Baaghi TV

Category: کراچی

  • بینک میں جعل سازی کرنیوالے ملازمین سے اصلی سونا برآمد

    بینک میں جعل سازی کرنیوالے ملازمین سے اصلی سونا برآمد

    نجی بینک کی 2 برانچوں میں عملے کی جانب سے نقلی سونا رکھنے کے واقعے میں پولیس نے ملازمین سے اصلی سونا برآمد کرلیا۔

    پولیس کے مطابق نجی بینک کی دوبرانچوں میں کروڑوں روپے کے سونے کے زیورات کی خورد برد اور چوری کےالزام میں دو خواتین سمیت بینک کے 8 ملازمین کو گرفتار کیا گیا تھا جن سے 3 کلو سے زائد سونا، 20 لاکھ روپے سے زائد رقم اور 4 گاڑیاں تحویل میں لے لی گئی ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہےکہ ملزمان کے خلاف تھانہ شارع فیصل اور عزیز بھٹی میں مقدمات درج ہیں۔

    واضح رہےکہ نجی بینک کے ملازمین نے بینک کے 28 کھاتے داروں کے کروڑوں روپے کے سونے کے زیورات چوری کرکے ان کی جگہ لاکر میں نقلی زیورات رکھ دیے تھے، بینک کی آڈٹ ٹیم نے جب زیورات کو چیک کیا تو جعلسازی سامنے آگئی جب کہ گرفتار ملازمین کی نشاندہی پر چرایا گیا سونا برآمد کیا گیا۔

  • ڈاکٹر ہما میر کا نئے انداز میں گایا ’جیوے جیوے پاکستان‘ مقبول

    ڈاکٹر ہما میر کا نئے انداز میں گایا ’جیوے جیوے پاکستان‘ مقبول

    معروف کمپیئر، مصنفہ اور اداکارہ ڈاکٹر ہما میر نے نامور شاعر جمیل الدین عالی کی شہرہ آفاق تخلیق ’جیوے جیوے پاکستان‘ کو نئے انداز سے گاکر موسیقی کی دنیا میں باقاعدہ قدم رکھ دیا۔اس سپر ہٹ قومی گیت کو سہیل رعنا نے کمپوز کیا اور گلوکارہ شہناز بیگم نے گایا تھا۔
    ڈاکٹر ہما میر نے جیوے جیوے پاکستان کا ری میک کیا ہے، جسے ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر بے حد پذیرائی مل رہی ہے۔

    ڈاکٹر ہما میر کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی پروفیشنل گائیکی کا آغاز قومی نغمے سے اس لیے کیا کہ موجودہ دور میں قوم کو بیدار کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملی نغمے پاکستانی قوم کی آواز بن جاتے ہیں۔جش آزادی کا موقع ہے، ہر طرف ملی نغموں کی بہار ہے۔

  • اداکارہ صدف کنول کے عورت مارچ اور تحریک نِسواں پر خیالات کے چرچے

    اداکارہ صدف کنول کے عورت مارچ اور تحریک نِسواں پر خیالات کے چرچے

    پاکستانی اداکار شہروز سبزواری اور اٴْن کی اہلیہ صدف کنول نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا جس میں بالخصوص صدف کنول نے عورت مارچ اور تحریک نِسواں کے بارے میں جو کہا اٴْس پر سوشل میڈیا میں ایسی بحث چھڑی کہ ہیش ٹیگ صدف کنول کا ٹرینڈ شروع ہو گیا۔صدف کنول نے شیری کے جوتے اٹھانے سے متعلق بیان دیا تو سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی، کہاں ہیں شیری کے جوتے، کون اٹھائے گا شیری کے جوتے۔
    اداکارہ اور ماڈل صدف کنول نے کہا کہ وہ خود اٹھائیں گی شیری کے جوتے کیونکہ شہروز سبزواری عرف شیری ان کے شوہر ہیں اور شوہر ہی ثقافت ہوتے ہیں۔اس پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا، بات عورت مارچ پر جا پہنچی، میمز کی بھرمار ہوئی اور آن لائن کامیڈی شوز میں صدف کنول کی باتوں کا خوب چرچا ہوا۔
    جن کے شوہر نہیں ہیں اٴْنہوں نے پوچھا وہ ثقافت کہاں سے لائیں۔

    اٴْٹھو انار کلی، شیری کے جوتے ڈھونڈ کر دو، یہ کلاسک میم بھی ٹوئٹر پر چھائی رہی۔اداکارہ اور ماڈل سبیکا امام نے صدف کے بیان پر تنقید کی اور کہا کہ عورت کی زندگی مرد کے جوتوں سے شروع ہو کر جوتوں پر ختم نہیں ہوتی۔ٹیلی وڑن اسٹار متھیرہ نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں گھریلو تشدد کے پیچھے یہی سوچ پائی جاتی ہے۔تنقید کرنے والے صدف کنول کے ماضی تک جا پہنچے، اٴْن کے زمانہ ماڈلنگ اور آئٹم نمبرز کو بھی نہ چھوڑا۔
    دوسری طرف صدف کنول کی حمایت میں بھی برابر کی آوازیں اٴْٹھیں۔اداکار علی عباس نے صدف کے دفاع میں کہا، آپ کا جسم آپ کی مرضی، اٴْس کا شوہر، اٴْس کی مرضی۔اسکرین رائٹر خلیل الرحمان قمر نے بھی حمایت کی، کہا صدف کنول نے کوئی غلط بات نہیں کی، وہ اپنے گھر میں جو چاہیں کر سکتی ہیں۔اپنے کامیڈی کرداروں کیلئے مشہور اداکاراحمد علی بٹ نے صدف پر تنقید کرنے والوں کو منافق قرار دیا۔
    سابق اداکارہ نور بخاری نے بھی کہا کہ صدف نے جو کہا اسلامی تعلیمات کے مطابق کہا، چند ایک نے لکھا کہ مرد کے جوتے اٴْٹھانا، مرد کے جوتے کھانے سے بہتر ہے کیونکہ بیویوں کا اپنے شوہروں کے تابع ہونا ہی ہماری ثقافت ہے۔

  • کاشتکار اور کسان کے ساتھ مل کر صوبے میں زرعی انقلاب لائیں گے، مشیرِ زراعت سندھ

    کاشتکار اور کسان کے ساتھ مل کر صوبے میں زرعی انقلاب لائیں گے، مشیرِ زراعت سندھ

    وزیر اعلی سندھ کے مشیرِ زراعت منظور حسین وسان نے کہا ہے کہ زراعت کی ترقی کے لئے اپنے تجربے اور تمام وسائل کو بروئے کار لائیں گے۔ یہ بات انہوں نے آج بعد نماز جمعہ اپنی رہائش گاہ پر ملنے کے لئے آنے والے شہریوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر عوام کی بڑی تعداد نے منظور حسین وسان کو نئی زمہ داریاں ملنے پر مبارکباد دی۔
    صوبائی مشیرِ زراعت منظور حسین وسان نے کہا کہ عوام کی خدمت اور پارٹی لیڈر شپ کے احکامات کی پابندی کے لئے ہر وقت حاضر ہوں اور عوام اور قیادت کے اعتماد پر پورا اترنے کی بھر پور کوشش کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک کے عوام کی امنگوں کی ترجمان پارٹی ہے اور پی پی پی قیادت میں ہی یہ صلاحیت اور اہلیت ہے کہ وہ ملک کو موجودہ بحرانی صورتحال اور مہنگائی اور بیروزگاری کے بحران سے نجات دلاسکتا ہے۔
    نہوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لئے زراعت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا لہذا سندھ میں زراعت کی ترقی کے لئے جدید مشینری اور نظام کا فروغ ہماری اولین ترجیح ہے۔

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں100 روپے کمی

    سونے کی فی تولہ قیمت میں100 روپے کمی

    گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت
    12 ڈالرز کمی کے بعد 1799 ڈالرز کی سطح پر ریکارڈ کی گئی۔
    عالمی منڈی میں سونے کے نرخوں میں کمی کے باعث مقامی مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت 100 روپے کمی سے 1لاکھ 10 ہزار 200 اور دس گرام سونے کی قیمت 85 روپے کمی سے 94 ہزار 479 روپے رہی جبکہ چاندی کی فی تولہ قیمت 1460 روپے کی سطح پر مستحکم ریکارڈ کی گئی۔

  • 106 سالہ خاتون نے کورونا کی بھارتی قسم ڈیلٹا ویرینٹ کو شکست دے دی

    106 سالہ خاتون نے کورونا کی بھارتی قسم ڈیلٹا ویرینٹ کو شکست دے دی

    کراچی : 106 سالہ خاتون نے کورونا کے خطرناک بھارتی ڈیلٹا ویرینٹ کو شکست دے دی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتال میں خاتون کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا، تقریب میں ڈاکٹروں اور نرسوں کے علاوہ خاتون کے رشتے دار بھی شریک ہوئے۔

    کراچی کی 106 سالہ خاتون حسین بی بی بینظیر میڈیکل کالج لیاری کے تحت چلنے والے کووڈ سینٹر میں زیر علاج تھیں۔اس کے علاوہ لیاری کے بینظیر میڈیکل کالج میں ایک 5 سالہ بچے نے بھی بھارتی ویرینٹ ڈیلٹا کو شکست دی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل کراچی کے ایک 100 سالہ شہری نے کورونا ویکسین بھی لگوائی تھی-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز مریکی کورونا ویکسین فائزر کی ایک اور کھیپ پاکستان پہنچی تھی غیرملکی ایئرلائن 64 ہزار فائزر ویکسین ڈوز لے کر پہنچی تھی پاکستان نے فائزر ویکسین کی ایک کروڑ 30 لاکھ خوراکیں خریدی ہیں فائزر ویکسین بیرون ملک جانے کے خواہش مند افراد کو لگائی جائے گی، فائزر ویکسین دائمی امراض میں مبتلا افراد کو بھی لگائی جائے گی۔

    کورونا وائرس سے متعلق روس کی سیاحتی اداروں کو حیران کن تجویز

    امریکی کورونا ویکسین پاکستان پہنچ گئی

  • پی پی نے تیرہ سال کراچی میں دشمنی کی، ایڈمینسٹریٹر لگانا جائز ہوگا، مصطفیٰ کمال

    پی پی نے تیرہ سال کراچی میں دشمنی کی، ایڈمینسٹریٹر لگانا جائز ہوگا، مصطفیٰ کمال

    پاک سر زمین پارٹی کے چئرمین مسطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ جب وزیراعلیٰ کا ٹینیور ختم ہو تو سندھ میں الیکشن نہ کروائے جائیں بلکہ نان ایلیکٹڈ ایڈمینسٹیٹر لگا دیا جائے، اگر یہی روایات رکھنی ہیں تو جب وزیراعظم کا ٹینیور ختم ہوتو کوئی بھی وجہ بتا کر، کوئی بھی بہانہ لگا کر پاکستان چلانے کیلئے نان ایلیکٹڈ‌ ایڈمینسٹیٹر لگا دیا جائے، اگر یہ قانون کراچی اور حیدرآباد پر لاگو کیا جانا ہے تو پورے پاکستان میں‌ لاگو ہوجانا چاہیے، سندھ میں لگانا جائز بھی ہوگا، وزیراعلیٰ نے جو ظلم کیا ہے ایڈینیسٹریٹر لگانا بنتا ہے، کل کوئی آئے کہ پاکستان میں الیکشن نہیں ہونگے، پاکستان کے حالات خراب ہیں، سینسسز کے مسائل ہیں، ہم ظلم پر خاموش نہیں بیٹھے گیں، ایڈمینیسٹریٹر لگانا اس شہر کو بے قبضہ کرنے کے مترادف ہے، پی پی کو پتہ ہے کہ تیرہ سال میں اس نے جو ظلم کیا پے، اس نے کراچی دشمنی کی ہے، اس کے بعد وہ کراچی سے جیت نہیں سکتے ہیں.

  • کورونا ویکسین کی رجسٹریشن کا معامے،سندھ حکومت کا عوام کے ساتھ سنگین مذاق سامنے آگیا

    کورونا ویکسین کی رجسٹریشن کا معامے،سندھ حکومت کا عوام کے ساتھ سنگین مذاق سامنے آگیا

    کوویڈ کی حفاظتی ویکسین کی رجسٹریشن کا معامے پر سندھ حکومت کا عوام کے ساتھ سنگین مذاق سامنے آگیا۔

    کوویڈ وائرس سے بچاؤ کی عوام کو لگائی جانے والی کوویڈ ویکسین کی انٹریاں نادرا کے مرتب کیے جانے والے آن لائن موڈ سسٹم کے بجائے حکومت سندھ اپنا سوفٹ وئیر یعنی آف لائن موڈ پر ویکسی نیش کی انٹریاں کررہی ہے.

    بعدازاں آف لائن موڈ پر کی جانے والی ان انٹریوں کی تفصیلات ایکس ایل شیٹ پر نادرا کو بھیجی جارہی ہیں۔

    ترجمان نادرا نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نادرا کا تیار کیا جانے والاسوفٹ ویئر آن لائن موڈ پرکیا گیا ہے، اس موڈ پر ویکسینشن کی جانے والی انٹریاں آٹومیٹکلی فوری نادرا کے سسٹم پر اپ لوڈ ہوجاتی ہیں اور آدھے گھنٹے میں نادرا کی ویب سائٹ سے اپنا سرٹیفیکٹ حاصل کیا جاسکتا ہے.

    لیکن کراچی سے بعض ویکسینشن مراکز نادرا کے آن لائن موڈ پر ویکسین کا اندراج کررہے ہیں جن کے سرٹیفیکٹ فوری طور ہر حاصل کیے جارہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا نادرا کے سسٹم پر کوئی بھی شخص کسی کی انٹری براہ راست کرسکتا ہے اور نہ کسی کی انٹری کو نکال کر اپنی انٹری کرسکتا ہے،ویکسی نیشن کی انٹریوں سے نادرا کا براہ راست کوئی تعلق نہیں۔

    ترجمان نادرا کا کہنا تھا کہ جہاں سے ڈوز لگوائی جا رہی ہے اس سینٹرکوبتایا جائے کہ انٹری نادرا کے آن لائن موڈ پر کریں تاکہ ادھے گھنٹے میں نادرا کی ویب سائت سے سرٹیفیکٹ حاصل کیا جاسکے۔

    دریں اثنا کراچی میں ویکسینش مراکز میں ویکسی نشن کی بیشتر انٹریاں نادرا کے براہ راست آن لائن موڈ پر نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے عوام کو اپنے سرٹیفیکٹ کے اجرا میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے.

    کراچی کے بیشتر ویکسینش مراکز میں مین پاور کی کمی کی وجہ سے بھی ہزاروں آفراد کی انٹریاں درست نہیں کی جا رہیں۔

    کراچی میں کوویڈ ویکسینشن کے تقریبا 30 مراکزقائم کردیے گئے لیکن بیشتر مراکز میں عملے اور ڈیٹا بیس مرتب کرنے والے ٹیکنیکل آفراد کی شدید کمی کاسامنا ہے.

    اندراج کرتے ہوئے شناختی کارڈ نمبروں کے غلط اندراج کی وجہ سے بھی عوام کو پریشانی ہے، 3اگست تک کے نادرا کی ویب سائٹ پر سنگل ڈوز لگوانے والوں کے اعداد وشمار 25.208.663 جبکہ دوسری ڈوز، مکمل کرنے والوں کی تعداد 6.720.919 ظاہر کی گئی ہے۔

  • کراچی پورٹ کی حدود میں غیر قانونی جیٹی کا انکشاف

    کراچی پورٹ کی حدود میں غیر قانونی جیٹی کا انکشاف

    کراچی بندرگاہ کی حدود میں غیر قانونی جیٹی کا انکشاف ہوا ہے۔

    وفاقی وزیر ساحلی امور علی زیدی نے غیرقانونی جیٹی کا نوٹس لیتے ہوئے فی الفور تحویل میں لینے کی ہدایت کردی، غیرقانونی جیٹی نیٹی جیٹی کے مندر سے متصل تھی جو عرصے سے قائم تھی جیٹی پر کرین بھی نصب تھی۔

    جیٹی پر نجی کشتیاں لنگر انداز ہوتی تھیں اور بطور ورکشاپ بھی استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، کراچی بندرگاہ پر غیرقانونی جیٹی کی نشاندہی پر وفاقی وزیر نے جیٹی پر نصب کرین ہٹانے اور اسے عوام کے لیے کھولنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

  • لاک ڈاؤن سے کراچی کی فضائی آلودگی 40 فیصد کم ہوگئی

    لاک ڈاؤن سے کراچی کی فضائی آلودگی 40 فیصد کم ہوگئی

    شہر میں کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویرئینٹ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت سندھ کے لگائے گئے لاک ڈاؤن کے باعث کراچی کے فضائی ماحول اور شور کی سطح میں30 سے 40 فیصد تک بہتری کا امکان ہے۔

    تخمینے کی بنیاد ایک سال قبل لگائے گئے لاک ڈاؤن کے دوران ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ (سیپا) کے جمع کردہ ماحولیاتی اعداد و شمار ہیں جن کے مطابق لاک ڈاؤن کے باعث کراچی کے 6اضلاع سے فضا اور شور کے اس وقت جمع کیے گئے نمونوں کی روشنی میں شہر کے فضائی معیار میں 39فیصد جبکہ شور کی سطح میں 19 فیصد بہتری ہوئی تھی۔

    گزشتہ سال کے لاک ڈاؤن کے دوران ضلع وسطی کے فضائی معیار میں 8، شرقی میں 61، جنوبی میں 40، غربی میں 37، ملیر میں 25 جبکہ کورنگی میں 54 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ شور کی سطح میں وسطی میں 42، شرقی میں 20، جنوبی میں 15، غربی میں17، ملیر میں 2 اور کورنگی میں 26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    پچھلے سال کے سیپا کے لاک ڈاؤن سے پہلے اور دوران اکٹھے کیے گئے کراچی کے ماحولیاتی اعداد و شمار سے پتہ چلا تھا کہ کچھ دن تجارتی اور آمد و رفت کی سرگرمیوں کو بند کرنے سے حیرت انگیز طور پر ماحولیاتی حالات میں بہتری ہوتی ہے تاہم پائیدار بنیادوں پر ماحولیاتی بہتری کے لیے ایسی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے ترقیاتی و تجارتی سرگرمیاں بھی یکساں رفتار سے چلتی رہیں اور ماحول کو بھی کوئی خاص نقصان نہ پہنچے۔

    اس کے لیے منطقی طریقہ یہ ہے کہ ایسے اقدامات لیے جائیں جن سے ہونے والی ہر قسم کی ماحولیاتی بہتری سے تجارت و صنعت کو فروغ حاصل ہو کیونکہ ماحول دوست مصنوعات و خدمات کی نہ صرف ملکی بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی زیادہ طلب ہوتی ہے جس سے ہماری پیداوار مناسب داموں فروخت ہوسکے گی۔

    حوصلہ افزاامر یہ تھا کہ گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے دوران فضائی معیار اور شور کی سطح سندھ کے ماحولیاتی معیار کے مقررہ پیمانوں سے بھی کہیں بہتر رہی جو ماحول اور انسانی صحت کے لیے نہایت فائدہ مند ہے، مذکورہ اعداد و شمار کراچی کی سات تسلیم شدہ ماحولیاتی تجربہ گاہوں کی مدد سے اکٹھے کیے گئے تھے۔

    ماہرین کی تجویز ہے کہ مذکوہ ماحولیاتی سروے اس لاک ڈاؤن میں بھی کیا جائے تاکہ جمع شدہ اعداد و شمار کی روشنی میں مستقبل میں ایسے اقدامات لیے جاسکیں جن سے بغیر کسی تاخیر کے ماحولیاتی حالات میں سدھار لایا جا سکے۔

    ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ اعداد و شمار مختلف محکموں بشمول انڈسٹریز، ٹرانسپورٹ، لوکل باڈیز اور سائٹ لمیٹڈ کو بھی بھیجے جائیں تاکہ ان کی روشنی میں وہ بھی مناسب اور موزوں اقدامات کے ذریعے اپنے اطراف کے ماحول کی حفاظت کر سکیں۔