ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ کے ہزاروں کارٹن کی چوری، جانچ کرنے والی کمیٹی کے چیئرمین کو ایف بی آر کی جانب سے ہراساں کئے جانے کا انکشاف سامنے آگیا۔
سیف اللہ ابڑو نے بتایا کہ کمیٹی کے بعد گھر جاتا ہوں تو ایف بی آر کا نیا نوٹس مل جاتا ہے مگر ڈرنے والا نہیں۔کمیٹی رکن عمر فاروق نے کہا کہ اسمگلنگ میں کسٹمز عملہ ملوث ہے، پیٹرول، ڈیزل اور شراب سمیت دیگر اشیاء اسمگل ہوکر آرہی ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکس سے مستشنیٰ علاقوں میں قائم فیکٹریوں کی تفصیلات دی جائیں، فاٹا اور پاٹا کرپشن کا گڑھ بن چکے، ٹیکس چوری کیا جارہا ہے۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ بلوچستان کے جس بارڈر سے اسمگلنگ ہورہی ہے اسے روکا جائے۔ کسٹمز حکام نے بتایا کہ گوادر، پنجگور، چاغی سمیت مختلف اضلاع سے ایرانی تیل آتا ہے، 30 لاکھ لیٹر ایرانی تیل روزانہ اسمگل ہوکر آتا ہے، ایک سال میں کسٹمز نے ڈھائی ارب کی پیٹرولیم مصنوعات پکڑیں۔
دوسری جانب رواں مالی سال 610 ارب روپے شارٹ فال کے باوجود ٹیکس مقدمات سست روی کا شکار ہیں، ایف بی آر کے ٹیکس مقدمات 5 ہزار 457 ارب روپے سے تجاوز کرگئے۔وزیراعظم شہباز شریف نے عدالتوں اور اپیلٹ ٹریبونلز میں زیر التواء ٹیکس کیسز پر تشویش کا اظہار کردیا۔ انہوں نے ٹیکس کیسز کی جلد سماعت کیلئے لائحہ عمل پر رپورٹ مانگ لی۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2 سال میں التواء کے شکار ٹیکس کیسز کی شرح میں مزید 30 فیصد اضافہ ہوگیا، سپریم کورٹ میں 3 ہزار 277 ٹیکس کیسز میں 169 ارب روپے سے زائد پھنسے ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹیکس کیسز کا حجم 3760 ارب روپے سے بڑھ کر 5457 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے، اپیلٹ ٹریبونلز میں التواء کے شکار ٹیکس کیسز بڑھ کر 3330 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
