Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • پاکستان اور آئی سی آر سی کے درمیان تعاون کو وسعت دینے پر اتفاقِ رائے

    پاکستان اور آئی سی آر سی کے درمیان تعاون کو وسعت دینے پر اتفاقِ رائے

    نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ڈیووس میں بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر یعنی آئی سی آر سی کی صدر مرجانا اسپلجاریچ ایگر سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران پاکستان اور آئی سی آر سی کے مابین مختلف شعبوں میں جاری تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ باہمی دلچسپی کے امور پر تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔

    وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے انسانی ہمدردی کے شعبے میں آئی سی آر سی کے کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان کی جانب سے ادارے کے ساتھ قریبی اور مؤثر شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ اس موقع پر دونوں فریقین نے مستقبل میں تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

    یہ ملاقات عالمی سطح پر درپیش انسانی اور معاشی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان اور آئی سی آر سی کے مابین روابط کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

  • ‎ہائیکورٹ کے باہر جھگڑے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانتیں خارج

    ‎ہائیکورٹ کے باہر جھگڑے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانتیں خارج

    ‎انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے ہائیکورٹ کے باہر لڑائی جھگڑے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
    ‎کیس کی سماعت ڈیوٹی جج طاہر عباس سپرا نے کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے پیشگی ضمانت کے لیے درخواستیں دائر کر رکھی تھیں، تاہم دونوں ملزمان سماعت کے موقع پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
    ‎عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواستیں خارج کرتے ہوئے حکم جاری کیا۔ کیس ہائیکورٹ کے باہر پیش آنے والے مبینہ جھگڑے سے متعلق ہے، جس پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

  • ورلڈ اکنامک فورم، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    ورلڈ اکنامک فورم، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    ڈیووس: ورلڈ اکنامک فورم میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں شریک ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی و خوشگوار ملاقاتیں ہوئیں،فورم میں شریک رہنماؤں سے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی غیر رسمی ملاقاتوں کے دوران مسکراہٹوں کے تبادلے اور گرمجوشی دیکھنے میں آئی۔

    وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، امریکا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آلسعود سے ملاقاتیں ہوئیں،وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی اقتصادی فورم میں خصوصی خطاب میں بھی شریک تھے۔

  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں  پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی پر بحث

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی پر بحث

    چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا ہے کہ ماضی میں اسلام آباد کو سرسبز بنانے کے لیے بغیر منصوبہ بندی کے پیپر ملبری کے درخت لگائے گئے، جس کے نتیجے میں پولن الرجی میں اضافہ ہوا اور متعدد اموات بھی ہوئیں۔

    سینیٹرشیری رحمان کی زیرصدارت اجلاس میں اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی اوراس سے جڑے ماحولیاتی نقصان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، شکرپڑیاں، پارک روڈ، ایف 9 پارک اور ایچ 8 ایکسپریس وے پر درختوں کی کٹائی کے معاملات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اسموگ، گاڑیوں کے اخراج اور ماحولیاتی منصوبوں پر متعلقہ اداروں کی بریفنگ بھی دی گئی-

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے واضح کیا کہ پیپر ملبری کے علاوہ کوئی بھی درخت نہیں کاٹا گیا، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شکایت یا اعتراض ہے تو کسی بھی ادارے سے تحقیقات کرائی جا سکتی ہیں،’ہم ہر وقت حاضر ہیں، ایک درخت کاٹنے کی صورت میں اس کی جگہ 3 سے زائد درخت لگائے گئے ہیں۔‘

    چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ ماضی میں اسلام آباد کو سرسبز بنانے کے لیے بغیر منصوبہ بندی کے پیپر ملبری کے درخت لگائے گئے، جس کے نتیجے میں پولن الرجی میں اضافہ ہوا اور متعدد اموات بھی ہوئیں،امریکا اور آسٹریلیا میں بھی انہی وجوہات کی بنا پر پیپرملبری کے درخت ہٹائے گئے۔

    چیئرپرسن کمیٹی شیری رحمان نے کہا کہ درختوں کی کٹائی سے قبل عوام اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لینا ضروری ہے کیونکہ اسلام آباد کی خوبصورتی اور ماحول کا تحفظ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہےدرختوں کے ساتھ پانی کے تحفظ پر بھی پالیسی بنائی جائے اور اگرڈیم بن سکتا ہے تو موجودہ پانی کو صاف کرنے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

    شیری رحمان نے پیپر ملبری کی کٹائی سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پہلے عوام کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے تھا،وزیر مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے بتایا کہ اسلام آباد گزشتہ 2 دہائیوں سے شدید پولن بحران کا شکار ہے 2022 میں پولن کاؤنٹ 82 ہزار فی کیوبک میٹر تک پہنچ گیا تھا، جس کا 94 فیصد سبب پیپر ملبری کے درخت ہیں، مارچ اور اپریل میں پولن سیزن عروج پر ہوتا ہے پیپر ملبری کی کٹائی سے سانس کی الرجی میں 40 فیصد سے زائد کمی آئے گی۔

    وزیر مملکت برائے صحت نے اجلاس میں پولن مینجمنٹ و ایکولوجیکل ریسٹوریشن انیشی ایٹو 2024 پر بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ وزارت صحت اور سی ڈی اے کی سربراہی میں شروع کیا گیا تھا، پیپر ملبری کے خاتمے کے لیے 3 نکاتی طریقہ کار اپنایا گیا ہے؛ درختوں کی کٹائی، جڑوں کا مکمل خاتمہ، اور مٹی کی دوبارہ بھرائی۔

    مختار بھرتھ کے مطابق اب تک 29,115 پیپر ملبری کے درخت ہٹائے جاچکے ہیں، جن میں ایف 9 پارک سے 12,800 اور شکرپڑیاں سے 8,700 درخت شامل ہیں، اسی طرح مختلف سیکٹرز اور کوریڈورز میں بھی کارروائی کی گئی ہے۔

    کمیٹی اجلاس میں نیلوفر قاضی نے کہا کہ اگر مقصد الرجی کنٹرول تھا تو ماہر ماحولیات سے مشاورت ضروری تھی، ماہر ماحولیات سید رضوان نے کہا کہ پیپر ملبری کے درخت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جبکہ مادہ درخت نہیں، ان کے مطابق تمام درخت کاٹنے کے بجائے صرف زیادہ خطرناک درختوں کو ہٹایا جانا چاہیے تھا، جڑیں اکھاڑنے سے مٹی کے کٹاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور درخت مرحلہ وار ختم کیے جانے چاہییں تھے۔

    چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے مؤقف اختیار کیا کہ ترقیاتی منصوبوں سے اسلام آباد کے گرین کور کو نقصان پہنچنے کا تاثر درست نہیں، سی ڈی اے نے ڈیزائنز میں تبدیلیاں کر کے درخت بچانے اور پیوندکاری پر توجہ دی ہے، جبکہ کئی جگہوں پر درختوں کا کور دگنا بھی کیا گیاہر ایک درخت کے بدلے 3 درخت لگانے کا عزم ہے، ایف 9 پارک میں نئے کرکٹ گراؤنڈ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پہلے سے گراؤنڈ موجود ہے اور صرف بیٹھنے کی جگہ بنائی جا رہی ہے۔

  • اسلام آباد میں سرکاری اراضی کے استعمال کی مشروط اجازت

    اسلام آباد میں سرکاری اراضی کے استعمال کی مشروط اجازت

    وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے پوش سیکٹر میں واقع 2 گھروں کے درمیان سرکاری اراضی کے استعمال کے تنازع پر فیصلہ سنادیا۔

    عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل نمٹاتے ہوئے گھروں کو ملحقہ سرکاری اراضی کو بطور راستہ استعمال کی مشروط اجازت د ے دی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے گھروں کے ساتھ سرکاری اراضی کے استعمال کو درست قرار دیا تھا، کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے کی۔

    سی ڈی اے کے وکیل کے مطابق، درخواست گزار نے اراضی استعمال کرنے اور ضرورت پڑنے پر اسے واپس کرنے کا بیان حلفی دے رکھا ہے، عدا لت نے بھی مشروط اجازت کی منظوری دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صرف متعلقہ کیس کی بات زیر غور آئے۔

    سماعت کے دوران وکیل فیصل چوہدری نے حکومت کے آپریشنز اور کچی آبادیوں کی ہٹائی جانے والی اراضی کا ذکر کیا،تاہم جسٹس عامر فاروق نے انہیں ہدایت کی کہ وہ صرف اپنے کیس کی تفصیلات پر بات کریں،وکیل فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق کسی کو ملحقہ سرکاری اراضی کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    ان کا مؤقف تھا کہ سی ڈی اے کے پاس بیان حلفی پر اجازت دینے کی قانونی اتھارٹی نہیں ہے،عدالت نے اس معاملے میں مشروط اجازت دیتے ہوئے ممکنہ قانونی اثرات پر غور کے لیے ہدایات بھی جاری کیں۔

  • صدرِ مملکت نے ہائیکورٹس ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی

    صدرِ مملکت نے ہائیکورٹس ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ہائیکورٹس ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی۔

    صدر آصف علی زرداری نے سندھ، لاہور اور پشاور ہائیکورٹس کے ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دی، صدرِ کیجانب سے جوڈ یشل کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں منظوری دی گئی،صدر مملکت آصف علی زرداری نے تمام منظوریاں وزیراعظم شہبازشریف کے مشورے پر دیں۔

    صدر نے لاہور ہائی کورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی جن میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید اقبال وینس، جسٹس محمد جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد، جسٹس چودھری سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل خان کی بطور مستقل جج منظوری دی گئی جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس طارق محمود باجوہ کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی گئی۔

    سندھ ہائی کورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز جسٹس میران محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر، جسٹس محمد حسن، جسٹس عبدالحمید بھگی، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس نثار احمد بھنبھرو، جسٹس علی حیدر، جسٹس محمد عثمان علی ہادی اور جسٹس محمد جعفر رضا کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی۔

    سندھ ہائی کورٹ کے 2 ایڈیشنل ججز جسٹس خالد حسین شاہانی اور جسٹس سید فیض الحسن شاہ کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی منظوری دی گئی۔

    صدر مملکت نے پشاور ہائی کورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صلاح الدین مستقل، جسٹس صادق علی، جسٹس سید مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کو مستقل کرنے کی منظوری دی۔

    پشاور ہائی کورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی گئی، ان ججز میں جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس فرح جمشید، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب شامل ہیں۔

  • آئین کا پورا ڈھانچہ اصلاح کی اجازت دیتا ہے،رانا ثنااللہ

    آئین کا پورا ڈھانچہ اصلاح کی اجازت دیتا ہے،رانا ثنااللہ

    سلام آباد:وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی تھی، تاہم اسی اتفاقِ رائے کے ذریعے اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آئین کا پورا ڈھانچہ اصلاح کی اجازت دیتا ہے اور اس معاملے پر ان کے مؤقف پر سنجیدہ بات ہونی چاہیےگل پلازہ کراچی میں آتشزدگی کے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس بات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے کہ پلازہ کی اضافی منزلوں کی منظوری کس نے دی اور یہ تعمیرات کب ہوئیں؟ واقعے میں ذمہ داران کا احتساب ناگزیر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان ماضی میں ہر ملاقات کو ریاست اور اداروں کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں، اسی لیے اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملاقاتوں کا باقاعدہ طریقہ کار طے کر دیا ہے عدالتی فیصلے کے بعد اب اس معاملے میں ابہام نہیں رہنا چاہیے۔

    ضلعی حکومتوں کے حوالے سے رانا ثنااللہ نے کہا کہ مقامی سطح پر مسائل کے حل کے لیے ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہےجب تک اختیارا ت نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے، عوام کو درپیش بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے، اسمبلی میں ہر رکن کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے اور خوا جہ آصف نے بھی ذاتی رائے ہی دی تھی، جو کہ پارٹی پالیسی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی رائے کو ذاتی ہی رہنا چاہیے ۔

  • اسلام آباد میں دھماکہ، متعدد افراد زخمی

    اسلام آباد میں دھماکہ، متعدد افراد زخمی

    اسلام آباد کے تھانہ شمس کالونی کی حدود میں ایک گھر میں گیس لیکج کے باعث زور دار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

    کیپیٹل ایمرجنسی سروس کے مطابق دھماکا اس قدر شدید تھا کہ گھر کی دیواریں اور چھت گر گئیں، زخمیوں میں ایک مرد، دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں، وا قعے کے بعد ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں، دو افراد کو معمولی زخم آئے ہیں، جبکہ تین زخمیوں کو اسپتال منتقل کر کے داخل کر لیا گیا ہے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    ڈیرہ اسماعیل خان ٹانک روڈ پر نامعلوم افراد نے پیٹرول اسٹیشن کو آگ لگا دی ڈی آئی خان پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے اسٹاف کو رسیوں کے ساتھ باندھ کر پیٹرول پمپ کو آگ لگا دی، جبکہ پیٹرول پمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد رقم بھی لوٹ کر لے گئے واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ ہو گئیں ، دوسری جانب پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی کر دی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آج دوپہر سے شام تک بارش ہونے کی توقع ہے،آج بلوچستان، بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں تیز بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے، اسلام آباد، پنجاب اور سندھ میں بھی وقفے وقفے سے بارش ہونے کی توقع ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق جمعرات کو کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ہرنائی، ژوب، مستونگ، واشک، تربت، آواران، ڈیرہ بگٹی، موسیٰ خیل، لورالائی اور سوراب میں تیز بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری رہے گا اس دوران زیارت، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، پشین اور چمن میں 9 سے 12 انچ جبکہ کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، قلات اور ژوب میں 2 سے 5 انچ برفباری کا امکان ہے۔

    دوسری جانب کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش و برفباری کا آغاز ہو گیا ہے، زیارت، پشین، قلعہ سیف اللہ، کوژک ٹاپ اور قلعہ عبداللہ میں برفباری ہوئی برفباری کے باعث کان مہترزئی میں ہنگامی اقدامات اٹھانا پڑے، بارش کے باعث کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں بجلی معطل ہو گئی، نوشکی میں برفباری کے بعد سردی میں اضافہ ہو گیا ہے،بالائی علاقوں میں پارہ نقطہ انجماد سے کئی درجے نیچے گر گیا-

    رپورٹس کے مطابق توبہ اچکزئی میں ڈیڑھ فٹ، کوژک ٹاپ میں ایک فٹ اور چمن شہر میں 10 انچ تک برف پڑ چکی ہے۔ شدید برفباری کے باعث بالائی علاقوں میں سردی کی لہر مزید مضبوط ہو گئی ہے،کوژک ٹاپ اور خواجہ عمران میں درجہ حرارت منفی 3 ڈگری جبکہ توبہ اچکزئی میں منفی چار ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس کے باعث سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

  • اسلام آباد ، فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی، پیپسی ڈسٹری بیوٹر کا گودام سیل

    اسلام آباد ، فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی، پیپسی ڈسٹری بیوٹر کا گودام سیل

    پیپسی کمپنی کے اسلام آباد میں بڑے ڈسٹری بیوٹرز حیدری مشروب کے گودام کو فوڈ سیفٹی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر اسلام آباد فورڈ اتھارٹی نے سیل کر دیا

    ذرائع کے مطابق 100 زائد بیگز پر تاریخیں ٹیمپرڈ اور تھیلوں پر کاکروچز پائے گئے جن کی مالیت 10 لاکھ سے زائد بتائی جا رہی ہے مجموعی طور پر 50 ہزارسے زائد چینی کے ایکسپائر اینڈ infested چینی کےتھیلے بھی قبضہ میں لے لیے،اسلام آباد فوڈ اتھارٹی (آئی ایف اے) نے فوڈ سیفٹی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر پیپسی مصنوعات کے بڑے ڈسٹری بیوٹر حیدری مشروب کے گودام کو سیل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی اسلام آباد میں کی گئی، جہاں گودام میں ذخیرہ شدہ اشیائے خورونوش کے معائنے کے دوران سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

    صحافی شہزاد پراچہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کے مطابق اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے گودام کا معائنہ کیا تو وہاں موجود چینی کی بوریوں تشویشناک خامیاں پائی گئیں۔حکام کا کہنا ہے کہ معائنے کے دوران 100 سے زائد چینی کی بوریوں پر مینوفیکچرنگ اور ایکسپائری کی تاریخوں میں ردوبدل پایا گیا۔ مزید یہ کہ متعدد بوریوں کے اندر کاکروچ موجود تھے، جس سے صفائی کے انتہائی ناقص انتظامات اور صارفین کی صحت کو لاحق سنگین خطرات کا انکشاف ہوا۔ ذرائع کے مطابق تاریخیں تبدیل کی گئی چینی کی بوریوں کی مالیت 10 لاکھ روپے سے زائد ہے۔فوڈ اتھارٹی کے مطابق مزید جانچ پڑتال میں انکشاف ہوا کہ 50 ہزار سے زائد بوریاں یا تو زائدالمیعاد تھیں یا پھر کیڑے مکوڑوں سے آلودہ تھیں۔

    حکام نے خبردار کیا کہ اس طرح کی آلودہ خوراک کی ترسیل عوامی صحت کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
    ان سنگین خلاف ورزیوں پر اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے موقع پر ہی گودام کو سیل کر دیا اور متعلقہ فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اتھارٹی کے مینڈیٹ کے عین مطابق اٹھایا گیا ہے۔