Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • ‎پاکستان کا محفوظ اور دوستانہ ماحول، ایران نے مذاکرات میں سراہا

    ‎پاکستان کا محفوظ اور دوستانہ ماحول، ایران نے مذاکرات میں سراہا

    ‎پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات میں دونوں ممالک نے بعض معاملات پر پیش رفت ضرور کی، تاہم چند بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایرانی وفد نے پاکستان کے محفوظ اور دوستانہ ماحول کو سراہا، جبکہ ابتدا میں ایران مذاکرات کے لیے پاکستان آنے پر آمادہ نہیں تھا، مگر چین اور روس کی کوششوں سے اسے قائل کیا گیا۔
    ‎ان مذاکرات میں دو بڑے مسائل پر خاص توجہ دی گئی۔ پہلا معاملہ آبنائے ہرمز کا تھا، جہاں مشترکہ کنٹرول کے حوالے سے ایران نے کچھ حد تک لچک دکھائی۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت حساس راستہ ہے۔
    ‎دوسرا اور زیادہ پیچیدہ معاملہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تھا، خاص طور پر وہ یورینیم افزودگی کا پلانٹ جو روس کی مدد سے چل رہا ہے۔ امریکا کا مؤقف تھا کہ ایران اس پروگرام کو ختم کرے یا اسے صرف شہری توانائی کے مقاصد تک محدود رکھا جائے۔ تاہم ایران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ اسرائیل سے درپیش سیکیورٹی خدشات اور امریکا کی جانب سے ضمانتوں کی عدم موجودگی کے باعث وہ اس پروگرام سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔
    ‎مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اپنی قیادت سے مشاورت کریں گے اور جنگ بندی کو برقرار رکھیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ مذاکرات جاری رکھنے پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی ہے، جو ممکنہ طور پر پاکستان، مصر یا ترکی میں ہو سکتے ہیں۔
    ‎ایرانی حکام نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ کسی حتمی حل تک پہنچنے کے لیے متعدد مذاکراتی دور درکار ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران مستقبل میں روس کے ساتھ اپنے جوہری تعاون کو محدود یا ختم کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو خطے میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ مسائل پیچیدہ ہیں، مگر سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امید کی کرن ابھی باقی ہے۔

  • سفارت کاری کا عمل کبھی رکتا نہیں ۔

    سفارت کاری کا عمل کبھی رکتا نہیں ۔

    پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد رواں ہفتے عالمی سفارت کاری کا اہم مرکز بنا رہا، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے۔ جمعے کی شب سے اتوار کی صبح تک جاری رہنے والے ان مذاکرات پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز رہیں، کیونکہ یہ دونوں ممالک طویل عرصے بعد براہ راست ایک میز پر آئے تھے۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب تقریباً 40 دنوں کی شدید کشیدگی اور جنگی ماحول کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ چکی تھی۔ ہزاروں جانوں کے نقصان اور بڑھتے تناؤ کے باوجود یہ ملاقات ایک مثبت قدم قرار دی جا رہی ہے، اگرچہ فوری معاہدے کی توقع کم ہی تھی۔
    ‎21 گھنٹے تک جاری رہنے والے بند کمرہ مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایک “حتمی اور بہترین پیشکش” چھوڑ کر جا رہا ہے، اب فیصلہ ایران کو کرنا ہے۔
    ‎اگرچہ اس پیشکش کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، مگر سفارتی حلقوں میں اسے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جہاں خاموش سفارت کاری جاری رہے گی۔
    ‎دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق اختلافات کے باوجود بات چیت کا تسلسل ہی امن کی امید کو زندہ رکھتا ہے۔
    ‎مذاکرات میں سب سے بڑے اختلافی نکات ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں طاقت کا توازن اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات رہے۔ یہ پیچیدہ مسائل فوری طور پر حل ہونے والے نہیں بلکہ مسلسل بات چیت اور اعتماد سازی کا تقاضا کرتے ہیں۔
    ‎پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بھی اس موقع پر امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی پر عملدرآمد نہایت ضروری ہے اور پاکستان آئندہ بھی اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
    ‎یہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ ہی واحد راستہ ہے، چاہے نتائج فوری نہ بھی نکلیں۔

  • اسلام آباد مذاکرات، پاکستان کا کردار برقرار مگر معاہدہ تاحال دور

    اسلام آباد مذاکرات، پاکستان کا کردار برقرار مگر معاہدہ تاحال دور

    ‎اسلام آباد میں ہونے والے اہم سفارتی مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے باوجود پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار جاری رکھے گا۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک جنگ بندی کے عزم پر قائم رہیں گے اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھے گا۔
    ‎اسحاق ڈار کے مطابق انہوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ ان مذاکرات کے مختلف مراحل میں دونوں فریقین کی معاونت کی۔ انہوں نے ان بات چیت کو “مشکل مگر تعمیری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس معاملات فوری حل نہیں ہوتے بلکہ وقت اور تسلسل کا تقاضا کرتے ہیں۔
    ‎امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اسے ایک ذمہ دار اور مثبت میزبان قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ امر خود اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
    ‎بعض حلقے ان مذاکرات کو پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں کیونکہ ایک جانب دونوں حریف ممالک کو ایک میز پر لانا آسان نہیں تھا، جبکہ دوسری جانب جنگ بندی کے ماحول کو برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ تاہم حتمی معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے کچھ مایوسی بھی پائی جاتی ہے۔
    ‎مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر فاروق حسنات کا کہنا ہے کہ ایسے مذاکرات کو ناکام نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق دونوں فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ دروازے بند نہیں ہوئے بلکہ بات چیت جاری ہے۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ کئی معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم چند اہم نکات پر اختلافات اب بھی باقی ہیں جس کی وجہ سے حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس عمل سے سفارتی سطح پر فائدہ ضرور ہوا ہے اور اس کا عالمی وقار بہتر ہوا ہے۔ تاہم اگر خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کو نہایت محتاط اور متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ وہ اپنے کردار کو برقرار رکھتے ہوئے امن کی کوششیں جاری رکھ سکے۔

  • انڈیا کو پیغام ہے اپنے حکمرانوں کو سمجھائیں عوام پر توجہ دیں،حنیف عباسی

    وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایران امریکا کے مابین امن مذاکرات کے لیے کردار ادا کرکے ثابت کیا کہ امن کے پیامبر ہیں-

    راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آج پاکستان کی شان دیکھیں کہ ایران، مصر اور یورپی یونین میں پاکستان کے ترانے پڑھے جا رہے ہیں، 193 ملکوں کو یہ منظر نصیب نہیں ہوا جو پاکستان کو ہوا، ان شاء اللہ اکانومی گروتھ بڑھے گی، گوادر اور کراچی پورٹ اَپ گریڈ ہوں گے کہ یہاں سرگرمیوں کے باعث جگہ نہیں ملے گی، پاکستانی عوام بھی جانتی ہیں کہ ملک بہت اہم کام کر رہا ہے اور لوگ مبارکباد دے رہے ہیں، راولپنڈی اسلام آباد کے بند ہونے پر بھی عوام نے خوش اسلوبی سے سہا کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں تھا۔

    وفاقی وزیر حنیف عباسی کا مذاکرات سے متعلق کہنا تھا کہ ایٹمی دھماکے کیے جس کہ وجہ سے کوئی پاکستان کی جانب آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اور آج پاکستان کی شان دیکھیں کہ آپ امن کے پیامبر بن گئے، یہ کارنامہ اس سے قبل کسی نے دیکھا اور نہ سنا،پاکستان خطے کا محفوظ ترین ملک ہے اور یقین رکھیں محفو ظ صرف اپنا گھر ہوتا ہے انڈیا کو پیغام ہے اپنے حکمرانوں کو سمجھائیں عوام پر توجہ دیں، وہاں 70 فیصد کو ٹوائلٹ میسر نہیں، دہلی کے چند جگہوں پر ترقی و ز ندگی نظر آتی ہے، مودی سے کہتا ہوں 10 مئی کو شسکت کے زخم چاٹے تھے، اب آپ اپنا گھر بچائے۔

    محکمہ ریلوے کی کاکردگی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ریلوے کی بہتری کے لیے بیل آؤٹ پیکج دیا ہے، اب نہ بجلی بند ہوگی اور نہ گیس، ریلو ے مزید ترقی کرے گا، سفاری ٹرین کو اَپ گریڈ کرکے تمام کوچز کو ایئر کنڈیشنڈ کر دیا گیا، مسافروں اور اسٹاف کو مزید سہولیات بھی دے رہے ہیں۔

    حنیف عباسی نے کہا کہ سفاری ٹرین پہلے بھی چلتی تھی لیکن فرق سوچ کا اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا ہے، سہولت کو سندھ میں بھی شروع کیا ہے راولپنڈی میں سفاری ٹرین کی کسی کوچ میں اے سی نہیں تھا اور عوام کو شدید گرمی میں سفر کرنا پڑتا تھا لیکن ٹرین و کوچز کو اَپ گریڈ کرکے ہر کوچ میں اے سی نصب کر دیا گیا ہے اور سیٹیں بھی کشن کی گئی ہیں راولپنڈی سے گولڑہ، مارگلہ اور اٹک خود کے تاریخی سیاحتی مقام تک ہر اسٹیشن پر ٹرین ر کتی ہے جہاں مسافروں کو ریفریشمنٹ اور تاریخ سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ ہمیں ریلوے مزدور کا احساس ہے، تمام دن شدید گرمی میں محنت کرتا ہے، ٹریک کو مینٹین کرتا ہے، ورکشاپوں میں کام کرتا ہے، ایسے تمام عملے کا ریلوے معترف ہے مانتا ہوں ٹریک کے ایشوز ہیں، سالوں سے لوکو موٹیو بہتر نہیں ہوئی، ان شاء اللہ جولائی تک اَپ ریلوے لوکو موٹیو میں بہتر ی دیکھیں گےستمبر کے پہلے ہفتے میں لاہور تا راولپنڈی ٹریک سے متعلق اسٹون لینگ کرنے جا رہے ہیں لاہور اور راولپنڈی کے ٹریک پر ڈھائی ار ب کی لاگت سے پنجاب حکومت کام کرے گی، مریم نواز کی توجہ چاہیے تھی وہ مل گی ہے وہ کام بہت تیزی سے کرتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ روہڑی جنکشن کے حوالے سے جوائنٹ وینچر کر رہے ہیں، 40 فیصد سندھ حکومت اور 60 فیصد وفاق دے گا۔ کے پی حکومت سے بات چیت نہیں ہوئی لیکن سیکرٹری ریلوے کے ذریعے رابطہ کیا ہے، ہمارا دل بڑا ہے تھر کول ایک سو پانچ کلو میڑ پہلی مرتبہ کرنے جا رہے ہیں یہ بھی حقیقت ہےکہ 300 مسافروں کو لےجانے والا پائلٹ فائیو اسٹار ہوٹل میں رہتا ہےاور ریلوے کے 1100 مسافروں کو لے جانے والے ٹرین ڈرائیور کے لیے کوئی سہولت نہیں لیکن اب ہم دیں گے پاکستان ریلوے کو پہلے سے بہت زیادہ ترقی دیں گے کفایت شعاری کے سلسلے میں تین گاڑیاں استعمال نہیں کیں، تمام افسران کا کٹ اسی دن لگا جب حکومت نے لگایا، پیٹرول کی قیمت خوشی سے نہیں بڑھائی جاتی، دعا کریں سیز فائر جاری رہے تو بہتری آئے گی۔

    قبل ازیں، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے سینیئر مسلم لیگی خاتون رہنما و ممبر قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب کے ہمراہ راولپنڈی اسٹیشن سے اٹک خورد کے تاریخی سیاحتی مقام تک چلنے و اَپ گریڈ کی جانے والی سفاری ٹرین کا افتتاح کیا۔

  • گوادر ریفائنری منصوبے میں سعودی عرب 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

    گوادر ریفائنری منصوبے میں سعودی عرب 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

    پاکستان میں توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑی سرمایہ کاری متوقع ہے سعودی عرب گوادر میں جدید آئل ریفائنری کے قیام کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر لگانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں سعودی تیل کمپنی آرامکو پاکستانی سرکاری کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

    میڈیا میں شائع سیف الرحمان کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے لیے ابتدائی بات چیت مکمل ہو چکی ہے اور اب شراکت داری کے خد وخال طے کیے جا رہے ہیں آرامکو اس میگا پراجیکٹ میں لیڈ کرے گی جبکہ پاکستان کی چار بڑی کمپنیاں، پی ایس او، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل مجموعی طور پر 40 سے 45 فیصد حصہ داری رکھیں گی۔

    مجوزہ ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت 4 لاکھ بیرل تک ہو سکتی ہے، جو پاکستان کی موجودہ ریفائننگ ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرے گی۔ منصوبے کو قابلِ عمل بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے 20 سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ سرمایہ کاری نہ صرف گوادر کو علاقائی انرجی حب بنائے گی بلکہ سی پیک کے تحت اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار دے گی، سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں آئل ریفائنری کا قیام طویل عرصے سے زیر بحث تھا، اور اب اس پر عملی پیش رفت کا امکان روشن ہو گیا ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ  : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے

    امریکہ ایران کشیدگی جنگ بندی کی امید یا وقتی خاموشی؟

    عالمی طاقتیں متحرک، کیا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے بحران سے بچ جائے گا؟

    دو ہفتوں کی مہلت: کیا سفارتکاری جنگ پر غالب آ سکتی ہے؟

    مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید کیا جنگ ٹل سکتی ہے؟

    عالمی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ ایسے حساس وقت میں اگر کوئی ملک مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔

    اس تناظر میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے نہایت متوازن اور ذمہ دار سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کشیدگی عروج پر تھی، پاکستان نے پل کا کردار ادا کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کیا۔ یہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک مثبت اور تعمیری قدم ہے، جو پاکستان کی سفارتی بصیرت اور ذمہ دارانہ عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات اور امن کو ترجیح دی ہے، جو اس کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل اور مثبت پہلو رہا ہے۔

    حالیہ صورتحال میں یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ سفارتی سطح پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر واقعی جنگ بندی (سیز فائر) کے لیے دو ہفتوں کا وقت طے پایا ہے تو یہ ایک اہم موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ بندی کے ابتدائی لمحات ہمیشہ نازک ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اعتماد سازی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس عرصے کے دوران فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مذاکرات کو جاری رکھیں، تو ایک مستقل حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    اس تنازعے کی پیچیدگی اس بات میں ہے کہ یہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر پڑتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ اگر یہ کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو نہ صرف علاقائی استحکام خطرے میں پڑے گا بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی بندش کے باعث۔

    بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دے۔ بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر قائم رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار ممالک کا کردار بھی نہایت اہم ہو جاتا ہے جو اعتماد سازی میں پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی دیرپا امن کے لیے صرف وقتی جنگ بندی کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بنیادی مسائل کو حل کرنا ضروری ہوتا ہے، جن میں سیکیورٹی خدشات، علاقائی اثر و رسوخ، اور جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔ جب تک ان نکات پر کھلے دل سے بات چیت نہیں ہوگی، تب تک مستقل امن ایک خواب ہی رہے گا۔

    تاہم، موجودہ حالات میں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اگر جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی جو خطے کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتی ہے دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ ایک دانشمندانہ قدم امن اور استحکام کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ عالمی قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا کردار کس طرح درج کروانا چاہتی ہے۔

  • امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیشرفت ہے۔

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے خطے میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی گئی تھی، جس پر اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکا دونوں نے مثبت ردعمل دیا، دونوں ممالک کے وفود گزشتہ روز پاکستان پہنچے تاکہ اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کر سکیں پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کے حصول میں مدد فراہم کی بلکہ اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کیں، جو پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مکالمے اور رابطوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے دونوں ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے عزم اور مذاکرات میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسائل کے حل کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور پاکستان اس عمل میں سہولت کار کے طور پر اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

  • بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا-

    اسلام آباد میں ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک تفصیلی اور طویل مذاکرات ہوئے، تاہم اس کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔

    انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ صورتحال ایران کے لیے بری خبر ہے کیونکہ امریکا نے اپنے مؤقف اور شرائط کھل کر سامنے رکھیں، مگر ایران نے انہیں تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا،امریکا کو ایک واضح اور ٹھوس یقین دہانی درکار ہے کہ ایران نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ ایران ایک مضبوط اور قابلِ تصدیق عزم ظاہر کرے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی ایسے وسائل حاصل کرے گا جو اسے تیزی سے اس قابل بنا سکیں، تاہم اب تک ایسی کوئی حتمی یقین دہانی سامنے نہیں آئی اگرچہ معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ ایرانی وفد کے ساتھ کئی اہم اور ٹھوس امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس سے آئندہ مذاکرات کے لیے کچھ بنیاد ضرور قائم ہوئی ہے۔

    امریکی نائب صدر نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد مسلسل اپنے اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت پینٹاگون اور نیشنل سیکیورٹی اداروں سے متعدد بار مشاورت کی گئی، تاکہ ہر مرحلے پر حکمت عملی کو واضح رکھا جا سکے امریکی وفد اب بغیر کسی معاہدے کے واپس امریکا جا رہا ہے، تاہم مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور امید ہے کہ آگے چل کر پیشرفت ہو سکتی ہے۔

    جے ڈی وینس نے پاکستان کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’حیرت انگیز کام‘ کیا اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

    پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا، تاہم حتمی پیش رفت کے لیے ایران کی جانب سے واضح اور عملی یقین دہانی ناگزیر ہے،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا اور ان کی میزبانی و سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

    اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کوشش کی۔

    میڈیا سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکر ا ت کے دوران انتہائی متحرک اور مثبت کردار ادا کیا،پاکستان کی قیادت نے ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر کام کرتے ہوئے امریکا اور ایران کو قریب لانے کی سنجیدہ کوشش کی۔

    نائب صدر کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جہاں پاکستان کی قیادت نے فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور بات چیت کو تعطل کا شکار ہونے سے بچایا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے نہ صرف اعلیٰ سطحی سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عملی طور پر بھی دونوں جانب اعتماد سازی کی کوششیں کیں۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ اگرچہ اس مرحلے پر کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم پاکستان کی کوششوں نے مذاکرات کو ایک مثبت سمت ضرور دی اور کئی اہم نکات پر پیشرفت ممکن بنائی امریکی وفد اب واشنگٹن واپس جائے گا جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی میزبانی اور سہولیات عالمی معیار کے مطابق تھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنجیدہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں قیادت کی اور ان کی کاوشیں آئندہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں امی ہے کہ مستقبل میں جب بھی مذاکرات کا اگلا دور ہوگا، پاکستان اسی طرح ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے رخصت کیا۔

    یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم امور، خصوصاً جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ تاہم طویل مذاکرات کے باوجود فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

    امریکی نائب صدر نے روانگی سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت کے کچھ پہلو سامنے آئے، لیکن بنیادی نکات پر اتفاق نہ ہو سکا انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے اس بات کی ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانی درکار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

  • اسلام آباد میں مذاکرات کا تیسرا دور،امریکا ،ایران آمنے سامنے

    اسلام آباد میں مذاکرات کا تیسرا دور،امریکا ،ایران آمنے سامنے

    پاکستان میں جاری ایران اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ایک مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بات چیت کا یہ نیا دور ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب فریقین کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں اور بعض نکات پر شدید تناؤ بھی دیکھا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے دو مرحلے ہو چکے ہیں، دوسرے مرحلے میں امریکا ایران آمنے سامنے تھے اور پاکستانی حکام بھی شریک تھے، پاکستانی ذرائع نے پہلے بتایا تھا کہ مذاکرات کے دوران “تبدیل ہوتے مزاج” اور “درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ” دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

    بات چیت میں سب سے اہم اور حساس معاملہ آبنائے ہرمز کا ہے، جس پر ایران اور امریکا کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی، کنٹرول اور خطے میں اس کے اثرات مذاکرات کا مرکزی نکتہ بنے ہوئے ہیں۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دور مذاکرات ایک ممکنہ “آخری موقع” سمجھا جا رہا ہے تاکہ فریقین کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچ سکیں۔ تسنیم کے مطابق امریکی رضامندی کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ بات چیت کسی ابتدائی معاہدے یا فریم ورک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

    ایرانی وفد اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ وہ اپنی “فوجی کامیابیوں” اور قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ تہران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایرانی عوام کے حقوق اور خطے میں اس کے کردار کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

    پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والےمذاکرات کا مجموعی لہجہ اور نتائج اب تک بڑی حد تک مثبت رہے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے پر تعطل برقرار ہے، اس سے قبل ایرانی ذرائع نے بتایا تھا کہ امریکا نے آبی گزر گاہ بارے ناقابل قبول مطالبات کئے ہیں، ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی اسی نوعیت کے اختلافات کی اطلاع دی ہے،

    یہ مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہو رہے ہیں، جہاں سیکیورٹی اور سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ دونوں سطحوں پر رابطے جاری ہیں، جبکہ مذاکراتی ماحول کو محتاط اور حساس قرار دیا جا رہا ہے۔اگرچہ بات چیت دوبارہ شروع ہو چکی ہے، لیکن فی الحال کسی حتمی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق آئندہ چند گھنٹے اس پورے عمل کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔

    اسلام آباد امن مذاکرات میں ایرانی کو نفسیاتی برتری ملی ہے کوشش کے باوجود بات چیت دوسرے روز میں داخل ہوگئی ہے ، امریکی نائب صدر نتیجہ لیکر واپس جانے کے خواہشمند تھے ، اب اور کچھ ملکوں نے ایرانی صدر سے بات چیت کی ہے تاکہ معاملہ کس نتیجہ پرپہنچے ۔جے ڈی وینس امریکی مفاد میں کوئی معاہدہ چاہتے ہیں کیونکہ مڈل ٹرم الیکشن میں ووٹر کو کچھ دکھا سکیں دوسراوہ اگلے انتخابات میں صدارتی امیدوار بھی بننا چاہتے ہیں لیکن مذاکرات کو طول دیکر زیادہ سے زیادہ معاملات اپنے حق میں لانا چاہتا ہے کیونکہ یہ اس کے پاس بھی آخری موقع ہے

  • اسلام آباد،امریکا ایران مذاکرات میں اتار چڑھاؤ، سنجیدہ اختلافات برقرار

    اسلام آباد،امریکا ایران مذاکرات میں اتار چڑھاؤ، سنجیدہ اختلافات برقرار

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مذاکرات دوسرے روز میں داخل ہوگئے، پاکستان مذاکرات میں ثالث کی حیثیت سے شریک ہے۔

    مذاکرات سے قبل ایران اور امریکا کے وفود نے وزیر اعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی اور عالمی امن کی صورتِ حال پر غور کیا گیا،1979 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست اعلیٰ ترین سطح پر بیٹھک ہوئی ہے۔ ان مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر حکام نے مہمانوں کا دارالحکومت میں خیر مقدم کیا ،امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔

    اسلام آباد میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے دوران فضا میں کئی بار اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جبکہ بعض حساس معاملات پر دونوں فریقوں کے درمیان اب بھی سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل میں بعض اوقات ماحول کشیدہ ہوا اور بعض لمحات میں نرمی بھی دیکھی گئی۔برطانوی خبر رساں ادارے اسکائی نیوز کے مطابق ایک پاکستانی ذریعے نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران دونوں وفود کے رویوں میں "موڈ سوئنگز” دیکھنے میں آئیں اور ملاقات کے دوران درجہ حرارت یعنی ماحول کبھی گرم اور کبھی سرد رہا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت آسان مرحلے سے نہیں گزر رہی اور کئی معاملات پر سخت مؤقف اپنایا گیا۔مذاکراتی ٹیمیں تقریباً دو گھنٹے تک بند کمرے میں گفتگو کرتی رہیں، جس کے بعد وقفہ لیا گیا،

    ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز مذاکرات کی کامیابی کے لیے سب سے اہم نکات میں شامل ہے، مگر یہی معاملہ دونوں فریقوں کے درمیان شدید اختلاف کا سبب بھی بنا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے اس پر کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔

    پاکستان میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات پر آدھی رات گزرنے کے باوجود کوئی باضابطہ اعلامیہ، پریس بریفنگ یا مشترکہ بیان سامنے نہیں آیا، جس سے سفارتی حلقوں میں بے چینی اور تجسس بڑھ گیا ہے۔ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتائج تاحال خفیہ رکھے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اب تک جو محدود معلومات سامنے آئی ہیں، وہ زیادہ تر ایرانی ذرائع ابلاغ اور تہران کے قریب سمجھے جانے والے حلقوں سے موصول ہوئی ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذاکرات میں کئی حساس معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریب ایک ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز اور دیگر کئی معاملات پر ایسے مطالبات پیش کیے ہیں جنہیں ایران نے "ناقابل قبول” قرار دیا ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران "ضرورت سے زیادہ مطالبات” پیش کیے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وفد، پاکستانی حکام اور میزبان انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد میں موجود صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا نمائندوں کو بھی ابھی تک کسی بریفنگ کا انتظار ہے۔

    یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، بحری سلامتی، جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ جیسے معاملات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ خطے میں تناؤ کم کرنے کی بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے،سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری رہنے کا امکان موجود ہے، لیکن کسی پیش رفت کے لیے دونوں فریقوں کو اپنے مؤقف میں لچک دکھانا ہوگی۔ دنیا بھر کی نظریں اب اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا یہ خاموش رات کسی بڑے اعلان پر ختم ہوگی یا نہیں۔