Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی میں انٹر میڈیٹ کےامتحانات کا آج سے آغاز

    کراچی میں انٹر میڈیٹ کےامتحانات کا آج سے آغاز

    کراچی میں انٹر میڈیٹ کےامتحانات کا آغاز آج سے ہورہا ہے-

    باغی ٹی وی : چئیرمین بورڈ کے مطابق مجموعی طورپر210 امتحانی مراکز بنائے گئے ہیں،صبح کی شفٹ میں 114 ،شام کی شفٹ میں 96 مرکز بنائے گئے –

    چئیرمین بورڈ کے مطابق پہلا پرچہ سائنس گروپ میں طبیعیات کا لیا جائے گا کراچی،ایک لاکھ 12 ہزار 383 طلبا امتحانات میں شریک ہورہے ہیں-

    کورونا کے حفاظتی اقدامات کے تحت امتحانی مراکز پر ماسک، سینیٹائزر اور تھرمل گن فراہم کردی گئی ہے۔ طلبا کو پرچے سے آدھا گھنٹے پہلے پہنچنے اور پینے کا پانی ساتھ لانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ تمام امتحانی مراکز پر موبائل فون نہ لانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ امتحانات 4 اگست تک جاری رہیں گے۔

  • عنوان: مونسون بارشیں کراچی کے لئے رحمت یا زحمت

    عنوان: مونسون بارشیں کراچی کے لئے رحمت یا زحمت

    سندھ کا دارالخلافہ اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جسے کبھی روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا آج اندھیروں اور مسائل میں گھڑا نظر آتا ہے۔ بارش جو کہ اللہ کی رحمت ہوتی ہے اداروں کی نااہلی کی وجہ سے کراچی کے لئے ہمیشہ زحمت بن جاتی ہے۔ شہر میں سب سے زیادہ بارشیں مونسون سیزن کے دوران ہوتی ہیں جو جون سے شروع ہو کر ستمبر تک وقفے وقفے سے جاری رہتی ہیں۔

    یہ بارشیں شہر کے موسم کو متوازن رکھنے کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔ اگر یہ بارشیں نہ ہوں تو شہر میں پانی کی شدید قلت کا اندیشہ ہے جس کے سبب شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    یہ بارشیں جہاں انتہائی ضروری ہیں وہیں انتظامیہ کی نا اہلی اسے زحمت بنا دیتی ہے اور ہر سال قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ اول تو بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی کے الیکٹرک کا بوسیدہ نظام بیٹھ جاتا ہے اور سیکڑوں فیڈر ٹرپ ہونے سے شہری گھنٹوں تک بجلی سے محروم رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر میں پھیلی بے ہنگم بجلی کی تاریں اور حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے سبب ہر سال کرنٹ لگنے کے واقعات ہوتے ہیں جس کے سبب قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔

    کے الیکٹرک کے کارنامے الگ لیکن موثر بلدیاتی نظام نہ ہونے کے سبب بارشوں میں شہر قائد کی سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہیں۔ ضروری کاموں سے باہر نکلنے والے گھنٹوں ٹریفک میں بے یار و مددگار پھنسے رہتے ہیں اور اعلی حکام کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی۔

    شہر کی اس ابتر صورتحال پر شہری بس اداروں اور حکمرانوں کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں کہ ہمارے یہ مسائل کون حل کرے گا؟ اس ابر رحمت کو زحمت بنانے کے زمہ داروں کو کون سزا دے گا؟ کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو کون انصاف فراہم کرے گا؟

    اس صورتحال کو بہتر بنانے کا واحد حل بلدیاتی انتخابات ہیں۔ بااختیار مئیر ہی شہر کی حالت کو بہتر بنا سکتا ہے ورنہ عوام سندھ حکومت اور اس نظام سے مکمل مایوس ہو چکے ہیں۔


    Muhammad Hammad

    Muhammad Hammad is a writer ,blogger,freelance Journalist, influencer,Find out more about his work on  Twitter  account 

     


  • آج کشمیر سے بھٹو اور شریفوں کا نام ختم ہوجائے گا

    آج کشمیر سے بھٹو اور شریفوں کا نام ختم ہوجائے گا

    ‏حلیم عادل شیخ کی مظفرآباد میں میڈیا سے گفتگو،

    آج کشمیر سے بھٹو اور شریفوں کا نام ختم ہوجائے گا.آج کشمیری عوام اپنے بہتر مستقبل کا فیصلہ کررہے ہیں.ن لیگ اور فرزند زرداری نے کشمیر میں نفرت کا بیانیہ بیچا ہے۔انھوں نے کہا کہ نواب شاہ کے نوٹوں سے بھرے ڈبے اور میک اپ کی چمک دریائے نیلم میں بہہ گئے۔

    ‏حلیم عادل شیخ نے مظفرآباد میں مختلف کیمپز کا دورہ بھی کیا۔ کیمپز پر پی ٹی آئی امیدواروں اور کارکنان سے ملاقاتیں بھی کیں۔انھوں نے نوجوانوں کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ جیت بلے کی ہی ہوگی۔

    ‎انھوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کو ادھر تم ادھر ہم والے لوگ بھی یاد ہیں،ن اور پی پی کے کیمپز خالی لگے ہوئے ہیں آج کا دن کشمیر کی تاریخ میں اہم ثابت ہوگا۔

  • پاکستان رینجرز کی کامیاب کاروائی،بینک اکاؤنٹ ہیک کر کےانتہائی مطلوب ملزم گرفتار

    پاکستان رینجرز کی کامیاب کاروائی،بینک اکاؤنٹ ہیک کر کےانتہائی مطلوب ملزم گرفتار

    پاکستان رینجرز (سندھ)کی ٹیکنیکل ٹیم اورایف آئی اے کے سائبرکرائم وِنگ نے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی مدد سے بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ اور ویزا کارڈ کو ہیک کر کےپیسے چُرانے میں ملوث انتہائی مطلوب ملزم محمد آصف مغل کوگرفتار کرلیا۔ملزم کے زیر استعمال کمپیوٹر بھی برآمد کر لیاگیا۔

    دوران تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ماہر ہے اور مختلف ملکوں کے بینک اکاؤنٹ اور کریڈٹ کارڈ ہیک کرنے کی مہارت رکھتا ہے۔ملزم Jshop ویب سائیٹ سے کارڈ خریدتاتھااس کےبعدڈی ایچ گیٹ یاعلی ایکسپریس سے سامان کی خریداری کرتا تھا۔ پہلے ملزم اسکائیپ پر سیلر سے بات کر کے اس کو رضا مندکرنے کے بعد 40 فیصد تک کمیشن دیکر 60فیصد کی اُن سے آن لائن خریداری کرلیتاتھا۔ملزم نے2018 سے مختلف کال سینٹرز سے 2 ہزار سے 5 ہزار روپے تک میں بینک اکاؤنٹس کا ڈیٹاخریدنا شروع کیا اور اپنے بنائے گئے کال سینٹر سے کسٹمرز کو کال کر کے بتا تا تھا کہ آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے اور کال سینٹر سے لی گئی معلومات سے کسٹمر کو گمراہ کر کے ان سے ایک OTP جنریٹ کرواتا تھا اس طرح ملزم کسٹمرز سے OTP کوڈ لینے کے بعد ان کے اکاؤنٹس سے پیسے نکال لیتا تھا۔ ملزم 2012 سے اس کام میں سرگرم ہے اورمختلف بینکوں کے اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز کو ہیک کر کے عوام الناس کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا چکا ہے۔ ملزم 2014 سے 2016 تک متعدد بار ملائیشیا بھی جاتا رہا ہے۔گرفتار ملزم کومزیدقانونی کاروائی کےلیے پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

  • وڈھ بازار کے قریب ٹوریسٹس واپس کراچی جاتےہوئےلوٹ لیےگئے

    وڈھ بازار کے قریب ٹوریسٹس واپس کراچی جاتےہوئےلوٹ لیےگئے

    وڈھ بازار کے قریب ٹوریسٹس واپس کراچی جاتےہوئےلوٹ لیےگئے

    ڈاکووں نے اسلحے کی زور پر تین موٹر سائیکل اور قیمتی سامان چھن کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    کراچی ٹھٹہ سندھ سے مولہ چٹوک پکنک منانے کے بعد واپسی جانے والے پارٹی وڈھ بازار کے قریب حبیب ہوٹل پر آرام کے لیےروکے تھے کہ مہمان مسافروں پر نامعلوم مسلح افراد نے اسلح تان کر ان سے تین عدد 125 موٹر سائیکل نیو ماڈل اور ان کے قیمتی سامان چھن کر آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    وڈھ سٹی کے اندر پولیس کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے چند ماہ کے دوران درجنوں شہریوں کو وڈھ بازار سٹی ائریا سے ان کے موٹر سائیکلوں اور قیمتی سامان سے محروم کیا گیا.

    پولیس تھانہ وڈھ کے زمہ داروں کے مطابق تھانہ میں نفری نہ ہونے کے برابر ہے.

  • کورونا کی چوتھی لہر، اسکولوں کے بعد یونیورسٹیز بھی بند کرنے کا حکم نامہ جاری

    کورونا کی چوتھی لہر، اسکولوں کے بعد یونیورسٹیز بھی بند کرنے کا حکم نامہ جاری

    کورونا کیسز میں اضافے کے پیش نظر کراچی سمیت صوبے کی تمام سرکاری و نجی یونیورسٹیز 31 جولائی سے بند کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے سندھ حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کئے جارہے ہیں ، محکمہ داخلہ سندھ نے کراچی سمیت صوبے کی سرکاری و نجی یونیورسٹیزبند کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

    محکمہ داخلہ نے نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ سندھ میں تمام سرکاری ونجی جامعات31جولائی سے بند رہیں گی۔

    خیال رہے بھارتی کورونا قسم ‘ڈیلٹا’ کے پھیلاؤ کے پیش نظر سندھ حکومت نے دوبارہ پابندیوں عائد کردی ہے، پیر سے تعلیمی ادارے بند ہوں گے جبکہ دیگر کاروباری امور سے متعلق بھی قوائد وضوابط تبدیل کیے گئے ہیں۔

    سندھ حکومت نے پیر سے شاپنگ مالز اور مارکیٹس شام 6بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ جمعہ اور اتوار کو شاپنگ مالز سمیت مارکیٹس بھی بند رہیں گی۔

    پابندیوں سے متعلق ترجمان کا کہنا تھا کہ سرکاری اور نجی سیکٹر میں 50 فیصد اسٹاف کی اجازت ہوگی، تمام فیصلوں پر پیر سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔

  • ساحل پر پھنسے جہاز کو نکالنے کے لئے دبئی سے سولویج ماسٹر منگوالیا گیا

    ساحل پر پھنسے جہاز کو نکالنے کے لئے دبئی سے سولویج ماسٹر منگوالیا گیا

    جہاز کو نکالنے کے لئے سولویج ماسٹر دبئی سے ٹگ کے ساتھ کل دوپہر تک کراچی پہنچے گا۔

    کراچی کے ساحل پر پھنسے غیرملکی بحری جہاز کو نکالنے اور اس کی حفاظت کے لئے گزشتہ شام میری ٹائم ہیڈ کوارٹرز میں ڈیزاسٹر رسپانس سینٹر کو فعال کردیا گیا تھا.

    ہینگ ٹونگ 77 نامی بحری جہاز یو اے ای کی ملکیت اور سنگاپور میں رجسٹرڈ ہے، اور جہاز کو نکالنے کے لئے سولویج ماسٹر دبئی سے ٹگ کے ساتھ کل دوپہر تک پہنچے گا۔

    ذرائع نے بتایا کہ سولویج ماسٹر جہاز کا معائنہ کرے گا اس کے بعد آپریشن کا آغاز کیا جائے گا، آپریشن میں یو اے ای سے آنے والا ٹگ اور 3 کے پی ٹی کے ٹگ شریک ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق ساحل پر پھنسے جہاز کے ٹینک میں 118 ٹن ایندھن موجود ہے، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے تیل رساؤ کے ٹیر ون کی تیاریاں مکمل کرلی ہے، ٹیرون حکمتِ عملی میں تیل کے رساؤ پر قابو پایا جاسکتا ہے.

    گزشتہ روز میری ٹائم اور کے پی ٹی نے جہاز کے اطراف تیل کے رساؤ کے پیشِ نظر فلوٹیشن بوم لگائی، ممکنہ تیل کے رساؤ کو روکنے کیلئے تیل سازکمپنیوں کے فلوٹیشن بوم کو بھی اسٹینڈبائی رکھا گیا ہے۔

    دوسری جانب کراچی کے ساحل پر پھنسے غیرملکی بحری جہاز کو نکالنے کے لئے ڈپٹی چیف نیول اسٹاف (آپریشنز)کی سربراہی میں اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوگا.

    جس میں میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی، کے پی ٹی، این ڈی ایم اے، کوسٹ گارڈز اور دیگر اداروں کے افسران شریک ہوں گے۔

  • کراچی سمیت سندھ بھر میں محرم الحرام کے انتظامات کرنے کی ہدایات جاری

    کراچی سمیت سندھ بھر میں محرم الحرام کے انتظامات کرنے کی ہدایات جاری

    شہر قائد سمیت سندھ کے بلدیاتی اداروں کو محرم الحرام کے انتظامات کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ، جس میں جلوس کی گزرگاہوں سے کچرا ودیگر صفائی کرنے سمیت روڈ اور ٹوٹ پھوٹ کو درست کرنے کا حکم دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق محکمہ بلدیات سندھ کی جانب سے کراچی سمیت سندھ میں محرم الحرام سےمتعلق انتظامات کیلیے ایڈمنسٹریٹر ، میونسپل کمشنر کے ایم سی ، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سمیت واٹر بورڈ ، سندھ سالڈ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہے۔

    محکمہ بلدیات سندھ کا کہنا ہے کہ جلوس کی گزرگاہوں کے روڈ ، ٹوٹ پھوٹ کو درست اور گڑھوں کو فوری بھرا جائے جبکہ جلوس کے راستوں سے ملبہ، کچرا ودیگر صفائی کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

    محکمہ بلدیات سندھ نے ضروری جگہوں پر فائر ٹینڈرز اور واٹر ٹینکرز کے انتظامات کرنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلوس کے راستوں پر درختوں کی چھٹائی اور روشنی کا بہترین انتظام کیا جائے اور امام بارگاہوں کے گردونواح میں بھی بلدیاتی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    محکمہ بلدیات نے تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے بھی ہدایات دی گئی جبکہ واسا اور واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور بلدیاتی اداروں کو جلوس کے راستوں پر مین ہول کور ڈھکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    سیوریج اوور فلو دور کرنے کے حوالے سے بھی احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام شہری ودیہی ادارے خدمات کی فراہمی میں باہمی اشتراک عمل کو یقینی بنائیں۔

    محکمہ بلدیات کا کہنا تھا کہ بلدیاتی ادارے،واسا اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ محرم الحرام میں بلدیاتی خدمات کے حوالے سے کنٹرول روم قائم کریں ، کنٹرول روم قائم کرنے کے بعد اس کی فوری رپورٹ محکمہ بلدیات سندھ کو کی جائے ۔

    احکامات میں کہا گیا ہے کہ تمام افسران محرم الحرام میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں ، بنا اجازت کوئی افسر یا ملازم چھٹی پر نہیں جائے گا

  • قتل ہونے والی 15سالہ لڑکی کا معمہ حل، قاتل باہر سے نہیں آیا

    قتل ہونے والی 15سالہ لڑکی کا معمہ حل، قاتل باہر سے نہیں آیا

    اہل خانہ نے غیرت کے نام پر 15سالہ لڑکی کو قتل کردیا، بار بار بیان بدلنے پر پولیس معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی، تین ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک 16میں گزشتہ روز قتل ہونے والی 15سالہ لڑکی کے قتل کا معمہ پولیس نے حل کرلیا۔پولیس نے واقعہ غیرت کے نام پر قتل قرار دے دیا۔

    اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عزیز بھٹی تھانے میں قتل کی دفعہ 302کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ مذکورہ مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

    تفتیشی افسر نے بتایا کہ پہلے دن سے شبہ تھا کہ 15سالہ ثمینہ کو قتل کیا گیا ہے، جبکہ میڈیکو لیگل افسر نے بھی ابتدائی طور پر قتل کی تصدیق کردی تھی۔

    ایم ایل او کے مطابق لڑکی کے سینے پر ٹیٹو مارک ہے، ایم ایل او کے مطابق لڑکی کو سینے پر پستول رکھ کر گولی ماری گئی، اہلخانہ نے مقتولہ کو اندھی گولی لگنے کا واقعہ بتایا تھا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ایک چلاہوا خول بھی مل گیا ہے،3مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تو پھر سب کا بیان تبدیل ہوگیا،

    حراست کے بعد کہا کہ15سالہ ثمینہ نے خودکشی کی ہے۔

    دوران تفتیش مقتولہ ثمینہ کے اہل خانہ بار بار بیان بدلتے رہے، واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، اب اہلخانہ کہتے ہیں کہ کسی نامعلوم نے قتل کیا۔

    جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول سے چلایا گیا ایک بھی خول ملا ہے، پولیس کے مطابق واقعہ غیرت کے نام پر قتل معلوم ہوتا ہے،

    تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • لیاری میں خاتون کی ہلاکت کا معمہ حل کرنے کیلیے قبرکشائی

    لیاری میں خاتون کی ہلاکت کا معمہ حل کرنے کیلیے قبرکشائی

    لیاری میں خاتون کی پراسرار ہلاکت کا معمہ حل کرنے کے لیے قبر کشائی کی گئی۔

    لیاری بغدادی میں ایک خاتون32 سالہ کانتا کماری زوجہ آنند پراسرار طور پر ہلاک ہوگئی تھی، کانتا کماری کے بھائی راجیش نے بتایا کہ ان کی بہن کانتا کماری کی شادی فروری 2020 میں آنند سے ہوئی تھی جس سے ان کی ایک 6ماہ کی بیٹی بھی ہے۔

    گزشتہ ماہ کی 5تاریخ کو آنند کا فون آیا کہ اس کی بہن نے خودکشی کرلی ہے وہ خود اس وقت آفس میں تھا لیکن اس نے اپنی اہلیہ کو کانتا کماری کے گھر بھیجا.

    جب وہ وہاں پہنچی تو اسے بتایا کہ کانتا کماری گھر میں گرگئی ہے، اسے فوری طور پر سول اسپتال لے کر گئے تو ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد موت کی تصدیق کردی اور گلے پر نشان دیکھ کر پولیس کو بلانے کا کہا جس پر آنند گھبرا گیا۔

    آنند نے کہا کہ وہ اسے لے کر آغا خان اسپتال لے جانا چاہتا ہے اسے یہاں کے ڈاکٹروں پر بھروسہ نہیں ،راجیش نے مزید بتایا کہ جب وہ لوگ لاش لے کر نکلے تو آنند لاش کو آغا خان اسپتال کے بجائے واپس گھر لے گیا اور اس کی آخری رسومات پر زور دیا۔

    بعدازاں کانتا کی بڑی بہن نے بتایا کہ کانتا نے ذکر کیا تھا کہ اس کا شوہر آنند اس پر تشدد کرتا ہے اور کچھ دن قبل اس نے تکیہ منہ پر رکھ کر مارنے کی بھی کوشش کی تھی۔

    راجیش کا کہنا ہے کہ یہ تمام باتیں سن کر اس نے پہلے برادری میں بتایا لیکن کچھ نہ ہونے پر اس نے پولیس سے رابطہ کیا تو پولیس نے 8 جون کو آنند کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا، کورٹ میں کیس کا آغاز ہوا اور قبر کشائی کی گئی۔

    ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کانتا کماری کا نرخرہ ٹوٹ گیا تھا، خودکشی کے بجائے یہ قتل معلوم ہوتا ہے تاہم حتمی طور پر کیمیائی تجزیاتی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی کچھ کہا جاسکے گا۔

    راجیش نے مزید بتایا کہ ان کی اعلیٰ پولیس حکام سے یہی اپیل ہے کہ انھیں انصاف فراہم کیا جائے اور ان کی بہن کے قاتل کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔