Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • 22 جنوری کو کراچی میں بارش،مری اور گلیات میں بھی شدید بارش و برفباری کی پیشگوئی

    22 جنوری کو کراچی میں بارش،مری اور گلیات میں بھی شدید بارش و برفباری کی پیشگوئی

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے مری، گلیات اور گردونواح میں 23 جنوری تک شدید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے،جبکہ نیا مغربی سلسلہ کل سے صوبہ سندھ کو اپنی لپیٹ میں لے گا جس کے سبب کراچی سمیت صوبے کے بیشتر علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کی ارلی وارننگ سینٹر پیش گوئی کے مطابق 22 جنوری کو کراچی میں گرج چمک کے ساتھ درمیانی وہلکی بارش کا امکان ہے کراچی ڈویژن، جامشور، دادو، ٹھٹھہ، سجاول، حیدر آباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، سانگھڑ، میرپور خاص، عمر کوٹ نوشہرو فیروز، شہید بے نظیر آباد، خیر پور، سکھر، کھوٹکی، جیکب آباد، لاڑکانہ، قبر شہداد کوٹ اور شکارپور کے اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے معتدل شدت کی بارش کا امکان ہے،کل سے شہر پر بلوچستان کی شمال مغربی ہوائیں اثرانداز ہونا شروع ہوں گی، جمعہ کو کم سے کم درجہ حرارت 7 تا 9 ڈگری ریکارڈ ہو سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات کراچی کے مطابق جمعہ کو شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 20 سے 22 ڈگری تک جانے کا امکان ہے جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 35 سے 45 ریکارڈ ہو سکتا ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے مری، گلیات اور گردونواح میں 23 جنوری تک شدید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے متعلقہ حکام نے سیاحوں سے سفر سے قبل موسم کی صورتحال جانچنے اور احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہےانتظامیہ نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے 13 فسیلیٹیشن سنٹرز قائم کر دیے ہیں اور 24 گھنٹے ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مری اور گردونواح میں آئندہ دنوں میں موسمی سرگرمی بڑھنے کی توقع ہے اور سڑکوں پر ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ سیاحوں کی سہولت اور حفاظت کے لیے 13 فسیلیٹیشن سنٹرز قائم کیے گئے ہیں-

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ سیاحوں کی رہنمائی اور تحفظ کے لیے ہر وقت موجود رہے گی،انہوں نے سیاحوں سے درخواست کی کہ موسم کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد سفر کریں اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامات پیشگی مکمل کیے جائیں۔ نبیل جاوید نے زور دیا کہ موسم کے حوالے سے احساسِ ذمہ داری قیمتی جانوں کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔

    ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے-

  • مفتی منیب الرحمن کی  محسن نقوی اور  طلال چوہدری سے ملاقات

    مفتی منیب الرحمن کی محسن نقوی اور طلال چوہدری سے ملاقات

    اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری سے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی، وفد میں علامہ لیاقت حسین اظہری، مفتی عابد مبارک المدنی اور ملک محمد ابراہیم شامل تھے، وفاقی سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    وزیرداخلہ محسن نقوی نے ملک میں قیام امن اور استحکام کے لیے مفتی منیب اور دیگر علمائے کرام کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے وفد کو ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی،محسن نقوی نے کہا کہ مفتی منیب الرحمن سب کے لئے قابل احترام ہیں اور ہمیشہ اتحاد اتفاق اور یکجہتی کی بات کرتے ہیں، مفتی منیب الرحمن سب کو متحد رکھنے کا کردار ادا کرتے ہیں، ہم سب ایک ہیں اور پاکستان سب سے پہلے ہے۔

    ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ مسائل کے حل کا جائزہ لیا جائے گا اور حل کے لئے اقدامات کئے جائیں گے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی، مفتی منیب الرحمن اور دیگر علما گرام بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے، کمیٹی مسائل کے حل کیلئے قابل عمل حل کیلئے سفارشات پیش کرے گی۔

    طلال چوہدری نے کہا کہ علمائے کرام کی پاکستان کے لئے خدمات قابل ستائش ہیں، مفتی منیب الرحمن نے ملک کی سالمیت، ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔

  • خلیل الرحمان قمر نازیبا ویڈیو کیس: ملزمہ آمنہ عروج کی ضمانت منظور

    خلیل الرحمان قمر نازیبا ویڈیو کیس: ملزمہ آمنہ عروج کی ضمانت منظور

    معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کی مبینہ نامناسب ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے میں نامزد ملزمہ آمنہ عروج کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج منصور احمد قریشی نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا عدالت نے ملزمہ کی درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری تین لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ ملزمہ آمنہ عروج نے اپنے وکیل کے ذریعے ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی تھی، جس پر عدالت نے قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا۔

    عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ ملزمہ کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مبینہ طور پر نامناسب ویڈیو وائرل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

    عدالت نے حکم دیا کہ ملزمہ مقررہ مچلکے جمع کرانے کے بعد ضمانت پر رہا کی جائے، جبکہ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ بر س جولا ئی میں معروف رائٹر خلیل الرحمان قمر کی ہنی ٹریپ ہونے کی خبر سامنے آئی تھی، آمنہ عروج نامی خاتون نے خلیل الرحمان کو گھربلا کر ساتھیوں کے ہمراہ تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں لوٹ لیا تھاڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمرکوآمنہ عروج نامی خاتون نے ڈرامہ بنانے کا جھانسہ دے کر ا پنے گھر بلایا خلیل الرحمان کمرے میں بیٹھے ہی تھے کہ 7 سے 8 مسلح افراد داخل ہوئےان کی آنکھوں پرپٹی باندھی اورتشدد کا نشانہ بنایا۔

    ایف آئی آرکے مطابق ملزمان نے خلیل الرحمان کوگاڑی میں بیٹھایا اورایک کروڑ روپےکا مطالبہ کیا گن پوائنٹ پران سے اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے 2 لاکھ 60 ہزاربھی نکلوائے گئے ان سے نقدی، پرس، موبائل اور قیمتی گھڑی بھی چھین لی گئی تھی،خلیل الرحمان کوکہا گیا کہ تمھیں مارنےکا حکم ہے کلمہ پڑھ لو اورایک فائرپاؤں کےقریب مارا گیا،آرگنائزڈ کرائم یونٹ نے ہنی ٹریپ کرنے والی خاتون سمیت چار ملزمان کو پکڑ ا تھا جبکہ استعمال کی گئی گاڑی بھی برآمد کی تھی۔

  • سوشل میڈیا پر ایک غلط کلک یا غیر محتاط پوسٹ  جیل پہنچا سکتی ہے،این سی سی آئی اے

    سوشل میڈیا پر ایک غلط کلک یا غیر محتاط پوسٹ جیل پہنچا سکتی ہے،این سی سی آئی اے

    اسلام آباد:نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک غلط کلک یا غیر محتاط پوسٹ شہریوں کو جیل پہنچا سکتی ہے۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق صارفین کسی بھی پوسٹ، خبر یا لنک کو شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق ضرور کریں کیونکہ بغیر تحقیق مواد پھیلانا قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور مقتدر اداروں کے خلاف غیر مصدقہ معلومات یا جھوٹی خبریں پھیلانا ایک سنگین قانونی جرم ہے۔

    ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ پیکا (PECA) ایکٹ کے سیکشن 26A کے تحت جھوٹی خبریں پھیلانے پر تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 20 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہےاین سی سی آئی اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ نفرت انگیز مواد اور فیک نیوز سے مکمل طور پر دور رہیں اور سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال کریں، ذمہ دار شہری بن کر ہی سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

  • ملک شفیع کھوکھر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری

    ملک شفیع کھوکھر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن نے پی پی 167 سے کامیاب امیدوار ملک شفیع کھوکھر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    ملک شفیع کھوکھر پی پی 167 سے بلامقابلہ کامیاب ہوئے،پی پی 167 کی نشست عرفان شفیع کھوکھر کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی،عرفان شفیع کھوکھر کے بعد ان کے والد ملک شفیع کھوکھر الیکشن میں کھڑے ہوئے جبکہ دیگر امیدواروں نے کاغذات واپس لے لیے تھے۔

    واضح رہے کہ ملک شفیع کھوکھر ایم این اے ملک سیف المکوک کھوکھر اور افضل کھوکھر کے بڑے بھائی جبکہ صوبائی وزیر فیصل ایوب کے تایا بھی ہیں۔

  • شفیع جان کیا آپ کے خواجہ سرا گل چاہت سے تعلقات ہیں،رپورٹر کا سوال

    شفیع جان کیا آپ کے خواجہ سرا گل چاہت سے تعلقات ہیں،رپورٹر کا سوال

    پی ٹی آئی رہنما شفیع جان سے صحافی نے سوال کیا کہ ن لیگی ایم پی اے نے یہ کہا ہے کہ شفیع جان آپ کے مبینہ طور پر کسی خواجہ سرا گل چاہت سے تعلقات ہیں، اس پر کیا کہیں گے، اس پر کسی شخص نے آواز دی کہ اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہئے، تاہم شفیع جان نے سوال سنا اوربنا جواب دیئے چل دیئے

    رپورٹر کے سوال کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وائرل ہو رہی ہے، ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ایک واٹس ایپ گروپ میں اس ویڈیو کو لے کے شفیع جان اور گُل چاہت کے مذاق چل رہے ہیں۔مُحبت تو کسی سے بھی ہوسکتی ہے تو اگر شفیع جان کو بھی کسی خواجہ سرا سے ہے تو اس میں کیا گُناہ ہے؟ ایسا قانون پاس کروائیں کہ دونوں کی شادی ہوجائے

    صحافی رضوان احمد ایکس پر کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی میں چرس لانے کے سوال کے بعد اڈیالہ کے باہر شفیع جان سے خواجہ سرا گل چاہت کے بارے میں سوال۔ کیا یہ صحافت ہے؟

  • راجہ ناصر عباس کا ایمان مزاری کیس سے کیا تعلق؟اپوزیشن لیڈرکی انتشار پھیلانے والوں کی حمایت

    راجہ ناصر عباس کا ایمان مزاری کیس سے کیا تعلق؟اپوزیشن لیڈرکی انتشار پھیلانے والوں کی حمایت

    سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف ہونے کے ناطے راجہ ناصر عباس کا ایمان مزاری کے کیس سے نہ کوئی آئینی تعلق ہے اور نہ ہی قانونی اختیار، پھر یہ مداخلت کیوں؟ کیا وہ ایک ایسے کردار کے ساتھ کھڑے ہیں جس پر انتشار، ادارہ مخالف بیانیے اور افراتفری کو ہوا دینے کے الزامات بارہا لگ چکے ہیں؟ یا یہ حمایت صرف اس لیے ہے کہ وہ ایک پی ٹی آئی سیاستدان کی بیٹی ہیں، جہاں قانون اور میرٹ ثانوی ہو گئے؟ اور اگر نہ قانون بنیاد ہے نہ میرٹ، تو پھر سوال یہی اٹھتا ہے کہ کہیں اس معاملے کو فرقہ وارانہ ہمدردی میں تو نہیں بدلا جا رہا؟

    راجہ ناصر عباس کا منصب انہیں پارلیمانی سیاست تک محدود کرتا ہے، کسی فرد کے زیرِ سماعت عدالتی کیس میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ جب معاملہ ایک ایسی شخصیت سے جڑا ہو جس کا نام بارہا انتشار، تصادم اور ریاستی اداروں کے خلاف زبان کے ساتھ لیا گیا ہو، تو یہ سوال فطری ہے کہ دفاع کس چیز کا ہو رہا ہے؟ اگر یہ موقف صرف اس لیے اپنایا گیا ہے کہ ملزمہ کا تعلق پی ٹی آئی کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے، تو پھر میرٹ کہاں کھڑا ہے؟ اور جب قانونی اصول غائب ہوں تو خدشہ یہی ہوتا ہے کہ کہیں معاملہ سیاست کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ رنگ بھی نہ اختیار کر رہا ہو۔

    سینیٹ کی اپوزیشن لیڈر شپ کا استعمال ایک ایسے کیس میں کرنا جس سے کوئی آئینی تعلق نہیں، خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔کیا یہ اقدام ایک ایسے فرد کے لیے ہے جس کا طرزِ عمل مسلسل انتشار اور محاذ آرائی سے جڑا رہا ہے؟ یا یہ حمایت محض اس بنیاد پر ہے کہ وہ پی ٹی آئی سیاستدان کی صاحبزادی ہیں، جہاں قانون سب کے لیے برابر نہیں رہا؟ اگر معاملہ قانون یا اصول کا نہیں تو پھر عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آیا اس کے پیچھے فرقہ وارانہ سیاست کارفرما ہے یا نہیں۔

  • پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر نے برآمدات میں نئی تاریخ رقم کر دی

    پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر نے برآمدات میں نئی تاریخ رقم کر دی

    پاکستان کے آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کے شعبے نے برآمدات میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے-

    اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں آئی ٹی برآمدات پہلی مرتبہ 437 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں یہ ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ایک ہی ماہ میں آئی ٹی برآمدات 400 ملین ڈالر کی حد عبور کر گئیں، ماہ بہ ماہ موازنے میں آئی ٹی برآمدات میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ 356 ملین ڈالر کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے سال بہ سال موازنے میں بھی آئی ٹی برآمدات میں 26 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جو قومی معیشت کے لیے نہایت خوش آئند پیش رفت ہے۔

    رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 2.24 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں اس اضافے کو آئی ٹی سیکٹر کی مسلسل ترقی اور بہتر پالیسی اقدامات کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

    
وزیراعظم شہباز شریف کا سی پیک 2.0 کو حقیقت میں بدلنے کے عزم کا اظہار

    معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ٹی سیکٹر ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک مستحکم ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ اس شعبے میں ترقی سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز اور اسٹارٹ اپس نے برآمدات بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل پاکستان وژن، آئی ٹی برآمدات کے لیے مراعات، آسان ریگولیٹری فریم ورک اور عالمی مارکیٹس تک رسائی نے اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آئندہ برسوں میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مزید اضافہ کر سکتی ہیں اور ملکی معیشت کو مضبوط سہارا فراہم کریں گی،یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ آئی ٹی سیکٹر پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون بنتا جا رہا ہے۔

    ملک بھر میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہو رہی ہیں،طلال چوہدری

  • پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے،وفاقی وزیر خزانہ

    پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے،وفاقی وزیر خزانہ

    اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی ترجیح برآمدات میں اضافہ اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے، حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے تجویز جاری کرے گی، پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے-

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے تجویز جاری کرے گی حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ڈالر، یورو یا اسلامی سکوک بانڈ جاری کیا جائے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 4 سال کے وقفے کے بعد دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں جانے کی تیاری کر رہا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے، حالانکہ چند سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا حکومت جلد مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے باضابطہ تجویز جاری کرے گی علاوہ ازیں مختلف آپشنز پر بھی غور جاری ہے، جن میں ڈالر، یورو اور اسلامی سکوک بانڈ کے ساتھ ساتھ پانڈا بانڈ کا اجرا بھی شامل ہے۔ یہ اقدامات پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کا عندیہ ہیں۔

    ویزہ فراڈ،امریکی سفارتخانےکی رپورٹ پر مقدمہ درج،کوٹمومن کے پیرکا بڑا دھوکہ

    انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر پاکستانی وفد، جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو چکی ہے اور معدنیات، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے پاکستان نے معاشی استحکام کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ مہنگائی، شرحِ سود، مالی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ سمیت تمام بڑے معاشی اشاریے بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان 2022 کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے تقریباً باہر ہو گیا تھا، تاہم آئی ایم ایف کے پروگرامز کے تحت سخت مالی اصلاحات کی گئیں مہنگائی جو ایک وقت میں 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب کم ہو کر ایک ہندسی سطح پر آ چکی ہے، حکومت نے دوبارہ پرائمری مالی سرپلس حاصل کیا ہے اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی ہے۔

    آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دینا انصاف کے قتلِ عام کی بدترین مثال ہے،ٌخالد مسعود سندھو

    وزیرِ خزانہ نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر جون تک 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہو جانے کی توقع ہے، جو عالمی معیار سمجھا جاتا ہے روپے پر فوری دباؤ نہیں ہے کیونکہ ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوا ہے، ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے اور سروسز کی برآمدات بڑھ رہی ہیں، جبکہ روپیہ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے مستحکم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے التوا کا شکار اصلاحات بھی کی جا رہی ہیں، جن میں سرکاری اداروں کی نجکاری اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا شامل ہےقومی ایئرلائن کو گزشتہ ماہ فروخت کر دیا گیا ہے، اب حکومت نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل میں اپنا حصہ فروخت کرنے، بڑے ہوائی اڈوں کے انتظامات آؤٹ سورس کرنے اور تقریباً 2 درجن دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری پر غور کر رہی ہے۔

    ملک بھر میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہو رہی ہیں،طلال چوہدری

    محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح برآمدات پر مبنی ترقی ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کی وجہ سے بار بار پیدا ہونے والے ادائیگیوں کے بحران سے بچا جا سکے ہمیں اصلاحات کے راستے پر قائم رہنا ہوگا کیونکہ یہی پائیدار ترقی کا واحد حل ہے۔

  • ویزہ فراڈ،امریکی سفارتخانےکی رپورٹ پر مقدمہ درج،کوٹمومن کے پیرکا بڑا دھوکہ

    ویزہ فراڈ،امریکی سفارتخانےکی رپورٹ پر مقدمہ درج،کوٹمومن کے پیرکا بڑا دھوکہ

    امریکی سفارتخانے کی رپورٹ پر ایف آئی اے نے ویزا فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شروع کر دی

    اسلام آباد میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی،ایف آئی اے نے امریکی سفارتخانے کی اطلاع پر ویزا فراڈ کے سلسلے میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ مقدمہ اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد میں درج کیا گیا اور ایف آئی آر نمبر AHTC-ICT-28/26 دیا گیا ہے۔مقدمے کے مطابق، امریکی سفارتخانے نے اطلاع دی کہ چند پاکستانی شہریوں نے غیر قانونی ویزا حاصل کرنے کے لیے جعلی دستاویزات فراہم کیں۔ ان افراد نے امریکی ویزا اپائنٹمنٹ کے لیے درخواست دی، لیکن ان کے فراہم کردہ دستاویزات اور کانفرنس کی معلومات جعلی ثابت ہوئیں۔ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق، بلال حسن،رمشہ زبیر،محمد اسد اقبال،علی رضا،اویس قمر رانجھا،معظم علی،ارشمان احمد،وقاص اسلم،احسن رضا،محمد ریحان،مدثر نذیر گوندل،محمد حسنین نے جعلی ویزا دستاویزات پیش کیں،تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ افراد جعلی دستاویزات فراہم کرنے والے ایجنٹس الشیخ السید سیف الدین ولد حافظ محمد اسلم المعروف عثمان گیلانی، پیر صاحب کے ذریعے دھوکہ کھا گئے اور لاکھوں روپے ادائیگی کی گئی۔ اس فراڈ میں دیگر ملوث افراد میں رب نواز، محمد طاہر شبیر اور انعام الحق شامل ہیں۔

    مقدمے کے مطابق، ایجنٹس نے ویزا حاصل کرنے کے بہانے متاثرین سے 20 لاکھ سے 45 لاکھ روپے تک وصول کیے، جبکہ بعض معاملات میں مکمل رقم بھی ادا کی گئی۔ متاثرین نے ایف آئی اے کے سامنے انکشاف کیا کہ یہ ایجنٹس جعلی MFA پاکستان ریفرل لیٹر سمیت دیگر جعلی دستاویزات فراہم کرتے تھے۔

    دفعات UIS 3, 4, 7 PSMA 2018 اور 420، 468 PPC کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔مقدمے میں فوری کارروائی کے لیے تمام متاثرہ افراد اور دستاویزات ایف آئی اے کے حوالے کر دی گئی ہیں۔مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔

    امریکی سفارت خانے سے سنیئر سول جج کو حراست میں لینے کا معاملہ
    کوٹ مومن کے مشہور پیر الشیخ آلا سید سیف الدین المعروف عثمانی گیلانی نے امریکی ویزہ کیلئے 12لوگوں کو جعلی دستاویزت تیار کیے جس کیلئے 30 ہزار ڈالر لئے گئے۔ جعلی دستاویزت میں وزرات خارجہ کا بھی لیٹر شامل کیا گیا تھا۔ دوسرا ملزم رب نواز بھی کوٹ مومن کے پیر کے ساتھ ویزہ کاروبار کررہا تھا۔ ملزمان نے سنئیر سول جج کا بھی ویزہ لگوانے کے لئے جعلی دستاویزت فراہم کئے۔ امریکہ میں صوفی ازم کے نام پر ایک کانفرنس کا بھی جعلی لیٹر تیار کرایا گیا.