Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • وزیرِ خزانہ کی سعودی فنڈ برائے ترقی کے سربراہ سے ملاقات

    وزیرِ خزانہ کی سعودی فنڈ برائے ترقی کے سربراہ سے ملاقات

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اسپرنگ اجلاسوں کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں سعودی فنڈ برائے ترقی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان بن عبدالرحمان المرشد سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جاری تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیافریقین نے ترقیاتی منصوبوں، سرمایہ کاری اور مالی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

    سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی روانگی سے قبل سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ سے اپنی حالیہ ملاقات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ یہ ملاقات نہایت مفید رہی، جو دونوں ممالک کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔

    ملاقات کے دوران فریقین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے عالمی توانائی کے تحفظ پر اثرات اور ممکنہ معاشی مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیرِ خزانہ نے تنازع کے جلد حل کے لیے امید کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے موسم بہار اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہو گئے تھے، وہ 13 سے 18 اپریل تک واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے ان اہم اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

  • غیر قانونی سگریٹس  کاروبار کے خاتمہ کیلئے  موثر اقدامات کررہے،  بلال اظہر کیانی

    غیر قانونی سگریٹس کاروبار کے خاتمہ کیلئے موثر اقدامات کررہے، بلال اظہر کیانی

    وزیرمملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہاہے کہ حکومت غیر قانونی سگریٹس کے کاروبار کے خاتمہ کیلئے موثر اقدامات کررہی ہے اورا س ضمن میں نفاذِ قانون کو مزید مضبوط بنایا جارہاہے ۔

    انہوں نے یہ بات اکسفورڈاکنامکس کے زیراہتمام غیرقانی سگریٹ سے متعلق کاروبار متعلق جائزہ رپورٹ کے اجراء کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی غیر قانونی سگریٹ کے بڑے مسئلے کاسامنا ہے اور اندازوں کے مطابق سگریٹ کی پیداوار اور استعمال کا 25 فیصد سے زیادہ حصہ یعنی تقریباً 20 ارب سگریٹ ٹیکس اور ڈیوٹی کی ادائیگی سے بچ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کو سالانہ تقریباً 137 سے 200 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہورہاہے۔ زیرمملکت نے کہاکہ یہ مسئلہ بڑی حد تک اندرونی نوعیت کا ہےجس کی بنیادی وجوہات غیر قانونی پیداوار اور وسیع پیمانے پر ٹیکس چوری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تیار شدہ سگریٹ یا خام مال کی سمگلنگ بھی اہم کردار ادا کررہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سال 2025 میں حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کارروائیوں میں تیزی لائی گئی اس میں ایک جامع ٹریک اینڈ ٹریس نظام کا نفاذ شامل تھا، ان کارروائیوں کے دوران ملک بھر میں غیر قانونی فیکٹریوں، ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا گیاجس کے نتیجے میں غیر قانونی پیداوار کے پورے نیٹ ورکس کو ختم کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ تمام کوششوں کے باوجود یہ مسئلہ مسلسل بدلتی ہوئی نوعیت کا حامل ہے۔ جرائم پیشہ نیٹ ورکس تیزی سے خود کو ڈھال رہے ہیں اور حکومتی اقدامات سے بچنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں جن میں پیداوار کی جگہوں کو منتقل کرنا،سمگلنگ کے نئے راستے قائم کرنا، اورخام مال پر ڈیوٹی سے بچنے کے لیے سپلائی چین کے ابتدائی مراحل میں مداخلت کرنا شامل ہے۔وزیرمملکت نے کہاکہ وزیرِ اعظم نے اس مسئلے کا براہِ راست نوٹس لیا ہے اور وہ ان بدلتی ہوئی حکمت عملیوں سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔

    انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ سخت کارروائیوں کے باعث غیر قانونی مینوفیکچررز نے اپنی سرگرمیاں چھوٹے اور خفیہ مقامات، جیسے رہائشی گھروں اور زرعی زمینوں، میں منتقل کر دی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بدلتی ہوئی صورتحال حکومت کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر رہی ہے تاہم مشکلات کے باوجود حکومت سگریٹ کے غیرقانونی صنعت اورکاروبار کے خاتمہ کیلئے قوانین کومزید مضبوط بنانے سرکاری محصولات کے تحفظ میں پرعزم ہے ، اس کے ساتھ ساتھ حکومت جائز کاروباروں کی حمایت اور قانون کی بالادستی کو برقرار کھیں گی۔انہوں نے کہاکہ ملک میں سرمایہ کاری وقت کی ضرورت ہے اورجائز وقانونی کاروبارکے فروغ سے سرمایہ کاری میں اضافہ کی کوششوں کوتقویت ملےگی۔

  • پاور ڈویژن کا پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان

    پاور ڈویژن کا پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان

    پاور ڈویژن نے ملک بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر پیک آورز کے دوران روزانہ سوا 2 گھنٹے لوڈشیڈنگ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے بچانے اور بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

    پاور ڈویژن کے ترجمان نے پیک آورز ریلیف اسٹریٹیجی سے متعلق بیان میں کہا کہ حکومت کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج شام 5 بجے سے رات 1 بجے تک بجلی کی کھپت میں نمایاں اضافے کی صورت میں درپیش ہے۔ اسی لیے ان اوقات میں روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق تمام ڈسکوز کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ بجلی بندش کے شیڈول اور اوقات کار سے صارفین کو پیشگی آگاہ کریں تاکہ شہری اپنی روزمرہ سرگرمیوں کو اسی حساب سے ترتیب دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر کمرشل مارکیٹس کو بروقت بند کرنے سے بھی بجلی کی طلب میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ اگر طلب کم ہوئی تو بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو مزید محدود کیا جا سکے گا۔

    پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ مہنگے ایندھن کے کم استعمال سے بجلی کی پیداواری لاگت کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے، جس سے صارفین پر اضافی بوجھ منتقل ہونے سے روکا جا سکے گا۔ترجمان کے مطابق جولائی سے فروری کے دوران بجلی صارفین کو مجموعی طور پر 46 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا، جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بجلی 71 پیسے فی یونٹ سستی ہوئی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ کم لاگت ذرائع سے بجلی پیدا کرنے اور موجودہ پیداواری صلاحیت کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے سے نظام پر دباؤ کم ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ ترسیلی اور انتظامی سطح پر بہتری لا کر نقصانات میں بھی کمی کی گئی۔پاور ڈویژن نے دعویٰ کیا کہ عالمی سطح پر سخت معاشی حالات کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار مستحکم ہے اور موجودہ وقت میں ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ترجمان نے بتایا کہ وزیرِ اعظم پاکستان کی ہدایات پر صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور واضح ٹاسک دیا گیا ہے کہ کسی بھی صورت بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ نہ ہونے دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ 80 ایم ایم سی ایف ایف ڈی مقامی گیس پاور پلانٹس کو فراہم کر دی گئی ہے، جس سے بجلی کی قیمت میں 80 پیسے فی یونٹ اضافے اور اضافی لوڈ منیجمنٹ سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔پاور ڈویژن کے مطابق موجودہ لوڈ منیجمنٹ کا مقصد بجلی کی قیمت میں تقریباً 3 روپے فی یونٹ ممکنہ اضافہ روکنا ہے، جبکہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا تھا۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ فرنس آئل کے محدود استعمال کے باوجود تقریباً ڈیڑھ روپے فی یونٹ اضافے کے لیے تیار رہنا ہوگا، تاہم حکومتی اقدامات کے باعث اس اضافے کو کم سے کم سطح پر رکھنے کی کوشش جاری ہے۔

  • عمران خان  فارن فنڈنگ کیس میں مرکزی ملزم قرار

    عمران خان فارن فنڈنگ کیس میں مرکزی ملزم قرار

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    عمران خان کو فارن فنڈنگ کیس میں مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے 57 صفحات پر مشتمل چالان تیار کرلیا گیا ہےذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے کیس کا چالان تیار کر لیا گیا ہے جو کل تک عدالت میں جمع کروا دیا جائے گا،فارن فنڈنگ کیس کا چالان 57 صفحات پر مشتمل ہے جس میں مجموعی طور پر 11 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ بانی پی ٹی آئی کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کے چالان میں طارق شفیع، حامد زمان سمیت دیگر افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جب کہ 3 ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے جن میں عارف نقوی اور طارق رحیم شیخ سمیت دیگر شامل ہیں، دنیا کے مختلف ممالک سے پی ٹی آئی اکاؤنٹ میں 1800 ٹرانزیکشنز ہوئیں اور یہ رقم ’نیا پاکستان‘ کے نام سے موصول ہوئی، ملزمان پر 2.1 ملین ڈالر کی غیرقانونی فنڈنگ کا الزام ہے جبکہ پی ٹی آئی کو 2.1 ملین ڈالر کی رقم ’ووٹ آن کرکٹ لمیٹڈ‘ نامی کمپنی نے بھی بھیجی۔

    ایف آئی اے چالان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو فراہم کردہ ریکارڈ میں اس کمپنی کی ملکیت عارف نقوی کے نام ظاہر کی گئی ہے اور پارٹی کے جمع کروائے گئے ریکارڈ کے مطابق کمپنی کیمن آئرلینڈ میں رجسٹرڈ بتائی گئی ہے مذکورہ کمپنی فیک ہے اور کہیں رجسٹرڈ نہیں پائی گئی ذرائع کے مطابق اسپیشل کورٹ نے ایف آئی اے کو چالان جمع کروانے کی ہدایت دے رکھی ہے، جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    دوسری جانب بینکنگ عدالت اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی و دیگر کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی جہاں خصوصی عدالت کے جج عبدالغفور کاکڑ نے کیس کی سماعت کی اس دوران اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے۔

    دوران سماعت جج عبدالغفور کاکڑ نے استفسار کیا کہ چالان کی کیا صورتحال ہے، جس پر پراسکیوٹر واثق ملک نے عدالت کو بتایا کہ چالان مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے اور ان کی جانب سے آج یا کل تک رجسٹرار کے پاس جمع کروا دیا جائے گا۔

    بعد ازاں عدالت نے مرکزی کیس کی سماعت 21 اپریل تک ملتوی کر دی جبکہ کیس میں نامزد ملزمان سراج احمد اور فیصل قاضی کی عبوری ضمانت میں بھی 21 اپریل تک توسیع کر دی گئی سماعت کے دوران ملزم فیصل قاضی کی عدم دستیابی کے باعث ضمانت کی درخواست پر دلائل نہ ہو سکے۔

    اس موقع پر پراسکیوٹر واثق ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کو بتائے بغیر ملزم بیرون ملک کیسے جا سکتا ہے۔ وکیل صفائی نے بتایا کہ فیصل قاضی ایک نجی بینک کے دبئی میں ہیڈ ہیں اور ہر سماعت پر پاکستان آتے ہیں اس پر جج عبدالغفور کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ آئندہ پیشی پر اگر ملزم پیش نہ ہوا تو معاملہ دیکھا جائے گا۔

  • اٹارنی کے ذریعے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کا کیس،سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری

    اٹارنی کے ذریعے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کا کیس،سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے اٹارنی کے ذریعے اپنے بیٹوں کے نام زمین منتقل کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اہم فیصلہ جاری کر دیا۔

    جسٹس بلال حسن نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا ،عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ مختار نامہ رکھنے والا شخص مالک کی مرضی کے بغیر جائیداد اپنے رشتہ داروں کو منتقل نہیں کر سکتا۔ اگر پاور آف اٹارنی کے تحت کسی کو جائیداد منتقل کرنی ہو تو اس کے لیے اصل مالک سے پیشگی تحریری اجازت لینا لازمی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ جائیداد کی منتقلی سےقبل اٹارنی پر لازم ہے کہ وہ اصل مالک کو سودے کی تمام تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ کرے، بصورت دیگر ایسی منتقلی قانونی حیثیت نہیں رکھتی،زیرِ سماعت کیس میں خاتون نے اپنے اٹارنی کو زمین اس کے بیٹوں کے نام منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی ، ا س کے باوجود منتقلی کی گئی جو قانون کے منافی ہے سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ محض چیک کے ذریعے رقم کی ادائیگی جائیداد کی فروخت کا حتمی ثبو ت نہیں سمجھی جا سکتی۔

    کیس کی تفصیلات کے مطابق جواب دہندہ فرحت اقبال کو چشتیاں میں زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی بعد ازاں انہوں نے اپنی زمین کی دیکھ بھال کے لیے ایک قریبی رشتہ دار کو مختار عام مقرر کیا، تاہم اٹارنی نے مالک کی اجازت کے بغیر وہ زمین اپنے ہی بیٹوں کے نام منتقل کر دی، جسے عدا لت نے کالعدم قرار دے دیا۔

  • ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ چوری،تحقیقات کرنے والوں کو ہراساں کا انکشاف

    ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ چوری،تحقیقات کرنے والوں کو ہراساں کا انکشاف

    ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ کے ہزاروں کارٹن کی چوری، جانچ کرنے والی کمیٹی کے چیئرمین کو ایف بی آر کی جانب سے ہراساں کئے جانے کا انکشاف سامنے آگیا۔

    سیف اللہ ابڑو نے بتایا کہ کمیٹی کے بعد گھر جاتا ہوں تو ایف بی آر کا نیا نوٹس مل جاتا ہے مگر ڈرنے والا نہیں۔کمیٹی رکن عمر فاروق نے کہا کہ اسمگلنگ میں کسٹمز عملہ ملوث ہے، پیٹرول، ڈیزل اور شراب سمیت دیگر اشیاء اسمگل ہوکر آرہی ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکس سے مستشنیٰ علاقوں میں قائم فیکٹریوں کی تفصیلات دی جائیں، فاٹا اور پاٹا کرپشن کا گڑھ بن چکے، ٹیکس چوری کیا جارہا ہے۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ بلوچستان کے جس بارڈر سے اسمگلنگ ہورہی ہے اسے روکا جائے۔ کسٹمز حکام نے بتایا کہ گوادر، پنجگور، چاغی سمیت مختلف اضلاع سے ایرانی تیل آتا ہے، 30 لاکھ لیٹر ایرانی تیل روزانہ اسمگل ہوکر آتا ہے، ایک سال میں کسٹمز نے ڈھائی ارب کی پیٹرولیم مصنوعات پکڑیں۔

    دوسری جانب رواں مالی سال 610 ارب روپے شارٹ فال کے باوجود ٹیکس مقدمات سست روی کا شکار ہیں، ایف بی آر کے ٹیکس مقدمات 5 ہزار 457 ارب روپے سے تجاوز کرگئے۔وزیراعظم شہباز شریف نے عدالتوں اور اپیلٹ ٹریبونلز میں زیر التواء ٹیکس کیسز پر تشویش کا اظہار کردیا۔ انہوں نے ٹیکس کیسز کی جلد سماعت کیلئے لائحہ عمل پر رپورٹ مانگ لی۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2 سال میں التواء کے شکار ٹیکس کیسز کی شرح میں مزید 30 فیصد اضافہ ہوگیا، سپریم کورٹ میں 3 ہزار 277 ٹیکس کیسز میں 169 ارب روپے سے زائد پھنسے ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹیکس کیسز کا حجم 3760 ارب روپے سے بڑھ کر 5457 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے، اپیلٹ ٹریبونلز میں التواء کے شکار ٹیکس کیسز بڑھ کر 3330 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

  • پاکستان کے ائیر ٹریفک کنٹرولرز کی خدمات کا عالمی سطح پر اعتراف

    پاکستان کے ائیر ٹریفک کنٹرولرز کی خدمات کا عالمی سطح پر اعتراف

    پاکستان کے ائیر ٹریفک کنٹرولرز کی خدمات کا عالمی سطح پر اعتراف کیا ہے

    پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے)کے مطابق بین الاقوامی ائیر ٹریفک کنٹرولرز فیڈریشن (آئی ایف اے ٹی سی اے) نے پاکستانی ائیر ٹریفک کنٹرولرز کو خراج تحسین پیش کیا ہے،آئی ایف اے ٹی سی اے کے مطابق خطے میں فضائی دباؤ کے باوجود پاکستانی کنٹرولرز نے اعلیٰ کارکردگی دکھائی۔جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث پاکستان کی فضائی گزرگاہ سے پروازوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔پاکستانی ائیر ٹریفک کنٹرولرز نے غیر شیڈولڈ فضائی ٹریفک کو مؤثر انداز میں سنبھالا۔مشکل حالات میں بھی سیفٹی اور ایفیشنسی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا گیا۔پاکستانی ائیر ٹریفک کنٹرولرز نے دباؤ اور طویل ڈیوٹی کے باوجود ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں۔خط میں متعلقہ پاکستانی وزارتِ کے تعاون کو بھی ائیر ٹریفک کنٹرولرز کی عالمی فیڈریشن کی جانب سے سراہا گیا۔

  • اسحاق ڈار کی یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندے سے ٹیلیفونک گفتگو

    اسحاق ڈار کی یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندے سے ٹیلیفونک گفتگو

    نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اور سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی خارجہ امور و سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس سے ٹیلیفون پر بات کی۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے دفتر کے مطابق بات چیت کے دوران نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مسلسل اور قریبی رابطے کو سراہا اور حالیہ اسلام آباد مذاکرات کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔

    یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس نے امریکا-ایران براہ راست مذاکرات کی سہولت کاری میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا، دونوں رہنماؤں نے تنازع کے حل کے لیے مسلسل مکالمے اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا،دونوں فریقین نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا مثبت جائزہ لیا اور تمام باہمی امور پر قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں خفیہ فلمنگ کے ذریعے سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آ یا ہے-

    بی بی سی آئی کی تحقیق کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان تونسہ میں 331 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹیو کی تصدیق ہوئی ، 2024 کے اواخر میں جب ایک نجی کلینک کے ڈاکٹر نے تونسہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے جوڑا تو مقامی حکام نے سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے مارچ 2025 میں ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو معطل کر دیا، لیکن بی بی سی آئی کی حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ماہ بعد بھی استعمال شدہ انجیکشن لگائے جانے کا خطرناک رجحان جاری ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 2025 کے اواخر میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں 32 گھنٹوں کی خفیہ فلمنگ کے دوران دیکھا گیا کہ دس مختلف مواقع پر استعمال شدوں سرنجوں میں دوائی بھری گئی، جس سے ممکنہ طور پر انجیکشنز میں موجود دوا خراب ہوئی ہو گی ان میں سے چار مواقع پر اسی دوائی کی بوتل سے ایک مختلف یا دوسرے بچے کو دوا دی گئی یہ تو نہیں جانتے کہ اُن میں سے کوئی بچہ ایچ آئی وی پازیٹیو تھا یا نہیں لیکن اس طرح سے دوبارہ استعمال واضح طور پر وائرل ٹرانسمیشن کا خطرہ رکھتا ہے۔

    ڈاکٹر الطاف احمد پاکستان کے ممتاز کنسلٹنٹ مائیکروبائیولوجسٹ اور انفیکشس ڈیزیز کے ماہر نے خفیہ فوٹیج دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے ٹیکے کی سوئی بدل کر نئی بھی لگا دی ہے تو ٹیکے کے پچھلے حصے، جسے ہم سرنج باڈی کہتے ہیں، میں وائرس ہو سکتا ہے جو نئی سوئی کے ذریعے ٹرانسفر ہو سکتا ہے۔‘

    ہسپتال کی دیواروں پر محفوظ انجیکشن لگانے کے طریقہ کار کی تصاویر والے پوسٹرز کے باوجود ہم نے سٹاف، بشمول ایک ڈاکٹر، کو 66 مرتبہ صاف دستانے پہنے بغیر مریضوں کو ٹیکا لگاتے ہوئے فلمایا اور ایک دوسرے ماہر نے بی بی سی آئی کو بتایا کہ یہ پاکستان میں مجموعی طور پر انفیکشن کنٹرول ٹریننگ کی کمزور یوں کو ظاہر کرتا ہے۔

    بی بی سی آئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک نرس کو بھی دیکھا جو میڈیکل ویسٹ باکس یعنی طبی فضلے سے بھرے ڈبے میں بنا صاف دستانے پہنے ہاتھ پھیر رہی تھیں ڈاکٹر احمد کہتے ہیں کہ ’وہ دوائی انجیکٹ کرنے کے ہر اصول کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔‘

    تاہم جب یہی انڈر کور فوٹیج تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے نئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاسم بزدار کو دکھائی تو انھوں نے اسے درست ماننے سے انکار کر دیا انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فوٹیج یا تو ان کی تعیناتی سے پہلے بنی یا پھر یہ فوٹیج ’سٹیج بھی ہو سکتی ہے،انھوں نے اصرار کیا کہ ان کا ہسپتال بچوں کے لیے محفوظ ہے۔

    ڈاکٹر گل قیصرانی ایک مقامی نجی کلینک میں کام کرتے ہیں ڈاکٹر قیصرانی نے سب سے پہلے 2024 کے اواخر میں یہ دیکھا کہ اُن کے کلینک میں آنے والے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن بچوں میں یہ تشخیص کی ان میں سے 65 سے 70 کا علاج تونسہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ہوا تھا ایک بچی کی والدہ کے مطابق اُن کی بیٹی کو اُسی سرنج سے ٹیکا لگایا گیا جس سے اُس کی ایک اور کزن کو بھی لگایا گیا تھا اورجو ایچ آئی وی پازیٹیو ہے، اور پھر وہی سرنج کئی اور بچوں پر بھی استعمال ہوئی ایک بچے کے والد کے مطابق جب انھوں نے استعمال شدہ سرنج لگانے پر احتجاج کیا تو نرسز نے ان کا احتجاج نظرانداز کر دیا۔

    بی بی سی آئی نے پنجاب ایڈز سکریننگ پروگرام، نجی کلینکس اور پولیس کی جانب سے لیک ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے ایسے 331 بچوں کی شناخت کی جو تونسہ میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ایچ آئی وی پازیٹیو ہوئے 97 بچوں میں سے صرف چار کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹیو تھیں اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان میں سے بہت کم بچوں کو اپنی والدہ سے یہ مرض لگا، یعنی ماں سے بچے میں مرض کی ٹرانسمیشن ہوئی-

    صوبائی ایڈز سکریننگ پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق 331 بچوں میں سے نصف کو استعمال شدہ سوئی کی وجہ سے ایچ آئی وی لگا۔ باقی کے بارے میں ان اعداد و شمار میں نہیں بتایا گیا کہ انھیں ایچ آئی وی کیسے ہوا ہو گامارچ 2025 میں پنجاب حکومت نے 106 کیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طیب فاروق چانڈیو کو معطل کر دیا تاہم معطلی کی تین ماہ کے اندر ہی وہ تونسہ کی مضافات میں ایک دیہی ہیلتھ سینٹر میں بطور سینیئر میڈیکل افسر ایک بار پھر بچوں کا علاج کر رہے تھے-

  • اسلام آباد مذاکرات کیلئے سرینا ہوٹل کی فری خدمات کا انکشاف

    اسلام آباد مذاکرات کیلئے سرینا ہوٹل کی فری خدمات کا انکشاف

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کیلئے سرینا ہوٹل کی فری خدمات کا انکشاف ہوا ہے۔

    سرینا ایم ڈی اور پرنس کریم آغا خان فاؤنڈیشن کے مطابق پرنس رحیم آغا خان نے اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے خیر سگالی کے طور پر حکومت پاکستان کو مفت ہوٹل رہائش، کھانے پینے کی اشیاء اور تمام متعلقہ خدمات کی پیشکش کی۔

    سرینا ہوٹل کے ایم ڈی کے مطابق مرحوم پرنس کریم آغا خان کے بیٹے اور اسماعیلی جماعت کے موجودہ مذہبی پیشوا پرنس شاہ رحیم الحسینی جو کہ اسلام آباد میں قائم سرینا ہوٹل کے مالک ہیں، انہیں جب علم ہوا کہ پاکستان نے امریکہ ایران مذاکرات کے سلسلے میں سرینا ہوٹل بک کیا ہے، تو انہوں نے حکومتِ پاکستان سے کہا کہ یہ ان کی طرف سے ایک نیک اور اچھا کام جو پاکستان کر رہا ہے اس کے لیے گفٹ ہے کہ ہم اس میزبانی پر پاکستان کی ریاست سے ایک پائی بھی چارج نہیں کریں گے، انہوں نے پاکستان کی گڈول پر خوش ہوکر پاکستانی عوام اور ریاست کو تحفہ دیا ہے۔