Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی کے کسی حصے میں پانی جمع نہ ہونے پائے

    کراچی کے کسی حصے میں پانی جمع نہ ہونے پائے

    ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے متعلقہ انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ شہر کے کسی حصے میں پانی جمع نہ ہونے پائے۔

    کراچی میں بارش کے بعد شہری انتظامیہ متحرک ہوگئی، شہر کے مختلف نشیبی علاقوں سے نکاسی آب کا کام جاری ہے۔

    بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ مصروف شاہراہوں سے پانی کی نکاسی کی جارہی ہے، کھارادر وزیر مینشن کے اطراف بارش کا پانی جمع نہیں ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر مینشن کے اطراف سیوریج سمیت دیگر ترقیاتی کام چند روز قبل مکمل کیا گیا ہے، مرمتی کام ہونے سے وزیر مینشن کے اطراف بارش کا پانی کی مکمل نکاسی ہوگئی۔

    بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ کوشش ہے کہ بارشوں کے دوران شہریوں کو مشکلات پیش نہ آئے، بلدیاتی اداروں کا عملہ شہریوں کی مدد کے لیے فیلڈ میں موجود ہے۔

  • محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون بارشوں کے پہلے اسپیل کا آغاز

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون بارشوں کے پہلے اسپیل کا آغاز

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون بارشوں کے پہلے اسپیل کا آغاز ہوگیا۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج ہلکی اور معتدل بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے، شہر میں وقفے وقفے سے ہلکی اور معتدل بارش کا یہ سلسلہ 16 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق بھارتی گجرات کے راستے مون سون ہوائیں داخل ہوئیں، معتدل درجے کی مون سون ہوائیں بحیرہ عرب سے زیریں سندھ میں داخل ہورہی ہیں، بحیرہ عرب سے ملنے والی نمی کے باعث کراچی کے اطراف تھنڈر سیلز بنے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق صبح 9 بجے تک شہر میں سب سے زیادہ بارش گلشن حدید میں 17 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جب کہ نوری آباد میں 8 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔

    اس کے علاوہ پی اے ایف فیصل بیس پر 5، یونیورسٹی روڈپر 4.3، لانڈھی 4،سعدی ٹاون 3.6، جناح ٹرمینل 3.2 اور سرجانی ٹاؤن میں 2.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

  • لیاری گینگ وار  کے چار ٹارگٹ  کلر میوہ شاہ قبرستان سے گرفتار

    لیاری گینگ وار کے چار ٹارگٹ کلر میوہ شاہ قبرستان سے گرفتار

    کراچی : ضلع کیماڑی پولیس کی بڑی کاروائی۔ایس ایس پی کیماڑی فدا حسین جانوری کی قیادت میں لیاری گینگ وار کے چار ٹارگٹ کلر میوہ شاہ قبرستان سے گرفتار۔

    گرفتار ملزمان کے قبضہ سے چار عدد ہینڈ گرنیڈ، تین SMG آٹومیٹک کلاشنکوف اور ایک 9mm پستول بمعہ راؤنڈ برآمد۔
    ملزمان نے دوران انٹروگیشن قتل و غارت گری، بھتہ خوری، ڈکیتی و اسٹریٹ کرائم جیسے سنگین جرائم کا انکشاف کیا۔
    گرفتار ملزم الیان بلوچ نے گزشتہ ماہ الطاف عرف انوبھائی نامی شخص کو قتل کرنے کابھی اعتراف کیا۔ ملزم سےالطاف عرف انو بھائی کے قتل میں استعمال ہونے والا آلہ قتل (9mm پستول) برآمد کر لیا گیا ہے۔

    ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش کی جارہی ہے۔ مزید انکشافات کی توقع ہے۔

  • کراچی ٹرانسفارمیشن پلان،این ڈی ایم اے کو خطیر رقم جاری،کام سست روی کا شکار

    کراچی ٹرانسفارمیشن پلان،این ڈی ایم اے کو خطیر رقم جاری،کام سست روی کا شکار

    گورنر سندھ عمران اسمعیٰل نے کہا ہے کہ کراچی ٹرانسفار میشن پلان کے لئے وفاقی حکومت نے این ڈی ایم اے کو 35 ارب روپے جاری کیئے.

    کراچی میں محمود آباد ، گجر اور اورنگی ٹاؤن نالوں کی صفائی اور بحالی کے کام کے لئیے وفاقی حکومت کے ذریعہ مالی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

    متاثرہ افراد کو ماہانہ کرایہ کی مد میں ایک سال کے لئے فی گھرانہ پندرہ ہزار روپے کی رقم وفاقی حکومت / این ڈی ایم اے نے حکومت سندھ/ کے ایم سی کو پہلے ہی ادا کردی ہے۔

    حکومت سندھ اور کے ایم سی کی ذمہ داری بنتی تھی کہ فراہم کی گئی رقم کو وقت پر متاثرین کو ادا کریں۔

    حکومت سندھ / کے ایم سی کو بروقت ادائیگی کے باوجود کچھ خاندانوں کو ایک یا کسی دوسرے بہانے پر ادائیگی نہیں کی گئی.

    وفاقی حکومت/ این ڈی ایم اے نے حکومت سندھ/ کے ایم سی تجاوزات کے خاتمہ کے لئیے خطیر رقم فراہم کی تاہم ان علاقوں میں اب تک کام سست روی کا شکار ہے جس کی وجہ سے نالوں کی صفائی کے کاموں میں بھی شدید دشواری کا سامنا ہے۔

    حکومت سندھ اور کے ایم سی کو مزید تاخیر کے بغیر تجاوزات کا خاتمہ کو یقینی بنانا چاہئے-

    جبکہ وفاقی حکومت/ این ڈی ایم اے ان تینوں نالوں کی صفائی اور بحالی کے کام سر انجام دے رہی ہے- حکومت سندھ نے 41 کے ایم سی اور 510 ڈی ایم سی کے نالوں کو صاف کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی مگر ابھی تک کام بھی شروع نہیں کیا گی.

    انھوں نے مزید کہا کہ نالوں کی صفائی کے لئے حکومت سندھ کی کوششیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک حکومت سندھ ٹھوس کچرے کے مسئلہ کو حل نہ کرے۔

  • 3 سالوں تک سندھ حکومت نے کراچی کی عوام کے لئے کچھ نہیں کیا

    3 سالوں تک سندھ حکومت نے کراچی کی عوام کے لئے کچھ نہیں کیا

    ‏قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ کا وڈیو بیان.

    حلیم عادل شیخ نے بیان میں کہا ایک وقت تھا جب کراچی میں بارشیں آتی تھیں عوام خوشیاں مناتی تھی۔

    سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے آج
    عوام پریشان ہوجاتی ہے۔ کراچی کے کئی علاقے نالوں کے الٹنے سے ڈوب جاتے ہیں.

    ‏کراچی کے نالوں کو ٹھیک کرنا سندھ حکومت کی زمہ داری تھی۔3 سالوں تک سندھ حکومت نے کراچی کی عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔

    لیکن گزشتہ برس وزیر اعظم نے این ڈٰی ایم اے کی ذمہ داری لگائی۔کراچی ٹرانسمشن پلان کے تحت وفاقی حکومت کے ذمہ گجر نالہ، محمود آباد نالہ کورنگی نالے آئے.

    ‏سندھ حکومت نے کراچی کے 41 نالے صاف کرنے کا زمہ لیا تھا 500 سے زائد نالے ڈٰی ایم سی کے سندھ حکومت نے صاف کرانے تھے۔

    این ڈٰی ایم اے کے زمے جو نالے آئے ان کا کام مکمل ہوچکا ہے ۔نالوں کی انکروچنٹ متاثرین کو دو سال کا کرایا وفاق نے ادا کیا.

  • CAA کا ایئرپورٹ پر کھڑے طیارے باندھنے کا حکم

    CAA کا ایئرپورٹ پر کھڑے طیارے باندھنے کا حکم

    ترجمان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کا کہنا ہے کہ شہر میں جاری ہلکی اور تیز بارش کے باوجود کراچی ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے.

    جبکہ تمام ایوی ایشن کمپنیز کو کھڑے طیاروں کو باندھنے کا کہا گیا ہے۔سی اے اے ترجمان نے بتایا کہ کراچی ایئرپورٹ کے اطراف بارش معتدل ہے اس میں پروازوں کو کوئی دشواری نہیں ہے۔

    کراچی میں سب سے زیادہ بارش کہاں ہوئی؟
    ان کا کہنا ہے کہ کراچی ایئرپورٹ پر کھڑے چھوٹے طیاروں کو حادثے سے محفوظ رکھنے کیلئے باندھا گیا ہے.

    جبکہ بارش کےباعث تمام ایوی ایشن کمپنیز کو کھڑے طیاروں کو باندھنے کا کہا گیا ہے۔ترجمان سی اے اے نے مزید بتایا کہ طوفانی بارش میں تیزہوائوں سے کھڑے طیاروں کے آپس میں ٹکرانے کا خدشہ ہوتا ہے،اس لیے پیشگی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون کی پہلی ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے 2 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔

  • کراچی میں بارش ہوتے ہی 600 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے

    کراچی میں بارش ہوتے ہی 600 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے

    شہر قائد میں بارش کے باعث 600 فیڈرز ٹرپ ہونے سے مختلف علاقوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    تفصیلات کے مبانق کراچی کے مختلف علاقوں میں ہلکی اور تیزبارش کاسلسلہ جاری ہے، جس کے سبب بجلی کے 600 سے زائد فیڈرز ٹرپ کرگئے۔

    فیڈرزٹرپ کرنے سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، متاثرہ علاقوں میں نارتھ کراچی، شادمان، ملیر ، سر جانی ، گڈاپ، کاٹھور ، گلشن معمار،گلشن ، اقبال، لانڈھی ،کورنگی،سعودآباد،پاپوش ، کلفٹن،لیاقت آباد،ناظم آباد ، سائٹ،نارتھ ناظم آباد،ایف بی ایریا،کیماڑی ،بلدیہ شامل ہیں۔

    دوسری جانب ترجمان کےالیکٹرک کا کہنا ہے کہ شہرمیں بجلی کی فراہمی برقرار ہے، بلدیہ ،سرجانی،کلفٹن اورڈی ایچ اے کے کچھ حصےمتاثرہیں جبکہ گڈاپ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ لگ بھگ 500 فیڈرزکی فراہمی متاثر ہے اور 1400فیڈرز آپریشنل ہیں ، بجلی کی بحالی کیلئے ٹیموں کو متحرک کردیاگیاہے اور دھابیجی میں بجلی کی فراہمی کو ترجیحی بنیاد پر بحال کیا گیا ہے۔

  • کوئٹہ اور کراچی سے لاہور آنے والی ٹرینیں گھنٹوں  تاخیر کا شکار

    کوئٹہ اور کراچی سے لاہور آنے والی ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار

    کوئٹہ اور کراچی سے لاہور آنے والی ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار

    باغی ٹی وی : کوئٹہ اور کراچی سے لاہور آنے والی ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلا ت کا سامنا ہے اطلاعات کے مطابق لاہور، قراقرم، شاہ حسین ایکسپریس ساڑھے 8 گھنٹے تاخیر کا شکار ہے جبکہ پاک بزنس 7 گھنٹے 45 منٹ تاخیر کا شکار ہے –

    کراچی ایکسپریس 5 گھنٹے 15 منٹ تاخیر کا شکار ،علامہ اقبال ایکسپریس 3 گھنٹے 10 منٹ تاخیر کا شکار ہے-عوام ایکسپریس ڈھائی گھنٹے جبکہ شالیمار ایکسپریس، تیز گام 2 گھنٹے تاخیر کا شکار ہے-

    اور جعفر ایکسپریس، فرید ایکسپریس ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کا شکار ہے-

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز بارش

    کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز بارش

    کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کے بعد موسم: خوشگوار ہو گیا گرمی کا زور ٹوٹ گیا-

    باغی ٹی وی صدر، ملیر، لانڈھی، اسٹیل ٹاؤن، گلشن اقبال، اولڈ سٹی ایریا، صفورا، صدر اور ضلع وسطی کے مختلف علاقوں میں کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش ہوئی۔ بارش سے شہر کا موسم خوشگوار ہوگیا۔

    گڈاپ، سپرہائی وے، نوری آباد سمیت کوہستانی علاقے میں بھی موسلادھار بارش ہوئی-

    بارش کا آغاز ہوتے ہی کچھ علاقوں میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر معطل ہوگئی سڑکیں گیلی ہونے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کراچی میں ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے 2 گھنٹے جاری رہ سکتا ہے۔

    دوسری جانب ترجمان کےالیکٹرک کا کہنا ہے کہ کراچی میں بارش کے باعث بعض علاقوں میں بجلی بند کی گئی شہری ٹوٹے ہوئے تاروں، بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں برقی آلات کا غیر محفوظ استعمال حادثات کا سبب بن سکتا ہے-

  • کراچی میں نگلیریا وائرس سے 8 سالہ بچے کی موت

    کراچی میں نگلیریا وائرس سے 8 سالہ بچے کی موت

    شہر قائد میں نگلیریا وائرس سے 8 سالہ بچے کی موت ہوئی ہے۔

    کراچی میں نگلیریا وائرس سے ایک اور موت کی تصدیق ہوئی، شہر قائد کے علاقے شادمان ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے 8 سالہ ذوہیب کا 3 روز قبل انتقال ہوا۔

    ڈاکٹرز کے مطابق متوفی کو شدید بخارکی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ ایک روز زیر علاج رہا اور پھر جمعے کو انتقال کرگیا۔

    میڈیکل رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ زوہیب نگلیریا سے متاثر ہوا اور اس کی موت بھی اسی وجہ سے ہوئی۔

    حالیہ موت کے بعد کراچی میں نگلیریا سے مرنے والے افراد کی تعداد چار تک پہنچ گئی۔

    نگلیریا وائرس کیا ہے؟

    نگلیریا ایک ایسا امیبا ہے، جو اگر ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوجائے تو دماغ کو پوری طرح چاٹ جاتا ہے، جس سے انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے، یہ عموماً گرم پانی میں تیزی سے پرورش پاتا ہے۔

    یہ وائرس عموماً سوئمنگ پولز، تالاب سمیت ٹینکوں میں موجود ایسے پانی میں پیدا ہوتا ہے، جس میں کلورین کی مقدار کم ہوتی ہے، شدید گرمی بھی نگلیریا کی افزائش کا سبب بنتی ہے۔

    طبی ماہرین ’نگلیریا‘ کو خاموش قاتل قرار دیتے ہیں کیونکہ اس نے اب تک دنیا میں ہزاروں افراد کو ابدی نیند سلادیا ہے، اس موذی بیماری کا ماہرین ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں کرسکے۔

    علامات

    یہ ایک خطرناک وائرس ہے، جو ناک کے ذریعے دماغ میں داخل ہوجاتا ہے اور دماغ متاثر کرنا شروع کردیتا ہے، اس کی علاماتیں سات دن میں ظاہر ہوتی ہے، جو گردن توڑ بخار سے ملتی جلتی ہیں، سرمیں تیز درد ہونا، الٹیاں یا متلی آنا ، گردن اکڑ جانا اور جسم میں جھٹکے لگنا اس کی واضح علامات ہیں۔

    بچاؤ کیسے ممکن

    ماہرین طب کا کہنا ہے کہ گھروں میں موجود ٹینکوں اور پانی کی ٹنکیوں کو سال میں کم سے کم دو بار صاف کیا جائے، کلورین کی گولیوں کا استعمال کیا جائے، پینے اور وضو کیلئے پانی کو 100 ڈگری سینٹی گریڈ پر ابالنا نگلیریا کے خاتمے کا باعث بنتا ہے۔

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس سے بچاو کا واحد حل یہ ہے کہ طے شدہ بین الاقوامی معیار کے مطابق پانی میں کلورین کا استعمال کیا جائے تو نگلیریا وائرس کو پیدا ہو نے سے روکا جاسکتا ہے.