاف ٹرولنگ والے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے لاتعلقی

    پی ٹی آئی کی سکیورٹی فورسز کے خلاف ٹرولنگ والے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے لاتعلقی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز کے خلاف ٹرولنگ اور توہین آمیز مہم میں ملوث افراد اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے واضح اور دوٹوک انداز میں لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

    دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر پارٹی میں کوئی ابہام نہیں اور دہشتگردی سے متعلق واقعات میں سکیورٹی فورسز کے شہدا پر تنقید کرنے والوں سے واضح طور پر لاتعلقی اختیار کی گئی ہے۔شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی پالیسی کے مطابق فوج ان کی اپنی ہے اور پاکستان اور اس کے وجود کیلئے بے حد اہم ہے، سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کا مذاق اُڑانے یا کمزور کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔تاہم پارٹی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ اس باضابطہ مؤقف کے باوجود پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنے ہی سوشل میڈیا ٹرولز سے بڑھتا ہوا خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔پارٹی کا سوشل میڈیا بیرون ملک سے چلایا جاتا ہے اور یہ پارٹی کے چیئرمین، سیکرٹری اطلاعات حتیٰ کہ سیاسی کمیٹی کے کنٹرول میں بھی نہیں ہے۔

    خیال رہے کہ 3 روز قبل بھارتی سرپرستی میں کالعدم بی ایل اے نے بلوچستان کے 8 اضلاع میں حملے کیے جنہیں سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے ناکام بنایا اور 3 روز کے دوران 177 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔

    گزشتہ روز خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے حملوں میں 17 سکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری بھی شہید ہوئے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا دہشتگردوں کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو گی، ریاست کی جانب سے دہشتگردوں کو بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

  • علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد،دوبارہ وارنٹ جاری

    علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد،دوبارہ وارنٹ جاری

    انسدادِ دہشت گردی عدالت نے علیمہ خانم کے خلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ احکامات تھانہ صادق آباد کے نومبر احتجاج کیس کی سماعت کے دوران جاری کیے گئے۔

    عدالت کے جج امجد علی شاہ نے علیمہ خانم کی جانب سے دائر کی گئی حاضری سے استثنیٰ (معافی) کی درخواست مسترد کر دی۔ سماعت کے دوران علیمہ خانم کے وکیل فیصل ملک نے ذاتی وجوہات کی بنا پر ملزمہ کی عدم حاضری کی درخواست کی، تاہم عدالت نے اس درخواست کو تسلیم نہیں کیا۔پراسیکیوٹر سید ظہیر شاہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ خانم دانستہ طور پر مقدمے کے ٹرائل میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سماعت پر تفتیشی افسران، گواہان اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوتے ہیں، مگر ملزمہ کی جانب سے مسلسل عدم حاضری عدالتی کارروائی میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے۔ پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ علیمہ خانم کی جانب سے عدالتی احکامات کی مسلسل عدم تعمیل کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

    عدالت نے پراسیکوشن کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے علیمہ خانم کی حاضری معافی کی درخواست خارج کر دی اور ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔اسی کے ساتھ عدالت نے علیمہ خانم کے دو ضامنوں کے بھی ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے ایس ایچ او تھانہ صادق آباد کو حکم دیا کہ دونوں ضامنوں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔مزید برآں، عدالت نے علیمہ خانم کے وارنٹِ گرفتاری پر عملدرآمد نہ کرانے پر ایس پی راول کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں وارنٹس کی فوری تعمیل کرانے کا حکم بھی دیا ہے۔

    عدالتی ریکارڈ کے مطابق تھانہ صادق آباد کے نومبر احتجاج کیس کی اب تک 42 سماعتیں ہو چکی ہیں، جن میں سے علیمہ خانم صرف 14 سماعتوں پر حاضر ہوئیں، جبکہ 28 سماعتوں پر غیر حاضر رہیں۔ کیس کی سماعت گزشتہ 120 دنوں سے جاری ہے، تاہم ملزمہ کی بار بار غیر حاضری کے باعث ٹرائل متاثر ہو رہا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور عدالتی احکامات کی عدم تعمیل کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ کیس کی آئندہ سماعت وارنٹِ گرفتاری کی تعمیل اور ضامنوں کی پیشی کے بعد مقرر کی جائے گی۔

  • ایمان مزاری سے ملاقات کا  معاملہ: شیریں مزاری اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں

    ایمان مزاری سے ملاقات کا معاملہ: شیریں مزاری اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں

    ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ سے جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر شیریں مزاری اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئیں، جہاں انہوں نے درخواست دائر کرنے کے لیے اپنی بائیومیٹرک بھی کروائی۔

    شیریں مزاری نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ کل بیٹی اور داماد سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گئی تھیں، تاہم ملاقات کا مقررہ دن ہونے کے باوجود انہیں اجازت نہیں دی گئی جیل قانون کے مطابق ملاقاتوں کے حوالے سے جو حق حاصل ہے، اسی بنیاد پر انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن فائل کی ہے۔

    درخواست میں شیریں مزاری نے اپیل کی کہ بنیادی استدعا یہی ہے کہ جیل قانون کے مطابق ملاقات کا جو حق ہے وہ فراہم کیا جائےوہ ایک ماں ہیں اور بیٹی سے ملنا چاہتی ہیں، اسی طرح داماد سے ملاقات کی خواہش رکھتی ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں روکا جا رہا ہے،انہوں نے متعلقہ حکام کو اپنے قوا نین کا حوالہ دیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان بنیادی انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کر چکا ہے آرٹیکل ون ذہنی اور جسمانی تشدد کی تشریح کرتا ہے، جس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے-

    شیریں مزاری کے مطابق نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ ملک کے اپنے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہےبین الاقوا می قوانین کے حوالے سے پاکستان کی ساکھ ہمیشہ اچھی رہی ہے اور ہم انڈس واٹر جیسے معاملات پر بھارت کو بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ خلاف ورزی نہیں کر سکتا،پاکستان شروع سے اپنے بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کرتا آ رہا ہے اور اگر پاکستان کی پوزیشن مضبوط رہی ہے تو اب اسے کیوں کمزور یا تباہ کیا جا رہا ہے۔

  • راؤ عبدالکریم کا آئی جی پنجاب کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    راؤ عبدالکریم کا آئی جی پنجاب کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کو تبدیل کر دیا گیا جب کہ ان کی جگہ راؤ عبدالکریم کو تعینات کردیا گیا،راؤ عبدالکریم کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان کے 24 ویں کامن سے ہے۔

    رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے راؤ عبدالکریم کی انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کے عہدے پر تعیناتی کا نوٹیفیکشن جاری کردیا، راؤ عبدالکریم کا شمار انتہائی پروفیشنل، منجھے ہوئے اور تجربہ کار بہترین افسران میں ہوتا ہے، راؤ عبدالکریم ان دنوں ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

    راؤ عبدالکریم نے 1996 میں بطور اے ایس پی پولیس سروس پاکستان جوائن کی، راؤ عبدالکریم نے اے ایس پی یو ٹی سکھر، ایس ڈی پی او سکھر سٹی، لطیف آباد حیدر آباد، چنیوٹ کے عہدوں پر فرائض سر انجام دیے،راؤ عبدالکریم نے بطور ایس پی گوجرانوالا، لاہور اور شیخوپورہ خدمات انجام دیں، راؤ عبدالکریم بطور ڈی پی او میانوالی، قصور اور جھنگ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں راؤ عبدالکریم بطور ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، کمانڈنٹ پی سی، ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب، آر پی او گوجرانوالا، ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، راؤ عبدالکریم کا تعلق نواب شاہ سے ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز آویزاں،فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تصاویر شامل

    مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز آویزاں،فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تصاویر شامل

    مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں یومِ یکجہتی کشمیر سے قبل مختلف علاقوں میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز سامنے آئے ہیں، جن میں کشمیری عوام کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، یہ پوسٹرز حریت پسند تنظیموں کی جانب سے آویزاں کیے گئے ہیں پوسٹرز میں بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ، آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی تصاویر شامل ہیں۔

    پوسٹرز میں Thank You Pakistan‘،’ A Bond of Blood and Belief ‘اور’ Pakistan supports Kashmir’s right to decide — Let the people choose ‘جیسے جملے شامل ہیں–

    پوسٹرز میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلسل عالمی سطح پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کا مقدمہ اجاگر کر رہا ہے اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کر رہا ہے، جس پر کشمیری عوام پاکستان کے شکر گزار ہیں،پوسٹرز کے ذریعے کشمیری عوام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بھارتی قبضے کے خلاف اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھیں گے۔ پوسٹرز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر دو قومی نظریے کے مطابق پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت نے اکتوبر 1947 میں اس کے ایک حصے پر غیر قانونی قبضہ کیا۔

    پوسٹرز کے ذریعے کشمیری عوام نے واضح کیا ہے کہ وہ بھارتی تسلط کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور آزادی کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انہیں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔

    یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو منایا جاتا ہے، یہ دن پہلی مرتبہ 5 فروری 1990 کو منایا گیا، جب پاکستان کی پوری سیاسی قیادت نے متفقہ طور پر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب ومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر کے شہریوں اور بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار ایک پر جوش اور پرتپاک انداز میں کیا۔

    پیغام میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے بہادر کشمیری اکیلے نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی عوام ان کے دکھ، درد اور جدوجہد کو محسوس کرتے ہیں اور ان کی آواز بن کر دنیا تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ پیغام میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کی گئی ہے،کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کی یہ قربانیاں آزادی کے عزم کو مزید مضبوط کر رہی ہیں، کشمیری عوام کی پاکستان سے محبت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ رشتہ مضبوط ہے اور کبھی کمزور نہیں ہو سکتا سبز ہلالی پرچم سے وابستہ امید آج بھی کشمیری عوام کے دلوں میں زندہ ہے، کشمیری دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہوں، ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں کشمیری عوام ہر حال میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر آزادی کی صبح دیکھے گا۔

  • فیض حمید کے بھائی نجف حمید کا فراڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

    فیض حمید کے بھائی نجف حمید کا فراڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

    ساق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید نے فراڈ کیس میں ضمانت بحالی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    نجف حمید نے ایف آئی اے مقدمے میں ضمانت منسوخی کا فیصلہ چیلنج کردیا، نجف حمید نے اسپیشل جج سینٹرل کا ضمانت منسوخی کا 24 جنوری کا فیصلہ چیلنج کیا،اسپیشل جج سینٹرل نے ایف آئی اے کی نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست منظور کی تھی۔

    درخواست میں ریاست، ایف آئی اے اور مدعی مقدمہ کو فریق بنایا گیا ہے نجف حمید نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ قانون پسند شہری ہوں، بدنیتی پر مبنی مقدمے میں گھسیٹا جارہا ہے، ضمانت منسوخی کا فیصلہ قانون کی نظر میں برقرار نہیں رہ سکتا، اسپیشل جج سینٹرل کا ضمانت منسوخی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، ضمانت قبل از گرفتاری کو بحال کیا جائے۔

  • ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    سائبر کرائم سمیت دیگر متعدد مقدمات میں نامزد معروف ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ نے اپنے نام سفری پابندی کی فہرست (ای سی ایل) سے نکلوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں باقاعدہ درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے نام غیر قانونی طور پر سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں، جس کے باعث انہیں بیرون ملک سفر میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور کسی بھی تفتیش سے فرار کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ان کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے۔

    رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی جانب سے یہ درخواستیں بیرسٹر راجہ قدیر جنجوعہ اور ایڈووکیٹ احد کھوکھر کے توسط سے دائر کی گئی ہیں۔ درخواستوں میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)، سیکریٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواستوں میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنا ایک غیر معمولی اقدام ہے، جو صرف انتہائی نوعیت کے معاملات میں کیا جانا چاہیے، جبکہ موجودہ حالات میں اس کی کوئی معقول قانونی وجہ موجود نہیں۔

  • وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد،وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

    جسٹس روزی خان نے کہا کوئٹہ 10کلومیٹرکاشہرہے ،اتنا بڑا آفس کے باوجود الیکشن کمیشن 10کلومیٹرکے علاقے کی حلقہ بندیاں نہیں کرسکتا،حلقہ بندیاں تودوہفتوں میں ہوسکتی،جسٹس عامرفاروق نےکہا کہ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ وفا نہیں کیا میں ہائیکورٹ سے سپریم کا جج بنااورپھرآئینی عدالت لیکن الیکشن نہ ہوئے،جسٹس روزی خان نے کہا کہ کیس کو 5 سال تک تو التوا میں نہیں رکھ سکتے،ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ ابھی تو اسلام آباد اور پنجاب میں کام کر رہے ہیں،نمائندہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قانون تبدیل کر دیا جاتا ہے،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ خدارا ایسے نہ کریں،

  • جرح کے نام پر گواہوں  کو ہراساں کرنا  ناقابل قبول ہے،سپریم کورٹ

    جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا ناقابل قبول ہے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرنا ناقابل قبول ہے۔

    سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جرح کا حق نہ تو لامحدود ہے اور نہ ہی بے لگام، بلکہ ٹرائل کورٹ کو غیر ضروری جرح کو محدود یا ختم کرنے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے، تاکہ عدالتی کارروائی کو منصفانہ اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

    سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں گواہوں کو غیر ضروری تضحیک اور دباؤ سے محفوظ رکھنے کی پابند ہیں، ٹرائل کورٹ نے مشاہدہ کیا تھا کہ کیس میں مزید جرح غیر ضروری، غیر متعلقہ اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے، جس کے بعد مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر دیا گیا تھا۔

    عدالت نے نشاندہی کی کہ لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کر دیا تھا یہ فیصلہ قانونی دائرہ اختیار کے اندر ر ہتے ہوئے کیا گیا گواہوں کو طویل جرح کے ذریعے تھکا کر غلطی پر مجبور کرنا انصاف کے منافی ہے ۔ عدالتی نظام ایسے طرزِ عمل کی اجازت نہیں دے سکتا عدالتی ریکارڈ کی درستگی کا ایک قوی قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کو سیکشن 151 سی پی سی کے تحت کارروائی کو منظم کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، جس کا استعمال اس کیس میں درست طور پر کیا گیا۔

    واضح رہے کہ یہ مقدمہ لاہور کے علاقے موہلنوال میں واقع 53 کنال 3 مرلہ اراضی سے متعلق تھا، جس میں مدعی بطور گواہ پیش ہوا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2 ماہ کے عرصے میں 7 سماعتوں کے دوران گواہ پر 30 صفحات پر مشتمل جرح کی گئی، جسے ٹرائل کورٹ نے غیر ضروری قرار دیا۔

    کیس میں سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے جاری کیا۔

  • نور مقدم قتل کیس : نظر ثانی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کےلیے ملتوی

    نور مقدم قتل کیس : نظر ثانی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کےلیے ملتوی

    سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی نظر ثانی اپیل پر سماعت ہوئی۔

    سپریم کورٹ نے نظر ثانی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی،عدالت نے وقت کی کمی کے باعث سماعت ملتوی کر دی، جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کرنا تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد میں سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والے مجرم ظاہر ذاکر جعفر نے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالت نے ملزم کی ذہنی حالت کا تعین نہیں کروایا، سپریم کورٹ سے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے اس متفرق درخواست پر فیصلہ نہیں دیا۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ سزائے موت دینے کے لیے ویڈیو ریکارڈنگ پر انحصار کیا گیا، ویڈیوز ٹرائل کے دوران درست ثابت بھی نہیں کی گئیں، ملزم کو ویڈیو ریکارڈنگز فراہم بھی نہیں کی گئیں وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کے دوران عدالت میں کبھی وہ ویڈیوز چلا کر بھی نہیں دیکھی گئیں، فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ فیصلے پر نظرثانی کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں، عدالت اپنے 20 مئی کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

    یاد رہے کہ مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلہ سنایا تھا جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ظاہر جعفر کے خلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی ہے، ریپ کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی گئی ہے، جب کہ اغوا کے مقدمے میں 10 سال قید کو کم کرکے ایک سال کر دیا گیا ہے، عدالت نے نور مقدم کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا تھاعدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ظاہر جعفر کے مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار نے جتنی سزا کاٹ لی، وہ کافی ہے، شریک ملزمان کو عدالت کا تحریری فیصلہ آنے کے بعد رہا کردیا جائے۔