Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو  کا رمضان میں کیا ریلیف پیکج دے رہی ہیں؟

    وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو کا رمضان میں کیا ریلیف پیکج دے رہی ہیں؟

    رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ریلیف پیکجز کا اعلان کر دیا ہے۔

    ان پیکجز کے تحت کروڑوں مستحق افراد کو نقد امداد، سبسڈی شدہ اشیائے خورونوش، راشن کارڈز اور مفت افطار کی سہولت فراہم کی جائے گی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کیے گئے رمضان ریلیف پیکج کے مطابق رواں برس رمضان پیکج کا حجم 38 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

    وفاقی حکومت کے اس پیکج کے تحت چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں مستحق خاندانوں کو فی خاندان 13 ہزار روپے دیے جائیں گے امداد کی تقسیم شفاف ڈیجیٹل نظام اور بی آئی ایس پی کے ذریعے براہِ راست بینکوں میں کی جائے گی، گزشتہ برس یہ رقم 5 ہزار روپے تھی، جس میں اس سال نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

    پنجاب حکومت نے بھی رمضان المبارک میں عوامی ریلیف کے لیے تاریخ کا بڑا پیکج متعارف کرا دیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں 49 ارب روپے مالیت کے رمضان نگہبان پیکج کی منظوری دی گئی اس پیکج کے تحت 42 لاکھ مستحق خاندانوں کو فی خاندان 10 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے، نگہبان کارڈ کے ذریعے مستحق افراد نہ صرف کیش رقم حاصل کر سکیں گے بلکہ ضروری اشیائے خورونوش بھی خرید سکیں گے۔

    اس کے علاوہ نگہبان دسترخوان ’مریم کے مہمان پروگرام‘ کے تحت صوبے بھر میں ہر تحصیل میں مفت افطار دسترخوان قائم کیے جائیں گے، جس کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، حکام کے مطابق اس پروگرام سے 10 لاکھ سے زائد روزہ دار مستفید ہوں گے۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر صوبائی کابینہ کے 47ویں اجلاس میں خصوصی رمضان ریلیف پیکج کی منظوری دے دی ہے، اس پیکج کے تحت صوبے بھر کے 10 لاکھ 63 ہزار مستحق خاندانوں کو فی خاندان اوسطاً 12 ہزار 500 روپے فراہم کیے جائیں گے گزشتہ برس پہلی مرتبہ فی خاندان 10 ہزار روپے کا رمضان پیکج دیا گیا تھا، تاہم رواں برس چینی اور آٹے سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر پیکج میں 25 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت نے بھی رمضان ریلیف پیکج 2026 کے تحت بڑے پیمانے پر امدادی پروگرام شروع کردیا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 25 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا، اس پروگرام کے تحت 50 لاکھ سے زائد خاندانوں کو 5 ہزار سے 13 ہزار روپے تک نقد امداد اور سبسڈی شدہ آٹا، چینی اور دالیں فراہم کی جائیں گی امداد کی تقسیم 500 یوٹیلیٹی اسٹورز اور موبائل وینز کے ذریعے کی جائے گی جبکہ اہلیت کا تعین بی آئی ایس پی اور این ایس ای آر ڈیٹا کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

    بلوچستان حکومت نے ماہ رمضان میں ریلیف پیکجز کیش رقم کے بجائے مستحق افراد کو راشن تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس مرتبہ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنرز مستحق افراد کی نشاندہی کریں گے اور پھر ان افراد میں راشن تقسیم کیا جائے گا۔

  • 
جسٹس انعام امین منہاس کی نجف حمید کی ضمانت بحالی کیس سننے سے معذرت

    
جسٹس انعام امین منہاس کی نجف حمید کی ضمانت بحالی کیس سننے سے معذرت

    سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں عدالت کے جج نے کیس سننے سے معذرت کر لی۔
    ‎اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے سماعت کے دوران کیس سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی تاکہ نیا بینچ تشکیل دیا جا سکے۔
    ‎عدالت میں ریمارکس دیتے ہوئے جج نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے مؤکل کو سمجھائیں، ایسے طریقے سے معاملات نہیں چلتے، اور وہ اب یہ کیس نہیں سنیں گے۔
    ‎یاد رہے کہ ملزم نجف حمید، جو سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی ہیں، کی ضمانت پہلے ٹرائل کورٹ نے منسوخ کر دی تھی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ضمانت بحال کر دی تھی۔
    ‎سماعت کے موقع پر نجف حمید اپنے وکیل بیرسٹر راجہ قدیر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ کیس کی آئندہ سماعت اب چیف جسٹس کی جانب سے مقرر کیے جانے والے نئے بینچ کے روبرو ہوگی۔

  • بانی پی ٹی آئی کو کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں دی ، عطا تارڑ

    بانی پی ٹی آئی کو کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں دی ، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہو رہی، معاملہ عدالت میں ہے اور قانونی عمل جاری ہے۔
    ‎انہوں نے وضاحت کی کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت کے بارے میں پھیلائی گئی سنسنی درست نہیں، ان کی صحت تشویشناک نہیں ہے، اور جو مسئلہ تھا وہ حل ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو بھی اڈیالہ جیل میں بریفنگ دی جا چکی ہے۔ وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
    ‎فلسطین کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں غزہ بورڈ آف پیس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا ہے اور پاکستان ہمیشہ تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے۔
    ‎مزید برآں، وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کسی پاکستانی وزیراعظم کا 34 برس بعد آسٹریا کا دورہ ہوا، اس سے قبل 1992 میں نواز شریف وہاں گئے تھے۔
    ‎کرکٹ کے سوال پر عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت کے خلاف میچ میں ہار یا جیت کھیل کا حصہ ہے، اور اس پر وزیراعظم سے باضابطہ بات نہیں ہوئی۔

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس:اسحاق ڈار غزہ کا مقدمہ پیش کریں گے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس:اسحاق ڈار غزہ کا مقدمہ پیش کریں گے

    نائب وزیراعظم و،وزیر خارجہ اور سینیٹر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اعلیٰ سطحی بریفنگ میں شرکت کے لیے نیویارک جائیں گے-

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 18 فروری 2026 کو فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اعلیٰ سطحی بریفنگ میں شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ کریں گے،یہ اجلاس برطانیہ کی وزیر خارجہ کی زیرِ صدارت ہوگا، جو اس وقت سلامتی کونسل کی صدر بھی ہیں۔

    بریفنگ کے دوران نائب وزیرِاعظم و وزیر خارجہ پاکستان کے فلسطین سے متعلق اصولی اور مستقل مؤقف کا اعادہ کریں گے،جانب سے مغربی کنارے پر اپنے کنٹرول کے حالیہ غیرقانونی فیصلوں کی سخت مخالفت کا اظہار کریں گے، اور غزہ میں مستقل جنگ بندی پر زور دیں گے اسحاق ڈار سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل عملدرآمد، انسانی امداد میں اضافے اور غزہ کی بحالی و تعمیرِ نو کے فوری آغاز کی ضرورت کو اجاگر کریں گے۔

    سی ٹی ڈی کی کارروائی، کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 4 دہشتگرد ہلاک

    وہ اس امر کو بھی نمایاں کریں گےکہ پاکستان بین الاقوامی اور علاقائی شراکت داروں، بشمول 8 عرب و اسلامی ممالک کے گروپ اور امریکا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے، جس کے نتیجے میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی تکمیل اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی آزاد، خودمختار اور مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو سکے،دورے کے موقع پر وہ اپنے ہم منصبوں سے باہمی دلچسپی کے امور پر دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گےاس سے قبل نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، اور مختلف معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔

    باجوڑ میں چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کا حملہ، 11 سیکیورٹی اہلکار شہید، 12 خوارج ہلاک

  • بچے کی پیدائش پر والد کو چھٹی نہ دینے پر اسٹیٹ بینک پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ

    بچے کی پیدائش پر والد کو چھٹی نہ دینے پر اسٹیٹ بینک پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ

    
وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپاہ) نے بچے کی پیدائش پر پیٹرنٹی رخصت نہ دینے کے معاملے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
    رپورٹ کے مطابق وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے بینک افسر سید باسط علی کو 30 دن کی پیٹرنٹی رخصت نہ دینے کو صنفی امتیاز قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ محتسب نے حکم دیا کہ جرمانے کی رقم میں سے 4 لاکھ روپے شکایت گزار افسر کو ادا کیے جائیں اور انہیں مکمل تنخواہ کے ساتھ 30 دن کی پیٹرنٹی رخصت بھی فراہم کی جائے۔
    ‎فیصلے میں اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی گئی کہ وہ میٹرنٹی اور پیٹرنٹی رخصت ایکٹ 2023 کے تحت باقاعدہ پالیسی تشکیل دے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
    ‎فوسپاہ کے مطابق پیٹرنٹی رخصت سے انکار صنفی بنیاد پر ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ محتسب نے قرار دیا کہ صرف میٹرنٹی رخصت دینا اور پیٹرنٹی رخصت سے انکار کرنا صنفی امتیاز ہے کیونکہ بچوں کی دیکھ بھال صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
    ‎واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے متعلقہ پالیسی موجود نہ ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے سید باسط علی کی رخصت کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد یہ معاملہ وفاقی محتسب کے سامنے پیش کیا گیا۔

  • سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان انتقال کر گئے

    سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان انتقال کر گئے

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان انتقال کر گئے۔

    جسٹس خلیل الرحمان خان کے انتقال پر عدالتی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سمیت سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز نے مرحوم کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں مرحوم جسٹس خلیل الرحمان خان کی عدلیہ کے لیے گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مرحوم نے اپنے دورِ ملازمت میں دیانت، اصول پسندی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیامرحوم کے ایصالِ ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔

  • موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ

    موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ

    اسلام آباد میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل کامیابی سے جاری ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا آغاز کیا جائے گا۔

    انتظامیہ کے مطابق موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کا آغاز 20 فروری صبح 10 بجے سے کیا جائے گا،موٹرسائیکل مالکان اپنے اصل کاغذات اور شناختی کارڈ کے ہمراہ شہر بھر میں قائم 13 مختلف مقامات سے ایم ٹیگ حاصل کر سکیں گے، فیصلے کا اطلاق تمام اقسام کی موٹرسائیکلوں پر ہوگا، جن میں عام بائکس، بائکیا سروس سے منسلک موٹرسائیکلیں، ہیوی بائکس، دیگر تمام اقسام کی موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔

    حکام کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 6 لاکھ سے زائد گاڑیوں کو ایم ٹیگ جاری کیے جا چکے ہیں،بائکیا اور آن لائن ٹیکسی سروس کی رجسٹریشن کا عمل علیحدہ طور پر جاری ہے، ان اقدامات کا بنیادی مقصد شہر میں سیکیورٹی کو بہتر بنانا اور شہریوں کے سفر کو محفوظ بنانا ہے۔

    شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ ایم ٹیگ مہم میں بھرپور تعاون کریں تاکہ وفاقی دارالحکومت میں محفوظ اور منظم ٹریفک نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • بین الاقوامی کرکٹ کے سابق کپتانوں نےعمران  خان کی ہیلتھ کیئر پٹیشن پر دستخط کر دیئے

    بین الاقوامی کرکٹ کے سابق کپتانوں نےعمران خان کی ہیلتھ کیئر پٹیشن پر دستخط کر دیئے

    14 سابق کپتانوں نےعمران خان کی ہیلتھ کیئر پٹیشن پر دستخط کر دیئے ہیں،جن میں بارڈر، چیپلز، گواسکر، کپل ڈویلپمنٹ، اسٹیو وا، ناصر حسین، مائیک ایتھرٹن، کلائیو لائیڈ ،بیلنڈا کلارک آسٹریلوی خواتین کی سابق کپتان شامل ہیں-

    دنیا بھر کے سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے سابق کپتان اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی قید اور صحت سے متعلق خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے فوری توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔

    مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی کرکٹ کے لیے خدمات کو عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بطور کپتان انہوں نے پاکستان کو 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں تاریخی فتح دلائی، جو مہارت، استقامت، قیادت اور کھیل کے اعلیٰ جذبے کی روشن مثال تھی اور جس نے سرحدوں سے بالاتر ہو کر نسلوں کو متاثر کیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ دستخط کرنے والے سابق کپتانوں میں سے کئی نے عمران خان کے خلاف میدان میں مقابلہ کیا، ان کے ساتھ کرکٹ کھیلی یا ان کی ہمہ جہت صلاحیتوں، کرشماتی قیادت اور مسابقتی جذبے کو اپنا آئیڈیل بنایا۔ سابق کپتانوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ سیاسی اختلافِ رائے سے قطع نظر عمران خان جمہوری طور پر منتخب ہو کر اپنے ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہوئے۔

    بیان میں عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ رپورٹس، خصوصاً دورانِ حراست ان کی بینائی میں مبینہ طور پر تشویشناک کمی، اور گزشتہ ڈھائی برس کے دوران قید کے حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سابق کپتانوں کا کہنا ہے کہ کرکٹ ہمیں منصفانہ کھیل، عزت اور احترام کی وہ اقدار سکھاتی ہے جو میدان کی حد بندی سے کہیں آگے تک جاتی ہیں، اور عمران خان جیسے عالمی اسپورٹس آئیکون اور سابق قومی رہنما کے ساتھ باوقار اور انسانی سلوک کیا جانا چاہیے۔

    انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری، مناسب اور مسلسل طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور انہیں اپنی پسند کے ماہر ڈاکٹروں سے علاج کی اجازت دی جائے۔ ساتھ ہی انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق انسانی اور باعزت حراستی حالات مہیا کیے جائیں، جن میں قریبی اہلِ خانہ سے باقاعدہ ملاقات کی سہولت بھی شامل ہو۔ بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ انہیں قانونی کارروائیوں تک منصفانہ اور شفاف رسائی دی جائے اور کسی غیر ضروری تاخیر یا رکاوٹ کے بغیر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔

    سابق کپتانوں کا کہنا تھا کہ کرکٹ ہمیشہ قوموں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ میدان میں مقابلہ ختم ہونے کے بعد احترام باقی رہتا ہے اور عمران خان نے اپنے کیریئر میں اسی جذبے کی نمائندگی کی۔ یہ اپیل کھیل کے جذبے اور مشترکہ انسانیت کے تحت کی گئی ہے اور اس کا مقصد کسی بھی قانونی کارروائی پر اثر انداز ہونا نہیں ہے۔

    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ اس نے اپنے دور حکومت میں کس قدر بے رحمی کا ارتکاب کیا ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ انہیں حقائق جانے بغیر پاکستانیوں کے عدالتی معاملات میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں،اگر کچھ ہے تو ان کو بتایا جائے جس نے قیوم رپورٹ کو احسان مانی نے کالعدم قرار دیا جس نے میچ فکسرز کو پی سی بی کے دائرے میں واپس آنے دیا-

    ایس پی گواکسر اور کپل دیو جنہوں نے ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان کو شکست دینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا،ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت خان کے ساتھ کیا کر رہی ہے؟کیا انہوں نے جیل مینوئل پڑھا ہے؟ اور کیا وہ جانتے ہیں کہ خان کو سلاخوں کے پیچھے کیوں دھکیلا گیا ہے؟اور کیا وہ خان کی بے رحم حکومت سے واقف ہیں جہاں اس کی مدد کرنے والے ہر شخص کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا اور اس کا نشانہ بنایا گیا۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو اپنے دائرے میں رہنا چاہیے اورپاکستان کے اندرونی معاملات میں آنے کی ضرورت نہیں۔

  • جام کمال کی زیر صدارت اجلاس، آلو کی زائد پیداوار اور برآمدات کے فروغ پر تبادلہ خیال

    جام کمال کی زیر صدارت اجلاس، آلو کی زائد پیداوار اور برآمدات کے فروغ پر تبادلہ خیال

    وفاقی حکومت نے کسانوں اور برآمد کنندگان کی عملی معاونت اور زرعی شعبے میں استحکام کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے-

    وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں آلو کی زائد پیداوار اور برآمدات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں وفاق اور پنجاب کے اعلیٰ حکام، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل خان اور سیکریٹری تجارت جواد پال نے شرکت کی۔

    وزیر تجارت نے ہدایت دی کہ کسانوں کو براہِ راست معاونت دی جائے اور مصنوعی قیمتوں میں مداخلت سے گریز کیا جائے اجلاس میں وسطی ایشیا سمیت نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے ہدفی اور محدود مدت فریٹ سہولت پر غور کیا گیا اور برآمد کنندگان کے بڑھتے لاجسٹکس اخراجات کے لیے حکمتِ عملی تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتا ہے، سی این این

    بی ٹو بی روابط بڑھانے، برآمدی منڈیوں کے تنوع اور وفاق و پنجاب کے درمیان ڈیٹا پر مبنی مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ کسانوں اور برآمد کنندگان کی عملی معاونت اور زرعی شعبے میں استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

    سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کاشانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

  • نیپرا نے سولر پالیسی 2026 میں ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

    نیپرا نے سولر پالیسی 2026 میں ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پرانے سول صارفین کیلیے نیٹ میٹرنگ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پرانے سولرصارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے –

    نیپرا نے سولر پالیسی 2026 میں ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، جس میں اتھارٹی نے شراکت داروں سے تیس روز میں تجاویز بھی مانگی ہیں نیپرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق ترامیم کا اطلاق 9 فروری 2026 سے ہوگا۔

    نوٹی فکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ شمسی نیٹ میٹرنگ صارفین متاثر نہیں ہوں گے منسوخ شدہ ضوابط کے تحت جاری کردہ لائسنس، اور معاہدے درست رہیں گے، اور کسی بھی تقسیم شدہ جنریٹر کو معاہدے کی میعاد ختم ہونے تک سابقہ ​​شرح اور طریقہ کار کے تحت بل دیا جائے گا ستقبل کی تجدید اور نئے کنکشن پانچ سالہ نیٹ بلنگ فریم ورک کے تحت آئیں گے، جو طویل مدتی سرمایہ کاری کے منافع کو نمایاں طور پر تبدیل کرے گا۔

    سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کاشانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

    نئے شمسی صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی جگہ ‘نیٹ بلنگ’ کا نظام آئے گانئے صارفین سے اضافی بجلی کی خریداری کی قیمت 11 روپے فی یونٹ یا نیشنل ایوریج ٹیرف کے مطابق کرنے کی تجویز ہے نئے سولر صارفین کے لیے معاہدے کی مدت 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی ہے نیپرا نے ان ترامیم پر شراکت داروں سے 30 دن میں تجاویز طلب کی ہیں یہ اقدامات ملک میں سولر پینلز کے بڑھتے ہوئے رجحان اور گرڈ پر بوجھ کم کرنے کے لیے مجوزہ پالیسی کا حصہ ہیں، جس پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل نیپرا نے گزشتہ نیٹ میٹرنگ پالیسی ختم کر کے نیٹ بلنگ کے حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔

    بھارت نے ایران کے مزید 3 جہاز قبضے میں لے لیے