Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    وزیراعظم کی زیر صدارت خلیجی بحران کے پیٹرولیم مصنوعات پر اثر، پاکستان میں موجودہ ذخائر اور عوامی ریلیف کے اقدامات پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    وزیر اعظم آفس کے مطابق اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ کمزور اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مزید ریلیف فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گےاجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ممکنہ ریلیف سے استفادے کیلئے موٹرسائیکل اور رکشوں کے حامل افراد کی ملکیتی رجسٹریشن کو جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے روابط مربوط کئے جار ہے ہیں.

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ سرکاری اخراجات میں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فی الفور بند کیا موجودہ حالات میں قربانی کا سلسلہ حکومتی اخراجات میں کٹوتی سے شروع کیا. تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کرکے، بچت کے اقدمات سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف کیلئے بروئے کار لائی گئی. ڈیجیٹل نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی ریلیف کے اقدامات عام آدمی تک پہنچائیں گے. عالمی سطح پر بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کی بدولت اللہ کے فضل و کرم سے ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنے دیا گیا. پاکستان خطے میں امن کے حوالے سے سفارتی محاذ پر بھرپور کوششیں کر رہا ہے.

    اجلاس کو ایندھن کی بچت کیلئے حکومتی اقدامات پر عملدرآمد، آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز اور موجودہ اسٹاک پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو وزیرِ اعظم کے ایندھن کی بچت کے اقدامات پر عملدرآمد اور سادگی مہم پر پیش رفت پر انٹیلیجینس بیورو کی آڈٹ رپورٹ بھی پیش کی گئی.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی بچت و سادگی مہم پر عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے. ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود اور آئندہ کیلئے بھی انتظامات کئے جا رہے ہیں. اشرافیہ کی بڑی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی میں اضافے سے جیٹ فیول کی قیمتو ں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی. بریفنگ. وزیرِ اعظم کی بچت مہم کے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ادویا ت کا وافر ذخیرہ موجود ہے،اجلاس کو آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کی گئیں.

    اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء محمد آصف، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، سید مصطفی کمال، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، شزہ فاطمہ خواجہ، رانا مبشر اقبال، سردار اویس خان لغاری، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی طارق فاطمی، طلحہ برکی، ارکان قومی اسمبلی انجینئیر قمر الاسلام، ریاض الحق، حافظ محمد نعمان اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

  • اسحاق ڈار غیر ملکی مہمان کے استقبال میں گر کر زخمی، کندھے میں فریکچر

    اسحاق ڈار غیر ملکی مہمان کے استقبال میں گر کر زخمی، کندھے میں فریکچر

    اسحاق ڈار مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کے استقبال کے دوران پھسل کر گر گئے تھے، جس کے نتیجے میں ان کے کندھے پر چوٹ آئی۔

    اسلام آباد میں ایک اہم سفارتی تقریب کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار گر کر زخمی ہو گئے، تاہم انہوں نے تکلیف کے باوجود دن بھر کی تمام سرکاری ذمہ داریاں جاری رکھیں،نائب وزیر اعظم کے صاحبزادے علی ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بتایا کہ چوٹ کے باوجود اسحاق ڈار نے پورا دن درد کش ادویات لے کر اہم سفارتی ملاقاتیں مکمل کیں۔

    علی ڈار کے مطابق رات تقریباً 9 بجے سرکاری بیان کی ریکارڈنگ کے بعد اہل خانہ کے اصرار پر ان کا طبی معائنہ کروایا گیا، جس میں ایکس رے مجموعی طور پر تسلی بخش قرار دیے گئے، تاہم کندھے میں ہئیر لائن فریکچر کی تصدیق ہوئی ہے آئندہ چند روز تک درد کو ادویات اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے کنٹرول کی جائے گا انہوں نے عوام کی جانب سے موصول ہونے والی دعاؤں اور نیک تمناؤں پر شکریہ بھی ادا کیا۔

  • صدر مملکت نے  خوراک کے ضیاع کو سنگین قومی مسئلہ قرار دیا

    صدر مملکت نے خوراک کے ضیاع کو سنگین قومی مسئلہ قرار دیا

    صدر آصف علی زرداری نے عالمی یومِ زیرو ویسٹ کے موقع پر اپنے پیغام میں خوراک کے ضیاع کو سنگین قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس میں کمی کو ہر سطح پر عملی ترجیح بنانے پر زور دیا ہے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ امسال عالمی یومِ زیرو ویسٹ کی توجہ خوراک کے ضیاع پر مرکوز ہے، جو عام شہری کی روزمرہ زندگی سے جڑا ایک اہم مسئلہ ہے منڈی تک پہنچنے سے پہلے خوراک کا خراب ہو جانا اور ناقص ذخیرہ کاری کے باعث فصلوں کا ضائع ہونا بڑے چیلنجز ہیں، جن پر فوری توجہ دینا ناگزیر ہے،تقریبات میں بچ جانے والی خوراک کو ضائع کرنا وسائل کا ضیاع ہے، کیونکہ خوراک کے ساتھ پانی، زمین اور توانائی بھی ضائع ہوتی ہے مزید برآں، لینڈفل میں جا نے والی خوراک ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرتی ہے اور اس کا تعلق موسمیاتی تبدیلی سے بھی ہے۔

    صدر زرداری نے کہا کہ ایک زرعی معیشت ہونے کے ناتے پاکستان کو بعد از برداشت نقصانات کم کرنے، بہتر کولڈ چین اور اسٹوریج سسٹم اپنانے کی ضرور ت ہے انہوں نے اضافی خوراک مستحق افراد تک پہنچانے، سرکاری اداروں کی جانب سے عملی مثال قائم کرنے اور کاروباری اداروں کو ذمہ دارانہ منصو بہ بندی اختیار کرنے پر زور دیا۔

    انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ گھریلو سطح پر محتاط خریداری اور درست ذخیرہ کاری کو یقینی بنائیں صدر مملکت کے مطابق خوراک کے ضیاع میں کمی ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، جس سے نہ صرف غذائی تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے بلکہ ماحول پر دباؤ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

  • 
پی آئی اے کی لندن پروازیں 6 سال بعد بحال

    
پی آئی اے کی لندن پروازیں 6 سال بعد بحال

    
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن نے طویل انتظار کے بعد 6 سال کے وقفے کے بعد لندن کے لیے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں، جسے قومی ہوا بازی کے شعبے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    پی آئی اے کی پہلی پرواز پی کے 785 اسلام آباد سے 325 مسافروں کو لے کر لندن کے لیے روانہ ہوئی۔ اس موقع پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک خصوصی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی، جس میں سیکریٹری دفاع اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے شرکت کی اور پرواز کو روانہ کیا۔
    ‎تقریب کے دوران کیک کاٹا گیا اور مسافروں میں تحائف تقسیم کیے گئے، جبکہ ایک خوش نصیب مسافر کو قرعہ اندازی کے ذریعے 660 سی سی گاڑی انعام میں دی گئی، جس نے تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔
    ‎اس موقع پر پی آئی اے کنسورشیم کے چیئرمین عارف حبیب سمیت اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق اسلام آباد سے لندن کے لیے ہفتہ وار تین پروازیں چلائی جائیں گی جبکہ 30 مارچ سے لاہور سے بھی ہفتے میں ایک پرواز کا آغاز کیا جائے گا، یوں مجموعی طور پر چار پروازیں ہفتہ وار آپریٹ ہوں گی۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ لندن روٹ کی بحالی سے نہ صرف مسافروں کو سہولت ملے گی بلکہ قومی ایئر لائن کی ساکھ اور آمدنی میں بھی بہتری آئے گی۔

  • 
سعودی وزیر خارجہ کی وزیر اعظم ہاؤس آمد، اہم معاملات زیر غور

    
سعودی وزیر خارجہ کی وزیر اعظم ہاؤس آمد، اہم معاملات زیر غور

    
اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کی سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں جہاں سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے وزیر اعظم ہاؤس کا دورہ کیا اور اہم ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    وزیر اعظم ہاؤس آمد پر سعودی وزیر خارجہ کا استقبال وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ سید طارق فاطمی نے کیا، جبکہ بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے دفتر میں معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔
    ‎ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے فروغ پر گفتگو کی گئی۔ اس اہم ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، مشیر برائے قومی سلامتی اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل محمد عاصم ملک بھی شریک تھے۔
    ‎ذرائع کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اس ملاقات کو خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ممکنہ سفارتی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
    ‎پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اور قریبی تعلقات موجود ہیں، اور اس طرح کے اعلیٰ سطحی رابطے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  • پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسلام آباد میں جاری

    پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسلام آباد میں جاری

    
اسلام آباد میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اجلاس شروع ہو گیا ہے، جس میں پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اس اجلاس کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس کی صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں، جبکہ شریک ممالک کے وزرائے خارجہ موجودہ کشیدگی، ممکنہ سفارتی حل اور مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور بات چیت کا عمل آگے بڑھ سکے۔
    ‎یہ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکا کی جانب سے تیار کردہ 15 نکاتی مجوزہ امن منصوبہ اسلام آباد کے ذریعے تہران تک پہنچایا گیا تھا، جس سے پاکستان کے فعال سفارتی کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے علاقائی اجلاس خطے میں اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پلیئر کے طور پر سامنے لا رہی ہیں۔

  • سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے،عطا تارڑ

    سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے۔

    سوشل میڈیا پر اسمارٹ لاک ڈاؤن سے منسوب ایک مبینہ جعلی نوٹیفکیشن گردش کر رہا ہے جس حوالے سے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ وہ نوٹیفکیشن جعلی ہے، وفاقی حکومت نے ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے حوالے سے صوبوں اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ مشاورت شروع کر د ی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاؤن کا حتمی فیصلہ تمام صوبوں اور وفاقی اکائیوں کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا وزارت خزانہ کو اس حوالے سے خصوصی ٹاسک دے دیا گیا ہے تاکہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں پر لاک ڈاؤن کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے فیصلے کے بعد کاروباری، تجارتی، صنعتی اور سر وس سیکٹر پر اس کے اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    ذرائع نے بتایا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران شادی بیاہ اور دیگر تقریبات محدود کر دی جائیں گی جبکہ قومی شاہراہیں عام ٹریفک کے لیے بند کی جا سکتی ہیں تاکہ لاک ڈاؤن کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں، لاک ڈاؤن کے نفاذ کی مدت اور شیڈول تمام متعلقہ اکائیوں کی منظوری کے بعد طے کیا جائے گا اور ا س کے بعد باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر زیر گردش مبینہ جعلی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ملک میں توانائی اور ایندھن کی بچت کے پیش نظر ہفتے میں دو روزہ اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جو آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں، لاک ڈاؤن ہر ہفتے ہفتہ کی دوپہر 12 بجے سے اتوار کی رات 12 بجے تک نافذ کیا جائے گا، جبکہ شادی بیاہ سمیت تمام کمرشل سرگرمیاں معطل رکھنے کی سفارش شامل کی گئی تھی اس کے علاوہ جعلی نوٹیفکیشن میں کاروباری مراکز، دفاتر اور دیگر غیر ضروری سرگرمیاں بھی بند رکھنے کی ہدایات شامل کی گئی تھیں، ابتدائی طور پر اسمارٹ لاک ڈا ؤن کے نفاذ کا آغاز 4 اپریل سے کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔

  • 
موٹر سائیکل اور رکشہ سواروں کیلئے سستا پیٹرول دینے کی تیاری

    
موٹر سائیکل اور رکشہ سواروں کیلئے سستا پیٹرول دینے کی تیاری

    
وفاقی حکومت نے بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے موٹر سائیکل اور رکشہ سواروں کو ریلیف دینے کی غرض سے ٹارگٹڈ سبسڈی اسکیم پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس مجوزہ منصوبے کے تحت عام آدمی، خصوصاً کم آمدن والے طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    ذرائع کے مطابق حکومت اس اسکیم کے لیے تقریباً 300 ارب روپے مختص کرنے پر غور کر رہی ہے، تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر کم سے کم منتقل ہو۔ وزارت خزانہ نے اس حوالے سے چاروں صوبوں سے بھی مالی تعاون کی درخواست کی ہے اور تجویز دی ہے کہ صوبے اپنے بجٹ سے 154 ارب روپے فراہم کریں۔
    ‎حکومتی حلقوں کے مطابق اس وقت دو اہم آپشنز زیر غور ہیں۔ پہلا یہ کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیا جائے، جبکہ دوسرا آپشن یہ ہے کہ صرف مخصوص طبقات کو ٹارگٹ کر کے سبسڈی دی جائے۔ اس سلسلے میں موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ یہ زیادہ تر متوسط اور نچلے طبقے کی سواری ہیں۔
    ‎تجویز کے مطابق موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر جبکہ رکشہ ڈرائیورز کو 30 لیٹر تک سستا پیٹرول فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام سے روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے لاکھوں افراد کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کو حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ ہفتے ایک اہم اجلاس متوقع ہے جس میں صدر مملکت، وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے۔ اس اجلاس میں سبسڈی کے طریقہ کار اور فنڈز کی تقسیم پر فیصلہ کیا جائے گا۔
    ‎دوسری جانب حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پیٹرول کا موجودہ ذخیرہ مئی کے پہلے ہفتے تک ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے، جس سے فوری قلت کا خدشہ نہیں ہے۔

  • سعودی عرب  کے وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گے

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گے

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ آج سہ پہر 3 بجے اسلام آباد پہنچیں گے-

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ 29 سے 30 مارچ 2026 تک اسلام آباد کا اہم دورہ کریں گے، جس کا مقصد خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت کرنا ہے دفتر خارجہ کے مطابق، یہ دورہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے جس میں معزز مہمان اہم ملاقاتیں کریں گے، وزیر خارجہ کے دورے کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے علاوہ اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوگی۔

  • سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا ریمارکس،صارفین کی ٹرمپ پر شدید تنقید ،علامہ طاہر اشرفی کی بھی سخت مذمت

    سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا ریمارکس،صارفین کی ٹرمپ پر شدید تنقید ،علامہ طاہر اشرفی کی بھی سخت مذمت

    میامی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں دیے گئے ریمارکس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق میامی میں منعقدہ سعودی انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ولی عہد کے حوالے سے سخت اور نازیبا انداز میں گفتگو کی،انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں میری چاپلوسی کرنی پڑے گی، محمد بن سلمان سمجھتے تھےکہ ٹرمپ بھی دوسرے امریکی صدور کی طرح کوئی ناکام آدمی ہو گا جن کے دور میں ملک زوال کا شکار تھا ، اب سعودی ولی عہد کو ان کے ساتھ احترام سے بات کرنا پڑتی ہے اور انہیں ایسا کرنا ہی ہوگا، ان کے اس بیان کو سفارتی آداب کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر ٹرمپ کے ان ریمارکس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جا رہا ہے،بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایسے بیانات امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک خطے میں اہم اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔

    ادھر چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد سے متعلق نازیبا الفاظ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کے سعودی ولی عہد سے متعلق نازیبا الفاظ افسوسناک ہیں، ولی عہد بہادر ہیں، فیصلہ اور صبر کی صلاحیت رکھتے اور عالمی شازشوں کو سمجھتے ہیں، سعودی ولی عہد ایران پرحملہ کرنےکےحامی نہیں اور امن کےلیےکوشاں ہیں، امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پورا عالم اسلام غم کی کیفیت میں ہے۔

    علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان اور ترکیے خطے میں امن کے لیے کوشاں ہیں، امریکا اور صہیونی لابی اس لیے پروپگینڈا کر رہی ہےکہ وہ ان کے ہاتھوں استعمال نہیں ہو رہے صہیونی میڈیا اور عالمی رہنما جتنا بھی چاہیں عرب دنیا اس جنگ میں نہیں آئےگی۔