Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • ملک میں بارش برسانے والا طاقتور سسٹم آج داخل ہونے کا امکان

    ملک میں بارش برسانے والا طاقتور سسٹم آج داخل ہونے کا امکان

    ملک میں برفباری اور بارش برسانے والا نیا طاقتور سسٹم آج داخل ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک اور سلسلہ آج ملک میں داخل ہو گا، جس سے آج رات سے بارشوں اور برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہو گا، نئے سسٹم کے تحت بلوچستان، گلگت بلتستان، کشمیر اور خیبر پختونخوا میں بارش اور برف باری متوقع ہےمری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بھی بارش اوربرفباری ہو سکتی ہے۔ 25 سے 26 جنوری کے دوران سندھ کے کئی علاقوں میں بھی بارش کا امکان ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان کے سرد علاقوں میں شدید سردی اور بارش کے باعث آٹھویں جماعت کے امتحانات ملتوی کر دیئے گئےمحکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے امتحانات ملتوی کرنے کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ڈائریکٹر تعلیمات بلوچستان کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر طلبا کی حفاظت اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے مڈل کے امتحانات مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،آٹھویں جماعت کے امتحانات اب 6 فروری سے شروع ہوں گے۔

    محکمہ تعلیم نے امتحانات کے لیے نظرثانی شدہ شیڈول بھی جاری کر دیا جبکہ ضلعی تعلیمی افسران (ڈی ای اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے امتحانی شیڈول سے متعلق طلبا اور والدین کو بروقت آگاہ کریں،موسمی صورتحال میں بہتری آنے تک طلبا کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ جبکہ امتحانات شفاف اور منظم انداز میں منعقد کیے جائیں گے۔

    جبکہ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے سردی کی شدت کے سبب اسکول صبح 9 بجے شروع کرنے کے فیصلے میں توسیع کردی، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی نے نوٹی فکیشن جاری کردیا نوٹی فکیشن کے مطابق اسکول 4 فروری تک صبح 9 بجے کھلیں گے، فیصلے کا اطلاق سرکاری و نجی اسکولز پر یکساں ہوگا قبل ازیں 10 جنوری کو جاری کردہ ایک نوٹی فکیشن کے مطابق اوقات کار کی یہ تبدیلی 26 جنوری تک کی گئی تھی جس میں اب توسیع کی گئی ہے۔

    دریں اثناء چئیرمین آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن حیدر علی نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ موسم سے تحفظ اور تعلیمی عمل کا تسلسل وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی دانشمندانہ حکمت عملی ہے تاہم انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسٹیرنگ کمیٹی یا اس کی سب کمیٹی کا اجلاس فوری بلا کر 2026 کا تعلیمی کیلنڈر طے کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جماعت ہشتم تک کے امتحانات، بورڈز ایگزامینیشنز، ان کے نتائج کا شیڈول، نئے داخلے، تعلیمی سال کے آغاز اور تعطیلات سمیت دیگر اہم معاملات کو حتمی شکل دینا فوری ضرورت ہے جبکہ یکساں امتحانی نصاب اور پرچوں کی اسپیسیفیکیشن کا جلدسےجلد اجراء بورڈز، اساتذہ اور طالبعلموں کی تیاری کے لئے ضروری ہے۔

  • اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں اضافہ

    اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں اضافہ

    اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے –

    کم سے کم ای اسٹامپ پیپر کی مالیت100روپے سے بڑھا کر 300روپے ،طلاق اسٹامپ پیپرکی قیمت100روپے سے بڑھا کر 1000روپے جبکہ بچوں کے نئے اسکولز میں داخلوں اور جاب کیلئے ڈومیسائل اسٹامپ پیپر فیس100روپے سے بڑھا کر 500روپے کر دی گئی ہے۔

    اسی طرح بجلی، سوئی گیس اورپانی کے نئے کنکشن اسٹامپ فیس بھی 100روپے کی بجائے اب1000 روپے ہوگی پراپرٹی سیلز ایگریمنٹ ای اسٹامپ پیپر کی فیس1200روپے سے بڑھا کر 3ہزار روپے کردی گئی ہےپراپرٹی کے علاوہ کسی بھی معاہدے کیلئے استعمال ہونے والے ای اسٹامپ پیپرکی فیس100روپے سے بڑھا کر 500روپے کردی گئی ہے۔

    5 لاکھ روپے تک معاہدے کیلئے ای اسٹامپ پیپرکی فیس1200 سے بڑھا کر 3ہزار جبکہ 5لاکھ روپے سے 10لاکھ روپے تک معاہدے کی فیس 6 ہزار،ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کیلئے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپرکی فیس میں20ہزار روپے اضافہ کیا گیا،پاور آف اٹارنی کے ای اسٹامپ پیپر فیس 1500سے 1800روپے کردی گئی۔ اشٹام پیپرزکے لئے سائل کے نام پر موبائل فون کی سم بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

  • ٹی 20ورلڈ کپ:پاکستانی حکومت جو فیصلہ کرے گی ، اس پر عمل کریں گے

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا ورلڈ کپ میں شرکت کے معاملے پرکہنا ہے کہ پاکستانی حکومت جو فیصلہ کرے گی من و عن عمل کریں گے-

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات کی ،محسن نقوی نے آئی سی سی ٹی 20ورلڈ کپ سے متعلق پی سی بی کے مؤقف پر کھلاڑیوں کو اعتماد میں لیاکھلاڑیوں نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے اصولی مؤقف کو سراہا اور مکمل حمایت کی۔

    محسن نقوی نے پاک آسٹریلیا ٹی 20سیریز کیلئے قومی کرکٹ ٹیم کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ ورلڈکپ میں بھارت میں نہ کھیلنے کا بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا مؤقف اصولوں پر مبنی ہے پی سی بی آئی سی سی کے دوہرے معیار کو مسترد کرتا ہے،ہم نے کرکٹ کے سنہری اصولوں کو مدنظر رکھ کر بنگلہ دیش کی حمایت کی، پاکستانی حکومت جو فیصلہ کرے گی ، اس پر من و عن عمل کریں گے،سیاست زدہ کرکٹ کسی کے مفاد میں نہیں، سب کو اصولوں پر چلنا چاہیے،ہمارے کھلاڑی با صلاحیت اور ہر لحاظ سے مقابلہ کرنا جانتے ہیں،کسی بھی میدان میں کامیابی ٹیم ورک سے حاصل ہوتی ہے ۔

  • پی ایس ایل سیزن 11: پلیئر آکشن کیلئے کھلاڑیوں کی بیس پرائسز کا باضابطہ اعلان کردیا گیا

    پی ایس ایل سیزن 11: پلیئر آکشن کیلئے کھلاڑیوں کی بیس پرائسز کا باضابطہ اعلان کردیا گیا

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کے پلیئر آکشن کے لیے کھلاڑیوں کی بیس پرائسز کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ہے۔

    پی ایس ایل الیون کے پلیئر آکشن سے متعلق تفصیلی ورکشاپ میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے خصوصی شرکت کی،پی ایس ایل سیزن 11 کی پلیئر آکشن 11 فروری کو منعقد ہوگی، جس میں کھلاڑیوں کی بیس پرائس اور بولی پاکستانی روپے میں لگائی جائے گی۔

    اعلامیے کے مطابق ٹاپ کیٹیگری کے کھلاڑیوں کی بیس پرائس 4 کروڑ 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، دوسری کیٹیگری کی بیس پرائس 2 کروڑ 20 لاکھ روپے جبکہ تیسری کیٹیگری کی بیس پرائس 1 کروڑ 10 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ اسی طرح چوتھی کیٹیگری کے کھلاڑیوں کی بیس پرائس 60 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

    بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 3 دہشتگرد ہلاک

    ہر فرنچائز کے لیے کم از کم 16 اور زیادہ سے زیادہ 20 کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ تشکیل دینا لازم ہوگا، اسکواڈ میں 5 سے 7 غیر ملکی کھلاڑی شامل کیے جا سکیں گے، جبکہ پلیئنگ الیون میں کم از کم 3 اور زیادہ سے زیادہ 4 غیر ملکی کھلاڑیوں کی شمولیت لازمی قرار دی گئی ہے ہر ٹیم کے لیے 2 انڈر 23 ان کیپڈ کھلاڑی اسکواڈ میں شامل کرنا ضروری ہوگا، جبکہ انڈر 23 کھلاڑی کی پلیئنگ الیون میں شمولیت بھی لازمی قرار دی گئی ہے، آکشن کے ذریعے منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کو 2 سالہ معاہدہ دیا جائے گا، پی سی بی نے فرنچائزز کو ایک غیر ملکی کھلاڑی براہ راست سائن کرنے کا اختیار بھی دے دیا ہے، جس سے ٹیموں کو اپنے اسکواڈ مزید مضبوط بنانے میں سہولت حاصل ہوگی۔

    ورکشاپ میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اجلاس میں گفتگو میں کہا کہ پلیئر آکشن ماڈل نہ صرف کھلاڑیوں کیلئے بہتر مالی مواقع فراہم کرے گا بلکہ لیگ کو زیادہ مسابقتی اور شفاف بھی بنائے گا۔

    سانحہ گل پلازہ: یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فارنزک کہاں ہورہا ہے؟فاروق ستار

    پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر نے آکشن سسٹم کے لیگ پر مرتب ہونے والے مثبت اور دور رس اثرات کو اجاگر کیا، انہوں نے موجودہ مرحلے کو پی ایس ایل کا نیا دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ آکشن سسٹم کھلاڑیوں کی بھرتی کے عمل کو جدید بناتا ہے، شفافیت اور برابری کو فروغ دیتا ہے اور لیگ کی مجموعی کشش میں اضافہ کرتا ہےورکشاپ کے دوران ملنے والا فیڈبیک آئندہ ماہ ہونے والے آکشن کو کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، جس سے لیگ میں مزید جوش و خروش دیکھنے میں آئے گا۔

  • سوہنا پنجاب پروجیکٹس کی پیش رفت کا جائزہ, مریم نواز

    سوہنا پنجاب پروجیکٹس کی پیش رفت کا جائزہ, مریم نواز

    ‎وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں ملتان، ڈیرہ غازی خان، بھکر، وہاڑی، وزیرآباد، گوجرانوالا، شیخوپورہ اور قصور کے ڈپٹی کمشنرز نے پنجاب ڈیولپمنٹ پلان پر پیش رفت کے بارے میں تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔
    ‎اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کے 51 شہروں میں سوہنا پنجاب پروجیکٹس پر کام شروع کر دیا گیا ہے، اور وزیراعلیٰ نے جون 2026 تک پروجیکٹس مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے۔
    ‎اس موقع پر بتایا گیا کہ "مریم نواز کا سوہنا پنجاب” پروگرام کے تحت 100 کلومیٹر طویل سڑکیں اور گلیاں پختہ کی جائیں گی، ساتھ ہی 5 ہزار 887 کلومیٹر طویل سیوریج اور 181 ڈرینج لائنیں بھی تعمیر کی جائیں گی۔ اجلاس میں محکمہ جات کی کارکردگی اور وسائل کے مؤثر استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • افغان حکام کے ضابطے جدیدجاہلیت کا دور ہے،پاکستان علما کونسل

    افغان حکام کے ضابطے جدیدجاہلیت کا دور ہے،پاکستان علما کونسل

    پاکستان علما کونسل نے افغان حکومت کے نئے فوجداری ضابطے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان علما کونسل نے افغان حکومت کے احکامات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ شریعت اسلامیہ کےنام پرمعاشرےکوغلام اور آزاد میں تقسیم کرنا قابل تشویش ہے، افغان حکومت کےاحکامات قرآن و سنت کےاحکامات کےمطابق نہیں ہیں اور ہندواتہ تعلیمات کے مشابہ ہے، افغان طالبان حکومت اپنے آپ کوشرعی اسلامی حکومت قراردیتی ہے، اسے ان امورپراپناموقف فوری طورپر دنیا کے سامنےلانا چاہیے، عہد جاہلیت کےقوانین اور رسومات کو دوبارہ اسلام کےنام پر نافذ نہیں کرناچاہیے۔

    پاکستان علماکونسل کے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ جو انداز اختیارکیاگیاہےاس سےانسانیت کی توہین اورتذلیل سامنے آتی ہے، اس طرح کےاحکامات کوشرعی نہیں، جدیدجاہلیت کا دور ہی کہا جاسکتا ہے۔

  • بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا قابل سزا جرم قرار

    بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا قابل سزا جرم قرار

    ‎پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026 منظور کر لیا گیا، جس کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر ہوگا۔
    ‎قانون کے تحت بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا، یا مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا قابل سزا جرم ہوگا۔ بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم میں شامل ہوگا۔
    ‎جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزا 3 سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید 6 ماہ قیدبھی عائد کی جا سکتی ہے۔ قانون میں جنسی استحصال کے ساتھ معاشی استحصال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

  • متنازع ٹویٹ کیس : ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا،تحریری حکمنامہ جاری

    متنازع ٹویٹ کیس : ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا،تحریری حکمنامہ جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے متنازع ٹویٹ کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف سزا کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی جانب سے 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا،عدالت نے مختلف دفعات میں مجموعی طور پر دونوں ملزمان کو 17، 17 برس قید کی سزا سنائی۔تحریری فیصلے کے مطابق 22 اگست 2025 کو NCCIA نے PECA Act کی دفعات 9، 10، 11 اور 26A کی متواتر خلاف ورزی پر ملزمان ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف FIR 234/25 درج کی۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ سنگین الزامات کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا اور محض شاملِ تفتیش کیا گیا، جو کہ آغازِ مقدمہ ہی پر غیر معمولی رعایت شمار ہوتی ہے۔بعد ازاں 29 اگست 2025 کو ایمان مزاری نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی، جسے فوری طور پر منظور کر لیا گیا۔ 5 ستمبر کو وکیل کی عدم موجودگی کے جواز پر ضمانت کی سماعت مؤخر کی گئی، اور 11 ستمبر کو درجن بھر وکلا کی موجودگی میں دونوں ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری بھی منظور کر لی گئی۔ اس فیصلے کے بعد ملزمان کی جانب سے کیس کو غیر سنجیدگی سے لینے کے بیانات اور میڈیا پر عدالتی کارروائی کی تضحیک کا سلسلہ جاری رہا۔

    13 ستمبر کو استغاثہ نے چالان جمع کرایا اور کیس 17 ستمبر کو دوبارہ جج افضل مجوکہ کو مارک ہوا۔ عدالت کے متعدد طلب ناموں کے باوجود ملزمان 20 اور22 ستمبر کو پیش نہ ہوئے، جس کے نتیجے میں ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہوئے۔ 24 ستمبر کو ملزمان پیش ہوئے، اپنے وکلا تبدیل کیے، اور عدالت نے وارنٹ منسوخ کر دیے، حالانکہ اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ناقابلِ ضمانت وارنٹ کے اجراء کے بعد ضمانت خود بخود منسوخ تصور ہوتی ہے۔مورخہ 30 ستمبر کو فردِ جرم کے لیے کیس تین مرتبہ کال ہوا مگر ملزمان پیش نہ ہوئے۔ وکیل کے ذریعے فردِ جرم پڑھ کر سنائی گئی، لیکن ملزمان کی عدم پیشی برقرار رہی۔ بعد ازاں وکیل نے وکالت نامہ واپس لے لیا اور عدالت نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے۔1 اکتوبر کو نئے وکیل قیصر امام پیش ہوئے، جن کی درخواست پر وارنٹ منسوخ کیے گئے اور ناقابلِ ضمانت ضمانت بھی بحال کر دی گئی۔ ملزمان نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی، جو انہیں فراہم کی گئی۔ 7 اکتوبر، 11 اکتوبر، 13 اکتوبر، 16 اکتوبر، 20 اکتوبر اور 24 اکتوبر کو بھی ملزمان نے مختلف بنیادوں پر التوا کی درخواستیں دیں، کبھی وکیل کی عدم دستیابی، کبھی میعاد درکار ہونے کے نام پر، اور کبھی عدالتی احکامات کو چیلنج کرنے کے جواز پر۔ عدالت نے ہر موقع پر رعایت اور مہلت فراہم کی۔مورخہ 29 اکتوبر کو عدالت نے دن میں متعدد مرتبہ کیس کال کیا، مگر ملزمان بارہا غیر حاضر رہے۔ نتیجتاً ہادی علی چٹھہ کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔مورخہ 30 اکتوبر کو ملزمان پر دوبارہ فردِ جرم عائد کی گئی۔ ایمان مزاری کے وکیل قیصر امام اور سٹیٹ کونسل نے ملزمان کے سامنے ہی فردِ جرم کا جواب دیا اور وارنٹ منسوخی کی درخواست پیش کی۔

    اس موقع پر ہادی علی چٹھہ نے عدالت میں غیر مہذب طرزِ عمل اختیار کیا، تاہم وکیل کی معذرت پر عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وارنٹ منسوخ کر دیے اور مچلکے بحال کر دیے۔ عدالت نے استغاثہ کو اگلی تاریخ پر گواہ دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت دی۔مورخہ 5 نومبر 2025 کی سماعت کے دوران ملزمان نے عدالت کے خلاف غیر شائستہ رویہ اپنایا اور مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ انہوں نے عدالت کے خلاف MIT کو درخواست دی ہے، اس لیے عدالت سماعت آگے نہ بڑھائے۔ بدتمیزی کے باعث سماعت ملتوی کرنا پڑی۔ بعد ازاں ملزمان نے شہادت ریکارڈ ہونے کے دوران دوبارہ ہنگامہ کھڑا کیا، حتیٰ کہ اپنے وکیلوں سے بھی بدسلوکی کی اور عدالت سے فرار ہو گئے، جس پر دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔ وکیل قیصر امام نے اس صورتحال کے باعث وکالت سے معذرت کر لی۔

    6 نومبر کو ملزمان دوبارہ پیش نہ ہوئے، مگر بعد ازاں 12 بجے کے بعد حاضر ہو کر وارنٹ منسوخی کی درخواست جمع کرائی اور نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔ عدالت نے ایک بار پھر وارنٹ منسوخ کر دیے اور مہلت عطا کی۔مورخہ 8 نومبر، 14 نومبر اور 17 نومبر 2025 کی سماعتوں میں بھی ملزمان مسلسل غیر حاضر رہے، کبھی وکیل کی تبدیلی، کبھی ریاستی وکیل پر اعتراضات، اور کبھی “کچھ دیر میں پہنچنے” کے جواز پر سماعت ملتوی کرواتے رہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سٹیٹ ڈیفنس کونسل کی تبدیلی ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹی کے اختیار میں ہے اور اس فیصلے کو ہائی کورٹ ہی چیلنج کر سکتی ہے۔ ملزمان کو متعدد بار وکیل مقرر کرنے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔اس تمام عرصے میں عدالت نے غیر معمولی تحمل اور نرمی کا مظاہرہ کیا، جو کسی عام شہری کو میسر نہیں ہوتی، مگر اس کے باوجود ملزمان نے التوا، غیر حاضری، وکیل بدلنے, ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مختلف ریلیف اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کو معمول بنا کر ٹرائل کے عمل میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کیں۔ مورخہ 19 نومبر 2025 کو دونوں ملزمان نے ایک بار پھر عدالت میں ٹرائل کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ ملزمہ ایمان زینب مزاری کی جانب سے ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دوپہر کے بعد جمع کرائی گئی، جبکہ ملزم ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہو کر شفاف ٹرائل کے عمل میں مداخلت کرتا رہا۔عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور ملزم کے نامناسب طرزِ عمل کے باوجود کسی قسم کی تعزیری کارروائی عمل میں نہیں لائی۔

    ایمان زینب مزاری کی ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی گئی اور استغاثہ کے گواہان کی شہادت ریاستی کونسل کی موجودگی میں ریکارڈ کی گئی۔ملزم ہادی علی چٹھہ نے نہ صرف کارروائی میں مداخلت کی بلکہ اپنی اہلیہ کی وکیل کو بھی عدالت کے احاطے سے نکل جانے پر مجبور کیا۔اس کے بعد ملزمان ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ پہنچ گئے جہاں دونوں عدالتوں نے غیر معمولی ریلیف دیتے ہوئے دوبارہ شہادتوں کو ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔اس مقدمہ میں دونوں ملزمان کے 8 وکلا کے وکالت نامے عدالت میں جمع ہیں لیکن ہادی علی چٹھہ نے کراس ایگزیمینیشن خود کی۔ جب آخری گواہ رہ گیا تو دوبارہ ملزمان اپنی پرانی حرکتوں پہ آ گئے اور عدالت کی کاروائی میں رخنے ڈالنے کا آغاز کیا۔ ایمان مزاری طبیعت خرابی کے باعث استثنیٰ مانگتی رہی جو عدالت نے بغیر کسی میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے دو دن تو منظور کی تیسرے دن کاروائی کا حکم دیا تو دونوں ملزمان پھر مفرور ہو گئے جس پر عدالت نے وارنٹ جاری کئے اور ضمانت کینسل کر دی۔

    اس پر دوبارہ 20 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر معمولی ریلیف دیتے ہوۓ دونوں ملزمان کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیا اور 3 دن میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا۔ 22 اگست سے پانچ مہینے گزر چکے ہیں۔ عدالتی کاروائی 4 مہینے سے جاری ہے۔ اس میں اب تک 44 دن عدالتی سماعتیں اور پیشیاں ہوئی ہیں۔ ایک بیانیا بنایا گیا کہ ایمان کا کیس جج مجوکہ دن میں بار بار کال کرتے ہیں جو کہ نارمل نہیں۔ بلکل صحیح بات ہے, کیونکہ ملزمان عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوتے۔ عدالت صبح سے آوازیں لگانا شروع کرتی ہے اور کبھی دونوں غائب , کبھی ایک حاضر دوسرا غائب, لیکن عدالت صبر سے ان کی چالاکیاں دیکھنے کے باوجود انتظار کرتی ہے کہ دونوں ملزمان پورے ہوں تو کاروائی کا آغاز کیا جائے۔ یہ سہولت پاکستان میں اور ملزمان کو میسر نہیں۔ لیکن 5 گواہان پر جرح مختلف بہانوں کے زریعے التوا میں ڈالی جا رہی ہے۔ کس چیز کا ڈر ہے۔ جب ٹوئیٹس کی ہیں تو ان کا دفاع کریں۔ ایمان مزاری کی ٹوئیٹس دہشتگرد تنظیموںBLA وغیرہ اور proscribed persons جیسے کہ مہرنگ بلوچ کے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے کے علاوہ لسانی تفریق کو نمایاں کرتی ہیں ۔ ان کی ٹوئیٹس میں ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹ پہ مبنی بیانیہ ہوتا ہے جو کہ PECA کے تحت جرم ہے۔ دونوں ملزمان کا مجموعی رویہ واضح طور پر دانستہ، ارادی اور مسلسل کوششوں پر مبنی ہے، جن کا مقصد ٹرائل کے عمل کو متاثر کرنا، روکنا اور عدالت کی کارروائی میں خلل ڈالنا ہے۔ملزمان نے عدالت کے وقار کو مجروح کیا، قانونی عمل میں دانستہ طور پر رکاوٹ ڈالی اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مسلسل سبوتاژ کیا۔

  • پاکستانی کرکٹرز سے فراڈ، کھلاڑیوں اور کمپنی کے مالک کا ردعمل آ گیا

    پاکستانی کرکٹرز سے فراڈ، کھلاڑیوں اور کمپنی کے مالک کا ردعمل آ گیا

    پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ مبینہ فراڈ کی خبروں پر کھلاڑیوں اور کمپنی کے مالک کا ردعمل سامنے آ گیا ہے۔

    پاکستان کے سابق اور موجودہ کرکٹرز کے ساتھ مبینہ فراڈ کی خبروں پر کھلاڑیوں نے کہا کہ ہم نے کمپنی میں انویسٹمنٹ کی تھی ہمارے ساتھ کوئی فراڈ نہیں ہوا، کمپنی ہم سے رابطے میں ہے، تمام پیمنٹ مارچ تک کلیئر کرنے کا کہا گیا ہے، صرف 2 چیک باؤنس ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب انویسٹمنٹ کرنے والی کمپنی کے مالک نے اپنے ردعمل میں کہا کہ کھلاڑیوں کی 2023 سے میرے ساتھ انویسٹمنٹ ہے، میرا کھلاڑیوں کے ساتھ مکمل تحریری معاہدہ موجود ہے تمام کھلاڑیوں کے پاس میری کمپنی کے گارنٹی چیک بھی موجود ہیں، تمام الزامات کی تردید کرتا ہوں،میں کبھی امریکا نہیں گیا نہ ہی میرے پاس امریکا کا ویزا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں دبئی میں ہوں اور تمام کھلاڑیوں سے رابطے میں ہوں، انہوں نے کہا کہ پہلی بار ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں، چند دنوں میں تمام ادائیگیاں کلیئر کر دی جائیں گی،میں پاکستانی ہوں اور میرا خاندان پاکستان میں ہے، کھلاڑیوں کے علاوہ میرے پاس مزید انویسٹرز بھی ہیں۔

  • گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں اور برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی سامنے آ گئی۔

    خیبرپختونخوا میں کل اتوار رات سے منگل کے روز تک مزید بارش اور بالائی اضلاع میں برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہےمحکمہ موسمیات کے مطابق 25 سے 27 جنوری تک مغربی ہواؤں کا نئے سلسلے کی توقع ہے، پی ڈی ایم اے نے چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان میں شدید بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے، بالائی علاقوں میں چند مقامات پر شدید برفباری کی توقع ہے نشیبی علاقوں میں ہری پور، پشاور، مردان، نوشہرہ اور کوہاٹ میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، بارشوں اور برفباری کے با عث بالائی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ ہے مری، گلیات اوردیگر پہاڑی علاقوں میں برفباری کےساتھ شدید بارش کا امکا ن ہے،لاہور،سرگودھا،گجرانوالہ،ملتان،فیصل آباد،ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژن میں بھی بارش ہونے کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں و برفباری کے دوران مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جاں بحق افراد میں 7 بچے، ایک مرد، ایک خاتون جبکہ زخمیوں میں ایک بچہ شامل ہے۔

    دوسری جانب دوسری جانب نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے 29 جنوری تک ایڈوائزری جاری کر دی ہے، کہا گیا ہے کہ مغربی ہوائیں بالائی و شمالی علاقوں پر اثرانداز ہوں گی، اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان ہے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری کی توقع ہے، خیبرپختونخوا کے شمالی اضلاع میں برفباری کا امکان ہے، بلوچستان کے بالائی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کا خدشہ ہے۔

    ایمرجنسی آپریشن سینٹر کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید سردی کی لہر کا امکان ہے، عوام برفباری اور دھند میں سفر سے گریز کریں،نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے مشینری اور رسپانس ٹیموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، حفاظتی تدابیر کیلئے این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے رہنمائی لینے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔