Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی

    افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی حمایت ہمسایہ ممالک سمیت خطے بھر کیلئے سنگین سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے،سابق اعلیٰ افغان عہدیدارطالبان رجیم کافتنہ الخوارج اوردیگر عالمی دہشت گردتنظیموں کیساتھ گٹھ جوڑ شواہد کے ساتھ سامنےلے آئے،افغان میڈیا افغان انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان کے قومی سلامتی کے سابق مشیر احمد ضیاء سراج نے انکشاف کیا کہ طالبان رجیم کا فتنہ الخوارج سمیت دیگردہشت گردتنظیموں کے ساتھ قریبی تعاون ہے،اس گٹھ جوڑ میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہوں اور اسلحہ کی فراہمی سمیت خودکش حملہ آوروں کا تبادلہ بھی شامل ہے، طالبان رجیم میں عالمی دہشت گردتنظیمیں افغان سرزمین اور دیگرسہولیات کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کررہی ہیں، افغان شہری طالبان رجیم اور عالمی دہشتگرد تنظیموں کے درمیان اس گھناونے تعلق کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں،

    عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کیلئے بھی تباہ کن ثابت ہورہی ہے،افغان طالبان بیرونی آقاوں کی سرپرستی میں اپناناجائزتسلط قائم رکھنے کیلئے دہشتگرد تنظیموں کی سہولت کاری کر رہے ہیں

  • سمندری کیبل کی مرمت، کتنے دن انٹرنیٹ سروس متاثر رہے گی؟

    سمندری کیبل کی مرمت، کتنے دن انٹرنیٹ سروس متاثر رہے گی؟

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے اعلان کیا ہے کہ اس کی ایک زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل کی مرمت کا کام 14 اپریل سے شروع ہو کر 20 اپریل تک جاری رہے گا۔

    پی ٹی سی ایل نے ایکس پر جاری پیغام میں بتایا کہ مرمت کے اس عمل کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو شام کے اوقات میں سروس کی سست رفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیبل کی مرمت کا کام 14 اپریل سے شروع ہو کر 20 اپریل تک جاری رہے گا۔

    یہ سرکاری ٹیلی کام کمپنی تین زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبل نیٹ ورکس کا انتظام کرتی ہے، جو پاکستان کو بین الاقوامی انٹرنیٹ سے منسلک رکھتے ہیں ملک میں کام کرنے والے تمام چھ سب میرین کیبل سسٹمز، جن میں پی ٹی سی ایل کے تین، ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے دو اور سائبر انٹرنیٹ سروسز کی پیس کیبل شامل ہے، کی مجموعی گنجائش 13 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ ہے، جبکہ اس وقت ملک میں انٹرنیٹ کا استعمال تقریباً 7 سے 8 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ کے درمیان ہے۔

  • پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر دی۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی نے دو پاکستانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے سیز فائرکی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تجویز دی ہے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعرات کو ہو سکتا ہے جبکہ امریکی عہدیدار نے بھی توقع ظاہر کی ہےکہ فریقین معاہدے کےلیے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیشرفت ہو رہی ہے۔

    ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے تجویز دی ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں دوبارہ دونوں فریقین کو میز پر بٹھایا جائے اگرچہ پہلے دور میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا، لیکن پسِ پردہ رابطے اب بھی جاری ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار معاملات کسی منطقی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    امریکی ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات کے اس عمل میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ترکیہ اور مصر جیسے ممالک بھی ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کے دوران کئی اہم مسائل حل کے قریب پہنچ چکے تھے اور ایک مشترکہ فریم ورک کا اعلان بھی ہونے والا تھا، مگر پھر اچانک امریکی وفد نے وہاں سے رخصتی کا فیصلہ کر لیا۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں ہی نہیں چاہتے کہ دوبارہ جنگ شروع ہو، اسی لیے دونوں جانب سے اس ’خونی باب‘ کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی خواہش موجود ہے۔

    سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں اور زیادہ تر امکان یہ ہے کہ وہ پاکستان میں ہی منعقد ہوں ان کے مطابق ایران چونکہ پاکستان پر اعتماد کرتا ہے اس لیے وہ ممکنہ طور پر کسی دوسرے ملک میں مذاکرات کرنے پر آمادہ نہ ہو۔

    پاکستان کے سابق سفیر اور سینٹر فار انٹرنیشنل سٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمبیسڈر علی سرور نقوی نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور کب اور کہاں ہوگا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ہ مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو اپنی تحریری تجاویز دی ہیں جو ایک دوسرے نے وصول بھی کی ہیں۔

    علی سرور نقوی نے کہا کہ اگر فریقین مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوتے تو واک آؤٹ کر گئے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی امید ظاہر کی ہے اور مذاکرات کا شروع ہونا دونوں فریقین کے حق میں بہتر ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ مذاکرات آیا پاکستان میں ہوں گے یا کہیں اور تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ غالب اِمکان تو یہی ہے کہ وہ پاکستان میں ہی ہوں۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمان میں مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ ہو گیا تھا، جنیوا میں مذاکرات کا تجربہ بھی ایران کے لیے زیادہ اچھا نہیں لہٰذا اس کے بعد پاکستان ہی واحد آپشن بچتا ہے اور ایران کو پاکستان پر اعتماد بھی ہے جس کا اظہار ایرانی حکام کے بیانات سے بھی ہوتا ہے۔

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیر مقدم نے پیر کو سوشل میڈیا پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وضاحت کی کہ مذاکرات ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے اس عمل کے شروع ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    رضا امیر مقدم نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ ’اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پروسیس کا نام ہے، اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے جو اگر باہمی اعتماد اور مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے میں برادر اور دوست ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خیر سگالی کے جذبے اور مذاکرات کے انعقاد میں ان کے مثبت کردار پر شکرگزار ہوں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کریں گے جبکہ محدود فضائی حملوں کے اعلانات کے باوجود امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران ان کی شرائط مان لے تو وہ دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پرپہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے۔

    اس حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی، ہم نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

    دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے ایران منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے جبکہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا کہ نئی لڑائی کو روکنا ضروری ہے، جنگ دوبارہ شروع نہیں ہونی چاہیے اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور روس تصفیے میں مدد کےلیے تیار ہے۔

  • خواجہ آصف کا بیان، مذاکرات کے بعد ماحول بہتر قرار

    خواجہ آصف کا بیان، مذاکرات کے بعد ماحول بہتر قرار

    ‎وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حالیہ امن مذاکرات کے بعد مجموعی ماحول میں بہتری نظر آ رہی ہے اور مستقبل میں دوبارہ مذاکرات کے امکانات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ نشستوں میں اہم نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
    ‎پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے بعد کوئی منفی اشارہ سامنے نہیں آیا بلکہ کئی مثبت پہلو دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات نے کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے دوبارہ مذاکرات کا امکان برقرار ہے اور اس حوالے سے اطمینان بھی پایا جا رہا ہے۔ وزیر دفاع نے امید ظاہر کی کہ اگلی نشست تک فریقین کسی نہ کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے، جو خطے میں استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
    ‎خواجہ آصف نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان پر مہربان ہے اور موجودہ حالات میں ملک ایک بہتر پوزیشن میں کھڑا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں ہونے والی پیش رفت پاکستان کے لیے مثبت ثابت ہو رہی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق وزیر دفاع کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کر رہا ہے اور امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات کو پہلے ہی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا چکا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی عالمی معیشت کیلئے بڑا دھچکا، وزیر خزانہ

    مشرق وسطیٰ کشیدگی عالمی معیشت کیلئے بڑا دھچکا، وزیر خزانہ

    ‎اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہو رہی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات امریکہ کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ "پاکستان کانفرنس 2026” کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہی۔
    ‎وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی ایجنڈے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری تنازعات کی وجہ سے عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی ممالک کو معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    ‎محمد اورنگزیب کے مطابق حالیہ ہفتوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر حکومت کو کئی اہم اور مشکل فیصلے کرنا پڑے تاکہ معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ اہم شعبوں کو توانائی کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھی جائے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو بڑھتے ہوئے توانائی اخراجات سے بچانے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام متعارف کروایا گیا ہے، جس کے ذریعے مستحق طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ مہنگائی کے اثرات کو کم سے کم کیا جائے۔
    ‎وزیر خزانہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان نے دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں موجودہ عالمی بحران کو بہتر انداز میں سنبھالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سپلائی چین میں رکاوٹوں اور امن و امان کے مسائل سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات کیے ہیں۔
    ‎مزید برآں انہوں نے کہا کہ بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے بھی حکومت نے پیشگی منصوبہ بندی کی ہے اور قرضوں کے بروقت انتظام کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ ملک کا معاشی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

  • جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں،سپریم کورٹ

    جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے باپ کے قتل میں مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کردی.

    سپریم کورٹ نے باپ کے قتل کے مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

    فیصلے کے مطابق مجرم نے جولائی 2020 میں جائیداد کے تنازع پر سوئے ہوئے اہل خانہ پر ٹوکے سے حملہ کیا اور اپنے ستر سالہ والد غلام محمد کو بے دردی سے قتل کر دیا، جبکہ مداخلت کرنے پر سوتیلی ماں اور بہن بھائیوں کو بھی زخمی کیا،چار زخمی عینی شاہدین کی گواہیاں مجرم کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہیں اور میڈیکل شواہد و پوسٹ مارٹم رپورٹ ان بیانات کی مکمل تائید کرتے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں، جبکہ نہتے والد پر سوتے ہوئے حملہ کرنا جرم کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ بھی مجرم کی سزائے موت برقرار رکھ چکا تھا۔

  • محسن نقوی کا  اسلام آباد مذاکرات کے دوران سیکیورٹی  اداروں کی کارکردگی پر خراج تحسین

    محسن نقوی کا اسلام آباد مذاکرات کے دوران سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر خراج تحسین

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران سیکیورٹی اور سول اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے-

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی، پنجاب رینجرز، پنجاب پولیس، موٹروے پولیس، فیڈرل کانسٹیبلری، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی، اسلام آباد انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، باہمی تعاون اور چوکس رویے کا مظاہرہ کیا، ان اداروں کے مؤثر اور مربوط سیکیور ٹی انتظامات کی بدولت مذاکرات کے دوران ایک محفوظ، پرامن اور منظم ماحول یقینی بنایا گیا، جو ایک اہم قومی سرگرمی کے لیے نہایت ضروری تھا، قوم کو اپنے سیکیورٹی اداروں کی محنت، لگن اور انتھک خدمات پر فخر ہے، جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں

  • اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے،ایرانی سفیر

    اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے،ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے-

    ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھی ہے جو باہمی اعتماد اور نیک نیتی کے فروغ سے مزید مضبوط ہو سکتا ہےایرانی سفیر نے پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئےکہا کہ برادر ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان مذاکرات کے انعقاد میں مثبت کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت، فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی مسلسل کاوشوں سے مذاکرات ایک پرامن، منظم اور محفوظ ماحول میں منعقد ہو ئے، جہاں فریقین کو یکساں سہولیات فراہم کی گئیں،ایرانی اعلیٰ سطح مذاکراتی وفد نے وقار، خود اعتمادی اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ مذاکرات کیے، تاکہ ایرا نی عوام کے قومی مفادات اور جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جو تمام فریقین کے مفاد ات کے لیے پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتے ہیں۔

  • پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں تیز، سعودی عرب سمیت اہم ممالک کو مذاکرات پر بریفنگ

    پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں تیز، سعودی عرب سمیت اہم ممالک کو مذاکرات پر بریفنگ

    ‎پاکستان نے اسلام آباد میں ہونے والے اہم سفارتی مذاکرات کی پیشرفت سے سعودی عرب سمیت اہم دوست ممالک کو آگاہ کر دیا ہے، جس سے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں انہیں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
    ‎اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کے لیے جنگ بندی کے معاہدوں کی پاسداری نہایت ضروری ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
    ‎اس کے علاوہ نائب وزیر اعظم نے ترکیہ کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھی رابطہ کیا اور انہیں مذاکرات کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ اسی طرح مصر کے وزیر خارجہ سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات شیئر کی گئیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے مختلف اہم ممالک کو بریفنگ دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد اس معاملے میں فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے بلکہ اس کے نتائج کو عالمی سطح پر ہم آہنگ کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

  • اسلام آباد میں ریڈ زون تاحال بند، شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

    اسلام آباد میں ریڈ زون تاحال بند، شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

    اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی آمدورفت کے باعث سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت ریڈ زون کے تمام داخلی اور خارجی راستے تاحال بند رکھے گئے ہیں۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق شہر کے اہم علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مختلف اوقات میں کلب روڈ، مری روڈ اور ایکسپریس ہائی وے پر ٹریفک کو عارضی طور پر روکا جا رہا ہے تاکہ سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان سڑکوں پر سفر کرنے والے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
    ‎ترجمان کے مطابق ریڈ زون میں غیر ملکی وفود کی مسلسل آمدورفت جاری ہے، جس کی وجہ سے یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ سیکیورٹی ادارے صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
    ‎شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر سفر ناگزیر ہو تو پہلے سے منصوبہ بندی کر کے نکلیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کی صورتحال کو بہتر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی صورتحال معمول پر آئے گی، راستوں کو مرحلہ وار کھول دیا جائے گا۔ تاہم اس وقت سیکیورٹی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ اہم سفارتی سرگرمیاں پرامن طریقے سے مکمل ہو سکیں۔