Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • اسحاق ڈار سے مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ،ایران سمیت علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار سے مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ،ایران سمیت علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات ہوئی ہے، جس میں خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے مصری وزیر خارجہ کا دفتر خارجہ آمد پر پرتپاک استقبال کیا اور کہاکہ پاکستان مصر کے ساتھ دیرینہ اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، جو مشترکہ تاریخ، مذہب اور خطے و عالمی امور پر ہم آہنگی پر قائم ہیں۔

    ملاقات میں دونوں جانب سے دوطرفہ تعلقات کا مکمل جائزہ لیا گیا اور گزشتہ اعلیٰ سطحی رابطوں، بشمول نومبر 2025 میں مصر کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان، کے مثبت اثرات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا،دونوں رہنماؤں نے تعاون کو تمام شعبوں میں مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    دونوں وزرا نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا اس ضمن میں دوطرفہ طریقۂ کار کو فعال بنانے، مشترکہ وزارتی کمیشن اور کاروباری اداروں کے مابین روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ہیپاٹائٹس سی کے خلاف صحت کے شعبے میں مصر کی جاری حمایت کی تعریف کی اور اس تعاون کو خوش آئند قرار دیا۔

    دونوں فریقین نے دفاع اور سیکیورٹی تعاون میں موجودہ مثبت پیش رفت پر اطمینان ظاہر کیا اور تربیتی تبادلوں اور دیگر ادارہ جاتی میکنزم کے ذریعے تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا انہوں نے خطے اور عالمی سطح پر جاری حالات، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور زور دیا کہ تنازعات کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور اسرائیلی فوج کی غزہ اور مغربی کنارے میں جاری جارحیت کی سخت مذمت کی، انہوں نے غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد فراہم کرنے میں مصر کے کردار کی بھی تعریف کی، جس میں پاکستان کی امدادی کوششوں میں تعاون شامل ہے۔

    دونوں ممالک نے اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت کثیر الجہتی فورمز پر قریبی ہم آہنگی جاری رکھنے پر اتفاق کیا ملاقات میں پاکستان اور مصر کے قریبی اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کو دہرایا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ ملاقات حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں بشمول 19 مارچ 2026 کو ریاض میں ہونے والی بات چیت کی پیشرفت کے طور پر ہوئی اور یہ خطے میں بڑھتی ہوئی پیش رفت پر پاکستان اور مصر کے قریبی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔

    بعد ازاں ترکیہ کے وزیر خارجہ دفتر خارجہ پہنچے جہاں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان پاکستان کے دورے پر ہیں، جہاں وہ خطے کی بدلتی صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر مشاورت کر رہے ہیں ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔

    انہوں نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہر شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیادونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور کیا دونوں رہنماؤں نے ایران سمیت خطے میں حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امن و استحکام کے لیے مکالمہ اور مسلسل سفارتی روابط ناگزیر ہیں۔

    پاکستان اور ترکیہ نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا ہےکہ آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ روزانہ 2 جہاز آبنائے ہرمز عبور کریں گے اسحاق ڈار نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو ووٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پوسٹ میں ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ایران کا یہ اقدام خوش آئند اور تعمیری ہے، اس کی تعریف ہونی چاہیے،یہ پیشرفت خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کا پیش خیمہ ہے، یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک اہم قدم ہے جو اجتماعی کوششوں کو مضبوط کرےگا، مذاکرات، سفارتکاری اور اعتماد سازی ہی آگے بڑھنےکا واحد راستہ ہے۔

    دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے-

  • پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت،امریکی صدرنے اسحاق ڈار کی ٹوئٹ شیئر کر دی

    پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت،امریکی صدرنے اسحاق ڈار کی ٹوئٹ شیئر کر دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے بعد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایک اہم ٹویٹ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دی ہے، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر خبروں کی زینت بن گیا اور سفارتی حلقوں میں اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

    اسحاق ڈار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ ایران نے 20 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ روزانہ 2 پاکستانی جہاز اس اہم بحری راستے سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں گے یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی بلکہ توانائی کی سپلائی بھی مستحکم ہوگی۔

    اس پیش رفت کو موجودہ ایران-امریکا کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے حالیہ جنگی صورتحال کے باعث اس راستے پر سخت نگرانی اور پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی تھی۔

    trumptrump

    ماہرین کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے اس ٹویٹ کو شیئر کرنا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ رابطوں میں سہولت فراہم کر رہا ہےاس اقدام سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی مثبت امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    امریکی صدر اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ بھی شیئر کر چکے ہیں، جس میں انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا خیرمقدم کیا تھا اس تسلسل کو ماہرین پاکستان اور امریکا کے درمیان بہتر ہوتے سفارتی روابط کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

    دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے۔

    ادھر حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور تمام فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات کو برقرار رکھنے کی پالیسی جاری رکھی جائے گی ، موجودہ حالات میں ایسے اقدامات کشیدگی کم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

  • 
پی ایس ایل نئے دور میں داخل، ویلیو اور مقبولیت میں ریکارڈ اضافہ

    
پی ایس ایل نئے دور میں داخل، ویلیو اور مقبولیت میں ریکارڈ اضافہ

    
پاکستان سپر لیگ نے اپنی شاندار کامیابیوں کے ساتھ ایک نئے دور میں قدم رکھ دیا ہے، جہاں اس کی مقبولیت، معیار اور مالی قدر میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں پی ایس ایل نہ صرف کرکٹ کے میدان میں بلکہ تجارتی لحاظ سے بھی ایک مضبوط برانڈ کے طور پر ابھری ہے۔
    2016 میں آغاز کے بعد سے لے کر 2026 تک لیگ نے کئی اہم سنگ میل عبور کیے۔ ویورشپ کے حوالے سے پی ایس ایل نے مسلسل نئے ریکارڈ قائم کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شائقین کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا بھر میں کرکٹ کے مداح اب اس لیگ کو خاص توجہ سے دیکھتے ہیں، جس نے اسے بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان دلائی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق گزشتہ دہائی میں پی ایس ایل کی ٹائٹل اسپانسر شپ میں 505 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برانڈ پارٹنرشپ ویلیو میں 1200 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ لیگ کی مارکیٹ ویلیو میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
    ‎پی ایس ایل کے معیار اور شفاف نظام کی بدولت نئی ٹیموں کی فروخت بھی بھاری قیمتوں پر ہوئی، جو اس کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور سرمایہ کاری کے مواقع کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی دلچسپی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس سے لیگ کا معیار مزید بلند ہوا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو پی ایس ایل مستقبل میں دنیا کی بڑی کرکٹ لیگز میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔ یہ لیگ نہ صرف کھیل بلکہ پاکستان کے مثبت امیج کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

  • 
ادویات مہنگی نہیں ہوئیں، قلت کی خبریں بے بنیاد، پی پی ایم اے

    
ادویات مہنگی نہیں ہوئیں، قلت کی خبریں بے بنیاد، پی پی ایم اے

    
پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچرز ایسوسی ایشن نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے اور قلت سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے وضاحت جاری کر دی ہے۔ ادارے کے مطابق ملک بھر میں نہ تو ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی فراہمی میں کوئی کمی آئی ہے۔
    پی پی ایم اے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافے کے باوجود ادویات کی قیمتیں کئی ماہ سے برقرار ہیں۔ اس دوران ایندھن، فریٹ اور خام مال کی درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن اس کا بوجھ مریضوں پر منتقل نہیں کیا گیا۔
    ‎ادارے کے مطابق انسولین، اینٹی بایوٹکس، دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور ویکسینز سمیت تمام اہم ادویات ملک بھر میں بلا تعطل دستیاب ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 90 فیصد ادویات مقامی سطح پر تیار کی جاتی ہیں اور صنعت کے پاس خام مال اور تیار ادویات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے، جس سے طلب پوری کی جا رہی ہے۔
    ‎پی پی ایم اے نے کہا کہ ادویہ ساز صنعت نے بڑھتی لاگت کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے لیے خود دباؤ برداشت کیا ہے تاکہ قیمتوں میں اضافہ نہ کرنا پڑے۔ تاہم کچھ جدید اور جان بچانے والی ادویات جیسے کینسر کے علاج، ویکسینز اور امیونوگلوبیولنز کی محدود دستیابی کی وجہ سرکاری سطح پر قیمتوں کے نوٹیفکیشن میں تاخیر ہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ اگر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے منظور شدہ قیمتوں کا بروقت اعلان کر دیا جائے تو ان ادویات کی دستیابی بہتر ہو سکتی ہے۔
    ‎پی پی ایم اے نے حکومت سے پالیسی رکاوٹیں دور کرنے اور میڈیا سے غیر مصدقہ خبروں سے گریز کرنے کی اپیل کی تاکہ عوام میں بے چینی نہ پھیلے اور ادویات کے حوالے سے درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔

  • 
پاکستان کا عالمی کردار بڑھے گا، ماہر نجوم کی پیشگوئی

    
پاکستان کا عالمی کردار بڑھے گا، ماہر نجوم کی پیشگوئی

    
پاکستان کی معروف ماہر علمِ نجوم سامعہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات میں پاکستان ایک اہم اور کلیدی کردار ادا کرے گا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 21 مارچ کے بعد پاکستان کا ستارہ ایک محفوظ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر پاکستان کا نام نمایاں ہونا شروع ہوگیا ہے۔
    سامعہ خان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی اہمیت مزید بڑھے گی اور دنیا بھر میں اس کا اثر و رسوخ مضبوط ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگلے 12 سال پاکستان کے لیے ترقی اور استحکام کے سال ہوں گے، جن میں ملک مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرے گا۔
    ‎انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق کہا کہ اگر کوئی معاہدہ ہوا بھی تو وہ عارضی نوعیت کا ہوگا۔ ان کے مطابق مئی کا مہینہ اس حوالے سے خاصا حساس ثابت ہوسکتا ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
    ‎مزید گفتگو میں سامعہ خان نے عالمی صورتحال کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں امن کی صورتحال غیر یقینی کا شکار رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے خطے میں بڑے حملوں کا خطرہ موجود ہے، حتیٰ کہ نیوکلیئر جنگ کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی پیشگوئیوں کو سائنسی یا حتمی بنیادوں پر نہیں پرکھا جا سکتا اور انہیں محض رائے یا ذاتی تجزیہ سمجھا جاتا ہے۔

  • 
سونے کی قیمتوں میں تیزی، فی تولہ 4 لاکھ 72 ہزار سے تجاوز

    
سونے کی قیمتوں میں تیزی، فی تولہ 4 لاکھ 72 ہزار سے تجاوز

    
ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے خریداروں اور سرمایہ کاروں دونوں کو متاثر کیا ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد سونا ملکی تاریخ کی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ گیا ہے، جس سے جیولری مارکیٹ میں سست روی کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار 800 روپے کا بڑا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ قیمت بڑھ کر 4 لاکھ 72 ہزار 62 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 4 ہزار 116 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 4 ہزار 717 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، اور خطے میں جاری کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔ عالمی بازار میں بھی سونے کی قیمت 48 ڈالر اضافے کے ساتھ 4 ہزار 493 ڈالر فی اونس ہوگئی ہے، جو اس رجحان کی بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق غیر یقینی معاشی صورتحال میں سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور قیمتیں اوپر جاتی ہیں۔ دوسری جانب مقامی سطح پر روپے کی قدر میں کمی بھی سونے کی قیمت بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
    ‎جیولرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عام خریدار مارکیٹ سے دور ہو رہے ہیں، جبکہ شادی بیاہ کے سیزن میں بھی خریداری محدود ہو سکتی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار، وزیراعظم کا بڑا فیصلہ


    پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار، وزیراعظم کا بڑا فیصلہ


    وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ انہیں پیٹرول پر 95 روپے اور ڈیزل پر 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم انہوں نے یہ تجویز مسترد کر دی تاکہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔
    ‎وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے اس فیصلے کے تحت اس ہفتے مزید 56 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی قیمتوں کے مطابق اضافہ کیا جاتا تو آج پیٹرول کی قیمت 544 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 790 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی تھی، مگر حکومت عوام کو پیٹرول 322 روپے اور ڈیزل 335 روپے فی لیٹر میں فراہم کر رہی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح عوام کا معاشی تحفظ ہے اور حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ مہنگائی کے اثرات عوام تک کم سے کم پہنچیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن پاکستان میں حکومت نے اس دباؤ کو خود برداشت کیا ہے۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں خطے کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان سفارتی محاذ پر بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے دن رات کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیک وقت دو محاذوں پر کامیابی سے کام کر رہا ہے، ایک طرف عوام کو معاشی ریلیف دینا اور دوسری جانب خطے کو جنگ سے بچانے کی کوشش کرنا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ایران، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی رہنماؤں سے متعدد بار رابطے کیے ہیں تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔ ان کے مطابق یہ سفارتی کوششیں صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہیں۔
    ‎وزیراعظم نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما خلوص نیت اور مکمل محنت کے ساتھ ملک کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی

    سونے کی قیمت میں نمایاں کمی

    ‎ملک بھر میں سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے جس کے بعد فی تولہ سونا ایک ہزار روپے سستا ہو گیا، جس سے خریداروں کے لیے قدرے آسانی پیدا ہوئی ہے۔
    ‎آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق حالیہ کمی کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت کم ہو کر 4 لاکھ 67 ہزار 262 روپے تک آ گئی ہے، جو گزشتہ دنوں کے مقابلے میں واضح کمی ظاہر کرتی ہے۔
    ‎اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 858 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ اب 4 لاکھ 601 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جس سے زیورات کی خریداری کرنے والوں کو کچھ ریلیف ملا ہے۔
    ‎عالمی سطح پر بھی سونے کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جہاں فی اونس سونا 10 ڈالر کم ہو کر 4445 ڈالر تک آ گیا ہے، جس کے اثرات براہ راست مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، ڈالر کی قدر اور معاشی غیر یقینی صورتحال جیسے عوامل سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مقامی مارکیٹ میں بھی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے۔

  • ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا امکان، نئے اوقات کار اور ہائبرڈ ورکنگ پلان تیار

    ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا امکان، نئے اوقات کار اور ہائبرڈ ورکنگ پلان تیار

    ‎وفاقی حکومت نے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ اس حوالے سے مکمل پلان تیار کر لیا گیا ہے اور اس کا باضابطہ اعلان کل متوقع ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق بازار رات ساڑھے 9 بجے بند کیے جائیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک محدود رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ شادی تقریبات میں ون ڈش اور زیادہ سے زیادہ 200 افراد کی اجازت ہوگی۔
    ‎حکومت کی جانب سے توانائی اور فیول کی بچت کے لیے ہائبرڈ ورکنگ پالیسی بھی متعارف کرانے کی تیاری کی گئی ہے، جسے ابتدائی طور پر ایک ماہ کے لیے نافذ کیا جائے گا۔
    ‎سرکاری دفاتر میں ہفتے کے تین دن حاضری اور دو دن آن لائن کام ہوگا جبکہ سروسز دفاتر میں چار دن دفتر اور دو دن آن لائن کام کرنے کا شیڈول تجویز کیا گیا ہے۔ دفاتر میں 50 فیصد اسٹاف روٹیشن سسٹم کے تحت کام کرے گا۔
    ‎آن لائن حاضری کے لیے باقاعدہ مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے گا اور ہر افسر کے لیے کم از کم 65 فیصد حاضری لازمی قرار دی جائے گی۔ ہفتہ وار آڈٹ بھی لازم ہوگا۔
    ‎پرائیویٹ دفاتر کو بھی 50 فیصد آن لائن ورکنگ اپنانے کی ہدایت دی جائے گی تاکہ آمدورفت اور بجلی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔
    ‎گاڑیوں کے استعمال پر بھی سخت پابندیاں عائد کرنے کی تجویز ہے، جس کے تحت سرکاری گاڑیوں کا نجی استعمال ممنوع ہوگا اور خلاف ورزی پر گاڑی ضبطی اور فیول ریکوری جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔
    ‎توانائی بچت کے تحت صبح 10:30 بجے سے پہلے اے سی کے استعمال پر پابندی ہوگی جبکہ 60 دن کے اندر 50 فیصد دفاتر کو سولر توانائی پر منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
    ‎تعلیمی اداروں میں ہفتے کے تین دن آن لائن اور تین دن فزیکل کلاسز کا نظام متعارف کرایا جائے گا، جبکہ ابتدائی طور پر مزید 15 دن مکمل آن لائن کلاسز کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
    ‎مزید برآں حکومت ٹیکس نظام میں بھی تبدیلی پر غور کر رہی ہے، جس میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون ٹیکس میں کمی جبکہ پراپرٹی اور گاڑیوں کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں اضافہ شامل ہے۔ ٹول ٹیکس میں 50 روپے اضافے اور ریلوے ٹکٹوں پر 15 فیصد رعایت کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد توانائی بحران پر قابو پانا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔