Baaghi TV

Category: کراچی

  • ملک میں بحرانوں کی قطار لگی ہوئی ہے لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں لاتعلق نظر آتی ہیں، کاشف سعید شیخ

    ملک میں بحرانوں کی قطار لگی ہوئی ہے لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں لاتعلق نظر آتی ہیں، کاشف سعید شیخ

    جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ ملک میں بحرانوں کی قطار لگی ہوئی ہے لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں لاتعلق نظر آتی ہیں، ایک ہی وقت میں لاتعداد بحرانوں کی وجہ سے عوام اذیت کا شکار جبکہ حکومتی گڈ گورننس کا پول کھول کر رکھ دیا ہے،پانی،بجلی،گیس، آٹے اور پیٹرول بحران کے بعد شدید لوڈشیڈنگ ،صنعتوں کیلئے گیس کی بندش اور سی این جی کی لوڈشیڈنگ کے علاوہ اب آئل ٹینکرز کی ہڑتال سے سندھ سمیت ملک بھر میں ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی شدید قلت کا بحران درپیش ہے،کراچی کے مختلف علاقوں میں پیٹرول پمپس پر پیٹرول نہیں مل رہا، فلور ملز ایسو سی ایشن کی جانب سے ایف بی آر سے ٹیکس معاملات پر مسئلہ چل رہا ہے جس کی وجہ سے آٹے کے بحران کا بھی امکان پیدا ہوچکا ہے لیکن نااہل،اناڑی اور عوامی مسائل سے لاتعلق حکمران دن رات مخالفین پر تنقید کرنے میں مصروف ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ جب سے موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے ملک معاشی ،سیاسی بحرانوں سمیت مہنگائی،بدامنی اور بیروزگاری کے ساتھ بحران در بحران کا شکار ہے،گڈ گورننس ،قرضے نہ لینے اورآئی ایم ایف کی غلامی نہ کرنے کے دعویدار پی ٹی آئی حکومت نے اب تو ملک کے ہوائی اڈے، موٹرویز اور اسٹیل ملز سمیت دیگر دفاعی اہمیت کے حامل اثاثہ جات کو گروی رکھنے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے جس سے ان کی نااہلی،بدترین حکمرانی کا صاف ظاہر ہوتی ہے۔
    اس وقت ملک انتہائی بدترین حالات کا شکار،حکمرانوں کا معاشی،اقتصادی اور خارجی وداخلی معاملات پر کوئی گرفت نہیں ہے جبکہ اہم معاملات کو بھی پارلیمنٹ کے باہر طے کیا جارہا ہے قانونسازی کیلئے بھی سارا زور صدارتی آرڈیننس پر ہے، ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضہ لینے کے باوجود حکومتی خسارے کا گڑھا نہیں بھرسکا ہے،بجلی اور گیس بحران کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی متاثر اور معیشت پر بھی برے اثرات پڑے ہیں جبکہ آئل ٹینکرز کانٹیکٹرز کی جانب سے ہڑتال کی وجہ سے پیٹرول بحران شدید ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اہم ملکی مسائل اور معاملات سے بلکل لاتعلق بنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے آج یہ سنگین صورتحال پیدا ہوچکی ہے،کراچی میں پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اس صورتحال سے امن امان کا مسئلہ بھی پیدا ہوسکتا ہے، ایسا لگتا ہے حکومت مختلف مافیاز کے سامنے بے بس ہوچکی ہے، نہ چینی اور آٹا بحران کے ذمہ داران کی گرفت ہوسکی ہے اور نہ پیٹرول بحران پیدا کرنے والے قانونی شکنجے میں گرفتار ہوئے، اس وقت بھی روزانہ نئے بحران پیدا کرنے والے ہر قسم کی پکڑ سے آزاد ہیں۔
    انہوں نے زوردیا کہ وفاقی حکومت گیس،بجلی اور پیٹرول بحران پر سنجیدگی سے توجہ دے، سندھ میں سی این جی اور صنعتوں کو گیس کی فوری فراہمی شروع جبکہ ٹینکرز کی ہڑتال کے خاتمے اور پیٹرول کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ٹینکرزکانٹیکٹرز سے بات چیت سے مسئلہ حل کرکے عوام کو مزید مسائل میں گرفتار ہونے سے بچایا جائے ۔

  • کراچی الیکٹرونک ڈیلر ایسوسی ایشن کے وفد کی ایڈیشنل آئی جی کراچی سے ملاقات

    کراچی الیکٹرونک ڈیلر ایسوسی ایشن کے وفد کی ایڈیشنل آئی جی کراچی سے ملاقات

    کراچی الیکٹرونک ڈیلر ایسوسی ایشن کے وفد کی ایڈیشنل آئی جی کراچی سے ملاقات۔ ترجمان کراچی پولیس کے مطابق کراچی پولیس آفس میں KEDA کے صدر رضوان عرفان کے ہمراہ ایسوسی ایشن کے دیگر اراکین کی آمد۔ایسوسی ایشن کی جانب سے شہر کی بڑی مارکیٹوں میں چوری کے موبائل فونز کی خرید وفروخت کی روک تھام کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
    استعمال شدہ موبائل فونز کی خرید و فروخت کیلئے متعلقہ افراد کے شناختی کارڈ اور دیگر کوائف کی تفصیلات لازمی ریکارڈ کی جاتی ہے۔کراچی کے مضافاتی علاقوں میں بھی چوری کے موبائل فونز فروخت ہو رہے ہیں انکی روک تھام کیلئے جامع حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔ غیر قانونی پارکنگ شہر کا دیرینہ مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کیلئے ٹریفک پولیس بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
    وفد کیجانب سے عبداللہ ہارون روڈ پر غیر قانونی پارکنگ کے سدباب کیلئے سنگل لائن پارکنگ کی تجویز پیش کی گئی۔کراچی پولیس چیف نے ڈی آئی جی ٹریفک کو غیر قانونی پارکنگ کیخلاف مہم کے ابتدائی مرحلے میں کل سے ریگل چوک سے عبداللہ ہارون روڈ پر سنگل لائن پارکنگ کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دیں۔کراچی پولیس محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کیلئے کوشاں ہے ۔

  • حکومت نے موبائل فون کے استعمال کو عیاشی تصور کر لیا

    حکومت نے موبائل فون کے استعمال کو عیاشی تصور کر لیا

    حکومت نے موبائل فون کے استعمال کو عیاشی تصور کر لیا، پہلے سے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی موبائل صنعت پر ٹیکس کا نیا بوجھ ڈال دیا ۔
    معلوم ہوا ہے کہ موبائل فون کی پانچ منٹ کی کال پر 75 پیسے کا نیا ٹیکس عائد کیا گیا ہے پاکستان میں موبائل فون کی فی منٹ کال پر اوسط 33 پیسے وصول کیئے جاتے ہیں اس طرح پانچ منٹ کی فون کال پر انڈسٹری 1 روپے 65 پیسے وصول کرتی ہے۔ پانچ منٹ کی کال پر 50 فیصد سے بھی زائد ٹیکس عائد ہوجائے گا جبکہ موبائل فون خدمات پر پہلے ہی جی ایس ٹی 32 پیسے اور دودھ ہولڈنگ ٹیکس 20 پیسے عائد ہے ۔ اب صارفین کو موبائل فون پر 1 روپے 65 پیسے کی فون کال پر 1 روپے 27 پیسے ٹیکس دینا ہوگا اور فون کال پر ٹیکس 77 فیصد تک پہنچ جائے گا .

  • بلاول بھٹو زرداری کا پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن شعبہ خواتین کی سینئر نائب صدر نسیمہ ناز بلوچ کے انتقال پرافسوس کا اظہار

    بلاول بھٹو زرداری کا پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن شعبہ خواتین کی سینئر نائب صدر نسیمہ ناز بلوچ کے انتقال پرافسوس کا اظہار

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن شعبہ خواتین کی سینئر نائب صدر نسیمہ ناز بلوچ کے انتقال پرافسوس کا اظہارکیاہے۔

    جمعہ کو جاری اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے کہاکہ وزیراعلی سندھ کی معاون خصوصی نسیمہ ناز بلوچ کے انتقال کی خبر سن کر صدمہ ہوا۔نسیمہ ناز بلوچ ہر دور میں بھٹو ازم کے نظریئے پر ثابت قدم رہیں۔نسیمہ ناز بلوچ نے کراچی بالخصوص لیاری کی خواتین کی موثر نمائندگی کی۔بلاول بھٹو زرداری نے نسیمہ ناز بلوچ کے انتقال پر ان کے بلندی درجات اور لواحقین کیلئے صبر کی دعا بھی کی.

  • سندھ وزیراعظم کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے : ترجمان سندھ حکومت

    سندھ وزیراعظم کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے : ترجمان سندھ حکومت

    سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ سندھ وزیراعظم عمران خان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے انکے کراچی کے حلقہ انتخاب میں بھی ترقیاتی کام سندھ حکومت کروا رہی ہے سندھ میں اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کی غلط روایت ڈالی، بجٹ پر زبانی اعتراض کرنے والوں نے اسمبلی میں کٹ موشنز ہی جمع نہیں کروائے جس سے انکی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے اپوزیشن سندھ کے ساتھ مخلص ہے تو پانی، گیس اور مردم شماری پر احتجاج کرے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے سندھ اسمبلی کمیٹی روم میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔
    بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے نئے مالی سال کا بجٹ متفقہ طور پر منظور کیا ہے بجٹ اپنے شیڈول کے عین مطابق منظور ہوا اسپیکر نے تمام پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کی ایک عوام دوست بجٹ منظور ہوا ہمارے ناقدین جو کئی روز سے اچھے اچھے کپڑے سلوا رہے تھے انکے ارمانوں پر اوس پڑ گئی ہے لیکن انکے اپنوں نے انکے ساتھ ایسا کیا اس میں پیپلزپارٹی کا کوئی ہاتھ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہر پارلیمانی جماعت کو بجٹ پر بحث کا حق ہے یہ طے ہوا تھا کہ ہر رکن مہذب انداز میں بجٹ پر گفتگو کریگا لیکن بدقسمتی سے اسمبلی کے ماحول کو بہت خراب کرنے کی کوشش کی گئی اور ایسا ماحول دو ہزار اٹھارہ کے بعد سے دیکھنے میں آیا ہے سب نے دیکھا کہ اپوزیشن کا کوئی رکن بولتا تو پیپلزپارٹی کے کسی رکن نے مداخلت نہیں کی مگر جب پیپلزپارٹی کا کوئی رکن بات کرتا تو بے جا مداخلت کی جاتی باربار پارلیمانی روایات کی دھجیاں اڑائی جاتی ایوان میں سیٹیاں بجانا قطعی طور پر پارلیمانی روایت نہیں ہے بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اٹھائیس میں سے اکیس ارکان نے چار گھنٹے سے زائد بات کی ہے جی ڈی اے کے گیارہ ارکان نے دو گھنٹے اکتیس منٹ بات کی ہمیں آپ کی بات پر اعتراض ہوتا تو بات نہ کرپاتے آپکو مکمل موقع دیا گیا انہیں ٹیوشن لینے کا بڑا شوق ہے بجٹ پر اعتراض کا سب سے اہم چیز کٹوتی کی تحاریک ہوتی ہیں یہ اتنے لائق اپویشن لیڈر اور انکے ارکان ہیں یہ اہم کام انہوں نے نہیں کیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اپوزیشن ہمارے بجٹ سے اتفاق کرتے ہیں۔
    بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم پاکستان کے ارکان نے احتجاج کیا اور بجٹ نامنظور کے نعرے لگائے میں تمام اپوزیشن سے پوچھتا ہوں کہ کیا انہیں ترقیاتی بجٹ پر اعتراض ہے پانی سے لیکر پبلک ہیلتھ کی اسکیمیں ہر ضلع میں دی گئی ہیں آسان اقساط پر قرضے کی اسکیم دی گئی ہیآئی ٹی کے شعبے میں نمایاں کام کیا گیا ہے خصوصی بچوں کی دیکھ بھال کے لئے انکے خاندان کو قرض کی اسکیم متعارف کروائی گئی ہے اسٹیمپ ڈیوٹی ایک فیصد کم کی گئی ہے کیا اس پر اعتراض ہی اوفاقی حکومت ٹیکس بڑھا رہی ہے سندھ میں شرح کم کی جارہی ہے ہم نے ایس آر بی کے ٹیکس شرح کو کم کیا آپکو ہم نے تکلیف سے بچایا کیا یہ ہماری غلطی ہے زراعت پر سبسڈی دی گیی کیا یہ غلط کیاجی ڈی اے ارکان زرا بتائیں کیا یہ سبسڈی نہیں دینی چاہئیے تھی صوبے کی غریب خواتین کو عزت و وقار کے ساتھ کاروبار کرنے کے لئے قرض کی سہولت دی گئی کیا یہ بھی سندھ حکومت نے غلط کیا آپ کہتے ہیں کوئی کام نہیں ہوا بارہ لاکھ خواتین سندھ رورل سپورٹ پروگرام سے مستفید ہورہی ہیں۔
    بیرسٹر مرتضی وہاب نے اپوزیشن خصوصا ایم کیوایم کے ارکان سے سوال کہ کیا آپکا اختلاف اس بات پر ہے کہ کراچی کے ٹراما سینٹر پر دو ارب روپے اور ایس آئی یو ٹی کے لئے سات ارب روپے رکھے گئے کیا آپکا اختلاف اس بات پر ہے کہ انڈس ہستپال کے لئے دو ارب سے زائد رکھے گئیکیا بنیادی صحت کے مراکز کو آٹھ ارب روپے دینا غلط ہیکیا گمس گمبٹ ہستپال کے لئے فنڈز مختص کرنا غلط ہے جہاں دیگر صوبوں اور شہروں سے لوگ علاج کے لئے آتے ہیں این آئی بی ڈی کو پچاس کروڑ کی رقم دینا غلط ہیآپ تو چندہ لیکر کام چلاتے ہیں مگر سندھ حکومت اداروں کو خود چلاتی ہے ادارہ امراض قلب جسکے یونٹس سندھ بھر میں ہیں اسے فنڈز دئیے گئے ہیں بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ پورے پاکستان میں بتا دیں کسی ایک حکومت نے انفیکشس ڈیزیز ہستپال بنایا ہویہ کام بھی سندھ حکومت نے کیا ہیچائلڈ لائف فانڈیشن پر آپکا اختلاف ہے کیا ضلع وسطی میں شاہراہ نورجہاں بنانے پر اختلاف ہیکیا ضلع وسطی اور کورنگی میں جدید طریقوں سے کچرا اٹھانے پر آپکا اختلاف ہے کیا آپکو نیشنل ہائی وے اور لنک روڈ کو ملانے کے لئے سڑک بنانے پر اختلاف ہے گلستان جوہر میں فلائی اوور بنانے پر اختلاف ہے جہاں سے وزیراعظم منتخب ہوئیکراچی کی سڑکوں کو جدید بنانے پر آپکو اعتراض ہے ایم کیوایم پاکستان اور جی ڈی اے کے دوستوں سے پوچھتا ہوں کہ قومی اسمبلی میں مردم شماری پر اعتراض کیوں نہیں کیا کیا آپ نے ارسا کے غیر منصفانہ اقدام پر اعتراض کیا جواب نہیں میں ہے آج گیس کے بحران پر کیوں اعتراض نہیں کیایہ بحران صنعت اور مزدور دشمن حکومت تحریک انتشار کا کیا ہوا ہے گھریلو صارفین سمیت کسی شعبے کو گیس نہیں مل رہی آپکا احتجاج صرف پیپلزپارٹی کے سامنے چلتا ہے بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ایک سو باسٹھ ارب روپے کا لالی پاپ دیا اور اسکے بعد گیارہ سو ارب روپے کا لالی پاپ دیاکیا اس پر احتجاج کیا نہیں کیا کیونکہ انکی نیت ہی نہیں کہ یہ عوامی مسائل حل کریں احتجاج کرنا ہے تو پانی ، گیس ، مردم شماری کے ایشوز پر بھی کریں بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے اگر تقریر نہیں کی تو قائد ایوان نے بھی نہیں کی انکے ٹیوٹر نے انہیں شاید غلط مشورہ دیا سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کے کسی ممبر نے ایم کیوایم پاکستان کے لئے کہا کہ ان پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ایم کیوایم پاکستان کے مینڈیٹ پر سیاسی چائنہ کٹنگ کس نے کی خود دیکھ لیں کٹ موشن اپوزیشن نے خود جمع نہیں کروائے اور عدالت جانے کی بات کررہے ہیں قانونی اعتبار سے اسمبلی کی کارروائی کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا غلط پالیسی یہ بناتے ہیں اور بھگتے سندھ حکومت کراچی کے صنعتکار بھی گیس بحران پر سراپا احتجاج ہیں عمران خان کی ترجیحات میں سندھ شامل نہیں ہیوہ پچھلے نو ماہ سے کراچی نہیں آئے وقت آگیا ہے صنعتکار بھی اس بات کو سمجھیں کہ انہوں نے کس کو سلیکٹ کیا ایم کیوایم اور ہمارے درمیان ماضی میں لاکھ اختلاف رہے ہوں مگر سیٹیاں نہیں بجائی گئیں .

  • پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار کا اردن کی بندرگاہ عقبہ کا دورہ

    پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار کا اردن کی بندرگاہ عقبہ کا دورہ

    پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار کا اردن کی سو سالہ تقریبات کے سلسلے میں اردن کی بندرگاہ عقبہ کا دورہ۔

    عقبہ آمد پر میزبان بحریہ کے حکام نے پاک بحریہ کے جہاز کا استقبال کیا۔ مشن کمانڈر نے کمانڈنگ آفیسر کے ہمراہ عقبہ کے گورنر سمیت دیگر سول و عسکری حکام سے ملاقاتیں کیں اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    مشن کمانڈر نے امیرالبحر کی جانب سے اردن کے عوام بالخصوص بحریہ کیلٸے خیر سگالی کا پیغام بھی پہنچایا۔اردن کی رائل نیول فورس کے کمانڈر نے پی این ایس ذوالفقار کا دورہ کیا۔ پی این ایس ذوالفقار آمد پر معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

    پاک بحریہ کے دستے نے اردن کی رائل نیول فورسز کے ساتھ مشترکہ پریڈ میں بھی حصہ لیا۔ دورے کے آخر میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں نے مشترکہ مشق میں حصہ لیا۔ پاک بحریہ کے جہاز کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک بالخصوص بحری افواج کے مابین تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔

  • 7 ہزار طلبا کو انٹر میں پروموشن پالیسی کے تحت پاس کرنیکی منظوری

    7 ہزار طلبا کو انٹر میں پروموشن پالیسی کے تحت پاس کرنیکی منظوری

    محکمہ تعلیم سندھ نے گزشتہ ایک سال سے امتحانات اور نتائج کے منتظر 4 مختلف کیٹگریز کے کراچی کے 7 ہزار طلبا کو انٹرمیڈیٹ میں پروموشن پالیسی کے تحت پاس کرنے کی منظوری دیدی ہے ۔
    چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی پروفیسر سعید الدین نے اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان 7 ہزار طلبا کے نتائج پروموشن پالیسی کے تحت آئندہ کچھ روز میں جاری کردیں گے۔
    یاد رہے کہ گزشتہ برس جب سیشن 2020 کے انٹر سال دوئم کے طلبہ کو بغیر امتحانات پاس کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو اس وقت انٹر بورڈ کراچی کی سابقہ انتظامیہ نے بورڈ کی جانب سے بھجوائی گئی سمری میں ان طلبا کی کیٹگری کا تذکرہ ہی نہیں کیا تھا جبکہ امتحانات منعقد ہی نہیں ہوئے تھے جس کے سبب ان طلبا کو امتحانات لے کر پاس یا فیل کیا جاسکا اور نہ ہی پروموشن پالیسی کا فائدہ لیتے ہوئے یہ طلبہ دیگر لاکھوں امیدواروں کی طرز پر انٹر میں کامیاب ہوسکے جس کے بعد پورے سال یہ طلبا اپنے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے سرکار کے فیصلے کے منتظر رہے اور انٹر نہ کرنے کے سبب جامعات میں بھی داخلہ نہ لے سکے اور یوں مختلف مضامین میں کراچی سے انٹرمیڈیٹ کرنے کے خواہشمندبعض کیٹگری کے ان ہزاروں طلبہ وطالبات کاقیمتی سال ضائع ہوگیااوران طلبہ کا اعلیٰ تعلیم(ہائراسٹڈیز)کاسفررکا رہا۔
    گزشتہ کئی ماہ سے بورڈآف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی کی نئی انتظامیہ کی جانب سے ان طلبہ کوگزشتہ پروموشن پالیسی کے تحت دیگرلاکھوں طلبہ کی طرزپر’’پرموٹ‘‘کرنے کی اجازت مانگی جاتی رہی تاہم محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے اس سلسلے میں کردار ادا نہیں کیا جس کے بعد اس معاملے کو محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی میں پیش کیا گیاجن7ہزار سے زائد طلبا کو اب پروموشن پالیسی کے تحت پاس کیا جائے گا۔
    ان میں ’’مشترکہ امتحان دینے والے (TP combine twelve papers)،ایڈوانس /شارٹ سبجیکٹ(اے لیول اورمدارس سے امتحان پاس کرنے والے)،اسپیشل یاآخری چانس والے اور Benefits of passed compulsory subjectsطلبہ شامل ہیں۔

  • وفاقی و صوبائی حکومت چپقلیسں کے بجائے عوامی حقوق دیں طارق حسن

    وفاقی و صوبائی حکومت چپقلیسں کے بجائے عوامی حقوق دیں طارق حسن

    وفاقی و صوبائی حکومت چپقلیسں کے بجائے عوامی حقوق دیں طارق حسن

    مسلم لیگ ملک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے کوشاں ہے

    پاکستان مسلم لیگ (ق) سندھ کے صدر محمد طارق حسن نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ کے عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں صرف و صرف ترقی کےجھوٹے دعویے کیئے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں اربوں روپے رکھے گئے ہیں اب وفاقی وصوبائی حکومتیں چپقلیسں کے بجائے عوام کے حقوق،بنیادی سہولتیں اور ترقیاتی کاموں پر مل جل کر توجہ دیں تاکہ صوبہ سندھ ترقی کی منازل طے کرئے۔
    طارق حسن نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے اسوقت شہری سندھ کے نوجوانوں پر مختلف بہانوں سے سرکاری نوکریوں کے دروازےبندکردیئے گئےاسکاسدباب اشد ضروری ہےجبکہ سندھ کے عوام کے ساتھ ہونیوالی ناانصافیوں اورحق تلفیوں کا خاتمہ کیاجائے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نے ہمیشہ مثبت سیاست کو فروغ دیا ہے اور ملک کی تمیر و ترقی کیلئے کوشاں ہے۔

  • بلدیہ وسطی استطاعت کے مطابق بہترین بلدیاتی خدمات پیش کررہی ہے، ڈاکٹر محمد علی زیدی

    بلدیہ وسطی استطاعت کے مطابق بہترین بلدیاتی خدمات پیش کررہی ہے، ڈاکٹر محمد علی زیدی

    بلدیہ وسطی استطاعت کے مطابق بہترین بلدیاتی خدمات پیش کررہی ہے، ڈاکٹر محمد علی زیدی

    ڈاکٹر سید محمد علی زیدی کا امام بارگاہِ رضویہ کا خصوصی دورہ۔
    انہوں نے منتظمین امام بارگاہِ رضویہ و شاہِ کربلا ٹرسٹ کے نمائندوں سے ملاقات کی اور رضویہ سوسائٹی کے مسائل کو فوری حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

    ڈپٹی کمشنر و ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر محمد بخش دھاریجو کی ہدایات پر میونسپل کمشنر بلدیہ وسطی ڈاکٹر سید محمد علی زیدی کاضلع وسطی لیاقت آباد زون کی مختلف یونین کمیٹی میں صفائی ستھرائی و دیگر انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے ہنگامی دورہ کیا۔خصوصی طور پر ناظم آباد رضویہ سوسائٹی میں قائم رضویہ امام بارگاہ ناظم آباد کا دورہ کیا، امام بارگاہ کے منتظمین اور شاہِ کربلا ٹرسٹ کے عہدیداران سے ملاقات۔اس موقع پر امام بارگاہ کے منتظمین و شاہ کربلا کے ٹرسٹ کے نمائندوں نے میونسپل کمشنر ڈاکٹر سید علی زیدی کی ضلع وسطی کو صاف و شفاف ضلع بنانے کی کوششوں کو سراہا جبکہ عوام کے مسائل کو حل کرنے پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔اس موقع پر منتظمین امام بارگاہ رضویہ نے میونسپل کمشنر بلدیہ وسطی ڈاکٹر سید علی زیدی کو اپنے علاقے کے مسائل سے آگاہ کیا خصوصی طور پر محرم الحرام کی آمد کے حوالے سے صفائی ستھرائی،سیوریج سسٹم اور سڑکوں کی تعمیرکا معاملہ زیرِ گفتگو آیا،منتظمین امام بارگاہ اور ٹرسٹ کے نمائندگان نے میونسپل کمشنر سے درخواست کی کہ انکے مسائل محرم الحرام کی آمد سے قبل حل کردئیے جائیں تاکہ محرم کے دوران عزاداری اور ماتمی جلوسوں اور مجالس کے انعقاد میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
    میونسپل کمشنر ڈاکٹر محمدعلی زیدی نے ٹرسٹ کے اراکین سے انکے مسائل توجہ سے سنے اور انھیں فوری حل کرنے کے لئے موقع پر ہی متعلقہ شعبوں کے افسران کو ہدایت جاری کیں۔اس موقع پر ڈاکٹر محمد علی زیدی نے کہا کہ بلدیہ وسطی کی انتظامیہ مسلمانوں کے تمام طبقہ ہائے فکر کے درمیان کسی قسم کی تفریق نہیں رکھتی بلکہ مسلمانوں کے درمیان ذہنی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ کے لئے تما تر ذرائع بروئے کار لارہی ہے۔بعد ازاں انہوں رضویہ سوسائٹی میں قائم پارک کو دورہ کیا اور انتظامیہ سے ملاقات اور مسائل سے آگاہی حاصل کی اس موقع پر انھوںنے پارک میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پارک کی انتظامیہ کو تنبیہ کی کہ پارک میں آنے والے شہریوں کو صاف و شفاف ماحول کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر بی اینڈ آ ر لیاقت آباد محمد عنیب، ڈپٹی ڈائریکٹر سینی ٹیشن ناظم آباد ناصر خان،ڈپٹی ڈائریکٹر باغات محمد آصف اور موٹر وہیکل انسپکٹر تفصل حسین بھی انکے ہمراہ تھے۔

  • پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے آج تجارتی جہازوں کے ملاحوں کا عالمی دن منایا

    پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے آج تجارتی جہازوں کے ملاحوں کا عالمی دن منایا

    پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی آج نے تجارتی جہازوں کے ملاحوں کا عالمی دن منایا ۔

    بین الاقوامی سمندری تنظیم آئی ایم او اقوام متحدہ کا ایک خصوصی ادارہ ہے جو کے بحری جہازوں کے امور کا نگران ہے نے 2010 میں 25 جون کے دن کو بحری جہازوں کے ملاحوں کے عالمی دن کے طور پر نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ۔یہ اس حقیقت کو اُجاگر کرنے کے لیے کیا گیا تھا کہ ہماری روزمرہ زندگی میں استعمال ہونےوالی تقریباً ہر چیز بلواسطہ یا بلاواسطہ سمندری ذرائع نقل و حمل سے متاثر ہوتی ہے۔
    بین اقوامی سمندری تنظیم کے مطابق بحری جہاز دنیا کی 90 فیصد اشیاء کی نقل و حمل میں استعمال ہوتے ہیں اور ان جہازوں کے پیچھے وہ لوگ ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر چیز آسانی سے چلے ۔ تجارتی بحری جہازوں کے ملاح کسی بھی قوم کی معاشی ترقی میں اور اہم سامان مثلا خوراک ادویات تیل اور طبی امداد وغیرہ کی ترسیل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی بھی تجارتی بحری جہازوں کے ملاحوں کی انوکھی اور سخت محنت کا اعتراف کرتی ہے۔ تجارتی بحری جہازوں کے ملاحوں کے عالمی دن کی مہم کے انعقاد کا مقصد ان کی قربانیوں اور انہیں درپیش مشکلات کا اعتراف کرنا اور انہیں خراج تحسین پیش کرنا تھا۔اس سلسلے میں افسران اور عملے کے ارکان کو لیکچر دیئے گئے. جن میں تجارتی بحری جہازوں کے ملاحوں کی کاوشوں کو اجاگر کیا گیا اور سمندری تجارت کے بلا تعطل جاری رہنے میں ان کے کردار کو تسلیم کیا گیا۔مزید برآں مختلف نمایاں مقامات پر متعدد بینرز آویزاں کیے گئے جن پر تجارتی بحری جہازوں کے ملاحوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے حوالے سے پیغامات درج تھے۔”دوسرے کلیدی کارکنوں کی طرح تجارتی بحری جہازوں کے ملاح بھی ہمارے احترام اور شکریہ کے مستحق ہیں۔